امام احمد رضا قادری حنفی مخالفین کی نظر میں

انتساب

اعلٰی حضرت امام اہل سنت مجدد اعظم کشتہ عشق رسالت شیخ الاسلام والمسلمین پاسبان ناموس رسالت امام الشاہ محمد احمد رضا خان حنفی بریلوی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نام جنہوں نے تمام بد مذہبوں کے خلاف جہاد فرما کر اہل اسلام کے ایمان کی حفاظت فرمائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور
آفتاب علم و حکمت منبع رشد و ہدایت محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا ابوالفضل محمد سردار احمد صاحب قدس سرہ العزیز کے نام جنہوں نے خطہءٰ پنجاب میں عشق رسول کی دولت کو عام کیا۔
نائب محدث اعظم پاکستان پاسبان مسلک رضا حامی سنت ماحی بدعت حضرت مولانا ابو محمد عبدالرشید قادری رضوی علیہ الرحمۃکے نام جنہوں نے بد مذہبوں کے رد کرنے میں فقیر کو خوب دعاؤں سے نوازا۔
گر قبول افتدز ہے عزوشرف
خادم اہل سنت
محمد کاشف اقبال مدنی قادری رضوی

پیش لفظ

الحمدللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ الکریم، اما بعد !!

چودہویں صدی کے مجدد، امام عشق و محبت، اعلٰی حضرت امام اہلسنت مولانا الشاہ احمد رضا خاں صاحب محدث بریلوی علیہ الرحمہ کی ذات بے شمار خوبیوں کی مالک ہے، آپ نے ہر میدان میں فتوحات کے جھنڈے گاڑے، یہی وجہ تھی کہ آپ علیہ الرحمہ کی ذات سے اغیار بھی متاثر تھے جس کی بناء پر وہ آپ کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے۔
ایک مرتبہ مجھے کسی ساتھی نے بتایا کہ حیدر آباد شہر میں ایک بزرگ مفتی سید محمد علی رضوی صاحب مدظلہ العالی جلوہ افروز ہیں جن کو اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ہے۔ لٰہذا فقیر دل میں یہ آرزو لئے کہ اعلٰی حضرت کا دیدار تو نہ کیا مگر جس نے اعلٰی حضرت کو دیکھا ہے ان کی آنکھوں کا ہی دیدار ہو جائے، فقیر حیدر آبادر ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔
فقیر نے مفتی سید محمد علی رضوی صاحب سے عرض کی جس وقت اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ کا وصال ہوا اس وقت کی کوئی یادگار بات ارشاد فرمائیں، آپ نے فرمایا جس وقت اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ کا وصال ہوا اس وقت میں لاہور میں تھا عین اس وقت دیوبندی اکابر مولوی اشرف علی تھانوی کسی جلسے سے خطاب کر رہا تھا اس وقت مولوی اشرف علی تھانوی کو یہ اطلاع دی گئی کہ اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ بریلی شریف میں وصال فرما گئے ہیں تو اس وقت اس نے اپنی تقریر روک کر سامعین سے کہا کہ “اے لوگو ! آج سے عاشق رسول چلا گیا۔“ جسے اس وقت کے تمام اخبارات نے شائع کیا، یہ میری زندگی کی یادگار بات ہے جسے میں آج تک نہیں بھلا پایا۔

اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ ساری زندگی دشمنان اسلام کے لئے شمشیر بے نیام بن کر رہے مگر اس کے باوجود باطل نظریات رکھنے والی کئی جماعتوں کے اکابرین نے اعلٰی حضرت کے متعلق تعریفی کلمات تحریر کئے، فقیر یہ سمجھتا ہے کہ یہ اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ کی کرامت ہے کہ آپ کی قابلیت کو دیکھ کر مخالفین بھی تعریف لکھنے پر مجبور ہو گئے، زیر نظر کتاب بھی اسی عنوان پر ہے، جس میں مؤلف نے مخالفین کے اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ کے متعلق کم و بیش ستر تاثرات جمع کے ہیں، جن میں دیوبندی، غیر مقلدین اور جماعت اسلامی (مودودی گروپ) کے قائدین ادیب، علماء، شعراء اور ایڈیٹر حضرات نے اعلٰی حضرت کے حوالے سے اپنے خیالات اور تاثرات پیش کئے ہیں، اس کتاب کی اشاعت کا اہتمام سلسلہ اشاعت نمبر 154 میں جمعیت اشاعت اہلسنت نے کیا ہے۔
جمعیت اشاعت اہلسنت گزشتہ کئی سالوں سے یہ خدمت انجام دے رہی ہے تاکہ اکابر علماء کی کتابوں کو مفت شائع کرکے عوام اہلسنت کے گھروں تک پہنچایا جائے۔
اللہ تعالٰی اس کتاب کو عوام اہلسنت کے لئے نافع بنائے اور جمعیت اشاعت اہلسنت کو ترقیوں سے ہم کنار فرمائے، آمین ثم آمین
فقط والسلام
الفقیر محمد شہزاد قادری ترابی

تاثرات حضرت علامہ مولانا محمد بخش صاحب مدظلہ العالی
مفتی جامعہ رضویہ مظہر اسلام، فیصل آباد

مجاہد ملت مناظر اسلام فاضل ذیشان حضرت مولانا محمد کاشف اقبال مدنی شاہکوٹی کے متعلق جہاں تک فقیر کی معلومات کا تعلق ہے نہایت صحیح العقیدہ متعلب سنی حنفی بریلوی ہیں۔ مرکزی دارلعلوم جامعہ رضویہ مظہر اسلام گلستان محدث اعظم پاکستان فیصل آباد کے فارغ التحصیل ہیں مسلک حق اہلسنت و جماعت کے بے باک مبلغ ہیں۔ اعلٰی حضرت عظیم البرکت مجدد ماتہ حاضرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نظریات کے زبردست حامی اور ان پر سختی کے ساتھ کاربند ہیں اور امام احمد رضا بریلوی رحمۃ اللہ تعالٰی عنہ کے نظریات سے سر موانحراف کرنے والوں پر سخت تنقید کرتے ہیں۔ وہابیہ دہابنہ کے سخت مخالف ہیں کئی مناظروں میں علمائے وہابیہ اور دہابنہ کو شکست فاش دے چکے ہیں۔ وہابیہ کے خلاف کئی کتابیں مثلاً
(1) مسائل قربانی اور غیر مقلدین
(2) مسائل رمضان اور بیس تراویح
(3) وہابیہ کے بطلان کا انکشاف
(4) خطرہ کی لال جھنڈی وغیرہ
تصنیف فرما چکے ہیں۔ بلاوجہ شرعی و بلا ثبوت ان کی ذات کو مشکوک جاننا امانت و دیانت کے خلاف ہے حق تو یہ ہے کہ ایسے نڈر بے باک خطیب و مبلغ کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئیے نہ کہ ان کی کردار کشی کی جائے اور ان کا حوصلہ پست کیا جائے۔ مولٰی تعالٰی سے دعا ہے کہ یااللہ کریم ! اس فاضل نوجوان کو استقامت فی الدین عطا فرما اور مسلک حق اہلسنت و جماعت کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما۔
الداعی فقیر ابو الصالح محمد بخش
خادم دارالافتاء جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد

تقریظ

شرف اہلسنت حضرت علامہ مولانا محمد عبدالحکیم شرف قادری مدظلہ العالی

بسم الرحمٰن الرحیم
حامدا و مصلیا و مسلما

عزیز محترم مولانا محمد کاشف اقبال مدنی حفظہ اللہ تعالٰی بحمدہ تعالٰی و تقدس راسخ العقیدہ سنی ہیں، پہلی ملاقات میں انہوں نے ایک مقالہ دکھایا جس کا عنوان تھا “عقائد اہل سنت قرآن و حدیث کی روشنی میں“ اسے میں نے سرسری نظر سے دیکھا تو اس میں قرآن و حدیث کے حوالے بکثرت دکھائی دئیے۔ علمائے اہلسنت، علمائے دیوبند اور اہلحدیث کے بے شمار حوالے دکھائی دئیے، ایک طرف یہ مقالہ دیکھتا اور دوسری طرف اپنے سامنے ایک نو عمر بچے کو دیکھتا تو مجھے یقین نہ آتا کہ یہ اسی نے لکھا ہے، چند سوالوں کے بعد مجھے اطمینان ہو گیا کہ یہ مقالہ اسی ہونہار بچے نے لکھا ہے، ان کا مطالبہ تھا کہ اس پر تقریظ لکھ دیں، مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ میں نے اسی وقت تقریظ لکھ دی، اس کے بعد بھی ان سے ملاقاتیں رہیں، انہیں ہمیشہ مسلک اہل سنت کے تحفظ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے پایا، مخالفین کی کتابوں کا انہوں نے پوری بصیرت کے ساتھ وسیع مطالعہ کیا ہے۔ اللہ تعالٰی انہیں سلامت رکھے۔ اہل سنت کے بہت سے نوجوانوں کو یہ جذبہ اور سپرٹ عطا کرے۔
محمد عبدالحکیم شرف قادری
18، ربیع الاول 1425ھ

تقریظ

حضرت علامہ مولانا مفتی محمد جمیل رضوی صاحب
صدر مدرس جامعہ انوار مدینہ سانگلہ ہل
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الصلوٰۃ و السلام علیک یاسیدی یارسول اللہ
وعلٰی اٰلک واصحابک یاسیدی یاحبیب اللہ
اللھم یامن لک الحمد والصلوٰۃ والسلام علی نبیک محمد وعلی الک نبیک المکرم وعلی اصحابنیک المکرم اما بعد حتی یمیز الخبیث من الطیب

مولانا کاشف اقبال مدنی قادری رضوی صاحب نے امام اہلسنت مجدد دین و ملت امام عاشقاں اعلٰی حضرت عظیم البرکت امام شاہ محمد احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تعلب و نفحم نظریات پر بد مذاہب کے تاثرات اور تحسین امام اہلسنت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ پر دیانبہ و وہابیہ خبیثہ پلیدہ ملحدہ زندیقہ کے عقائد باطلہ اور اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے متعلق روافض و قیادنہ کے رد میں بھی بد مذاہب کی تائیدات مندرج فرمائی ہیں۔ امام اہلسنت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے متعلق نوادر روایات بد مذاہب کی تکفیر و تذلیل پر خود ان کی زبانی نقل فرمائی ہیں۔
اگر وہابیہ و دیابنہ و دیگر بد عقیدہ لوگ تعصب کی عینک اتار کر مطالعہ کریں تو مشعل راہ ہوگی۔ مدنی قادری رضوی صاحب کا نظریہ عقیدت اہلسنت کے لئے تحفہء نایاب ہے۔ اللہ تعالٰی اس تحریر سے اہلسنت کو مستفیض و مستیز فرمائے۔
احقر العباد (ابو محمد جیلانی رضوی)
محمد جمیل رضوی
خطیب جامع مسجد مدنی فیصل آباد
و صدر مدرس جامعہ انوار مدینہ سانگلہ ہل
23، ربیع الاول 1425ھ

مناظر اہلسنت ابو الحقائق علامہ مولانا غلام مرتضٰی ساقی مجددی

حق اور باطل ہمیشہ سے برسر پیکار ہیں، جس دور میں بھی باطل نے اپنا سر اٹھایا تو اہل حق نے اپنی ایمانی اور روحانی قوت سے اس سے پنجہ آزمائی کی اور اسے دُم دبا کر بھاگ نکلنے کے لئے مجبور کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔ ہندوستان میں باطل جب وہابیت و دیوبندیت کی مکروہ شکل میں نمودار ہوا تو اس کی سرکوبی کے لئے دیگر اکابرین اہل سنت کے علاوہ امام اہل سنت، اعلٰی حضرت عظیم البرکت الشاہ امام محمد احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمۃ نے نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ نے اپنے زور قلم سے باطل کے ایوانوں میں زلزلہ بپا کر ڈالا، اور منکرین کو اعلٰی حضرت علیہ الرحمۃ کے مقابلہ کی جراءت نہ ہو سکی۔۔۔۔۔۔ آپ خود فرماتے ہیں۔

کلک رضا ہے خبجر خونخوار برق بار
اعداء سے کہہ دو خیر منائیں نہ شر کریں

آپ نے قلیل وقت میں رد وہابیت پر اس قدر خدمات دیں ہیں کہ اتنی مدت میں ایک ادارہ اور ایک تنظیم بھی سر انجام دینے سے قاصر ہیں۔
آپ کی تحریک سے ہی مسلمانان اہلسنت، وہابی، دیوبندی عقائد سے باخبر ہو کر ان سے نفرت و بیزاری کا اظہار کرنے لگے۔ علماء و مشائخ اہل سنت نے مختلف انداز میں عوام الناس کو ان کے عقائد باطلہ اور افکار فاسدہ سے متعارف کرایا۔ اور اپنے متعلقین و منسلکین کو ان سے اعراض ولا تعلقی کا حکم فرمایا۔
دور حاضرہ میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے علماء و مشائخ ان لوگوں کے خیالات فاسدہ کی تغلیظ و تردید میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ یہ اس دور کا بہت ہی خطرناک فتنہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے ان کے افکار و نظریات کی تردید کی جتنی زیادہ ضرورت ہے ہمارے علماء و مشائخ اتنی ہی زیادہ سستی اور عدم توجہ سے کام لے رہے ہیں۔ اس عمل میں کونسا راز پنہاں ہے اسے وہ حضرات بخوبی سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ بایں ہمہ دور حاضر میں ایسے مجاہدین اسلام بھی موجود ہیں جو سردھڑکی بازی لگا کر بھی حق و صداقت کے مبارک علم کو لہرانا چاہتے ہیں۔ انہی خوش نصیب افراد میں ہمارے نڈر محقق، معتدد کتب کے مصنف، مناظر اہل سنت، فاتح دیوبندیت حضرت مولانا محمد کاشف اقبال خان مدنی کا بھی شمار ہوتا ہے۔ آپ نے اپنی پیش نظر کتاب “امام احمد رضا، مخالفین کی نظر میں“ وقیع دلائل اور صریح حوالہ جات سے اس حقیقت کو ثابت کر دکھایا ہے کہ اعلٰی حضرت علیہ الرحمۃ حق و صداقت اور علم و حکمت کا وہ کوہ گراں تھے کہ جن کی تعریف میں اپنے تو ایک طرف بیگانے بھی رطب اللسان ہیں اور آپ نے جو اکابرین دیوبند کی تکفیر کی ہے وہ ریت پر اٹھائے گئے محل کی طرح بے بنیاد نہیں ہے بلکہ یہ ایسا مضبوط قلعہ ہے کہ جس کی بنیادیں کبھی لرزہ براندم نہیں ہو سکتیں اور اس کا اعتراف دیوبندی علماء کو بھی تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بارگاہ رب العزت میں دعا ہے کہ مولٰی تعالٰی حضرت مصنف کو جزائے خیر عطا فرمائے اور اس تصنیف کو اہل حق کے لئے باعث تقویت اور اہل باطل کے لئے ذریعہ ہدایت بنائے۔ آمین
العبد الفقیر ابو الحقائق
غلام مرتضٰی ساقی مجددی
10 مئی 2004ء

ِنحمدہ و نصلی ونسلم علی رسولہ الکریم

اما بعد ! امام اہل سنت مجدد دین و ملت کشتہء عشق رسالت شیخ الاسلام و المسلمین امام عاشقان حضرت امام محمد احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ علم و دانش کے سمندر تھے۔ ان کے علم کی ایک جھلک دیکھ کر علمائے عرب و عجم حیران رہ گئے۔ محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے تقریباً تمام علوم و فنون پر اپنی تصانیف یادگار چھوڑی ہیں۔
وہ جامع علوم و فنون شخصیت کے مالک تھے۔ محدث بریلوی ایک عقبری شخصیت تھے۔ آپ نے پوری شدت و قوت کے ساتھ بدعات کا رد کیا اور احیاء سنت کا اہم فریضہ ادا کیا۔ علماء عرب و عجم نے آپ کو چودہویں صدی کا مجدد قرار دیا۔
محبت و عشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم محدث بریلوی علیہ الرحمۃ کا طرہء امتیاز تھا یہی ان کی زندگی اور یہی ان کی پہچان، وہ خود فرماتے ہیں کہ میرے دل کے دو ٹکڑے کئے جائیں تو ایک پر لاالہ الا اللہ اور دوسرے پر محمد رسول اللہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) لکھا ہوگا آپ کا لکھا ہوا سلام
مصطفٰے جان رحمت پہ لاکھوں سلام
پوری دنیا میں پڑھا جاتا ہے۔
آپ کی کتب کی ایک ایک سطر سے عشق رسول کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ آپ کے عشق رسول کا اپنے ہی نہیں بیگانے بھی موافق ہی نہیں مخالف بھی دل و جان سے اقرار کرتے ہیں۔ آپ نے رسول کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بے ادب گستاخ فرقوں کا پوری قوت سے قلع قمع کرنے کے لئے جہاد فرمایا۔ دیوبندی کوثر نیازی مولوی کے بقول بھی “جسے لوگ امام احمد رضا بریلوی کا تشدد کہتے ہیں وہ بارگاہ رسالت میں ان کے ادب و احتیاط کی روش کا نتیجہ ہے۔ آپ کو ہر فن میں کامل دسترس حاصل تھی۔ بلکہ بعض علوم میں آپ کی مہارت حد ایجاد تک پہنچی ہوئی تھی۔“
آپ کے رسالہ مبارک الروض البمیج فی آداب التخریج کے متعلق لکھتے ہیں۔ کہ اگر پیش ازیں کتابے وریں فن نیافتہ شودپش مصنف راموجد تصنیف ہذامی تواں تفت (تذکرہ علمائے ہند فارسی صفحہ 17)
ترجمہ :۔ اگر (فن تخریج حدیث میں) اور کوئی کتاب نہ ہو، تو مصنف کو اس تصنیف کا موجد کہا جا سکتا ہے۔
علم توقیت میں اس قدر کمال حاصل تھا کہ دن کو سورج اور رات کو ستارے دیکھ کر گھڑی ملا لیا کرتے تھے وقت بالکل صحیح ہوتا اور ایک منٹ کا بھی فرق نہ ہوتا۔
علم ریاضی میں بھی آپ کو حد سے زیادہ اعلٰی درجہ کی مہارت حاصل تھی کہ علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ریاضی کے ماہر ڈاکٹر سر ضیاء الدین آپ کی ریاضی میں مہارت کی ایک جھلک دیکھ کر انگشت بدندان رہ گئے۔
علم جفر میں بھی محدث بریلوی علیہ الرحمۃ یگانہء روزگار تھے۔
الغرض اعلٰی حضرت محدث بریلوی تمام علوم و فنون پر کامل دسترس رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ آپ دینی اور ہر قسم کے علوم و فنون کے ماہر تھے۔
اعلٰی حضرت فاضل بریلوی پاک و ہند کے نابغہء روزگار فقہیہ، محدث، مفسر اور جامع علوم و فنون تھے۔ مگر افسوس کہ ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ حضور سیدنا مجدد اعظم محدث بریلوی جتنی عظیم المرتبت شخصیت تھے آپ اتنے ہی زیادہ مظلوم ہیں اور اس ظلم میں حامی و مخالف سبھی شامل ہیں جو آپ سے محبت کا دعوٰی کرتے ہیں مگر انہوں نے آپ کی شخصیت کا عوام کے سامنے اجاگر نہیں کیا۔ آپ کی عظمت پر بہت معمولی کام کیا۔ بلکہ کئی مکار لوگوں نے آپ کا نام لیکر آپ کو ناحق بدنام کیا۔ جتنا اعلٰی حضرت فاضل بریلوی نے گمراہی اور بدعات کا قلع قمع کیا، اتنا ہی بدعات کو رواج دے کر حضور اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کو بدنام کیا جا رہا ہے۔
دوسری طرف آپ کے مخالفین نے اس علمی شخصیت کو مسخ کرنے کی کوشش کی۔ آپ پر بے بنیاد الزامات کے انبار لگا دئیے گویا اعلٰی حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی عظیم عبقری شخصیت اپنوں کی سرد مہری اور مخالفین کے حسد اور بغض و عداوت کا شکار ہو کر رہ گئی اور یہی ایک بہت بڑا المیہ ہے مگر یہ تو واضح ہے کہ حقیقت کو بدلا نہیں جا سکتا۔ اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کے علمی رعب و دبدبہ کا یہ حال تھا کہ آپ کے کسی مخالف کو آپ سے مناظرے کی جراءت نہ ہو سکی۔ جوں جوں تحقیق ہوئی۔ اعلٰی حضرت محدث بریلوی کی شخصیت اپنی اصلی حالت میں نمایاں ہوئی اور ان کے علم و فضل کا چرچا از سر نو شروع ہو گیا اور صرف اپنے ہی نہیں بیگانے بھی حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے۔ آج بھی لوگ آپ کے متعلق عوام کو غلط تاثر دیتے ہیں۔
ہم دیوبندی وہابی مذہب کے اکابرین کے تاثرات اس رسالے میں جمع کر رہے ہیں تاکہ عوام کو معلوم ہو جائے کہ دیوبندی وہابی جو محدث بریلوی کے متعلق ہرزرہ سرائی کرتے ہیں غلط ہے۔ مطالعہ بریلویت وغیرہ کتابیں لکھ کر طوفان بدتمیزی برپا کرنے والے لوگ صرف بہتان ترازی اور بے بنیاد الزامات لگاتے ہیں۔ حقیقت سے ان کا کچھ تعلق نہیں۔ ان لوگوں کو کم از کم اپنے ان اکابرین کو ان اقوال کو پیش نظر رکھنا چاہئیے۔ مولٰی تعالٰی حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ جلیلہ سے مذہب حق اہل سنت و جماعت (بریلوی) پر استقامت اسی پر زندگی اور اسی پر موت عطا فرمائے۔ (آمین)

بانی دیوبندی مذہب محمد قاسم نانوتوی

1۔ دیوبندی حکیم الامت اشرف علی تھانوی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب (نانوتوی) دہلی شریف رکھتے تھے۔ اور ان کے ساتھ مولانا احمد حسن امروہوی اور امیر شاہ خان صاحب بھی تھے شب کو جب سونے کے لئے لیٹے تو ان دونوں نے اپنی چارپائی ذرا الگ کو بچھالی، اور باتیں کرنے لگے۔ امیر شاہ خان صاحب نے مولوی صاحب سے کہا کہ صبح کی نماز ایک برج والی مسجد میں چل کر پڑھیں گے، سنا ہے کہ وہاں کے امام قرآن شریف بہت اچھا پڑھتے ہیں۔ مولوی صاحب نے کہا کہ ارے پٹھان جاہل (آپ میں بے تکلفی بہت تھی) ہم اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے وہ تو ہمارے مولانا (نانوتوی) کی تکفیر کرتا ہے۔ مولانا (نانوتوی) نے سن لیا اور زور سے فرمایا۔ احمد حسین میں تو سمجھا تھا تو لکھ پڑھ گیا ہے مگر جاہل ہی رہا۔ پھر دوسروں کو جاہل کہتا ہے۔ ارے کیا قاسم کی تکفیر سے وہ قابل امامت نہیں رہا میں تو اس سے اُس کی دینداری کی معتقد ہوگیا۔ اس نے میری کوئی ایسی ہی بات سنی ہوگی جس کی وجہ سے میری تکفیر واجب تھی۔ گو روایت غلط پہنچی ہو، تو یہ راوی پر الزام ہے۔ تو اس کا سبب دین ہی ہے اب میں خود اس کے پیچھے نماز پڑھوں گا۔ غرضیکہ صبح کی نماز مولانا (نانوتوی) نے اس کے پیچھے پڑھی۔ (افاضت الیومیہ ج 4 / 394 طبع ملتان)

نانوتوی صاحب کے نزدیک جاہل تو وہی ہے جو نانوتوی کی تکفیر کرنے والے کو برا کہتا ہے۔ تو بتائیے کہ سیدی اعلٰی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ پر کیا وجہ اعتراض ہے۔

2۔ تحذیرالناس پر جب مولانا (نانوتوی) پر فتوے لگے، تو جواب نہیں دیا: یہ فرمایا کہ کافر سے مسلمان ہونے کا طریقہ بڑوں سے یہ سنا ہے۔
کہ بندہ کلمہ پڑھنے سے مسلمان ہو جاتا ہے تو میں کلمہ پڑھتا ہوں۔
لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ
( افاضات الیومیہ، ج4 صفحہ 395 طبع ملتان، ج8 صفحہ 238 )

الفضل ماشھدت بہ الاعداء
اب آپ ہی بتائیے کہ حضور اعلٰیحضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے جو حکم شرعی واضح کیا۔ اس میں آپ کا کیا قصور ہے ؟ ضمناً آپ کو یہ بھی عرض کروں، کہ بانی دیوند قاسم نانوتوی کی وجہ تکفیر کیا ہے۔ اس لئے کہ دیوبندی حضور اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کو نعوذ باللہ مکفرالمسلمین کہتے پھرتے ہیں۔ حالانکہ دیوبندی مذہب کی بنیادی کتب “تقویۃ الایمان، فتاوٰی رشیدیہ، بہشتی زیور“ وغیرہ سے واقف حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ مکفرالمسلمین اعلٰی حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ نہیں۔ بلکہ یہی دیوبندی اکابر ہیں۔ ان کے شرک و کفر کے فتوؤں سے کوئی بھی محفوظ نہیں، نہ ہی انبیاء و اولیاء اور نہ ہی کوئی اور، تو لیجئے سنئیے:۔ کہ نانوتوی صاحب کی وجہ تکفیر کیا ہے اور وہ وجہ یہ ہے کہ بانی دیوبند قاسم نانوتوی نے اہل اسلام کے اجتماعی عقیدہ ختم نبوت کا انکار کیا ہے اور خاتم النبیین کے معنی میں تحریف کی ہے۔ نانوتوی کی چند ایک عبارات ہدیہ قارئین کی جاتی ہیں۔

بانی دیوبند قاسم نانوتوی لکھتے ہیں:
سو عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلعم کا خاتمہ ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخری نبی ہیں۔ مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تآخر زمانہ میں بالذات کچھ فضیلت نہیں، پھر مقام مدح میں ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین فرمانا اس صورت میں کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے۔ (تحذیر الناس صفحہ3 طبع دیوبند)
اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلعم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ (تحذیرالناس صفحہ 28 طبع دیوبند)
آپ موصوف بوصف نبوت بالذات ہیں اور سو آپ کے اور نبی موصوف بوصف نبوت العرض۔ (تحذیرالناس صفحہ4 طبع دیوبند)
تمام اہل اسلام خاتم النبیین کا معنی آخری نبی کرتے ہیں اور کرتے رہے مگر نانوتوی نے اسے جاہل عوام کا خیال بتایا۔ یہ تحریف فی القرآن ہے۔ پھر حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبی پیدا ہونے کو خاتمیت محمدی، حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے آخری نبی ہونے میں کوئی فرق نہ پڑنا بتایا جو کہ ختم نبوت کا انکار ہے۔ واضح طور پر خاتم النبیین کا ایسا معنی تجویز کیا گیا جس سے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوٰی نبوت کا رستہ ہموار ہو گیا اور مرزائی اپنی حمایت میں آج بھی تحذیرالناس پیش کرتے ہیں تو دیوبندی اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے ہیں۔ قادیانیوں نے اس پر مستقل رسالہ بھی لکھ کر شائع کیا ہے۔ “افادات قاسمیہ“ نبوت کی تقسیم بالذات بالعرض نانوتوی کی ایجاد ہے۔
تحذیرالناس کی تمام کفریہ عبارات کی تردید مدلل و مفصل کے لئے غزالی زماں حضرت مولانا احمد سعید کاظمی علیہ الرحمہ کی کتاب “التبشیر برد التحذیر“ ، شیخ القرآن مولانا غلام علی اوکاڑوی علیہ الرحمۃ کی کتاب “التنویر“ اور ماہنامہ کنزالایمان کا ختم نبوت نمبر اور راقم الحروف فقیر کی کتاب “عبارات تحذیرالناس پر ایک نظر“ اور “مسئلہ تکفیر“ میں ملاحظہ کیجئے اختصار مانع ہے صرف ایک حوالہ دیوبندی مذہب کا ہی حاضر خدمت ہے۔ دیوبندی حکیم الامت اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں:
جب مولانا محمد قاسم صاحب۔۔۔۔۔۔۔ نے کتاب تحذیرالناس لکھی تو سب نے مولانا محمد قاسم صاحب کی مخالفت کی بجز مولانا عبدالحئی صاحب نے۔ (قصص الاکابر صفحہ 159 طبع جامعہ اشرفیہ لاہور)
جس وقت مولانا نے تحذیرالناس لکھی ہے کسی نے ہندوستان بھی میں مولانا کے ساتھ موافقت نہیں کی بجز مولانا عبدالحئی صاحب کے۔ (افاضات الیومیہ ج5 صفحہ 296 طبع ملتان)

دیوبندی حکیم الامت اشرف علی تھانوی

(1) دیوبندی خواجہ عزیزالحسن مجذوب لکھتے ہیں:
مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی کی بھی جن کی سخت ترین مخالفت اہل حق سے عموماً اور حضرت والا (تھانوی اشرف علی) سے خصوصاً شہرہ آفاق ہے ان کے بھی ُبرا بھلا کہنے والوں کے جواب میں دیر دیر تک حمایت فرمایا کرتے ہیں اور شد و مد کے ساتھ رد فرمایا کرتے ہیں کہ ممکن ہے کہ ان کی مخالفت کا سبب واقعی حب رسول ہی ہو اور وہ غلط فہمی سے ہم لوگوں کو نعوذ باللہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخ ہی سمجھتے ہوں۔ (اشرف السوانح ج1 ص132، طبع ملتان: اسوہ اکابر صفحہ14 طبع لاہور)

(2) دیوبندی حکیم الامت اشرف علی تھانوی کے خلیفہ مفتی محمد حسن بیان کرتے ہیں: حضرت تھانوی نے فرمایا، اگر مجھے مولوی احمد رضا صاحب بریلوی کے پیچھے نماز پڑھنے کا موقعہ ملتا، تو میں پڑھ لیتا۔ (حیات امداد صفحہ 38 طبع کراچی، انوار قاسمی صفحہ 389 )
(اسوہ اکابر صفحہ15 طبع لاہور، ہفتہ روزہ چٹان لاہور، 10 فروری 1962ء)

(3) دیوبندی حکیم الامت اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں:
میں علماء کے وجود کو دین کی بقاء کے لئے اس درجہ ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر سارے علماء ایسے مسلک کے بھی ہو جائیں جو مجھ کو کافر کہتے ہیں (یعنی بریلوی صاحبان) تو میں پھر بھی ان کی بقاء کے لئے دعائیں مانگتا رہوں کیونکہ گو وہ بعض مسائل میں غلو کریں اور مجھ کو ُبرا کہیں، لیکن وہ تعلیم تو قرآن و حدیث ہی کی کرتے ہیں۔ ان کی وجہ سے دین تو قائم ہے۔ (اشرف السوانح ج1 صفحہ 192، حیات امداد صفحہ38، اسوہء اکابر صفحہ 15)

(4) مذید فرماتے ہیں:
وہ (بریلوی) نماز پڑھاتے ہیں ہم پڑھ لیتے ہیں، ہم پڑھاتے ہیں۔ وہ نہیں پڑھتے تو ان کو آمادہ کرو۔ (افاضات الیومیہ ج7 صفحہ 56 طبع ملتان)

(5) وہ ہم کو کافر کہتا ہے ہم اس کو کافر نہیں کہتے۔ (افاضات الیومیہ ج7 صفحہ 26)

(6) ایک صاحب نے حضرت (تھانوی) کی خدمت میں ایک مولوی صاحب کا ذکر کیا کہ انہوں نے تو جناب کی ہمیشہ بڑی مخالفت کی، تو بجائے ان کی شکایت کے یہ فرمایا کہ میں تو اب بھی یہی کہتا ہوں، کہ “شاید ان کی مخالفت کا منشا ُحب رسول ہو۔“ (افاضات الیومیہ ج10 صفحہ 245)

(7) تھانوی صاحب مذید لکھتے ہیں:
احمد رضا خان (بریلوی) کے جواب میں کبھی (میں نے) ایک سطر بھی نہیں لکھی، کافر خبیث ملعون سب کچھ سنتا رہا۔ (حکیم الامت صفحہ 188 طبع لاہور)

( 8 ) ایک معروف و مشہور اہل بدعت عالم (احمد رضا بریلوی) جو اکابر دیوبند کی تکفیر کرتے تھے اور ان کے خلاف بہت سے رسائل میں نہایت سخت الفاظ استعمال کرتے تھے۔ ان کا ذکر آ گیا تو فرمایا میں سچ عرض کرتا ہوں کہ مجھے ان کے متعلق تعذیب ہونے کا گمان نہیں کیونکہ ان کی نیت ان سب چیزوں سے ممکن ہے کہ تعظیم رسول ہی کی ہو۔ (مجالس حکیم الامت صفحہ 125 طبع کراچی)

(9) ایک شخص نے پوچھا کہ ہم بریلوی والوں کے پیچھے نماز پڑھیں تو نماز ہو جائے گی یا نہیں فرمایا حضرت حکیم الامت (تھانوی) ۔۔۔۔۔۔ نے ہاں (ہو جائے گی) ہم ان کو کافر نہیں کہتے اگرچہ وہ ہمیں کہتے ہیں۔ (قصص الاکابر صفحہ 252 طبع لاہور)

(10) حضرت مولانا احمد رضا خان مرحوم و مغفور کے وصال کی اطلاع حضرت تھانوی کو ملی، تو حضرت نے اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھ کر فرمایا:
فاضل بریلوی نے ہمارے بعض بزرگوں یا ناچیز کے بارے میں جو فتوے دئیے ہیں وہ ُحب رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے جذبے سے مغلوب و محجوب ہو کر دئیے ہیں۔ اس لئے انشاءاللہ تعالٰی عنداللہ معذور اور مرحوم و مغفور ہوں گے، میں اختلاف کی وجہ سے خدانخواستہ ان کے متعلق تعذیب کی بدگمانی نہیں کرتا۔ (مسلک اعتدال صفحہ 87 طبع کراچی)

(11) دیوبندی عالم کوثر نیازی لکھتے ہیں:
مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی سے میں نے سنا، فرمایا: جب حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب علیہ الرحمہ کی وفات ہوئی تو حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کو کسی نے آکر اطلاع کی مولانا تھانوی نے بے اختیار دعاء کے لئے ہاتھ اٹھا دئیے جب وہ دعاء کر چکے۔ تو حاضرین مجلس میں سے کسی نے پوچھا وہ تو عمر بھر آپ کو کافر کہتے رہے اور آپ ان کے لئے دعائے مغفرت کر رہے ہیں۔ فرمایا اور یہی بات سمجھنے کی ہے مولانا احمد رضا خان نے ہم پر کفر کے فتوے اس لئے لگائے کہ انہیں یقین تھا کہ ہم نے توہین رسول کی ہے اگر وہ یہ یقین رکھتے ہوئے بھی ہم پر کفر کا فتوٰی نہ لگاتے تو خود کافر ہو جاتے۔ (اعلٰی حضرت فاضل بریلوی ایک ہمہ جہت شخصیت صفحہ7 طبع نارووال)
(روزنامہ جنگ لاہور3، اکتوبر 1990ء) (روزنامہ جنگ راولپنڈی 10 نومبر 1981ء)

(12) مولانا اشرف علی تھانوی کا قول ہے کہ کسی بریلوی کو کافر نہ کہو اور نہ آپ نے کسی بریلوی کو کافر کہا۔۔۔۔۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت تھانوی ایک بڑے جلسے میں خطاب فرما رہے تھے۔ کہ اطلاع ملی، مولوی احمد رضا بریلوی انتقال کر گئے ہیں۔ آپ نے تقریر کو ختم کر دیا اور اسی وقت خود اور اہل جلسہ نے آپ کے ساتھ مولوی احمد رضا کے لئے دعائے مغفرت فرمائی۔ (ہفت روزہ چٹان لاہور 15 دسمبر 1962ء)

(13) مولانا احمد رضا خان بریلوی زندگی بھر انہیں (اشرف علی تھانوی کو) کافر کہتے رہے۔ لیکن مولانا تھانوی فرمایا کرتے تھے کہ میرے دل میں احمد رضا کے لئے بے حد احترام ہے۔ وہ ہمیں کافر کہتا ہے لیکن عشق رسول کی بناء پر کہتا ہے کسی اور غرض سے تو نہیں کہا۔ (ہفت روزہ چٹان لاہور 23، اپریل 1962ء)
آج کل دیوبندی مذہب کے لوگ اہل سنت کو بدعتی کہتے ہیں، اس کے متعلق بھی اپنے تھانوی صاحب کا فیصلہ سن لیں، تھانوی صاحب فرماتے ہیں:
یہ کیا ضروری ہے کہ جو آپ کے فتوے میں بدعت ہے وہ عنداللہ بھی بدعت ہو یہ تو علمی حدود کے اعتبار سے ہے۔ باقی عشاق کی تو شان ہی جدا ہوتی ہے ان کے اوپر اعتراض ہو ہی نہیں سکتا ۔۔۔۔۔۔ ایسے بدعتیوں کو آپ دیکھیں گے کہ وہ جنت میں پہلے داخل کئے جائیں گے اور لوگ پیچھے جائیں گے۔ (افاضات الیومیہ ج1 صفحہ 302)

بدعتی بے ادب نہیں ہوتے ان کو بزرگوں سے تعلق ہے۔ (افاضات الیومیہ ج6 صفحہ83 )

معلوم ہوا کہ اعلٰی حضرت محدث دہلوی بریلوی علیہ الرحمۃ کا عشق رسول حکیم دیوبند تھانوی کو بھی تسلیم ہے۔ الفضل ماشھدت بہ الاعداء

ضمناً اشرف علی تھانوی کی وجہ تکفیر بیان کرنا بھی ضروری ہے 1901ء میں تھانوی کی کتاب حفظ الایمان شائع ہوئی جس میں مذکور تھانوی نے رسول کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی توہین کی اس میں یہ بیان کیا، کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو پاگلوں گدھوں جانوروں جیسا علم غیب حاصل ہے۔ نعوذ باللہ اصل عبارت یہ ہے۔
“آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کُل غیب، اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی ہی کیا تخصیص ہے۔ ایسا علم غیب تو زید و عمر بلکہ ہر صبی (بچہ) و مجنون (پاگل) بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے۔“ (حفظ الایمان صفحہ8 طبع دیوبند)

تھانوی صاحب سے اس عبارت پر توبہ کا مطالبہ کیا جاتا رہا مگر تھانوی صاحب اپنی اس عبارت پر اڑے رہے۔ اعلٰی حضرت محدث بریلوی نے خطوط لکھے کتابیں شائع کیں مناظرے کے چیلنج کئے، مگر تھانوی صاحب ٹس سے مِس نہ ہوئے بلکہ تھانوی کی زندگی میں اس کے وکیل منظور احمد نعمانی دیوبندی کے ساتھ آفتاب علم و حکمت منبع رشد و ہدایت محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا علامہ محمد سردار احمد صاحب علیہ الرحمہ کا اسی عبارت کے کفریہ ہونے کے دلائل پر مناظرہ ہوا۔ دیوبندیوں کو عبرتناک شکست ہوئی، مناظرہ بریلی کے نام سے روئیداد دستیاب ہے۔
حضرت محدث اعظم پاکستان علیہ الرحمہ کے علمی عرب و دبدبہ کی وجہ سے دیوبندی منظور نعمانی نے مناظروں سے توبہ کرلی: جس کا ثبوت موجود ہے اس عبارت کے کفریہ ہونے کے دلائل ہماری کتاب “آخری فیصلہ“ میں ملاحظہ کیجئے، صرف ایک حوالہ حاضر خدمت ہے۔

تھانوی صاحب کے مریدین بھی یہ تسلیم کرتے ہیں اور تھانوی کو ایک خط میں لکھتے ہیں: “الفاظ جس میں مماثلت علمیت غیبیہ محمدیہ کو علوم مجانین و بہائم سے تشبیہہ دی گئی ہے جو بادی النظر میں سخت سوء ادبی ہے۔ کیوں ایسی عبارت سے رجوع نہ کر لیا جائے جس میں مخلصین حامئیین جناب والا (تھانوی) کو حق بجانب جواب دہی میں سخت دشواری ہوتی ہے۔ وہ عبارات آسمانی والہامی عبارت نہیں کہ جس کی مصدرہ صورت اور ہیت عبارت کا بحالہ و یا بالفاظہ باقی رکھنا ضروری ہے۔ (تغیرالعنوان حفظ الایمان صفحہ 29 طبع شاہکوٹ)

رشید احمد گنگوہی دیوبندی، محمود الحسن دیوبندی، خلیل احمد انبٹھیوی دیوبندی

دیوبندی قطب رشید احمد گنگوہی نے کئی مسائل میں اعلٰی حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ کے فتاوٰی بعینیہ درج کئے ہیں اور آپ کے کئی فتاوٰی کی تصدیق کی ہے۔ ملاحظہ ہو فتاوٰی رشیدیہ صفحہ 245 طبع کراچی
کتاب القول البدیع و اشتراط المصر للتجیع کے صفحہ 24 پر حضور سیدی اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کا فتوٰی تفصیلی درج ہے اس کی بھی رشید احمد گنگوہی اور دیوبندی مولوی محمود الحسن نے تصدیق کی ہے۔ (ماخوذ اتحاد امت صفحہ 41 طبع راولپنڈی)

لگے ہاتھوں گنگوہی صاحب کے ساتھ دیوبندی محدث خلیل احمد سہارنپوری کی بھی سن لیجئے: لکھتے ہیں:
ہم تو ان بدعتیوں (بزعم دیوبندی) (بریلویوں) کو بھی جو اہل قبلہ ہی جب تک دین کے کسی ضروری حکم کا انکار نہ کریں کافر نہیں کہتے۔ (المہند صفحہ 47 طبع لاہور)

اب ان گنگوہی اور انبٹھیوی سہارنپوری کی ہفوات کی بھی ایک جھلک ملاحظہ کیجئے۔

اولاً: رشید احمد گنگوہی نے خدا تعالٰی کے لئے کذب کا وقوع مانا نعوذ باللہ اس کی تفصیلی بحث دیوبندی مذہب اور رد شہاب ثاقب میں ملاحظہ ہو۔

ثانیاً: حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے لئے رحمۃ للعلمین ہونا صفت خاصہ ماننے سے انکار کیا۔ فتاوٰی رشیدیہ صفحہ 218 مسئلہ امکان کذب خدا کے لئے بیان کیا۔ (فتاوٰی رشیدیہ صفحہ 227) صحابہ کرام کی تکفیر کرنے والے کو اہل سنت و جماعت بتایا۔ (فتاوٰی رشیدیہ صفحہ 248 ) وغیرھم نعوذ باللہ من ھذہ الخرافات۔

خلیل احمد انبٹھیوی نے لکھا، کہ
الحاصل غور کرنا چاہئیے کہ شیطان و ملک الموت کا حال دیکھ کر علم محیط زمین کا فخر عالم کو خلاف نصوص قطعیہ کے بلا دلیل محض قیاس فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کون سا ایمان کا حصہ ہے۔ شیطان و ملک الموت کی یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی فخر عالم کی کون سی نص قطعی ہے۔ (براہین قاطعہ صفحہ 55 طبع کراچی)

یعنی حضور سرور کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا مبارک علم شیطان کے علم سے کم ہے اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا مبارک علم قرآن و حدیث سے ثابت نہیں جبکہ شیطان و ملک الموت کا ثابت ہے نعوذ باللہ حالانکہ شیطان و ملک الموت کے علم محیط زمین کے لئے قرآن و حدیث میں کوئی نص وارد نہیں ہوئی۔ اس کے ثبوت کا دعوٰی انکار قرآن و حدیث ہے اور دوسری طرف حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے وسعت علم کے لئے متعدد نصوص موجود ہیں دیکھئے دیوبند کے محدث کا مبلغ علم۔ دوسری بات یہ ہے کہ جو حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے لئے ماننا شرک ہے۔ وہ چیز شیطان کے لئے ماننا عین ایمان کیسے ہے۔ شرک بہرحال شرک ہوتا ہے مخلوق میں ایک کے لئے شرک ہو دوسرے کے لئے وہی عین ایمان ہو یہ دیوبند کے محدث کی نرالی رگ ہے۔ گویا شیطان کو نعوذ باللہ خدا کے مد مقابل کھڑا کر دیا ہے۔

قارئین کرام ! براہین قاطعہ تحذیرالناس، حفظ الایمان کی عبارات ہم نے بعینہ نقل کر دی ہیں، بتائیے ان عبارات میں رسول کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و شان میں ایسی ناپاک توہین و بے ادبی ہے کہ کسی علانیہ کافر نے بھی نہ کی ہو یہی توہین و بے ادبی دیوبندی مذہب میں ایمان ہے۔ یہ صرف میرا دعوٰی زبان ہی نہیں دیوبند کے حکیم اشرف علی تھانوی کی زبانی سن لیجئے لکھتے ہیں :
وہابی کا مطلب و معنی بے ادب با ایمان بدعتی کا مطلب با ادب بے ایمان افاضات الیومیہ ج4 صفحہ 89 الکلام الحسن ج1 صفحہ 57، اشرف اللطائف صفحہ 38، آپ انصاف کیجئے۔ اعلٰی حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے اگر ان گستاخ بے ادب لوگوں کا رد کیا تکفیر کی رسول کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور پیار کا یہی تقاضا تھا۔ اس میں تو اعلٰی حضرت فاضل بریلوی حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے وکیل ہیں اور یہ دیوبندی وہابی حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے گستاخ و مد مقابل ہیں صرف ہم ان لوگوں سے اتنا ہی کہتے ہیں :

نہ تم توہین یوں کرتے نہ ہم تکفیر یوں کرتے
نہ کھلتے راز تمہارے نہ یوں رسوائیاں ہوتیں

دیوبندی محدث انور شاہ کشمیری

(1) دیوبند کے محدث انور شاہ کشمیری لکھتے ہیں :۔
جب بندہ ترمذی شریف اور دیگر کتب احادیث کی شروح لکھ رہا تھا۔ تو حسب ضرورت احادیث کی جزئیات دیکھنے کی ضرورت درپیش آئی تو میں نے شیعہ حضرات و اہل حدیث حضرات و دیوبندی حضرات کی کتابیں دیکھیں مگر ذہن مطمئن نہ ہوا۔ بالآخر ایک دوست کے مشورے سے مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی کی کتابیں دیکھیں تو میرا دل مطمئن ہو گیا کہ اب بخوبی احادیث کی شروح بلاجھجک لکھ سکتا ہوں۔ تو واقعی بریلوی حضرات کے سرکردہ عالم مولانا احمد رضا خان صاحب کی تحریریں شستہ اور مضبوط ہیں جسے دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مولوی احمد رضا خان صاحب ایک زبردست عالم دین اور فقہیہ ہیں۔ (رسالہ دیوبند صفحہ 21 جمادی الاول 1330ھ بحوالہ طمانچہ صفحہ 39، سفید ورسیاہ صفحہ 114)

(2) فیض مجسم مولانا محمد فیض احمد اویسی صاحب بقول لیاقت پور ضلع رحیم یار خان میں مقیم قاضی اللہ بخش صاحب کہتے ہیں: جب میں دارالعلوم دیوبند میں پڑھتا تھا۔ تو ایک موقع پر حاضر ناظر کی نفی میں مولوی انور شاہ کشمیری صاحب نے تقریر فرمائی کسی نے کہا، کہ:مولانا احمد رضا خان تو کہتے ہیں کہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم حاضر ناظر ہیں، مولوی انور شاہ کشمیری نے ان سے نہایت سنجیدگی سے فرمایا کہ پہلے احمد رضا تو بنو پھر یہ مسئلہ خود بخود حل ہو جائے گا۔ (امام احمد رضا اور علم حدیث صفحہ 83 طبع لاہور)

(3) مختار قادیانی نے اعتراض کیا کہ علماء بریلوی علماء دیوبند پر کفر کا فتوٰی دیتے ہیں اور علمائے دیوبند علمائے بریلوی پر، اس پر (انور شاہ) صاحب (کشمیری) نے فرمایا، میں بطور وکیل تمام جماعت دیوبند کی جانب سے گزارش کرتا ہوں کہ حضرات دیوبند ان (بریلویوں) کی تکفیر نہیں کرتے۔ (ملفوظات محدث کشمیری صفحہ 69 طبع ملتان، حیات انور شاہ صفحہ 323)
(روزنامہ نوائے وقت لاہور 8 نومبر 1976ء، حیات امداد صفحہ 39)

دیوبندی شیخ الاسلام شبیر احمد عثمانی

(1) دیوبند کے شیخ الاسلام شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں :۔
مولانا احمد رضا خان کو تکفیر کے جرم میں بُرا کہنا بہت ہی بُرا ہے کیونکہ وہ بہت بڑے عالم اور بلند پایہء محقق تھے۔ مولانا احمد رضا خان کی رحلت عالم اسلام کا ایک بہت بڑا سانحہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ (رسالہ ہادی دیوبند صفحہ 20 ذوالحج 1369ھ بحوالہ سفید و سیاہ صفحہ 116، طمانچہ صفحہ 41۔ 42)

(2) مذید لکھتے ہیں :۔
ہم ان بریلویوں کو بھی کافر نہیں کہتے جو ہم کو کافر بتلاتے ہیں۔ (الشہاب صفحہ 20، تالیفات عثمانی صفحہ 522، طبع لاہور، حیات امداد صفحہ 39)

مناظر دیوبند مرتضٰی حسن چاند پوری

دیوبند کے مشہور مناظر اور ناظم تعلیمات دیوبند مولوی مرتضٰی حسن چاند پوری رقمطراز ہیں :۔
بعض علمائے دیوبند کو خان بریلوی (احمد رضا) یہ فرماتے ہیں:۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں جانتے، چوپائے مجانین کے علم کو آپ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کے علم کے برابر کہتے ہیں۔ شیطان کے علم کو آپ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کے علم سے زائد کہتے ہیں، لٰہذا وہ کافر ہیں۔ تمام علمائے دیوبند فرماتے ہیں کہ خان صاحب کا یہ حکم بالکل صحیح ہے جو ایسا کہے وہ کافر ہے، مرتد ہے، ملعون ہے۔ لاؤ ہم بھی تمہارے فتوے پر دستخط کرتے ہیں بلکہ ایسے مرتدوں کو جو کافر نہ کہے وہ خود کافر ہے یہ عقائد بے شک کفریہ عقائد ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر (احمد رضا) خان صاحب کے نزدیک بعض علمائے دیوبند واقعی ایسے تھے۔ جیسا کہ انہوں نے انہیں سمجھا، تو خان صاحب پر ان علمائے دیوبند کی تکفیر فرض تھی اگر وہ ان کو کافر نہ کہتے تو وہ خود کافر ہو جاتے۔ (اشدالعذاب صفحہ 12، صفحہ 13 طبع دیوبند)

دیوبندی شیخ الادب اعزاز علی

دیوبند کے شیخ الادب مولوی اعزاز علی لکھتے ہیں :۔
جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، کہ ہم دیوبندی ہیں اور بریلوی علم و عقائد سے ہمیں کوئی تعلق نہیں۔ مگر اس کہ باوجود بھی یہ احقریہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ اس دور کے اندر اگر کوئی محقق اور عالم دین ہے۔ تو وہ احمد رضا خان بریلوی ہے کیونکہ میں نے مولانا احمد رضا خان کو جسے ہم آج تک کافر بدعتی اور مشرک کہتے رہے ہیں بہت وسیع النظر اور بلند خیال، علو ہمت، عالم دین صاحب فکر و نظر پایا ہے۔ آپ کے دلائل قرآن و سنت سے متصادم نہیں بلکہ ہم آہنگ ہیں۔ لٰہذا میں آپ کو مشورہ دوں گا اگر آ پ کو کسی مشکل مسئلہ جات میں کسی قسم کی الجھن درپیش ہو تو آپ بریلی میں جاکر مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی سے تحقیق کریں۔ (رسالہ النور تھانہ بھون صفحہ 40 شوال المکرم 1342ھ بحوالہ طمانچہ صفحہ 40 سفید و سیاہ صفحہ 114)

دیوبندی فقیہہ العصر مفتی کفایت اللہ دہلوی

دیوبندی مذہب کے فقہیہ العصر مفتی کفایت اللہ دہلوی کہتے ہیں :۔
اس میں کلام نہیں کہ مولانا احمد رضا خان کا علم بہت وسیع تھا۔ (ہفت روزہ ہجوم نئی دہلی امام احمد رضا نمبر، 2 دسمبر 1988ء صفحہ 6 کالم 4 بحوالہ سرتاج الفقہاء صفحہ 3)

مفتیء اعظم دیوبند مفتی محمد شفیع (آف کراچی)

دیوبند کے مفتی اعظم محمد شفیع دیوبندی آف کراچی لکھتے ہیں :۔
مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی کے متعلقین کو کافر کہنا صحیح نہیں ہے۔ (فتاوٰی دارالعلوم دیوبند ج2 صفحہ 142 طبع کراچی)
یہی مفتی محمد شفیع اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مرید صادق اجمل العلماء حضرت علامہ مفتی محمد اجمل سنبھلی علیہ الرحمۃ کے رسالہ “اجمل الارشاد فی اصل حرف الضاد“ پر تبصرہ کرتے ہوئے انہیں یوں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
حامداً و مصلیاً اما بعد ! احقر نے رسالہ ھذا علاوہ مقدمات کے بتمامہا مطالعہ کیا اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ اپنے موضوع میں بے نظیر رسالہ ہے خصوصاً حرف ضاد کی تحقیق بالکل افراط و تقریظ سے پاک ہے اور نہایت بہتر تحقیق ہے مؤلف علامہ نے متقدمین کی رائے کو اختیار فرما کر ان تمام صورتوں میں فساد صلوٰۃ کا حکم دیا ہے جن میں تغیر فاحش معنٰی میں ہو جاتا ہے۔ اس بارے میں احقر کا خیال بتعاًللا کابر یہ ہے کہ اپنے عمل میں تو متقدمین ہی کے قول کو اختیار کرنا چاہئیے۔
کتبہ :۔ احقر محمد شفیع غفرلہ خادم دارالافتاء دارالعلوم دیوبند یو۔پی۔ (ہند)
(فتاوٰی دارالعلوم دیوبند ج2 ص 306)

دیوبندی شیخ التفسیر محمد ادریس کاندھلوی

(1) دیوبند کے شیخ التفسیر مولوی محمد ادریس کاندھلوی کے متعلق دیوبندی عالم کوثر نیازی لکھتے ہیں :۔
میں نے صحیح بخاری کا درس مشہور دیوبندی عالم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی۔۔۔۔۔۔۔۔ سے لیا ہے۔ کبھی کبھی اعلٰی حضرت (احمد رضا بریلوی) کا ذکر آ جاتا تو مولانا (ادریس) کاندھلوی فرمایا کرتے۔ مولوی صاحب (اور یہ مولوی صاحب ان کا تکیہ کلام تھا) مولانا احمد رضا خان کی بخشش تو انہی فتوؤں کے سبب سے ہو جائے گی۔ اللہ تعالٰی فرمائے گا۔ احمد رضا خان تمہیں ہمارے رسول سے اتنی محبت تھی کہ اتنے بڑے بڑے عالموں کو بھی تم نے معاف نہیں کیا۔ تم نے سمجھا، کہ انہوں نے توہین رسول کی ہے۔ تو ان پر بھی کفر کا فتوٰی لگا دیا۔ جاؤ اسی ایک عمل پر ہم نے تمہاری بخشش کر دی۔
(اعلٰی حضرت فاضل بریلوی ایک ہمہ جہت شخصیت، صفحہ7، روزنامہ جنگ لاہور 1990۔ 10۔ 03)

(2) کسی نے مولوی محمد ادریس کاندھلوی دیوبندی سے سوال کیا کہ ترمذی میں ایک حدیث آتی ہے۔ جس کی رو سے اگر کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو کافر کہے۔ تو اس کا کفر خود کہنے والے پر لوٹتا ہے۔ بریلوی مکتب فکر والے بہت سے علماء دیوبند کو کافر کہتے ہیں۔ اس حدیث کی رو سے ان کا کفر خود بریلوی پر لوٹا اور وہ کافر ہوئے۔ اس پر مولانا ادریس کاندھلوی نے جواب دیا۔ ترمذی کی حدیث تو صحیح ہے۔ مگر آپ اس کا مطلب صحیح نہیں سمجھے، حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ وہ مسلمان دیدہ و دانستہ کافر کہے۔ تو اس کا کفر کہنے والے پر لوٹے گا۔ جن بریلوی علماء نے بعض دیوبندی علماء کو کافر کہا تو انہوں نے دیدہ دانستہ ایسا نہیں کہا۔ بلکہ ان کو غلط فہمی ہوئی۔ جس کی بناء پر انہوں نے ایسا کہا۔ انہوں نے منشا تکفیر یہ تجویز کیا کہ ان دیوبندی علماء نے آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی توہین کی ہے اگرچہ ان کا یہ خیال درست نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خود دیوبندی علماء کا عقیدہ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والا کافر ہے مگر چونکہ جن بریلوی علماء نے بعض دیوبندی علماء کی تکفیر اس بنیاد یعنی توہین رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے مزعومہ پر بربناء غلط فہمی کی ہے اس لئے یہ کفر ان (بریلوی) تکفیر کرنے والوں پر نہ لوٹے گا۔ ویسے بھی ہم (دیوبندی) جواباً ان (بریلوی) کی تکفیر کا طریقہ اختیار نہیں کرتے۔
(تذکرہ مولانا محمد ادریس کاندھلوی صفحہ 105)

قارئین کرام ! ہم نے یہ حوالہ صرف دیوبندی اکابر کے بر اعلٰی حضرت فاضل بریلوی اور دوسرے علماء اہلسنت بریلوی کی عدم تکفیر کی وجہ سے نقل کیا ہے۔ باقی جہاں تک مسئلہ تکفیر میں اہلسنت کے علماء کو غلط فہمی ہونے اور نعوذ باللہ کسی مسلمان کو کافر کہنے کا مسئلہ ہے یہ کاندھلوی کی جہالت اور بد دیانتی ہے چند ایک کفریہ عبارات دیوبندی اکابر کی ہم گزشتہ صفحات میں نقل کر چکے ہیں۔ کوئی بھی مسلمان خالی الذہن ہو کر اگر ان عبارات کو پڑھے تو وہ دیوبندی علماء کے حق میں فیصلہ نہیں دے سکتا اور تھانوی نے بے ادبی کو ایمان اور ادب کو بے ایمانی کہا حوالہ گزر چکا ہے تو بتائیے ایک طرف تو یہ لوگ رسول کائنات نور مجسم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی مبارک شاہ رفیع میں گستاخیاں کرتے ہیں۔ دوسری طرف لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔
ان عبارات مذکورہ کا کفریہ و غلط ہونا دلائل قاہرہ سے ثابت ہے اور آج تک کسی دیوبندی مولوی و مناظر میں جراءت پیدا نہیں ہوئی کہ وہ میدان مناظرہ میں آکر اپنا ایمان ثابت کر سکے پھر یہ کس منہ سے ان عبارات کو اسلام قرار دیتے ہیں۔
شرم تم کو مگر نہیں آتی
ان عبارات کے متعلق خود یہی ادریس کاندھلوی صاحب لکھتے ہیں :۔
میں صراط مستقیم، براہین قاطعہ، حفظ الایمان، رسالہ الامداد اور مرثیہ محمود الحسن نامی کتابوں کے مصنفین اور علمائے دیوبند کا عقیدت مند ہوں لیکن ان کی عبارات میرے دل کو نہیں لگ سکی ہیں۔
(ماہنامہ تجلی دیوبند اگست دسمبر 1957ء بحوالہ دیوبندی مذہب صفحہ 574)
ایسے دیگر دیوبندی علماء کے حوالے فقیر کے پاس ریکارڈ میں موجود ہیں غور کیجئے ادریس کاندھلوی کہتے ہیں۔ یہ عبارات دل کو بھی نہیں لگ سکتیں۔ مگر پھر بھی میں ان کا عقیدت مند ہوں گویا ان کا تعلق خدا کے محبوب، رسول رحمت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے نہیں بلکہ ان مولویوں سے ہے۔ حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا کلمہ پڑھتے ایسی بے وفائی کون کر سکتا ہے ؟ صرف یہی دیوبندی وہابی !! اعلٰی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے اس قسم کی منافقانہ نمائشی کلمہ گوئی کے متعلق کیا خوب فرمایا ہے۔

ذیاب فی ثیاب لب پہ کلمہ دل میں گستاخی
سلام اسلام ملحد کو کہ تسلیم زبانی ہے

گویا یہ لوگ زبان سے تو کلمہ پڑھتے ہیں مگر دل کے کافر ہیں۔ جو ان کے اقرار سے بھی ثابت ہو گیا۔
باقی جہاں تک حدیث کی روشنی میں کسی مسلمان کو کافر کہنے کا تعلق ہے۔ تو واضح رہے کہ علمائے اہلسنت نے کبھی کسی مسلمان کو کافر نہیں کہا۔ بلکہ جو خود رسول کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شان رفیع میں توہین و تنقیص کریں ان کے کفر کی نشان دہی کی ہے جیسا کہ باحوالہ گزر چکا ہے اگر مسلمانوں کو کافر و مشرک کہنا ہی دیکھنا ہے تو دیوبندی اپنے بڑوں کی کتب تقویۃ الایمان، بہشتی زیور، فتاوٰی رشیدیہ اور جواہر القرآن دیکھ لیں اور شرم کریں اور ڈوب مریں۔

وہ قصے اور ہوں گے جن کو سن کر نیند آتی ہے
تڑپ اٹھو گے کانپ اٹھو گے سن کر داستان اپنی

سید سلیمان ندوی

لکھتے ہیں:۔ اس احقر نے مولانا احمد رضا صاحب بریلوی کی چند کتابیں دیکھیں تو میری آنکھیں خیرہ کی خیرہ ہو کر رہ گئیں، حیران تھا کہ واقعی مولانا بریلوی صاحب مرحوم کی ہیں جن کے متعلق کل تک یہ سنا تھا کہ وہ صرف اہل بدعت کے ترجمان ہیں اور صرف چند فروعی مسائل تک محدود ہیں مگر آج پتا چلا، کہ نہیں ہرگز نہیں یہ اہل بدعت کے نقیب نہیں بلکہ یہ تو عالم اسلام کے اسکالر اور شاہکار نظر آتے ہیں۔ جس قدر مولانا مرحوم کی تحریروں میں گہرائی پائی جاتی ہے اس قدر گہرائی تو میرے استاد مکرم جناب مولانا شبلی صاحب اور حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور حضرت مولانا محمودالحسن صاحب دیوبندی اور حضرت مولانا شیخ التفسیر علامہ شبیر احمد عثمانی کی کتابوں کے اندر بھی نہیں جس قدر مولانا بریلوی کی تحریروں کے اندر ہے۔
(ماہنامہ ندوہ اگست 1931ء صفحہ 17 بحوالہ طمانچہ ص 36، 35 سفید و سیاہ صفحہ 112)

شبلی نعمانی دیوبندی

شبلی نعمانی دیوبندی لکھتے ہیں :۔
مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی جو اپنے عقائد میں سخت ہی متشدد ہیں مگر اس کے باوجود مولانا صاحب کا علمی شجر اس قدر بلند درجہ کا ہے کہ اس دور کے تمام عالم دین اس مولوی احمد رضا خان صاحب کے سامنے پرکاہ کی بھی حیثیت نہیں رکھتے۔ اس احقر نے بھی آپ کی متعدد کتابیں دیکھیں ہیں۔
(رسالہ ندوہ اکتوبر 1914ء صفحہ 17 بحوالہ طمانچہ صفحہ 34)

مولوی ابو الحسن

مولوی ابو الحسن دیوبندی لکھتے ہیں :۔
فقہ حنفی اور اس کی جزئیات پر جو ان (فاضل و محدث بریلوی) کو عُبور حاصل تھا۔ اس زمانہ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔
(نزہت الخواطر، ج8، صفحہ 41 حیدرآباد)

عبدالحئی رائے بریلوی

عبدالحئی لکھتے ہیں :۔
(محدث بریلوی نے) عُلوم پر مہارت حاصل کرلی اور بہت سے فُنون بالخصوص فقہ و اُصول میں اپنے ہم عصر علماء پر فائق ہو گئے۔
(نزہتہ الخواطر، ج8 صفحہ 38 )

معین الدین ندوی

لکھتے ہیں :۔
مولانا احمد رضا خان مرحوم صاحب علم و نظر مصنفین میں سے تھے۔ دینی علوم خصوصاً فقہ و حدیث پر ان کی نظر وسیع اور گہری تھی مولانا نے جس وقت نظر اور تحقیق کے ساتھ علماء کے استفسارات کے جوابات تحریر فرمائے اس سے ان کی جامعیت علمی بصیرت قرآنی استحضار ذہانت اور طباعی کا پورا پورا اندازہ ہوتا ہے ان کے عالمانہ محققانہ فتاوٰی مخالف و موافق ہر طبقہ کے مطالعہ کے لائق ہیں۔
(ماہنامہ معارف اعظم گڑھ ستمبر 1949ء بحوالہ سفید و سیاہ ص 114، 115)

عبدالماجد دریا آبادی

دیوبندی حکیم الامت اشرف علی تھانوی کے خلیفہ مولوی عبدالماجد دریا آبادی نے اعلٰی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ کے خلیفہ مولانا عبدالعلیم میرٹھی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ اور یوں کہا کہ انصاف کی عدالت کا فیصلہ یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مولانا عبدالعلیم میرٹھی مرحوم و مغفور نے اس گروہ(بریلوی) کے ایک فرد ہو کر بیش بہا تبلیغی خدمات انجام دیں۔
(ہفت روزہ صدق جدید لکھنئو 25، اپریل 1956ء بحوالہ سوئے منزل راولپنڈی اپریل 1982ء 57)

سعید احمد اکبر آبادی

دیوبندی مشہور عالم سعید احمد اکبر آبادی لکھتے ہیں:۔
مولانا احمد رضا صاحب بریلوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک زبردست صلاحیت کے مالک تھے ان کی عبقریب کا لوہا پورے ملک نے مانا۔
(ماہنامہ برہان دہلی اپریل 1974ء بحوالہ امام احمد رضا اور رَد بدعات و منکرات صفحہ 34)

زکریا شاہ بنوری

دیوبندی مولوی محمد یوسف بنوری آف کراچی کے والد زکریا شاہ بنوی دیوبندی نے کہا اگر اللہ تعالٰی ہندوستان میں (مولانا) احمد رضا بریلوی کو پیدا نہ فرماتا تو ہندوستان میں حنفیت ختم ہو جاتی۔
(بحوالہ سفید و سیاہ صفحہ 116)

حسین علی واں بھچروی

دیوبندی مذہب کے شیخ القرآن غلام اللہ خان، دیوبندی محدث سرفراز گکھڑوی کے استاد اور دیوبندی قطب رشید احمد گنگوہی کے شاگرد مولوی حسین علی نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے یہ بریلی والا (احمد رضا) پڑھا لکھا تھا علم والا تھا۔
(ماہنامہ الفرقان لکھنئو ستمبر 1987ء صفحہ 73)

غلام رسول مہر

مشہور متعصب وہابی مؤرخ مولوی غلام رسول مہر لکھتے ہیں :۔
احتیاط کے باوجود نعت کو کمال تک پہنچانا واقعی اعلٰی حضرت (بریلوی) کا کمال ہے۔
( 1857ء کے مجاہد صفحہ 211)

ماہر القادری

جماعت اسلامی (مودودی گروپ) کے مشہور شاعر ماہر القادری لکھتے ہیں:۔
مولانا احمد رضا خان بریلوی مرحوم دینی علوم کے جامع تھے دینی علم و فضل کے ساتھ شیوہ بیان شاعر بھی تھے۔ اور ان کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ مجازی راہ سخن سے ہٹ کر صرف نعت رسول کو اپنے افکار کا موضوع بنایا۔ مولانا احمد رضا خان کے چھوٹے بھائی مولانا حسن رضا خان بہت بڑے خوش گو شاعر تھے اور مرزا داغ سے نسبت تلمذ رکھتے ہیں۔ مولانا احمد رضا خان کی نعتیہ غزل کا یہ مطلع

وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں

جب استاد مرزا داغ کو حسن بریلوی نے سنایا تو داغ نے بہت تعریف کی اور فرمایا کہ مولوی ہو کر اچھے شعر کہتا ہے۔
(ماہنامہ فاران کراچی ستمبر 1973ء)
ایک اور شمارے میں لکھتے ہیں:۔
مولانا احمد رضا بریلوی نے قرآن کا سلیس رواں ترجمہ کیا ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ مولانا صاحب نے ترجمہ میں بڑی نازک احتیاط برتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ مولانا صاحب کا ترجمہ خاصا اچھا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ترجمہ میں اردو زبان کے احترام پسندانہ اسلوب قائم رہے۔
(ماہنامہ فاران کراچی مارچ 1976ء)

عظیم الحق قاسمی

عظیم الحق قاسمی فاضل دیوبند لکھتے ہیں :۔
ہو سکتا ہے کہ آپ کو اس بات کا علم ہو کہ (مدرسہ) دیوبند میں اعلٰی حضرت یا ان سے تعلق رکھنے والے رسائل و کتب نہیں پہنچتے، نہ ہی وہاں طلبہ کا اجازت ہوتی ہے۔ بلکہ دیکھنا جرم سے کم نہیں۔ میں بھی وہیں (دارالعلوم دیوبند) کا فراغ التحصیل ہوں، وہاں سے مجھ کو بریلویوں سے نفرت ان کی کتابوں سے عداوت دل میں پرورش پائی، اس لئے میں کبھی ان کی کتب سے استفادہ نہیں کر سکا۔ قاری چونکہ نیا رسالہ ہے اور ظاہراً یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ بریلویوں کا رسالہ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس سبب سے میں نے قاری کا مطالعہ کیا اور (مولانا احمد رضا) فاضل بریلوی نے شمع رسالت کی جو ضیاء پاشی کی ہے۔ اس کا ادنٰی حصہ پہلی مرتبہ “قاری“ کے ذریعے نظر نواز ہوا جس نے میرے دل کی دنیا کو بدل ڈالا۔ ابھی تو صرف ایک فتوٰی نے اعلٰی حضرت کے عشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا مجھ کو معترف کر دیا یہ پورا فتوٰی حب رسول کا ایک گلدستہ ہے میں اپنے دل کے حالات ان لفظوں میں بیان کروں گا، کہ اگر ہمارے علماء دیوبند تنگ نظری اور تعصب کو ہٹا دیں تو شاید مولانا اسماعیل سے لیکر ہنوز سب فاضل بریلوی کے شاگردوں کی صفت میں نظر آئیں گے۔
(ماہنامہ قاری دہلی اپریل 1988ء )

احسن نانوتوی

دیوبندی مولوی احسن نانوتوی نے مولانا تقی علی خان (والد گرامی اعلٰی حضرت فاضل بریلوی) کو عیدگاہ بریلی سے پیغام بھجوایا کہ میں نماز پڑھنے کے لئے آیا ہوں پڑھانا نہیں چاہتا۔ آپ تشریف لائیے جسے چاہے امام کر لیجئے۔ میں اس کی اقتداء میں نماز پڑھوں گا۔
(مولانا احسن نانوتوی صفحہ 87، طبع کراچی)
نوٹ :۔ اس کتاب پر مشہور دیوبندی کی تصدیقات موجود ہیں۔ جن میں مفتی محمد شفیع آف کراچی اور قاری طیب دیوبندی شامل ہیں۔

ابو الکلام آزاد

وہابیہ دیوبندیہ کے مذہب کے امام ابو الکلام آزاد نے کہا۔ مولانا احمد رضا خان ایک سچے عاشق رسول گزرے ہیں، میں تو یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ ان سے توہین نبوت ہو۔
(بحوالہ امام احمد رضا ارباب علم و دانش کی نظر میں صفحہ 96)

فخر الدین مراد آبادی

مولوی فخر الدین مراد آبادی دیوبندی نے کہا، کہ :۔
مولانا احمد رضا خان سے ہماری مخالفت اپنی جگہ تھی مگر ہمیں ان کی خدمت پر بڑا ناز ہے۔ غیر مسلموں سے ہم آج تک بڑے فخر کے ساتھ یہ کہہ سکتے تھے کہ دنیا بھر کے علوم اگر کسی ایک ذات میں جمع ہو سکتے ہیں۔ تو وہ مسلمان ہی کی ذات ہو سکتی ہے۔ دیکھ لو مسلمانوں ہی میں مولوی احمد رضا خان کی ایسی شخصیت آج بھی موجود ہے جو دنیا بھر کے علوم میں یکساں مہارت رکھتی ہے ہائے افسوس کہ آج ان کے دم کے ساتھ ہمارا فخر بھی رخصت ہو گیا۔
(بحوالہ سفید و سیاہ صفحہ 116)

عبدالباقی دیوبندی

صوبہ بلوچستان کے دیوبندی مذہب کے مشہور عالم مولوی عبدالباقی جناب پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد صاحب کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں :۔
واقعی اعلٰی حضرت مفتی صاحب قبلہ اسی منصب کے مالک ہیں۔ مگر بعض حاسدوں نے آپ کے صحیح حلیہ اور علمی تبحر طاق نسیان میں رکھ کر آپ کے بارے میں غلط اوہام پھیلا دیا ہے جس کو نا آشنا قسم کے لوگ سن کر صید وحشی کی طرح متنفر ہو جاتے ہیں اور ایک مجاہد عالم دین مجدد وقت ہستی کے بارے میں گستاخیاں کرنے لگ جاتے ہیں حالانکہ علمیت میں وہ ایسے بزرگوں کے عشر عشیر بھی نہیں ہوں گے۔
(فاضل بریلوی علماء حجاز کی نظر میں صفحہ 17)

عطاء اللہ شاہ بخاری

تحریک ختم نبوت کے دوران قاسم باغ ملتان کے ایک جلسہ میں دیوبندی امیر شریعت عطاء اللہ شاہ بخاری نے کہا، کہ :۔
بھائی بات یہ ہے کہ مولانا احمد رضا خان صاحب قادری کا دماغ عشق رسول سے معطر تھا اور اس قدر غیور آدمی تھے کہ ذرہ بربار بھی توہین الوہیت و رسالت کو برداشت نہیں کر سکتے تھے پس جب انہوں نے ہمارے علماء دیوبند کی کتابیں دیکھیں تو ان کی نگاہ علماء دیوبند کی بعض ایسی عبارات پر پڑی کہ جن میں سے انہیں توہین رسول کی بُو آئی، اب انہوں نے محض عشق رسول کی بناء پر ہمارے ان دیوبندی علماء کو کافر کہہ دیا اور وہ یقیناً اس میں حق بجانب ہیں۔ اللہ تعالٰی کی ان پر رحمتیں ہوں آپ بھی سب مل کر کہیں مولانا احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سامعین سے کئی مرتبہ رحمۃ اللہ علیہ کے دعائیہ الفاظ کہلوائے۔
(ماہنامہ جناب عرض رحیم یار خان غزالی دوراں نمبر جلد1 شمارہ 10، 1990ء، ص 46۔ 245)

محمد شریف کشمیری

خیرالمدارس ملتان کے صدر مدرس دیوبندی شیخ المعقولات مولوی محمد شری کشمیری نے مفتی غلام سرور قادری کو ایک مباحثہ میں مخاطب کرکے کہا کہ‌ :۔
تمہارے بریلویوں کے بس ایک عالم ہوئے ہیں اور وہ مولانا احمد رضا خان، ان جیسا عالم میں نے بریلویوں میں نہ دیکھا ہے اور نہ سنا ہے وہ اپنی مثال آپ تھا اس کی تحقیقات علماء کو دنگ کر دیتی ہیں۔
(الشاہ احمد رضا بریلوی ص 82 طبع مکتبہ فریدیہ ساہیوال)

مفتی محمود دیوبندی

جمعیت علماء اسلام کے بڑے مشہور دیوبندی عالم مفتی محمود نے کہا کہ میں اپنے عقیدت مندوں پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر انہوں نے بریلوی حضرات کے خلاف کوئی تقریر یا ہنگامہ کیا تو میرا ان سے کوئی تعلق نہیں رہے گا اور میرے نزدیک ایسا کرنے والا نظام مصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا دشمن ہو گا۔
(روزنامہ آفتاب ملتان، مارچ 1979ء)
ایک صاحب دیوبندی مذید لکھتے ہیں :۔
لائق صد احترام اساتذہ (دیوبندی) میں سے کسی نے بھی تو دوران اسباق بریلوی مکتب فکر سے نفرت کا اظہار نہیں کیا۔ مفتی (محمود) صاحب نے فرمایا میرے اکابرین نے اس (بریلوی) فرقہ پر کوئی فتوٰی فسق کے علاوہ کا نہیں دیا میرا بھی یہی خیال ہے۔
(سیف حقانی صفحہ 79)

بانی تبلیغی جماعت محمد الیاس

تبلیغی جماعت کے بانی مولوی الیاس کے متعلق محمد عارف رضوی لکھتے ہیں:۔
کراچی میں ایک عالم دین نے جن کا تعلق مسلک دیوبند سے تھا۔ فرمایا تھا، کہ تبلیغی جماعت کے بانی مولانا محمد الیاس صاحب فرماتے تھے۔ اگر کسی کو محبت رسول سیکھنی ہو تو مولانا (احمد رضا) بریلوی سے سیکھے۔
(بحوالہ امام احمد رضا فاضل بریلوی اور ترک موالات صفحہ 100)

حافظ بشیر احمد غازی آبادی

لکھتے ہیں:۔
ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ حضرت فاضل بریلوی نے نعت رسول مقبول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں شریعت کی احتیاط کو ملحوظ نہیں رکھا، یہ سراسر غلط فہمی ہے جس کا حقائق سے دور کا بھی تعلق نہیں ہم اس غلط فہمی کی صحت کے لئے آپ کی ایک نعت نقل کرتے ہیں، فرماتے ہیں۔

سرور کہوں کہ مالک و مولا کہوں تجھے
باغ خلیل کا گل زیبا کہوں تجھے

بعد از خدا بزرگ تو ہی قصہ مختصر کی کیسی فصیح و بلیغ تائید ہے جتنی بار پڑھئیے کہ “خالق کا بندہ خلق کا آقا کہوں تجھے“ دل ایمانی کیفیت سے سرشار ہوتا چلا جائے گا۔
(ماہنامہ عرفات لاہور، اپریل 1970ء صفحہ 31۔ 30)

عبدالقدوس ہاشمی دیوبندی

سید الطاف علی کی روایت کے مطابق مولوی عبدالقدوس ہاشمی دیوبندی نے کہا کہ قرآن پاک کا سب سے بہتر ترجمہ مولانا احمد رضا خان کا ہے جو لفظ انہوں نے ایک جگہ رکھ دیا ہے اس سے بہتر لفظ کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
(خیابان رضا صفحہ 121، طبع لاہور)

ابو الاعلی مودودی

جماعت اسلامی کے بانی مولوی مودودی لکھتے ہیں:۔
مولانا احمد رضا خان صاحب کے علم و فضل کا میرے دل میں بڑا احترام ہے فی الواقع وہ علوم دینی پر بڑی نظر رکھتے تھے۔ اور ان کی فضیلت ان لوگوں کو بھی ہے جو ان سے اختلاف رکھتے ہیں۔ نزاعی مباحث کی وجہ سے جو تلخیاں پیدا ہوئیں وہی دراصل ان کے علمی کمالات اور دینی خدمات پر پردہ ڈالنے کی موجب ہوئیں۔
(ہفت روزہ شہاب 25 نومبر 1962ء بحوالہ سفید و سیاہ صفحہ 112)

ملک غلام علی

مودودی جماعت کے ذمہ دار فرد اور خود مودودی کے مشیر جسٹس ملک غلام علی لکھتے ہیں:۔
حقیقت یہ ہے کہ مولانا احمد رضا خان صاحب کے بارے میں اب تک ہم لوگ سخت غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں۔ ان کی بعض تصانیف اور فتاوٰی کے مطالعہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جو علمی گہرائی میں نے ان کے یہاں پائی وہ بہت کم علماء میں پائی جاتی ہے اور عشق خدا اور رسول تو ان کی سطر سطر سے پھوٹا پڑتا ہے۔
(ارمغان حرم لکھنئو صفحہ14 بحوالہ سفید و سیاہ صفحہ 114)
خیل العلماء مولانا خلیل اشرف صاحب علیہ الرحمۃ نے یہی عبارت مودودی کا قول میں لکھی ہے۔
(ہفت روزہ شہاب 25 نومبر 1962ء بحوالہ طمانچہ صفحہ 42)

منظور الحق

جماعت اسلامی کے مشہور صحافی منظور الحق لکھتے ہیں:۔
جب ہم امام موصوف (فاضل بریلوی) کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص اپنی علمی فضیلت اور عبقریت کی وجہ سے دوسرے علماء پر اکیلا ہی بھاری ہے۔
(ماہنامہ حجاز جدید نئی دہلی جنوری 1989ء، صفحہ 54 بحوالہ سفید و سیاہ صفحہ 117)

جعفر شاہ پھلواری

لکھتے ہیں:۔
جناب فاضل بریلوی علوم اسلامیہ تفسیر حدیث و فقہ پر عبور رکھتے تھے منطق فلسفے اور ریاضی میں بھی کمال حاصل تھا۔
عشق رسول کے ساتھ ادب رسول میں اتنے سرشار تھے کہ ذرا بھی بے ادبی برداشت نہ تھی، کسی بے ادبی کی معقول توجیہہ اور تاویل نہ ملتی، تو کسی اور رعایت کا خیال کئے بغیر اور کسی بڑی سے بڑی شخصیت کی پرواہ کئے بغیر دھڑلے سے فتوٰی لگا دیتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انہیں حُب رسول (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) میں اتنی زیادہ فسطائیت حاصل تھی کہ غلو کا پیدا ہو جانا بعید نہ تھا۔ تقاضائے ادب نے انہیں بڑا احساس بنا دیا تھا اور اس احساس میں جب خاصی نزاکت پیدا ہو جائے تو مزاج میں سخت گیری کا پہلو بھی نمایاں ہو جانا کوئی تعجب کی بات نہیں، اگر بعض بے ادبانہ کلمات کو جوش توحید پر محمول کیا جا سکتا ہے تو تکفیر کو بھی محبت و ادب کا تقاضا قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس لئے فاضل بریلوی مولانا احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو میں اس معاملے میں معذور سمجھتا ہوں لیکن یہ حق صرف اس کے لئے مخصوص جانتا ہوں جو فاضل موصوف (محدث بریلوی) کی طرح فنافی الحب والا ادب ہو۔
(بحوالہ سفید و سیاہ صفحہ 116۔ 115)

مفتی انتظام اللہ شہابی

لکھتے ہیں :۔
حضرت مولانا احمد رضا خان مرحوم اس عہد کے چوٹی کے عالم تھے۔ جزئیات فقہ میں ید طولٰی حاصل تھا۔۔۔۔۔۔۔ ترجمہ کلام مجید (کنزالایمان) اور فتاوٰی رضویہ وغیرہ کا مطالعہ کر چکا ہوں، مولانا کا نعتیہ کلام پُر اثر ہے۔ میرے دوست ڈاکٹر سراج الحق پی ایچ ڈی تو مولانا کے کلام کے گرویدہ تھے اور مولانا کو عاشق رسول سے خطاب کرتے ہیں۔ مولانا کو دینی معلومات پر گہری نظر تھی۔
(مقالات یوم رضا ج2 صفحہ 70 طبع لاہور)

عامر عثمانی دیوبندی

ماہنامہ تجلی دیوبند کے ایڈیٹر عامر عثمانی لکھتے ہیں :۔
مولانا احمد رضا خان اپنے دور کے بڑے عالم دین اور مدبر تھے۔ گو انہوں نے علمائے دیوبند کی تکفیر کی مگر اس کے باوجود بھی ان کی علمیت اور تدبر و افادیت بہت بڑی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ جو بات ان کی تحریروں میں پائی جاتی ہے وہ بہت ہی کم لوگوں میں ہے کیونکہ ان کی تحریریں علمی و فکری صلاحیتوں سے معمور نظر آتی ہیں۔
(ماہنامہ ہادی دیوبند صفحہ 17 محرم الحرام 1360ھ بحوالہ طمانچہ صفحہ 41)

حماد اللہ بالیجوی دیوبندی

کہتے ہیں :۔
ان (بریلویوں) کی برائی میری مجلس میں ہرگز نہ کرو وہ حب رسول ہی کی وجہ سے ہمارے (دیوبندیوں کے) متعلق غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔
(ہفت روزہ خدام الدین لاہور 11 مئی 1962ء)

خیرالمدارس ملتان

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے اہل سنت و الجماعت دریں امرکہ مسائل متنازعہ فیہا مابین الدیوبندیہ و بریلویہ میں علماء بریلوی اور ان کے ہم عقیدہ لوگوں کو کافر کہنا صحیح ہے یا نہیں ؟ اگر صحیح نہیں تو پھر ایک جماعت کثیرہ علماء کی جو کہ اپنے آپ کو علمائے دیوبند کی طرف منسوب کرتی ہے اور اپنی تحریر و تقریر میں اس امر کی تشریح کرتی ہے کہ ایسے عقیدے (بریلوی) لوگ پکے کافر ہیں۔ ان کا کوئی نکاح نہیں، جو ایسے عقیدہ والوں کو ان کے عقیدہ پر مطلع ہونے کے باوجود کافر نہ کہے، انہیں بھی ایسا ہی کافر کہتی ہے کیا علماء دیوبند اس امر میں متفق ہیں یا نہیں، الخ

الجواب: جو لوگ اہل بدعت (بریلوی) (بزعم دیوبندی) کو کافر کہتے ہیں، یہ ان کا ذاتی مسلک ہے۔ تکفیر مبتدعہ (بریلویہ) کو علماء دیوبند کی طرف منسوب کرنا۔ بہتان صریح ہے۔ حضرات علماء دیوبند کا مسلک ان کی تصنیفات اور رسائل سے واضح رہے۔ انہوں نے ہمیشہ مسائل تکفیر مسلم کے بارہ میں کافی احتیاط سے کام لیا ہے۔ مرزائیت اور روافض کے علاوہ اہل بدعت (بریلوی) (بزعم دیوبندی) کو انہوں نے کافر نہیں کہا۔
(خیرالفتاوٰی ج1 صفحہ 148 طبع ملتان)

مفتی اعظم دیوبند مفتی عزیز الرحمٰن

سوال: احمد رضا خان بریلوی کے معتقد سے کسی اہل سنت حنفی کو اپنی لڑکی کا نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

الجواب: نکاح تو ہو جاوے گا کہ آخر وہ بھی مسلمان ہے۔ الخ
(فتاوٰی دارالعلوم دیوبند، ج7 صفحہ 157 طبع ملتان)

منظور احمد نعمانی

مشہور دیوبندی مناظر اسلام مولوی منظور نعمانی کہتے ہیں:۔
میں ان کی کتابیں دیکھنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ وہ بے علم نہیں تھے۔ بڑے ذی علم تھے۔
(بریلوی فتنہ کا نیا روپ صفحہ 16 طبع لاہور)

ابو الاوصاف رومی دیوبندی

مولوی ابو الاوصاف رومی دیوبندی نے حضور اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کے خلاف بکواسات و ہفوات کا مجموعہ کتاب “دیوبند سے بریلی تک“ لکھی ہے۔ مگر خدا کی قدرت دیکھئے کہ اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کو خدا و رسول اور خصوصاً صحابہ کرام کا گستاخ ثابت کرنے کی کوشش ناکام کی ہے مگر پھر بھی لکھنے پر مجبور ہے:۔
حضرات اکابر دیوبند فاضل بریلوی کی تکفیر نہیں فرماتے تھے۔
(دیوبند سے بریلی تک صفحہ 102 طبع لاہور)
ہم نے مانا فاضل بریلی کو ان عرب علماء سے بھی اجازت و سند شاید مل گئی ہو۔
(دیوبند سے بریلی تک صفحہ 113)

مولوی محمد فاضل

مولوی محمد فاضل بزعم خود اور اپنی مولوی فاضل کی حیثیت کے مطابق پاگل ہے نے بھی حضور سیدی اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کے خلاف بکواسات اور جھوٹ کا پلندہ کتاب “پاگلوں کی کہانی“ لکھی ہے۔ اس میں حضور سیدی اعلٰی حضرت علیہ الرحمۃ کے والد گرامی مولانا تقی علی خان علیہ الرحمۃ کے متعلق لکھنے پر مجبور ہے۔
مجدد بدعات (بزعم مولوی پاگل) کے والد ماجد مولانا محمد تقی علی صاحب قدس سرہ بہت بڑے بزرگ اور صاحب تصانیف کثیرہ ہیں۔ بڑے صحیح العقیدہ بزرگوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ (پاگلوں کی کہانی صفحہ 67 طبع لاہور)
الفضل ما شھدت بہ الاعداء
آج کل دیوبندی حضور اعلٰی حضرت علیہ الرحمۃ کے والد گرامی مولانا تقی علی کے مبارک نام سے اعلٰی حضرت اور آپ کے والدین کو نعوذ باللہ شیعہ ثابت کرنے کی ناکام و ناپاک کوشش کرتے ہیں۔ مشہور دیوبندی مولوی ڈاکٹر خالد محمود وغیرہ نے مطالعہ بریلویت اور دوسری کتابوں میں یہ شور برپا کر رکھا ہے کہ تقی علی نام شیعہ والا ہے۔ لٰہذا وہ شیعہ تھے۔ مگر اب تو ان کے ایک بڑے نے اعلٰی حضرت کے والد گرامی کی عظمت کو تسلیم کر لیا ہے۔ بتاؤ کہ کیا تمہارے بڑے نے ایک شیعہ کی تعریف کی ہے۔ دیوبندیوں کو ڈوب مرنا چاہئیے۔ ع

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

دیوبند کا ادارہ تحقیق کتاب و سنت سیالکوٹ

کی طرف سے کتاب شائع ہوئی ہے جس میں واضح لکھا ہے،
“اعلٰی حضرت الشاہ احمد رضا خان صاحب بریلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ۔“
(ندائے حق صفحہ 4)
ایک آیت کریمہ کا ترجمہ نقل کرتے ہوئے لکھا ہے:
“خان صاحب بریلوی نے حق و صداقت پر مبنی یہ ترجمہ فرمایا۔“
(ندائے حق صفحہ 197 بحوالہ ماہنامہ رضائے مصطفٰے گوجرنوالہ اکتوبر 1986ء )

وہابی ترجمان ہفت روزہ الاعتصادم لاہور

میں لکھا ہے :۔
فاضل بریلوی نے ترجمہ اور ترجمانی کی درمیانی راہ اختیار کی اور ان کی تمام تر توجہ اس امر پر رہی کہ قرآن مجید کے ان بعض الفاظ جو عربی اور اردو زبان میں مختلف مفہوم رکھتے ہیں کا ایسا ترجمہ کیا جائے کہ غیر مسلم ان پر جو اعتراض کرتے ہیں اس کی نوبت ہی نہ آئے بلاشبہ بعض الفاظ کے ترجمہ کی حد تک وہ (فاضل بریلوی) کامیاب بھی رہے۔
(ہفت روزہ الاعتصادم لاہور 22 ستمبر 1989ء بحوالہ رضائے مصطفٰے دسمبر 1989ء )

ابو سلیمان اور ابو الکلام آزاد

ابو سلیمان شاہجہان پوری لکھتے ہیں :۔
مولانا (احمد رضا بریلوی) مرحوم بڑے ذہین اور الطباع تھے فکر و عقائد میں ایک مخصوص رنگ کے عالم تھے اور زندگی کے روایتی طریقے کو پسند کرتے تھے۔ عوام میں آپ کے عقائد کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ حتٰی کہ آپ کی نسبت سے بریلوی اور بریلویت کے الفاظ ایک طبقہ خیال اور مسلک خاص کے لئے عام طور پر استعمال کئے جانے لگے۔ مولانا بریلوی ایک اچھے نعت گو تھے۔ سیرت نبوی سیرت اصحاب و اہل بیت تذکار اولیائے کرام تفسیر حدیث فقہ نیز مسائل نزاعیہ وغیرہ میں آپ کی تصنیفات و تالیفات ہیں۔
مولانا آزاد (ابوالکلام آزاد) اور مولانا احمد رضا خاں میں کسی قسم کے ذاتی یا علمی تعلقات نہ تھے لیکن مولانا آزاد بایں ہمہ (مولانا احمد رضا خان کے ان کے والد خیرالدین سے تعلقات تھے) بے حد احترام کرتے تھے۔
(مکاتیب ابولکلام آزاد صفحہ 313)

کوثر نیازی دیوبندی

لکھتے ہیں :۔
بریلی میں ایک شخص پیدا ہوا جو نعت گوئی کا امام تھا اور احمد رضا خان بریلوی اس کا نام تھا ان سے ممکن ہے بعض پہلوؤں میں لوگوں کو اختلاف ہو۔ عقیدوں میں اختلاف ہو۔ لیکن اس میں شبہ نہیں کہ عشق رسول ان کی نعتوں میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔
(کوثر نیازی بحوالہ تقریب اشاعت ارمغان نعت کراچی صفحہ 29، 1957ء)
مذید لکھتے ہیں۔
بریلوی مکتب فکر کے امام مولانا احمد رضا خان بریلوی بھی بڑے اچھے واعظ تھے ان کی امتیازی خصوصیت ان کا عشق رسول ہے جس میں سرتاپا ڈوبے ہوئے تھے۔ چنانچہ ان کا نعتیہ کلام بھی سوز و گداز کی کیفیتوں کا آئینہ دار ہے اور مذہبی تقریبات میں بڑے ذوق و شوق اور احترام سے پڑھا جاتا ہے۔
(انداز بیان ص 90۔ 89 )
دیوبندی مولوی کوثر نیازی نے اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کے متعلق ایک تفصیلی مضمون قلمبند کیا ہے جو روزنامہ جنگ لاہور میں شائع ہوا۔

وہابی ترجمان ہفت روزہ الاسلام لاہور

لکھتا ہے :۔
ہمیں ان (فاضل بریلوی) کی ذہانت و فطانت سے انکار نہیں ہے ہم یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ بالکل اوائل عمر میں ہی علوم درسیہ سے فارغ التحصیل ہو کر مسند درس و افتاد کی زینت بن گئے تھے۔
(ہفت روزہ الاسلام لاہور 23 جنوری 1976ء بحوالہ رضائے مصطفٰے اپریل 1976ء)

وہابی ترجمان ہفت روزہ الاعتصادم لاہور

لکھتا ہے :۔
بریلوی کا ذبیحہ حلال ہے کیونکہ وہ اہل قبلہ مسلمان ہے۔
(ہفت روزہ الاعتصادم لاہور 20 نومبر 1959ء بحوالہ رضائے مصطفٰے فروری 1976ء)

ہفت روزہ خدام الدین لاہور

دیوبندی ترجمان لکھتا ہے :۔
فتاوٰی رضویہ از مولانا امام احمد رضا خان بریلوی
(ہفت روزہ خدام الدین لاہور 7 ستمبر 1962ء بحوالہ رضائے مصطفٰے 1976ء)

وہابی ترجمان المنبر لائل پور

لکھتا ہے :۔
مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی کے ترجمہ (قرآن، کنزالایمان) کو اعلٰی مقام حاصل ہے۔
(المنبرلائل پور 6 صفرالمظفر 1386ھ بحوالہ رضائے مصطفٰے فروری 1976ء)

محمد متین خالد

دیوبندی مذہب کی تنظیم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے محمد متین خالد لکھتے ہیں:۔
اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی مقتدر علماء روزگار سے تھے۔ مختلف موضوعات پر ان کی تقریباً ایک ہزار کے قریب تصانیف بیش بہا علمی ورثے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بالخصوص فتاوٰی رضویہ موجودہ دور کا علمی شاہکار ہے۔ اعلٰی حضرت کی پوری زندگی عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عبارت تھی۔ عشق رسول کی لازوال دولت نے ہی ان کی نعتیہ شاعری کو فکر و فن کی بلندیوں پر پہنچایا ہے۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی شرک و بدعت کے خلاف شمشیر بے نیام تھے ایک سازش کے تحت ان کی اصل تعلیمات کو قفل لگا کر عوام الناس سے ہمیشہ کے لئے چھپا دیا گیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جب بھی ان کی اصل تعلیمات کو بیان کیا جاتا ہے تو آدمی ششدر رہ جاتا ہے کہ کیا واقعی یہ اعلٰی حضرت کا فرمان ہے اس لحاظ سے مولانا احمد رضا خان بریلوی کی شخصیت بے حد مظلوم ہے بااثر سو مناتی علماء سو اور ابن الوقت مشائخ اعلٰی حضرت کے کندھے پر اپنی ذاتی اغراض اور دنیاوی مفادات کی بندوق رکھ کر بدعات کی ایمان شکن گولیاں چلاتے رہتے ہیں اور پھر زہریلے پراپیگنڈے کے ذریعے اس کا الزام اعلٰی حضرت پر تھوپ دیا جاتا ہے۔
(عاشق مصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم امام احمد رضا اور حدائق بخشش صفحہ 6 تا 7)

ماہنامہ معارف اعظم گڑھ

مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی اپنے وقت کے زبردست عالم و مصنف اور فقہیہ تھے۔ انہوں نے چھوٹے بڑے سینکڑوں فقہی مسائل سے متعلق رسالے لکھے ہیں قرآن کا سلیس ترجمہ بھی کیا ہے۔ ان علمی کارناموں کے ساتھ ہزارہا فتوؤں کے جواب بھی انہوں نے دئیے ہیں۔ فقہ اور حدیث پر ان کی نظر بڑی وسیع ہے۔
(ماہنامہ معارف (ندوی) اعظم گڑھ فروری 1962ء بحوالہ رضائے مصطفٰے مئی 1982ء )

مفتی ابو البرکات

وہابیہ کے احسان الٰہی ظہیر وغیرہ کے استاد مولوی ابو البرکات احمد لکھتے ہیں :۔
بریلوی کا ذبیحہ حلال ہے کیونکہ وہ اہل قبلہ مسلمان ہیں۔
(فتاوٰی برکاتیہ صفحہ 178 طبع گوجرانوالہ)

ثناءاللہ امرتسری

وہابیہ کے شیخ الاسلام ثناءاللہ امرتسری لکھتے ہیں :۔
مولانا احمد رضا خان بریلوی مرحوم مجدد ماتہء حاضرہ۔
(فتاوٰی ثنائیہ/ ج1 صفحہ 64۔ 263 طبع لاہور)

وہابیہ کے شیخ الاسلام ثناءاللہ امرتسری مذید لکھتے ہیں :۔
امرتسر میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی سال پہلے قریباً سب مسلمان اسی خیال کے تھے۔ جن کو آج کل بریلوی حنفی خیال کیا جاتا ہے۔
(شمع توحید صفحہ53 لاہور صفحہ 40 طبع امرتسر و سرگودھا)

نوٹ:۔ اب بعد کے ایڈیشنوں سے مذکورہ عبارت نکال دی گئی ہے۔ دیکھئے
مکتبہ قدوسیہ لاہور اور اہلحدیث ٹرسٹ کراچی کی شائع کردہ شمع توحید۔

ماہنامہ تعلیم القرآن راولپنڈی

دیوبندی شیخ القرآن غلام اللہ خان کی زیر سرپرستی شائع ہونے والا دیوبندی ترجمان لکھتا ہے:
(دیگر مترجمین کا نام لینے کے بعد مولانا احمد رضا خان بریلوی کے) قرآن کے ترجمے کو اعلٰی مقام حاصل ہے۔
(ماہنامہ تعلیم القرآن راولپنڈی جون 1964ء صفحہ 24)

مولوی محمد یٰسین دیوبندی / حافظ حبیب اللہ ڈیروی

دیوبندی مولوی محمد حسین نیلوی اور مولوی محمد امیر بندیالوی کے تربیت یافتہ مولوی محمد یٰسین آف راولپنڈی لکھتے ہیں :۔
محقق العصر جناب اعلٰی حضرت احمد رضا خان صاحب بریلی کا فتوٰی کیا ڈاکٹری ادویات کا استعمال کرنا جائز ہے ؟
الجواب: انگریزی دوائی استعمال کرنا حرام ہے۔ (ملفوظات) بتائیے متقی پرہیزگار صوفیا کدھر گئے ؟ اعلٰی حضرت کتنے تقوٰی پر فتوٰی دیتے تھے۔ (صدائے حق2/ صفحہ 20)

دیوبندی حافظ حبیب اللہ ڈیروی جو نہایت متعصب و معاند ہیں نے بھی حضور اعلٰی حضرت کو اعلٰی حضرت ہی تسلیم کیا ہے۔ مذکورہ بالا عبارت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اس جاہل کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کا فتوٰی مطلق انگریزی دواؤں کے متعلق نہیں بلکہ رقیق دواؤں کے بارے میں ہے۔
(قبر حق ج1 صفحہ 42 طبع ڈیرہ اسمٰعیل خان)

احسان الٰہی ظہیر

وہابیہ کے علامہ احسان الٰہی ظہیر نے سیدی اعلٰی حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے خلاف بکواسات اور مغلظات کا مجموعہ ایک کتاب البریلویت لکھی ہے جس میں جھوٹ بولنے میں شیطان کو بھی مات کر دیا مگر اس میں بھی وہ لکھنے پر مجبور ہے کہ
انما جدیدۃ من حیث النشاءۃ والاسم، ومن فرق شبہ القارۃ من حیث التکوین والمیۃ ولکنھا قدیمۃ من حیث الافکار والعقائد۔ (البریلویۃ صفحہ 7)
ترجمہ:۔ یہ جماعت (بریلوی) اپنی پیدائش اور نام دار اور برصغیر کے فرقوں میں سے اپنی شکل و شباہت کے لحاظ سے اگرچہ نئی ہے لکن افکار اور عقائد کے اعتبار سے قدیم ہے۔
معلوم ہوا کہ مولانا احمد رضا بریلوی کسی مذہب کے بانی نہیں اور بریلویت نہ ہی کوئی نیا مذہب ہے نہ ہی کوئی نیا فرقہ۔
نوٹ:۔ مذکور کذاب کی کذب و افتراء پر مبنی کتاب مذکورہ کا مولانا محمد عبدالحکیم شرف قادری صاحب نے تحقیقی و تنقیدی جائزہ لکھا ہے۔

وہابیہ کے مولوی حنیف یزدانی

لکھتے ہیں :۔
شاہ احمد رضا خان بریلوی نے اپنے دور کی ہر قسم کی خرابیوں اور گمراہیوں کے خلاف پوری قوت سے علمی جہاد کیا ہے جس پر آپ کی تصانیف شاہد ہیں مولانا موصوف نے اپنے فتاوٰی میں جہاں جہاں اصلاح عقائد پر بہت زیادہ زور دیا ہے وہاں اصلاح اعمال پر بھی پوری توجہ دی ہے۔
(تعلیمات شاہ احمد رضا خان بریلوی، ص1۔2 مطبوعہ لاہور)

ڈاکٹر خالد محمود دیوبندی

یہ صاحب بھی پی ایچ ڈی ہیں جھوٹ میں انہوں نے پی ایچ ڈی کی ہے۔ ڈاکٹر خالد محمود نے کذب و افتراء کا مجموعہ کتاب مطالعہ بریلویت لکھی ہے، جس میں ڈاکٹر خالد محمود نے اعلٰی حضرت پر خدا تعالٰی حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم انبیاء کرام صحابہ کرام اہل بیت عظام کی توہین کا الزام لگایا، اعلٰی حضرت پر قادیانیت اور شیعیت کا بھی الزام لگایا نعوذ باللہ مگر اس کے باوجود بھی لکھنے پر مجبور ہیں: مولوی احمد رضا خان صاحب نے جب علماء دیوبند کو کافر کہا تو علماء دیوبند نے خان صاحب کو جواباً کافر نہ کہا جب ان سے کہا گیا کہ آپ انہیں کافر کیوں نہیں کہتے تو انہوں نے کہا کہ مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی نے الزامات میں ہم پر جھوٹ باندھا ہے۔ جھوٹ اور بہتان باندھنا گناہ اور فسق تو ہے مگر کفر ہرگز نہیں لٰہذا ہم اس مفتری کو کافر نہیں کہتے۔
(مطالعہ بریلویت/ ج صفحہ 278 )

یہی ڈاکٹر صاحب اپنی دوسری کتاب میں لکھتے ہیں :۔
ہمارے اکابر کی تحقیق کے مطابق بریلویوں پر حکم کفر نہیں ہے اور دارالعلوم دیوبند نے انہیں ہرگز کافر قرار نہیں دیا۔ (عبقات صفحہ 154)
اولاً: عبارات مذکورہ سے ہمارا مدعا صرف یہ ہے کہ آج دیوبندی ہم اہل سنت و جماعت پر کفر و شرک کے فتوے لگاتے پھرتے ہیں کہ ان کو اپنے ان اکابر کی ان عبارات کو دیکھ شرم کرنی چاہئیے۔

ثانیاً: جہاں تک ڈاکٹر صاحب کا یہ کہنا کہ اعلٰی حضرت فاضل بریلوی نے اکابرین دیوبند پر جھوٹے الزامات لگائے۔ نعوذ باللہ۔ یہ ان کا بہت بڑا جھوٹ اور بد دیانتی ہے۔ حضور سیدی اعلٰی حضرت نے جن دیوبندی اکابرین اور ان کی عبارات متنازعہ پر حکم تکفیر لگایا۔ وہ کتب آج بھی مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ اور وہ عبارات توہین آمیز آج بھی ان کی کتب میں بدستور موجود ہیں اور پھر انہی عبارات مذکورہ پر عرب و عجم کے علماء نے کفر کے فتوے لگائے۔ (دیکھئے حسام الحرمین اور الصوارم الہندیہ)

لٰہذا ان دیوبندیوں کا اعلٰی حضرت فاضل بریلوی پر جھوٹ اور بہتان کا الزام لگانا خود بہت بڑا جھوٹ اور بہتان ہے نہ جانے ان دیوبندیوں کو جھوٹ بولتے ہوئے شرم کیوں نہیں آتی، مذید تفصیل کے طالب مولانا محمد عبدالحکیم شاہجہان پوری علیہ الرحمۃ کی کتاب کلمہء حق اور راقم کی کتاب مسئلہ تکفیر ملاحظہ فرمائیں۔

(1) نوٹ:۔ ڈاکٹر خالد محمود دیوبندی کی کذب و افتراء پر مبنی کتاب مطالعہ بریلویت کا مجاہد اہل سنت مولانا محمد حسن علی رضوی آف میلسی محاسبہ دیوبندیت کے نام سے جواب تحریر فرما رہےہیں اس کی دو جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔

(2) مولانا سید بادشاہ تبسم شاہ بخاری صاحب نے بھی مطالعہ بریلویت کے جواب میں ماہنامہ القول السدید لاہور میں پانچ قسطیں بنام “ڈاکٹر خالد محمود دیوبندی کی ایمان سوز فریب کاریاں“ تحریر فرمائی ہیں۔

قاضی شمس الدین درویش

مفتی کفایت اللہ دہلوی کے شاگرد اور مولوی عبداللہ دیوبندی کندیاں کے خلیفہ قاضی شمس الدین درویش لکھتے ہیں :۔
فن فتوٰی نویسی کا مسلمہ اصول ہے، کہ سوال کا جواب سوال کے مضمون کے مطابق ہوا کرتا ہے جیسا سوال ہوگا جواب اس کے مطابق ہو گا۔ ادھر اعلٰی حضرت فاضل بریلوی بیک وقت شیخ طریقت بھی تھے، معلم شریعت بھی تھے، مقرر اور خطیب بھی تھے، عالم اور طبیب بھی تھے، بے حد مصروف الاوقات بھی تھے۔
(غلغلہ برزلزلہ صفحہ 24)

اکرم اعوان، حافظ عبدالرزاق

دیوبندی تنظیم الاخوان کے بانی اکرم اعوان کی زیر پرستی نکلنے والے رسالہ میں ہے۔
شعر در اصل ہے اپنی حسرت
سنتے ہی دل میں اتر جائے
اہل دل اور اہل درد اور اہل صفا کی نعتوں میں یہ اثر لازماً پایا جاتا ہے کہ ان کی نعتوں کے پڑھنے سے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اور اللہ تعالٰی کی محبت ضرور پیدا ہو جاتی ہے خواہ کسی درجے کی ہو اور اس درجے کا انحصار پڑھنے والے کے خلوص پر ہے۔ اب ہم چند ایسی نعتیں درج کرتے ہیں۔
مولانا احمد رضا خان بریلوی 1340ھ
فیض ہے یا شہ تسنیم نرالا تیرا
آپ پیاسوں کے تجسس میں ہے دریا تیرا
(ماہنامہ المرشد چکوال اکتوبر 1984ء )

ماہنامہ تعلیم القرآن راولپنڈی

دیوبندی ترجمان لکھتا ہے :۔
صورت مسئولہ میں خلل اندازی نماز کے متعلق حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب بریلی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے ذاتی مذہب کے متعلق دریافت کیا گیا ہے ان کا ذاتی مذہب کوئی خود ساختہ نہیں بلکہ مسئلہ مذکورہ، میں ان کا مذہب وہی جو ان کے امام مستقل مجتہد مطلق امام الفقہ ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا ہے۔
(ماہنامہ تعلیم القرآن راولپنڈی اگست 1975ء)

مفتی عبدالرحمٰن آف جامعہ اشرفیہ لاہور

لکھتے ہیں، تمام اہل سنت و الجماعت خواہ دیوبندی ہو خواہ بریلوی قرآن و سنت کے علاوہ فقہ حنفی میں بھی شریک ہیں۔۔۔۔۔۔۔ دیوبندی بریلوی کے پیچھے نماز پڑھ لے کیونکہ دونوں حنفی ہیں۔ (روزنامہ جنگ لاہور 28 اپریل 1990ء)
یہی مولوی عبدالرحمٰن اشرفی مہتمم اشرفیہ لاہور روزنامہ پاکستان کے سنڈے ایڈیشن میں انٹریو دیتے ہوئے کہتے ہیں۔
بریلوی حضرات سے مجھے بڑی محبت ہے۔ اس لئے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے عاشق ہیں۔ چنانچہ بریلوی عشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے مجھے پیارے لگتے ہیں۔
(روزنامہ پاکستان سنڈے ایڈیشن ہفت روزہ “زندگی“ یکم تا 7 اگست 2004ء)
(بحوالہ رضائے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم رجب المرجب 1425ھ بمطابق ستمبر 2004ء)

قارئین کرام !
یہ سرار جھوٹ ہے کہ دیوبندی اہل سنت ہیں اس لئے کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی توہین کرنے والا سنی نہیں ہو سکتا۔ دیوبندیوں سے ہمارا اصول اختلاف ہی تو یہی ہے تفصیل گذشتہ اوراق میں گزر چکی ہے اور جہاں تک ان کے حنفی ہونے کا دعوٰی ہے تو یہ بھی صرف ایک دھوکہ ہے انہوں نے تو امام اعظم سے بیزاری ظاہر کی ہے ثبوت ملاحظہ ہو انور شاہ کشمیری دیوبندی کے متعلق دیوبندی ترجمان لکھتا ہے، کہ میں نے شام سے لے کر ہند تک اس (کشمیری) کی شان کا کوئی محدث و عالم نہیں پایا۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر میں قسم کھاؤں کہ یہ (کشمیری) امام اعظم ابو حنیفہ سے بھی بڑے عالم ہیں تو میں اس دعوٰی میں کاذب نہ ہوں گا۔ (ہفت روزہ خدام الدین لاہور 18 دسمبر 1964ء)
دیوبندی مناظر یوسف رحمانی نے لکھا ہے، کہ ہمارا تو یہ عقیدہ ہے کہ اگر امام اعظم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا فرمان بھی قرآن و حدیث کے معارض ہوگا ہم اس کو بھی ٹھکرادیں گے۔ (سیف رحمانی صفحہ 71)
یہ ہے دیوبندیوں کی حنفیت اور یہ کہ دیوبندیوں کے نزدیک حضرت امام اعظم کے بعض اقوال قرآن و حدیث سے متصادم بھی ہیں۔ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ دیوبندی اکابر تو حنفیت کے دفاع کو عمر کا ضیاع قرار دیتے رہے ہیں۔
مفتی دیوبند محمد شفیع آف کراچی لکھتے ہیں: قادیان کے جلسہ کے موقع پر نماز فجر کے وقت حاضر ہوا۔ تو دیکھا، کہ حضرت (انور شاہ) کشمیری سر پکڑے مغموم بیٹھے ہیں میں نے پوچھا کہ حضرت کیسا مزاج ہے کہا ہاں ٹھیک ہی ہے۔ میاں مزاج کیا پوچھتے ہو عمر ضائع کردی میں نے عرض کیا کہ حضرت آپ کی ساری عمر علم کی خدمت میں۔ دین کی اطاعت میں گزری ہے ہزاروں آپ کے شاگرد علماء ہیں مشاہیر ہیں جو آپ سے مستفید ہوئے اور خدمت دین میں لگے ہوئے ہیں آپ کی عمر اگر ضائع ہوئی تو کس کی عمر کام میں لگی ؟ فرمایا: میں صحیح کہتا ہوں عمر ضائع کردی۔ میں نے عرض کیا حضرت بات کیا ہے فرمایا ہماری عمر کا ہماری تقریروں کا ہماری ساری کدوکاش کا یہ خلاصہ رہا ہے کہ دوسرے ملکوں پر حنفیت کی ترجیح قائم کر دیں۔ امام ابو حنیفہ کے مسائل کے دلائل تلاش کریں اور دوسرے آئمہ کے مسائل پر آپ کے مسلک کی ترجیح ثابت کر دیں یہ رہا ہے محور ہماری کوششوں کا تقریروں کا اور علمی زندگی کا اب غور کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ کس چیز میں عمر برباد کی۔ الخ (وحدت امت صفحہ18 )
قارئین کرام ! انصاف سے کہئیے ان دلائل کی بناء پر تو یہ ثابت ہو گیا کہ ان دیوبندیوں کا اپنے کو حنفی مذہب کا ٹھیکیدار کہنا ان کا دھوکہ اور فراڈ ہے۔

امام احمد رضا بریلوی کا رد شیعت کرنا علماء دیوبند کی زبانی

آج کل دیوبندی علماء نے یہ پراپیگنڈا شروع کر رکھا ہے کہ مولانا احمد رضا بریلوی شیعہ تھے نعوذ باللہ حالانکہ یہ سفید جھوٹ ہے۔ اعلٰی حضرت فاضل بریلوی نے شیعہ پر کفر و اتداد واضح بیان کیا ہے۔ شیعہ کے کسی اہل سنت سے اختلافی مسئلے کی حمایت کبھی نہیں کی۔ بلکہ ہمیشہ ان کی تردید کی ہے۔
دیوبندیوں میں اگر کوئی مائی کا لعل اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کی معتمد کتب سے شیعہ سے اہل سنت کے کسی اختلافی مسئلے کی حمایت ثابت کردے تو ہم اسے منہ مانگا انعام دیں گے۔ ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین۔
دوسری طرف دیوبندی اکابر کی شیعیت نوازی ان کی کتب سے ثابت ہے۔ یہاں تک کہ ان کے اکابر صحابہء کرام کی تکفیر کرنے والے کو سنت جماعت سے خارج نہیں مانتے، شیعہ کی امداد ان سے نکاح ان کے ذبیحہ حلال ہونے تعزیہ کی اجازت کے فتوے دیتے ہیں۔
نوٹ:۔ تفصیل کے لئے مولانا غلام مہر علی صاحب کی کتاب دیوبندی مذہب کا مطالعہ سود مند رہے گا۔
دیوبندیوں کو تو اپنے اکابر کے فتاوٰی پڑھ کر ڈوب مرنا چاہئیے۔ اب ہم اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کا ببانگ دہل شیعیت کی تردید کرنا دیوبندی علماء کی زبانی بیان کرتے ہیں۔

عبدالقادر رائے پوری دیوبندی :۔

مولوی محمد شفیع نے کہا کہ یہ بریلوی بھی شیعہ ہی ہیں یونہی حنفیوں میں گھس آئے ہیں (عبدالقادر رائے پوری نے) فرمایا یہ غلط ہے۔ مولوی احمد رضا خان صاحب شیعہ کو بہت بُرا سمجھتے تھے۔ بانس بریلی میں ایک شیعہ تفضیلی تھے۔ ان کے ساتھ مولوی احمد رضا خان صاحب کا ہمیشہ مقابلہ رہتا تھا۔
(حیات طیبہ صفحہ 232 طبع لاہور)
نوٹ :۔ تفصیل کے لئے فقیر کی کتاب علمائے دیوبند کی شیعیت نوازی ملاحظہ فرمائیں۔ (فقیر مدنی)

حق نواز جھنگوی دیوبندی :۔

دیوبندی امیر عزیمت بانی نام نہاد سپاہ صحابہ حق نواز جھنگوی فرماتے ہیں کہ علامہ (احمد رضا) بریلوی جن کا قائد جن کا راہنما بلکہ بقول بریلوی علماء کا مجدد احترام کے ساتھ نام لوں گا۔ احمد رضا بریلوی اپنے فتاوٰی رضویہ میں اور اپنے مختصر رسالے رد رفض میں تحریر فرماتے ہیں: شیعہ اثنا عشری بدترین کافر ہیں اور الفاظ یہ ہیں کہ شیعہ بڑا ہو یا چھوٹا مرد ہو یا عورت شہری ہو یا دیہاتی کوئی بھی ہو لاریب و لاشک قطعاً خارج از اسلام ہیں اور صرف اتنے پر ہی اکتفا نہیں کرتے اور لکھتے ہیں۔
من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر
ترجمہ:۔ جو شخص شیعہ کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔
یہ فتوٰی مولانا احمد (رضا) خان بریلوی کا ہے جو فتوٰی رضویہ میں موجود ہے۔ بلکہ احمد رضا خان نے تو یہاں تک شیعہ سے نفرت دلائی ہے کہ ایک شخص پوچھتا ہے کہ اگر شیعہ کنویں میں داخل ہو جائے۔ تو کنویں کا سارا پانی نکالنا ہے یا کچھ ڈول نکالنے کے بعد کنویں کا پانی پاک ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔ اعلٰی حضرت فاضل بریلوی لکھتے ہیں:
کنویں کا سارا پانی نکال دیں جب کنواں پاک ہوگا۔ اور وجہ لکھتے ہیں کہ شیعہ سنی کو ہمیشہ حرام کھلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر اس سے اور کچھ بھی نہ ہو سکا۔ تب بھی وہ اہل سنت کے کنویں میں پیشاب ضرور کر آئے گا۔ اس لئے اس کنویں کا سارا پانی نکال دینا لازمی اور ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ مولانا احمد رضا خان بریلوی نے بھی شیعہ کا کفر بیان کیا ہے اور کھل کر بیان کیا ہے۔
(حق نواز جھنگوی کی 15 تاریخ ساز تقریریں صفحہ 13 تا صفحہ 15/ صفحہ 224 طبع لاہور خطبات جھنگوی ج اول ص 278 )
احمد رضا خان بریلوی شیعوں کو کافر کہتے ہیں۔ (حوالہ بالا صفحۃ 142)
نوٹ:۔ یاد رہے کہ اس کتاب مذکورہ کا پیش نظر دیوبندی مولوی ضیاء القاسمی نے لکھا ہے۔

ضیاء الرحمٰن فاروقی اور نام نہاد سپاہ صحابہ :۔

دیوبندی مذہب کے مشہور متعصب مولوی ضیاء الرحمٰن فاروقی اپنی تقاریر میں کہتے رہے کہ مولوی احمد رضا بریلوی کے شیعہ ہونے پر میرے پاس ستائیس دلائل موجود ہیں۔ نعوذ باللہ

الٰہی آسمان کیوں نہیں ٹوٹ پڑا کاذب پر

مگر پھر سپاہ صحابہ (نام نہاد) کے سٹیج سے شیعہ کو کافر کہنے کے لئے اعلٰی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ کا ہی نام لیتے رہے کہ لوگو ! اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کا فتوٰی ہے کہ شیعہ کافر ہیں۔
ہم یہ کہتے ہوئے حق بجانب ہیں: یہ سیدنا اعلٰی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی زندہ کرامت ہے کہ جو فاروقی (بزعم خود) اعلٰی حضرت کو شیعہ کہتا تھا۔ اب وہی اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کے حوالے سے شیعہ کو کافر قرار دیتا ہے۔ اب مذکورہ مولوی کی تحریر بھی ملاحظہ ہو۔
دیوبندی مولوی ضیاء الرحمان فاروقی لکھتے ہیں:۔
فاضل بریلوی مولانا احمد رضا خان صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ (کا فتوٰی) رافضی تبرائی جو حضرات شیخین صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ خواہ ان میں سے ایک کی شان پاک میں گستاخی کرے اگرچہ صرف اسی قدر کہ انہیں امام و خلیفہ برحق نہ مانے کتب معتمد و فقہ حنفی کی تصریحات اور عامہ آئمہ ترجیح و فتوٰی کی تصحیحات پر مطلقاً کافر ہیں۔ یہ حکم فقہی تبرائی رافضیوں کا ہے۔ اگرچہ تبراء و انکار خلافت شیخین رضی اللہ تعالٰی عنہا کے سوا ضروریات دین کا انکار نہ کرتے ہوں۔ ولا حوط مافیہ قول المتکلمین انھم ضلال من کلاب النار وکناردبہ ناخذ۔
ترجمہ:۔ یعنی یہ گمراہ ہیں جہنم کی آگ کے کتے ہیں اور کافر ہیں اور روافض زمانہ (شیعہ) تو ہرگز صرف تبرائی نہیں۔
علی العموم منکران ضروریات دین اور باجماع مسلمین یقیناً قطعاً کفار مرتدین ہیں۔ یہاں تک کہ علماء کرام نے تصریح فرمائی، کہ جو انہیں کافر نہ جانیں وہ خود کافر ہے۔۔۔۔۔۔ بہت سے عقائد کفریہ کے علاوہ وہ (شیعہ) کفر صریح میں ان کے عالم جاہل مرد، عورت چھوٹے بڑے سب بالا تفاق گرفتار ہیں۔

کفر اول :۔

قرآن عظیم کو ناقص بتاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اور جو شخص قرآن مجید میں زیادت نقص یا تبدیل کسی طرح کے تصرف بشرٰی کا دخل مانے یا اسے متحمل جانے بالا جماع کافر و مرتد ہے۔

کفر دوم :۔

ان کا ہر متنفس سیدنا امیر المومنین مولٰی علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور دیگر آئمہ طاہرین رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کو حضرات عالیات انبیاء سابقین علیہم الصلوٰت والتحیات سے افضل بتاتا ہے اور جو کسی غیر نبی کو نبی سے افضل کہے بہ اجماع مسلمین کافر بے دین ہے۔
۔۔۔ بالجملہ ان رافضیوں تبرائیوں (شیعوں) کے باب میں حکم قطعی اجماعی یہ ہے کہ وہ علی العموم کفار مرتدین ہیں۔ ان کے ہاتھ کا ذبیحہ مردار ہے۔ ان کے ساتھ مناکحت نہ صرف حرام بلکہ خالص زنا ہے۔ مرد رافضی (شیعہ) اور عورت مسلمان ہو تو یہ سخت قہر الٰہی ہے۔ اگر مرد سنی اور عورت ان خبیثوں کی ہو جب بھی ہرگز نکاح نہ ہوگا۔ محض زنا ہوگا، اولاد ولدالزنا ہوگی۔ باپ کا ترکہ نہ پائے گی۔ اگرچہ اولاد بھی سنی ہی ہو کہ شرعاً والدالزنا کا باپ کوئی نہیں۔ عورت نہ ترکہ کی مستحق ہوگی نہ مہر کی، کہ زانیہ کے لئے مہر نہیں، رافضی اپنے کسی قریب حتٰی کہ باپ بیٹے، ماں، بیٹی کا بھی ترکہ نہیں پا سکتا، ان کے مرد عورت عالم جاہل کسی سے میل جول سلام کلام سب سخت کبیرہ اشد حرام، جو ان کے ملعون عقیدوں پر آگاہ ہو کر بھی پھرا نہیں مسلمان جانے یا ان کے کافر ہونے میں شک کرے۔ باجماع تمام آئمہ دین خود کافر بے دین ہے اور اس کے لئے بھی یہی احکام ہیں۔ جو ان کے لئے مذکور ہوئے۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ اس فتوٰی کو بگوش ہوش سنیں اور اس پر عمل کرکے سچے پکے مسلمان سنی بنیں۔ (تاریخی دستاویز صفحہ۔ 65۔ 66)

اہل سنت و الجماعت علماء بریلی کے تاریخ ساز فتوٰی جو شخص شیعہ کے کفر میں شک کرے وہ خود کافر ہے۔
(1) غوث وقت حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ۔
(2) اعلٰی حضرت مولانا احمد رضا بریلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ۔
(3) حضرت خواجہ قمرالدین سیالوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ۔
(4) دارالعلوم حزب الاحناف لاہور کا فتوٰی۔
(5) دارالعلوم غوثیہ لاہور کا فتوٰی۔
(6) جامعہ نظامیہ رضویہ کا فتوٰی۔
(ردالرفضہ کے حوالے سے اعلٰی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ کا فتوٰی نقل کیا ہے جو اوپر مذکور ہوا)

اعلٰی حضرت کی تصانیف رد شیعت میں :۔

اعلٰی حضرت نے رد شیعیت میں ردالرفضہ کے علاوہ متعدد رسائل لکھے ہیں۔ جن میں سے چند ایک یہ ہیں۔
(1) الادلۃ الطاعنۃ (روافض کی اذان میں کلمہ خلیفہ بلا فصل کا شدید رد)
(2) اعالی الافادہ فی تعزیۃ الہندو بیان الشہادۃ 1321ھ (تعزیہ داری اور شہادت نامہ کا حکم)
(3) جزاءاللہ عدوہ بابا بہ ختم النبوۃ 1317ھ (مرزائیوں کی طرح روافض کا بھی رد)
(4) المعۃ الشمعۃ الشفتہ 1312ھ (تفصیل و تفسیق کے متعلق سات سوالوں کے جواب)
(5) شرح المطالب فی مبحث ابی طالب 1316ھ ایک سو کتب تفسیر و عقائد وغیرہا سے ایمان نہ لانا ثابت کیا۔
ان کے علاوہ رسائل اور قصائد جو سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شان میں لکھے ہیں وہ شیعہ و روافض کی تردید ہیں۔ (تاریخی دستاویز صفحہ 114۔ 113)
دیوبندی تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان نے جامع مسجد حق نواز جھنگ صدر سے ایک پمفلٹ شائع کیا ہے۔ “اہل سنت و الجماعت علماء بریلی کے تاریخ ساز فتاوٰی“
جس میں مذکورہ کتاب تاریخی دستاویز از ضیاء الرحمٰن فاروقی کی صفحہ 114۔ 113 کی عبارات جو اوپر مذکور ہوئیں نقل کی گئی ہیں۔

نام نہاد سپاہ صحابہ :۔

دیوبندی مذہب کی ترجمان نام نہاد سپاہ صحابہ نے جھنگ صدر سے ایک پمفلٹ شائع کیا ہے جس میں لکھا ہے:

اہم نکات تاریخی فتوٰی

مولانا احمد رضا خاں علیہ الرحمہ بریلوی :۔
(1) شیعہ مرد یا شیعہ عورت سے نکاح حرام اور اولاد ولدالزنا۔
(2) شیعہ کا ذبیحہ حرام۔
(3) شیعہ سے میل جول سلام کلام اشد حرام۔
(4) جو شخص شیعہ کے ملعون عقائد سے آگاہ ہوکر پھر بھی انہیں مسلمان جانے بالا جماع تمام آئمہ دین خود کافر ہے۔
(پمفلٹ “کیا شیعہ سنی بھائی بھائی ہیں“ صفحہ 11طبع جھنگ)

قاضی مظہر حسین دیوبندی

دیوبندی مولوی حسین احمد مدنی کے خلیفہ مجاز قاضی مظہر حسین دیوبندی آف چکوال لکھتے ہیں:
مسلک بریلویت کے پیشوا حضرت مولانا احمد رضا خاں صاحب مرحوم نے بھی ہندوستان میں فتنہ رفض کے انسداد میں بہت مؤثر کام کیا ہے روافض کے اعتراضات کے جواب میں اصحاب رسول کی طرف سے دفاع کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ بحث ماتم کے درمیان مولانا بریلوی کے فتاوٰی نقل کئے جا چکے ہیں۔ منکرین صحابہ کی تردید میں ردالرفضہ۔۔۔۔۔ رد تعزیہ داری الادلۃ الطاعنہ فی اذان الملاعنہ وغیرہ آپ کے یادگار رسائل ہیں جن میں سنی شیعہ نزاعی پہلو سے آپ نے مذہب اہلسنت کا مکمل تحفظ کر دیا ہے۔ (بشارات الدارین صفحہ 529)
بریلوی مسلک کے امام مولانا احمد رضا خان صاحب مرحوم نے روافض کے خلاف اکابر علماء دیوبند سے بھی سخت فتوٰی دیا ہے۔ چنانچہ،
آپ کا رسالہ ردالرفضہ جس کے شروع میں ہی ایک استفسار کے جواب میں لکھتے ہیں۔ رافضی تبرائی جو حضرات شیخین صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہما خواہ ان میں سے ایک کی شان پاک میں گستاخی کی ہے اگرچہ صرف اس قدر انہیں امام و خلیفہ برحق نے مانے کتب معتمدہ فقہ حنفی کی تصریحات اور عامہ آئمہ۔۔۔۔۔۔ ترجیح و فتاوٰی کی تصحیحات پر مطلقاً کافر ہے۔ (ماہنامہ حق چاریار لاہور جون جولائی 1970ء صفحہ 50)

قاری اظہر ندیم

قاری اظہر ندیم دیوبندی جلی عنوان کے ساتھ لکھتے ہیں۔

جدید و قدیم شیعہ کافر ہیں:۔

امام اہل سنت اعلٰی حضرت شاہ احمد رضا خان صاحب بریلویکا فتوٰی، مسلمانوں پر فرض ہے کہ اس فتقے کو بگوش ہوش سنیں اور اس پر عمل کرکے پکے سچے سنی بنیں۔ (کیا شیعہ مسلمان ہیں صفحہ 288 )

]قاضی احسان الحق شجاع آبادی، سجاد بخاری :۔

مولوی غلام اللہ خان دیوبندی کے نظریات کا ترجمان قاضی احسان الحق شجاع آبادی کی زیر نگرانی اور سجاد بخاری دیوبندی کی زیر ادارت نکلنے والے رسالے تعلیم القرآن میں لکھا ہوا ہے۔
دشمنان رسالت مآب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم و صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کے بارے میں اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کا فتوٰی۔
بالجملہ ان رافضیوں تبرائیوں (شیعوں) کے بارے میں حکم قطعی بعد اجماعی یہ ہے کہ وہ علی العموم مرتدین ہیں ان کے ہاتھوں کا ذبیحہ مردار ہے۔ ان کے ساتھ مناکحت نہ صرف حرام بلکہ خالص زنا ہے معاذاللہ مرد رافضی اور عورت مسلمان ہو تو یہ سخت قہر الٰہی ہے اور اگر مرد سنی اور عورت ان خبیثوں میں سے ہو جب بھی ہرگز نکاح نہ ہوگا بلکہ محض زنا ہوگا اور اولاد ولدالزنا ہوگی باپ کا ترکہ نہ پائے گی اگرچہ اولاد بھی سنی ہی ہو شرعاً والدالزنا کا کوئی باپ نہیں، عورت نہ ترکہ کی مستحق ہوگی نہ مہر کی زانیہ کے لئے مہر نہیں رافضی اپنے قریب کسی حتٰی کہ باپ بیٹے ماں بیٹی کا بھی ترکہ نہیں پا سکتا۔ الخ (ماہنامہ تعلیم القرآن راولپنڈی اگست ستمبر 1968ء ص 72)

محمد نافع دیوبندی

دیوبندی مولوی محمد نافع آف محمدی شریف جھنگ نے اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کا فتوٰی نقل کیا کہ جو حضرت امیر معاویہ پر طعن کرے وہ جہنمی کتوں میں سے کتا ہے اور پھر حضرت امیر معاویہ کی عظمت کے دفاع میں اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کے چھے رسائل کا تذکرہ مع نام رسالہ کیا ہے۔ پھر لکھا یے کہ مذکورہ بالا رسائل میں علامہ احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی طرف سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ پر مطاعن اور اعتراضات کا مسکت جواب دیا گیا ہے اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی جانب سے عمدہ صفائی پیش کی گئی ہے اور پر زور طریقہ سے دفاع کا حق ادا کیا ہے۔
(سیرت حضرت امیر معاویہ/ ج1 صفحہ 655)
ضیاء الرحمان فاروقی دیوبندی نے ایک اشتہار مرتب کیا جو فیصل آباد سے شائع ہوا جس کا عنوان ہے “حضرت امیر معاویہ و اہل بیت رسول“ اس میں اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کا فتوٰی مذکورہ بالا دربار، حضرت امیر معاویہ نقل کیا گیا اصل الفاظ یہ ہیں جو شخص حضرت معاویہ پر طعن کرے وہ جہنمی کتا ہے ایسے شخص کے پیچھے نماز حرام ہے حضرت مولانا احمد رضا خاں بریلوی، اشتہار مذکورہ مطبوعہ اشاعت المعارف فیصل آبادیہ مذکورہ بالا فقرہ اشتہار میں جلی حروف میں ہے۔
دیوبندی تنظیم سپاہ صحابہ کی طرف سے پمفلٹ کونڈوں کی حقیقت میں بھی اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کا مذکورہ فتوٰی نقل کیا گیا ہے۔

امام احمد رضا بریلوی کا قادیانیت کا شدید رد بلیغ کرنا علمائے دیوبند کی زبانی

اعلٰی حضرت محدث دہلوی نے اپنے وقت کے تمام فتنوں کے خلاف زبردست جہاد فرمایا ان فتنوں میں ایک فتنہ قادیانیت بھی ہے مرزا غلام احمد قادیانی اور قادیانیت کے خلاف امام احمد رضا بریلوی نے متعدد کتب لکھیں۔ آپ نے اپنی زندگی کی آخری کتاب بھی مرزائیوں کے رد میں لکھی ہے۔ جس کا نام الجراز الدیانی علی المرتد القادیانی، اس کے علاوہ فتاوٰی رضویہ ملاحظہ فرمائیں۔ مگر حقیقت کا انکار اور جھوٹ یہ دونوں چیزیں دیوبندی مذہب اور وہابی مذہب کی بنیاد ہیں ان کے بغیر ان کا چلنا مشکل ہے۔ دیوبندیوں، وہابیوں نے اعلٰی حضرت فاضل بریلوی جو قادیانیت کے لئے شمشیر بے نیام تھے کو مرزا قادیانی کے بھائی کا شاگرد قرار دے دیا۔ حالانکہ یہ ایسا من گھڑت حوالہ ہے جس کا ثبوت ان کے پاس موجود نہیں ہے۔ حالانکہ اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کے بچپن میں چند کتابوں کے استاد مرزا غلام قادر بیگ مرحوم اور مرزا قادیانی کا بھائی دو الگ شخصیات ہیں۔ ان کی تفصیل مولانا علامہ محمد عبدالحکیم شرف قادری نے بریلویت کا تحقیقی جائزہ ہیں بیان کی ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں ہم صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ دیوبندیو تم ڈوب مرو اگر مرزا غلام قادر بیگ (اعلٰی حضرت کے استاد) اگر قادیانی یا مرزا قادیانی کے بھائی تھے تو یہ بتاؤ کہ اسی مرزا غلام قادر بیگ کو بریلی میں دیوبندی مدرسہ مصباح العلوم کے مدرس اول تمہارے اکابرین نے کیوں بنایا تھا دیکھئے کتاب مولانا احسن نانوتوی مصدقہ مفتی شفیع و قاری طیب۔

شرم تم کو مگر نہیں آتی

اب ہم اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کا قادیانیت کے لئے شمشیر بے نیام ہونا علمائے دیوبند سے ثبوت نقل کرتے ہیں ملاحظہ کیجئے۔ دیوبندی وہابی حضرات کے قادیانیت نوازی کے ثبوت محفوظ ہیں۔ بوقت ضرورت شائع کریں گے۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت :۔

دیوبندی تنظیم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جوکہ دیوبندی حضرات کی محبوب تنظیم ہے۔ اس وقت ان کے امیر مولوی خان محمد آف کندیاں ہیں ان کی طرف سے ایک رسالہ شائع ہوا، اس میں صاف لکھا ہوا ہے:۔
نبی آخرالزماں صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت پر ڈاکہ زنی ہوتے دیکھ کر مولانا احمد بریلوی تڑپ اٹھے اور مسلمانوں کو مرزائی نبوت کے زہر سے بچانے کے لئے انگریز کے ظلم و بربریت کے دور میں علم حق بلند کرتے ہوئے اور شمع جراءت جلاتے ہوئے مندرجہ ذیل فتوٰی دیا جس کا حرف حرف قادیانیت کے سومنات کے لئے گرز محمود غزنوی ہے۔ قادیانیوں کے کفریہ عقائد کی بناء پر اعلٰی حضرت احمد رضا خان بریلوی نے مرزائی اور مرزائی نوازوں کے بارے میں فتوٰی دیا قادیانی مرتد منافق ہیں مرتد منافق وہ کہ لب پر کلمہ اسلام پڑھتا ہے اور اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتا، اور اللہ عزوجل یا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم یا کسی نبی کی توہین یا ضروریات دین میں کسی شے کا منکر ہے۔ اس کا ذبیح محض نجس اور مردار حرام قطعی ہے مسلمانوں کے بائیکاٹ کے سبب قادیانی کو مظلوم سمجھنے اور میل جول چھوڑنے کو ظلم اور ناحق سمجھنے والا اسلام سے خارج ہے اور جو کافر کو کافر نہ کہے وہ کافر۔(احکام شریعت 112۔ 122، 177)

اعلٰی حضرت احمد رضا خان بریلوی فرید نے مذید فرمایا کہ اس صورت میں فرض قطعی ہے کہ تمام مسلمان موت و حیات کے تمام علاقے اس سے قطع کردیں بیمار پڑے پوچھنے کو جانا حرام مر جائے تو اس کے جنازے پر جانا حرام ہے مسلمانوں کے گورستان میں دفن کرنا حرام اس کی قبر پر جانا حرام ہے۔
(فتاوٰی رضویہ/ ج6 صفحہ 51 مولانا احمد رضا خان بریلوی عشق خاتم النبیین صفحہ4، 5)
یہی عبارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کی شائع کردہ کتاب قادیانیت صفحہ 76 از محمد طاہر رازق میں موجود ہے۔
تنظیم مذکورہ کی طرف سے ایک کتاب بنام قادیانیت ہماری نظر میں شائع ہوئی ہے اس میں ایک باب ہے قادیانیت علماء کرام کی نظر میں اس میں سب سے پہلا نام اعلٰی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ کا لکھا ہے۔ احکام شریعت اور فتاوٰی رضویہ کے حوالہ سے اور قادیانیت میں اعلٰی حضرت بریلوی کی عبارات نقل کی گئی ہیں۔
دیوبندی تنظیم مذکورہ نے ننکانہ سے اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کا فتوٰی مرزائیوں کی تکفیر کا اشتہار کی صورت میں شائع کیا ہے۔

پروفیسر خالد شبیر دیوبندی :۔

لکھتے ہیں۔
مولانا احمد رضا بریلوی کے نام نامی سے کون واقف نہیں علم و فضل اور تقوٰی میں ایک خاص مقام حاصل ہے ذیل میں ان کا ایک فتوٰی السوء والعقاب علی المسیح الکذاب 1320ء پیش کیا جاتا ہے جس میں انہوں نے مرزا صاحب کے کفر کو بد لائل عقلیہ و نقلیہ ثابت کیا ہے اس فتوٰی سے جہاں مولانا کے کمال علم کا احساس ہوتا ہے۔ وہاں مرزا غلام احمد کے کفر کے بارے میں ایسے دلائل بھی سامنے آتے ہیں کہ جن کے بعد کوئی ذی شعور مرزا صاحب کے اسلام اور اس کے مسلمان ہونے کا تصور نہیں کر سکتا۔
(تاریخ محاسبہ قادیانیت صفحہ 455)
علوم و فنون سے فراغت کے بعد آپ نے ساری زندگی تصنیف و تالیف اور درس و تدریس میں بسر کردی۔ مولوی صاحب نے تقریباً پچاس علوم و فنون میں کتب و رسائل تحریر کئے ہیں۔
(تاریخ محاسبہ قادیانیت صفحہ 456)

اللہ وسایا دیوبندی :۔

دیوبندی مولوی اللہ وسایا نے مرزائیت کی تردید میں اعلٰی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ کے چار رسائل کا تذکرہ کیا ہے۔(قادیانیت کے خلاف قلمی جہاں کی سرگزاشت صفحہ 414)

اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کی کتاب السوء العقاب علی المسیح الکذاب پر اللہ وسایا دیوبندی نے یہ تبصرہ کیا۔
یہ کتابچہ دراصل ایک فتوٰی ہے جس میں روشن دلائل سے ثابت کیا گیا ہے۔ مرزائی قادیانی، دعوٰٰی نبوت و رسالت، انبیاء علیہم السلام کی توہین کے ارتکاب کے باعث ضروریات دین کے افکار کے بموجب مرتد تھا وہ اور اس کے ماننے والے سب دائرہ اسلام سے خارج اور کافر و مرتد ہیں۔ ان سے نکاح شادی میل جول کے تمام وہی احکام ہیں جو مرتد کے ہوتے ہیں۔(کتاب مذکورہ صفحہ 168 )

اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کی کتاب الجراز الدیانی علی المرتد القادیانی پر اللہ وسایا کا تبصرہ یہ قادیانی مرتد پر خدائی خنجر اس کے نام کا ترجمہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مصنف کی یہ آخری تصنیف ہے۔(کتاب مذکورہ صفحہ 107)

اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کے لشکر کے ایک سپاہی مناظر اعظم مولانا محمد عمر اچھروی کی کتاب مقیاس نبوت پر تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ بریلوی مکتب فکر کے ممتاز عالم دین جناب مولانا محمد عمر اچھروی ایک نامور خطیب اور مناظر تھے۔ وہ فریق مخالف پر گرفت مضبوط رکھنے میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقیاس نبوت جس کے دو حصے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ اس میں سوال جواب کے طرز میں مرزائیوں کے سینکڑوں سوالات کے جوابات کافی و شافی دندان شکن دئیے گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ان عنوان پر مناظرہ کے لئے اس کتاب کا مطالعہ ہر مناظر کے لئے فائدہ کا باعث ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالٰی مرحوم کی مغفرت فرمائیں۔
(کتاب مذکور صفحہ 308 )
یاد رہے کہ مقیاس نبوت دو حصوں میں نہیں بلکہ مبسوط تین جلدوں میں ہے کتاب مذکور میں متعدد اکابرین اہل سنت بریلوی کے رد قادیانیت میں تحریری خدمات کا تذکرہ ہے اور علماء اہل سنت بریلوی کی تحریک ختم نبوت میں خدمات کو اللہ وسایا دیوبندی نے ایمان پرور یادیں میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔

عبدالقادر رائے پوری :۔

ایک مرتبہ فرمایا کہ مولوی احمد رضا خان صاحب نے ایک دفعہ مرزائیوں کی کتابیں منگوائیں تھیں اس غرض سے کہ ان کی تردید کریں گے۔ میں نے بھی دیکھیں قلب پر اتنا اثر ہوا کہ اس طرف میلان ہو گیا اور ایسا معلوم ہونے لگا کہ (مرزائی سچے ہیں۔)
(سوانح مولانا عبدالقادر رائے پوری صفحہ 56)

حرفِ آخر

قارئین کرام ! ان تمام حوالہ جات سے یہ بات اظہر من الشمس ہو گئی کہ امام اہلسنت مجدد دین و ملت شیخ الاسلام والمسلمین امام احمد رضا خان محدث بریلوی کے خلاف دیوبندی، وہابی حضرات کا پراپیگنڈا جھوٹ اور غلط ہے اور یہ بات اپنے ہی نہیں بلکہ اغیار بھی مانتے ہیں کہ علم و فضل ہو یا تقوٰی و طہارت ہو، عشق رسالت مآب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہو۔ ان میں امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ کا کوئی بھی ثانی نہیں۔ امام احمد رضا محدث بھی تھے اور فقہیہ بھی تھے۔ مجدد بھی تھے اور مفسر بھی تھے وہ محقق تھے اور مدقق بھی۔ امام احمد رضا بریلوی ان تمام اوصاف و کمالات اور تمام علم و فنون کے جامع و ماہر تھے۔ امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ نے اپنے دور کی ہر گمراہی اور ہر فتنے کے خلاف زبردست جہاد کیا اور کبھی بھی کسی بد مذہب، بے دین کے لئے کوئی تعریفی جملہ نہ کہا اور نہ لکھا اور قرآن مجید کا ترجمہ کیا وہ تقدیس الوہیت اور شان رسالت کا پاسبان ہے اور یہ وہ چیزیں ہیں جن کا آپ کے مخالفین کو بھی اعتراف ہے۔
امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ کا پیغام بھی سن لیجئے۔

ہے یہ پیغام سرکار احمد رضا
بارگاہِ نبی کے رہو با وفا
اُن کے پیغام سے منحرف جو ہوا
دین حق سے یقیناً پھسل جائے گا
جن کا اسم گرامی ہے احمد رضا
ہیں وہی اصل میں دین کے پیشوا
مان لے گا انہیں مومن با وفا
اور گستاخ کا دل ان سے جل جائیگا

آخر میں دعا کرتے ہیں، کہ مولٰی تعالٰی اپنے حبیب کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہء جلیلہ سے مذہب حق اہلسنت و جماعت پر ہمیں استقامت عطا فرمائے۔ امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ کے پیغام کو پھیلانے کی توفیق مرحمت فرمائے۔
آمین بجاہ سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ و السلام

Advertisements

امام احمد رضا کا عشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

امام احمد رضا کا عشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

از: محمد حنیف رضوی

ہر انسان کی یہ صفت ہوا کرتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی سے محبت رکھتا ہے اور جس سے وہ محبت رکھتا ہے اسے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز جانتا اور مانتا ہے۔ یہ عشق الگ الگ صورتوں میں دیکھنے کو ملتا ہے کسی کو اپنے والدین سے محبت ہوتی ہے تو کسی کو بیوی بچوں سے کسی کو اپنے مال و متاع سے تو کسی کو اپنی جان سے محبت ہوا کرتی ہے مگر حقیقت میں کامل و اکمل وہی عشق اور محبت ہے جو جان عالم ساری دنیا کے مرکز عقیدت سرور کائنات فخر موجودات مختار کل عالم علوم خفایا و غیوب جناب احمد مجتبٰی محمد مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے کی جائے اور یہی عشق و محبت ایک مومن مسلمان کیلئے کامیابی کی سب سے بڑی روشن دلیل ہے۔
سب سے پہلے صحابہءکرام نے اپنے
عشق رسول
کی وہ مثال پیش کی ہے۔ جس کو رہتی دنیا تک امت مسلمہ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ ان مقدس اور پاک نفوس قدسیہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نہ جانے کتنے ہی بزرگان دین نے آنے والی نسلوں کے لئے اپنا عمل اور عقیدہ پیش کر دیا ہے جس کو آنے والی نسلیں اپنے لئے راہ نجات بنائیں۔
انھیں مقدس اور پاک ہستیوں کے نقش قدم پر چلنے والی ایک
عظیم شخصیت بریلی شریف کی سرزمین پر مولانا نقی علی خاں ابن رضا علی خاں قدس سرھما کے گھر 10 شوال المکرم 1272ھ مطابق 14جون 1856ء کو اس دنیا میں جلوہ افروز ہوئی۔ پیدئشی نام “محمد“ اور تاریخی نام “المختار“ رکھا گیا۔ جد امجد مولانا رضا علی خاں (متوفی 1282ھ) نے “احمدرضا“
رکھا۔
آپ نے کبھی تعلیم سے جی نہیں چرایا۔ بچپن ہی میں ذہانت کا یہ عالم تھا جس کو
مولانا احسان حسین صاحب بیان فرماتے ہیں “میں فاضل بریلوی (امام احمد رضا)
کی ابتدائی تعلیم میں ہم سبق رہا ہوں۔ شروع سے ان کی ذہانت کا یہ حال تھا کہ استاد سے کبھی رابع سے زائد تعلیم حاصل نہیں کی۔ ایک رابع کتاب استاد سے پڑھنے کے بعد بقیہ پوری کتاب ازخود پڑھ کر یاد کرکے سنا دیا کرتے تھے۔
آٹھ سال کی مختصر عمر میں درسی کتاب ہدایۃ النحو کی شرح تصنیف فرمائی اور وسط شعبان 1286ھ 1869ء میں علوم عقلیہ و نقلیہ سے فراغت حاصل کی اس وقت آپ کی عمر تیرہ سال دس ماہ اور پانچ دن کی تھی اور 14شعبان 1286ھ کو 13برس کی عمر میں پہلا فتوٰی مسئلہ رضاعت کے متعلق تحریر فرمایا۔
آپ جہاں
ایک بہت بڑے عالم دین، محدث، محقق، مفتی، حافظ، قاری، فقیہ، مجدد تھے وہیں آپ ایک بہت بڑے عاشق رسول (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) بھی تھے۔ جناب کوثر نیازی پاکستان فرماتے ہیں “جب اردو زبان میں آنحضرت کا لفظ بولا جاتا ہے تو اس سے رسول کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ذات مقدسہ مراد لی جاتی ہے اور جب اعلٰی حضرت کا لفظ بولا جاتا ہے تو اس سے رسول (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کا ایک غلام عاشق امام احمد رضا فاضل بریلوی کی شخصیت مراد لی جاتی ہے۔
ضیاءالمشائخ حضرت محمد ابراہیم فاروقی محمد مجددی شور بازار کابل افغانستان کا ایمان افروز تاثر ہے کہ “مولانا احمد رضا خاں قادری حضرت خاتم النبیین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے عاشق صادق اور آں حضور کی محبت میں سرشار تھے۔ ان کا دل عشق محمدی کے سوز سے لبریز تھا چنانچہ ان کے نعتیہ کلام اور نغمات اس حقیقت پر شاہد عدل ہیں اور مولانا کے اس کلام نے مسلمان مردوں اور عورتوں کے دلوں کو عشق محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے مقدس نور سے روشن کر دیا ہے۔ (المیزان کا امام احمد رضا نمبر ص560)
جناب ڈاکٹر جمیل جالبی وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی فرماتے ہیں۔ “مولانا احمد رضا بریلوی کا امتیازی وصف جو دوسرے تمام فضائل و کمالات سے بڑھ کر ہے وہ ہے عشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم“ (المیزان نمبر)
اور حضرت صاحبزادہ ہارون رشید ارشاد فرماتے ہیں “اعلٰی حضرت احمد رضا برلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا ہر قول اور ہر فعل عشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے اس طرح لبریز معلوم ہوتا ہے گویا خالق کل نے آپ کو احمد مختار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے عاشقوں کے لئے شمع ہدایت بنایا ہے تاکہ یہ مشعل اس جادہ پر چلنے والوں کو تکمیل ایمان کی منزل سے ہمکنار کر سکے۔ (پیغامات یوم رضا)
جب کوئی صاحب حج بیت اللہ شریف کرکے اعلٰی حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے تو آپ کا پہلا سوال یہی ہوتا تھا کہ سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری دی۔ اگر جواب اثبات میں ملتا فوراً ان کے قدم چوم لیتے اور اگر جواب نفی میں ملتا پھر مطلق تخاطب نہ فرماتے ایک بار ایک حاجی صاحب خدمت میں حاضر ہوئے حسب عادت کریمہ اعلٰی حضرت نے پوچھا کیا بارگاہ سرکار کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں حاضری ہوئی۔ وہ آبدیدہ ہو کر عرض کرنے لگے ہاں حضرت (امام احمد رضا) مگر صرف دو روز قیام رہا اعلٰی حضرت نے ان صاحب کی قدم بوسی کی اور ارشاد فرمایا وہاں کی تو سانسیں بہت ہیں آپ نے تو دو دن قیام فرمایا ہے۔
اعلٰی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالٰی عنہ نے دو مرتبہ حرمین طیبین کی زیارت فرمائی۔ پہلی مرتبہ ہمراہ والد ماجد مولانا نقی علی خاں رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے 1295ھ / 1877ء کو اور دوسری مرتبہ 1324ھ / 1905ء کو دوسری مرتبہ جب بارگاہ نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوئے تو شوق دیدار کے ساتھ مواجہہ عالیہ میں درود شریف پڑھتے رہے۔ امام احمد رضا رضی اللہ تعالٰی عنہ کو امید تھی کہ ضرور سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم عزت افزائی فرمائیں گے اور زیارت جمال سے سرفراز فرمائیں گے لیکن پہلی شب تکمیل آرزو نہ ہو سکی۔ اسی یاس و حسرت کے عالم میں ایک نعت کہی جس کا مطلع ہے،
وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں
اور پھر مقطع میں اپنے متعلق بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں عرض گزار ہوتے ہیں،
کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضا
تجھ سے کتے ہزار پھرتے ہیں
مقطع عرض کرنا تھا قسمت جاگ اٹھی، ارمانوں کی بہار آ گئی۔ خوشیوں کے کھیت لہلہانے لگے، ہوائیں معچر ہو گئیں۔ ایک مومن مسلمان کی مراد یوں پوری ہو گئی اور امام احمد رضا کے عشق کی معراج ہو گئی۔ تمام رسولوں کے سردار حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے عالم بیداری میں اعلٰی حضرت کو اپنا دیدار نصیب فرمایا۔ امام احمد رضا رضی اللہ تعالٰی عنہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے رخ انور کو دیکھتے ہی پکار اٹھتے ہیں،
پیش نظر وہ نو بہار سجدے کو دل ہے بیقرار
روکئے سر کو روکئے ہاں یہی امتحان ہے
دیدار مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی آرزو ہر مسلمان کو ہوتی ہے مگر جس کو اس ذات مبارکہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہو جاتی ہے وہ کبھی اویس قرنی بن کر چمکتا ہے تو کبھی امام اعظم ابو حنیفہ، کبھی شیخ کبیر احمد رفاعی، تو کبھی غوث اعظم محی الدین جیلانی، کبھی خواجہ غریب نواز، تو کبھی خواجہ بندہ نواز بن کر دنیا میں چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اعلٰی حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی شاعری آپ کے عشق رسول کے اظہار کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ خود ہی ارشاد فرماتے ہیں۔ “جب سرکار اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی یاد تڑپاتی ہے تو میں نعتیہ اشعار سے بےقرار دل کو تسکین دیتا ہوں ورنہ شعر و سخن میرا مذاق طبع نہیں۔ (سوانح اعلٰی حضرت)
نعت شریف کا لکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ یہ بہت ہی نازک راہ ہے۔ اعلٰی حضرت فرماتے ہیں۔ “حقیقۃً نعت شریف لکھنا نہایت مشکل ہے جس کو لوگ آسان سمجھتے ہیں اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے۔ اگر (نعت لکھنے) میں بڑھتا ہے تو الوہیت میں پہنچا جاتا ہے اور کمی (نعت لکھنے میں) کرتا ہے تو تنقیص (رسالت) ہوتی ہے۔ البتہ حمد آسان ہے کہ اس میں راستہ صاف ہے جتنا چاہے بڑھ سکتا ہے۔ غرض حمد میں ایک جانب اصلاً حد نہیں اور نعت شریف میں دونوں جانب سخت حد بندی ہے۔ (الملفوظ حصہ دوم)
اعلٰی حضرت رضی اللہ تعالٰی عنہ کا عشق رسول اور شاعری قرآن و حدیث سے ہٹ کر نہیں تھی چنانچہ حدائق بخشش میں تحریر فرماتے ہیں،
ہوں اپنے کلام سے نہایت محفوظ
بے جا سے ہے المنۃاللہ محفوظ
قرآن سے میں نے نوت گوئی سیکھی
یعنی رہے احکام شریعت ملحوظ
شاعر دربار رسالت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنا عشق رسول کچھ اس طرح پیش فرماتے ہیں۔ بارگاہ رسالت میں عرض گزار ہوتے ہیں،
واجمل منک لم ترقط عینی
واکمل منک لم تلد النساء
خلقت مبرا من کل عیب
کانک قد خلقت کما تشاء
ترجمہ: یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم آپ سے زیادہ حسین و جمیل میری آنکھوں نے کبھی نہیں دیکھا۔ آپ سے زیادہ صاحب کمال کسی ماں نے جنا ہی نہیں۔ آپ ہر عیب سے پاک پیدا کئے گئے ہیں گویا آپ ایسے ہی پیدا کئے گئے جیسے آپ چاہتے تھے۔
اور اعلٰی حضرت عظیم البرکت حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اور حضرت حسان رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ان اشعار کی ترجمانی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ارشاد فرماتے ہیں،
وہ کمال حسن حضور ہے کہ گمان نقص جہاں نہیں
یہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں
نہیں جس کے رنگ کا دوسرا نہ تو ہو کوئی نہ کبھی ہوا
کہو اس کو گل کہے کیا کوئی کہ گلوں کا ڈھیر کہاں نہیں

لم یات نظیرک فی نظر مثل تو نہ شد پیدا جانا
جگ راج کو تاج تورے سر سو ہے تجھ کو شہ دوسرا جانا
لک بدر فی الوجہ الاجمل خط یالہ مہ زلف ابر اجل
تورے چندن چندر پروکنڈل رحمت کی بھرن برسا جانا
اعلٰی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جہاں نعت رسول میں رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں اپنا نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ وہیں آپ نے حمد باری تعالٰی بھی کہی ہے۔ جس سے نعت رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ آپ نے حمد اور نعت کا ایک انوکھا سنگم پیش کیا ہے تحریر فرماتے ہیں،
وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم فرمایا
ہمیں بھیک مانگنے کو ترا آستاں بتایا
تجھے حمد ہے خدایا تجھے حمد ہے خدایا
کتنا پیارا اور کتنا دلکش انداز تحریر ہے۔ فرما رہے ہیں رب تعالٰی ہم تیری حمد و ثناء کرتے ہیں کہ تونے ہمیں اپنا پیارا محبوب عطا فرمایا جو سراپا رحمت ہیں۔ جن کے لئے قرآن پاک کا ارشاد عالیشان ہے “اور اگر جب وہ (امتی) اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) تمھارے حضور حاضر ہوں پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ان کی شفاعت فرما دیں۔ تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔ (سورۃ النساء)
مفسر قرآن حضرت علامہ آلوسی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں۔
العالم جسد وروحہ النبوۃ ولا قیام للجسد بدون روحہ (روح المعانی)
ترجمہ: تمام جہان ایک جسم ہے اور نبی کریم اس کی روح ہیں۔ جسم کا قیام بغیر روح کے ممکن نہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ساری کائنات کی جان ہیں۔ اعلٰی حضرت اس پوری تفسیر کو ایک شعر میں تحریر فرماتے ہیں،
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے
امام اہلسنت نے صرف سرور کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو دنیا کی جان ہی نہیں فرمایا بلکہ ایک جگہ یوں ارشاد فرمایا۔ گویا پوری سیرت پاک بیان کر رہے ہوں، ملاحظہ فرمائیں۔
اللہ کی سر تابقدم شان ہیں یہ
ان سا نہیں انسان وہ انسان ہیں یہ
قرآن تو ایمان بتاتا ہے انھیں
ایمان یہ کہتا ہے مری جان ہیں یہ
فنافی الرسول کا عالم ملاحظہ فرمائیں ایک جگہ تو تحریر فرمایا کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم دنیا کی جان ہیں مگر تبھی امام احمد رضا کے عشق رسول نے کہا نہیں نہیں صرف دنیا کی جان نہیں بلکہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارکہ تو ایمان کی بھی جان ہے۔
بروز جمعہ 25 صفرالمظفر 1340ھ مطابق 1921ء کو دو بج کر اڑتیس منٹ پر عین اذان جمعہ کے وقت حی علی الفلاح کا نغمہ جانفزا سن کر داعی اجل کو گویا یہ کہتے ہوئے رخصت ہوئے،
جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینہ پہنچے
تم نہیں چلتے رضا سارا تو سامان گیا
* * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * *
 

امام احمد رضا اور عشق مصطفٰی

چودھویں صدی ہجری میں اہلسنت و جماعت کے جن علماء نے مذہب حق کی تائید و تشہیر میں زندگی وقف کر دی ان میں اعلٰی حضرت امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خاں قادری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ذات ستودہ صفات کافی نمایاں ہے۔ انھوں نے اپنی تحریروں سے نہ صرف مذہب مخالف کے سیل رواں پر بند باندھا ہے بلکہ مذہب مخالف کے ہر فتنہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں ہی عافیت سمجھی اس کے لئے انھیں کافی جدوجہد کرنی پڑی۔ تمام مذہب مخالفین کا پامردی کے ساتھ دلائل و براہین کی روشنی میں دنداں شکن جواب دیا جس سے وہ سب مبہوت ہو گئے۔ لیکن ان کے حوارئین جن کی تعداد اس وقت ہر شعبہ حیات میں کچھ کم نہ تھی ہاتھ دھو کرکے پیچھے پڑ گئے مگر وہ بطل جلیل جو صرف اور صرف احقاق حق اور ابطال باطل ہی کے لئے پیدا ہوا تھا۔ باطل کے آگے جھکنا تو درکنار اسے خاطر میں بھی نہ لایا۔ خود ہی فرماتے ہیں،
کیا دبے جس پہ حمایت کا ہو پنجہ تیرا
شیر کو خطرہ میں لاتا نہیں کتا تیرا

ان مخالفین کی مخالفتوں کا سرا کہیں نہ کہیں جا کر عظمت نبوت و ناموس رسالت سے متصادم ہوتا تھا۔ اس لئے انھوں نے کبھی نرمی نہیں برتی۔ دشمنان دین حق کے لئے شمشیر براں بنے رہے آپ کا اعلان عام تھا،
دشمن احمد پہ شدت کیجئے
ملحدوں سے کیا مروت کیجئے

دشمنان دین حق کے ساتھ ان کی سختی اس لئے تھی کہ وہ سچے عاشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم تھے۔ نبی اور دین نبی پر کسی قسم کی ادنٰی گستاخی بھی ان کے نزدیک بڑے جرم کے مترادف تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ جس طرح مجھے اپنے نبی سے پیار ہے اسی طرح ہر امتی کو اپنے نبی سے پیار و محبت ہونی چاہئیے۔ کیونکہ
محمد سے محبت دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہے اگر خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے

اسی وجہ سے امام اہلسنت کو سرکار ابد قرار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے والہانہ عشق تھا۔ ان کی پوری زندگی اتباع رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے ہی عبارت ہے۔ نہ آپ نے سنت مصطفوی کے خلاف کبھی کچھ کیا اور نہ ہی کسی کو اس کے خلاف کچھ کرنے کی اجازت دی۔ سچا عاشق وہ ہوتا ہے جس کی نظر ہمیشہ اپنے محبوب کی مرضی پر ٹکی ہو اور جس امتی کی یہ خوبی ہو اس کے لئے سوائے اس کے اور کیا کہا جا سکتا ہے۔
یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
عاشقان نبوت کے دعویداروں کی ہر دور میں بہتات رہی ہے۔ ماضی اور حال کی صدیوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو ایسے نام نہاد عاشقان نبوت کی طویل فہرست مل جائے گی۔ جنہیں ایک طرف تو اپنے نبی و رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے الفت و محبت کا دعوٰی بھی تھا اور دوسری طرف اپنے اس نبی کے تعلق سے عقیدہ یہ تھا کہ
(1) آپ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ کے بعد بھی کوئی نبی پیدا ہو جائے تب بھی خاتمیت محمدیہ میں کوئی فرق نہ آئے گا۔ (مولوی قاسم نانوتوی)
(2) شیطان اور ملک الموت کو تمام روئے زمین کا علم ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے وسعت علم پر کوئی نص نہیں لٰہذا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے ایسا علم ماننا شرک ہے۔ (مولوی اشرف علی تھانوی)
(3) نماز میں زنا کے وسوسے سے بیوی کے ساتھ مجامعت کے خیال کو بہتر اور حضور علیہ السلام کی طرف توجہ لگانے کو گدھے اور بیل کے خیال میں مستغرق ہو جانے کے مقابلہ میں بدتر قرار دیا گیا ہے۔ (شاہ محمد اسماعیل دہلوی)
اسی طرح اور بھی نام نہاد مدعیان عاشقان رسول ہیں جن کی اسی طرح نازیبا تحریریں ہیں جن کے نقل کرنے کی قلم میں نہ تو طاقت ہے اور نہ ہی قلم کار میں اتنی جسارت۔ عشق کا پیمانہ اپنے محبوب کے ساتھ یکساں ہونا چاہئیے جس لفظ سے محبوب کی شان میں ادنٰی گستاخی کا شائبہ ہو منشائے قرآنی کے مطابق عاشق کے لئے اس سے بچنا ضروری ہو جاتا ہے۔
فاضل بریلوی نے اپنا دامن اس قسم کے شکوک و شہبات سے ہمیشہ پاک و صاف رکھا۔ اور اپنے قلب و جگر کا نذرانہ اپنے نبی کی بارگاہ میں پیش کرنے کے لئے ہمہ دم تیار نظر آئے اور اسی کو انھوں نے اپنی زندگی کا حاصل سمجھا۔ چنانچہ وہ خود فرماتے تھے

دل ہے وہ دل جو تری یاد میں معمور رہا
سر ہے وہ سر جو ترے قدموں پہ قربان گیا

یہی وہ جذبہ عشق رسول ہے جس نے آپ کو اپنے اور بیگانوں کے درمیان ممتاز کر دیا۔ اور یہ انتہائی حیرت کی بات ہے کہ تصنیف و تالیف، رشد و ہدایت، وعظ و تبلیغ، افتاء و قضاء، درس و تدریس، ریسرچ و تحقیق اور مخالفین و معاندین کے فتنوں کے قلع قمع کرنے کی بے پناہ مصروفیتوں کے باوجود آپ نے اپنے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شان میں والہانہ انداز میں جس طرح عشق کے نغمے الاپے ہیں اس کی مثال اس صدی میں صرف اور صرف آپ ہی کے یہاں ملتی ہے۔ جس کی طرف اختصار کے ساتھ اشارہ مولانا نجم القادری نے اپنی تحقیقی کتاب “امام احمد رضا اور عشق مصطفٰی“ میں ان لفظوں میں کیا ہے۔
“ امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ الرضوان پر ہندوستان میں بیسویں صدی کے ربع آخر میں جو تحقیقی سلسلہ شروع ہوا ہے تو وہ بحمدہ تعالٰی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری و ساری ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے جتنی ہی ان کی زندگی اور ان کے کارنوں پر تحقیق ہوتی ہے اتنی ہی ان کی زندگی کے نئے نئے گوشے نئے تقاضوں سے آراستہ ہوکر نگاہوں کے سامنے آتے ہیں۔ فاضل بریلوی کے علمی کارناموں پر مختلف جہتوں سے برصغیر میں صرف نہیں بلکہ عالم اسلام میں کام ہوا اور ہو رہا ہے۔ لیکن میری معلومات کے مطابق جو انھیں اپنے محبوب سے والہانہ لگاؤ تھا اس سے جہاں ایک طرف اپنے نبی پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے تعلق سے جذبہ عشق سمجھنے میں مدد ملے گی وہیں دوسری طرف ایک امتی کو اور وہ بھی جو وفادار ہو اس کو اپنے نبی سے کس طرح محبت کرنی چاہئیے اس کا شعور بھی حاصل ہو گا۔ ایک مومن کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ اس کے دل میں اپنے خدا اور رسول سے محبت کا سچا جذبہ ہو۔ مجھے امید ہے کہ اس تعلق سے تمام امت متابعت کے لئے اعلٰی حضرت کی تعلیمات مشعل راہ ہی صرف نہیں بلکہ خضر راہ بھی ثابت ہو گی۔
محققین نے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ جو عشق رسول میں اپنے آپ کو فنا کر دیتا ہے وہ ہمیشہ کے لئے امر ہو جاتا ہے۔
بقول مولانا نجم القادری، “وہ چھپ گئے مگر جلوہ نما ہیں وہ چلے گئے مگر موجودگی کا احساس چھوڑ گئے، بظاہر وہ اب ہم میں نہیں مگر علم و فن کا وقار اور عشق و اخلاص کا خمار بانٹ رہے ہیں، ایمان و اعتقاد کی زلف برہم کے لئے آج بھی ان کے بنائے ہوئے نقوش رحمت کونین کا پتہ دے رہے ہیں۔“
یہ حضرت بریلوی کا فیضان محبت ہے کہ جدھر دیکھئے ادھر ہی ان کے پیغام کے پھریرے لہرا رہے ہیں خصوصاً برصغیر کی دینی، علمی، روحانی، فضا، مدرسہ، مسجد، خانقاہ ان کے ذکر و اذکار کے جاں بخش ترانوں سے گونج رہی ہے۔“
ان کے جذبہ عشق کی یہ شہرت کیا کم ہے ان کا دیوانہ دنیا کے کسی گوشہ اور کسی ملک میں کیوں نہ ہو مگر اس کے وارفتگی شوق کا عالم یہ ہے کہ وہ اپنے کو بریلوی لکھ رہا ہے اور بات صرف اتنی سی ہے ہے کہ بریلی کی دھرتی سے ایک شخص نے اپنے نبی کے تعلق سے جو سچا عشق عملی طور پر پیش کیا اس نے اپنے تمام مداحوں کو فکری طور سے اپنا ہم نوا اور ہم وطن بنا ڈالا ایمان و عقیدے کی پختگی اور جذبہ عشق و محبت کی وارفتگی کی اس سے بہتر مثال اور کیا ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو اپنے نبی سے سچا عشق کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

( یہ مضمون ڈاکٹر غلام یحٰیی انجم نے لکھا ہے)
 

علم کا تصور ، ذرائع اور اقسام مولانااحمد رضا خاں بریلوی کا نقطہ نظر

مصنف : عبد القیوم چوہدری
(لیکچرار انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن ایڈ ریسرچ ، پنجاب یونیورسٹی لاھور )
تصور علم ایک اہم فلسفیانہ تصور ہے جو کسی بھی صاحب فکر کے تصورات کے فہم کے لئے ضروری ہے ، مولانا احمد رضا خاں بریلوی علم کی ضرورت و اہمیت سے واقف تھے ، ان کی اپنی زندگی بچپن سے بڑھاپے تک حصول علم اور اشاعت علم کا نمونہ تھی ۔
علم کی تعریف :
مولانا احمد رضا خاں بریلوی علم کی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں :
علم وہ نور ہے جو شے اس کے دائرہ میں آگئی منکشف ہوگئی اور جس سے متلعق ہوگیا اس کی صورت ہمارے ذہن میں مرتسم ہوگئی ۔ (1)

حقیقی اور اصلی علم :
جو علم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کی صورت میں عطا کیا گیا وہی حقیقی اور اصلی علم ہے فرماتے ہیں :
علم وہ ہے جو مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا ترکہ ہے ۔ (2)
ایک جگہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نقل فرماتے ہیں :
نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں علم تین ہیں‌قرآن یا حدیث یا وہ چیز جو رہِ وجوب عمل میں ان کی ہمسر ہے اس کے سوا جو کچھ ہے سب فضول ہے (3)
امام غزالی کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ :
علم حقیقی وہی ہے جو ماسوی اللہ سے تعلق قطع کرکے اللہ سے رشتہ جوڑ‌دے اور خلوص‌نیت ہی سے حاصل ہوسکتا ہے ، غیر مخلص کا علم ، علم حقیقی نہیں ۔(4)

ذرائع علم :
مولانا احمد رضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مندرجہ ذیل ذرائع علم ہیں ::
1۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وحی ::
مولانا احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک وحی الٰہی سب سے اہم ، حتمی اور مستند ذریعہ تعلیم ہے ، اس ذریعہ میں‌کسی غلطی اور کذب کی گنجائش نہیں ہے ، انبیاءکرام کے ذریعے سے انسان کوعلم توحید دیاگیا ہے ۔
2۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الہام ::
وحی کے بعد الہام بھی ایک اہم ذریعہ علم ہے ، وحی صرف انبیاء کوہوتی ہے ، مگر الہام غیر انبیاء کو بھی ہوتا ہے اور اس کے لئے صاحب ایمان اور صاحب تقوٰی ہونا ضروری ہے انسان کے دل میں‌کسی چیز یا کام کے بارے میں تنبیہ یا اشارہ کردیا جاتا ہے۔
3۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کشف ::
مولانا احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک کشف بھی ایک اہم ذریعہ علم ہے ، کسی آدمی پر کسی چیز کے بارے میں‌کوئی خیال اچانک بجلی کی چمک کی طرح انسان کے ذہن میں آجاتا ہے ، حقیقت حال آدمی پر ظاہر کردی جاتی ہے ۔
4۔۔۔۔۔۔۔۔۔عقل ::
مولانا احمد رضا خاں‌کے نزدیک عقل کا درجہ وحی سے کم ہے ، ہر عقلی استدلال اور معاملات کو قرآن و حدیث کے مطابق ہی پرکھا جاتا ہے ، دنیا کی ترقی و خوشحالی ، عالیشان عمارت اور دیگر ریل پیل عقلی کرشمہ سازوں‌کی مرہون منت ہے ، عقل کے ذریعے ہی کسی اچھائی برائی کو پرکھا جاسکتا ہے ۔
5۔۔۔۔۔۔۔۔۔حواس خمسہ ::
ذرائع علم میں عقل کے بعد حواس خمسہ کا درجہ ہے ، یہ تقریبا ہر انسان کو حاصل ہیں ، آنکھ ، کان ، ناک ، زبان چھونے کے اعضاء حصول علم کے آلات ہیں ، حواس کے ذریعے ہی کسی اچھائی برائی کو پرکھا جاسکتا ہے ۔
6۔۔۔۔۔۔۔۔۔سند ::
مولانا احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک سند بھی علم کے حصول کا ایک ذریعہ ہے ، آپ کے نزدیک کتب بینی اور افواہ رجال سے بھی علم حاصل ہوتا ہے ، ضرب الامثال اور اقوال زریں سند میں بہت اہمیت رکھتے ہیں ، افواہ رجال اور کتب بینی سے جو علم حاصل ہوتا ہے یہ وہ باتیں ہوتی ہیں جو کسی کتب کے بھی مستند ، لائق اور معتبر افراد کی کہی جاتی ہیں‌۔
حتمی و قطعی سر چشمہ علم
مولانا احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک سب سے حتمی اور قطعی ذریعہ سر چشمہ علم وحی الٰہی ہے اور باقی تمام علوم اور ذرائع کی صداقت کو اسی سر چشمہ علم کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے ، ذرائع علم میں وحی ، الہام ، عقل اور حواس خمسہ کے متعلق آپ کی یہ عبارت ملاحظہ فرمائیے جس میں ان ذرائع کے مقام و مرتبہ کا صحیح علم ہوتا ہے ۔اللہ عزوجل نے بندے بنائے اور انہیں کان ، آنکھ ہاتھ پاؤں زبان وغیرہ آلات و جوارح عطافرمائے اور انہیں کام میں لانے کا طریقہ الہام کیا اور ان کے ارادے کا تابع و فرمانبردار کردیا کہ اپنے منافع حاصل کریں اور مضرتوں سے بچیں ، پھر اعلٰی درجہ کے شریف جوہر یعنی عقل سے ممتاز فرمایا جس سے تمام حیوانات پر انسان کا درجہ بڑھایا عقل کو ان امور کے ادارک کی طاقت بخشی خیر و شر ، نفع وضرر ، حواس ظاہری نہ پہچان سکتے تھے ، پھر اسے بھی فقط اپنی سمجھ پر بےکس و بےیاور نہ چھوڑا ،ہنوز لاکھوں باتیں ہیں جن کو عقل خود ادراک نہ کرسکتی تھی اور جس کا ادراک ممکن تھا ، ان میں لغزش کرنے ٹھوکریں کھانے سے پناہ کے لئے کوئی زبردست دامن یا پناہ نہ رکھتی تھی ، لہذا انبیاء بھیج کر کتب اتار کر ذراذرا سی بات کا حسن و قبح خوب جتاکر اپنی نعمت تمام و کمال فرمادی ، کسی عذر کی جگہ باقی نہ چھوڑی ۔ (5)
اس عبارت سے صاف ظاہر ہے وحی ، حقیقی اور حتمی سر چشمہ علم ہے اور دیگر ذرائع علم کو وحی کے تابع کرکے استعمال کرنے پر زور دیاگیا ہے ۔
علم کی اقسام ::
مولانا احمد رضا علیہ الرحمۃ کے نزدیک علم کے مندرجہ ذیل اقسام ہیں:
الف ۔ ۔ ۔ ۔ اہمیت و ضرورت کے لحاظ سے علم کی اقسام:
1- فرض عین
2- فرض کفایہ
3- مباح
4- مکروہ
5- حرام
1- – – – علم فرض عین :
فرض عین علم ایسے علم کو کہتے ہیں جس کا حاصل کرنا ہر شخص کے لئے ضروری ہو۔ اسلام کے بنیادی عقائد و ایمانیات سے آگاہی ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے۔ توحید و رسالت کا اقرار اسلام کا اساسی عقیدہ ہے۔ اجزائے ایمان کے بعد ارکان اسلام اور دیگر احکام شرعیہ کی واقفیت حاصل کرنا ضروری ہے۔
2۔ ۔ ۔ ۔ علم فرض کفایہ :
وہ علم جو معاشرے کے تمام افراد کیلئے سیکھنا ضروری نہ ہو چند افراد ہی اگر سیکھ لیں تو دوسروں پر گناہ نہیں۔ ان میں فقہ ، تفسیر، حدیث توقیت، جغرافیہ وغیرہ شامل ہیں۔
3۔ ۔ ۔ ۔ علم مباح:
ایسا علم جس کا سیکھنا ضروری نہ ہو لیکن اسلام اس کے سیکھنے کی اجازت دیتا ہو اور جس میں کوئی خلاف شرع بات نہ ہو تو یہ ایک مباح کام ( جائز کام ) ہوگا۔ مثلاً اشعار اور تاریخ کا علم وغیرہ۔
4 ۔ ۔ ۔ ۔ مکروہ علم :
ایسا علم جو وقت کے ضیاء کا باعث ہو اور جس سے فرائض شریعت میں غفلت پیدا ہوتی ہو۔ مثلاً علم ہندسہ، ہیئیت، فلسفہ منطق وغیرہ۔
5۔ ۔ ۔ ۔ علم حرام :
وہ علوم جو اسلام کی تعلیمات سے روکتا ہو اور سراسر نقصان کا باعث ہو۔ اس سے کچھ فائدہ نہ ہو مثلاً جادو، مسمر یزم فلسفہ قدیمہ، سحر ٹونے ٹوٹے وغیرہ۔ (6)
ب۔ ۔ ۔ ۔ اقسام علم بلحاظ ملکیت :
1۔ ۔ ۔ ۔ علم ذاتی :
علم ذاتی کے بارے میں آپ کا ارشاد سنیئے :
“ علم ذاتی ( وہ ہے جو ) اللہ عزوجل سے خاص ہے اس کے غیر کے لئے محال جو اس میں سے کوئی چیز اگر وہ ایک ذرہ سے کم تر سے کم تر، غیر خدا کیلئے مانے وہ یقیناً کافر و مشرک ہے۔ “
2۔ ۔ ۔ ۔ علم عطائی :
اللہ تعالٰی کی طرف سے جو علم اس کی مخلوق کو عطا کیا جاتا ہے وہ عطائی علم ہے، فرماتے ہیں:
“ اجماع ہے کہ اس فضل جلیل میں محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا حصہ تمام انبیاء، تمام جہانوں سے اتم و اعظم ہے۔ اللہ کی عطاء سے حبیب اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اتنے غیبوں کا علم ہے جن کا شمار اللہ ہی جانتا ہے “ (7)
ج ۔ ۔ ۔ ۔ بلحاظ فائدہ و ضرر اقسام علم :
1۔ ۔ ۔ ۔ علم شرعیہ :
وہ علم جو انبیاء کرام سے مستفاد ہو اور عقل انسانی کسی رسائی وہاں تک نہ ہو سکتی ہو۔ یہ علم قرآن و سنت کی تفہیم کے لئےمدد گار ثابت ہو۔
2- – – – علم غیر شرعیہ:
ایسا علم جس کی تحصیل و تعلم قرآن و حدیث نے حرام کر دیا ہو اور جس سے خلاف شرع امور تعلیم کئے جائیں۔
د- – – – اقسام علم بلحاظ ذریعہ علم :
2- – – – علم عقلیہ :
وہ علم جو عقل کی مدد سے حاصل کیا جائے مثلاً منطق، فلسفہ ، طب وغیرہ
3- – – – علم نقلیہ :
ایسا علم جس میں عقل کو کوئی دسترس نہیں جو وحی نبوت سے منقول ہے جس کو آئندہ ہو بہو نقل کے ذریعے حاصل کیا جائے مثلاً قرآن، حدیث، فقہ وغیرہ۔
ر ۔ ۔ ۔ ۔ نفع و نقصان کے لحاظ سے علم کی اقسام :
نفع و نقصان کے لحاظ سے بھی علم کو دو صحوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
1- – – – علم نافع :
ایسا علم جو شریعت کے مطابق زندگی کو بہتر طور پر گزارنے کے قابل بنائے نیز جس میں فقاھت ( سمجھ بوجھ خصوصاً دینی امور کے بارے میں ) ہو۔ آپ فرماتے ہیں۔
“ علم نافع وہ ہے جس میں فقاھت ہو “ ( 8 )
2- – – – علم غیر نافع :
وہ علم جو نہ تو شریعت کے مطابق زندگی گزارنے میں کام آئے اور نہ ہی اس سے دین کے بارے میں سمجھ بوجھ ہو۔
س- – – – اقسام علم بلحاظ حقیقت علم:
1- علم مقصودہ :
وہ علم جس کا حصول مقصد حیات ہو، قرآن، حدیث، فقہ، تفسیر وغیرہ مقصودہ کے زمرے میں آتے ہیں۔
2- علم آلیہ :
وہ علم جو علم مقصودہ کے حصول میں معاون ثابت ہو مثلاً زبان، لغت، معانی وغیرہ۔ علم آلیہ قرآن و حدیث کی تفہیم میں آسانی پیدا کرتے ہیں۔
ش – – – – نظریہ و کسب کے لحاظ سے علم کی اقسام :
1- نظری علم :
وہ علم جس کا تعلق محض عقل، دل، دماغ اور فکر سے ہوتا ہے۔ علم العقائد، علم الاکلام وغیرہ نظری علم ہیں۔
2- فنی علم :
وہ علم جو کسی پیشہ کے اپنانے میں اور ذریعہ معاش بنانے میں ممدد معاون ہو۔ طبی، صنعتی ، کاروباری علوم اسی کے زمرے میں آتے ہیں۔
مولانا احمد رضا خاں نے نہایت واضح، جامع اور ٹھوس استدلال پر مبنی تصور علم، ذرائع علم اور اقسام پیش کی ہیں آپ نے علم کے وسیع ترین موضوع کو جس انداز میں مختلف زاویوں، مختلف پہلوؤں سے الگ الگ اقسام کے تحت ان کے respective title nomenclature میں پیش کیا ہے اس سے فلسفہ ء علم التعلیم کے اساتذہ و طلبہ کیلئے تصور علم کی تفہیم نہایت آسان اور خوب آشکار ہو گئی ہے۔
**

امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ اور فن تفسیر

امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ اور فن تفسیر
تالیف علامہ مفتی محمد فیض احمد اویسی مدظلہ العالی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ و نصلّی علٰی رسولہ الکریم ط

اعلٰی حضرت عظیم البرکت قدس سرہ ان ہستیوں میں سے ہیں جن کے لئے اللہ تعالٰی نے فرمایا !
افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علٰی نور من ربہ
یہ شرح صدر ہی تو تھا کہ قلیل عرصہ میں جملہ علوم و فنون سے فراغت پالی ورنہ عقل کب باور کر سکتی ہے کہ چودہ سال کی عمر میں علوم و فنون ازبر ہوں
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ

( یہ سعادت بزور بازو نہیں ملتی جب تک کہ بخشنے والا خداوند تعالٰی نہ عطا کرے )
اور یہ علوم و فنون صرف ازبر نہ تھے بلکہ ہر فن پر مبسوط تصانیف موجود ہیں اور وہ بھی کسی سے مستعار نہیں بلکہ قلم رضوی کے اپنے آب دار موتی ہیں اور تحقیق کے ایسے بہتے ہوئے بحر ذخار کو دیکھ کر بڑے بڑے محققین انگشت بدنداں ہو جاتے ہیں۔ آپ کو قلم کا بادشاہ کہا جاتا ہے ۔
تجربہ اور شواہد بتاتے ہیں کہ جس بندہ خدا کو جس فن کی مہارت نصیب ہو وہ دوسرے فن میں ہزاورں ٹھوکریں کھاتا ہے مثلاً امام بخاری قدس سرہ کو دیکھیئے کہ دنیائے اسلام نے فن حدیث کا انہیں ایسا امام مانا ہے کہ جس کی نظیر نہیں ملتی لیکن فقہاء کے کے استنباط اور تاریخی حیثیت سے آپ کو وہ مرتبہ حاصل نہیں جو فن حدیث میں ہے لیکن اعلٰٰی حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ کی یہ خصوصیت ہے کہ فن کے ماہرین نے مانا ہے کہ آپ ہر فن میں مہارت تامہ رکھتے ہیں چناچہ شاعروں نے آپ کو امام اشعراء سمجھا ، فقہاء نے آپ کو وقت کا ابو حنیفہ مانا، محدثین نے امیر الحدیث وغیرہ وغیرہ
اس لئے خود اعلٰٰی حضرت قدس سرہ نے اپنے لئے فرمایا اور بجا فرمایا
۔
ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں

اس وقت فقیر کا موضوع سخن فن تفسیر ہے واضح کروں گا کہ آپ اس فن کے بھی مسلم امام ہیں اگرچہ اعلٰی حضرت قدس سرہ نے پورے قرآن پاک کی کوئی تفسیر نہیں لکھی لیکن حق یہ ہے کہ اگر آپ کی تصانیف کا بالاستیعاب مطالعہ کر کے تفسیری عبارات جمع کئے جائیں تو ایک مبسوط تفسیر معرض وجود میں آ سکتی ہے چنانچہ فقیر اویسی غفر لہ نے اس کام کا آغاز کر رکھا ہے اللہ تعالٰی اس کے اہتمام کی توفیق عطا فرمائے (آمین)
شرائط فن تفسیر
امام جلال الملۃ والدین حضرت علامہ سیوطی رحمۃاللہ تعالٰی علیہ نے اتقان میں لکھا ہے کہ مفسّر اس وقت تفسیر قرآن لکھنے اور بیان کرنے کا حق رکھتا ہے جب چودہ فنون کی مہارت حاصل کر لے ۔ ورنہ تفسیر نہیں تحریف قرآن کا مرتکب ہو گا ۔
اس قاعدہ پر اعلٰی حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ، نہ صرف ان چودہ فنون کے ماہر ہیں بلکہ پچاس فنون پر کامل دسترس رکھتے ہیں بلکہ بعض فنون پرآپ کی درجنوں تصانیف ہیں ، یہ علیحدہ بات ہے کہ آپ کو مستقل طور پر تفسیر لکھنے کا موقعہ نہیں ملا لیکن آپ کی تصانیف سے قرآنی ابحاث کی ایک ضخیم تفسیر تیار ہو سکتی ہے اور فقیر اویسی نے اس کے اکثر اجزاء کو جمع کیا ہوا ہے بنام تفسیر امام احمد رضا ،، خدا کرے کوئی بندہ اس کی اشاعت کیلئے کمر بستہ ہو جائے ۔ (آمین)
علاوہ ازیں تفاسیر پر آپ کی عربی حواشی کے اسماء ملتے ہیں مثلاً۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔الزلال الانقی من بحر سفینۃ اتقی
2۔۔۔حاشیہ تفسیر بیضاوی شریف
3۔۔۔حاشیہ عنایت القاضی شرح تفسیر بیضاوی
4۔۔۔حاشیہ معالم التنزیل
5۔۔۔حاشیہ الاتقان فی علوم القرآن سیوطی
6۔۔۔حاشیہ الدر المنثور (سیوطی)
7۔۔۔حاشیہ تفسیر خازن

علاوہ ازیں بعض آیات اور سورتوں پر آپ کی متعدد تصانیف موضوع تفسیر پر ملتی ہیں جنہیں ملک العلماء علامہ ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ نے جمع فرمایا ہے چند ایک کے اسماء درج ہیں !
8۔۔۔انوار العلم فی معنٰٰی میعارواستجب لکم فارسی زبان میں ہے 1327ء تک غیر مطبوع تھی اس میں اعلٰی حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ نے تحقییق فرمائی ہے کہ اجابت دعا کے کیا کیا معنٰی ہے ۔ اثر ظاہر نہ ہونا دیکھ کر بے دل ہونا حماقت ہے ۔
9۔۔۔االصصام علی مشک فی آیۃ علوم الارحام اس میں اعلٰی حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ نے پادریوں کا رد فرمایا ہے اردو زبان میں طبع شدہ موجود ہے ۔
10۔۔۔انباء الحی ان کتاب المصون تبیان لکل شئی عربی ،اردو زبان میں ہے اس میں اعلٰی حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ نے ثابت فرمایا ہے کہ قرآن مجید اشیائے عالم کی ہر چیز کا مفصل بیان ہے ۔
11۔۔۔النفحۃ الفائحہ من مسلک سورۃ الفاتحہ اردو زبان میں ہے اس میں اعلٰی حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ نے سورۃ فاتحہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فضائل کو ثابت فرمایا ہے ۔
12۔۔۔نائل الراح فی فرق الریح والریاح فارسی زبان میں ہے۔

مذکورہ رسائل صرف تفسیر سے متعلق ہیں ۔ بعض اوقات کسی مسئلہ کے متعلق استفسار پر آپ نے تفسیری نقطہ نگاہ سے حل
فرمایا
دراصل آپ کو عالم دنیا سے مختلف گوشوں سے آئے ہوئے فتاوٰی کے جوابات سے فرصت کم ملی ورنہ اگر اس طرف توجّہ دیتے تو تفسیر کا ایک جز ہزاروں صفحات پر پھیلتا۔
صرف بسم اللہ شریف کی تقریر پر مختصر سے وقت میں آپ کا ایک طویل مضمون موجود ہے جو آپ نے عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موقع پر بریلی شریف میں بیان فرمایا تھا جو سوانح اعلٰی حضرت میں صفحہ 98 سے شروع ہو کر صفحہ 112 تک ختم ہوتا ہے۔ اسی طرح پھر دوسرا وعظ صفحہ 112 سے شروع ہو کر صفحہ 131 تک ختم ہوا یہ بھی تقریر کے رنگ میں ہوا جو تحریر کے میدان میں کوسوں دور سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود اتنے صفحات کا مضمون بیان کر جانا کسی مرد میدان کا کام ہے اور وہ بھی مفسّرانہ رنگ میں اور پھر تفسیر سورہ والضحٰی لکھی تو سینکڑوں صفحات پھیلا دئیے ۔ جس کی ایک ایک سطر کئی تفاسیر کے مجموعے کو دامن میں لئے ہوئے ہے ۔
آپ کے تلامذہ کو رشک ہوگا کہ ایسے بحر بے پایاں کے قلم سے جس طرح فقہ اور حدیث اور دیگر فنون کے دریا بہائے گئے ہیں کچھ تفسیری نوٹ بھی آپ کی یادگار ہوں تو زہے قسمت اگر چہ اجمالی طور پر ہی سہی ، چناچہ صدر الشریعۃ حضرت مولانا حکیم امجد علی صاحب مصنف بہار شریعت قدس سرہ کو اللہ تعالٰٰی اپنی خاص رحمتوں سے نوازے ،انہوں نے اہلسنت پر احسان عظیم فرمایا کہ اعلٰٰی حضرت قدس سرہ کی عدیم الفرصتی کے باوجود قرآن مجید کا ترجمہ لکھوا ہی لیا چناچہ سوانح نگار حضرات قرآن مجید کے ترجمے کے متعلق یوں لکھتے ہیں کہ صدر الشریعۃ حضرت مولانا حکیم امجد علی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ترجمہ قرآن کی ضرورت پیش کرتے ہوئے اعلٰٰی حضرت سے گزارش کی آپ نے وعدہ تو فرمالیا لیکن دوسرے مشاغل دینیہ کثیرہ کے ہجوم کے باعث تاخیر ہوتی رہی ، جب حضرت صدر الشریعۃ کی جانب سے اصرار بڑھا تو اعلٰٰی حضرت نے فرمایا
چوں کہ ترجمے کے لیے میرے پاس مستقل وقت نہیں ہے اس لئے آپ رات کو سونے کے وقت یا دن میں قیلولہ کے وقت کے وقت آجایا کریں ۔ چنانچہ حضرت صدر الشریعۃ ایک دن قلم و دوات لے کر حاضر ہو گئے اور یہ دینی کام بھی شروع ہوگیا۔ ترجمہ کا طریقہ یہ تھا کہ اعلٰی حضرت زبانی طور پر ترجمہ آیۃ کریمہ کا فرماتے جاتے اور حضرت صدر الشریعۃ لکھتے جاتے لیکن یہ ترجمہ اس طرح پر نہیں تھا کہ آپ پہلے کتب تفسیر و حدیث و لغت کو ملاحظہ فرماتے اور آیات کو سوچتے پھر ترجمہ بیان فرماتے قرآن مجید کافی البدیہہ برجستہ ترجمہ زبانی طور پر اس طرح بولتے جاتے تھے جیسے کوئی پختہ یاداشت یاداشت کا حافظ اپنی قوّت حافظ پر بغیر زور ڈالے قرآن شریف پڑھتا چلا جاتا ہے۔ علمائے کرام جب دوسری تفاسیر سے تقابل کرتے تو یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے کہ اعلٰی حضرت کا یہ برجستہ فی البدیہہ ترجمہ تفاسیر معتبرہ کے بالکل عین مطابق ہے ،الغرض اسی قلیل وقت میں ترجمہ کا کام ہوتا رہا پھر وہ مباراک ساعت بھی آئی کہ قرآن مجید کا ترجمہ ختم ہو گیا اور حضرت صدر الشریعت کی کوشش بلیغ کی بدولت سنّیت کو کنز الایمان کی دولت عظمٰی نصیب ہوئی۔ ( فجزاء اللہ تعالٰی عنا و عن جمیع اہل السنۃ جزاء کثیرا و اجرا جزیلا )
حضرت محمد کچھوچھوی سیّد محمد صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ اعلٰی حضرت کے علم قرآن کا اندازہ اس اردو ترجمہ سے کیجیئے جو اکثر گھروں میں موجود ہے اور جس کو کوئی مثال سابق نہ عربی زبان میں ہے نہ فارسی میں ہے اور نہ اردو میں اور جس کا ایک ایک لفظ اپنے مقام پر ایسا ہے کہ دوسرا لفظ اس جگہ لایا نہیں جا سکتا جو یہ بظاہر ترجمہ ہے مگر در حقیقت وہ قرآن مجید کی تفسیر ہے اور اردو زبان میں روح قرآن ہے بلکہ فقیر اویسی کا ذوق یوں گواہی دیتا ہے ۔
ہست قرآن بزبان اردوی
ہمچوں مثنوی بزبان پہلوی

اس ترجمہ کی شرح میں حضرت صدر الافاضل استاذ العلماء مولانا نعیم الدین علیہ الرحمۃ حاشیہ پر فرماتے ہیں کہ دوران شرح میں ایسا کئی بار ہوا کہ اعلٰی حضرت کے استعمال کردہ لفظ کے مقام استنباط کی تلاش میں دن پر دن گذرے اور رات پر رات کٹتی رہی اور بالآخر ماخذ ملا تو ترجمہ کا لفظ اٹل ہی نکلا اعلٰی حضرت خود حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ تعالٰی کے فارسی ترجمہ کو سراہا کرتے تھے ۔ لیکن اگر حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اردوزبان کے اس ترجمے کو پاتے تو فرماہی دیتے کہ
ترجمہ قرآن شئی دیگر است و علم القرآن شئی دیگر ست
۔۔۔۔۔۔۔۔علمائے دیوبند نہ صرف حریف بلکہ وہ آپ کو ہر معاملے میں ترچھی نگاہ سے دیکھتے تھے لیکن وہ بھی اعتراف کئے بغیر نہ رہ سکے کہ واقعی اعلٰی حضرت کا قرآن مجید کا ترجمہ بالکل صحیح اور درست ہے ۔
اور آپ کے ترجمے کے مقابلے میں موجود دور کے تمام اردو تراجم کو دیکھا جائے تو ان میں سینکڑوں غلطیاں ہیں اس لئے محققین نے اس کو دیکھ کر ذیل کی آرا قائم فرمائی ہیں ۔

1۔ ۔ ۔ ترجمہ اعلٰی حضرت تفاسیر معتبرہ قدیمہ کے مطابق ہے ۔
2۔ ۔ ۔ اپنی تفویض کے مسلک اسلم کا عکس ہے ۔
3۔ ۔ ۔ اصحاب تاویل کے مذہب سالم کا موید ہے ۔
4۔ ۔ ۔ زبان کی روانی اور سلامت میں بے مثل ہے ۔
5۔ ۔ ۔عوامی لغات و بازاری زبان سے یکسر پاک ہے ۔
6۔ ۔ ۔ قرآن پاک کے اصل منشاء مراد کو بتایا ہے ۔
7۔ ۔ ۔ آیات ربّانی کے انداز خطاب کو پہنچا ہے ۔
8۔ ۔ ۔ قرآن کے مخصوص محاوروں کی نشاندہی کرتا ہے ۔
9۔ ۔ ۔ قادر مطلق کی روائے عزت و جلال میں نقص و عیب کا دھبہ لگانے والوں کیلئے تیغ بران ہے ۔
10۔ ۔ ۔حضرات انبیاء علیہم السلام کی عظمت و حرمت کا محافظ و نگہبان ہے ۔
11۔ ۔ ۔ عام مسلمین کیلئے بامحاورہ اردو میں سادہ ترجمہ ہے ۔
12۔ ۔ ۔ لیکن علماء کرام و مشائخ عظام کیلئے معرفت کا امنڈتا ہوا سمندر ہے ۔
بس اتنا ہی سمجھ لیجئے کہ قرآن حکیم قادر مطلق جل جلالہ کا مقدس کلام ہے اور کنزالایمان اس کا مہذب ترجمان ہے
۔
فقیر نے جہاں بھی آپ کی تصانیف میں تحقیق مفسرانہ دیکھی تو رازی و غزالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما کے قلم سے آفرین و تحسین سنی اختصار کے پیش نظر چند ایک نظائر مشتے نمونہ خر وار ملاحظہ ہوں جو آپ کی تصنیف سے اخذ کئے گئے ہیں ۔
پیشانی کا داغ
سائل نے صرف اتنا استفسار کیا کہ بعض نمازیوں کو بہ کثرت نماز کے نام یا پیشانی پر جو سیاہ داغ ہو جاتا ہے اس سے نمازی کو قبر و حشر میں خداوند کریم جل جلالہ کی پاک رحمت کا حصہ ملتا ہے یا نہیں اور زید کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ جس شخص کے دل میں بغض کا سیاہ داغ ہوتا ہے اس کی شامت اس کی ناک یا پیشانی پر کالا داغ ہوتا ہے ، یہ قول زید کا باطل ہے یا نہیں اس کے جواب میں اعلٰی حضرت قدس سرہ کے قلم کو جنبش آئی تو چھ صفحات مفسرانہ حیثیت سے لکھے اور ثابت فرمایا کہ اس نشانی کے متعلق چار قول ماثور ہیں اور ہر ایک کا حکم جدا جدا اور آیت سیماھم فی وجوھھم من اثر السجود
کا ایسا مفہوم ادا فرمایا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے اس کے ساتھ ساتھ ان اوہام کا ازالہ فرمایا جو پیشانی کے داغ کو سیماھم فی وجوھھم من اثر السجود میں سمجھتے ہیں ۔
یہ مضمون سوانح احمد رضا میں چند صفحات پر پھیلا ہوا ہے جو نہایت قابل مطالعہ ہے اور تمام تحقیق تفاسیر معتبرہ کے حوالہ جات سے مزین ہے
۔
آیت میثاق
واذ اخذ اللہ میثاق النبیین الخ سے حضور اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فضیلت مطلقہ پر گفتگو فرماتے ہوئے آخر میں تحریر فرمایا اقول و باللہ التوفیق پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس مضمون کو قرآن کریم نے کس قدر مہتمم بالشان ٹھرایا اور طرح طرح سے موکد فرمایا!
اوّلا۔۔۔۔ انبیاء علیہم السلام معصومین ہیں زنہار حکم الٰہی کے خلاف ان سے کوئی کام صادر نہیں ہوتا کہ رب تعالٰی بہ طریق امر انہیں فرماتا کہ اگر وہ نبی تمہارے پاس آئے اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا مگر اس پر اکتفاء نہ فرمایا بلکہ ان سے عہد و پیمان لیا یہ عہد عہد است بر بکم کا دوسرا پیمان تھا جیسے کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تاکہ ظاہر ہو کہ تمام ما سوائے اللہ پر پہلا فرض ربوبیّت الٰہیہ کا اذعان ہے پھر اس کے برابر رسالت محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وبارک و شرف و بجل وعظم )
ثانیا۔۔۔۔ اس عہد کو لام قسم سے موکد فرمایا لتومنن بہ التنصرنہ جس طرح نوابوں سے بیعت سلاطین لی جاتی ہے ۔ امام سبکی رحمۃ اللہ تعالٰٰی علیہ فرماتے ہیں۔
مسئلہ ۔۔۔ بیعت اس آیت سے ماخوذ ہوئی ہے۔
ثالثاً۔۔۔۔ نون تاکید
رابعاً۔۔۔وہ بھی ثقیلہ لا کر ثقل تاکید اور دو بالا فرمایا ۔
خامساً۔۔۔۔یہ کمال اہتمام ملاحظہ کیجیئے کہ حضرات انبیاء علیہم السلام ابھی جواب نہ دینے پائیں کہ خود ہی تقدیم فرماکر پوچھتے ہیں اقررتم کیا اس امر پر اقرار لاتے ہیں یعنی کمال و تعجیل و تسجیل مقصود ہے۔
سادساً۔۔۔ اس قدر پر بھی بس نہ فرمائی بلکہ ارشاد فرمایا واخذتم علٰٰی ذالکم اصری خالی اقرار ہی نہیں بلکہ اس پر میرا بھاری ذمّہ لو۔
سابعاً۔۔۔ علیہ یا علی ھذا کی جگہ علٰی ذالکم فرمایا کہ بعد اشارت عظمت ہو۔
ثامناً۔۔۔۔ اور ترقی ہوئی کہ فاشھدوا ایک دوسرے پر گواہ ہو جائے۔ حالانکہ معاذ اللہ اقرار کر کے مکر جانا ان پاک مقدّس جنابوں سے معقول نہ تھا ۔
تاسعاً۔۔۔۔کمال یہ ہے کہ صرف ان کی گواہی پر اکتفاء نہ ہوا بلکہ فرمایا انا معکم من الشاھدین میں خود بھی تمھارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔
ّعاشراً۔۔۔۔سب سے زیادہ نہایت کار یہ ہے کہ اس عظیم جلیل تاکیدوں کے بعد بآنکہ انبیاء علیہم السلام کو عصمت عطا فرمائی یہ سخت شدید تہدید بھی فرمادی گئی کہ فمن تولٰی بعد ذالک فاولئک ھم الفٰسقون اب جو اس اقرار سے پھرے گا فاسق ٹھہرے گا

اللہ اللہ یہ وہی اعتنائے تام و اہتمام تمام ہے جو باری تعالٰٰی کو اپنی توحید کے بارے میں منظور ہوا کہ ملائکہ معصومین کے حق میں بیان فرماتا ہے ومن یقل منھم انی الہ من دونہ فذالک نجزیہ جہنم کذالک نجزی الظالمین ، جو ان میں سے کہے گا کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں اس کو جہنم کی سزا دیں گے ہم ایسے ہی سزا دیتے ہیں ستم گروں کو گویا اشارہ فرماتے ہیں
جس طرح ہمیں ایمان کے جز اول لاالہ الا اللہ کا اہتمام ہے یوں ہی جز دوم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اعتنائے تام ہے کہ میں تمام جہانوں کا خدا کہ ملائکہ مقربین بھی میری بندگی سے سر نہیں پھیر سکتے اور میرا محبوب سارے عالم کا رسول ومقتداء کہ انبیائے مرسلین بھی اس کی بیعت و خدمت کے محیط دائرہ میں داخل ہوئے اور اس سے قبل اس آیۃ کا تبصرہ کئی صفحات پر فرمایا تبصرہ کر کے پھر معتبرہ تفاسیر اور محققین علمائے کرام کی تصانیف کے خلاصہ کو دریا کوزہ کی مثالی قائم فرمائی ۔
کلی علم غیب
اور یہ صرف اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا حصہ تھا کہ جب اعدائے دین نے شان نبوت ولایت پر ہاتھ ڈالا تو اعلٰی حضرت کا قلم ڈھال بنا اور مذہب مہذب اہل سنت کے جمیع مسائل کو قرآنی اصول کے مطابق ڈھالنے کی نہ صرف کوشش کی بلکہ حقیقت کو نصف النہار سے ذیادہ آشکارا فرمایا چنانچہ علم غیب کلی اہل سنت اور مخالفین کے مابین نزاع کا ایک اہم مسئلہ ہے اعلٰی حضرت قدس سرہ جب گویا ہوئے تو جلال الملت والدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالٰٰی علیہ کو بھی ساتھ لیا۔
چنا نچہ اعلٰی حضرت قدس سرہ نے علم غیب کلی کا دعوٰٰی یوں تحریر فرمایا
: بے شک حضرت عزت و عظمت نے اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام اوّلین وآخرین کا علم عطا فرمایا مشرق تا مغرب عرش تا فرش سب انہیں دکھایا ملکوت السموت والارض کا شاہد بنایا روز اوّل سے روز آخرت یعنٰی روز قیامت تک کے سب ماکان وما یکون انہیں بتائے اشائے مذکورہ سے کوئی ذرّہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم سے باہر نہ رہا، علم حبیب کریم علیہ افضل الصلواۃ التسلیم ان سب کو محیط ہوا نہ صرف اجمالاً بلکہ ہر صغیر و کبیر ہر رطب و یابس جو پتہ گرتا ہے زمین کی اندھیروں میں جو دانہ کہیں پڑا ہے سب کو جدا جدا تفصیلاً جان لیا الحمد للہ حمداً کثیرا بلکہ یہ جو کچھ بیان ہوا ہر گز ہر گز محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پورا علم نہیں صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وسلم و علٰی وآلہ واصحابہ اجمعین و بارک وکرم وسلم بلکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم سے ایک چھوٹا حصّہ ہے ہنوز اعاطہ علم محمدی میں وہ ہزار در ہزار بے حد و بے کنار سمندر لہرا رہے ہیں جن کی حقیقت وہ جانیں یا ان کا عطا کرنے والا مالک و مولا جل و علا ( و الحمد للہ العلٰی الاعلٰٰی ) کتب حدیث و تصانیف علمائے قدیم و حدیث میں اس کے دلائل کا بہت شافی و بیان وانی ہے اس کے بعد آپ علم غیب کے مسئلہ کو قرآنی آیات سے ثابت فرما کر آخر میں اصول قرآنی پو بحث فرماتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں ۔
عبارت اعلٰی حضرت قدس سرہ
اور اصول میں مبرہن ہو چکا کہ نکرہ حیز نفی میں مفید عموم ہے اور لفظ کل تو ایسا عام ہے کہ کبھی خاص ہو کر مستعمل ہی نہیں ہوتا اور عام افادہ استغراق میں قطعی ہے اور نصوص ہمیشہ ظاہر پر محمول رہیں گے بے دلیل شرعی تخصیص و تاویل کی اجازت نہیں ورنہ شریعت سے مان اٹھ جائے نہ حدیث آحاد اگر چہ کیسی اعلٰی درجہ کی صحیح ہو عموم قرآن کی تخصیص تراخی نسخ ہے اور اخبار کا نسخ نا ممکن اور تخصیص عقلی عام کو قطعت سے نازل نہیں کرتی نہ اس کے اعتماد پر کسی ظنی سے تخصیص ہو سکے تو بحمدللہ کیسے نص صریح قطعی سے روشن ہوا کہ ہمارے حضور صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ عزوجل نے تمام موجودات جملہ ماکان ومایکون الٰی یوم القیامۃ جمیع مندرجات لوح محفوظ کا علم دیا اور شرق و غرب سماء وارض عرض فرش میں کوئی ذرّہ حضور صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم سے باہر نہ رہا ۔
جو کچھ اعلٰٰی حضرت قدس سرہ نے اصول تفسیر کے طور پو اپنا مسلک واضح فرمایا وہی اصول امام سیوطی سینکڑوں سال پہلے بیان فرماگئے چنانچہ حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں :-
العالم یستغرق الصالح من غیر حصرو صیغۃ کل مبتداۃ وما والمعروف بال و اسم الجنس المضاف والنکرۃ فی سیاق العفی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ العالم الباقی فی عمومہ من خاص القرآن ما کان مخصصاً لعموم السنۃ و ھو عزیز قال این الحصار انما یرجع فی النسخ الٰٰی نقل صریح عن رسول اللہ صلی اللہ تعالٰٰٰٰٰی علیہ وآلہ وسلم وعن اصحابی یقول آیۃ کذا نسخت کذا قال و حکم بہ عند وجود التعارض المقطوع بہ سع علم التاریخ یعرف التقدم و المتاخر قال ولا یعتمد فی النسخ قول عوام المفسرین بل ولا اجتھاد المجتھدین من غیر نقل صحیح ولا معارضۃ بینۃ لان النسخ یتضمن دفع حکم و اثبات حکم۔۔۔ نقرر— فی عھدہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم الصعتمد فیہ النقل والتاریخ دون الرای اوالاجتھاد قال والناس فی ھذا بین طرفی نقیض فمن قائل لا یقبل فی النسخ اخبار الاحاد العدول و من ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یکتفی فیہ بقول مفسر او مجتھد والصواب خلاف قولھما ۔ ۔ ۔ اذا سیق العام للمدح الذم فھل ھو باق علٰی عمومہ فیہ مذاھب احدھا نعم اذ لا صارف عنہ ولا تنافی بین العموم و بین المدح و الذم ۔۔ الخ
تبحر فی فن التفسیر کے نمونے
بالاستعیاب تو نہیں چند آیات کے نمونے تفسیری حیثیت سے فقیر یہاں عرض کرتا ہے۔
آ1۔ ۔ ۔ فتاوٰی افریقہ 17 میں ہے سائل نے عبد المصطفٰٰے نام رکھنے کے متعلق سوال لکھا تو اعلٰی حضرت قدس سرہ نے عبد المصطفٰے نام رکھنے کے جواز میں
آیۃ وانکحو الایمٰی منکم منکم والصالحین من عبادکم سے استدلال فرمایا اس کے بعد تفسیر القرآن بالحدیث کے قاعدہ پر آیات کی تفسیر اور اپنے موضوع کو احادیث مبارکہ کے چند حوالہ جات سے مزین فرمایا پھر اس کے بعد تفسیر القرآن بالقرآن جو تفسیر کا اعلٰی درجہ ہے آیت مذکورہ کیلئے یٰعبادی الذین اسرفوا سے استشہاد فرمایا ۔
آپ کے استدلال پر فخر الدین رازی کی تفسیر کبیر کو سامنے رکھئے تو یقین آئیگا کی اعلٰی حضرت قدس سرہ طرز استدلال میں امام رازی ہیں۔
2۔ ۔ ۔ اسی فتاوٰی افریقہ 19 میں سائل نے سوال کیا کہ آپ نے اپنی بعض تصانیف میں اہل اسلام کو مخاطب فرمایا کیا آپ کا خدا تعالٰی سے کوئی تعلق نہیں جب کہ آپ دوسروں کو تمہارا خدا کے الفاظ سے یاد کرتے ہیں ۔
اعلٰی حضرت قدس سرہ نے صرف اسی ایک چھوٹے سوال پر اختصاراً دس آیات اور دس احادیث سے جواب مرحمت فرمایا جو آپ کی قرآن دانی کا بین ثبوت ہے ۔
3۔ ۔ ۔ اسی فتاوٰی افریقہ میں بد مذاہب سے بیزاری کے متعلق درجنوں آیات سے استدلال کے بعد متعدد احادیث مبارکہ سے استشہاد فرمایا ۔
4۔ ۔ ۔ اسی فتاوٰی افریقہ کے صفحہ 13 پر آیۃ وسیلہ کا بیان مفصّل مفسّر فرمایا کہ جس میں وسیلہ کی تمام شقوں کی تفصیل پھر اس پر اسلاف صالحین کے ارشادات کی تزنین کے بعد پیری مریدی کی تمام اقسام واضح فرمائیں جن میں سچے اور جھوٹے پیروں اور فقیروں کی پہچان آسان فرمادی جو اسلاف صالحین کی تصانیف میں یکجا کہیں اسی تحقیق کے ساتھ نہ ملے گی پھر کمال یہ ہے کہ صرف ایک جملہ کی تحقیق پر کتاب کے کئی صفحات ُپر فرمائے امام فخر الدین رازی قدس سرہ کو ناقدین نے معاف نہ فرمایا کہا امام موصوف آیت کے مضمون کو اتنا طول دیتے ہیں کہ فن تفسیر کا رنگ بکھر جاتا ہے لیکن ہمارے امام ممدوح کا مضمون اتنا پر بہار ہے کہ جتنا طویل ہوتا گیا اتنا فن تفسیر اجاگر ہوتا چلا گیا ہے ۔ اگر وہی ناقدین ہمارے امام ممدوح کے مضمون کو دیکھ لیتے تو قلم رضا کو چوم لیتے ۔
5۔ ۔ ۔ اکثر مفسّرین صرف ناقل ہوتے ہیں استنباط کرنے والے گنتی کے چند ملیں گے لیکن اعلٰی حضرت قدس سرہ کو اللہ کی طرف سے تائید غیبی نصیب تھی کہ آیت کی تفسیر میں نقول معتبرہ کے ساتھ احادیث مبارکہ سے جب استنباط فرماتے تو دریا بہا دیتے چنانچہ آیت ان اشکر لی ولوالدیک کی تفسیر میں حقوق الاولاد علی الوالد اسّی حقوق گنائے جو سب کے سب آیت کی تفسیر سے متعلق اور احادیث مبارکہ سے مستنبط ہیں ۔ صرف اسی مضمون پر ایک رسالہ مشعلۃ الارشاد تیار ہو گیا ۔
اس کے علاوہ اور درجنوں بحثیں آیت کی تفسیر میں لائے جنہیں پڑھنے کے بعد تصدیق ہوتی ہے کہ اعلٰٰی حضرت کا تبحر فی فن التفسیر بے مثال ہے ۔
6۔ ۔ ۔ اجمالی آیات کی تفسیر میں مفسرین کا ہمیشہ اختلاف چلا آرہا ہے لیکن مفسرین کی عادت رہی ہے کہ اپنے موقف کو دلائل سے ثابت کرتے وقت زیادہ سے زیادہ درجنوں دلائل قائم کئے لیکن اعلٰی حضرت قدس سرہ کا طرز نرالہ ہے کہ جب اپنے موقف کی توضیح فرماتے ہیں تو سنکڑوں دلائل و براہین حوالہ قلم فرماتے ہیں چنانچہ تجلی الیقین
کی تصنیف آپ کے شہسوار قلم ہونے کی جیتی جاگتی دلیل ہے کہ منکرین نے جب آقائے کونین ماوائے ثقلین رحمت کل ہادی سبل سیّد المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی افضیلت کا انکار کیا تو درجنوں آیات قرآنیہ مع حوالہ جات تفاسیر مستندہ اور درجنوں احادیث صحیحہ اور اقوال اور اسلاف صالحین کی تصانیف سے استدلال فرمایا اس تصنیف اعلٰی حضرت قدس سرہ کو یوں انعام نصیب ہوا کہ حبیب کبریا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیارت بشارت سے نوازا جس کا ذکر امام اہلسنّت نے تجلی الیقین کے آخر میں خود بیان فرمایا ہے ۔
7۔ ۔ ۔ صرف ایک آیت پر سینکڑوں صفحات پر کتاب لکھ دی جو پوری کتاب تفاسیر کے حوالہ جات کے علاوہ اپنے استنباطات کے ساتھ اصول تفسیر سے موضوع کو مضبوط و موثوق فرمایا مثلاً آیت ممتحنہ کی تفسیر الحجۃ الموتمنہ قابل مطالعہ کتاب ہے ۔
8۔ ۔ ۔ مختلف مسائل پر تفاسیر لکھنے بیٹھے تو تفاسیر کے حوالہ جات کے ڈھیر لگا دیئے چنانچہ ما اھل لغیر اللہ بہ کی توثیق میں تفاسیر معتبرہ کے حوالہ جات لکھوائے حیات اعلٰی میں 36 تفاسیر کی عبارت لکھوائیں پھر بھی فرمایا ان کے علاوہ اور بھی ہیں ۔
9۔ ۔ ۔ تفسیر میں قرآنی نکات بیان فرمائے تو خود مفسرین حیرت میں آگئے ملفوظ شریف حصہ چہارم میں فرمایا کہ ساتویں آسمان سات زمینیں دنیا ہیں اور ان سے وراء سدرۃ المنتہٰی ہے عرش، کرسی اور آخرت ۔ دار دنیا شہادت ہے اور دار آخرت غیب، غیب کی کنجیوں کو مفاتیح اور شہادت کی کنجیوں کو مقالید کہتے ہیں ۔ قرآن عظیم میں ارشاد ہوتا ہے و عندہ مفاتیح الغیب لا یعلمھما الا ھو ، اور دوسری جگہ ارشاد ربّانی ہے لہ مقالید السموت والارض ،مفاتیح کا حرف اوّل میم م اور آخری حرف حا ح اور مقالید کا پہلا حرف اور آخری حرف ہ ہے مرکب کرنے سے نام اقدس ظاہر ہوتا ہے یعنٰٰی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی سے یا تو اس طرف اشارہ ہے کہ غیب و شہادت کی کنجیاں سب اسے دی گئی ہیں یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی شے ان کے حکم سے باہر نہیں ۔
دو جہاں کی بہتریاں نہیں کہ امانی دل و جان نہیں
کہو کیا ہے وہ جو یہاں نہیں مگر اک نہیں کہ وہاں نہیں

یا اس طرف اشارہ ہو سکتا ہے کہ مفاتیح و مقالید غیب و شہادت سے حجرہ خفا یا عدم میں مقفل تھی ، مفاتیح مقلاد جس سے ان کا قفل کھولا گیا اور میدان ظہور میں لایا گیا۔ وہ ذات ۔ ۔ ۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر یہ تشریف نہ لاتے تو سب اسی طرح مقفل حجرہ یا خفا میں رہتے ۔
وہ جو نہ تھے تو کچھ بھی نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ بھی نہ ہو
جان ہیں وہ جہاں کی ، جان ہے تو جہاں ہے
۔
10۔ ۔ ۔ اعلٰی حضرت قدس سرہ کا تبحر فی فن التفسیر سمجھئے یا کرامت کہ خلاف عادت قرآن کی آیات برجستہ مخالف کو جواب دیا ، چنانچہ ایک رافضی نے کہا کہ انا من المجرمین منتقمون کے عدد 1202 ہیں اور یہی عدد ابو بکر ، عمر ، عثمان کے ہیں (معاذ اللہ ) اعلٰی حضرت قدس سرہ یہ سن کر بے قرار ہو گئے فوراً بلا تاخیر برجستہ کئی جوابات بیان فرمائے وہ جوابات سنئے !
(رافضی لعنہم اللہ تعالٰی ) کی بناء مذہب ایسے اوہام بے سرو پا پر ہے ۔
اوّلا ۔ ۔ ۔ ۔ ہر آیت عذاب کے عدد اسماء اخیار سے مطابق کر سکتے ہیں اور ہر آیت ثواب کے اسماء کفار سے کہ اسماء میں وسعت وسیعہ ہے ۔ رافضی نے آیت کو ادھر پھیرا کوئی ناصبی ادھر پھیرے گا اور ( رافضی ناصبی) دونوں ملعون ہیں ۔
امیر المؤمنین عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نام پاک میں الف نہیں لکھا جاتا تو عدد بارہ سو ایک ہیں نہ کہ دو ۔
(1) ہاں رافضی ۔ ۔ ۔
بارہ سو دو ( 1202 ) عدد کا ہے کہ ابن سباد رافضہ
(2) ہاں رافضی ۔ ۔ ۔ ۔ بارہ سو عدد ان کے ہیں ، ابلیس، یزید، ابن زیاد، شیطان ، الطاق کلینی بابویہ قمی طوسی حلی ۔
(3)ہاں رافضی ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے :
ان الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعاً لست منھم فی شئے ۔
بے شک جنہوں نے اپنا دین ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور شیعہ ہو گئے اے نبی تمہیں ان سے کچھ علاقہ نہیں ۔ ( سورۃ الانعام رکوع 2 )
اس آیۃ کریمہ کے عدد 2828 ہیں اور یہی عدد ہیں ، روافض اثناءعشریہ شیطانیہ اسماعیلیہ ، کے ۔ اور اگر اپنی طرح سے اسماعیلیہ میں الف چاھئے تو یہی عدد ہے روافض اثناء عشیریہ نصیریہ و اسماعیلیہ ، کے ۔

(4) ہاں اور رافضی ۔ ۔ ۔ ۔! اللہ تعالٰٰی فرماتا ہے لھم اللعنۃ و لھم سوء الدار ان کیلئے لعنت ہے اور ان کیلئے ہے برا گھر (سورۃ الرعد رکوع 2 ) اس کے عدد 644 ہیں اور یہی عدد ہیں شیطان الطاق طوسی حلی کے ۔
(5) نہیں اور رافضی !۔ ۔ ۔ ۔بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اولئک ھم الصدیقون والشھداء عند ربھم لھم اجرھم ،‌ ۔ (سورۃ الحدید رکوع 3 ) اس کے اعداد 1445 ہیں اور یہی عدد ہیں ابوبکر ، عمر ، عثمان، علی ، سعید کے ۔
(6)نہیں اور رافضی !۔ ۔ ۔ ۔بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اولئک ھم الصدیقون والشھداء عند ربھم لھم اجرھم و نورھم ، وہی اپنے رب کے حضور صدیق وشہید ہیں ان کیلئے ان کا ثواب اور ان کا نور (سورۃ الحدید رکوع 3 ) اس کے اعداد 1792 اور یہی عدد ہیں ابو بکر ، عمر ، عثمان ، طلحہ، زبیر ، سعید کے ۔
(7) نہیں اور رافضی !۔۔۔۔۔۔ بلکہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے والذین امنوا باللہ ورسلہ اولئک ھم الصدیقون والشھداء عند ربھم لھم اجرھم و نورھم ، جو لوگ ایمان لائے اللہ اور اس کے رسولوں پر وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق و شہید ہیں ان کیلئے ان کا ثواب اور ان کا نور (سورۃ الحدید رکوع 3 ) اور یہی عدد ہیں صدیق ، فاروق ، ذوانورین ، علی، طلحہ ،زبیر ، سعید، ابوعبیدہ، عبد الرحمٰن بن عوف کے ۔
آخر میں فرمایا ، الحمد للہ آیۃ کریمہ کا تمام کمال جملہ مدح بھی پورا ہو گیا اور حضرات عشرہ مبشرہ رضی اللہ تعالٰٰی عنھم اجمعین کے اسماء طیبہ بھی سب آگئے جس میں اصلاً تکلف و تصنع کو دخل نہیں ۔ چند دنوں سے آنکھ دکھتی ہے ۔ یہ تمام آیات عذاب و اسماءاشرار و آیات مدح و اسماء اخیار کے عدد محض خیال میں مطابق کئے جس میں صرف چند منٹ صرف ہوئے اگر لکھ کر اعداد جوڑے جائے تو مطابقتوں کی بہار نظر آتی مگر بعونہ تعالٰٰی اس قدر بھی کافی ہے ۔ واللہ الحمد واللہ اعلم (فقیر احمد رضا قادری غفر لہ)
اس فتوے کو نقل کر کے مستفتی نے لکھا ہے ، شیعہ رافضی کا ماشاء اللہ ولیہ نہیں بلکہ قیمہ ہو گیا ۔
اب مجال دم زون نہیں فقیر نے یہ کرامت اعلٰٰی حضرت عظیم البرکت مجدد دین و ملّت امام اہل سنّت و جماعت چشم خود ملاحظہ کی کہ چند لمحوں میں ان تمام آیات و اعداد کی مطابقت زبان فیض و الہام ترجمان سے فرمائی ۔ یہ رات کا وقت تھا قریب نصف گزر چکی تھی ۔
واللہ باللہ عدد اخیار و اشرار کے اسماء بلا سوچے اور بے تامل کئے فر ما دئیے کہ فقیر سوا اس کے اور کوئی اندازہ نہیں کر سکتا کہ یہ اعلٰی حضرت کی کرامت کا اظہار بہ ذریعہ القائے ربّانی و الہام سبحانی تھا ۔ (حیات اعلٰٰی حضرت 149 ، 150 )
فصلی اللہ تعالٰٰی علٰٰی حبیبہ سیّد المر سلین و علٰٰی آلہ و اصحابہ اجمعین فاخر دعوانا ان الحمد للہ ربّ العالمین
19 صفر 1403ھ ، بہاولپور ، پاکستان
الفقیر القادری ابو الصالح محمد فیض احمد اویسی رضوی غفر لہ

محدث بریلوی اور تعلیم و تعلم

محدث بریلوی اور تعلیم و تعلم

مولانا غلام مصطفی رضوی

نوری مشن، مالیگاؤں، انڈیا
            علم ”اجالا“ ہے۔ ایسا اجالا کہ جو چھپائے نہیں چھپتا، مٹائے نہیں مٹتا، عام کرنے سے نہیں گھٹتا۔ قرآنِ مقدس میں تعلیم و تعلّم سے متعلق بہت سے مضامین آئے ہیں۔ قرآنِ مقدس کی سمجھ کے لئے بھی علم چاہئے۔ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:
 
اَلرَّحمٰنُ O عَلَّمَ القُراٰنَ O    ترجمہ: ”رحمن نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا۔“ (1)

قرآن علم و حکمت کا منبع ہے جس کی تعلیم حق تعالیٰ نے اپنے محبوب سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمائی اور صحابہ  کرام کی مقدس جماعت نے معلمِ کائنات سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآنِ مقدس کی تعلیم لی اور علوم سیکھے اور ان کا نقش بعد والوں کے لئے ہدایت ہوا اور وہ راہ بر و راہ نُما ٹھہرے۔

تِرے غلاموں کا نقشِ قدم ہے راہِ خدا

وہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے

            اللہ عزوجل نے اپنے آخری نبی حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیج کر حق و باطل، اچھائی و برائی کے فرق کو واضح کردیا۔ حق ظاہر فرمادیا اور ہر ایک کے لئے معیار ”علم“ بنایا تاکہ سچی راہ کا انتخاب بآسانی ہو۔ پھر اس کے لئے علمِ دین کو فرض قرار دیا گیا تاکہ ایمان و عقیدہ کی تعمیر و حفاظت ہوسکے اور نور و نار کے درمیان امتیازات کئے جاسکیں۔

            حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ نے، ان سے تابعین نے اور پھر بعد والوں نے علم سیکھا۔ اس طرح تعلیم و تعلّم کا سفر جاری رہا اور باضابطہ پہلی درس گاہ مسجد نبوی سے متصل قائم ہوئی اور اس سے اُٹھنے والے نور نے ساری کائنات کو روشن و منور کردیا۔

            اسلام نے جہاں علم کو اوّلیت دی ہے اور علمِ دین کا حاصل کرنا فرض قرار دیا ہے وہیں علم سکھانے والے ”معلم“ (استاذ) کے مقام و مرتبہ کی پہچان بھی کروائی ہے۔ معلم کی اہمیت قرآن مقدس کے اس بیان سے بھی مزید واضح ہوتی ہے:

فَسئَلُوآ اَھلَ الذِّکرِ اِن کُنتُم لَاتَعلَمُونَ O

ترجمہ: ”تو اے لوگو علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں۔“ (2)

            علم و فن کو مسلمانوں نے ترقی دی۔ سرزمینِ عرب سے نمودار ہوکر اسلام کی کرنوں نے دیگر بلاد و امصار کو بھی روشن و منور کردیا تو علم کا بھی نصیبہ جاگ اُٹھا۔ تحقیق و تدقیق کی راہیں کھلیں۔ قرآن جو علم و حکمت کا سرچشمہ ہے اس سے استفادہ عام ہوا۔ ذہن کی گرہیں کھلیں، مشاہدات و تجربات کے در کھل گئے۔ علم و فن کے نئے نئے پہلو متعارف ہوئے۔ مسلمانوں نے ہر علم و فن کو اسلام ہی کا مرہونِ منت جانا اور اصل علاقہ ”علمِ دین“ سے رکھا بایں ہمہ دنیا کے قائد و معلم رہے۔ ایک مسلمان عالمِ دین ہوتا تو ساتھ ہی سائنس، حکمت، ریاضی و دیگر علوم و فنون میں ماہر و مشتاق۔ اکابرِ امت و علمائے امت نے اس قدر کو نبھائے رکھا۔ ہندوستان کی سرزمین پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدثِ بریلوی (ولادت 1272ھ/ 1856ء…. وصال 1340ھ/ 1921ء) کی ذات شاہد ہے جن کی دینی و علمی اور تعلیمی خدمات نے مسلمانوں کے ایمان و ایقان کے تحفظ اور عروج و ترقی کی راہیں ہموار کیں۔

استحضارِ علمی: امام احمد رضا محدثِ بریلوی، علم و فن کا بحرِ عمیق، جس میں غواصی کی جائے تو تہہ نہ ملے۔ یہ اللہ عزوجل کا انعام و اکرام ہے۔ آپ کے استحضارِ علمی کا اندازہ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ آج عالمی یونیورسٹیوں میں آپ کے علوم و فنون، حیات و خدمات، دینی و فقہی بصیرت پر تحقیق کی جارہی ہے جبکہ علوم و فنون کے اس مرجع نے نہ تو کسی کالج و یونیورسٹی میں پڑھا، نہ کسی ماہر فن کے حضور زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ جو پڑھا، دین کا علم پڑھا۔ جملہ درسیات کی تکمیل اپنے والدِ ماجد مولانا نقی علی خاں بریلوی سے گھر پر کی۔ اپنے دورِ طالب علمی کے احوال بقلم محدثِ بریلوی ملاحظہ فرمائیں اور آپ کی استعدادِ علمی کی داد دیں:

            ”بچپن میں استاذ محترم نے ”علم الفرائض“ میں وارثوں کے حصے اور ان کی تقسیم کا طریقہ بتایا تھا وہ بھی زبانِ مبارک سے، کتاب کے بغیر، صرف ایک گھڑی کے اندر اور حساب کے صرف چار قاعدے سکھائے تھے:

1۔ جمع 2۔ تفریق 3۔ ضرب  4۔ تقسیم

            ان قاعدوں کی تعلیم اس لئے دی تھی کہ علمِ فرائض میں جو علومِ دینیہ کا نصف ہے، ان کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔ اور علمِ ہیئت سے شرح چغمینی کے چند اوراق دائرة الارتفاع تک پڑھائے تھے۔ اور علمِ ہندسہ میں نصیر طوسی کی تحریر اقلیدس کی صرف شکلِ اول کی تعلیم دی تھی۔ میں نے جب سیدی والد (قدس الواجد سرہ الماجد) سے شکل اول تک پڑھا تو خدا معلوم انہوں نے مجھ میں کیا دیکھا کہ زیادہ پڑھنے سے روک دیا اور فرمایا اس میں اپنا وقت ضائع نہ کر، تو اپنی فکر اور ذہن کے ذریعہ خود ہی اس سب کو حل کرلے گا۔ اپنے آپ کو صرف علومِ دینیہ کی تحصیل و تکمیل میں مشغول رکھ۔ میں نے ان کے اس ارشادِ گرامی کی برکت اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کی ہے۔ سب تعریفیں دن رات کے اند رصرف اللہ تبارک شانہ کو ہیں اور علمِ تکسیر سے مثلث و مربع کے بعض طرق سکھائے۔ ازاں بعد فقیر نے قدرت والے رب کی مدد سے ان تمام علوم و فنون میں غواصی کی اور ان کے دقائق آسان کرکے ان کے اصحاب کو سکھائے اور ان کی کتابیں پوری چھان بین اور تنقید کے ساتھ پڑھائیں۔“ (3)

            مذکورہ سطور کے مطالعہ سے محدثِ بریلوی کے حزم و احتیاط، حکمت و تدبر اور علومِ دینیہ کی اہمیت و افادیت نیز تفنن طبع کا بھی بخوبی اندازہ ہوتا ہے اور آپ کی علمی بصیرت کا درخشاں پہلو اجاگر ہوتا ہے۔

            مسلمانوں کا تعلیمی انحطاط اور اخلاقی زوال اور مسلم معاشرے پر مغربی تمدن کے اثرات، فحاشی و عریانیت کی یلغار پوشیدہ نہیں۔ محدثِ بریلوی چاہتے تھے کہ مسلمانوں کی زندگی اسلام کے سانچے میں ڈھل جائے اور اس کا اظہار کردار و گفتار، افکار و اطوار اور افعال سے ہو۔ آپ تعلیم و تعلّم، درس و تدریس کے نشیب و فراز سے واقف اور علمی و فنی نزاکتوں سے آگاہ تھے اور نصاب کے لوازمات سے باخبر۔ 70سے زائد قدیم و جدید علوم و فنون کے ماہر اور لگ بھگ ایک ہزار کتابوں کے مصنف تھے۔ آپ کے تعلیمی نظریات قوم کی تعمیر و ترقی اور فلاح و اصلاح کے ضامن ہیں اور صحت مند مسلم معاشرے کی تشکیل میں معاون ہیں۔

فضلیتِ علم: امام احمد رضا محدثِ بریلوی علم کی فضیلت سے متعلق تحریر فرماتے ہیں: ”مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم، جنہوں نے علم و علماءکے فضائلِ عالیہ ارشاد فرمائے، انہیں کی حدیث میں وارد ہے کہ علماءوارث انبیاءکے ہیں، انبیاءنے درم و دینار ترکہ میں نہ چھوڑا، علم اپنا ورثہ چھوڑا ہے، جس نے علم پایا اس نے بڑا حصہ پایا۔“ (4)

فرض عین علم: علامہ محمد عبد المبین نعمانی تحریر فرماتے ہیں: ”آج کل علم کا بڑا چرچا ہے، تعلیم کو کافی فروغ بھی مل رہا ہے۔ تعلیم کی اہمیت و فضیلت پر تقریر و تحریر کے ذریعے زوردار انداز سے روشنی بھی ڈالی جارہی ہے۔ ”علم سیکھنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔“ اس کا بھی بار بار ذکر کیا جاتا ہے۔ لیکن افسوس کہ اس علم سے کون سا علم مراد ہے اس کی تعیین میں بہت من مانی سے کام لیا جاتا ہے جو جس علم کی اہمیت زیادہ سمجھتا ہے اس پر اس حدیث کو فٹ کرتا نظر آتا ہے بلکہ دیکھا یہ جاتا ہے کہ دنیاوی علم کے دلدادہ اور فرنگی تہذیب کے شیدا حضرات اس حدیث کو بہت زیادہ پڑھتے اور سناتے اور اس کے ذریعہ دنیاوی علم کی طرف رغبت دلاتے ہیں۔ دنیاوی علوم حاصل کرنا صنعت و حرفت اور سائنس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا منع نہیں۔ اسلام اور علمائے اسلام نے ان سے کبھی منع نہیں کیا۔ البتہ اس بات کا غلط پروپیگنڈہ خوب کیا گیا۔ کسی چیز کا جائز ہونا اور بات ہے اور اس کی فرضیت چیزے دگر۔“ (5)

            فرض عین علم صرف ”علمِ دین“ ہے۔ رہی بات دیگر علوم کی اس تعلق سے محدثِ بریلوی نے قدرے وضاحت فرمائی ہے اور ان علوم کی تعلیم سے متعلق اسلامی احکام واضح کئے ہیں۔ جن کی بابت اس مقالے میں گفتگو ہوگی۔ محدثِ بریلوی رقم طراز ہیں: ”فقیر غفر اللہ تعالیٰ لہ قرآن و حدیث سے صدہا دلائل اس معنی پر قائم کرسکتا ہے کہ مصداقِ فضائل (علم) صرف علومِ دینیہ ہیں و بس۔“ (6)

            دنیا بندہ مومن کے لئے آخرت کی کھیتی ہے۔ ایک مسلمان کے لئے دنیا، دین سے جدا نہیں اور علمِ دین کے ثمرات تو دنیا آخرت میں بھی ظاہر ہوں گے۔ بایں سبب علمِ دین کا سیکھنا فرض قرار دیا گیا پھر دیگر علوم کی تعلیم بقدر ضرورت لی جاسکتی ہے۔

            دین کا علم حاصل کئے بغیر دیگر علوم جغرافیہ، تاریخ وغیرہ میں وقت لگانا جائز نہیں اس لحاظ سے محدثِ بریلوی رقم طراز ہیں: ”علمِ دین سیکھنا اس قدر کہ مذہب حق سے آگاہ ہے، وضو، غسل، نماز، روزے وغیرہا ضروریات کے احکام سے مطلع ہو۔ تاجر تجارت، مزارع زراعت، اجیراجارت، غرض ہر شخص جس حالت میں ہے اس کے متعلق احکامِ شریعت سے واقف ہو، فرض عین ہے جب تک یہ حاصل کرے، جغرافیہ، تاریخ وغیرہ میں وقت ضائع کرنا جائز نہیں۔“ (7)

            غرضیکہ علم وہی ہے جس سے معرفتِ الٰہی عزوجل حاصل ہو اور سرکارِ اقدس سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکت کی پہچان ہو۔

فرضِ کفایہ علم: امام احمد رضا محدثِ بریلوی فرماتے ہیں: ”ان ضروریات (فرض عین علم) سے فراغ کے بعد پورا علمِ دین فقہ، حدیث، تفسیر، عربی زبان، اس کی صرف، نحو، معانی، بیان، لغت، ادب وغیرہا آلات علومِ دینیہ بطور آلات سیکھنا سکھانا فرضِ کفایہ ہے۔“ (8)

مباح علم: محدثِ بریلوی بعض فنون کا ذکر مباح کام کے زمرے میں کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ”ہاں جو شخص ضروریاتِ دین مذکورہ سے فراغت پاکر اقلیدس، حساب، مساحت، جغرافیہ وغیرہا وہ فنون پڑھے جن میں کوئی امر مخالف شرعی نہیں تو ایک مباح کام ہوگا جبکہ اس کے سبب کسی واجب شرعی میں خلل نہ پڑے ورنہ

مبادا دل آں فرو مایہ شاد                 از بہر دنیا دہد دیں بباد“ (9)

علومِ عقلیہ: امام احمد رضا محدثِ بریلوی فکرِ صحیح کے مالک تھے۔ آپ کا معیار وہی تھا جو قرآن و سنت نے دیا لہٰذا اس کسوٹی پر جسے کھرا پایا اسے قبول کیا اور جسے برخلاف اسے پامال کردیا اور اس سے قوم کو بچنے کی تلقین و تنبیہ فرمائی۔ علومِ عقلیہ (مثلاً سائنس، جغرافیہ، ہیئت، ریاضی وغیرہ) سے متعلق متوازن فکر دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ”تو مطلقاً علومِ عقلیہ کے تعلیم و تعلّم کو ناجائز بتانا یہاں تک کہ بعض مسائلِ صحیحہ مفیدہ عقلیہ پر اشتمال کے باعث توضیح و تلویح جیسی کتبِ جلیلہ عظیمہ دینیہ کے پڑھانے سے منع کرنا سخت جہالت شدیدہ و سفاہت بعیدہ ہے۔“ (10)

دیگر علوم کی تحصیل: محدثِ بریلوی کے نزدیک دین کا علم سیکھنا ہی سب سے اہم و افضل ہتے۔ اگر دیگر علوم کو دین کی بنیادوں پر سیکھا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ ایک مقام پر منطق کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں: ”نفس منطق ایک علم آلی و خادم علم اعلی الاعالی ہے اس کے اصل مسائل یعنی مباحث کلیاتِ خمسہ و قول شارح و تقاسیم قضایا و تناقض و عکوس ضاعات خمس کے تعلّم میں اصلاً حرج شرعی نہیں، نہ یہ مسائل شرع مطہرہ سے کچھ مخالفت رکھیں۔“ (11)

            یہ ناروا ہے کہ علمِ دین کے سوا دیگر علوم میں منہمک ہورہے اور ان میں اپنے اوقات صرف کردے۔ چاہئے کہ دیگر علوم و فنون کو دین کی بنیادوں پر اور اس کے اصولوں کی روشنی میں سیکھا جائے۔ دینی ضرورت کے تحت یا مسائلِ شرع میں جو علوم معاون ہوں ان کا حاصل کرنا محمود ہے۔ محدثِ بریلوی کے مطابق:

            ”خصوصاً علمِ طب کا مفید و محمود و محتاج الیہ ہونا تو ظاہر، یونہی فرائض کے لئے ضروری حساب اور ہمیں معرفت صحیحہ اوقاتِ طلوعِ فجر، کاذب و صادق و شمس و ضحوۂ کبریٰ و استوا و ظلِ ثانی غایۃ الارتفاع و مثلِ اوّل و ثانی و غروبِ شمس و شفقِ احمر و ابیض کہ نماز و سحری و افطار وغیرہا امورِ دینیہ و مسائلِ شرعیہ میں ان کی سخت حاجتِ عامہ کو بروجہ تحقیق بقدر قدرت بشری بے علم زیجات یا آلاتِ رصدیہ نامتصور، ان کی ناواقفی سے بہت لوگ سخت غلطیوں میں مبتلا رہتے ہیں۔“ (12)

            جو علوم کسی نہ کسی طرح مفید و کار آمد ہیں ایسے علوم کو بقدرِ ضرورت حاصل کرنے کی اجازت ہے لیکن اسی میں مشغول ہورہنا وقت کو ضائع کرنا ہے۔ محدثِ بریلوی کا یہ ارشاد جہاں بلاغت کا مرقع ہے وہیں فکر انگیز اور سینکڑوں صفحات پر بھاری ہے۔ محدثِ بریلوی تحریر فرماتے ہیں:

            ”ہاں علم آلی سے بقدر آلیت اشتغال چاہئے۔ اس میں منہمک ہوجانے والا سَفِیہ، جاہل اور مقاصدِ اصلیہ سے محروم و غافل ہے، اسی طرح بہت اجزائے حکمت مثلِ ریاضی، ہندسہ و حساب و جبر و مقابلہ و ارثماطیقی و سیاحت و مرایا و مناظر و جرثقیل و علمِ مثلثِ کروی و مثلث مسطح و سیاستِ مدن و تدبیر منزل و مکائد حروب و فراست و طب و تشریح و بیطرہ و بیزرہ و علم زیجات و اسطر لاب و آلاتِ رصدیہ و مواقیت و معاون و نباتات و حیوانات و کائنات الجو و جغرافیہ وغیرہا بھی شریعتِ مطہرہ سے مضادت نہیں رکھتے بلکہ ان میں بعض بلاواسطہ بعض بالواسطہ امورِ دینیہ میں نافع و معین اور بعض دیگر دنیا میں کار آمد ہیں اگرچہ مقاصدِ اصلیہ کے سوا حاجت سے زیادہ کسی شے میں تَوَغُل فضولی و بیہودگی ہے۔“ (13)

            ایک اور مقام پر محدثِ بریلوی ارشاد فرماتے ہیں: ”ان (علومِ دینیہ) کے سوا کوئی علم شرع کے نزدیک علم، نہ آیات و احادیث میں وارد، اگرچہ عرف ناس میں یا باعتبار لغت اسے علم کہا کریں، ہاں آلات و وسائل کے لئے حکم مقصود کا ہوتا ہے مگر اُسی وقت تک کہ وہ بقدر توسل و تقصد توسل سیکھے جائیں اس طور پر وہ بھی موردِ فضائل ہیں۔“ (14)

            علومِ اسلامیہ کے سوا دیگر علوم کی تحصیل میں محدثِ بریلوی کے مذکورہ ضابطے کی روشنی میں ہم درج ذیل نتائج اخذ کرسکتے ہیں:

(1)        وہ علوم جو علومِ دینیہ کی سمجھ کے لئے ذریعہ ہوں مثل منطق، ریاضی، ہیئت وغیرہ ان کے حصول میں کوئی قباحت نہیں۔

(2)        بعض وہ علوم جو دین کے امور میں فیصلے کے صدور میں معاونت کرتے ہیں اور انہیں حاصل نہ کرنے پر غلطیوں کا احتمال ہو ایسے علوم کا حاصل کرنا محمود ہے۔

(3)        دین کے علم کے سوا دیگر علوم کا ہی ہو رہنا غفلت ہے اور تضیعِ اوقات۔

ممنوعہ علوم: دین و دنیا میں جن علوم کے مضرات ظاہر ہوں، جو عقائد کو تباہ اور اعمال کو برباد کردیں، ایمان و ایقان کو متزلزل اور فکر کو مضمحل کردیں، ایسے علوم کا حصول ناروا اور نقصان دہ ہے۔ اس لحاظ سے محدثِ بریلوی کے بالترتیب چند ارشادات ملاحظہ کریں:

(1) فلسفہ کی مذمت: ”اور فلسفہ تو حرام و مضر اسلام ہے، اس میں منہمک رہنے والا جہل جاہل، اجہل بلکہ اس سے زائد کا مستحق ہے، لاحول ولاقوۃالاباللہ العلی العظیم، ہیہات ہیہات، اسے علم سے کیا مناسبت، علم وہ ہے جو مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ترکہ ہے، نہ وہ جو کفارِ یونان کا پس خوردہ۔“ (15)

(2) باطل نظریات کی تردید: علوم و فنون مسلمانوں کی میراث، انہیں مسلمانوں نے سنوارا اور عام کیا بعد کو یہود و نصاریٰ نے ان پر قبضہ جمایا اور پھر عقائدِ باطلہ کی آمیزش کے ساتھ علوم کو مشتہر کیا اور اسلامی عقائد پر رکیک حملے کئے۔ محدثِ بریلوی باطل افکار و خیالات سے متعلق یہ فیصلہ صادر فرماتے ہیں:

            ”ہاں اکثر طبیعات و عامہ الٰہیات فلاسفہ مخذولین صدہا کفر صریح و شرکِ جلی پر مشتمل مثلاً زمان و حرکت و افلاک ہیولی و صورتِ جرمیہ و نوعیہ و سفسطات و انواع موالید و نفوس کا قدم اور خالقیت عقول مفارقہ و افکار فاعل مختار و علمِ جزئیات و حشر اجساد و جنت و ناروا حالہ خرق افلاک و اعادۂ معدوم و صدور کثیر عن الواحد وغیرہا اور ان کے سوا اور اجزا و فروع فلسفہ بھی کفریاتِ صریحہ و محرماتِ قبیحہ سے مملو ہیں۔“ (16)

            یہود و نصاریٰ نے علومِ جدیدہ، سائنس و فلسفہ کے توسط سے اسلام پر حملے کیے۔ محدثِ بریلوی نے ان کا بروقت جواب دیا اور ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیا۔ 1919ءمیں امریکی میٹرولوجسٹ البرٹ۔ایف۔پورٹا کی باطل پیشین گوئی کے ردّ میں ”معینِ مبین بہر دورِ شمس و سکونِ زمین“ کی تصنیف اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اس کا انگریزی ترجمہ نگار معرفانی نے The Revolving Sun and the Static Earth کے نام سے کیا ہے اور ادارۂ تحقیقاتِ امام احمد رضا، کراچی نے اس کی اشاعت کی ہے۔ اردو میں رضا اکیڈمی ممبئی سے اشاعت ہوچکی ہے۔

            یوں ہی حرکتِ زمین اور فلاسفہ کے نظریاتِ باطلہ (قدیم و جدید) کے ردّ میں محدثِ بریلوی کی درج ذیل کتابوں کا مطالعہ کیا جانا چاہئے:

(1)        نزولِ آیاتِ فرقانِ بسکونِ زمین و آسمان

            (مطبوعہ رضا اکیڈمی، ممبئی و ادارۂ تحقیقاتِ امام احمد رضا، کراچی)

(2)        فوزِ مبین در ردِّ حرکتِ زمین (مطبوعہ رضا اکیڈمی، ممبئی)

(3)        الکلمة الملہمة فی الحکمة المحکمة (مطبوعہ رضا اکیڈمی، ممبئی)

(4)        مقامع الحدید علیٰ خدا لمنطق الجدید

            (مطبوعہ المجمع الاسلامی، مبارکپور و رضا اکیڈمی، ممبئی)

            ”فوزِ مبین“ کا انگریزی ترجمہ 2005ءمیں ادارۂ تحقیقاتِ امام احمد رضا نے شائع کیا ہے اور مترجم ہیں عبد الحمید مہاسکر۔ بعنوان:  “A Fair Success Refuting Motion of Earth”

استاذ کا مقام: نصاب اور مواد کا افادہ جبھی ظاہر ہوتا ہے جب کہ اس کا تعلّم درست ہو اور اس کے لئے استاذ (معلم) کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ سلیم اللہ جندران کے مطابق: ”تدریسی مواد کتنا ہی اعلیٰ، معیاری، دلکش کیوں نہ ہو، اگر اسے پیش کرنے والے استاذ کا طریقۂ تدریس موزوں، درست اور موجودہ حالات کے تقاضوں کے مطابق نہ ہو تو وہی مواد حقیقی مقاصد کے حصول کے بجائے بوریت اور بیزاری کا سبب بنتا ہے۔“(17)

            الغرض تعلیم، تدریس و تربیت کے لئے استاد کا رول مرکزی ہوتا ہے۔ اس رو سے استاذ کی اہمیت کو محدثِ بریلوی کے اس ارشاد کی روشنی میں بخوبی سمجھا جاسکتا ہے:

            ”پیر اور استادِ علمِ دین کا مرتبہ ماں باپ سے زیادہ ہے، وہ مربّیِ بدن ہیں یہ مربّیِ روح، جو نسبت روح کو بدن سے ہے وہی نسبت استاد و پیر سے ماں باپ کو ہے۔“ (18)

استاذ کیسا ہو: قانون سے انحراف نہیں کیا جاسکتا۔ شریعت، اسلام کا قانون ہے۔ ہر مسلمان پر ہر آن اس کی پاسداری ضروری ہے۔ استاذ و شاگرد بھی امورِ شرع کا التزام کریں۔ شریعت میں استاذ کا احترام سکھایا گیا ہے لیکن اس کے احکام کا اطلاق غیر شرعی باتوں میں نہیں ہوسکتا۔ محدثِ بریلوی کے بقول:

            ”عالمِ دین ہر مسلمان کے حق میں عموماً اور استاد علمِ دین اپنے شاگرد کے حق میں خصوصاً نائب حضور پُرنور سید عالمﷺ ہے، ہاں اگر وہ کسی خلافِ شرع بات کا حکم کرے، ہرگز نہ مانے کہ لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اللّٰہ تعالٰی۔“ (19)

            حضرت محمد بن سیرین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ یہ علم (یعنی قرآن و حدیث کو جاننا) دین ہے لہٰذا تم دیکھ لو کہ اپنا دین کس سے حاصل کررہے ہو۔ (20)

تعلیم و تعلّم کے چند شرائط: تعلیم و تدریس کا انحصار استاذ پر ہوتا ہے، اس کے لئے فرش فروش اور عمارت کی وہ ضرورت نہیں جو استاذ کی ہے۔ تعلیم و تعلّم میں جو شرائط استاذ پر عائد ہوتی ہیں اس بارے میں محدثِ بریلوی کے پیش کردہ سات نکات بالترتیب پیش کئے جاتے ہیں:

اولاً:       انہماک فلسفیات و توغل مزخرفات نے معلم کے نورِ قلب کو منطقی اور سلامت عقل کو منتفی نہ کردیا ہو کہ ایسے شخص پرخود ان علومِ ملعونہ سے یک لخت دامن کشی فرض اور اس کی تعلیم سے ضرر اشد کی توقع۔

ثانیاً:      وہ عقائدِ حقہ اسلامیہ سنّیہ سے بروجہ کمال واقف و ماہر اور اثباتِ حق و ازہاقِ باطل پر بعونہ تعالیٰ قادر ہو ورنہ قلوب طلبہ کا تحفظ نہ کرسکے گا۔

ثالثاً:      وہ اپنی اس قدر کو بالتزام تام ہر سبق کے ایسے محل و مقام پر استعمال بھی کرتا ہے ہرگز کسی مسئلہ باطلہ پر آگے نہ چلنے دے جب تک اُس کا بطلان متعلّم کے ذہن نشین نہ کردے۔ غرض اس کی تعلیم کا رنگ وہ ہو جو حضرت بحر العلوم قدس سرہ الشریف کی تصانیفِ شریفہ کا۔

رابعاً:متعلّم کو قبل تعلیم خوب جانچ لے کہ پورا سُنِّی صحیح العقیدہ ہے اور اس کے قلب میں فلسفۂ ملعونہ کی عظمت وقعت متمکن نہیں۔

خامساً:   اس کے ذہن بھی سلیم اور طبعِ مستقیم دیکھ لے۔ بعض طبائع خواہی نخواہی زیغ کی طرف جاتے ہیں، حق بات ان کے دلوں پر کم اثر کرتی اور جھوٹی جلد پیر جاتی ہے۔

قال اللّٰہ تعالٰی: وَاِن یَّرَوا سَبِیلَ الرُّشدِ لَا یَتَّخِذُوہُ سَبِیلًا ج وَاِن یَّرَوا سَبِیلَ الغَیِّ یَتَّخِذُوہُ سَبِیلًا (الاعراف: 146)

            (اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: اگر درستی اور ہدایت کی راہ دیکھیں تو اس پر نہیں چلتے اور اگر گمراہی کی راہ دیکھ لیں تو اس پر چلنے لگتے ہیں۔)

            بالجمہ گمراہ ضال یا مستعد ضلال کو اس کی تعلیم حرام قطعی ہے۔

ع          اے لوری کوئی دیت ہے متوازن ہتھیار

سادساً: معلم و متعلّم کی نیت صالحہ ہو نہ کہ اغراضِ فاسدہ۔

سابعاً:     تنہا اسی پر قانع نہ ہو بلکہ دینیات کے ساتھ ان کا سبق ہو کہ اس کی ظلمت اس کے نور سے متجلی ہوتی رہے، ان شرائط کے لحاظ کے ساتھ بعونہ تعالیٰ اس کے ضرر سے تحفظ رہے گا اور اس تعلیم و تعلّم سے انتفاع متوقع ہوگا۔ (21)

            موجودہ دور آرائش و نمائش کا ہے۔ جہاں چکاچوند دکھائی دی، دل ادھر ہی کھنچے چلے جاتے ہیں۔ یہود و نصاریٰ کے مروّج نظامِ تعلیم میں انہیں قدروں کا التزام تھا۔ ظاہری سج دھج کے ساتھ ہی مال و اموال کے ذرائع بھی اس میں شامل کئے گئے اور ان علوم کو وجہِ افتخار و باعثِ عزت گردانا گیا حالآنکہ اصل علم وہی ہے جو دین کا ہے، جو معرفتِ الٰہی عزوجل کا ذریعہ اور بارگاہِ سید عالمﷺ سے نسبت کا سبب ہے۔ محدثِ بریلوی نے مذکورہ نکات میں یہی فکر دی ہے کہ قلب و نظر میں ایمان کا نور رچا بسا رہے۔ آج اگر ان تجاویز کی روشنی میں تعلیم دی جائے تو ہمارے اساتذہ و مدرسین، طلبہ و متعلّمین عمدہ نتائج سے ہم کنار ہوسکیں گے اور قوم کا تعلیمی پہلو جو ہنوز پستی کا شکار بتدریج تنزل پذیر ہے وہ تابندہ ہوجائے گا۔

حوالہ جات

(1)        الرحمن: 1،2، کنز الایمان، مطبوعہ رضا اکیڈمی، ممبئی

(2)        النحل:34، کنز الایمان، مطبوعہ رضا اکیڈمی، ممبئی

(3)        احمد رضا بریلوی، امام، الاجازات المتینہ لعلماءبکة والمدینة، مشمولہ رسائلِ رضویہ، مطبوعہ ادارہ اشاعتِ تصنیفاتِ رضا، بریلی، اردو ترجمہ: علامہ محمد احسان الحق قادری، ص:161۔163

(4)        محمد عبد المبین نعمانی قادری، علامہ، علمِ دین و دنیا، مطبوعہ رضا اکیڈمی، مالیگاؤں، ص:6

(5)        ایضاً، ص:1

(6)        ایضاً، ص:7

(7)        احمد رضا بریلوی، امام، فتاویٰ رضویہ (جدید) مطبوعہ مرکز اہلسنّت برکاتِ رضا پور بندر، گجرات 2003ء، ج:23، ص:647

(8)        ایضاً، ص:648     

(9)        ایضاً                 

(10)      ایضاً، ص:634

(11)      ایضاً، ص:621     

(12)      ایضاً، ص:633     

(13)      ایضاً، ص: 632

(14)      ایضاً، ص:628

(15)      ایضاً

(16)      ایضاً، ص: 634

(17)      سلیم اللہ جندران، امام احمد رضا خاں کا طریقۂ تدریس، مشمولہ معارفِ رضا سالنامہ 2004ءکراچی، ص:127

(18)      احمد رضا بریلوی، امام، فتاویٰ رضویہ (جدید) مطبوعہ مرکزِ اہلِ سنت برکاتِ رضا پور بند، گجرات 2003ء، ج:23، ص:701

(19)      ایضاً، ص:638

(20)      جلال الدین احمدامجدی، مفتی، انوار الحدیث، مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی 2006ء، ص:111، بحوالہ مسلم و مشکوٰۃ

(21)      احمد رضا بریلوی، امام، فتاویٰ رضویہ (جدید) مطبوعہ مرکز اہلسنّت برکاتِ رضا پور بندر، گجرات، 2003ء، ج:23، ص:635

امام احمد رضا کی عالمی اہمیت

مضمون : امام احمد رضا کی عالمی اہمیت
از: انگریز نو مسلم ڈاکٹر محمد ہارون انگلینڈ 

امام احمد رضا کی عالمی اہمیت
اعلٰی حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان ہندوستان کے معروف سنی عالم تھے۔ وہ 1856ء میں پیدا ہوئے۔ اور 1921ء میں انہوں نے وصال فرمایا۔ وہ اپنے دور میں اہلسنت کے امام تھے- اور اس قدر عظیم تھے کہ انہیں اسلامی صدی کے مجدد کے لقب سے پکارا گیا۔ اسلامی صدی کا مجدد وہ ہوتا ہے جو اپنے دور کے تمام لوگوں میں اہم ترین شخصیت ہو۔ پہلی صدیوں کے مجدد دین امام غزالی علیہ الرحمہ کی طرح کے لوگ تھے- جنہوں نے اپنے زمانے میں عظیم ترین اپمیت کے مراتب حاصل کئے مثلاً امام غزالی وہ شخصیت ہیں جن سے پوروپ نے فلسفہ سیکھا ۔ اس مقالے کا مقصد تمام دنیا کے لئے امام احمد رضا بریلوی کی تعلیمات و نظریات کی اہمیت واضح کرنا ہے۔ کوئی بھی شخص دنیا بھر کے لئے اہم ہوتا ہے اگر اس کے یہاں اپنے دور کے اہم ترین مسائل کا حل موجود ہو ۔ کارل مارکس یالینن عالمی اہمیت کے حامل سمجھے جاتے تھے کیونکہ ان کے انکار و نظریات تمام انسانیت کی رہنمائی کرتے محسوس ہوتے تھے۔ اس مقالے میں ہم ثابت کریں گے کہ امام احمد رضا نے اپنے افکار و تعلیمات سے اس صدی کے اہم ترین مسائل کا حل پیش فرمایا ہے۔ ہماری صدی بھی امام احمد رضا کی صدی ہے۔ اور ہماری دنیا کو بھی اسی طرح کے مسائل درپیش ہیں۔ جس طرح کے امام احمد رضا کے وقت میں تھے۔ اس لئے امام احمد رضا کی اہمیت آج ہمارے لئے بھی اتنی ہی ہے جس قدر 1921ء میں ان کے وصال کے وقت کے لوگوں کے لئے تھی۔ بہتر ہو گا کہ ہم اپنے مقالے کا آغاز عہد جدید کے مزکزی مسائل کا احاطہ کرنے کی کوشش سے کریں۔ یہ جدید دور نئی تہذیب کی کامیابی پھر ناکامی کا دور ہے ۔ سوسال پہلے سائنس پر بہت گہرا اعتقاد تھا اس وقت سے اب تک ہم سائنس کی تنگ دامنی اور بہتر دنیا کی تعمیر میں ناکامی کا مشاہدہ کر چکے ہیں بلکہ سائنس نے اور بھی نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ جس سے سائنس پر یقین ختم ہو کر رہ گیا ہے ۔ اس عہد میں سرمایہ داری کا بحران بھی دیکھا ہے اور سرمایہ داری کے مغربی متبادل کی ناکامی بھی۔ کمیونز ناکام ہو گیا ہے۔ سفید نسلی تعصب اپنی تمام تر دپشتوں کے ساتھ نازی ازم میں ملاحظہ کیا جا چکا ہے۔ اور ایک جماعتی اجتماعیت کے نظریے نے بھی تصور سے کہیں بڑھ کر خوف پیدا کیا ہے۔ جدید زمانہ ایسا زمانہ ہے جس میں جدید ثقافت بھی ناکام ہو گئی ہے۔
یہ عہد یوروپ اور بقیہ دنیا دونوں میں جدید ثقافت کی تخریب کا عہد ہے۔ یہ عہد ہر طرف الحاد کے عروج کے ساتھ مذہب کی موت کا عہد ہے۔ بلکہ اس سے بھی اہم۔ دنیا میں موجود مذاہب کے زوال کے سبب مذاہب کے نئے نئے گھٹیا نمونوں کے ظہور کا عہد ہے۔ یہ عہد بھیڑیے کی سی چال کی ذہنیت اجتماعی تحریکوں، فرد کی تذلیل کا عہد ہے۔ جیسے ہم نے پہلے ذکر کیا ایک جماعتی اجتماعیت کے ذریعے انسان کی شرمناک کارستانیوں کا عہد ہے۔ جدید دور نے ان تمام جدتوں سے جن کا ہم نے ذکر کیا مسلم دنیا کو خاص طور پر متاثر کیا ہے۔
یہ جدید دور اسلام، اہل اسلام اور روح انسانی سب کے لئے گہری تاریک رات ہے۔ یہی وہ دور ہے جس میں مغرب نے روایتی مسلم معاشرہ کو کچل کر رکھ دیا ہے۔ اس کی وجہ مسلم سیاسی قوت کا زوال اور ان مسلمانوں کی روحانی سراندازی ہے۔ جنہوں نے مغرب کو قبول کیا اور اس کی پیروی کی۔ اس کی ستائش کی اور پرستش کی۔ یوں دنیا سے اللہ تعالٰی کو وجود کا تصور معدوم ہو گیا اور متعصب لادینیت اور دہرنیت نے اس کی جگہ لے لی۔ اسی سے وہابیت نے جنم یہاں اسلام دین کی حیثیت سے ختم ہو گیا ۔ اور جدید یدیت کی صورت میں مغرب کی بھونڈی تقلید اور بنیاد پرستی کی صورت میں کمیونزم اور فاشسزم طرز کی سماجی تحریک اس کی متبادل بن گئی۔ روایتی معاشرہ تباہ ہوا اور اس کی جگہ مغرب کا در آمد شدہ نو آبادیاتی نسلیت پرستی اور سرمایہ دارانہ معاشرہ آ گیا۔ اور پھر جب مغرب خود ہی ناکام ہو گیا تو اب ہم ان تمام کھنڈرات کے بیچ کھڑے ہیں۔ جنہیں مغرب نے کمیونزم سے فاشسزم، فاشسزم سے نیشنلزم ، اور نیشنلزم سے کیپٹلزم کی شکل میں تعمیر کرنے کی کوشش کی۔
عالمی حیثیت کی حامل وہی شخصیت ہو سکتی ہے جو دور جدید کی خوفناک شکستوں اور ناکامیوں میں انسانیت کی رہنمائی کی اہلیت رکھتی ہو۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی کی زندگی کے اصل کام کو اختصار سے بیان کرنا بہت آسان ہے۔ جنہوں نے تمام عمر اہلسنت کے عقائد کے مطابق اسلام اور اسلامی سوسائٹی کا جدید دنیا کے حملوں کے خلاف دفع کیا ۔ خاص طور پر ان اندرونی حملوں کے خلاف جو ان مسلمانوں کی طرف سے تھے۔ جن کا مقصد اہلسنت کے عقائد کے مطابق اسلام سے جان چھڑا کر ایک نئی چیز کو رائج کرنا تھا۔ اہلسنت کے عقائد کے مطابق اسلام اور اسلامی سوسائٹی کے دفع کا کاوشیں ہی امام احمد رضا کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ یہ عالمی اہمیت امام احمد رضا کے عالم دین ہونے اور سنی عالم کی حیثیت سے کام کرنے سے شروع ہوئی۔ انہوں نے زندگی بھر ایک عالم ہی کی حیثیت سے کام کیا۔ انہوں نے ہر اس شخص کے سوالوں کے جواب دیئے جس نے ان سے رابطہ کیا۔ ان کا کردار اسلام کا گہرا علم رکھنے والے ایک دانشوار کا کردار تھا۔ انہوں نے بطور ایک روایتی اسلامی اسکالر تعلیم پائی تھی۔ اور اس میں بھی بے پناہ وسعت تھی۔ وہ مختلف اسلامی اور دوسرے علوم میں ماہر تھے۔ جن میں اسلامی مذہبی علوم و فنون کے علاوہ ریاضی و فلکیات بھی شامل تھے۔ ایک متجر تعلیم یافتہ عالم کی حیثیت سے محض تحقیق طلب سوالوں کے جواب لکھ کر دنیا کو متاثر کرنا شاندار اہمیت رکھتا ہے۔
آج کل اجتماعی تنظیم سازی کا ایسا دور ہے۔ جس میں وسیع دفتری نظام نے فرد کونگل لیا ہے۔ امام احمد رضا نے اس طرز پر کام کرنے سے انکار کیا ہے۔ ان کے دور میں اجتماعی تحریکیں ابھرنا شروع ہو چکی تھیں۔ مگر وہ کسی کے قریب تک نہ گئے۔ انہوں نے کبھی بھی ایک بیوروکریٹ سیاستداں یا منتظم بننے کی خواہش نہ کی۔ اس اجتماعی تنظیم سازی کے تصور کو مودودی کی طرح کے لوگ اسلام میں داخل کرنے کا سبب بنے ۔ امام احمد رضا نے شروع دن ہی سے اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے اجتماعی تحریکوں مثلاً تحریک خلافت وغیرہ میں شمولیت سے انکار کیا۔ اور ان تحریکوں کے لئے خود کوئی اجتماعی تحریک ترتیب دینے سے بھی مجتنب رہے۔
آج کے جدید دور کا انسان اندر سے مر چکا ہے۔ کیونکہ آج اچھے فرد کی مانگ نہیں رہی۔ بلکہ محض ایسا فرد درکار ہوتا ہے جو نعرہ لگائے اور جس طرح اسے کہا جائے عمل کرتا رہے۔ امام احمد رضا نے بتایا کہ عصر جدید میں فرد کو یوں مر جانے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے عالمانہ رائے دیتے ہوئے بڑی سادگی سے اپنا کام کیا۔ ہٹلر، اسٹالن اور اجتماعی تشہیر کے اس دور میں آج بھی اچھے فرد پر بھروسہ کرنے کی عالمی اہمیت ہے۔ یہ دور حکمت و دانائی کی موت اور شعبہ جاتی تخصص کا دور بھی ہے۔

پہلے زمانے کے مقابلے میں آج ایک طالب علم کم سے کم شئی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جانتا ہے۔ یونیورسٹی ایسی جگہ قرار پائی ہے جہاں پروفیسر بھی اپنے چھوٹے سے مخصوص مضمون کے بارے میں کافی علم نہیں رکھتا۔ کمیرج یونیورسٹی میں حکمت و دانش کا کوئی پروفیسر نہیں ہے۔ تعلیم یافتہ مسلمان اپنے ماضی سے کٹ چکے ہیں۔ کسی بھی روایتی تعلیم یا علم کا وجود اب کم ہی نظر آتا ہے۔ اب پڑھا لکھا طبقہ سابقہ ادوار کے روایتی علوم اور حکمت و دانش کو چھوئے بغیر محض اپنے محدودمضامین کا مطالعہ کرتا ہے۔ ایک ماہر فلکیات صرف فلکیات کا علم رکھتا ہے۔ اسے اس حکمت و دانش کی ذرہ بھر خبر نہیں ہوتی جو دوسو سال قبل کے ماہر فلکیات کو حاصل تھی۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا بریلوی اس علمی روایت کے لئے سامنے آئے جو مغرب میں اپنی موت مر چکی تھی ۔ ان کا مقصد علم کی ممکنہ حد تک وسیع کرنا تھا۔ ایسا علم جس کا ایک ہزار سالہ قدیم روایت سے گہرا رابطہ تھا۔ امام احمد رضا اپنی کتابوں میں ایک ہزار سال پہلے تک کے مصنفین کے حوالے دیتے تھے۔ امام احمد رضا بریلوی فلکیات، سیاسیات بلکہ بینک کاری اور کرنسی تک کے سوالوں پر بھی سیر حاصل عالمانہ رائے دیتے تھے۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ روحانی وجدان سے متعلق مشکل ترین سوالات پر بھی تبصرہ و تجزیہ کرنے کی اہلیت رکھتے تھے۔ بلا شبہ امام احمد رضا اپنے اسلامی دور میں صدیوں پرانی ثقافت کا دفع کر رہے تھے۔ آج کی ثقافت تو بالکل بے بنیاد ہو کر رہ گئی ہے۔ ادب اور آرٹ کا ماضی کی روایات سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ آج یوروپی مصوری اور شاعری پچاس سال پہلے کی روایت کی پاسداری نہیں کر رہی جبکہ امام احمد رضا نے قدیم زبانوں تک کی فنی روایت کو نبھایا ہے۔ یہ پوری انسانی تاریخ سے کشید شدہ مکمل ثقافت تھی۔ اسی وجہ سے امام احمد رضا کی عالمی اہمیت ہے۔
امام احمد رضا محدث بریلوی نے طب میں بھی دلچسپی لی۔ طب جدید کا بڑا اصول یہ ہے کہ اس کا طب کی قدیم روایت سے کوئی سابقہ نہیں رہا اور یہ حکم و دانا انسانوں کے بجائے تنگ نظر سائنسدانوں کے ہاتھوں میں آگئی ہے۔ امام احمد رضا علیہ الرحمہ محض ایک دانا اور ذہین عالم دین، ماہر فنون اور طبیب ہی نہیں تھے بلکہ انہوں نے تمام تر قدیم روایتی حکمت و دانش کو اندرونی و بیرونی حملوں سے بچایا۔ شاید دنیا کے لئے امام احمد رضا کی سب سے زیادہ اہمیت اس بات میں تھی کہ انہوں نے ( مضرت رساں ) سائنس کی مخالفت کی۔ امام احمد رضا کی زندگی کے اکثر دور میں سائنس کی پرستش ہوتی تھی۔ یہ نیوٹن اور ڈارون پر مکمل ایمان کا دور تھا۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا کی زندگی کے آخری ایام کے قریب آئن سٹائن کے انقلاب نے سائنس کی پرستش کے بارے مٰن شکوک و شہبات پیدا کرنے شروع کئے ۔ یہ خاص طور پر مسلم دنیا ہی میں سائنس کی پوجا ہوتی تھی۔ اور سائنس ہی کو مغربی تسلط کی وجہ گردانا جاتا تھا۔ اسی سائنس کی مدد سے سفید فام اقوام نے نو آبادیات کے لوگوں پر قابو پا رکھا تھا۔ سائنس کی پرستش میں بہت سے نام نہاد مسلمان بھی شامل تھے۔ اور مسلمانوں میں سے سر سید احمد خان جیسے لوگوں نے اسلام کو اس طرح تبدیل کرنے کی کوشش کی کہ اسلام سائنس کے بارے میں مغرب کے نظریات کے مطابق ڈھل جائے۔ یہی نہیں بلکہ ان لوگوں نے اس سے بھی زیادہ کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے سائنس ہی کو مسلمان پر استبدار، مسلط ہونے کی وجہ قرار دیا۔ مسلمان سائنس پرست نہیں تھے انہیں سائنس پرست بننے پر مجبور کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں کے لئے کہیں آزادی نہ ہو اور سائنس کے نام پر مسلمانوں کی مرضی کے بغیر مغربی ماہرین اور جدید مسلم ماہرین ہر جگہ حکومت کریں۔ یقینًا آج ہم جانتے ہیں یہ سائنس زیادہ تر حماقت ہے۔
امام احمد رضا کے وقت میں سائنس سخت نسلیت پرست تھی۔ اور 1921ء میں ان کے وصال کے وقت اس سائنس نے مغرب میں کمیونسٹ اور فاشٹ استبدار کا جواز فراہم کیا تھا۔ سائنس کی پرستش کے تباہ کن منطقی نتائج آج اچھی طرح سمجھے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر مسلم دنیا نے سائنس کے ہاتھوں خوفناک نقصان اٹھائے ہیں۔ ان نقصانات میں سے ایک سائنس کو ہر غلطی سے مبرا سمجھنے والی نوعیت وسطی ایشیاء کی کمیونسٹ رجیم کے ہاتھوں ماحول کی مکمل تباہی کا سانحہ ہے۔ آج ساری دنیا سائنس سے منہ موڑ کر اس روایتی قدیم حکمت و دانش کی حکمرانی سے قبل موجود تھی۔ لیکن امام احمد ر ضا نے آج سے سو سال قبل سائنس کے خلاف جہاد کیا۔ اگر آپ سائنس پر امام احمد رضا کی تصانیف پڑھیں تو آپ محسوس کریں گے کہ انہوں نے سائنسدانوں کی کس طرح تذلیل کی ہے۔
امام احمد رضا کے نزدیک قرآن اور اسلام ہی میں کامل سچائیاں ہیں۔ اور کسی بھی طرح انکی تردید کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ اگر کبھی سائنسدانوں نے ایسا کیا بھی تو امام احمد رضا نے ان کے دلائل کو اسلامی دلائل سے رد کیا اور انکے پرخچے اڑا دیئے۔ اس طرح امام احمد رضا سائنس میں عظیم تھے۔ اگرچہ امام احمد رضا کسی طور پر بھی عالم سائنسداں نہیں تھے مگر وہ ریاضی اور فلکیات اتنی اچھی طرح جانتے تھے کہ رات کو آسمان دیکھ کر گھڑی کا وقت درست کر لیتے تھے۔ وہ مغربی سائنسی نظریات سے بھی آگاہی رکھتے تھے انہوں نے ستاروں کے جھکاؤ کی بنا پر بڑی تباہی کی پیشن گائی کرنے والے ایک مغربی ماہر فلکیات کا جواب لکھا۔ اور اپنے جواب میں انہوں نے مکمل طور پر آسمانوں اور کشش ثقل سے متعلق مغربی نظریات کو بنیاد بنایا۔ اور صحیح طور پر پیشم گوئی فرمائی کہ کوئی تباہی نہیں آئے گی اور ان کی پیشم گائی صحیح ثابت پوئی۔ (1) آپ کانظریہ تھا کہ سائنس کو کسی طرح بھی اسلام سے فائق اور بہتر تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کسی اسلامی نظریے۔ شریعت کے کسی جزیا اسلامی قانون سے گلو خاصی کے لئے اس کی کوئی دلیل مانی جا سکتی ہے اگرچہ وہ خود سائنس میں خاصی مہارت رکھتے تھے- لیکن اگر کوئی اسلام میں سائنس سے مطابقت پیدا کرنے کے لئے کوئی تبدیلی لانا چاہتا تو آپ اسے ٹھوس علمی دلائل سے جواب دیتے تھے۔ یہی ان کی عالمی اہمیت کی ایک بڑی دلیل ہے۔

امام احمد رضا کے نزدیک کسی بھی روایتی حکمت اور دانش کو ترک نہیں کیا جانا چاہئے۔ بلکہ سائنس کو چاہئے کہ وہ حکمت و دانش کی رقیب یا متبادل بن کر نہیں بلکہ ہمیشہ اس کا خادم بن کر رہے۔ ایک سو سال بعد اب یہی صورت حال ہے جس کی طرف خود مغرب بھی رجوع کر رہا ہے جیسا کہ سبز سیاست اور سبز تحریک سے ظاہر ہے۔ لیکن دنیا میں اب بھی استبدار کی مدد کرنے والی سائنس کی احمقانہ پرستش جاری ہے۔ مغرب اب جان گیا ہے کہ اسٹالن کے جبر اور ہٹلر کے نسلی تعصب کے پیچھے سائنس کا کیا کردار تھا۔ اسی لئے مغرب نے سائنس کو اس کے اصل مقام پر رکھنا شروع کر دیا ہے۔ امام احمد رضا اس وقت ہی سائنس کو اس کے اصل مقام پر رکھ رہے تھے۔ جب کہ ابھی اس قدر نقصان نہیں ہوا تھا۔ وہ سائنس کو اس مقام پر رکھتے تھے جس کی وہ اہل تھی۔ روایتی حکمت و دانش ابھی زندہ تھی اور وہ خود بھی اس روایتی دانش سے لبریز تھے۔ وہ صحیح تھے اور مغرب غلطی پر تھا۔
ہاں مغرب کے اپنی غلطی کے اعتراف سے سو سال قبل اپنی زندگی میں امام احمد رضا نے سائنسدانوں کی حماقتوں کا جواب دینے کی جدو جہد فرمائی لیکن بلا شبہ احمق یوروپیوں کی پوری دنیا کے مقابل وہ یکہ و تنہا تھے۔ تاہم انہوں نے سائنس کو اس کے اصل مقام پر رکھنے کیلئے مسلمانوں کو ضروری کام پر لگا دیا۔ انہوں نے محسوس کر لیا تھا کہ سب سے بڑا چیلنج سائنس کی پرستش اور اس کا وہ طریقہ تھا جس سے وہ اسلامی حکمت و دانش کا دھمکا رہی تھی۔ امام احمد رضا کے زمانے کے مقابلے میں آج ہم سائنس کو چیلنج کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہیں۔ کیونکہ آج مغرب میں بہت سے لوگ خود ہی سائنس کی محدودیت کو جان گئے ہیں۔ امام احمد رضا سائنس کے مقابل اسلام کا دفع کرنے اور سائنس کی حدیں واضح کرنے کی کاوشوں کی وجہ سے عالمی اہمیت کی حامل شخصیت ہیں۔ صرف امام احمد رضا کے طریق کو اپنا کر ہی مسلم دنیا اپنے تباہ کن ماضی اور حال سے پیچھے چھڑا سکتی ہے۔
اعلٰی حضرت امام احمد رضا بریلوی ایک اور سادہ طریقے سے بھی عالمی اہمیت رکھتے تھے۔ وہ ایک آفاقی تھے۔ جدید دور سخت نیشنلزم اور نسلیت پرستی کا دور ہے۔ لیکن امام احمد رضا چونکہ مسلمان تھے اس لئے کوئی ملک یا براعظم ان کا وطن نہیں تھا۔ پوری اسلامی دنیا انکی مادر وطن تھی۔ ان کی شہرت ساری اسلامی دنیا تک پھیلی ہوئی تھی۔ خود مکہ معظٌمہ میں ان کو قدر و منزلت کی ناگہ سے دیکھا جاتا تھا۔ (1) انہوں نے اسلام کی بین الاقوامی ثقافت کا تصور دیا۔ وہ تمام لوگوں سے مخاطب ہوئے۔ انہوں نے بہت سی زبانوں میں استفتاء کے جواب لکھے۔ وہ ہمیشہ اس زبان میں جواب دیتے جس زبان میں سوال کیا جاتا تھا۔
(2) آج کے دور میں خواتین و حضرات کتنے ہی زیادہ ہوں جب ایک ہی ملک ایک ہی گروہ یا ایک ہی نسل کی طرف دیکھتے ہیں تو بڑا عجیب لگتا ہے حتٰی کہ ایک عالمی شہرت کا حامل گلوکار بھی آفاقی نہیں ہوتا بلکہ محض امریکی کہلاتا ہے۔ امام احمد رضا ایک آفاقی شخصیت تھے۔ اور یقینًا وہ ایسے ہی تھے کیونکہ وہ ایک سنی مسلمان تھے۔ اور ان کا مقصد اہلسنت کے نظریات و عقائد کے مطابق اسلام کا دفع تھا۔ اہلسنت کے مطابق اسلام ہی تمام مذاہب میں سب سے زیادہ آفاقی ہے۔ عیسائیت کا مرکز اٹلی ہے۔ جبکہ اہلسنت کے مراکز بہت سارے ہیں اپنی تمام تر قدیم روایات کے ساتھ عرب، ترکی، وسط ایشیاء انڈیا مصر، یا اسی طرح کے دیگر ممالک امام احمد رضا کا پیغام آفاقی پیغام ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عالمی اسلامی برادری میں شامل ہو جاؤ جو تمام ملکوں ، تمام نسلوں اور تمام قوموں میں موجود ہے۔ کس قدر اہم پیغام ہے یہ دنیا بھر کے لئے۔
آج ہم مرگ مذہب کے دور میں رہ رہے ہیں۔ مذہب کو سائنس کے مطابق اور جدید بنانے کی کاوشوں نے مذہب و روحانیت کو نکال باہر کیا ہے۔ سچی روحانیت تقریبًا ختم ہو گئی ہے اور مذہب محض سیکولر مقاصد کے لئے رہ گیا ہے۔
اسی طرح صیہونیت اور یہودیت ہر طرح سے نازی ازم کی طرح مذہب سے ایک غلبہ پسند نسلیت پرست تحریک میں تبدیل ہو گئی ہے۔ عیسائیت میں مذہب دائیں بازو کی انتہا پسند سیاست کی مدد کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ جیسا کہ سیاسی کیتھولک طریقہ یا جیری فال دیل کی انتہا پسند امریکی پروٹسنٹ بنیاد پرستی ہے۔ سری لنکا میں بدھ مت کے پیروکاروں میں مذہب نے نیشنلزم کی صورت اختیار کر لی ہے۔ اور مسلم دنیا میں اسلام ایک معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی تحریک میں تبدیل ہو گیا ہے۔ جیسے مودودی اور خمینی کی سیاست میں اسلام کمیونزم اور فاشسزم کے نمونے پر تعمیر کیا گیا ہے۔
ان تمام صورتوں میں روحانیت غائب ہو جاتی ہے۔ لوگ خدا پر نہیں قوت و طاقت پر بھروسہ کرنے لگتے ہیں۔ صیہونیوں کی اصل امید امریکہ اور ایف۔14 پر ہے۔ وہ دعا کی بجائے اجتماعی پروپیگنڈہ اور اجتماعی تنظیم سازی پر یقین رکھتے ہیں۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا کی ساری تگ و تاز اس لئے تھی کہ کسی طرح روحانیت زندہ رہے۔
جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں وہ کسی بھی صورت میں اسلام کو سائنس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کو برداشت نہیں کر تے تھے۔ اس سے زیادہ اہم ان کی وہ کاوشیں ہیں جو انہوں نے اہلسنت کے عقائد کے مطابق اسلام کے روحانی اشغال کے دفاع کے لئے جاری رکھیں۔ انہوں نے صوفی ازم یا اسلامی تصوف کے دفاع کیلئے سخت محنت اٹھائی۔ اسلامی روحانیت کی بنیاد وہ مسلم درویش اور اولیائے کرام ہیں جن کا سلسلہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ اقدس سے جا ملتا ہے۔ ان صوفیائے کرام کا ایک دوسرے سے اور ماضی بعید کے صوفی سلاسل سے گہرا ربط ہوتا ہے۔ اور اس طرح ایک نسل سے دوسری نسل تک صوفی ازم کا علم و عمل منتقل کرتے ہوئے وہ ایک زنجیر یا سلسلہ کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
امام احمد رضا تمام اہم صوفی سلاسل میں مجاز تھے اور خود بھی ایک بلند پایہ صوفی اور مصلح تھے۔ انہوں نے خود اور ان کے پیروکاروں نے تصوف کی تمام روایات پر عمل کیا۔ امام احمد رضا کی تحریروں میں اسلامی تصوف اور روحانیت کی چودہ سو سالہ روایات ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ مذہب کی تمام علمی دولتیں انہیں کے دم سے ہیں۔ وہ ایک جدید صوفی سے کہیں برتر و بالا ہیں۔ انہوں نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتی مرگ مذہب کی تحریک کے خلاف پوری قوت سے اسلام کا دفاع کیا یہی وجہ تھی کہ انہوں نے متعصب اور نشہ میں ڈوبے ہوئے سائنسدانوں کے خلاف جہاد کیا اور ہاں ! یہی وجہ تھی کہ انہوں نے وہابیوں کے خلاف جدوجہد کی۔
امام احمد رضا جدید عصر کے تمام حملوں کے خلاف مذہب کے زبردست محافظ تھے۔ انہوں نے ایک بھر پور تحریک کی رہنمائی فرمائی۔ تاکہ اہلسنت کے عقائد کے مطابق اسلام اپنا کام جاری رجھ سکے۔ تنہا یہی کام امام احمد رضا کو عالمی اہمیت کی حامل شخصیت بنا دیتا ہے۔ بہت سی تقاریب اسلام اور اسلامی تصوف میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ولادت عید میلاد النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تقریبات، یا بزرگان دین کے مزارات، یا دیگر مقامات پر ان کے عرسوں کی تقاریب وغیرہ، اس سارے تصوف اور مذہب کے ساتھ تمام طرح کی عبادات اور تقریبات کی مضبوط روایت کی بھر پور حفاظت فرمائی۔ انہوں نے تہیہ کر لیا تھا کہ وہ عصر جدید کو تصوف اور مذہب کی شاندار علمی روایات پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔ مرگ مذہب کے خلاف یہ جدوجہد بجا طور پر عالمی اہمیت کی حامل ہے۔ صیہونیت، عیسائیت اور بدھ مت میں مذہب کی موت کے نتائج ہم ملاحظہ کر چکے ہیں۔ آج ہم جانتے ہیں کہ ہوشمندی اور عقل و شعور کا ایک ہی راستہ ہے کہ مرتے ہوئے مذہب کو پھر سے زندہ کر دیا جائے۔ انسانیت کے لئے ضروری ہے کہ ایک بار پھر خدا، حیات بعد از موت اور یوم حساب پر یقین کامل پیدا کرے۔ طاقت کی پرستش اور اخلاقی پستی کا جس میں انسانیت گزشتہ صدی سے گر چکی ہے فقط یہی ایک علاج ہے ۔ لیکن صحیح مذہب کو کوئی کہاں تلاش کرے۔ مذہب میں تو تحریفات ہو چکی ہیں۔ Bishop of Durham جیسے لوگوں کو ماننے والی عیسائیت کیسے یاد کرے کہ حقیقی مذہب کیسا تھا۔ لیکن ہمارے پاس امام احمد رضا اور ان کی رہنمائی میں چلنے والی سنی تحریک موجود ہے۔ ہم ان کے پیروکاروں اور ان کی تعلیمات کے ذریعہ جان سکتے ہیں کہ حقیقی مذہبی زندگی کیسے گزاری جاتی ہے۔ اور حقیقی روحانیت کیا ہوتی ہے۔ سائنسی قوم پرستی ، نسلیت پرستی اور اجتماعیت کے جدید عہد میں حقیقی مذہب کا دفاع اور حفاظت ہی امام احمد رضا کی عالمی اہمیت ہے۔

امام احمد رضا محدث بریلوی کی اہمیت، دیگر تمام خصوصیات مذہب کی موت کے خلاف ان کی دفاعی جدوجہد ان کی طرف سے سائنس کی مخالفت، ان کی آفاقیت اور روایتی آرٹ کے تحفظ عالمانہ کردار سے نمایاں ہوتی ہے۔ اور ان کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وقت نے انہیں صحیح ثابت کر دیا ہے۔ کیونکہ آج سب نے روایتی مذہب کو ترک کرنے، سائنس کے پیچھے بھاگنے اور سائنس کی ساری تبلیغ کی غلطی کو جان لیا ہے۔ یقینًا امام احمد رضا نے عمومی مذہب کا دفاع نہیں کیا بلکہ انہوں نے اسلام اور خصوصی طور پر اہلسنت کے عقائد کے مطابق اسلام کا دفاع کیا۔ اور دنیا کے لئے ان کی اہمیت اسی میں تھی کہ انہوں نے اسلام کے دفاع اور حفاظت کے لئے کام کیا۔ امام احمد رضا بریلوی کی عالمی، جدوجہد، ان کی یہی جدوجہد ہے جس کے ذریعے انہوں نے اسلام کا دفاع کیا اور اسے آج کے دور کے مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے لئے محفوظ رکھا۔
انیسویں صدی میں زوال اقتدار کی وجہ سے اسلام کی بیرونی حملوں کا خطرہ در پیش تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اسلام کو اندرونی حملوں سے بھی خطرہ تھا۔ مسلمانوں میں اعلٰی معاشرتی مقام کے حامل بہت سے لوگوں نے سوچا کہ اب مسلمانوں کے ساتھ رہنے میں ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ انہوں نے سوچا کہ وہ مسلم برادری کو چھوڑ کر یورپیوں اور امریکیوں جیسے غیر مسلم معاشرے میں اچھی زندگی گزار سکیں گے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اس طرح کرنے کے لئے انہیں اسلام کو مغربی نظریات کے مطابق ڈھالنا پڑے گا۔ روایتی اسلامی طرز زندگی کو چھوڑ کر مغربی طرز کی زندگی کی تقلید کرنا پڑے گی۔ اس سے بھی اہم بات یہ تھی کہ اسلام کو یوں تبدیل کرنے کی ضرورت تھی کہ وہ جدید مغربی سائنس کی پرستش سے مطابقت پیدا کر سکے۔ اسلام میں مذہبیت کم ہو جائے اور وہ جدید مغربی نظریات کے مطابق ڈھل جائے۔ اب یہ سب کچھ کرنے کیلئے ان ( نام نہاد ) مسلمانوں کو پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مرتبے و مقام کو گھٹانے کی ضرورت تھی ان کے معجزات کا انکار درکار تھا۔ انکو کسی خاص روحانی قوت سے محروم ایک عام انسان کی سطح تک گھٹانا مقصود تھا تاکہ مغربی سائنس سے ہم آہنگی ہو سکے۔ جب پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا مرتبہ و مقام کم کرنے کی کوشش کی گئی تو ان سائنس پرست مسلمانوں کا درجہ بزعم خویش بلند ہو گیا اور وہ اپنی مرضی کے مطابق اسلام کو تبدیل کرنے کے استحقاق کا دعوٰی کرنے لگے اب ان تمام ضرورتوں نے ان مسلمانوں کو وہابیت کے راستے پر ڈال دیا۔ وہابیت جسے اٹھارہویں صدی میں ابن عبدالوہاب نے شروع کیا وہ طاقت کے ذریعہ پروان چڑھی۔ وہابیت خالص مذہبیت اور خصوصا روایتی تصوف کو اتار کر دور پھینکنے اور اجتہاد کا دروازہ کھولنے کے کام آسکتی تھی۔ اجتہاد کا مطلب یہ تھا کہ اسلام کو مغربیت میں ڈھالنے کے خواشمند مسلمانوں کی مرضی کے مطابق اسلامی قانون کو دوبارہ لکھا جائے۔ تاکہ وہ غیر مسلم سوسائٹی میں اچھی نوکریاں حاصل کر سکیں اسی طرح امام احمد رضا کے دور میں اسلام کی شکست و ریخت کا عمل شروع ہو گیا اول اہلسنت کے عقائد کے مطابق روایت اسلامیہ پر حملہ کیا گیا اور اسے کمتر بتایا گیا اور پھر برطانوی حکومت میں مناصب کے خواہاں سر سید احمد خاں جیسے لوگوں نے اسلامی جدیدیت کو رواج دیا۔ اور بعد ازاں مغربی سرمایہ داری کو تقلید محض کرنے والے حکمرانوں کی تمام قوت اپنے ہاتھوں میں رکھ کر مسلم دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام تشکیل دینے والے اسلامی جدت پسندوں نے اس جدیدیت کو مذید پروان چڑھایا اور جب یہ اسلامی جدیدیت ناکام ہو گئی تو پھر کمیونزم فاشسزم کی نقل کی صورت میں وہابیت ابھر آئی۔ فاشسزم اسلامی بنیاد پرستی ہے جو ایران اور دیگر ممالک میں مکمل ناکام اور تباہی پر منتج ہوئی ہے۔ آج ہم ایسے دور میں رہ رہے ہیں جس میں مغرب کے بہترین دوست سعودی حکومت کے سانحے، مسلم دنیا میں تمام تر کوششوں کے باوجود اسلامی جدیدیت کی ناکامی کی مصیبت اور آج کے دور میں بنیاد پرستی کی آفت کی صورت میں وہابیت اپنے انجام کو پہنچ رہی ہے۔ بنیاد پرستی کی آفت شاید ابھی مستقبل میں بھی باقی رہے امام احمد رضا محدث بریلوی نے بہت آغاز ہی میں ان تمام غلط راہوں کی نشاندہی اور بھر پور مخالفت کی تھی وہ مغرب اور سائنس سے کوئی ردرعایت نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے تمام عمر وہابیت کے خلاف جدوجہد میں صرف کی انہوں نے ہر اس شخص کی مخالفت کی جس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مرتبہ اور مقام کو گھٹانے کی کوشش کی- امام احمد رضا نے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر کسی بھی طرح کی تنقید کرنے یا ان کی عظمت و کمال میں کوئی بھی شک پیدا کرنے کی اجازت دینے سے صاف انکار کیا۔ انہوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مرتبہ و کمال کو گھٹانے والے وہابی تراجم قرآن کے مقابلے میں اردو زبان میں قرآن حکیم کا بہت ہی خوبصورت ترجمہ پیش کیا۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا نے اسلام کے ان تمام غداروں کی سیاسی اسکیموں کی مخالفت کی جو اسلام کو اپنی قوت بڑھانے کے لئے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے ان دیوبندیوں اور وہابیوں کو خوب خوب ہدف تنقید بنایا۔ جو سیکولر انڈیا میں ہندؤں کے ساتھ مل کر اعلٰی عہدوں پر پہنچنے کی آس لگائے پیٹھے تھے۔ امام احمد رضا نگاہ بصیرت سے ملاحظہ فرما چکے تھے یہ تمام کوششیں اشتمالیت اور وسیع قتل عام پر منتج ہونگی۔ کیونکہ ہندو کبھی بھی اقتدار میں ان وہابیوں، دیوبندیوں کی شرکت پسند نہیں کریں گے۔ امام احمد رضا نے ان وہابیوں کی عوامی سیاست پر سخت تنقید کی جو اعلٰی مناصب کے حصول کی اسکیموں میں مدد کے لئے مسلمانوں کو محض ووٹروں کے گلے میں بدل دینا چاہتے تھے۔ امام احمد رضا نے باب اجتہاد کھولنے کی کسی بھی کوشش کی بھر پور مخالفت کی۔ وہ کسی کو بھی اپنی ذاتی قوت کے حصول کے لئے اسلام کے ناکام استعمال یا اسلام کی تبدیلی کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ ان سب باتوں سے بڑھ کر امام احمد رضا نے حقیقی اسلامی برادری کے تحفظ کی کوشش فرمائی۔

روایتی اسلامی سوسائٹی اگرچہ پیچیدہ تھی مگر اس کی بنیاد ناقابل تبدیل شریعت کے محافظ اور مسلمانوں کے راہبر علمائے کرام کے نظام مزارات، خانقاہوں اور مشائخ کرام کے ساتھ صوفی سلسلے کے مکمل وجود اور میلاد کی طرح کی تقریبات پر تھی۔ یہی سوسائٹی دنیا میں اللہ تعالٰی کی رضا اور پسند کے مطابق ڈھلی ہوئی سوسائٹی ہے۔ اور امام احمد رضا نے اسی کے دفاع کی کوششیں فرمائیں۔
انہوں نے بلاشبہ وہابیوں سے اس اسلامی سوسائٹی کو بچایا۔ اور بہت سے ایسے دوسرے لوگوں سے بھی جو علماء سے جان چھڑا کر مودودی کی طرح کے صحافی اور سیاست دانوں کو نگراں بنانا چاہتے تھے۔ تاکہ تصوف کے سلاسل کو مکمل طور پر تباہ کیا جا سکے۔ اپنی جگہ امام احمد رضا کے وقت ہی سے ان لوگوں نے سرمایہ داری یا اشتراکیت کے نمونے پر ایک خوفناک سوسائٹی تشکیل دے لی تھی۔ جس پر انہیں کی حکومت تھی۔ جس کا انہیں کو انکے خاندان کو اور ان کے دوستوں کو فائدہ تھا۔ اور اسی سائنس پرست سوسائٹی سے چھٹکارے کی کسی بھی کاوش کو دبانے کے لئے انہیں ہر جگہ خفیہ پولیس کی ضرورت تھی۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا نے یہ بھی رہنمائی فرمائی کہ مسلم کمیونٹی آج کی دنیا میں کس طرح صحیح معنی میں محفوظ رک سکتی ہے۔ 1912ء میں چار نکاتی پروگرام کے تحت یہ نظریہ پیش فرمایا کہ مسلمانوں کو آپس کے تنازعات باہم حل کرنا چاہئے۔ انہوں نے آپس میں خرید و فروخت کی طرف متوجہ ہونے کی رہنمائی فرما کر ان کے اتحاد، معاشی استحکام اور صحیح اسلامی معاشرے کی تشکیل کا راستہ بھی بتا دیا۔ یہی راستہ تھا جس پر چل کر مسلمان غیر مسلم سوسائٹی میں ڈھلے بغیر اپنی تمام روایات سمیت اپنی سوسائٹی کو محفوظ رکھ سکتے تھے۔ بدترین نسل پرستی، تعصب اور اشتمالیت سے اور شریعت و طریقت کو پروان چڑھا کر اپنی اسلامی جنت میں برقرار رہتے ہوئے جدید دنیا کو جہنم میں اترتے دیکھ سکتے تھے۔ اور مغربیت اور سائنس کی بیجا لادنیت سے بھی محفوظ رہتے اور وہابیت کی لعنتوں سے بھی محفوظ رہتے۔ کسی طرح کا سیاسی دام ان کو اپنی گرفت میں نہ لے پاتا۔
اعلٰی حضرت امام احمد رضا اور دیگر لوگوں نے اس منصوبہ بندی پر عمل کیا جس سے اسلام اور اہلسنت کی روایتی سوسائٹی بیسویں صدی کے تمام تر مضرات کے باوجود ندہ و سلامت رہی۔ آج تمام جدت پسندوں اور بنیاد پرستوں کی ناکامی کے بعد منصوبہ رضا کی عظمت کھل کر سامنے آرہی ہے۔ ان جدت پسندوں او بنیاد پرستوں نے مسلم دنیا میں کوئی پائیدار تعمیر نہیں کی۔ غیر مسلم بھی ایک اچھی سوسائٹی تشکیل دینے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ کمیونزم اور فاشسزم دونوں ناکام ہو رہے ہیں۔ حتٰی کہ اعتدال پسند سوشلزم کے فوائد بھی معدوم ہو رہے ہیں۔ کیونکہ مغرب اب دوبارہ سرمایہ دارانہ نظام کی خالص اور بے رحم تعبیر کی طرف لوٹ رہا ہے اور دنیا دائنسی منصوبوب کی ناکامی محسوس کر رہی ہے۔ دریں حالات امام احمد رضا کی عالمی اہمیت اور بھی نمایاں ہو رہی ہے۔ انہوں نے جدید منصوبوں پر اس وقت تنقید کی جب وہ ابتدائی منزل طے کر رہے تھے۔ آج امام احمد رضا محدث بریلوی ہی کے نظریات سچ ثابت ہو رہے ہیں۔ ہہ ایک مرد مومن کی فراست اور اس کی بصیرت تھی۔ سب کچھ صدقہ تھا عشق رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا کا دور اب شروع ہوا ہے۔ ہم اسلام دشمن اور غیر اسلامی حکومتوں اور معاشروں کی دنیا میں رہ رہے ہیں جس کا مذہب سے رابطہ کٹ چکا ہے۔ ہمیں امام نے سکھایا ہے کہ ہم اس دنیا میں کس طرح ہر باطل کا مقابلہ کرتے ہوئے وقار کے ساتھ زندہ رہیں اب تک ہم وہ تمام پہلو ملاحظہ کر چکے ہیں جن کی وجہ سے امام احمد رضا اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے جدید دنیا کے حملوں کے خلاف عقائد اہلسنت کے مطابق اسلام کا دفاع کیا۔ امام احمد رضا عالمی اہمیت کے حامل ہیں۔ کیونکہ اہلسنت کے عقائد اور اسلام عالمی اہمیت کے حامل ہیں ۔ اور عقائد اہلسنت اور انکے نظریات ہی دنیا کے مسائل کا جواب رکھتے ہیں۔ انہی عقائد و نظریات کا نام اسلام ہے۔ اور یہی سچا مذہب ہے۔
اعلٰی حضرت امام احمد رضا پوری دنیا کے لئے تمام انسانیت کے لئے اہمیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ وہ ایک اللہ اور اسکے سچے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور دین حق کی طرف لوٹنے کی دعوت دیتے ہیں۔ امام احمد رضا نے رسول کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی کامل و اکمل محبت اور عزت کو اسلام کا مرکز اپنی زندگی کا مرکز اور اپنی تمام علمی کاوشوں کا مرکز بنائے رکھا۔ اور یہی ان کی عالمی اہمیت کا سبب ہے۔