امنڈتی ہوئی اموات

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الصلوٰۃ و السلام علیک یارسول اللہ
امنڈتی ہوئی اموات

فالج، بلڈ پریشر، ہارٹ اٹیک، ایڑز، کینسر اور ہیپاٹائٹس B/C

بعض کا ابھی تک علاج دریافت نہیں ہو سکا۔ ۔ ۔ ؟ بلکہ اکثر کے حفاظتی ٹیکے اور ویکسین بھی نہیں ۔ ۔ ۔ ؟
 

اب کیا ہو گا ۔ ۔ ۔ ؟ مایوس نہ ہوں !

آئیے ! اللہ عزوجل کی عطا سے دو جہاں کے مالک و مختار ہم بے کسوں کے مددگار، حبیب پروردگار ( عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ) کی بارگاہ بے کس پناہ سے برسنے والی عطاؤں کو لوٹنے کے لئے اپنے دامن کو پھیلا کر “ مدنی ویکسین “ کے ذریعے ان موذی بیماریوں سے اپنے آپ کو محفوظ کر لیجئے ( یہ مریض مر رہا ہے تیرے ہاتھ میں شفا ہے۔ اے طبیب جلد آنا مدنی مدینے والے، صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم )

از: امیر اہلسنت محمد الیاس عطار قادری رضوی

الحدیث: سرکار نامدار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عظمت نشان ہے
جو شخص کسی مصیبت زدہ کو دیکھ کر یہ دعا پڑھے گا تو اس بلا اور مصیبت سے محفوظ رہے گا
اَلحَمدُللہِ عَافَانِی مِمَّا ابتَلاَکَ بِہ وَ فَضَلَنِی عَلٰی کَثِیرٍ مِّمَّن خَلَقَ تَفضِیلاً ہ

( ترمذی شریف جلد5 ص 272 راوی حضرت عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہما۔ ابن ماجہ جلد4 ص295 راوی حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ ) “ مطبوعہ بیروت “
جس طرح لوگ ڈاکٹروں کے بتائے ہوئے “ حفاظتی ٹیکے “ لگوا کر پورے یقین کے ساتھ اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں، اگر ہم بھی کامل یقین کے ساتھ اپنے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے کسی بھی مریض کو دیکھ کر اس “ دعا “ کو پڑھ لیں گے تو انشاءاللہ عزوجل ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس موذی بیماری سے محفوظ ہو جائیں گے ( اس دعا کو پڑھتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اتنی آواز سے نہ پڑھیں کہ مصیبت زدہ سن لے کیونکہ بلند آواز کے ساتھ پڑھنے سے ہو سکتا ہے اس کی دل شکنی ہو۔ )
امام اہلسنت، مجدد دین و ملت پروانہ ء شمع رسالت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن کا فرمان نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر کامل یقین اور روحانی مشاہدات
آپ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے بہت شدید بخار تھا، میرے منجھلے بھائی ( مولانا حسن رضا خان صاحب ) ایک طبیب کو لائے۔ ان دنوں بریلی میں مرض طاعون بشدت تھا۔ ان صاحب نے بغور دیکھ کر چند مرتبہ کہا “ یہ وہی ہے “ یعنی ( طاعون ) میں بالکل کلام نہ کر سکتا تھا اس لئے انہیں جواب نہ دے سکا، حالانکہ میں خوب جانتا تھا کہ یہ غلط کہہ رہے ہیں، نہ مجھے طاعون ہے اور نہ انشاءاللہ عزوجل العزیز کبھی ہو گا۔ اس لئے کہ میں نے طاعون زدہ کو دیکھ کو کئی مرتبہ وہ دعا پڑھ لی ہے، جسے حضور سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا “ جو شخص کسی بلا رسیدہ کو دیکھ کر یہ دعا پڑھ لے گا اس بلا سے محفوظ رھے گا۔“ جن جن امراض کے مریضوں، جن جن بلاؤں کے مبتلاؤں کو دیکھ کر میں نے اسے پڑھا۔ الحمدللہ عزوجل آج تک ان سب سے محفوظ ہوں۔ اور انشاءاللہ عزوجل ہمیشہ محفوظ رہوں گا۔ مجھے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد پر وہ اعتماد نہ تھا کہ طبیبوں کے کہنے سے ( معاذاللہ عزوجل ) کمزور ہوتا۔ یہ میں نے اس لئے بیان کیا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے دائم و باقی معجزات ہیں جو آج تک آنکھوں سے دیکھے جا رہے ہیں اور انشاءاللہ عزوجل قیامت تک اہل ایمان مشاہدہ کریں گے۔ میں اگر انہی واقعات کو بیان کروں جو میں نے خود اپنی ذات میں مشاہدہ کئے تو ایک دفتر درکار ہو۔ ( الملفوظ حصہ اول ص 19 )
دعوت اسلامی
کے سنتوں کی تربیت کے مدنی قافلے میں سفر کرکے اپنی پریشانی کے حل کے لئے دعا مانگئیے۔ انشاءاللہ عزوجل مایوسی نہیں ہو گی۔
طالب غم مدینہ و بقیع و مغفرت
محمد الیاس عطار قادری رضوی ( دامت برکاتہم العالیہ )

Advertisements

بدمذہب سے ترش رو ہو کر با ت کرو

بدمذہب سے ترش رو ہو کر با ت کرو

1۔ عن انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسو ل اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم : اِذَا رَایتُم صَاحِبَ بِدعَۃٍ فَاکفَھِرُوا فِی وَجہِہ ، فَاِنّ اللّٰہَ یُبغِضُ کُلَّ مُبتَدِعٍ، وَ لاَ یَجُوزُ اَحَد مِّنہُم عَلیَ الصِّرَاطِ لٰکِن یَّتَہَافَتُونَ فِی النَّارِ مِثلَ الجَرَادِ وَ الذُّبَابِ ۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم کسی بد مذہب کو دیکھو تو اسکے رو برو اس سے ترش روئی کرو۔ا س لئے کہ اللہ تعالیٰ ہر بدمذہب کو دشمن رکھتا ہے ،ان میں کوئی پل صراط پر گزرنہ پائے گا بلکہ ٹکڑے ہو کر آگ میں گر پڑیں گے جیسے ٹڈی اور مکھیاں گرتی ہیں ۔“ فتاوی رضویہ 6/103

ایمان

اللہ عزوجل قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے ” ( پ ۷ رکوع ۸۱ 
 یہ ہے اللہ عزوجل تمہارا رب اور اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں ہر چیز کا بنانے والا تو اسے پوجو، وہ ہر چیز پر نگہبان ہے ۔       ( کنزالایمان )
 حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے ، اچانک ایک شخص ہمارے سامنے آیا جس کے کپڑے نہایت سفید اور بال کالے سیاہ تھے ۔ نہ اس پر سفر کی کوئی علامت دکھائی دیتی تھی اور نہ ہم میں سے کوئی اسے جانتا تھا ۔ آخروہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور اس نے اپنے گھٹنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے ملا دئیے اور اپنے دونوں ہاتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رانوں پر رکھ دئیے۔ پھر کہنے لگا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ د کے سواکو ئی معبود نہیں اور محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )اللہ کے رسول ہیں ۔ اور تو نماز پڑھے ، زکوة دے ، رمضان کے روزے رکھے اور کعبة اللہ کا حج کرے اگر تو اس کے راستے کی استطاعت رکھتا ہو ۔  اس نے جواب دیا : آپ نے سچ فرمایا ۔( راوی کہتے ہیں ) ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال بھی کرتا ہے اور پھر ان کی تصدیق بھی کرتا ہے ۔ پھر اس نے کہا : مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے ۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( ایمان یہ ہے کہ ) اللہ کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ، اور آخرت کے دن پر اور بھلی ، بُری تقدیرپرایمان لائے۔اس شخص نے کہا:آپ نے سچ فرمایا۔پھر اس نے کہا ” مجھے احسان کے بارے میں بتائیے “۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( احسان یہ ہے کہ ) تو اللہ عزوجل کی عبادت اس طرح کرے کہ گویا تو اسے دیکھ رہاہے ۔ اگر تو اسے دیکھ نہیں سکتا تو ( کم از کم اتنا خیال ہو کہ ) وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ ( مسلم شریف)
  میرے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے دیوانو ! مذکورہ بالا حدیث پاک کی تشریح کرتے ہوئے حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمة اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں ”اسلام ، ظاہری اعمال کا نام ہے (مثلانماز پڑھنے ، روزہ رکھنے ، زکوٰة دینے ، وغیرہم کا ) اور ایمان نام ہے اعتقاد باطن کا( مثلاً اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دل سے ماننے کا )اور اسلام و ایمان کے مجموعے کا نام دین ہے ۔“
ایمان باللہ عزوجل اور اس کے تقاضے
  میرے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے دیوانو !اللہ عزوجل پرایمان لانے کے بعداس کا تقاضہ یہ ہے کہ بندہء مومن اپنے معبودِبرحق کے ہر ہر حکم کا تابع و فرمانبردار رہے ۔ اور اس کے نائب مطلق ،نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں سرشار ہوکر آپ کی لائی ہوئی شریعت کے احکامات کا پابند رہے ۔ تاکہ بندہ، رِضائے الٰہی کا حقدار ہو جائے ۔

ایمان کامل کے تقاضے

ایمان کامل کے تقاضے
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی اللہ تعالٰی کے لیے محبت کرے اللہ تعالٰی کے لیے عداوت کرے اللہ تعالٰی کے لیے دے اور اللہ تعالٰی ہی کے لیے روکے اس نے اپنا ایمان کامل کرلیا ۔ (ابوداؤد )

ہلاکت کی سات چیزیں

ہلاکت کی سات چیزیں
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہلاکت کی سات چیزوں سے بچو لوگوں نے عرض کی وہ سات چیزیں کیا ہیں ، فرمایا اللہ تعالٰی کے ساتھ شرک کرنا ، جادو کرنا ، ناحق کسی کو قتل کرنا ، سود کھانا ، یتیم کا مال کھانا ، جہاد کے وقت بھاگ جانا ، مومنہ بےخبر عورتوں پر بہتان لگانا۔(بخاری ، مسلم )

مشرک کی مغفرت نہ ہوگی

مشرک کی مغفرت نہ ہوگی
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عجب نہیں کہ اللہ تعالٰی تمہارے گناہ معاف فرمادے ، لیکن وہ شرک کو اور ناحق کسی مومن کو قتل کرنے والے کو معاف نہ فرمائے گا ۔(ابوداؤد)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کرنے والا کا انعام

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کرنے والا کا انعام
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کب آئیگی ؟ فرمایا : قیامت کے لیے تونے کیا تیاری کی ہے ؟‌ اس نے عرض کی نہ بہت سے نمازیں جمع کی ہیں اور نہ روزے اور نہ ہی صدقے لیکن اتنا ضرور ہے کہ اللہ تعالٰی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو انہی کے ساتھ ہوگا جن سے محبت رکھتا ہے ۔ ( بخاری )

عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایمان کی جان ہے

عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایمان کی جان ہے
حضرت عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہ آپ مجھے میری جان کے سوا ہر چیز سے زیادہ پیارے ہیں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کوئی ہرگز مومن نہیں ہوسکتا ، جب تک کہ میں‌اسے اس کی جان سے بھی زیادہ پیارا نہ ہوجاؤں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی آقا !‌ اب آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ عزیزہیں ، فرمایا اے عمر ! اب تیرا ایمان کامل ہوگیا۔ ( بخاری )

دین اسلام کے پانچ ستون

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خاص بندے اور رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوۃ دینا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا ۔ ( بخاری ۔ مسلم )