اسلام طاقت سے نہیں پھیلا،صوفی محمد کا پیش کردہ نظام عدل بطور شریعت قبول نہیں، علمائے کرام

مرکزی جماعت اہلسنت برطانیہ و یورپ کے رہنماؤں اور سواد اعظم اہلسنت والجماعت کے ممتاز علمائے کرام نے کہا ہے کہ سوات میں صوفی محمد کی پیش کردہ شریعت کا شریعت محمدی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ صوفی محمد نے نظام عدل کے نام سے جو شرعی خاکہ پیش کیا ہے اس کی عمر صرف 80 سال کے لگ بھگ ہے جو سعودی عرب کے محمد بن عبدالوہاب کی تخلیق ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک نام نہاد نظام عدل کو شریعت کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ شریعت میں نظام اخلاق، نظام معیشت، نظام معاشرت اور زندگی کے دیگر تمام شعبوں کے بارے میں بہترین نقطہ نظر، ہدایات اور اصول موجود ہونے چاہئیں اور ان پر علمائے کرام کا مکمل اعتماد اور رہنمائی شامل ہونی چاہئے۔ مرکزی جماعت اہلسنت کے مرکزی رہنما اور محقق علامہ احمد نثار بیگ قادری نے جنگ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ شریعت محمدی تو وہ عظیم نظام ہے جس کو عام کرنے کے لیے ڈنڈے یا تلوار کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر، افغانستان اور وسطی ایشیا میں اسلام صرف اور صرف اولیا اللہ، صوفیائے کرام اور اللہ کے فقیروں اور درویشوں کے طفیل پھیل ہے اور انہی ہستیوں کے صدقے میں ہم آج مسلمان ہیں اور ان صوفیا اور اولیا اللہ کا طریقہ تبلیغ صرف کردار کی سچائی، عمل، محبت و رواداری تھی۔ مرکزی جماعت اہلسنت والجماعت کے سابق صدر صاحبزادہ پیر مزمل شاہ جماعتی نے کہا کہ پاکستان سترہ کروڑ عوام کا ملک ہے جس میں خدا کے فضل و کرم سے اہلسنت والجماعت عظیم اکثریت سے آباد ہیں یہی وہ مسلمان ہیں جو نظام مصطفی اور مقام مصطفی کے علمبردار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سنی عوام کسی ایسے شخص کی بیان کردہ شریعت کو نہیں مانتے جو اولیا اللہ سے عقیدت اور محبت کی بجائے ان کے مزارات مبارکہ پر حملے کرواتا رہے۔ انہوں نے کہا کہ 1973ء کے آئین میں تمام مکاتب فکر اور جماعتوں کی رضامندی اور اعتماد شامل ہے لیکن سوات والے تو 1973ء کے آئین کے بھی منکر ہیں۔ جماعت کے جنرل سیکرٹری صاحبزادہ سید منور حسین شاہ بخاری نے کہا کہ اہلسنت والجماعت اور ملک بھر کے عوام کے پاس امیر ملت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پور شریف جیسی معتبر ہستی موجود ہے جنہوں نے قائداعظم کاکھل کر ساتھ دیا لیکن وہ لوگ جو اس وقت دن رات پاکستان کے قیام کی مخالفت کرتے تھے وہ آج پاکستان میں اپنی پسند کی شریعت کیسے چلا سکتے ہیں۔ سابق صدر علامہ حافظ فضل احمد قادری نے کہا کہ دین دراصل دنیاوی طاقت اور قوت کا محتاج نہیں ہے کیونکہ دنیاوی طاقت اور قوت آنی جانی چیزیں ہیں اصل طاقت قوت ایمان ہے جس سے دنیاوی طاقتیں خوف کھاتی ہیں اس لئے جو لوگ ڈنڈے اور بندوق کے زور پر لوگوں کو ڈرا دھمکا کر اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دین جب کسی میں داخل ہو جاتا ہے تو اس کے لیے دنیا کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ حضور کے دور میں صرف ایک شخص پر حد نافذ ہوئی اور اس مقدمے میں کوئی گواہ نہ تھا لیکن جس صحابی سے غلطی سرزد ہوئی انہوں نے خود رسول اکرم کے سامنے پیش ہو کر اعتراف جرم کر لیا۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ دین اور شریعت کو دلوں میں اتارا جائے ڈنڈے اور گولی سے ہم لوگوں کے جسم اور دھڑ تو قابو کر سکتے ہیں لیکن ان کے دل، دماغ اور ضمیر قابو نہیں کئے جا سکتے۔ مرکزی جماعت کے بانی رہنما سید زاہد حسین شاہ رضوی نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ نہ صرف سوات بلکہ پورے ملک میں عدل و انصاف کو یقینی بنائے کیونکہ یہ کام صرف حکومت کر سکتی ہے اور کوشش کرے کہ اسلامی اور شرعی قوانین کے متصادم کوئی قانون اور شق موجود نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کبھی ہو ہی نہیں سکتا کہ حکومت پاکستانیوں کی ہو اور طاقت فوج، پولیس، ایجنسیوں یا حکومتی اداروں کے پاس ہو اور کوئی دوسرا سوات یا کسی قبائلی علاقے سے اٹھ کر اپنے لشکر کے ساتھ اپنی پسند کی شریعت نافذ کرلے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمزوری حکومت وقت کی ہے حکومت کو چاہئے کہ وہ اس صورتحال پر جلد از جلد قابو پائے اور تمام مکاتب اور جماعتوں کو اعتماد میں لے۔ علامہ پروفیسر سید احمد شاہ ترمذی نے کہا کہ قیام پاکستان کے موقع پر بھی کچھ گروہ اور جماعتیں خلافت اور پورے ہندوستان پر حکومت بحال کرانے پر بضد تھیں لیکن اس وقت اگر علامہ محمد اقبال، بابائے قوم قائداعظم اور پاکستان کے مشائخ، عظام، اولیا اور صوفیائے کرام کی فکر کامیاب نہ ہوتی تو خدانخواستہ پاکستان قائم ہی نہ ہوتا اور آج ہم بھارت میں ٹھوکریں کھا رہے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ صوفی محمد کی شریعت کسی کو بھی قبول نہیں ہے کیونکہ نہ وہ خود شریعت کا علم رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کا طریق کار درست ہے۔ حافظ محمد صادق ضیاء، حافظ نعمت علی چشتی، قاری محمد سرور نقشبندی نے بھی سوات میں حکومت کے معاہدے کی مذمت کی اور صوفی محمد کے نظام عال کو ایک ناقص اور ناقابل قبول نظام قرار دیتے ہوئے حکومت سے فوری مداخلت اور دیگر مکاتب فکر سے رابطے کی اپیل کی۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s