قیام امن معاشرے کا اہم مسئلہ :: ڈاکٹر سرفراز نعیمی

قیام امن معاشرے کا اہم مسئلہ :: ڈاکٹر سرفراز نعیمی
قیام امن معاشرے کا اہم مسئلہ :: ڈاکٹر سرفراز نعیمی
Advertisements

ڈینگی وائرس کے بارے میں 10 معلومات و ہدایات

الحمدللہ رب العالمین و الصلوٰۃ و السلام علٰی سیدالمرسلین
اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

“بیمار مدینہ“ کے دس حروف کی نسبت سے ڈینگی وائرس کے بارے میں 10 معلومات و ہدایات

از شیخ طریقت امیر اہلسنت، بانیء دعوت اسلامی
حضرت علامہ مولٰینا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ

(1) آج کل “ڈینگی وائرس“ نے تہلکہ مچا رکھا ہے، جو کہ طبی تحقیق کے مطابق ایک مخصوص یعنی چتکبرے کالے مچھر کے کانٹے سے جسم میں داخل ہوتا ہے۔
(2) یہ چتکبرا کالا مچھر گندگیوں کے بجائے صاف پانی میں پرورش پاتا ہے لٰہذا پانی کے برتنوں اور ٹنکیوں کو ڈھانپ کر رکھنا سخت ضروری ہے۔ اپنے گھر اور اطراف میں تین دن سے زائد پانی جمع نہ رہنے دیا جائے۔
(3) ڈاکٹروں کے نزدیک ڈینگی وائرس کے مریض کے سانس یا چھونے کے ذریعے دوسرے کو اس کی بیماری نہیں لگتی۔ (اسلامی نقطہ نظر سے کوئی بھی بیماری اڑ کر نہیں لگتی اور کوئی بھی مرض موروثی نہیں ہوتا)
(4) ڈینگی وائرس خون جمانے والے خلیات (CELLS) کو کم کر دیتا ہے۔
(5) صرف لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے ہی اس وائرس کی تشخیص ممکن ہے، یہ ٹیسٹ بخار ہونے کے 5 دن کے بعد کروانا چاہئیے۔
(6) مریض کو 2 تا 5 دن تک مسلسل بخار اور درد سر رہتا ہے۔
(7) تیز بخار کے باعث بعض مریضوں کے جسم میں درد اور جلد پر دھبے بھی پڑھ جاتے ہیں جو کہ عموماً 6 تا 10 روز باقی رہتے ہیں۔
( 8 ) بدن پر دھبوں کے ساتھ ساتھ، مسوڑھوں سے خون، ناک یا منہ سے خون، خون کی الٹی اور فضلے میں خون کی شکایت بھی بعض مریضوں میں پائی گئیں جو کہ اس بیماری کی انتہائی علامت ہے۔
(9) بعض بیمار بہت خطرناک صورت حال سے بھی دو چار ہو جاتے ہیں، ان کے جسم کے مختلف حصوں سے خون نکلنے لگتا، اچانک بلڈپریشر کم ہو جاتا، جسم ٹھنڈا ہو جاتا اور شدید کمزوری محسوس ہوتی ہے، ایسے موقع پر مریض کو فوراً اسپتال لے جانا ضروری ہے۔
(10) اس بیماری کا کوئی مخصوص علاج نہیں، اینٹی بایوٹک اور اینٹی وائرل دوائیں اس مرض میں کارآمد نہیں۔ تاہم طبیب کے مشورہ سے مریض کے بخار کو کم کرنے کی کوشش کی جائے اور اس کو زیادہ سے زیادہ مشروبات مثلاً پانی، جوس اور سوپ وغیرہ دیا جائے۔

ڈینگی کے مریض کے لئے 2 روحانی علاج

(1) یاسلام 33 بار (اول و آخر ایک بار دورد شریف) پڑھ کر ڈینگی کا مریض اپنے اوپر دم کر لے اور پانیپر دم کرکے پئے۔ (یہ عمل روزانہ ایک بار کرنا ہے، دوسرا شخص بھی پڑھ کر دم کر سکتا اور پلا سکتا ہے، یہ عمل ہر مرض کے لئے مفید ہے)
(2) یاسلام کا ورد اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، باوضو بےوضو کرتے رہئیے، انشاءاللہ عزوجل ڈینگی اور ہر طرح کی بیماری و مصیبت سے نجات ملے گی، اور روزی میں بھی برکت حاصل ہو گی۔ (ورد کے دوران وقتاً فوقتاً درود شریف بھی پڑھتے رہئیے)

ڈینگی وائرس سے بچنے کا وظیفہ

یامھیمن 29 بار (اول و آخر ایک بار درود شریف) روزانہ ایک مرتبہ (وقت کی قید نہیں) پڑھنے والا انشاءاللہ عزوجل بمع ڈینگی ہر بیماری و آفت اور ہر رنج و بلا سے محفوظ رہے گا۔ (مخلصاً 40روحانی علاج‘ مطبوعہ مکتبۃالمدینہ)

مدنی علاج

دعوت اسلامی کی سنتوں کی تربیت کے مدنی قافلوں میں عاشقان رسول کے ساتھ سنتوں بھرا سفر کرکے دعاء مانگنے والوں کی خطرناک بیماریوں دور ہونے کی اطلاع ملتی رہتی ہیں مریض مجبور ہو تو گھر کے کسی فرد کو کم از کم تین دن کے لئے مدنی قافلے میں سفر کروا دے۔

نیکی کی دعوت

پانچوں وقت نماز کی پابندی کرتے رہئیے۔

20 شوال المکرم 1427ھ
ملنے کا پتا: مکتبۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی اور اس کی مختلف شاخیں۔

امنڈتی ہوئی اموات

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الصلوٰۃ و السلام علیک یارسول اللہ
امنڈتی ہوئی اموات

فالج، بلڈ پریشر، ہارٹ اٹیک، ایڑز، کینسر اور ہیپاٹائٹس B/C

بعض کا ابھی تک علاج دریافت نہیں ہو سکا۔ ۔ ۔ ؟ بلکہ اکثر کے حفاظتی ٹیکے اور ویکسین بھی نہیں ۔ ۔ ۔ ؟
 

اب کیا ہو گا ۔ ۔ ۔ ؟ مایوس نہ ہوں !

آئیے ! اللہ عزوجل کی عطا سے دو جہاں کے مالک و مختار ہم بے کسوں کے مددگار، حبیب پروردگار ( عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ) کی بارگاہ بے کس پناہ سے برسنے والی عطاؤں کو لوٹنے کے لئے اپنے دامن کو پھیلا کر “ مدنی ویکسین “ کے ذریعے ان موذی بیماریوں سے اپنے آپ کو محفوظ کر لیجئے ( یہ مریض مر رہا ہے تیرے ہاتھ میں شفا ہے۔ اے طبیب جلد آنا مدنی مدینے والے، صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم )

از: امیر اہلسنت محمد الیاس عطار قادری رضوی

الحدیث: سرکار نامدار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عظمت نشان ہے
جو شخص کسی مصیبت زدہ کو دیکھ کر یہ دعا پڑھے گا تو اس بلا اور مصیبت سے محفوظ رہے گا
اَلحَمدُللہِ عَافَانِی مِمَّا ابتَلاَکَ بِہ وَ فَضَلَنِی عَلٰی کَثِیرٍ مِّمَّن خَلَقَ تَفضِیلاً ہ

( ترمذی شریف جلد5 ص 272 راوی حضرت عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہما۔ ابن ماجہ جلد4 ص295 راوی حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ ) “ مطبوعہ بیروت “
جس طرح لوگ ڈاکٹروں کے بتائے ہوئے “ حفاظتی ٹیکے “ لگوا کر پورے یقین کے ساتھ اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں، اگر ہم بھی کامل یقین کے ساتھ اپنے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے کسی بھی مریض کو دیکھ کر اس “ دعا “ کو پڑھ لیں گے تو انشاءاللہ عزوجل ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس موذی بیماری سے محفوظ ہو جائیں گے ( اس دعا کو پڑھتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اتنی آواز سے نہ پڑھیں کہ مصیبت زدہ سن لے کیونکہ بلند آواز کے ساتھ پڑھنے سے ہو سکتا ہے اس کی دل شکنی ہو۔ )
امام اہلسنت، مجدد دین و ملت پروانہ ء شمع رسالت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن کا فرمان نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر کامل یقین اور روحانی مشاہدات
آپ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے بہت شدید بخار تھا، میرے منجھلے بھائی ( مولانا حسن رضا خان صاحب ) ایک طبیب کو لائے۔ ان دنوں بریلی میں مرض طاعون بشدت تھا۔ ان صاحب نے بغور دیکھ کر چند مرتبہ کہا “ یہ وہی ہے “ یعنی ( طاعون ) میں بالکل کلام نہ کر سکتا تھا اس لئے انہیں جواب نہ دے سکا، حالانکہ میں خوب جانتا تھا کہ یہ غلط کہہ رہے ہیں، نہ مجھے طاعون ہے اور نہ انشاءاللہ عزوجل العزیز کبھی ہو گا۔ اس لئے کہ میں نے طاعون زدہ کو دیکھ کو کئی مرتبہ وہ دعا پڑھ لی ہے، جسے حضور سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا “ جو شخص کسی بلا رسیدہ کو دیکھ کر یہ دعا پڑھ لے گا اس بلا سے محفوظ رھے گا۔“ جن جن امراض کے مریضوں، جن جن بلاؤں کے مبتلاؤں کو دیکھ کر میں نے اسے پڑھا۔ الحمدللہ عزوجل آج تک ان سب سے محفوظ ہوں۔ اور انشاءاللہ عزوجل ہمیشہ محفوظ رہوں گا۔ مجھے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد پر وہ اعتماد نہ تھا کہ طبیبوں کے کہنے سے ( معاذاللہ عزوجل ) کمزور ہوتا۔ یہ میں نے اس لئے بیان کیا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے دائم و باقی معجزات ہیں جو آج تک آنکھوں سے دیکھے جا رہے ہیں اور انشاءاللہ عزوجل قیامت تک اہل ایمان مشاہدہ کریں گے۔ میں اگر انہی واقعات کو بیان کروں جو میں نے خود اپنی ذات میں مشاہدہ کئے تو ایک دفتر درکار ہو۔ ( الملفوظ حصہ اول ص 19 )
دعوت اسلامی
کے سنتوں کی تربیت کے مدنی قافلے میں سفر کرکے اپنی پریشانی کے حل کے لئے دعا مانگئیے۔ انشاءاللہ عزوجل مایوسی نہیں ہو گی۔
طالب غم مدینہ و بقیع و مغفرت
محمد الیاس عطار قادری رضوی ( دامت برکاتہم العالیہ )

محبت رسول! روح ایمان و جان ایمان

مصطفٰی جان رحمت پہ لاکھوں سلام
شمع بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام

کتنا پیار کتنی انسیت اور کتنی عقیدت و محبت کا بحر بیکراں چھپا ہے اس جذبے میں جس جذبے کے تحت یہ شعر لکھا گیا ہے۔ اہل حق یوں ہی اپنے نبی کی تعریف کیا کرتے ہیں۔

طلع البدر علینا من ثنینان الوداع
وجب الشکر علینا ما دعا للہ داع

کتنی دھوم ہے کتنی یگانگت اور محبت کا جوش و خروش ہے مدینے سے دف بجاتی لڑکیاں نکل آئیں کہ حضور آ رہے ہیں کیسا والہانہ جذبہ ء شگفتگی ہے۔ بیکل اتساہی عرض کرتے ہیں۔

مہل اٹھی دیوار سے در تک نور بھری انگنائی ہے
آج مرے گھر عید ہے یارو یاد نبی کی آئی ہے

یہ سب محبت کی باتیں ہیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو رسول سے محبت کرے گا وہ اللہ سے محبت کرے گا اللہ نے اپنی محبت کو اپنے حبیب کی محبت پر منحصر کر رکھا ہے یعنی جس کو جس قدر رسول سے محبت ہو گی سمجھو اتنی ہی اس کو اللہ سے محبت ہے، یہی وجہ ہے کہ فنافی اللہ سے پہلے فنافی الرسول کی قید ہے ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ رسول سے دشمنی اور اللہ سے محبت اللہ تبارک و تعالٰی نے قرآن مجید میں اپنے معیار محبت کو اپنے رسول کی محبت سے منسلک کر دیا ہے۔ ارشاد باری ہے:
قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ۔
اللہ سے اگر دوستی چاہتے ہو تو رسول اللہ کی پیروی کرو اللہ تمھیں دوست بنا لے گا۔
بغیر رسول سے دوستی کئے بغیر رسول کو چاہے اللہ سے دوستی ممکن ہی نہیں اور جو جس کی پیروی کرتا ہے اس سے محبت بھی کرتا ہے اس کو دوست بھی رکھتا ہے اور جو جس کو دوست رکھتا ہے جس سے محبت کرتا ہے اسے برا نہیں کہتا۔
رسول دو جہاں صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ اور اپنی امت کو محبت کا طور طریقہ بتانے کیلئے یہ کہا تھا کہ اے عمر! جب تک لوگ مجھے اپنے ماں باپ بھائی بہن آل اولاد اور دنیا بھر کی ہر چیز سے زیادہ نہیں چاہیں گے تب تک وہ کامل مومن نہیں ہو سکتے۔
( بخاری اول )
کیا اس وقت رسول کونین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ذہن میں یہ بات نہیں تھی کہ جب دنیا و مافیھا ہر چیز سے زیادہ بندے رسول کے چاہیں گے تو پھر اللہ کی محبت کیلئے دل کا کونسا گوشہ باقی رہا معلوم ہوا کہ رسول کی محبت ہی اللہ کی محبت ہے۔ جب بندہ رسول کو اپنے ماں باپ آل اولاد اور دنیا کی ہر ایک سے زیادہ چاہے گا تو مطلب یہ ہوا کہ وہ بندہ اپنے اللہ کو اپنے ماں باپ آل اولاد اور دنیا بھر کی ہر شے سے زیادہ چاہ رہا ہے۔ اس حقیقت کو صحابہ نے سمجھ لیا تھا اور وہ تن من دھن سے اپنے رسول پر نچھاور تھے۔ آج کے چودہ صدی کے مولوی جنہوں نے اپنا مذہب مکہ و مدینہ کی بجائے نجد سے ایکسپورٹ کیا ہے وہ رسول کو اپنی طرح کہتے ہیں انہیں مر کر مٹی میں ملنے والا کہتے ہیں نماز میں ان کا خیال آ جانے کو زنا کے وسوسے بی بی کی مجامعت اور گاؤخر کے خیال میں ڈوب جانے سے بدر جہا برا کہتے ہیں۔ انہیں بے اختیار مجبور محض گاؤں دیہات کے چودھری اور زمیندار جیسا سمجھتے ہیں۔
کیا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں اللہ کا بندوں سے یہی مطالبہ ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالٰی نے قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ
آیت اسی دن کیلئے نازل کیا تھا ؟ دور صحابہ سے تابعین تبع تابعین ائمہ مجتہدین سلف صالحین بشمول علامہ عبدالحق محدث دہلوی اور امام احمد رضا فاضل بریلوی رضی اللہ تعالٰی عنہما جس جماعت اہل سنت پر رہے اس میں کہیں بھی اس منحوس اور کفریہ عقیدہ کی گنجائش نہیں ملتی ہے۔ صرف یہ ڈیڑھ دو سو سال کی پیداوار ہے جس مذہب جس مسلک جس عقیدے کی نشوونما مکہ مدینہ کی بجائے نجد میں ہوئی اس کا کیا حشر ہوگا وہ توکل قیامت ہی میں معلوم ہو گا لیکن دنیا میں بھی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے خطرہ کی نشاندہی فرما دی۔ اللہ کے رسول تاجدار مدینہ سرور قلب و سینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم شام اور یمن کیلئے خیر و برکت کی دعا فرما رہے تھے تو وہیں اسی جگہ موجود ایک صحابی رسول نے نجد کیلئے دعاء کی درخواست کی راوی کہتے ہیں تین بار پیہم اصرار کے باوجود حضور نے نجد کیلئے دعاء نہیں فرمائی اور اخیر میں کہا کی نجد سے فتنے اٹھیں گے۔
دنیا میں فتنے تو روز ہی اٹھتے ہیں لیکن وہ کیسا فتنہ تھا کہ رسول اللہ کو نجد کیلئے دعاء سے باز رکھا۔ جو رسول طائف کے بازار میں اسلام مخالف لہروں سے پتھر کھا کر لہولہان ہوئے مگر ان کے حق میں بددعا نہیں کی بلکہ دعاء ہی کرتے رہے کہ اللہ انہیں ہدایت دے ان کی نگاہ نبوت یہ دیکھ رہی تھی کہ آج جو لوگ مجھ پر پتھر برسا رہے ہیں عنقریب وہ وقت آئے گا کہ یہ سب کے سب حلقہ بگوش اسلام ہو کر مجھ پر اپنی جانیں نچھاور کریں گے آج پتھر برسا رہے ہیں کل پھول برسائیں گے اس کے برعکس وہی نگاہ نبوت اہل نجد کو ملاحظہ فرما رہی تھی کہ یہاں سے شیطان کی سینگ نکلے گی فتنے کا وہ آندھی طوفان اٹھے گا جو میرے دین کو بدل دے گا اور حضور کی بعثت کے ٹھیک بارہ تیرہ سو سال بعد نجد سے فتنے کا وہ آندھی طوفان اٹھ کے رہا جو امت مسلمہ کے ایمان کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے گیا۔

قرآن میں خود اللہ تبارک و تعالٰی کا کھلا ارشاد ہے۔ یضل نہ کثیرا و یھدی بہ کثیرا۔
اسی قرآن کو پڑھ کر بہت سے لوگ گمراہ ہوں گے اور بہت سے لوگ ہدایت پائیں گے رہی بات حدیث کی کہ وہ حدیثیں بہت زیادہ پڑھ کر سناتے ہیں تو حدیث و رسول بھی قرآن ہی کی ترجمان ہے قرآن ہی کی تفسیر و توضیح ہے تو اب بات یہ ہوئی کہ اسی حدیث کو پڑھ کر بہت سے لوگ گمراہ ہوں گے اور بہت سے ہدایت پائیں گے تو صرف قرآن و حدیث پڑھ کر سنانے سے ان کا حق پر ہونا تسلیم نہیں کر لیا جائے گا کہ قرآن و حدیث تو اپنی جگہ پر صحیح ہے اس کا مطلب جو وہ بیان کر رہے ہیں دراصل اس میں خرابی ہے۔
یہیں سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ اگر خدا وند قدوس خود قرآن کی حفاظت کا ذمہ نہیں لے لیتا تو یہ قرآن میں بھی اپنی مطلب برآری کیلئے اسی طرح تحریف کر دیتے جس طرح یہود و نصارٰی کے پیشواؤں نے توریت و زبور اور انجیل مقدس میں تحریف کر دیا۔ قرآن میں ترجمے کی تحریف یہ ثابت کر رہی ہے کہ اگر ان باغیان خدا و رسول کے بس میں ہوتا تو ضرور قرآن کی آئیتوں میں بھی یہ گھٹا بڑھا دیتے۔

پہلا مہینہ: محرم الحرام

پہلا مہینہ: محرم الحرام
یہ مہینہ اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے اور اسی مہینے سے اسلامی سن تبدیل ہوتا ہے۔ محرم الحرام بہت عظیم اور مبارک مہینہ ہے۔ بالخصوص اس کی دسویں تاریخ بہت اہمیت و عظمت کی حامل ہے ۔محرم الحرام کی دسویں تاریخ کو ‘‘ یوم عاشورہ ‘‘ کہا جاتا ہے۔
محترم مسلمان بھائیو اور بہنو !
اسلام میں عاشورہ کے دن کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اس کے فضائل بے شمار ہیں یہ وہ تاریخ ساز مقدس دن ہے کہ جس دن حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی اسی دن فرعون اور اس کا لشکر غرق ہوا۔ اسی دن حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسی حضرت عیسٰی علیہ السلام پیدا ہوئے اسی دن حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے باہر تشریف لائے- (فیض القدیر شرح جامع صغیر )
اسلامی نظریہ کے مطابق ‘‘یوم عاشورہ‘‘ وہ مقدس دن ہے کہ جس کی اہمیت و فضیلت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا- یہی وہ تاریخ ساز دن ہے کہ جس دن نواسہ رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت امام حسین رضی اللہ تعا لٰی عنہ نے اپنی جان اسلام کی سر بلندی کے لئے قربان کر دی اور یزید جیسے فاسق و فاجر، زانی اور شرابی کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔

گھر لٹا نا، جان دینا کوئی تجھ سے سیکھ جائے
جان عالم ہو فدا اے خاندان اہلبیت

کوفیوں نے دھوکے سے امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے اہل خانہ کو کوفے بلوایا اور بے وفائی کی اور کربلا کے مقام پر آپ اور آپ کے اہل خانہ پر یزیدیوں نے ظلم و ستم کے وہ پہاڑ توڑے جسے تاریخ انسانیت کبھی نہیں بھلا سکتی۔ ایک طرف بائیس ہزار کا یزیدی خونخوار لشکر ہے تو دوسری طرف صرف 72 نفوس قدسیہ کا قافلہ ہے۔ اس قافلے میں پردہ نشین خواتین بھی ہیں۔ بستر علالت پر کراہنے والے زین العابدین بھی ہیں۔ تو چھ ماہ کے ننھے علی اصغر بھی ہیں۔ لیکن امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنا سارا گھر اور اپنی جان بھی اسلام کی خاطر قربان کر دی اور دس محرم کو شہادت کا جام پیا۔

رزم کا میدان بنا ہے جلوہ گاہ حسن و عشق
کربلا میں ہو رہا ہے امتحان اہل بیت
بے ادب گستاخ فرقے کو سنا دے اے حسن
یوں کہا کرتے ہیں سنی داستان اہل بیت۔

عاشورہ کے دن نیک کام:
محترم مسلمان بھائیو!
عاشورہ کے سلسلہ میں چند وہ نیک کام ذکر کئے جاتے ہیں جو بزرگان دین سے ثابت ہیں کوشش کریں کہ عاشورہ کے دن نیک اعمال کو بجا لائیں ان شاءاللہ دنیا و آخرت میں بے شمار فائدے ہونگے۔
1: یتیم کے سر پر محبت و شفقت سے ہاتھ پھیرنا بڑے ثواب کا کام ہے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سرکار صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ جو عاشورہ کے دن یتیم کے سرپر ہاتھ پھیرے گا تو اللہ تعالٰی اس کے لئے یتیم کے سر کے ہر بال کے بدلے میں ایک ایک درجہ جنت میں بلند فرمائے گا ۔ ( غنیۃ الطالبین)
2:عاشورہ کے روز کثرت کے ساتھ توبہ کرنی چاہئے
سیدنا موسٰی علیہ السلام پر اللہ تعالٰٰی نے وحی نازل فرمائی ‘‘ اے موسٰی اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ دسویں محرم (عاشورہ) کو میری جناب میں توبہ کریں اور جب دسویں محرم کا دن ہو تو میری راہ میں نکلیں یعنٰی توبہ کے لئے میں ان کی مغفرت فرماؤنگا۔ ( فیض القدیر شرح جامع صغیر )
3: عاشورہ کے دن روزہ رکھنا بھی باعث ثواب ہے حضور نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی اس دن کا روزہ رکھا اور اپنے غلاموں کو بھی حکم فرمایا چناچہ حدیث پاک میں ارشاد فرمایا ‘‘ عاشورہ کا روزہ رکھو اس دن انبیاء کرام علیہم السلام روزہ رکھتے تھے۔ ( جامع صغیر)
حدیث:
رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کے بعد افضل روزہ محرم کا ہے اور فرض نماز کے بعد افضل نماز رات کی نماز (یعنی صلوۃ اللیل ) ہے ( مسلم ، ترمذی)
4: عاشورہ کے روز صدقہ و خیرات کرنا باعث ثواب ہے اس عمل سے گناہ جھڑتے ہیں اور درجے بلند ہوتے ہیں۔
5: عاشورہ کے روز غسل کرنا مرض و بیماری سے بچاؤ کا سبب ہے حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص عاشورہ کے روز غسل کرے تو کسی مرض میں مبتلا نہ ہو گا سوائے موت کے۔ ( غنیۃ الطالبین)
6: عاشورہ کے روز آنکھوں میں سرمہ ڈالنا آنکھوں کی بیماری کے لئے شفا ہے ۔ سرکار دو عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمایا جو شخص عاشورہ کے روز اثمد کا سرمہ آنکھوں میں لگائے تو اس کی آنکھیں کبھی بھی نہ دکھیں گی۔ ( بیہقی)
7: عاشورہ کے دن اپنے اہل وعیال کے واسطے گھر میں وسیع پیمانے پر کھانے کا انتظام کرنا چاہئے تاکہ اللہ تعالٰی آپ کے گھر میں سارا سال فراخی فرمائے ۔ سرکار مدینہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو کوئی عاشورہ کے دن اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے گا تو اللہ تعالٰی اس پر سارا سال فراخی فرمائے گا۔ حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم نے ایسا تجربہ کیا تو یسا ہی پایا۔ ( مشکواۃ شریف)

عاشورہ کے دن ان کاموں سے بچیں:
محترم مسلمان بھائیو! عاشورہ کے دن اکثر ہمارے بھائی اور بہنیں فضول کاموں میں ملوث ہو جاتے ہیں یاد رکھیں ماتم کرنا، نوحہ کرنا یہ سب کام شریعت میں منع ہیں اسی طرح تعزیہ بنانا ، تعزیہ دیکھنا یہ حرام ہے جو بھائی تعزیہ بناتے ہیں یا دیکھتے ہیں انہیں اس حرام کام سے احسن طریقے سے بچائیں۔ نیز محرم کے مہینے میں تمام بھائی اور بہنیں کالے ، لال ، اور سبز کپڑوں سے پر ہیز کریں۔ نیز عاشورہ کے دن تعزیہ کے جو جلوس نکلتے ہیں انہیں دیکھنا بھی جائز نہیں ۔ اسی طرح مرثیہ کے کیسٹ سنے جاتے ہیں یہ بھی منع ہے ۔
پیارے بھائیو اور بہنوں ہو سکے تو عاشورہ کے دن روزہ رکھیں اور اس دن خوب عبادت کریں اور امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو یاد کریں کہ کس طرح نواسہ رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم امام حسین رضی اللہ عنہ نے تین دن کے بھوکے پیاسے اپنی جان اللہ عزوجل کی راہ میں قربان کی۔ اور شریعت کی حفاظت کی خاطر ، اسلام کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا-

قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

محرم کے نوافل :
محرم میں کسی بھی دن مکروہ اوقات کے علاوہ چھ (6) رکعت نفل نماز پڑھیں ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد دس مرتبہ سورہ اخلاص پڑھیں ( نوٹ : یہ نفل دو دو رکعت کر کے پڑھیں ) جو شخص یہ چھ رکعت نماز بتائے ہوئے طریقے کے مطابق پڑھے گا تو اس کو اللہ تعا لٰی جنت میں دو ہزار محل عطا فرمائے گا۔ اور ہر محل میں ہزار دروازے یاقوت کے ہونگے اور ہر دروازے پر ایک تخت زبر جد سبز کا ہوگا ۔اس تخت پر ایک حور بیٹھی ہو گی اور اس کے علاوہ چھ ہزار بلائیں اس سے دور کی جائیں گی اور چھ ہزار نیکیاں اسکے نامہ اعمال میں لکھی جائیں گی ۔ ( راحت القلوب

تقلید کے معنی اور اس کے اقسام

تقلید کے معنی اور اس کے اقسام

تقلید کے دو معنی ہیں- ایک لغوی، دوسرے شرعی- لغوی معنی ہیں- قلادہ ور گردن بستن گلے میں ہار یا پٹہ ڈالنا- تقلید کے شرعی معنی ہیں کہ کسی کے قول و فعل کے اپنے پر لازم شرعی جاننا یہ سمجھ کر کہ اس کا کلام اور اس کا کام ہمارے لئے حجت ہے- کیونکہ یہ شرعی محقق ہے- جیسے کہ ہم مسائل شرعیہ میں امام صاحب کا قول و فعل اپنے لئے دلیل سمجھتے ہیں اور دلائل شرعیہ میں نظر نہیں کرتے-
حا شیہ حسامی متابعت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں صفحہ 86 پر شرح مختصر المار سے نقل کیا اور یہ عبارت نورالانوار بحث تقلید میں بھی ہے-

التقلید اتباع الرجل غیرہ فیما سمعہ یقول اوفی فعلہ علٰی زعم انہ محق بلا نظر فی الدلیل-
تقلید کے معنی ہیں کسی شخص کا اپنے غیر کی اطاعت کرنا اس میں جو اس کو کہتے ہوئے یا کرتے ہوئے سن لے یہ سمجھ کر کہ وہ اہل تحقیق میں سے ہے- بغیر دلیل میں نظر کئے ہوئے-نیز امام غزالی کتاب المستصفٰی جلد دوم صفحہ 387 میں فرماتے ہیں التقلید ھو قبول قول بلا حجتہ- مسلم الثبوت میں ہے التقلید العمل بقول الغیر من غیر حجتہ-
ترجمہ وہ ہی جو اوپر بیان ہوا اس تعریف سے معلوم ہوا کہ حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی اطاعت کرنے کو تقلید نہیں کہہ سکتے- کیونکہ انکا ہر قول و فعل دلیل شرعی ہے تقلید میں ہوتا ہے – دلیل شرعی کو نہ دیکھنا- لٰہذا ہم حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے امتی کہلائیں گے نہ کہ مقلد- اسی طرح صحابہ ءکرام و آئمہ دین حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے امتی ہیں نہ کہ مقلد- اسی طرح عالم کی اطاعت جو عام مسلمان کرتے ہیں اس کو بھی تقلید نہ کہا جائے گا- کیونکہ کوئی بھی ان عالموں کی بات یا ان کے کا کو اپنے لئے حجت نہیں بناتا- بلکہ یہ سمجھ کر ان کی بار مناتا ہے کہ مولوی آدمی ہیں کتاب سے دیکھ کر کہہ رہے ہوں گے اگر ثابت ہو جائے کہ ان کا فتوٰی غلط تھا، کتب فقہ کے خلاف تھا تو کوئی بھی نہ مانے بخالف قول امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے کہ اگر وہ حدیث یا قرآن یا اجماع امت کو دیکھ کر مسئلہ فرمادیں تو بھی قبول اور اگر اپنے قیاس سے حکم دیں تو بھی قبول ہو گا- یہ فرق ضرور یاد رہے-
تقلید دو طرح کی ہے- تقلید شرعی اور غیر شرعی- تقلید شرعی تو شریعت کے احکام میں کسی کی پیروی کرنے کو کہتے ہیں- جیسے روزے، زکوٰۃ وغیرہ کے مسائل میں آئمہ دین کی اطاعت کی جاتی ہے اور تقلید غیر شرعی دنیاوی باتوں میں کسی کی پیروی کرنا ہے- جیسے طیب لوگ علم طب میں بوعلی سینا کی اور شاعر لوگ داغ، یا مرزا غالب کی یا نحوی و صرفی لوگ سیسوبیہ اور خلیل کی پیروی کرتے ہیں- اسی طرح ہر پیشہ ور اپنے پیشہ میں اس فن کے ماہرین کی پیروی کرتے ہیں- یہ تقلید دنیاوی ہے-
صوفیائے کرام جو وظائف و اعمال میں اپنے مشائخ کے قول و فعل کی پیروی کرتے ہیں وہ تقلید دینی تو ہے مگر تقلید شرعی نہیں بلکہ تقلید فی الطریقت ہے- اس لئے کہ یہ شرعی مسائل حرام و حلال میں تقلید نہیں- ہاں جس چیز میں تقلید ہے وہ دینی کام ہے-
تقلید غیر شرعی اگر شریعت کے خلاف میں ہے تو حرام ہے اگر خلاف اسلام نہ ہو تو جائز ہے بوڑھی عورتیں اپنے باپ داداؤں کی ایجاد کی ہوئی شادی غمی کی ان رسموں کی پابندی کریں جو خلاف شریعت ہیں تو حرام ہے اور طبیب لوگ جو طبی مسائل میں بو علی سینا وغیرہ کی پیروی کریں جو کہ مخالف اسلام نہ ہوں تو جائز ہے- اسی پہلی قسم کی حرام تقلید کے بارے میں قرآن کریم جگہ جگہ مما نعت فرماتا ہے اور ایسی تقلید کرنے والوں کی برائی فرماتا ہے-
ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکر نا واتبع ھواہ وکان امرہ فرطا- ( پارہ 15، سورۃ الکہف آیت 28 )
اور اس کا کہنا نہ مانو جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حد سے گزر گیا-
وان جا ھدک علٰی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما- ( پارہ21، سورہ لقمان آیت 15)
اور اگر وہ تجھ سے کوشش کریں کہ تو میرا شریک ٹھرا اس کو جس کا تجھ کو علم نہیں تو ان کا کہا نہ مان-
واذا قیل لھم تعالوا الٰی ما انزل اللہ والی الرسول قالوا حسبنا ما وجدنا علیہ وباتا اولو کان اٰباوھم لا یعلمون شیئا ولا یھتدون-( پارہ8 سورہ5 آیت 104)
اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ اس طرف جو اللہ نے اتارااور رسول کی طرف کہیں ہم کو وہ بہت ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا- اگرچہ ان کر باپ دادا کچھ نہ جانیں اور نہ راہ پر ہوں-
واذا قیل لھم اتبعوا ما انزل اللہ قالو ا بل نتبع ما الفینا علیہ ابائنا- ( پاری2 سورہ2 آیت 170)
اور جب ان سے کہا جاوے کہ اللہ کے اتارے ہوئے پر چلو تو کہیں گے ہم تو اس پر چلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا-
ان میں اور ان جیسی آیتوں میں اسی تقلید کی برائی فرمائی گئی جو شریعت کے مقابلہ میں جاہل باپ داداؤں کے حرام کاموں میں کی جاوے کہ چونکہ ہمارے پاب دادا ایسے کرتے تھے ہم بھی ایسا کریں گے- چاہے یہ کام جائز ہو یا نا جائز- رہی زرعی تقلید اور ائمہ دین کی اطاعت اس سے ان آیات کو کوئی تعلق نہیں ان آیتوں سے تقلید ائمہ کو شرک یا حرام کہنا محض نے دینی ہے- اس کا بہت خیال رہے-

بعض کفریہ کلمات

مضمون : بعض کفریہ کلمات
مصنف : حکیم محمد اسلم شاہین عطاری قادری

بعض کفریہ کلمات
اس دور میں جہالت کی وجہ سے کچھ مرد اور عورتیں اس قدر بے لگام ہیں کہ جو ان کے میں آتا ہے بول دیا کرتے ہیں چنانچہ بعض کفر کے الفاظ بھی لوگوں کی زبانوں سے نکل جاتے ہیں اور لوگ کافر ہو جاتے ہیں اور ان کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ مگر انہیں خبر بھی نہیں ہوتی کہ وہ کافر ہو گئے اور ان کا نکاح ٹوٹ گیا۔ اس لئے ہم یہاں چند کفری بولیوں کا ذکر کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو ان کفریات کا علم ہو جائے اور لوگ ان باتوں کو بولنے سے ہمیشہ زبان روکے رہیں اور اگر خدا نخواستہ یہ کفری الفاظ ان کے منہ سے نکل گئے ہوں تو فوراً توبہ کر کے نئے سرے سے کلمہ پڑھ کر مسلمان بنیں اور دوپارہ نکاح کریں۔
1- خدا کے لیے مکان اور جگہ ثابت کرنا کفر ہے۔ بعض لوگ یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اوپر اللہ نیچے پنچ، اوپر اللہ نیچے تم، یہ کہنا کفر ہے۔ ( خانیہ )
2- کسی سے کہا گناہ نہ کرو ورنہ خدا جہنم میں ڈال دیگا۔ اس نے کہا “ میں جہنم سے نہیں ڈرتا “ یا یہ کہا “ مجھے خدا کے عذاب کی کوئی پروا نہیں “ یا ایک نے دوسرے سے کہا کہ “ کیا تو خدا سے نہیں ڈرتا -“ یہ کہہ دیا کہ خدا کہاں ہے“ یہ سب کفر کی بولیاں ہیں۔ ( عالمگیری )
3- کسی سے کہا کہ انشاء اللہ تم اس کام کو کرو گے اس نے کہہ دیا “ میں بغیر انشاءاللہ کے کروں گا ۔“ کفر لاحق ہو گیا۔
4- کسی مالدار کو دیکھ کر یہ کہہ دیا کہ “ آخر کار یہ کیا انصاف ہے کہ اس کو مالدار بنا دیا اور مجھے غریب بنایا-“ یہ کہنا کفر ہے۔ ( عالمگیری )
5- اولاد وغیرہ کے مرنے پر رنج اور غصہ میں اس قسم کی بولیاں بولنے لگے کہ خدا کو بس میرا بیٹا ہی مارنے کیلئے ملا تھا۔ دنیا بھر میں مارنے کیلئے میرے بیٹے کے سوا خدا کو دوسرا کوئی ملتا ہی نہیں تھا۔ خدا کو ایسا ظلم نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اللہ عزوجل نے یہ بہت برا کیا کہ میرے اکلوتے بیٹے کو مار کر میرا گھر بے چراغ بنا دیا۔ ( معاذاللہ ) اس قسم کی بولیاں بول دینے سے آدمی کافر ہو جاتا ہے۔
خدا تعالٰی کی شان میں پھو ہڑ لفظ بولنا یا اس کے کاموں میں عیب نکالنا یا خدا کا مذاق اڑانا، یا خدا تعالٰی کو ایسے لفظوں سے یاد کرنا جو اس کی شان کے لائق نہیں ہیں۔ یہ سب کفر کی باتیں ہیں۔
7- کسی نبی علیہ السلام یا فرشتہ کی حقارت کرنا اور ان کی جناب گستاخی کرنا یا ان کا عیب نکالنا یا بے ادبی کے ساتھ ان کا نام لینا کفر ہے-
8- جو شخص تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو آخری نبی نہ مانے یا سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی کسی چیز یا کسی بات کو حقیر جانے یا عیب نکالے۔ یا کسی سنت مبارکہ کی تحقیر کرے مثلاً داڑھی بڑھانا، مونچھیں کم کرنا، عمامہ باندھنا ، عمامہ کا شملہ لٹکانا، کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹ لینا یا کسی بھی سنت کا مذاق اڑائے یا اس کو برا سمجھے تو وہ مسلمان نہیں رہتا کافر ہو جاتا ہے۔
9- جو شخص کسی قاتل یا خونی ڈاکو کو دیکھ کر توہین کی نیت سے کہہ دے کہ “ ملک الموت “ آ گئے یہ کلمہ کفر ہے۔
10- قرآن کی کسی آیت کے ساتھ مسخرہ پن کرنا کفر ہے جیسے بعض داڑھی منڈے کہہ دیا کرتے ہیں کہ قرآن میں کلاسوف تعملون آیا ہے اور معنی یہ بتاتے ہیں کہ کلہ صاف کراتے رہو یا اکیلے نماز پڑھنے والے کہہ دیا کرتے ہیں کہ ان الصلٰوۃ تنہی اور معنی یہ بتاتے ہیں کہ نماز تنہا پڑھا کرو، ان باتوں کو بول دینے سے آدمی کافر ہو جاتا ہے کیونکہ قرآن ک ساتھ مسخرہ پن بھی ہے اور قرآن کے معنی بدل ڈالنا بھی ہے اور یہ دونوں کفریہ باتیں ہیں۔
11-اسلام میں شک کرنا، یا اپنے مذہب پر افسوس کرنا اور کہنا کہ میں مسلمان ہو گیا یہ اچھا نہیں کاش میں کسی اور مذہب میں ہوتا۔ یا کسی کفر کی بات کو اچھا سمجھنا یا کسی کو کفر کی بات سکھانا یہ کہنا کہ نہ میں ہندو ہوں نہ مسلمان میں تو انسان ہوں یا یہ کہنا کہ میں نہ مسجد سے تعلق رکھتا ہوں نہ مندر سے یا یہ کہنا کہ خانہ کعبہ تو معمولی پتھروں کا ایک پرانا گھر ہے اس میں کیا دھرا ہے کہ میں اس کی تعظیم کروں۔ یا یہ کہنا کہ نماز پڑھنا تو فارغ آدمیوں کا کام ہے۔ ہم کو نماز کی کہاں فرصت ہے ؟ یا یہ کہیں کہ جب خدا نے کھانے کو دیا ہے تو روزہ رکھ کر بھوکے کیوں مریں ؟ یا اذان کی آواز سن کر یہ کہنا کہ کیا خواہ مخواہ کا شور مچا رکھا ہے۔ یا یہ کہنا کہ نماز پڑھنے کا کچھ نتیجہ نہیں۔ بہت پڑھ لی کیا فائدہ ہوا ؟ یا یہ کہنا کہ نماز پڑھنا نہ پڑھنا دونوں برابر ہے یا یہ کہنا کہ میں تو صرف رمضان میں نماز پڑھتا ہوں باقی دنوں میں نہ کبھی پڑھی نہ پڑھوں گا۔ یا یہ کہنا کہ نماز مجھے موافق نہیں آتی میں جب نماز پڑھتا ہوں تو کوئی نہ کوئی نقصان ضرور ہو جاتا ہے یا یہ کہنا کہ زکٰو ۃ خدائی ٹیکس ہے جو ملاں لوگوں نے مالداروں پر لگا رکھا ہے یا یہ کہنا کہ حج تو ایک تفریحی سفر ہے۔ یا بلیک مارکیٹ کا دھندا ہے میں ایسا کام کیوں کروں ؟ وغیرہ وغیرہ اس قسم کی تمام بکواسیں کھلا ہوا کفر ہیں ۔ ان سب بولیوں سے آدمی کافر ہو جائے گا۔
12- یہ کہنا کہ رام ورحیم دونوں ایک ہی ہیں اور وید و قرآن میں کچھ فرق نہیں یا یہ کہنا کہ مسجد اور مندر دونوں خدا کے گھر ہیں۔ دونوں جگہ خدا ملتا ہے‘ کفر ہے۔
13- کافروں کو خوش کرنے کیلئے ان کے جلوسوں اور میلوں میں کفر کی شان و شوکت بڑھانے یا کافروں کو خوش کرنے کیلئے شریک ہونا، یا ان کفری تہواروں کی تعظیم کرنا یا کوئی چیز ان تہواروں کے دن مشرکین کے گھر بطور تحفہ اور ہدیہ کے بھیجنا جب کہ مقصود اس دن کی تعظیم ہو تو یہ کفر ہے۔ (بہار شریعت )
14- جو شخص یہ کہہ دے کہ میں شریعت کو نہیں مانتا یا شریعت کا کوئی حکم یا فتوٰی سن کر یہ کہے کہ یہ سب ہوائی باتیں ہیں۔ یا یہ کہہ دے کہ شریعت کے حکم اور فتوٰی کو چولہے میں ڈال دو یا یہ کہہ دے کہ میں شرع ورع کو نہیں جانتا یا یہ کہہ دے کہ ہم شریعت پر عمل نہیں کریں گے ہم تو برادری کی رسموں کی پابندی کریں گے۔ یا یہ کہہ دے بسم اللہ اور سبحان اللہ روٹی کی جگہ کام نہ دے گا ہمیں روٹی چاہیے بسم اللہ، سبحان اللہ نہیں چاہیے تو وہ شخص کافر ہو جائے گا۔
15- شراب پیتے وقت یا زنا کرتے وقت یا جوا کھیلتے وقت بسم اللہ شریف پڑھنا کفر ہے۔ ( فیضان سنت )
16- مسلمان کو مسلمان جاننا اور کافر کو کافر جاننا ضروریات دین میں سے ہے کسی مسلمان کو کافر کہنا یا کسی کافر کو مسلمان کہنا کفر ہے۔
17- جو کسی کافر کیلئے اس کے مرنے کے بعد مغفرت کی دعا مانگے۔ یا کسی مردہ کافر و مرتد کو مرحوم و مغفور کہے یا کسی مردہ ہندو کو “ بیکنٹھ باشی “ کہے وہ خود کافر ہے۔ ( بہار شریعت )
18- خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال کہنا۔ یا خدا تعالٰی کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام کہنا خدا کی فرض کی ہوئی چیزوں میں سے کسی چیز کا انکار کرنا یہ سب کفر ہیں۔
19- ضروریات دین میں سے کسی چیز کا انکار کرنا مثلاً توحید ، رسالت، قیامت، ملائکہ، جنت و دوزخ ، آسمانی کتابیں ان میں سے کسی چیز کا انکار کرنا کفر ہے۔
پیارے بھائیو اور بہنو ! غور کرو کہ یہ سب الفاظ اور ان کے علاوہ دوسرے بہت سے الفاظ ہیں جن کے بولنے سے آدمی کافر ہو جاتا ہے لٰہذا بولنے میں خاص طور پر دھیان رکھنا چاہیے زیادہ شیخی مت بگھارو اور اپنی زبان قابو میں رکھئے، خبردار بے لگام بن کر قینچی کی طرح زبان چلاتے ہوئے جو منہ میں آئے مت بکتے رہو۔ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا، کہ اپنی زبان کی حفاظت کرو اور اس کو قابو میں رکھو کیونکہ بہت سی زبان سے نکلی ہوئی باتیں آدمی کو جہنم میں جھونک دیتی ہیں۔
اللہ تعالٰی ہر مسلمان کو فضول باتوں اور کفریہ کلمات سے بچائے۔ آمین
پیارے اسلامی بھائیو دن اور رات توبہ کو اپنا معمول بنائیں دیگر گناہوں کی توبہ کے علاوہ تجدید ایمان بھی کر لیا کریں۔
یا اللہ عزوجل آج کے دن اگر مجھ سے کوئی کفر سرزد ہو گیا ہو میں اس سے توبہ کرتا ہوں پھر پڑھیں۔ لا الٰہ الاللہ محمد رسول اللہ۔ عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
َِ

ایک پرابلم

ایک پرابلم
رحیم خدا کا اسم ہے ۔
ان ربک لھو العزیز الرحیم
ترجمہ: تمھارا رب عزیز اور رحیم ہے۔
2۔ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی رحیم ہیں۔
لقد جآءکم رسول من انفسکم عزیز علیہ ماعنتم حریص علیکم بالمو منین رو ءف رحیم
ترجمہ: تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول آئے تمہاری تکلیف ان کو گراں گزرتی ہے اور تمہاری بھلائی کے بہت خواہش مند ہیں اور مومنوں کے لئے روف اور رحیم ہیں۔
3۔ اللہ کا نام بھی روف ہے۔
ان ربک لروف الرحیم (نحل ۔7)
ترجمہ: تمہارا رب روف اور رحیم ہے۔
4۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی روف ہے
وبالمو منین رئوف رحیم (توبہ۔128)
ترجمہ: اور مو منوں کے لئے وہ رؤف (تکلیف دہ امور ہٹانے والے ) اور رحیم (راحت رساں امور پہنچانے والے ہیں)۔
5۔ اللہ کا نام مومن ہے ۔
لا الہ الا ھو ۔ المک القدوس السلام المومن (حشر ۔ 23)
ترجمہ: اللہ کے سواکوئی معبود نہیں ۔ وہ بادشاہ قدوس ہے سلام ہے اور مومن ہے
6۔ بندے بھی مومن ہیں ۔
الذین یقیمون الصلوۃ ومما رز قنھم ینفقون او لئک ھم المو منون حقا
ترجمہ: وہ نماز قائم کرتے ہیں اللہ کے دیئے ہوئے میں سے خرچ کرتے ہیں وہی سچے مومن ہیں ۔
7۔ اللہ کا نام ولی ہے ۔
ام اتخذوا من دونہ اولیآء فااللہ ھو ا لولہ (شوریٰ۔9)
ترجمہ: کیا انہوں نے اس کے سوا کار ساز بنالئے ہیں ؟ولی تو خدا ہے ۔
8۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ولی ہیں ۔
انما ولیکم اللہ ورسولہ (مائدہ )
ترجمہ: تمہارا ولی اللہ ہے ۔ اس کا رسول ۔
9۔ علیم اللہ ہے ۔
نرفع درجت من نشاء ان ربک حکیم علیم (انعام ۔83)
ترجمہ: ہم جسے چاہتے ہیں درجے بلند کردیتے ہیں بے شک تمہارا رب حکیم اور علیم ہے۔
10۔ یوسف علیہ السلام کا نام بھی علیم ہے ۔
قال اجعلنی علی خزائن الارض انی حفیظ علیم (یوسف ۔ 58 )
ترجمہ:۔ یوسف علیہ السلام نے کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کردیجئے کیونکہ میں حفاظت کرنے والا علیم ہوں۔

مندرجہ بالا حوالہ جات کے بعد خلاصہ ملاحظہ ہو ۔
رب بھی رحیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی رحیم
رب بھی رؤف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مصطفٰےصلی اللہ علیہ وسلم بھی رؤف
اللہ مومن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بندہ بھی مومن
اللہ ولی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بندہ بھی ولی
اللہ علیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بندہ بھی علیم
اللہ حفیظ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بندہ بھی حفیظ
اللہ سمیع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بندہ بھی سمیع

( دو آدمی آپس میں جھگڑ رہے تھے میں نے پوچھا: بون آف کنٹنشن کیا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟ کہنے لگا یہ علی کو مشکل کشاء کہتا ہے مشکل کشاء صرف اللہ ہے ، حاجت روا صرف اللہ ہے میں نے پوچھا جناب کیا مشکل صرف اللہ دور کرتا ہے ؟ بولے ہاں میں نے کہاں بھوک لگی تھی آپ گھر گئے ۔ فورا بیوی نے روٹی پکا کردی ۔ آپ نے کھائی۔۔۔۔۔ جان میں جان آئی ۔۔۔۔۔ ایک مشکل تو آپ کی بیوی نے بھی حل کردی آپ دیوالیہ ہونے لگے ، آپ کی کروڑوں کی جائیداد بکنے لگی ۔ مگر ایک دوست نے آپ کی مطلوبہ رقم پینچادی اتنی بڑی مشکل کشاء پکاراٹھے تو کیا قیامت ہے ؟ وہ مجھے کہنے لگے مشکل کشاء صرف اللہ کو کہیں گے میں نے کہا ٹھیک ہے اب اپنے بیان پر قائم رہنا۔۔۔۔۔۔۔جو اللہ ہے وہ بندہ نہیں ہو سکتا یہی ہے ناں تمہارا مطلب ؟ وہ بولا ہاں ۔۔
اللہ رحیم ہے تو بندہ رحیم
اللہ مومن ہے بندہ بھی مومن
اللہ کو ولی کہتے ہی بندہ کو بھی ولی کہتے ہیں
بولو کہنے والا مشرک ہوگا ؟
رحیم اللہ کا نام ہے اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کہہ دیا تو کہنے والا مشرک ہوگا ؟ میں نے آیات بھی پڑھیں وہ خاموش ہو گیا میں نے کہا سن تجھے بتاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خدا رحیم ہے ذاتی طور ہر ۔۔۔۔۔ بندہ رحیم عطائی طور پر
اللہ ولی ہے ذاتی طور پر ۔۔۔۔۔ بندہ ولی ہے عطائی طور پر
اللہ علیم ہے ذاتی طور پر ۔۔۔۔۔ بندہ علیم ہے عطائی طور پر
اللہ حفیظ ہے ذاتی طور پر ۔۔۔۔۔ بندہ حفیظ ہے عطائی طور پر

فرق ہوگیا ناں ؟ اگر کوئی آدمی بندے کو مجازی طور پر مشکل کشاء کہنے سے کافر ہوجاتا ہے کیونکہ مشکل کشاء اللہ ہے تو پھر رحیم نبی کو کہا تو بھی کافر ہوناچاہیے ۔ علیم کہو تو کافر ، ولی کہنے سے بھی کافر ، اگر کافر ہو گا تو پھر اللہ نے رحیم ، علیم ، حفیظ ، سمیع ، ولی ، مومن باوجودیکہ اس کے نام ہیں بندوں کو ان ناموں سے کیوں مخاطب کیا ہے ؟ اگر غیر اللہ کو علیم ، حکیم ، حلیم ، کریم ، حفیظ ، سمیع ولی ، مومن کے اسماء سے پکارنے والا کافر نہیں ہوتا تو اسی طرح مجازی طور پر کسی کو مشکل کشاء کہنے سے بھی آدمی کافر نہیں ہوتا ۔
اسی طرح عدد ایک بھی ہے ۔ کوئی پوچھے اللہ کتنے ہیں ؟ آپ فورا کہتے ہیں اللہ ایک ہے اور یہی ایک آپ باپ کے ساتھ بھی استعمال کرتے ہیں جب کوئی پوچھے کہ تمہارے باپ کتنے ہیں تو آپ کہتے ہی ایک ہے باپ ایک ہے کیا آپ کے نزدیک مشرک نہ ہوگا ؟

لفظ داتا
لفظ اللہ اور رحمن کے علاوہ اللہ کے باقی صفاتی نام مجازی طور پر غیر اللہ پر بول سکتے ہیں کچھ الفاظ اللہ نے قرآن مجید میں خود بھی استعمال کئے ۔اسی طرح آج کل شور ہے کہ داتا صرف اللہ ہے گنج بخش کو داتا کہنا شرک ہے ۔ داتا ہندی کا لفظ ہے معنی ہے دینے والا ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کے پہلے مریدار رائے راجو جن کا نام شیخ ہندی رحمتہ اللہ علیہ رکھا انہیں آپ رحمتہ اللہ علیہ کے صدقے ایمان کی دولت نصیب ہوئی تو انہوں نے داتا کہا سورہ یوسف آپ پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ جب یوسف علیہ السلام قید خانہ میں گئے تو دو قیدی بھی ساتھ داخل ہوئے ۔ان میں سے ایک نے کہا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ شراب نچوڑ رہاہوں آپ نے فرمایا
یسقی ربہ خمرا وہ اپنے رب کو شراب پلائے گا ۔۔۔ لفظ رب نبی استعمال کررہاہے بادشاہ مصر کے لئے تو مجھے کہنے دیجئے اگر کافر شرابی بادشاہ کے لئے یوسف علیہ السلام لفظ رب مجازی طور پر استعمال کریں تو شرک نہیں اگر ہم ولی کامل عالم دین آلِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مجازی طور پر داتا کا لفظ استعمال کردیں تو بھی شرک نہیں ہے ۔ کیا داتا لفظ بڑا ہے یا رب ؟

نماز کے فرائض

نماز کے فرائض
نماز کے سات فرائض ہيں۔
۔1۔  تکبير تحريمہ جو دراصل نماز کي شرائط ميں سے ہے مگر نماز کے افعال سے بہت زيادہ تعلق ہونے کي وجہ سے اسے نماز کے فرائض ميں بھي شمار کيا جاتا ہے۔
تکبير تحريمہ کہنے کے وقت نماز کي کوئي بھي شرط نہ پائي گئي تو نماز نہ ہوگي۔
اگر مقتدي نے لفظ  (اللہ)  امام کے ساتھ کہا ليکن  (اکبر)  کو امام سے پہلے ختم کر ليا تو نماز نہ ہوئي۔  اگر مقتدي امام کو رکوع کي حالت ميں پائے تو مقتدي کو چاہيے کہ تکبير تحريمہ قيام کي حالت ميں کہے اور پھر دوسري تکبير کہتے ہوئے رکوع ميں جائے۔ اگر پہلي رکعت کا  رکوع مل جائے تو تکبير اولي کي فضيلت مل جاتي ہے۔
۔2۔ قيام يعني سيدھا کھڑا ہونا نماز ميں فرض ہے۔ قيام اتني دير تک ہے جتني دير تک قرات کي جائے۔ قيام اس وقت ساقط ہوگاجب کوئي کھڑا نہ ہوسکے يا سجدہ کرنے پر قادر نہ ہو يا اس سے مرض ميں زيادتي ہوتي ہو يا ناقابل برداشت تکليف ہوتي ہو۔
معمولي بخار يا قابل برداشت تکليف کے باعث قيام چھوڑنا جائز نہيں، اسکي اہميت اس قدر ہے کہ اگر مريض عصا يا خادم يا ديوار سے ٹيک لگا کر کھڑا ہو سکتا ہو تو فرض ہے کہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے ۔ اگر کچھ دير کھڑا ہوسکتا ہو اگرچہ اتنا ہي کہ کھڑا ہو کر اللہ  اکبر  کہہ لے تو فرض ہے کہ کھڑا ہو کر اتنا کہہ لے پھر بيٹھ کر نماز ادا کرے۔
۔3۔  قرات يعني تمام حروف کا مخارج سے ادا کرنا تاکہ ہر حرف دوسرے حروف سے ممتاز ہوجائے نيز ايسے پڑھنا کہ اسے خود سن سکے، فرض ہے۔ محض لب ہلانا تلاوت کے ليے کافي نہيں۔ پڑھنے کي تعريف يہ ہے کہ کم از کم اتني آواز سے پڑھے کہ خود سنے۔  اگر ايسے پڑھے  کہ خود نہ سن سکے جبکہ سننے سے مانع کوئي سبب مثلا شور و غيرہ نہ ہو تو نماز نہ ہوگي۔
فرض نماز کي پہلي دو رکعتوں ميں اور وتر و نوافل کي ہر رکعت ميں مطلقا ايک آيت پڑھنا فرض ہے۔ امام کي قرات مقتديوں کے ليے کافي ہے لہذا مقتدي کو کسي نماز ميں قرات جائز نہيں خواہ وہ سري نماز ہو (يعني  ظہر  و  عصر)  يا جہري نماز (فجر،  مغرب،  عشاء)
۔4۔  رکوع بھي فرض ہے۔ اسکا ادني درجہ يہ ہے کہ اتنا جھکا جائے کہ ہاتھ بڑھائيں تو گھٹنوں تک پہنچ جائيں اور اعلي يہ ہے کہ کمر سيدھي ہو نيز سر اور پيٹھ يکساں اونچے ہوں۔
۔5۔ سجود يعني ہر رکعت ميں دوبار سجدہ کرنا فرض ہے۔ پيشاني اور ناک کي ہڈي کا زمين پرجمنا سجدہ کي حقيقت ہے اور ہر پاؤں کي ايک انگلي کا پيٹ لگنا شرط۔ اگر کسي نے اس طرح سجدہ کيا کہ دونوں پاؤں زمين سے اٹھے رہے تو نماز نہ ہوئي بلکہ اگر صرف انگلي کي نوک زمين سے لگي جب بھي نماز نہ ہوئي۔
۔6۔  قعدہ اخيرہ يعني تمام رکعتيں پڑھ کر اتني دير بيٹھنا کہ پوري تشہد پڑھ لي جائے، فرض ہے۔ اگر سجدہ سہو کيا تو اسکے بعد بقدر تشھد بيٹھنا فرض ہے۔
۔7۔ خروج بصنعہ يعني آخري قعدہ کے بعد سلام پھيرنا فرض ہے۔قيام و رکوع و سجود اور قعدہ اخيرہ ميں ترتيب بھي فرض ہے۔ نيز جو چيز يں فرض ہيں ان ميں امام کي پيروي مقتدي پر فرض ہے۔

آقاصلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی سن کر درود شریف نہ پڑھنا کیسا؟

آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی سن کر درود شریف نہ پڑھنا کیسا ۔۔۔۔۔؟
تاجدار رسالت صلی اللی علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے ۔ بخیل ہے وہ شخص جس کے پاس میرا ذکر ہو اور اس نے مجھ پر درود شریف نہ پڑھا ہو۔ (صلی اللہ علیہ وسلم ) مشکوۃ
شفاءالقلوب میں ہے ایک شخص کا انتقال ہو گیا اس کیلئے جو قبر کھودی گئی اس میں ایک خوفناک کالا سانپ نظر آیا۔ لوگوں نے گھبرا کر وہ قبر بند کر دی اور دوسری قبر کھو دی وہاں بھی وہی خوفناک کالا سانپ موجود تھا بالآخر تیسری جگہ قبر کھو دی وہی کالا سانپ وہاں بھی موجود تھا آخرکار سانپ نے زبان سے پکار کر کہا تم جہاں بھی قبر کھودو گے مین وہاں پہنچوں گا۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ یہ قہر و غضب کیوں ہے؟سانپ بولا! یہ شخص جب سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی سنتا تھا تو درود شریف پڑھنے سے بخل کرتا تھا۔اب میں اس بخیل کو سزا دیتا رہوں گا۔
لرزجاؤ اور کانپ اٹھو کہ اگر خدانخواستہ اس طرح کی عادت آپ میں پہلے موجود تھی تو گھبرا کر سچے دل سے توبہ کر لیجئے اور آئندہ کیلئے جب بھی پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی سنیں تو فورا درودشریف یعنی صلی اللی علیہ وسلم ضرور پڑھنے کی عادت بنائیں۔
عموما یہ دیکھا گیا ہے کہ جب کبھی سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک لیا جا رہا ہو ی کوئی عالم صاحب اپنے بیان میں سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی لے رہا ہو تو اکثر لوگ درود شریف پڑھنے سے کوتاہی کرتے ہیں نیز اذان کے وقت بھی جب سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی آئے تو اپنے انگوٹھوں کو چوم کر آبکھوں پر لگائیں اور درود شریف پڑھیں ۔یہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سنت ہے، سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو میرے اس پیارے کی طرح کرے اس کیلئے میری شفاعت واجب ہوجاتی ہے۔(مقاصد حسنہ) نیزفرمایا کہ ہم قیامت کی صفوں میں اس کو تلاش کر کے اپنے پیچھے پیچھے جنت میں لے جائیں گے۔
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جو اشھد ان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سن کر انگوٹھے چومے اور آنکھوں پر لگائے وہ وہ کبھی اندھا نہ ہو گا نہ کبھی اس کی آنکھیں دکھیں گی ۔(مقاصد حسنہ)
حضرت شیخ نور الدین خرسانی رحمتہ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ بعض لوگ ان کو اذان کے وقت ملے جب انہوں نے موذن کو اشھد ان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ھوئے سنا تو انھوں نے انگوٹھے چومے اور آنکھوں پر لگائے تو لوگوں نےان کو اس بارے میں دریافت کیا تو فرمانے لگے میں پہلے انگوٹھے چوما کرتا تھا پھر چھوڑ دئے پس میری آنکھیں بیمار پڑ گئی میں نے تاجدار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تم نے اذان کے وقت انگوٹھے آنکھوں پر لگانے کیوں چھوڑ دئیے اگر تم چاہتے ہو کہ تمھاری آنکھیں تندرست ہو جائیں تو پھر یہ عمل دوبارہ کرنا شروع کر دو۔جب میں بیدار ہوا تو یہ عمل کرنا شروع کر دیا پھر مجھ کو ایسا آرام آیا کہ اب تک وہ مرض نہ لوٹا۔
حضرت سیدنا آدم علیہ السلام نے نور مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے کی تمنا کی تو وہ نور ان کے انگوٹھوں کے ناخنوں میں چمکایاگیا انہوں نے فرط محبت سے ناخنوں کو چوما اور آنکھوں سے لگایا۔(جاءالحق)
ان روایت و حکایت سے پتہ چلا کہ اذان میں انگوٹھے چومنا آنکھوں سے لگانا باعث برکت اور مستحب ہے۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ درود شریف پڑھنے کے علاوہ لکھنے والے کا بھی بڑا مقام ہے اور ادب کا تقاضا بھی یہی ہے کہ بار بار سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام اقدس کے ساتھ لفظ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور لکھے اور صرف لکھنے پر اکتفاء نہ کرے بلکہ زبان سے بھی درود شریف پڑھے ۔
اکثر لوگ آج کل درود شریف کی بدلے صلعم،عم،یا اس جیسے چھوٹے الفاظ لکھتے ہیں یہ ناجائز و حرام ہے۔ یونہی رضی اللہ عنہ کی جگہ رض رحمتہ اللہ علیہ کی جگہ رح لکھتے ہیں یہ بھی نہ چاہیے جن لوگوں کے نام محمد، احمد،علی حسن، حسین کے ساتھ درود شریف یا رضی اللہ عنہ بناتے ہیں یہ بھی ممنوع ہے کہ اس جگہ یہ شخص مراد ہے اس پر درود شریف کا اشارہ کیا معنیٰ؟؟بہارشریعت میں ہے اللہ تعالٰٰی کے نام مبارک کے ساتھ بھی عزوجل پورا لکھیں آدھے جیم پر اکتفاء نہ کریں۔
آج کل کیسا نازک دور ہے فضول مضامین میں تو ہزار ہا صفحات سیاہ کر دئیے جاتے ہیں لیکن جب میٹھے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیارا اسم گرامی آتا ہے لکھنے والے بھائی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مختصر عبارت لکھنے میں سستی کرتے ہیں ۔یہ بیماری عوام تو عوام 14 صدی کے بڑے بڑے اکابر و فحول کہلانے والوں میں بھی پھیلی ہوتی ہے ۔کوئی صلعم لکھتا ہے کوئی صللعم کوئی فقط ص کوئی علیہ الصلٰوۃ السلام کے بدلے عم ایک ذرہ سیاہی ایک انگل کاغذ یا ایک سیکنڈ وقت بچانے کے لیئے کیسی کیسی عظیم برکات سے محرومی ہوتی ہے۔
حضرت علامہ جلال الدین سیوطی شافعی رحًتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔۔! پہلا شخص جس نے درود شریف اختصار کے ساتھ ایجاد کیا اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔۔
اللہ اکبر (عزوجل) کتنا محبت بھرا دور تھا کہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مخفف ایجاد کرنے والے کا ہاتھ ہی کاٹ دیا گیا کیوں نہ ہو کہ جو صرف مال چوری کرتا ہے اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے تو اس بد نصیب نے تو مال نہیں عظمت مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی چوری کرنے کی کوشش کی تھیاور جس کے دل میں عظمت مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم راسخ ہے وہ بخوبی سمجھتا ہے کہ مال کی چوری سے شان مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم میں چوری کرنا زیادہ سنگین جرم ہے اور مذکورہ بالاسزا پھر بھی کم ہے ۔ لیکن افسوس کہ آج کل تو یہ چوری عام ہو چکی ہے ہر کتاب، ہر رسالہ، ہر اخبار۔صلعم، ص، سے بھراپڑا ہے اب نوبت لکھنے ہی کی حد تک نہیں رہی بلکہ اب تو لوگوں کی زبان پر بھی صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے صلعم ہی سنائی دینے لگا ہے۔
یاد رکھیئے صلعم ایک مہمل کلمہ ہے اس کے کوئی معنی نہیں بنتے ۔ محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت رکھنے والے اسلامی بھائیو جلد بازی سے کام نہ لیا کریں۔ پورا صلی اللہ علیہ وسلم لکھنے پڑھنے کی عادت بنا ڈالیں ۔(فیضان سنت)
حضرت ابو سلیمان رحمتہ اللہ علیہ اپنے متعلق واقعہ بیان کرےے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے خواب میں مدنی سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کیا ۔ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابو سلیمان تو میرا نام لیتا ہے اور اس پر درود شریف بھی پڑھتا ہے وسلم کیوں نہیں کہتا۔۔؟ یہ چار حرف ہیں ہر حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں۔ (القول البدیع)
صلی اللہ علیہ یعنی ان پر اللہ کا درود ہو درود شریف ہے مگر اس میں سلام شامل نہیں ہے جب کہ صلی اللہ علیہ وسلم (یعنی ان پر اللہ کے درود و سلام ہوں ) میں درود و سلام دونوں شامل ہیں۔
غور فرمائے ۔۔۔! صرف لفظ وسلم کرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں آکر اظہار ناراضگی فرمائیں تو جو غافل اور سست لوگ پورا ہی صلی اللہ علیہ وسلم غائب کر کے صرف س یا صلعم پر گزارہ کرتے ہیں ان سے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کتنا ناراض ہوتے ہوں گے۔
اللہ عزوجل ہمیں دنیا،قبر،محشر، ہر جگہ اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی سے بچائے ۔۔۔۔ آمین
صلی اللہ علیہ وسلم تو پورا لکھنا ہی ہے اسی طرح صحابہ کرام اور اولیائے کرام کے اسمائے گرامی کے ساتھ بھی رض،رح کا رواج بھی ختم ہونا چاہیے ۔ رضی اللہ عنہ اور رحمتہ اللہ علیہ پورا لکھنا اور پڑھنا چاہیے ۔
اقتباس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گناہوں کا علاج
مصنف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حکیم محمد اسلم شاہین قادری عطاری
_________________