روزے کے اسرار اور باطنی شرائط

روزے کے اسرار اور باطنی شرائط


روزے کے تین درجات ہیں:۔
(1) عام لوگوں کا روزہ ۔
(2) خاص لوگوں کا روزہ ۔
(3) خاص الخاص لوگوں کا روزہ۔
عام لوگوں کا روزہ دل کو تمام بڑے خیالات اور دنیوی افکار بلکہ اللہ تعالٰی کے سوا ہر چیز سے کلیتاً خالی کر دینا ہے، اس صورت میں جب اللہ تعالٰی اور قیامت کے سوا کوئی دوسری فکر آئے گی تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ دنیوی فکر سے اگر دین کا قصد نہ ہو تو بھی یہی حکم ہے، کیونکہ دین کی فکر زار آخرت سے ہے دنیا سے نہیں، حتٰی کہ اہل دل حضرات نے کہا ہے کہ جو شخص دن کے وقت یہ بات سوچے کہ رات کو کس چیز کے ساتھ افطار کرے گا اس کے ذمہ گناہ لکھ دیا جاتا ہے، کیونکہ یہ اللہ تعالٰی پر کامل اعتماد اور اس کے رزق موعود پر مکمل یقین نہ ہونے کی علامت ہے۔ یہ درجہ انبیاء کرام، صدیقین اور مقربین کا ہے۔ اس کی تفصیل میں زیادہ گفتگو نہیں کی جائے گی، البتہ اس کی عملی تحقیق بیان کریں گے یعنی یہ روزہ اس وقت حاصل ہوتا ہے کہ آدمی اپنی مکمل توجہ اللہ تعالٰی کی طرف کر دے اور غیر خدا سے پھیر دے، اللہ تعالٰی کے اس ارشاد گرامی کو لباس بنانے لے “قل اللہ ثم ذرھم فی خوضھم یلعبون“ آپ فرما دیجئے اللہ تعالٰی ہے، پھر انہیں چھوڑ دیں اپنی بیہودگیوں میں کھیلتے رہیں۔

خاص لوگوں کا روزہ اولیاء کرام کا روزہ ہے، اور یہ اپنے اعضاء کو گناہوں سے بچانا ہے، یہ روزہ چھ باتوں سے مکمل ہوتا ہے۔

(1) ان چیزوں کو دیکھنے سے نظر کو روکنا جو بُری اور مکروہ ہیں۔ نیز وہ چیزیں جو دل کو اللہ تعالٰی کے ذکر سے روکتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں ۔ النطرۃ سھم مسموم من سھام ابلیس لعنۃ اللہ فمن ترکھا خوفا من اللہ نظر زہر میں بجھا ہوا ایک شیطانی تیر ہے اللہ اس پر لعنت بھیجے، پس جس شخص نے اسے (غیر محرم کو دیکھنا) چھوڑ دیا اسے اللہ تعالٰی ایسا ایمان عطا فرماتا ہے جس کی شیرنی وہ اپنے دل میں پاتا ہے۔

حضرت جابر، حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے اور وہ رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا خمس یفطر ان الصائم الکذب والغیبۃ والنمیمۃ والیمین الکاذبۃ والنظر بشھودۃ پانچ چیزیں روزہ دار کے روزے کو توڑ دیتی ہیں۔ جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، چغلی کھانا، جھوٹی قسم کھانا اور شہوت کے ساتھ کسی کو دیکھنا۔

(2) زبان کو بیہودہ گفتگو، جھوٹ، غیبت، چغلی، فحش کلامی، ظلم و زیادتی، جھگڑے، دکھاوے اور خاموشی خاموشی اختیار کرنے سے محفوظ رکھنا اور اسے اللہ تعالٰی کے ذکر اور تلاوتِ قرآن مجید میں مشغول رکھنا، یہ زبان کا روزہ ہے۔ حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا غیبت روزے کو توڑ دیتی ہے، یہ بات ان سے حضرت بشیر بن حارث نے نقل کی ہے۔ حضرت لیث، حضرت مجاہد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ دو باتیں روزے کو توڑ دیتی ہیں۔ (1) غیبت اور (2) چغلی۔

نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا انما الصوم جنۃ فاذا کان احدکم صائما فلا یرفث ولا یجھل وان امروء قاتلہ او شاتما فلیقل انی صائم انی صائم بیشک روزہ ڈھال ہے، پس جب م میں سے کوئی روزہ دار ہو تو نہ وہ بے حیائی کی بات کرے اور نہ جہالت کی اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا گالی گلوچ کرے تو کہہ دے کہ میں روزے دار ہوں۔

ایک حدیث شریف میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں دو عورتوں نے روزہ رکھا، تو ان کے آخر میں انہیں بھوک اور پیاس نے ستایا حتٰی کہ قریب تھا وہ اپنے روزے کو ضائع کر دیں، انہوں نے کسی کو رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیج کر روزہ توڑنے کی اجازت طلب کی آپ نے ان کی طرف ایک پیالہ بھیجا اور فرمایا کہ ان سے کہو جو کچھ کھایا تھا اس میں قے کر دیں، تو ان میں سے ایک نے تازہ خون اور تازہ گوشت کی قے کی اور دوسرے نے بھی اس جیسی قے کی، حتٰی کہ دونوں نے پیالہ بھر دیا لوگوں کو اس پر تعجب ہوا تو نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ان دونوں نے اس چیز سے روزہ رکھا جسے اللہ تعالٰی نے حلال کیا اور جسے اللہ تعالٰی نے حرام کیا اس سے روزہ توڑ دیا، ان دونوں نے ایک دوسرے کے پاس بیٹھ کر لوگوں کی غیبت کی تو یہ لوگوں کا گوشت ہے جو انہوں نے (غیبت کی صورت میں) کھایا۔

(3) ہر مکروہ بات کو سننے سے کانوں کو روکنا، کیونکہ جو بات کہنا حرام ہے، اس کی طرف کان لگانا بھی حرام ہے۔ اسی لئے اللہ تعالٰی نے غور سے سننے والے اور حرام مال کھانے والے کو برابر قرار دیا، اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا، سماعن للکذب اکالون للسحت وہ جھوٹ کو سننے والے اور خوب حرام کھانے والے ہیں۔
اور ارشاد خداوندی ہے ولا ینھاھم الرابنیون والاحبار عن قولھم الاثم واکلھم السحت ان کے علماء اور درویش ان کو گناہ کی بات اور حرام کھانے سے کیوں نہیں روکتے۔
تو غیبت سن کو خاموشی اختیار کرنا حرام ہے، اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا، انکم اذا مثلھم بیشک تم اس وقت ان کی مثل ہوگے۔
اسی لئے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، المعتاب والمستمع شریکان فی الاثم غیبت کرنے والا اور اسے قصداً سننے والا دونوں گناہوں میں شریک ہیں۔

(4) باقی اعضاء یعنی ہاتھ اور پاؤں وغیرہ کو بھی گناہوں سے نیز مکروہ امور سے بچانا اور افطار کے وقت پیٹ کو شبہے والے اشیاء سے بچانا اگر وہ حلال چیز سے روزہ رکھے اور حرام سے افطار کرے تو روزے کا کیا مطلب ہوگا ؟؟
ایسے روزے دار کی مثال اس شخص جیسی ہے جو محل بناتا ہے اور شہر کو گرا دیتا ہے کیونکہ حلال کھانا زیادہ ہونے کی وجہ سے نقصان دیتا ہے، اپنی کسی نوع کی وجہ سے نہیں اور روزے کا مقصد کھانے کو کم کرنا ہے اور زیادہ دوائی کو اس کے نقصان کے باعث چھوڑ کر زہر کھانے والا بیوقوف ہوتا ہے اور حرام بھی ایک زہر ہے جو دین کو ہلاک کرتا ہے اور حلال چیز دوا ہے جو تھوڑی ہو تو نافع ہے اور زیادہ ہو تو نقصان دیتی ہے، اور روزے کا مقصد اس حلال غذا کو کم کرنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، کم من صائم لیس لہ من صومہ الا الجوع والعطش کتنے ہی روزہ دار ہیں جن کو اپنے روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
کہا گیا ہے کہ اس سے مُراد وہ شخص ہے جو حرام کی طرف نظر کرتا ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مُراد وہ شخص ہے جو حلال کھانے سے رکتا ہے اور غیبت کے ذریعے لوگوں کے گوشت سے روزہ توڑ دیتا ہے۔ کیونکہ غیبت حرام ہے اور یہ قول بھی ہے کہ وہ شخص مراد ہے جو اپنے اعضاء کو گناہوں سے محفوظ نہیں رکھتا۔

(6) افطار کے وقت حلال کھانا بھی زیادہ نہ کھائے اس طرح کہ پیٹ بھر لے اللہ تعالٰی کے ہاں اس پیٹ سے بُرا برتن کوئی نہیں جو حلال رزق سے بھر جائے روزے سے اللہ تعالٰی کے دشمن پر غلبہ پانے اور شہوت کو توڑنے کا فائدہ کیسے حاصل ہوگا جب وہ دن کے وقت کچھ رہ گیا اس کی کسر افطاری کے وقت نکالے۔
اور بعض اوقات اس کے پاس طرح طرح کے کھانے جمع ہو جاتے ہیں حتٰی کہ یہ عادت بن گئی ہے کہ رمضان المبارک کیلئے کھانے جمع کئے جاتے ہیں اور اس وقت وہ کھانے کھائے جاتے ہیں جو دوسرے مہینوں میں نہیں کھائے جاتے ہیں اور یہ بات معلوم ہے کہ روزے کا مقصد پیٹ کو خالی رکھنا اور خواہش کو توڑنا ہے، تا کہ نفس کو تقوٰی پر قوّت حاصل ہو، اور جب صبح سے شام تک معدے کو ٹالتا رہا حتٰی کہ خواہش جوش میں آئی اور رغبت مضبوط ہو گئی، پھر اسے لذیذ کھانے دے کر سیر کیا گیا اور اس کی قوّت زیادہ ہوگی اور وہ خواہشات ابھریں جو عام عادت پر رہنے کی صورت میں پیدا نہ ہوتی پس روزہ کی روح اور رام تو یہ ہے کہ ان قوتوں کو کمزور کیا جائے جو بُرائیوں کی طرف لوٹنے کو کم کرنے سے ہی حاصل ہوتا ہے یعنی ہر رات اتنا کھانا ہی کھائے جو روزہ نہ رکھنے کی صورت میں کھاتا ہے، اور اگر دن اور رات کا کھانا جمع کرکے کھائے تو روزے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بلکہ مستحب یہ ہے کہ دن کے وقت زیادہ نہ سوئے تاکہ اسے بھوک اور پیاس کا احساس ہو، اور اعضاء کی کمزوری محسوس ہو اس وقت اس کا دل صاف ہو جائے گا اور ہر رات اسی قدر کمزوری پیدا ہوگی تو اس پر تہجد اور وظائف پڑھنا آسان ہو جائے گا اور ممکن ہے شیطان اس کے دل کے قریب تر آئے اور وہ آسمانی بادشاہت کا نظارہ کرے اور لیلۃ القدر اسی رات کو کہتے ہیں جس میں ملکوت سے کئی چیز اس پر منکشف ہو، اور اللہ تعالٰی کے اس ارشاد گرامی کا یہی مطلب ہے فرمایا، انا انزلناہ فی لیلۃ القدر بیشک ہم نے اس (قرآن پاک) کو لیلۃ القدر میں اتارا، اور جو آدمی اپنے دل اور اپنے سینے کے درمیان کھانے کی رکاوٹ ڈال دے، وہ اس سے پردے میں رہتا ہے اور جس نے اپنے معدے کو خالی رکھا تو صرف یہ بات بھی پردہ اٹھنے کیلئے کافی نہیں جب تک وہ اپنی توجہ غیر خدا سے ہٹا نہ دے یہی سارا معاملہ ہے اور اس تمام معاملے کی بنیاد کم کھانا ہے۔

(6) افطار کے بعد اس کا دل خوف اور امید کے درمیان معلق اور مترددر ہے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کا روزہ قبول ہوا، اور وہ مقربین میں سے ہے یا رَد کر دیا گیا اور وہ ان لوگوں میں سے ہے جن پر اللہ تعالٰی ناراض ہے اسے ہر عبادت سے فراغت کے بعد اسی طرح ہونا چاہئیے۔ حضرت حسن بن ابو الحسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے مروی ہے آپ ایک جماعت کے اس سے گزرے اور وہ لوگ ہنس رہے تھے، انہوں نے فرمایا اللہ تعالٰی نے رمضان المبارک کے مہینے کو لوگوں کیلئے مقابلے کا میدان بنایا ہے، وہ اس کی عبادت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں، ایک جماعت آگے بڑھ گئی اور کامیاب ہوئی اور دوسرا گروہ پیھے رہ گیا، اور اس نے نقصان اٹھایا تو اس شخص پربہت زیادہ تعجب ہے جو اس دن ہنستا اور کھیلتا ہے، جس میں سبقت کرنے والے کامیاب اور پیچھے رہنے والے ناکام ہوئے۔
سنو !!! اللہ تعالٰی کی قسم ! اگر پردہ اٹھ جائے تو نیکی کرنے والے اپنی نیکی میں اور بُرائی کرنے والے اپنی بُرائی میں مشغول ہوں یعنی مقبول کی خوشی اسے کھیل سے روک دے اور مردود کا افسوس اس پر ہنسی کا دروازہ بند کردے، حضرت احنف بن قیس رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے منقول ہے ان سے کہا گیا کہ آپ بہت بوڑھے ہیں اور روزہ آپ کو کمزور کر دے گا، انہوں نے فرمایا میں اسے ایک طویل سفر کا سامان بناتا ہوں اور اللہ تعالٰی کی اطاعت پر صبر کرنا، اس کے عذاب پر صبر کرنے سے زیادہ آسان ہے، تو روزے میں باطنی امور یہ ہیں۔

سوال :۔ جو شخص پیٹ اور شرمگاہ کی شہوت سے رکنے پر اکتفا کرے اور ان امور کو نظر انداز کردے تو فقہاء فرماتے ہیں اس کا روزہ صحیح ہے اس کا کیا مطلب ہے ؟
جان لوکہ ظاہری فقہائے کرام ظاہری شروط کو نہایت کمزور دلائل سے ثابت کرتے ہیں یعنی وہ دلائل ہماری ذکر کردہ باطنی شرائط کے مقابلے میں کمزور ہیں۔ خصوصاً غیبت اور اس جیسی دوسری باتیں فقہاء نے ظاہر ان تکلیفات کا ذکر کرتے ہیں جو عام غافل اور دنیا کی طرف متوجہ ہونے والے لوگوں کیلئے آسان بات کو سمجھتے ہیں کہ روزے کا مقصد اللہ کے اخلاق سے متصف ہونا ہے اور وہ بے نیازی ہے اور جس قدر ممکن ہو شہوات سے ب کر فرشتوں کی اقتدا کرے کیونکہ وہ شہوات سے پاک ہیں اور انسان کا رتبہ جانوروں کے رتبہ سے بلند ہے کیونکہ وہ نور عقل کے ذریعے شہوات کو ختم کر سکتا ہے اور فرشتوں کے رتبہ سے (عام انسانوں کا رتبہ) کم ہے کیونکہ اس پر شہوت کا غلبہ ہے اور اسے مجاہدے میں مبتلا کیا گیا۔ لٰہذا جب وہ شہوات میں بڑھتا ہے تو سب سے نچلے گڑھے میں گرتا ہے اور جانوروں کی درجے میں چلا جاتا ہے اور جب شہوات کا قلع قمع ہوتا ہے تو وہ اعلٰی علیین میں چلا جاتا ہے اور ملائکہ کی دنیا سے جا ملتا ہے اور فرشتے اللہ تعالٰی کے مقرب ہیں اور جو شخص فرشتوں کی اقتدا کرتا اور ان کے اخلاق سے مشابہت رکھتا ہے وہ بھی ان کی طرف اللہ تعالٰی کا مقرب بن جاتا ہے۔ کیونکہ قریب کی مشابہت اختیار کرنے والا بھی قریب ہوتا ہے اور وہاں مکان کا قرب نہیں بلکہ صفات کا قرب ہوتا ہے۔
جب عقلمندوں کے اور اہل دل کے نزدیک روزے کا مقصد اور راز یہ ہے تو ایک کھانے کو موخر کرکے دونوں کو شام کے وقت اکٹھا کرلے۔ نیز دن بھر شہوات میں غرق رہنے کا کیا فائدہ ہے، اگر اسی کا کوئی فائدہ ہے تو نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کا کیا مطلب ہوگا آپ نے فرمایا:۔
کم من صائم لیسلہ من صومہ الا الجوع والعطش
کتنے ہی روزے دار ہیں جن کو اپنے روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
اس لئے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ دانا آدمی کا سونا اور افطار کرنا کیسا اچھا ہے وہ کیسے بیوقوف آدمی کے روضے اور بیداری کو بُرا نہ جانے، البتہ یقین اور تقوٰی والوں کا ایک ذرہ دھوکے میں مبتلا لوگوں کی پہاڑوں کے برابر عبادت سے افضل اور راجح ہے۔ اسی لئے بعض علماء کرام نے فرمایا کہ کتنے ہی روزے دار روزے کے بغیر اور کتنے ہی بے روزہ، روزہ دار ہوتے ہیں، روزہ نہ رکھنے کے باوجود روزہ دار وہ شخص ہے جو اپنے اعضاء کو کھلی چھٹی دیتا ہے۔
روزے کے مفہوم اور اس کی حکمت کو سمجھنے سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جو شخص کھانے اور جماع سے رکے اور گناہوں میں ملوث ہونے کے باعث روزہ توڑ دے، وہ اس شخص کی طرح ہے جو وضو میں اپنے کسی عضو پر تین بار مسح کرے، اس نے ظاہر میں تعداد کو پورا کیا لیکن مقصود یعنی اعضاء کو دھونا جو کھانے کے ذریعہ روزہ دار نہیں لیکن ناپسندیدہ افعال سے اعضاء کو روکنے کی وجہ سے روزہ دار ہے وہ اس آدمی کی طرح ہے جو اپنے اعضاء کو ایک ایک بار دھوتا ہے تو اس کی نماز انشاءاللہ قبول ہوگی کیونکہ اس نے اصل کو پکا کیا اگرچہ زائد کو چھوڑ دیا اور جو آدمی دونوں کو جمع کرے وہ اس آدمی جیسا ہے جو ہر عضو کو تین تین بار دھوتا ہے، اس نے اصل اور زائد دونوں کو جمع کیا اور یہی کمال ہے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ان الصوم امائۃ فلیحفظ احدکم امانتہ بیشک روزہ امانت ہے تو تم میں سے ایک کو چاہئے کہ وہ اپنی امانت کی حفاظت کرے۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے قرآن پاک کی یہ آیت تلاوت فرمائی ان اللہ یامرکم ان ودوا الامانات الی اھلھا بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے مالکوں کی طرف لوٹا دو۔
تلاوت کے بعد آپ نے اپنا ہاتھ مبارک اپنے کان اور آنکھ پر رکھ کر فرمایا، سماعت و بصارت بھی امانت ہے اور اگر یہ روزے کی امانتوں میں سے نہ ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم یہ بات نہ فرماتے کہ اسے کہنا چاہئے کہ میں روزے سے ہوں۔ (بخاری)
دوسری حدیث میں گزر چکا ہے یعنی میرے پاس میری زبان امانت ہے تاکہ میں اس کی حفاظت کروں تو میں کس طرح تجھے جواب دینے کے لئے اسے کھلا چھوڑ دوں۔
اب یہ بات ظاہر ہو گئی کہ ہر عبادت کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، چھلکا بھی ہے اور مغز بھی اور اس کے چھلکوں کے کئی درجات ہیں اور ہردرجے کے کئی طبقے ہیں اب تجھے اختیار ہے کہ تو مغز کو چھوڑ کر چھلکے پر قناعت کرے یا عقلمندوں کی جماعت میں شامل ہو۔

نوٹ :۔ اس مضمون کی تفصیل اور اس کے تمام حوالے، علامہ غزالی کی تصنیف “احیاء العلوم“ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ میں نے یہاں بقدر ضرورت ایک خلاصہ پیش کر دیا ہے۔ نثار احمد مصباح

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s