مانچسٹر: جمعیت علمائے پاکستان کا اجلاس‘ سوات صورتحال پر اظہار تشویش

مرکزی جمعیت علمائے پاکستان (یو کے برانچ) کا اجلاس زیر صدارت علامہ سید زاہد حسین رضوی منعقد ہوا۔ صدر جمعیت نے مالا کنڈ ڈویژن میں نظام عدل ریگولیشن کے نفاذ اور سوات و علاقہ دیر میں پاکستانی طالبان کی دہشتگردی اور انسانیت سوز واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے اجلاس کو بتایا کہ ان علاقوں میں بائیس سے زیادہ پیران طریقت اور ان کے مریدین کو طالبان نے اپنی بربریت کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کردیا۔ پیر بابا بنیر شریف حضرت سید علی ترمذی کے مزار شریف کے علاوہ درجنوں دوسرے مزارات میں توڑ پھوڑ کرکے تالہ بندی کی۔ کئی مزارات کو دھماکوں سے اڑا دیا۔ اہلسنّت کے بہت سے دینی مدارس پر زبردستی قبضہ کرلیا اور مدرسین کو ضلع بدر کر دیا۔ اہلسنّت و جماعت کی درجنوں مساجد پر راتوں رات حملے کرکے سنی علماء اور خطباء کو بے گھر کردیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے معتبر ذرائع سے آمدہ اطلاعات کے مطابق طالبان جدید اور تباہ کن اسلحہ سے لیس ہیں جو انہیں بیرونی ممالک سے مہیا کیا جارہا ہے۔ انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ وہاں کی پولیس اور افواج مبینہ طور پر درپردہ طالبان کی حمایت کررہی ہیں اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ لہٰذا دنیا بھر کے سنی عوام پر واجب ہوگیا ہے کہ وہ سرحد اور بالخصوص سوات و مالاکنڈ ڈویژن میں اپنے عقیدے کے تحفظ، مشائخ علماء اور عوام کے حقوق اور بزرگان دین کے مزارات کی حفاظت کیلئے صدائے احتجاج بلند کریں۔ جمعیت کے نائب صدر حافظ فضل احمد قادری نے سرحد کے مخدوش حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ یکدم نہیں ہوا بلکہ اس طرح کے آثار ایک عرصہ سے نظر آرہے تھے۔ علامہ احمد نثار بیگ قادری نے کہا کہ پیران طریقت کے بہیمانہ قتل اور بزرگان دین کے مزارات مقدسہ کو شہید و برباد کرکے طالبان بے نقاب ہوگئے ہیں لہٰذا لازمی ہوگیا ہے کہ اس فتنے کے سد باب کیلئے اہلسنّت و جماعت کی تمام تنظیمیں اپنی مدد آپ کے اصول کے تحت اپنے عوام کو منظم اور مسلح کریں اور موثر دفاع کی تربیت کی منصوبہ بندی کریں۔ پروفیسر پیر سید احمد حسین شاہ ترمذی نے افواج پاکستان کی سرحدی علاقوں میں غیر تسلی بخش کارکردگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ حافظ محمد صادق ضیاء نے کہا کہ اب یہ حقیقت ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ طالبان کا تعلق ان لوگوں سے ہے جنہوں نے نظریہ پاکستان کی مخالفت کی۔ مملکت خداداد پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔پیرزادہ سید محمد انور حسین شاہ کاظمی، صاحبزادہ پیر سید مزمل حسین شاہ جماعتی، سید منور حسین شاہ بخاری، قاری محمد خان قادری، صاحبزادہ سید محمد شعیب شاہ نقشبندی مجددی، پیر سید نور احمد شاہ کاظمی، قاضی عبداللطیف قادری، قاری محمد سرور نقشبندی، حافظ نعمت علی چشتی، مولانا حافظ ظہیر احمد قادری، صاحبزادہ قاضی عبدالرشید چشتی، برکات احمد چشتی، حافظ خداداد قادری، مفتی اختر علی قادری، عبدالرحمن نقشبندی، مولانا حافظ محمد شفیع نے بھی اجلاس میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s