تلخ سچائیاں

تلخ سچائیاں
کالم نگار: حامد میر

روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی، 9اپریل2009ء میں معروف کالم نگار جناب حامد میر صاحب کا شایع شدہ کالم
’’تلخ سچائیاں‘‘ بغیر کسی تبصرے کے قارئین کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔

سچائی ہمیشہ تلخ ہوتی ہے لیکن سچائیوں کا اعتراف کئے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں ہوتا۔ آج کی تلخ سچائی یہ ہے کہ امریکہ کے نئے صدر بارک اوبامہ پنٹاگون اور سی آئی اے کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہیں۔ اوبامہ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ جارج ڈبلیو بش کی پالیسیوں کو تبدیل کریں گے لیکن پنٹاگون اور سی آئی اے تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پنٹا گون اور سی آئی اے امریکہ کی چند بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کے مفادات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اگر امریکی پالیسی بدلتی ہے اور دنیا میں امن قائم ہوتا ہے تو ان بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کو شدید نقصان ہو گا لہٰذا یہ کمپنیاں دنیا میں کہںر نہ کہیں جنگ کی آگ بھڑکائے رکھنا چاہتی ہیں تاکہ انکا اسلحہ اور ڈرون طیارے فروخت ہوتے رہیں۔ حملے بند ہو گئے تو ڈرون طیارے بنانیوالی کمپنی کو 2/ارب ڈالر کا نقصان ہو جائے گا۔ گورے امریکیوں نے فوج میں بھرتی ہونا تقریباً چھوڑ دیا تھا لہٰذا پنٹاگون اور سی آئی اے نے ایک سیاہ امریکی کو صدر بنانے کا فیصلہ کیا اوبامہ کے صدر بننے کے بعد پہلے تین ماہ میں دس ہزار سے زائد سیاہ فام نوجوان امریکی فوج میں بھرتی ہو چکے ہیں اور اگلے چند سال کے دوران 70 فیصد سے زائد امریکی فوج سیاہ فاموں پر مشتمل ہو گی جو امریکہ کی بڑی بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کے مفادات کی نگران بنی رہے گی۔ حالات و واقعات بتا رہے ہیں کہ پاکستان کیخلاف امریکہ کے ڈرون حملے بند نہیں ہونگے، بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہتا رہے گا اور سی آئی اے کے تفتیشی مراکز میں مسلمان قیدیوں کو ایڈز کے انجکشن لگانے کی دھمکیوں کا سلسلہ بھی جاری رہے گا کیونکہ اوبامہ کا سی آئی اے پر کوئی کنٹرول نظر نہیں آرہا۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ریڈکراس کے حوالے سے یہ خبر شائع کی ہے کہ سی آئی اے کے خفیہ تفتیشی مراکز میں ڈاکٹروں کے ذریعے قیدیوں پر تشدد کیا جاتا ہے اوبامہ خود ہی سوچیں کہ ڈرون طیارے اور سی آئی اے امریکہ کے لئے مزید نفرت پیدا کریں گے یا محبت؟ امریکی ڈرون طیاروں کے ذریعے پاکستان میں لڑی جانے والی جنگ کو کوئی پاکستان کی جنگ نہیں کہے گا۔ خود کش حملوں میں ہزاروں پاکستانیوں کے مارے جانے کے باوجود یہ امریکہ کی جنگ کہلائے گی اور امریکہ کی اس جنگ پر تنقید کے جرم میں مجھ جیسے گستاخ، قلم کاروں کو لبرل فاشسٹ دہشت گردوں کا ساتھی قرار دیتے رہیں گے۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ ہمیں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا آزاد خیال اور لبرل انگریزی اخبار ”میڈیا ٹیررسٹ“ کہتا ہے اور دوسری طرف جمعیت علمائے اسلام جیسی مذہبی جماعت کے رہنما مولانا فضل الرحمن کے حکم پر بھی ہمارے خلاف مظاہرے کئے جاتے ہیں اور قتل کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

اچھا ہوتا کہ مولانا فضل الرحمن مجھ ناچیز کے خلاف مظاہرے کرانے کی بجائے امریکی ڈرون طیاروں کے خلاف کوئی مظاہرہ کراتے۔ انہیں میرے ایک کالم میں مولانا حسین احمد مدنی کے بارے میں ایک واقعے کے ذکر پر بہت تکلیف ہوئی اور ان کی جماعت مجھے قتل کی دھمکیاں دینے پر اتر آئی ، کاش کہ وہ اس قسم کا ردعمل اسلام آباد کی لال مسجد میں ہونے والے قتل عام پر بھی دکھاتے۔ اس وقت تو مولانا صاحب لندن جا بیٹھے تھے اور پیچھے سے لال مسجد میں قتل عام شروع ہوگیا۔ مولانا کے چند ہزار ساتھی بھی باہر آجاتے تو یہ قتل عام رک سکتا تھا۔ میری ان کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں۔ 1999ء میں امریکہ نے حملوں کی دھمکیاں دیں تو مولانا فضل الرحمن نے ان دھمکیوں کے خلاف بھرپور ردعمل کا مظاہرہ کیا اور اس وقت میں نے ان کے حق میں کالم لکھے۔ بعض جلسوں میں خطاب کیلئے وہ مجھے بھی اپنے ساتھ لے جاتے رہے معاملہ بگڑا جب جنرل پرویز مشرف اقتدار میں آئے۔ مولانا فضل الرحمن نے مولانا حسین مدنی کے صاحبزادے اسعد مدنی کو اپریل 2001ء میں پاکستان بلایا۔ انہوں نے جامعہ خیرالمدارس ملتان میں کشمیر کی تحریک آزادی کے خلاف باتیں کیں جس پر انہیں پتھر مارے گئے۔ انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر کی تحریک آزادی میں قربانی دینے والے شہید نہیں بلکہ صرف ہندوستان کے باغی ہیں۔ اس بیان پر تنقید میرا جرم ٹھہرا اور مولانا فضل الرحمن ناراض ہو گئے۔ افسوس کہ مولانا صاحب کو کشمیر میں شہید ہونے والوں کا مذاق اڑائے جانے پر تکلیف نہ ہوئی لیکن مولانا حسین احمد مدنی کے صاحبزادے پر تنقید انہیں بہت بری لگی۔ میں اس بحث کو طوالت نہیں دینا چاہتا کیونکہ مولانا فضل الرحمن اپنے مہربانوں کے ذریعے اپنا جواب ”جنگ“ مںر شائع کروا چکے ہیں لیکن وہ یہ توقع نہ رکھیں کہ قتل کی دھمکیوں سے مجھے مرعوب کر لیں گے، یہ کام تو جنرل پرویز مشرف بھی نہ کر سکا۔ مولانا کے ایک قریبی ساتھی محمد ریاض درانی نے ایک طویل خط مجھے بھیجا ہے انہوں نے طعنہ دیا ہے کہ آپ کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے پی سی او پر حلف اٹھا لیا تھا لیکن آئین پر حلف نہیں اٹھایا آپ نے اس اصولی بات پر ناراض ہو کر لڑاکی عورتوں کی طرح مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ساتھ ان کے بزرگوں کی بھی توہین کر دی۔ درانی صاحب گزارش ہے کہ جس پی سی او پر جسٹس افتخار نے حلف اٹھایا اس پی سی او کو آپ لوگوں نے سترہویں ترمیم کے تحت جائز قرار دلوایا۔ اگر جسٹس افتخار مجرم ہے تو آپ کا اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟

محمد ریاض درانی نے بھی ڈاکٹر محمد جہانگیر تمیمی کی کتاب میں مولانا حسین احمد مدنی کے متعلق واقعے کی صحت سے انکار کیا ہے کیونکہ ان کے خیال میں اس واقعے کے راوی کلکتہ کے بیوپاری، اسماعیلی فرقے کے مرزا ابوالحسن اصفہانی ہیں جن پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ اصفہانی نہ سہی آپ کو آغا شورش کاشمیری پر تو اعتبار ہو گا۔ انکی کتاب ” فیضان اقبال“ پڑھ لیجئے جس میں آغا صاحب نے کچھ نیشنلسٹ علماء کے متعلق بہت کچھ لکھا ہے۔ اگر آغا صاحب نے بھی غلط لکھا ہے تو درانی صاحب ثابت کر دیں میں غلطی تسلیم کر لوں گا۔ درانی صاحب نے چند سال قبل اپنے دستخطوں سے مولانا حسین احمد مدنی کے متعلق فرید الوحیدی کی کتاب مجھے عنایت کی تھی اس کتاب میں مولانا شبیر احمد عثمانی اور مفتی محمد شفیع دیوبندی پر سخت تنقید کی گئی ہے کیونکہ یہ دونوں علماء مدنی صاحب کے ناقدین تھے۔ اس کتاب کے صفحہ 553 پر مفتی محمد شفیع کے ایک فتوے کا ذکر ہے جس میں انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کیلئے مسلم لیگ میں شمولیت لازمی اور کانگریس میں شمولیت حرام ہے۔ اس کتاب میں مفتی صاحب کے خلاف جو زبان استعمال کی گئی اس سے پتہ چلتا ہے کہ مولانا حسین احمد مدنی صرف کانگریس کے حامی مسلمانوں کے لئے محترم تھے پاکستان کے حامی مسلمان ان کے سخت خلاف تھے اور اسی لئے پاکستان بننے کے بعد مدنی صاحب نے پاکستان کو کبھی تسلیم نہ کیا۔ محمد ریاض درانی سے گزارش ہے کہ مولانا حسین احمد مدنی کے ”خطبات صدارت“ بھی پڑھ لیں۔ مدنی صاحب نے پاکستان بننے کے بعد بھی قائد اعظم کے بارے میں جو زبان استعمال کی میں اسے دہرانا مناسب نہیں سمجھتا۔ آج پاکستان کا اصل مسئلہ علامہ اقبال اور قائد اعظم کے مخالفین کا دفاع نہیں بلکہ پاکستان کا دفاع ہے۔ پاکستان کو امریکہ نواز لبرل فاشسٹوں سے بھی خطرہ ہے اور مذہب کے نام لیوا انتہا پسندوں سے بھی خطرہ ہے۔ ایسے میں قوم کا متحد ہونا بہت ضروری ہے۔

Advertisements

One thought on “تلخ سچائیاں

  1. قیام پاکستان کے وقت مفتی محمود اور مولوی فضل الرحمن نے بیان دیا تھا کہ “شکر ھے ھم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نھیں ھوۓ”
    اب پاکستان میں سیانت کرتے ھوۓ مولوی ڈیزل کو شرم آنی چاھئے.
    طالب حسین قمری.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s