وہابیوں کے بدن اور برتن شرعا پلید ہیں

وہابیوں کے بدن اور برتن شرعا پلید ہیں


1۔عرف الجادی صفحہ 10 میں لکھا ہے
منی ہر چند پاک است ۔
یعنی منی ہر صورت میں پاک ہے ۔
وہابی مذہب میں منی خواہ ذکر سے نکلے یا فرج سے دخول سے یا بغیر دخول کے احتلام سے نکلے یا مشت زنی سے ہر صورت پاک ہے ۔
2۔ فقہ محمدی کلاں صفحہ 41 میں لکھا ہے
لیکن صحیح قول یہی ہے کہ منی پاک ہے ( اسی صفحہ پر لکھاہے ) کہ دونوں کی منی پاک ہے ( یعنی مرد اور عورت کی )
3۔ فتاوٰی نذیریہ جلد 1 صفحہ 197 میں ہے
بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ منی پاک ہے ۔

سبحان اللہ ! وہابیوں کا بدن اور کپڑے منی سے گچ وضو یا غسل کتے خنزیر اور گندگی وغیرہ کا معرق پانی ہو ٹٹی بھرے جوتے اور دبر محض مٹی سے صاف ہو وہابی اس ہیئہ کذائیہ میں دربار خداوندی میں پیش ہونا پسند کرتا ہے ایسے لطف سے تو بھنگی ، ہندو ، عیسائی اور یہودی بھی محروم ہیں ۔
4۔ الروضۃ الندیۃ صفحہ 13 میں ہے (ترجمہ )
حق بات یہ ہے کہ منی کا اصل پاکیزہ ہے ۔

مسلمانوں کو چاہیے کہ وہابیوں کے لباس وغیرہ سے بھی پرہیز کریں کیونکہ منی سے لبریز ہوتے ہیں اسی لئے وہابی لوگ اپنی مسجدیں مسلمانوں سے علیحدہ بنالیتے ہیں کہ کوئی مسلمان یہ اعتراض نہ کرے کہ وہابیوں نے ہماری مسجد پلید کردی کیونکہ پہلے مسلمانوں کا یہ وطیرہ تھا کہ ان کی مسجد میں جب کوئی وہابی آگھستا تو فرش اکھاڑ دیتے کہ اس کی نجاست اینٹوں میں‌ بھی سرائت کرگئی ہے ۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہابیوں کے نزدیک منی پاک ہے بدن اور کپڑے اس سے نجاست غلیظہ کے حامل ہوتے ہیں تر ہاتھ منی کے مرطوب کپڑوں کو لگاکر اس سے کھانا کھائے گا تو وہابی کا کھانا بھی پلید لہذا مسلمانوں کو وہابیوں کے برتاؤ سے پرہیز کرنا فرض ہے ۔ جس مذہب میں منی پاک ہے بھلا ان کی عبادت اور نمازوں‌کا کیا حال ہوگا تم خود اندازہ لگاؤ ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
لا تقبل الصلوۃ الا بطھور پاک ہونے کے بغیر نماز قبول نہیں اب خود سوچو کہ وہابیوں کا نماز پڑھنا صحیح ہے یا غلط۔

منی کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری فیصلہ

مسند امام احمد حنبل 6-235 میں ہے
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے کہ ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے کو جب بھی منی لگتی تو کپڑا دھوتے پھر نماز کے لیے تشریف لے جاتے آپ کے کپڑے میں دھلے ہوئے کپڑے میں تری کا نشان میں خود دیکھتی ۔

قرآنی فیصلہ

الم نخلقکم من ماء مھین ۔ کیا ہم نے تمہیں‌ذلیل پانی سے پیدا نہیں فرمایا ۔
اللہ تعالٰی نے منی کو ماء مھین یعنی گندا پانی فرمایا ہے تم کہیں تمام قرآن کریم میں دکھاؤ کہ اللہ تعالٰی نے ماء طھورا فرمایا ہو ، ورنہ ہم سمجھیں گے تم منکر قرآن ہو پھر اللہ تعالٰی نے فرمایا کلو من طیبت ما رزقنکم تم کھاؤ جو ہم نے تمہیں پاک رزق دیا ہے ۔ قرآن کریم سے بھی ثابت ہوا کہ پاک چیز کو اللہ تعالٰی نے کھانے کا بھی ارشاد فرمایا ہے ، وہابیوں کے نزدیک منی پاک ہے تو کھاتے کیوں نہیں ۔۔ مرو مکھن جمع کرو اور کھاکر لطف اٹھاؤ اگر منی نہ کھاؤتو پھر بھی تم قرآن کریم کے منکر ہو کیونکہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے جو تمہیں ہم نے پاک رزق دیا ہے کھالو ۔ تو تمہارا منی کو نہ کھانا یہ بھی منی کے پلید ہونے کی دلیل ہے ۔ پھر فرمایا یسئلونک ماذا احل لھم قل احل لکم الطیبت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے سوال کرتے ہیں ان کے لئے کونسی چیز حلال ہے آپ فرمائیے پاک چیزیں تمہارے لیے حلال ہیں ، اس آیۃ کریمۃ سے بھی ثابت ہوا کہ اللہ تعالٰی کی طرف سے پاک چیزیں‌ حلال ہیں ۔
مسلمانوں‌!‌بلا شک محلے کی منی اکھٹی کرکے محلے کے کسی وہابی کو عطا کردیں محلہ دار وہابی کو یہی نعمت کافی رہے گی ۔ پھر فرمایا ماخرج من السبلین جو دونوں‌راستوں سے نکلے مفسد وضو ہے ، جس چیز کے نکلنے سے پاکیزگی دور ہوجاتی ہے وہ خود پاک کیسے ہوسکتی ہے اور سنئیے
سورۃ السجدہ آیت 8
پھر ہم نے انسان کی نسل کو مخلوط گندے پانی سے پیدا کیا ۔
اس آیۃ کریمۃ میں بھی منی کو گندا پانی کہا گیا ۔

انسانی تطھیر قرآن کریم میں

سورۃ مائدہ آیت 6
اللہ تعالٰی کا ارادہ تمہیں تنگ کرنے کا نہیں اور لیکن اللہ تعالٰی کا ارادہ ہے کہ تمہیں پاک رکھے اور تم پر اپنی نعمت پوری کرے تاکہ تم شکر کرو۔
کیوں وہابیوں !‌
اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے کہ میرا ارادہ ایمانداروں کو پاک رکھنے کا ہے اور تم پاک رہو گے تو تم پر اس کا انعام پورا ہو گا ورنہ تم نعمت خداوندی سے محروم رہ جاؤگے جب وہابیوں نے نجاست کو پسند کیا تو قرب خداوندی سے محروم رہ گئے کیونکہ خداوند کریم کو طہارت پسند ہے جس فرقے کو نجاست پسند ہے ان میں ایک بھی اللہ والا نہیں بن سکتا تو وہابی کا جیسا کہ باطن عداوۃ مصطفے سلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پلید ہے ایسے ہی وہابی فرقے کا ظاہر بھی پاخانے اور منی سے پلید ہے ویحسبون انھم یحسنون صنعااور انہیں یقین یہ ہے کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں ۔
(4)سورہ المدثر۔آیت 5 والرجز فاھجر یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم پلیدی کو ترک کیجیے
اللہ تعالی فرماتا ہے پلیدی کو ترک کرو اور تم پسند کرتے ہو خود سوچو کہ تم کس دھڑے میں ہو بقانون خداوندی تم نے نجاست کو ترک نہیں کیا بلکہ پسند کیا تو ازروئے قرآن کریم تم نجاست پسند منکر قرآن ثابت ہوئے اللہ رب العزت نے کفار و مشرکین و منافقین کو پلید فرمایا اور ایسے پلید لوگوں سے اجتناب کا حکم دیا۔


نجس لوگوں سے مسلمانوں کو اجتناب کا حکم خداوندی

(5)سورۃ التوبۃ آیت 95۔ فاعرضوا عنھم انھم رجس وما واھم جھنم جزاءبما کانوا یکسبون
مسلمانو! کفار و منافقین سے اعراض کرو کیونکہ وہ پلید ہیں اور ان کے اعمال کا بدلہ جہنم ہے
چونکہ وہابی فرقہ بھی نجس ٹٹی اور منی کو پاک سمجھتا ہے نجاست پسند فرقہ ہے لہذا مسلمانوں کو اس فرقہ وہابیہ سے پرہیز کرنا اسلامی فریضہ ہے ۔

پلیدی اللہ تعالی نے بے ایمانوں کے لئے پسند فرمائی ہے

(6) الانعام۔آیت 125۔کذالک یجعل اللہ الرجس علی الذین لا یومنون
اسی طرح اللہ تعالی بے ایمان لوگوں کے لئے پلیدی تیار رکھتا ہے
اس آیت کریمہ سے ثابت ہوا کہ نجاست، ٹٹی، منی، بجو، گوہ، بیوی کا دودھ، خنزیراور کتا وغیرہ اللہ تعالی نے بے ایمانوں کے لئے مقرر فرمایا ہے ایماندار ہر پلیدی اور نجاست سے پرہیز کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالی پرہیزگاروں کو پسند فرماتا ہے اور دوست بناتا ہے نجاست کھانے پینے والوں کو نہ پسند فرماتا ہے نہ ہی دوست بناتا ہے اسی لئے وہابیوں سے نہ آج تک کوئی ولی اللہ ہوا اور نہ ہے اور نہ ہی ہو سکتا ہے اور نہ ممکن ہے جب تک توبہ نہ کریں غیر مقلد وہابی نے جب گوہ، بجو،کچھوا،گھونگھرا،اور بیوی کا دودھ خنزیر اور کتے اور ٹٹیوں کے معرق پانی سے بھرے ہوئے گلاس اپنے دسترخوان پر چنے تو ہندو،سکھ، بھنگی اور چمار نے بھی اپنی تیار کردہ مٹھائی وہابی کے پاس نذرانہ کردی تو وہابی نے شکریے سے اسے بھی شرف قبولیت بخشا اور جواز کا فتوی صادر فرما کر خود بھی تناول فرمایا اور اپنی امت وہابیہ کو بھی خوب سیر کرایا تو اللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی جو وہابی کے عین موافق طابق النعل بالنعل ہے سنئیے
سورۃ التوبۃآیت 125۔واما الذین فی قلوبھم مرض فزادتھم رجسا الی رجسھم وما توا وھم کافرون
اور لیکن جن لوگوں کو قلبی مرض ہے اللہ تعالی ایسے لوگوں کو پلیدی ہی پلیدی زیادہ انعام فرماتا ہے اور وہ کفر کی حالت میں ہی مر جاتے ہیں
اس آیۃ کریمہ سے ثابت ہوا کہ وہابیوں کے دلوں رب العزت، مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم،اولیاءاللہ اور مومنین کے حق میں گستاخی، بد عقیدگی اور کمزوری کی بیماری نے دائم المریضی اختیار کر لی تو اس کا علاج گوہ، کچھوے، اور بجو کی خوراک اور پینے کے لئے خنزیر، کتے، اور ٹٹی اور اپنی بیوی کا دودھ بطور عرق مقرر کیا ہوا ہے تو اللہ تعالی کا یہ نجس چیزوں کا چناؤ صرف وہابی فرقہ کے لئے ہی ہے باقی مسلمان ان پسندیدہ وہابیہ کو حرام اور نجس یقین کرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالی نے ان چیزوں کو مسلمانوں کے لئے حرام فرمایا ہے۔
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s