کیا سرخ دسترخوان پر کھانا سنت ہے ؟ جواب

 

مسئلہ سرخ دسترخوان


حضرت خواجہ عثمان ہارونی ) م 630 ھ) علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام پر جو کھانے کا تھال اترا تھا اس پر سرخ دسترخوان تھا ۔( 1 امام فخرالدین ابو عبد اللہ محمدبن عمر بن حسین امام رازی (م 606 ھ) ربنا انزل علینا مائدۃ من السماء پ 7 سورۃ المائدہ کے تحت لکھتے ہیں : روی ان عیسیٰ علیہ السلام لما اراد الدعاءلبس صوفا، ثم قال (ربنا انزل علینا۔۔۔) فنزلت سفرۃ حمراء۔الخ ( تفسیر مفاتیح الغیب ( المشہور تفسیر کبیر ص 133 جلد12 )یعنی روایت ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دعا کا ارادہ کیا تو ٹاٹ کا لباس پہنا اور پھر یوں فرمایا : اے پروردگار ان پر خوان نازل فرما ۔الخ چنانچہ سرخ رنگ کا دسترخوان نازل ہوا ۔2 : شیخ علاءالدین ابو الحسن علی بن محمد بن ابراہیم بغدادی شافعی (م 741 ھ) مذکورہ بالا آیت ربنا انزل علینا مائدۃ من السمآء(پ 7 سورۃ المائدۃ) کے تحت لکھتے ہیں فنزلت سفرۃ حمراء۔الخ ( تفسیر لباب التاویل فی معانی التنزیل (المعروف تفسیر خازن ) ص 506 جلد اول طبع بیروت ) 3 شیخ عثمان بن حسن بن احمد شاکر الخوبوی الرومی الحنفی لکھتے ہیں : واذا بسفرہ حمراءنزلت ( درۃ الناصحین ( عربی ) مطبوعہ پشاور ص 91 زمانہ تالیف1224 ھ ) اس تھال میں سات روٹیاں تھیں اور کچھ نمک ، پس جو شخص دسترخوان پر نمک سے روٹی کھائے اس کے لیے ہر لقمہ میں سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور بہشت میں اس کے سو درجے بلند کئے جاتے ہیں وہ شخص بہشت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہوگا اور جو سرخ دسترخوان پر روٹی کھائے اسے بہشت میں ایک دعوت خانہ دیاجائے گا اور وہ جب کھانا کھاکر فارغ ہوتا ہے تو اللہ تعالی اس کے تمام صغیرہ گناہ فرمادیتا ہے پھر فرمایا کہ میں نے حضرت خواجہ مودود چشتی ( م 567 ھ ) علیہ الرحمۃ سے سنا ہے کہ جو شخص سرخ دستر خوان پر کھانا کھائے اللہ تعالی اس پر نظر رحمت فرماتا ہے ۔ ( انیس الارواح ملفوظات خواجہ عثمان ہارونی ، مرتب خواجہ معین الدین اجمیری ( اردو ترجمہ ) ص 54 طبع ملتان 1391 ھ )


انیس الارواح کا مختصر تعارف اور زمانہ تالیف


حضر ت خواجہ معین الدین چشتی (م 632 ھ) علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ خواجہ عثمان ہارونی (م603 ھ) علیہ الرحمۃ سے بیعت کرنے کے بعد دس سال تک (حضروسفر) میں ان کی محبت میں رہا ، اس کے بعد خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمۃ بغداد واپس آئے اور معتکف ہوگئے ، کچھ عرصہ کے بعد پھر سفر اختیار کیا اور دس سال میں حضرت شیخ علیہ الرحمۃ کا بستر اور پارجات سر پر اٹھائے ہوئے ہمراہ سفر رہا ، حتی کہ جب بیس سال پورے ہوئے تو حضرت شیخ نے عزلت (گوشہ نشینی ) اختیار کی ۔ اور اس درویش کو فرمان ہوا کہ کچھ دن میں باہر نہیں آؤں گا ، میرے پاس خلوت میں آجایا کرو ، تاکہ میں تجھے فقر کی تربیت دوں اور وہ یادگار رہ جائے چنانچہ اس درویش نے حکم کی تعمیل کی اور اٹھائیس مجالس میں حضرت شیخ کے تمام ملفوظات جمع کرکے اسے انیس الاراح کا نام دیا ۔(الاقتباس الانوار ، از شیخ محمد اکرم قدوسی ، زمانہ تالیف 1130 ھ طبع لاہور صفحہ 348 )
معلوم ہوا کہ ان ملفوظات کا تعلق قال ، حال ، مشاہدات اور واردات قلبیہ سے ہے اور ان پر طنز کرنا ، خواجہ معین الدین چشتی ، خواجہ عثمان ہارونی اور خواجہ مودود چشتی رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طعن کرنا ہے اور ان نفوس قدسیہ پر طعن کرنا خداوند قدوس کے غضب کو دعوت دینا ہے جیسا کہ حدیث قدسی ہے حضور سرو ر عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : من عاد لی ولیا فقد اذنتہ بالحرب ۔ جس نے میرے ولی سے عداوت کی میرا اس سے اعلان جنگ ہے ۔( بخاری شریف جلد دوم ص 963 طبع مجتبائی ۔ مشکوۃ ص 197 طبع ملتان )


ابن لعل دین نجد ی سے چند سوالات :


قادری صاحب فقط سرخ دسترخوان کے فضائل کے ناقل ہیں اصل میں یہ ملفوظات خواجہ معین الدین چشتی اجمیری علیہ الرحمۃ نے اپنے شیخ خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمۃ کے مرتب کرکے ان کا نام انیس الارواح رکھا ہے اگر قادری صاحب مورد طعن ہیں تو خواجہ اجمیری کیوں نہیں ؟

٭ اگر سرخ دسترخوان کے فضائل نقل کرنے پر قادری صاحب کو (نعوذباللہ) گمراہ اور بدعتی کہتے ہو تو خواجہ اجمیری علیہ الرحمۃ کے متعلق بھی قلم کو حرکت دیں او ر اپنا فتوی صادر فرمائیں ؟


٭جو شخص خواجہ اجمیری علیہ الرحمۃ کو ولی کامل تسلیم کرے وہ آپ کے نزدیک گمراہ ، بے دین یا فاسق و فاجر ہے ؟


مشہور علماءغیر مقلدین کے تاثرات :


مولوی ثناءاللہ امرتسری غیرمقلد لکھتا ہے :
صوفیاءکرام کی وجہ سے اسلام کو بہت ترقی ہوئی ، مثلا راجپوتانہ میں اسلام کی اشاعت حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے ذریعہ ہوئی ، کشمیر میں حضرت علی ہمدانی کے ذریعہ اسلام پھیلا ، دہلی کے گردونواح میں حضرت نظام الدین کا خاص اثر تھا ، حضرت مجدد صاحب سرہندی کی خدمت اسلام بھی خصوصا قابل ذکر ہیں ۔( رضی اللہ عنہم وارضا ھم )
( فتاوی ثنائیہ جلد اول ص 81 طبع انڈیا )

نواب صدیق حسن خاں بھوپالی غیر مقلد لکھتا ہے :
معین الدین چشتی سنجری ، زبدۃ الاولیاء، قدوۃ الاصفیاءاز غایت محتاج شد
(شمع انجمن ص 426 )

قاضی محمد سلیمان منصور پوری غیر مقلد لکھتا ہے :
سید معین الدین حسن سنجری اجمیر ی رحمۃ اللہ علیہ (م 632 ھ) وہ بزرگ ہیں جنہوں نے یوپی ، راجپوتانہ ،دکن ، بہار میں تنظیم کے ساتھ سلسلہ تبلیغ کو شروع کیا ، ان کے مرید و خلیفہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ (م635 ھ) دہلی میں خواجہ صاحب اجمیر میں اس تنظیم کی نگرانی کرتے تھے ۔
قطب صاحب کے خلیفہ بابا فرید الدین شکرگنج فاروقی (م668 ھ)علیہ الرحمۃ نے پاک پتن کو اپنا مرکز بنایا اور اپنے تین مشہور خلفاءکو تین مقامات پر ٹھراکر خواجہ بزرگ کے طریق کو محکم اور مضبوط کیا ۔(1 )حضرت نظام الدین اولیاءدہلی میں (2 ) مخدوم علی صابر روڑکی میں (3 ) قطب جلال الدین صوبہ آگرہ میں ۔
سلسلہ نظامیہ میں سید محمد گیسودراز وہ بزرگ ہیں جنہوں نے دکن میں ٹھرا پوناکو اسلام سے روشناس کرایا اور سید یحی منیر نے اودھ کو اسلام کا بہرہ ور بنایا ، مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے کارنامے آج تک سکھر کی زمین کو یاد ہیں ۔
(رسائل عشرہ المعروف گلدستہ مضامین ،ص165 ازقاضی محمد سلیمان منصور پوری طبع لاہور 1972 ئ)

یاد رہے کہ مذکورہ بالا بزرگان دین جنہوں نے برصغیر پاک و ہند میں اسلام کے شمع فروزاں کی ان کا بلاواسطہ یا باواسطہ حضرت خواجہ معین الدین اجمیری علیہ الرحمۃ ہی سے تعلق و واسطہ تھا ۔

غیر مقلد کی عجیب روش:


کتا ب انیس الارواح خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمۃ کے ملفوظات کا مجموعہ ہے اور خواجہ سید معین الدین چشتی اجمیری علیہ الرحمۃ ان کے جامع ہیں ، یہ کتاب غیر مقلدین کے نزدیک اتنی معتبر ہے کہ اس کے حوالے سے قادیانیوں کے خلاف ایک اعتقادی مسئلہ میں دلیل پکڑنا یہ حضرا ت جائز سمجھتے ہیں اسی کتاب سے اگر قادری صاحب ایک اعمال و فضائل کے مسئلہ میں دلیل لائیں تو ابن لعل دین اور اس کے حواری سیخ پا کیوں ہوتے ہیں ؟
حوالہ ملاحظہ ہو :

خواجہ اجمیری
حضرت خواجہ معین الدین اجمیری کا ارشاد سنو :
حضرت عیسی علیہ السلام از آسمان فرودآید(انیس الارواح ص9 )
یعنی حضرت عیسی علیہ السلام آسمان سے اتریں گے ۔
(محمدیہ پاکٹ بک از مولانا محمد عبد اللہ معمار امرتسری (غیرمقلد) م1950 ءص648 طبع لاہور)


کیا بنی اسرائیل سے حدیث لی جاسکتی ہے ؟


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدثوا عن بنی اسرائیل ولا حرج
(سنن ابوداؤد (مترجم)ص 121جلد 3 طبع لاہور 1403 ھ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل سے حدیث بیان کرو اس لیے کہ اس میں کچھ گناہ نہیں ۔


امام بخاری علیہ الرحمۃ نے اس روایت کو یوں نقل فرمایا :
عن عبد اللہ بن عمرو قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلغوا عنی ولوایۃ وحدثو ا عن بنی اسرائیل ولا حرج ۔الخ رواہ البخاری ۔( مشکوۃ ص32 کتاب العلم طبع مکتبہ امدادیہ ملتان)

یعنی بنی اسرائیل سے بھی حدیث لو لیکن وہ دین کے خلاف نہ ہو ، جب بنی اسرائیل سے حدیث لی جاسکتی ہے تو مسلم بزرگوں کے اقوال لینے میں کیا حرج ہے ، جب کہ مندرجہ ذیل قدریۃ رواۃ کی روایات بخاری شریف میں موجود ہیں حالانکہ انہیں امت کے مجوس کہا گیا ہے ۔( امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں (م241 ھ) اور قدریۃ مجوسیۃ تقدیر تسلیم کرنے کو جبر سے تعبیر کرتے تھے ۔ ( کتاب الارواح از ابن قیم جوزی ص210 طبع لاہور 1997 ئ) ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم القدریۃ مجوس ھذہ الامۃ رواہ احمد وابوداؤد(مشکوۃص22 طبع ملتان) پھر بزرگوں کی بات کا کیوں اعتبار نہ کیا جائے ؟
(1) ثور بن یزید الحمصی (تہذیب التہذیب جلد ثانی )
(2)حسان بن عطیہ الحاری (تہذیب التہذیب جلد ثانی )
( 3)حسن بن ذکوان (تہذیب التہذیب جلد ثانی )
(4)زکریا بن اسحاق (تہذیب التہذیب جلد ثانی )
(5)شبل بن عباد(تہذیب التہذیب جلد رابع )
(6)شریک بن عبداللہ بن ابی نمر(تہذیب التہذیب جلد رابع )
(7)عبداللہ بن عمروابومعمر (تہذیب التہذیب جلد خامس)
(8)عبد اللہ بن ابی بعید المدنی (تہذیب التہذیب جلد خامس)
(9 )عبداللہ بن ابی نجیح(تہذیب التہذیب جلدسادس)
(10)عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلی (تہذیب التہذیب جلدسادس)
(11)عبدالرحمان بن اسحاق بن عبداللہ (تہذیب التہذیب جلدسادس)
(12)عبدالوارث بن سعید التنوری (تہذیب التہذیب جلدسادس)
(13)عطاءبن ابی میمونہ (تہذیب التہذیب جلدسابع)
(14 )عمرو بن زائدہ (تہذیب التہذیب جلدثانی)
(15 )عمران بن مسلم القصیر (تہذیب التہذیب جلدثانی)
(16)عمیر بن ہانی (تہذیب التہذیب جلدثامن)
(17 )کہمس بن المنہال (تہذیب التہذیب جلدثامن)
(18)محمد بن سواءالصری (تہذیب التہذیب جلدتاسع)
(19)ہارون بن موسی الاعور الخوی (تہذیب التہذیب جلدحادی عشر)
(20)ہشام الاستوائی (تہذیب التہذیب جلدحادی عشر)
(21 )یحیی بن حمزہ الحضری (تہذیب التہذیب جلدحادی عشر)
(22)ہمام بن یحیی (23)ثور بن زید (24)خالد بن معدان (کتاب المعارف ص207)
(25)معاذ ن ہشام بن ابی عبداللہ (میزان الاعتدال جلد ثالث )


دسترخوان پر کھانا رکھ کر نوش فرمانا سنت نبوی ہے :


حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میز پر کھانا تناول نہیں فرمایا ، نہ چھوٹی طشتریوں میں نوش فرمایا ،نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کبھی چپاتی پکائی گئی ، یونس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قتادہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ پھر کھانا کس چیز پر رکھ کر نوش فرماتے تھے تو انہوں نے کہا کہ اسی دسترخوان پر ۔
(شمائل ترمذی از امام ترمذی مع شرح ص116 طبع کراچی )
(ابن ماجہ ص305 جلد2 طبع لاہور 1403 ھ)
شارح شمائل ترمذی لکھتے ہیں :دسترخوان چمڑے کا ہو یا کپڑے کا ، درحقیقت سفرہ مسافر کے کھانے کو کہتے ہیں ، جسے وہ ایک گول جیسے چمڑے میں لپیٹ کر رکھتا ہے ، اب عرف عام میں سفرہ مطلق دسترخوان کو کہنے لگے ہیں ۔
رئیس الاولیاءامام حسن بصری (م110ھ)علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
دسترخوان پر کھانا عرب کا عمل ہے اور وہی سنت ہے ۔
( انوار غوثیہ شرح الشمائل النبویہ ص210 طبع لاہور 1396 )
حافظ ابن قیم جوزی (م751ھ)لکھتے ہیں :
وکان معظم مطعمہ یوضع علی الارض فی السفر ۔۔۔۔ وکان یاکل باصابعہ الثلاث ۔الخ
(زادالمعاد فی ہدی خیر العباد ص54 جلد اول طبع بیروت )
یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر دسترخوان بچھاکر تین انگلیوں سے کھانا نوش فرماتے تھے ۔
نیز قادری صاحب کا کہنا کہ سرخ دسترخوان پر کھانا سنت ہے ۔ حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمی سنت ہے کہ آپ نے فرمایا حدثوا عن بنی اسرائیل ولا حرج (مشکوۃ کتاب العلم ) اور بنی اسرائیل سرخ دسترخوان پر کھانا کھاتے تھے جیسا کہ ہم اوپر تفسیر کبیر اور تفسیر خازن سے یہ بات ثابت کرچکے ہیں ۔
ایک لمحہ کے لیے اگر سرخ دسترخوان پر کھانے سے مذکورہ بالا ثواب نہ بھی ملے تو چونکہ بغیر کسی رنگ کی تخصیص کے دسترخوان پر کھانا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔ اس لیے فاعل ثواب سے محروم نہ ہوگا۔
Advertisements

One thought on “کیا سرخ دسترخوان پر کھانا سنت ہے ؟ جواب

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s