گلدستہ

گلدستہ
 دوسرے پھول کی روح آہ بھرتے ہوئے بولی ، میں ان پھولوں میں تھی جنھیں ایک آدمی بازار لے گیا میرے ساتھ اور بھی پھول تھے جو رنگ و نسل کے اعتبار سے مختلف تھے ، ہم سب کو ایک لفافے میں بند کردیا ہمارا دم تک گھٹنے لگا تھوڑی دیر بعد ایک آدمی آیا اس نے ہمیں خریدا اور بڑے آرام سے ہمیں‌رکھا اور لے جاکر اپنی محبوبہ کو پیش کیا اس نے اپنا خوبصورت سا چہرہ ہمارے قریب کیا ایک لمحے کے لئے تو ہم اپنا دکھ بھی بھول گئے لیکن خوشی کب تک ؟ اس نے ہمیں ایک کونے میں رکھ دیا ۔۔۔ پھر کیا ہوا ؟
 پھر کیا ہوا ہماری ساری روح ( خوشبو ) نکل گئی ۔۔۔

Advertisements

پھولوں کی آہ

پھولوں کی آہ

میں ایک روز ڈان کو باغ چلا گیا ، ہر پھول رویا تھا اور ہر ایک کا چہرہ آنسوئوں سے تر تھا ۔۔۔ میں صبح پہنچا لگتا یوں تھا کہ رات بھر روئے ہیں سوئے نہیں ، میں نے پوچھا کیا ہوا ؟ کیوں روتے ہو ؟‌۔۔۔ ایک پھول نے وجہ بتائی ، پرسوں کی بات ہے میں نے ابھی پوری آنکھ بھی نہ کھولی تھی ، ایک انسان آیا اس کے ہاتھ میں قینچی تھی اس نے میرے سامنے تمام پھولوں کی گردنیں کاٹیں اور ٹوکری میں لےگیا، ہمیں نہیں معلوم ہمارے ساتھیوں کو کدھر لےگیا ۔۔۔ ہم ان کے متعلق جاننا چاہتے تھے ۔ کل شام کی بات ہے چند پھولوں کی روح (خوشبو) کا ادھر سے گزر ہوا ۔۔۔ میں نے اُن کو روک لیا ۔۔ ان سے پوچھنے لگا ۔۔۔ ایک نے بتایا کہ ہم سب کو وہ پھولوں کی منڈی میں لےگیا اور وہاں ہمارے اور بھائی بھی موجود تھے مختلف علاقوں سے قید کرکے لائے گئے اور سب کو مختلف ٹوکریوں میں پیک کرکے مختلف علاقوں میں بھیجا جارہا تھا ۔۔ اور میں ان پھولوں میں شامل تھا جنہیں ایک آدمی خرید کر قبرستان لےگیا ، وہاں‌پکی دکانیں بھی تھیں اور پھٹے بھی تھے جن پہ رکھ کر ہمیں بیچا جاتا تھا ۔۔۔ بس کچھ نہ پوچھو ۔۔۔ دکاندار نے ہمیں ٹوکری سے نکالا اور ایک بڑی سوئی گردن میں پرو کردی ہماری آہ و بکا بلند ہوگئی مگر قبرستان میں کون سنتا سب مُردے تھے ، اس ظالم نے مجھے اور میرے چند ساتھیوں‌کے گلے میں دھاگہ ڈالا اور ہمیں لٹکایا ۔۔۔۔
 یہ منظر ناقابل برداشت تھا کئی پھول تو اس تکلیف سے پتی پتی ہوگئے ۔۔۔ آیک آدمی آیا اس نے کچھ کاغذ کے ٹکڑوں کے عوض ہمیں خریدا اور اندر لے گیا اور جاکر ایک قبر پہ ڈال دیا ہم مظلوموں سے ہمدردی کرنے کے بجائے وہ ہمیں ایک مُردے کے پاس چھوڑ گیا وہ تھوڑی دیر کے بعد چلا گیا ۔۔۔
پھر کیا ہوا ۔۔۔۔
 کیا ہونا تھا ۔۔۔
آہ ۔۔۔اور کیا ؟

خاوند کی آہ

خاوند کی آہ
 ایک خاوند صاحب اپنا ماتھا شہادت کی انگلی اور انگھوٹھے سے پکڑے ہوئے رو رہے تھے ، میں نے کہا بھائی تجھے کیا ہوا ؟‌ کیا جسم کا سارا پانی آنکھوں سے نکالنے کا ارادہ ہے ؟ کہا مختار کیا کروں میرا مرنے کو جی چاہتا ہے ۔۔ میرے منہ سے آہ کے علاوہ اور لفظ نکلتا ہی نہیں ۔۔۔ یوں لگتا ہے بچپن سے شاید یہی لفظ سیکھا ہے ۔۔۔ میرا پورا جسم صرف آہ بناتا ہے اور سب کام چھوڑ گیا ہے ۔۔۔ آج سے پانچ سال پہلے میں نے راتوں کا سکون بیچ کر ۔۔۔ موتیوں سے قیمتی آنسو دیکر ۔۔۔ دل و دماغ‌دیکر ایک خوبصورت عورت کی توجہ خریدی ۔۔۔ میں‌نے اسے کہا تھا تم صرف میرے سامنے رہا کرو ۔۔۔ بھوک لگے تو جگر حاضر ہے پیاس لگے تو اشک حاضر ہیں ۔۔۔ چلنا ہوتو سر آنکھوں‌پر ۔۔ رہنا ہوتو دل و دماغ‌حاضر ہیں‌۔۔ وہ مانوس ہوگئی ۔۔۔ جو میں‌چاہتا تھا وہی اس کی چاہت بن گئی یعنی ہم نے شادی کرلی ہماری شادی کو پانچ سال ہوگئے ہیں‌۔۔۔ میں اپنا جسم اور بعض اوقات ضمیر تک بیچ کر اسے آرام خرید کردیتا رہا ۔
 پھر وہ زور زور سے رونے لگا۔۔۔ اور کہتا ہے مختار تجھے معلوم ہے ؟ اس نے میرے ساتھ کیا کیا ؟ میں نے اسے ٹوٹ کر چاہا تھا اس نے مجھے توڑ کر رکھ دیا ۔۔۔ میں ٹوٹ گیا وہ کسی اور سے جڑ گئی ۔۔۔ وہ اپنا سب کچھ کسی دوسرے کو مفت دے رہی ہے ۔۔۔
 آہ
 اللہ مجھے ماردے ورنہ یہ گرم آہیں میرا سینہ جلادیں‌گی۔

بیوی کی آہ

بیوی کی آہ
 بیوی اپنی ایک راز دار سہیلی سے کہہ رہی تھی ۔۔۔ اب میرا میاں مجھ سے کم پیار کرتا ہے ۔۔۔ پہلے پہار کرتے کرتے تکھتے نہیں تھے اب کرتے نہیں ہیں ۔۔۔ پہلے بات کرتے تھے ساری رات کرتے تھے ۔۔۔ اب بات بات پر ٹوکتے ہیں ۔۔۔ باہر جانے سے روکتے ہیں ۔۔۔ کل تو مجھے مارا بھی ۔۔ چہرہ پیلا ہوگیا ہے ۔۔۔ ہاتھ مار کی وجہ سے نیلے ہوگئے ۔۔۔ حالانکہ انھیں میرے گورے ہاتھ بہت اچھے لگتے تھے ۔۔۔۔
 ہائے میرے نصیب ۔۔۔۔
 آہ
 وہ عرفان مجھ سے کتنا پیار کرتا تھا ۔۔۔
 میرا کتنا خیال رکھتا تھا ۔۔
 سکول چھوڑنے جاتا تھا ۔۔۔
 لینے جاتا تھا ۔۔۔
 اس سے شادی کرلیتی کتنا خوش رہتی ۔۔۔
 اور وہ میری ساس اللہ کی پناہ۔۔۔
 ہٹلر کی بیٹی ہے ۔۔
اس کی آنکھ میں میری خوبیاں بھی خامیاں نظر آتی ہیں ۔۔۔
 بس یہی کچھ ہوتا رہتا ہے ۔۔۔
 آخرکار خاوند مرجاتا ہے یا وہ بیوی مرجاتی ہے ۔۔۔
بچتا کیا ہے  آہیں ۔۔۔
بیوی کی خاوندکے مرنے پر
یا خاوند کی بیوی کے مرنے پر۔

ماں باپ کی آہ

ماں باپ کی آہ
 ماں باپ ہر قسم کی آہ سے آشنا ہوجاتے ہیں ۔۔۔ 

آہ   اولاد بات نہیں مانتی ۔۔۔
 بچہ دیر سے گھر آتا ہے ۔۔۔
 آوارہ لڑکوں کے ساتھ پھرتا ہے ۔۔۔
 پڑھائی کی طرف دھیان کم دیتا ہے ۔۔۔
 خوشی نہیں غم دیتا ہے ۔۔۔
 بڑی لڑکی جوان ہوگئی ۔۔اے جی کچھ کرو۔۔
 ہائے ایک جان کتنے دکھ ۔۔۔
 کوئی اچھا سا لڑکا ڈھونڈو ۔۔۔
 پر آہ  اچھے لڑکے کدھر ملتے ہیں ۔؟
ماں‌باپ یونہی آہوں کے ہوکر رہ جاتے ہیں‌۔

ماسٹر کی آہ

ماسٹر کی آہ
 شاگرد ہماری عزت کیوں نہیں کرتے ؟  آہ ۔۔۔۔ تنخواہ ۔۔۔ خرچہ نہیں چلتا ۔۔۔ کنبہ نہیں پلتا ۔۔۔ ہائے بڑھاپا ۔۔۔ یا اللہ کچھ ٹیوشنز دیدے ۔۔۔۔ وہ بیچارہ لوگوں‌کے گھر گھر جاکر بچوں کو پڑھاتا ہے اور رات دس بجے گھر آتا ہے ایک سرد آہ کھینچتا ہے اور صوفے پر گرتے ہوئے ایک ہی جملہ ۔۔۔ بیگم کھانا لائو۔

بچہ کی آہ

بچہ کی آہ
 ! آہ ماسٹر بیمار کیوں نہیں ہوتا ؟
یا اللہ !
 ماسٹر جی ریاضی و انگریزی والے ماسٹر جی بیمار ہوجائیں آج ان کو کوئی ضروری کام پڑجائے مگر اس کی آہیں سنی نہیں جاتیں اور ماسٹر جی آجاتے ہیں اور اسے خوب مارپڑتی ہے پھر یہ کلاس میں روتا ہے ۔۔۔ وہ مختلف غموں کا اظہار کرتا ہے چھٹی کیوں نہیں ہوتی ؟
 ‌ کاش سبق نہ سنا جائے صرف پڑھایا جائے جس طرح کالجوں میں ہوتا ہے ۔ اتوار کا دن جلدی کیوں ختم ہوجاتا ہے ؟ باقی دن لمبت کیوں ہوتے ہیں ؟ چھٹیاں ہوتی ہیں سیر کرنے کے لئے اور ماسٹر جی ساری ساری کتاب کا سبق لکھنے اور یاد کرنے کو دے دیتے ہیں‌اگر اتنا کام دینا تھا تو چھٹیاں کیوں دیں ؟‌ اس کا ذہن چھوٹا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔
 آہ بھرتا ہے اور کام بھی کرتا ہے ۔

::‌ آہیں‌ ہی آہیں ::

::‌ آہیں‌ہی آہیں  ::
 
 گوش جذبات سے آہیں سنو ۔۔۔۔
 آپ کو ہر طرف چیخ و پکار ۔۔۔۔
 آئے ہائے ۔۔۔۔
 آہ کی آوازیں سنائی دیں گی ۔۔۔۔
 مٹی کی کان سے نہیں ۔۔۔۔
 دل کے کان سے ۔۔۔۔
 مٹی کے بنے ہوئے کان تو جانور کے پاس بھی ہیں ۔۔۔۔
 کچھ سنائی دیا ؟
 نہیں ؟
 میرے ساتھ چلو ۔۔
ٹھرو یہ بچہ ہے چھپ کر اس کی آپ سنو ۔۔۔
 اگلی پوسٹ میں انشا ء اللہ

چور

چور
 ہر دنیا دار کا محبوب چور ہوتا ہے جب یہ اس سے پیار کرتا ہے وہ پہلی ملاقات میں نیند چراتا ہے ۔۔۔۔ چین چراتا ہے ۔۔ یہ چرانے کا سلسلہ پھر چل نکلتا ہے ۔۔۔ پھر سکون بھی چوری ہوجاتا ہے ۔۔ حتٰی کہ یہ چور ڈاکو بن جاتا ہے اور اس کی نظروں کے سامنے اس سے سب کچھ چھین لیتا ہے ، اسی چور کو وہ بخوشی دل و دماغ کے تمام پلاٹ مفت میں دیتا ہے کہ تم اس میں اپنا اڈا بنالو ۔۔۔ پھر یہ اس کے اہم مقامات پر قبضہ کرلیتا ہے اس کا تمام کنٹرول اس کے ہاتھ میں چلاجاتا ہے ۔۔۔ پھر یہ خود کیلئے کچھ نہیں کرتا نہ خدا کے لئے کچھ کرتا ہے بلکہ سب کچھ اسی کے لئے کرتا ہے ۔۔۔۔ وہ اس کا سب کچھ لے لیتا ہے ۔۔۔ اسے صرف ایک شے دیتا ہے ۔۔۔ آپ کو معلوم ہے وہ کیا ہے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 وہ ہے آہ
 میں نے کسی خادند کے منہ سے واہ نہیں سنی جب سنی ہے آہ ہی سنی ۔

لپ اسٹک

لپ اسٹک
 لپ اسٹک کا آغاز فراعین کے عہد میں‌ہوا عورتیں اپنے ہونٹوں‌پہ لگاتی تھیں‌تاکہ شیطانی ارواح‌اندر داخل نہ ہوجائیں ہوسکتا ہے اُس دور میں لپ اسٹک بدبودار ہو ۔۔۔ لیکن آجکل تو لپ اسٹک شیطان کو بھگانے کے لئے نہیں لگائی جاتی بلکہ اسے دیکھ کر تو شیطان جمع ہوجاتے ہیں ،
!! آہ 
!! عورت 
 کاش تو یہ سمجھ جاتی حسن کیا ہے ؟
خاوند اور خاندان کی خدمت کرنا ۔۔۔ کردارو گفتار کو خوبصورت و پاکیزہ بنانا ۔۔۔ گھر کو جنت بنانا۔