کیا یہ اسلام ہے؟

 

آخر کار مولانا صوفی محمد نے وہ کچھ کہہ ہی ڈالا جس کی توقع کی جا رہی تھی کہ پاکستان میں کفر کا نظام رائج ہے۔ لیکن انہوں نے یہ بات پہلی مرتبہ نہیں کی، بلکہ پچھلے ہفتے جب نظام عدل ریگولیشن کو پارلینمٹ میں پیش کیا جا رہا تھا تو انہوں ایک ‘فتوی’ جاری کیا تھا کہ مخالفت کرنے والوں کو کافر اور پاکستان کو دارالحرب قرار دیا جائے گا۔

 

مولانا صوفی محمد عرصے سے اس ملک کے نظام اور اداروں کو کفری قراردیتے آ رہے ہیں

 
لیکن اس بیان میں اور حالیہ بات میں ایک فرق ضرور ہے۔ پہلے بیان کو دھمکی سمجھا گیا تھا جبکہ حالیہ بات بظاہر پالیسی معلوم ہو رہی ہے۔ مولانا صوفی محمد کی یہ سوچ کسی سے ڈھکی چھپی بھی نہیں کیونکہ وہ تو سنہ انیس نوے سے ہی اس ملک کے نظام اور اداروں کو کفری قراردیتے آ رہے ہیں لیکن آج انکی بات کو اس لیے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیئے کیونکہ اس وقت سات قبائلی ایجنسیوں اور پشاور اور چند اضلاع کو چھوڑ کر پورے صوبے پر طالبان نے بندوق کے زور سے اپنی عملداری قائم کردی ہے۔

سوات کے طالبان نے تو پاکستانی فوج کے ساتھ ڈیڑھ سال تک جاری رہنے والی مسلح آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے فوج، سیکولر حکمران جماعتوں، پیپلز پارٹی اور عوامی نینشل پارٹی کے گھٹنے ٹیک دیئے اور اس شکست کی توثیق نظام عدل ریگولیشن کی منظوری کی شکل میں پارلیمنٹ سے بھی کرا لی۔اس شکست کی خوبصورت تشریح ممتاز کالم نویس اور رکنِ قومی اسمبلی ایاز امیر نے نظام عدل ریگولیشن کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے دوران بحث میں حصہ لیتے وقت کی کہ’ اسکا مطلب ہے کہ طالبان کی بندوقیں ہماری مسلح افواج کی بندوقوں سے زیادہ طاقتور ثابت ہوئی ہیں۔’

جیسا کہ آپ نے پڑھا کے اب ہم پر کفر کا فتویٰ طلبان کی طرف سے لگ چکا ہے۔
 
مان لیجئے کہ جمہوری نظام کفر ہے تو کیا اسلام یہ ہے کہ کسی دوسرے مکتبہ فکر سے تعلق رکھناے والوں کو قبر سے نکال کر درخت پر لٹکایا جائے کیا یہ اسلام ہے؟ یہ اولیائ کرام کی مزارات پر خودکش حملہ کرنا کیا یہ اسلام ہے؟ مان لیجئے کہ جمہوری نظام کفر ہے تو کیا اسلام یہ ہے کہ کسی دوسرے مکتبہ فکر سے تعلق رکھناے والوں کو قبر سے نکال کر درخت پر لٹکایا جائے کیا یہ اسلام ہے؟ یہ اولیائ کرام کی مزارات پر خودکش حملہ کرنا کیا یہ اسلام ہے؟ یا کسی لڑکی کو تین یا چار مرد پکر کر مارے وہ بھی سرے عام کیا یہ اسلام ہے؟ کیا یہ شریعت ہے؟ اگر حضورصلی علیہ والہٍ وسلم کی حیاتِ طیبہ پر غور کیا جائے تو اخوت اور محبت کا ہی سبق ملتا ہے۔حضورصلی علیہ والہٍ وسلم تو دشمنوں کو بھی معاف کردیا کرتے تھے۔
 
یہ تو تھی میری رائے اب آپ کی کیا رائے ضرور پوسٹ کیجئے گا۔
 
 
اب تو کسی انقلاب کا انتظار نہ کر
ہوسکے تو خود انقلاب پیدا کر


لیکن اس بیان میں اور حالیہ بات میں ایک فرق ضرور ہے۔ پہلے بیان کو دھمکی سمجھا گیا تھا جبکہ حالیہ بات بظاہر پالیسی معلوم ہو رہی ہے۔ مولانا صوفی محمد کی یہ سوچ کسی سے ڈھکی چھپی بھی نہیں کیونکہ وہ تو سنہ انیس نوے سے ہی اس ملک کے نظام اور اداروں کو کفری قراردیتے آ رہے ہیں لیکن آج انکی بات کو اس لیے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیئے کیونکہ اس وقت سات قبائلی ایجنسیوں اور پشاور اور چند اضلاع کو چھوڑ کر پورے صوبے پر طالبان نے بندوق کے زور سے اپنی عملداری قائم کردی ہے۔

سوات کے طالبان نے تو پاکستانی فوج کے ساتھ ڈیڑھ سال تک جاری رہنے والی مسلح آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے فوج، سیکولر حکمران جماعتوں، پیپلز پارٹی اور عوامی نینشل پارٹی کے گھٹنے ٹیک دیئے اور اس شکست کی توثیق نظام عدل ریگولیشن کی منظوری کی شکل میں پارلیمنٹ سے بھی کرا لی۔اس شکست کی خوبصورت تشریح ممتاز کالم نویس اور رکنِ قومی اسمبلی ایاز امیر نے نظام عدل ریگولیشن کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے دوران بحث میں حصہ لیتے وقت کی کہ’ اسکا مطلب ہے کہ طالبان کی بندوقیں ہماری مسلح افواج کی بندوقوں سے زیادہ طاقتور ثابت ہوئی ہیں۔’

جیسا کہ آپ نے پڑھا کے اب ہم پر کفر کا فتویٰ طلبان کی طرف سے لگ چکا ہے۔
 
مان لیجئے کہ جمہوری نظام کفر ہے تو کیا اسلام یہ ہے کہ کسی دوسرے مکتبہ فکر سے تعلق رکھناے والوں کو قبر سے نکال کر درخت پر لٹکایا جائے کیا یہ اسلام ہے؟ یہ اولیائ کرام کی مزارات پر خودکش حملہ کرنا کیا یہ اسلام ہے؟ مان لیجئے کہ جمہوری نظام کفر ہے تو کیا اسلام یہ ہے کہ کسی دوسرے مکتبہ فکر سے تعلق رکھناے والوں کو قبر سے نکال کر درخت پر لٹکایا جائے کیا یہ اسلام ہے؟ یہ اولیائ کرام کی مزارات پر خودکش حملہ کرنا کیا یہ اسلام ہے؟ یا کسی لڑکی کو تین یا چار مرد پکر کر مارے وہ بھی سرے عام کیا یہ اسلام ہے؟ کیا یہ شریعت ہے؟ اگر حضورصلی علیہ والہٍ وسلم کی حیاتِ طیبہ پر غور کیا جائے تو اخوت اور محبت کا ہی سبق ملتا ہے۔حضورصلی علیہ والہٍ وسلم تو دشمنوں کو بھی معاف کردیا کرتے تھے۔
 
یہ تو تھی میری رائے اب آپ کی کیا رائے
ضرور پوسٹ کیجئے گا۔
 
 
اب تو کسی انقلاب کا انتظار نہ کر
ہوسکے تو خود انقلاب پیدا کر

اے شیخِ حرم برسرِ منبر تِری یہ شعلہ بیانی

 اپنی بات

اے شیخِ حرم برسرِ منبر تِری یہ شعلہ بیانی
صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری کے قلم سے
 
قارئین کرام!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
ان ہمارے پیارے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں امام کعبہ، شیخ القرآن الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس بن عبد العزیز صاحب رونق افروز ہیں جو حکومتِ پاکستان کی دعوت پر تشریف لائے ہوئے ہیں اور تادمِ تحریر یہاں کے مختلف دینی اداروں کے پروگراموں میں شریک ہوچکے ہیں نیز اعلیٰ حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کرچکے ہیں۔ وہ جہاں جاتے ہیں مسلمانانِ پاکستان ان کا والہانہ استقبال کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہئے کہ مسلمانانِ برصغیر ایشیائے کوچک اپنے آقا و مولیٰ، تاجدارِ حرم، شہنشاہِ عرب و عجم سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان سے منسوب ہر شے سے والہانہ محبت کرتے ہیں اور حریمین شریفین کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کرنا سعادت سمجھتے ہیں کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ارشاد فرماکر:
لَآ اُقْسِمُ بِھٰذَا الْبَلَدِ O وَاَنْتَ حِلٌّ م بِھٰذَا الْبَلَدِ O  (البلد 90: 1 تا 2)
(مجھے اس شہر کی قسم کہ اے محبوب تم اس شہر میں تشریف فرما ہو)
روئے زمین کے تمام مسلمانوں کو حریمین شریفین سے محبت اور اس کے احترام کی تعلیم دی ہے۔ لہٰذا امامِ کعبہ (کسے باشد) سے مسلمانوں کا اظہارِ محبت و عقیدت ایک فطری عمل ہے۔ اس میں امامِ کعبہ کی دستارِ فضیلت اور جبہ مبارکہ کے اندر ملفوف شخصیت کی ذاتی حیثیت کا دخل نہ ہونے کے برابر ہے۔ بلکہ ان کا والہانہ استقبال کرنے والے ہزاروں مسلمانوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ اس قدر قیمتی، خوبصورت، لباس اور عباء سے مزین اس شخصیت کانام کیا ہے؟ سعودی حکومت سے حرم شریف میں امامت و خطابت کے عوض ان کو کس قدر بھاری رقم بطورِ تنخواہ ملتی ہے؟ اس عظیم منصب پر فائز ذاتِ گرامی کا طرزِ زندگی درویشانہ ہے یا شاہانہ؟ اور رنگ و نسل، مسلک و مشرب کے اعتبار سے ان کی پہچان کیا ہے؟ وہ تو صرف یہ جانتے ہیں کہ ہمارے آقا و مولیٰ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے ولادت کے متبرک شہر مکۃ المکرمہ سے ان کا تعلق ہے اور بس! اسی لیے پاکستان میں ہمارے محترم مہمانانِ گرامی نے اپنی اس والہانہ محبت کا بھی خوب فائدہ اٹھایا۔ حکومت اور عوام نے ان کا والہانہ استقبال کرکے صاحبِ اسلام اور مرکزِ اسلام سے اپنی پُرخلوص عقیدت و محبت کا اظہار کیا ہے۔ چنانچہ وہ جہاں جہاں بھی تشریف لے گئے، وہاں انہوں نے مسلمانانِ پاکستان کو پند و نصائح سے نوازا۔ جن امور کی طرف انہوں نے توجہ دلائی، ان سے کوئی مسلمان اختلاف نہیں کرسکتا۔ مثلا:
1۔مسلمانوں کو اپنی اصلاح و فلاح کے لیے قرآن مجید سے روشنی حاصل کرنی ہوگی۔
2۔امّہ کے اتحاد و اتفاق اور اسلامی دنیا کے مسائل کے حل کے لے اجتماعی کوششیں کرنی ہوں گی۔
3۔گروہی اور فرقہ وارانہ اختلافات سے گریز وقت کا تقاضہ ہے۔ سب مسلمان بھائی بھائی ہیں۔
4۔ایمان و عقیدہ میں پختگی اور احکاماتِ اسلامی پر پابندی سے عمل کرتے ہوئے ہم مسلمانوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کرنی ہوگی۔
(واضح ہو کہ آج سے تقریباً سو سال قبل امام احمد رضا محدثِ بریلوی علیہ الرحمۃ اس نکتہ کی طرف نہایت شدّ و مد کے ساتھ مسلم سائنسدانوں، اسکالرز، محققین اور علمائے وقت کی توجہ دلاچکے ہیں۔ یہاں تفصیل کی گنجائش نہیں ہے۔ آج سو سال بعد سرزمینِ حرمینِ شریف سے یہ اسی کی بازگشت ہے۔)
5۔جدید بین الاقوامی حالات کے تناظر میں حکمت و بصیرت کے ساتھ اسلام کی تبلیغ و اشاعت کی ضرورت ہے تاکہ اسلام کے خلاف مغرب کی غلط فہمیاں دور ہوں۔
6۔اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔
7۔”لال مسجد”والے معاشرہ کی اصلاح اور کفار و مشرکین سے جہاد کے لیے شرعاً مکلف نہیں۔ وہ صدر پرویش مشرف کے انتباہ پر لال پیلے نہ ہوں۔ یہ حکومت وقت کا کام ہے، انہیں ہی کرنے دیں۔
8۔اسلام امن و سلامتی کا پیامبر ہے۔ دہشت گرد مسلمان نہیں ہیں۔
یہ تو وہ امور ہیں جن میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے کہ جس سے کسی کو کوئی اختلاف کی گنجائش ہو لیکن شیخ حرم کی صدرِ مملکت جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کے بعد کچھ ایسے امور بھی امامِ حرم کے حوالے سے اخبارات کی شہ سرخیوں کی زینت بنے جن کو پڑھ کر پاکستانی عوام انگشت بدنداں رہ گئے کہ امامِ کعبہ نے پاکستان کے اندرونی سیاسی امور اور معاملات پر اظہارِ خیال کرنا اور فتویٰ دینا شروع کردیا۔ امام کعبہ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ صدر پرویز مشرف کی حفاظت فرمائے اور انہیں حاسدوں کے شر سے محفوظ رکھے۔ اخبارات میں اس قسم کے ان کے دیگر ارشادات بھی شہ سرخی بنے۔ انہوں نے فتویٰ دیا کہ ”حکومتِ وقت اور صدرِ مملکت کی اطاعت سب پر لازم ہے۔”وغیرہ وغیرہ۔ امامِ حرم کے اس قسم کے سیاسی بیانات اور فتووں نے جہاں صدر پرویز کے حامی حلقوں کو نہال کردیا، وہاں ان کے مخالفین خاص طور پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری صاحب کی حمایت میں مہم چلانے والی سیاسی پارٹیوں اور ان کے حامیوں کو شدید تعجب اور غم و غصہ میں مبتلاء کردیا۔ بلکہ انہی کے ہم مسلک و ہم عقیدہ معروف کالم نگار جناب عطاء الحق قاسمی نے جو اس سے قبل امامِ حرم کا نہایت ادب و احترام کے ساتھ نام لے رہے تھے، اس پر فوری ردِّ عمل ظاہر کرتے ہوئے تحریر کیا کہ ”شیخِ حرم نے صدر پرویز کے خلاف سیاسی تحریک چلانے والے عوام اور سیاسی رہنماؤں کو حاسد قرار دیا ہے اور آمریت کے حق میں دعا دی ہے۔”ملک کے ایک اور بڑے کالم نگار نے شیخِ حرم کے بیانات کو ایک ”سرکاری ملازم”کے افکار قرار دیا ہے۔ (واضح ہو کہ شیخ حرم موصوف حکومت سعودیہ کے ایک تنخواہ دار ملازم ہیں۔)
بہرحال! شیخِ حرم کے اس قسم کے بیانات سے بہت سے لوگوں کے دل افسردہ اور آنکھیں نمناک ہیں اور مہمان ”مردِ حق”کے لیے ہمارے ملک میں جو احترام و محبت کی فضاء بنی تھی، اب وہ مکدر ہوتی نظر آرہی ہے۔ علامہ اقبال نے سچ فرمایا:
سینہ افلاک سے اٹھتی ہے آہِ سوزناک
مردِ حق ہوتا ہے جب مرعوبِ سلطان و امیر
عوام نے شیخِ حرم محترم کا جو والہانہ استقبال کیا وہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ وہ ایک مقدس سرزمین کہ جہاں پیدائشِ مولیٰ کی دھوم ہے، کے منسوب کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جگہ جگہ جمع ہوئے۔ انہیں اس سے غرض نہیں تھی کہ جو صاحب شیخ حرم کی مقدس عباء میں تشریف لائے ہیں، ان کے ذاتی کوائف کیا ہیں۔ لیکن ہمارے ملک کے پڑھے لکھے طبقے کے افراد اور الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کے احباب بشمول کالم نگار حضرات کو تو ان تمام باتوں کا علم ہے۔ پھر وہ اس بات کو کیوں نہ سمجھ سکے کہ ہمارے مہمان محترم
وہ آئے نہیں بلائے گئے ہیں
مدرسہ جامعہ اشرفیہ، لاہور کے ساٹھ سالہ جشنِ تاسیس کا اسٹیج ہو یا ایوانِ صدر کی ضیافت گاہ، یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کی بساط گاہ تھی ورنہ آپ سوچیں کہ جن شیخِ حرم کے نزدیک سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا جشنِ ولادت منانا اور اس کے لیے تعینِ تاریخ و وقت و جگہ دونوں حرام ہوں وہ تعینِ تاریخ و وقت اور جگہ کے ساتھ اس جشن ساٹھ سالہ میں شرکت کی حرام دعوت کو قبول فرمارہے ہیں   ع
ناطقاں سربگریباں ہے اسے کیا کہیے؟
قارئین کرام! جب مدرسہ اشرفیہ (لاہور) کی بات چل نکلی ہے تو یہ بھی وضاحت کردی جائے کہ ان حضرات اور ”لال مسجد”والوں کے اگرچہ پیرانِ کرائم ایک ہی ہیں لیکن ان کے رنگ علیحدہ ہیں۔ ”لال مسجد”والے بات بات پر کبھی لال کبھی پیلے کبھی دونوں ہوتے رہتے ہیں لیکن ”اشرفیہ”والے چونکہ نہایت سادہ لوح اور مخلص قسم کے ”صلح کلی”ہیں اس لئے سفید رنگ کو پسند کرتے ہیں لیکن چونکہ ملک کے ”سفید و سیاہ کے مالک”اشرفیہ سے روز تاسیس سے ان کے گہرے روابط و مراسم رہے ہیں اس لیے کبھی یہ سیاہ عمامے اور جبے بھی استعمال کرلیتے ہیں۔ البتہ کبھی یہ سیاسی جبہ و عمامہ کے اوپر نظر آتی ہے اور کبھی اندر سے جھلکتی ہے۔ غرض کہ یہ باعمل حضرات آج کی دو عملی کے دور میں نہایت سختی سے حالی پانی پتی کی اس ہدایت پر عمل پیرا ہیں  ع
چلو تم ادھر کو، ہوا ہو جدھر کی!
قارئین کرام! آپ کو یاد ہوگا کہ چند ماہ قبل وفاقی وزیر مذہبی امور کے حوالے سے یہ خبریں اخبارات میں آئی تھیں کہ موصوف نے اسلام آباد کی ”لال مسجد”کے معاملات کے حوالے سے ”امامِ کعبہ”سے فتویٰ حاصل کرلیا ہے۔ امام صاحب جلد دوبارہ بطورِ مہمانِ حکومت پاکستان تشریف لائیں گے تو اس موضوع پر اظہارِ خیال فرمائیں گے۔ تو ظاہر ہے کہ ان کی آمد کا مقصد حکومتِ وقت کو سیاسی فائدہ پہنچانا ہی تھا۔
اب رہا اس کا رونا کہ انہوں نے ہمارے ملک میں آمریت کی تائید کی ہے، یہ امر فضولی ہے۔ تاریخِ نجد و حجاز پر نظر رکھنے والے تمام ذی شعور حضرات جانتے ہیں کہ سعودی مملکت کی بنیاد دو خانوادوں کے معاہدے اور شراکتِ عمل سے وجود میں آئی۔ آلِ سعود اور آلِ شیخ (شیخ محمد بن عبد الوہاب کا خاندان)۔ آلِ سعود حکومت کا سیاسی نظام چلانے کے ذمہ دار ہیں جب کہ آلِ شیخ مذہبی امور کی انجام دہی پر مامور ہیں۔ ان لوگوں نے حجاز مقدس کو تاراج کیا، وہاں کے مسلمانوں پر کفر و شرک کے فتوے لگائے اور عوام تو عوام، علماء کو تہہِ تیغ کیا۔ جب نجد و حجاز میں ایک نئی مملکت کی بنیاد رکھی گئی تو اسلام کے شیدائی اور مجاہد ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کے لیے یہ سنہری موقع تھا کہ وہاں خلافتِ راشدہ کے نمونے کی جمہوری حکومت قائم کی جاتی (جیسا کہ اس وقت کے صوبہئ نجد کے حکمران ملک عبد العزیز نے پوری مسلم امہ سے وعدہ فرمایا تھا جس کا تحریری ثبوت ہندوستان کی خلافت کمیٹی اور حجاز مقدس کے آثارِ مقدسہ بچاؤ کمیٹی کے ارکان علامہ سید سلمان ندوی اور مولانا محمد علی جوہر کے پاس تھا اور ”تاریخِ نجد و حجاز”مصنفہ مفتی عبد القیوم ہزاروی میں شائع ہوچکا ہے۔) لیکن دنیا نے دیکھا کہ حریمین شریفین کی مقدس سرزمین پر ہزاروں معصوم اور بے گناہ مسلمانوں کا خون بہانے اور صحابہئ کرام اور صالحین ِ امت کے تمام مزارات کو تاراج کرنے کے بعد وہاں ”جلالۃ ملک”(آلِ شیخ) کی شہنشاہیت قائم کی گئی۔ گستاخی معاف! یہ شیخانِ حرم اسی شہنشاہیت کے سائے میں پلے بڑھے ہیں۔ یہ جمعۃ المبارکہ کا خطبہ بھی اپنے الفاظ میں نہیں دے سکتے بلکہ شہنشاہِ وقت کی طرف سے تحریرشدہ خطبہ پڑھنے کے مکلف ہیں۔ تو ملوکیت کے سائے میں پروردہ شیخانِ حرم سے آمریت کے خلاف فتویٰ کی توقع ایسا ہی ہے جیسے خار زار زمین پر کوئی نسترین و نسترن، چمپا، چنبیلی اور گلاب کے چمنستان کھلنے کی امید لگائے۔
پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کے نمائندے ہمارے ملک میں آزادی صحافت، آزادی تحریر و تقریر، غیرجانبدار اور آزاد عدالتی نظام جس میں انسان کے بنیادی حقوق کی ضمانت ہو، کی آئے دن رٹ لگاتے ہیں، ٹی۔وی پر مذاکرات منعقد ہورہے ہیں، حقوقِ انسانی کی انجمنیں اور سیاسی پارٹیاں اور اکیدیمیات سیمینار منعقد کررہی ہیں۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ جب ہمارے محترم مہمان شیخ حرم نے پریس کانفرنس منعقد کی تو کسی صحافی نے ان سے ان کے ملک کے سیاسی، معاشی اور عدالتی نظام مذہبی و مسلکی تعصب پر مبنی اور شخصی آزادی اور اظہارِ رائے پر قدغن لگانے والے جبر و ظلم کا مذہبی پولیس (متوّہ) نظام کے متعلق کوئی سوال نہیں کیا۔ حالآنکہ حال ہی میں اخبارات میں عالمی حقوق انسانی کی انجمن کے حوالے سے ایک خبر شائع ہوئی ہے کہ سعودی عرب کی مذہبی پولیس سے سنگین قسم کی حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیاں مشاہدے میں آئی ہیں۔ اس پولیس کو کسی بھی شہری کے گھر میں گھسنے اور موقع پر معاشرتی جرم پر سزا دینے کے وسیع اختیارات ہیں۔ مذہبی پولیس جس کا جا و بے جا استعمال کرتی رہتی ہے اور ان کے تشدد سے کئی اموات بھی واقع ہوچکی۔ اس سلسلہ میں حقوقِ انسانی کی انجمن نے حکومت سعودیہ پر زور دیا ہے کہ وہ مذہبی پولیس کے اختیارات کو کم کرے اور گھروں میں گھس کر تشدد کرنے، لوگوں کو تشدد کرکے ہلاک کرنے والے پولیس اہلکار کے خلاف مقدمہ قائم کرکے تادیبی کاروائی کرے۔ تفصیلات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مذہبی پولیس مذہبی و مسلکی تعصب اور سعودی اور غیر سعودی کے حوالے سے بھی لوگوں کو تشدد کا نشانہ بناتی ہے اور اس کے خلاف کسی بھی عدالت میں سنوائی نہیں ہوتی۔ ضرورت تھی کہ شیخِ حرم سے درج ذیل سوالات پوچھے جاتے:
1)کیا اسلام کے سیاسی نظام میں ملوکیت اور شخصی نظامِ حکومت کی گنجائش ہے؟
2)کیا ملک کے افرادی، پیداواری اور معاشی وسائل پر شخصِ واحد، یا اس کے خاندان، یا ایک مخصوص گروپ کا قبضہ اور اس میں اپنا من مانا تصرف اسلامی شریعت کی رو سے جائز ہے؟
3)کیا سعودی عرب کے نظامِ عدل کے تحت اور وہاں کے قانون کے تحت عام شہری کے حقوق و مراعات وہی ہیں جو وہاں کے شاہی خاندان کو حاصل ہیں؟
4)کیا خلفائے راشدین کی طرح ”جلالۃ الملک”اعلیٰ عدالت یا پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہیں یا انہیں اس کے برعکس مکمل تحفظ حاصل ہے؟
5)کیا وہاں کی اعلیٰ عدالتیں ملک کے آئین کی تشریح کرنے کی مجاز ہیں؟
6)کیا معاشی استحصال اور حقوقِ انسانی کی خلاف ورزی کے معاملے میں ”جلالۃ الملک”سمیت ہر شخص عدالت کی نظر میں برابر ہے اور اس سے جواب طلبی ہوسکتی ہے؟
7)شیخِ حرم محترم نے مسلمانانِ پاکستان کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بین المسلمین اتحاد کو فروغ دینے کا مشورہ دیا ہے جو ایک اچھی بات ہے۔ مملکت سعودیہ میں بھی مختلف مسالک کے افراد آباد ہیں، مثلاً اہلِ سنت، شیعہ، وہابی، پھر مذہب کے حوالے سے حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی وغیرہ۔ کیا شیخِ حرم کے ملک میں تمام مذاہب و مسالک والوں کو اپنے اپنے فقہ اور عقیدوں کے مطابق زندگی گذارنے کی کھلی آزادی حاصل ہے؟
8)اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر یہ بتایا جائے کہ ایک ہی مسلک و مذہب کے امام کی اقتداء میں دوسرے مسلک و مذہب والوں کو نماز پڑھنے کے لیے مجبور کیا جانا اور انکار یا نمازِ باجماعت (ثانی) کے اہتمام پر مذہبی پولیس والے اس کو گرفتار کرکے پابندِ سلاسل کیوں کرتے ہیں؟ اور قاضی فوری طور پر انہیں قید و بند کی سزا کیوں سنادیتا ہے؟ کیا شخصی آزادی سلب کرنے کی یہ بدترین مثال نہیں ہے؟
9)شیخ حرمِ محترم آپ نے قیامِ پاکستان کے دوران جہاں جہاں تقریریں کی ہیں آپ نے بڑے زوردار الفاظ میں پاکستان میں موجود تمام فرقوں کو اتحاد و اتفاق سے رہنے کی تلقین کی ہے اور تمام فرقوں کو مسلمان تسلیم کرتے ہوئے انہیں عالمی سطح پر ملی یکجہتی کا مظاہرہ کرکے معاشیات اور سائنسی میدان میں ترقی کرنے کا نیک مشورہ دیا ہے، ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ لیکن دیکھا گیا ہے اور اس پر کثیر شہادتیں پیش کی جاسکتی ہے کہ آپ کے ملک میں ”وہابی”عقیدے کے علاوہ تمام دیگر مسالک کے لوگوں کو بلاتکلف مشرک قرار دیا جاتا ہے اور انہیں اپنے مسلک اور عقیدے کی تبلیغ کی آزادی تو بڑی بات ہے اپنے عقیدہ کے اظہار کی بھی آزادی نہیں۔ چنانچہ اپنے مسلک اور عقیدہ کے اعتبار سے عبادات اور اپنی مذہبی رسوم ادا کرنے والوں (بالخصوص اہلِ سنت وجماعت کے افراد) کو آپ کی مذہبی پولیس والے گرفتار کرکے نہ صرف یہ کہ تشدد کا نشانہ بناتے ہیں بلکہ جبر اور ظلم کرکے اسے اپنا عقیدہ اور مسلک چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں ورنہ اسے جیل کی نہایت تنگ و تاریک کوٹھری میں بند کرکے اس کے مرنے کا انتظار کرتے ہیں اور آپ کی مذہبی پولیس کے اس ظلم کے خلاف آپ کے ملک کی کسی عدالت میں اپیل بھی نہیں ہوسکتی۔ اور اگر اتفاق سے وہ شخص غیر سعودی ہے یعنی اس کا تعلق برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش سے ہے تو خواہ کتنی ہی بڑی علمی اور روحانی شخصیت کیوں نہ ہو، آپ کی حکومت اسے جیل کی سزا بھگتنے کے بعد اس کا خروج کرادیتی ہے خواہ وہ حج وعمرہ کا زمانہ ہی کیوں نہ ہو، وہ شخص احرام کی حالت ہی میں کیوں نہ ہو، آپ کی مذہبی پولیس والے اس پر بالکل ترس نہیں کھاتے۔ ناگفتہ بہ ظلم اور تشدد کے علاوہ ایک مسلمان کی حیثیت سے حج و عمرہ ادا کرنے کا اس کا جو بنیادی حق ہے، اس سے آپ اسے محروم کردیتے ہیں، تو آپ کے قول و فعل میں یہ تضاد کیوں ہے؟
9)جس بات کی تلقین آپ پاکستان کے مسلمانوں کو کررہے ہیں آپ اس کا مظاہرہ اپنے ملک میں کیوں نہیں کرتے کیوں کہ بطورِ امامِ حرم آپ کی تقرری بھی اسی مذہبی نظام کا ایک حصہ ہے جس کے ماتحت مذہبی پولیس آتی ہے۔ اس لیے اگر آپ کی یہ باتیں حقیقت اور صداقت پر مبنی ہیں تو آپ نے اپنے مذہبی اور سیاسی نظام کی اصلاح کی کوشش کیوں نہ کیں اور اگر آپ نے کی لیکن آپ کی سنوائی نہ ہوئی تو آپ ایسے ظالمانہ اور جابرانہ نظام کا حصہ بن کر اسلام کی کون سی خدمت انجام دے رہے ہیں؟
10)کیا آپ کے ملک کے نظامِ تعلیم میں دوسرے مسالک و مذاہب کی تعلیم کی گنجائش ہے یا سب کو وہابیت کا ہی نصاب پڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے؟
11)اگر آپ کی نظر میں مسلمانوں کے تمام فرقہ برابر ہیں اور آپ سب کو امّہ کا حصہ سمجھتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں آپ کی حکومت مساجد اور دینی مدارس کی تعمیر کے لیے جو مالی اعانت فرماتی ہے، وہ صرف اہلِ حدیث، دیوبندی اور جماعتِ اسلامی کے فرقوں کے لیے کیوں ہے؟ اہلِ سنت و جماعت کے افراد سے یہ امتیازی سلوک کیا آپ کے قول و فعل کا کھلا تضاد نہیں؟
درج بالا سطور کے لکھنے کا مقصد صحافی برادری اور میڈیا کی توجہ اس طرف مبذول کرانا مقصود ہے کہ آپ سب سے زیادہ آزادیئ اظہارِ رائے، آزادیئ صحافت، میڈیا کی آزادی، اطلاعات کی بہم رسانی سب کا بنیادی حق ہے اور حقوقِ انسانی کے تحفظ کا نعرہ بلند کرتے ہیں اور عدلیہ کی مقننہ سے آزادی کے حق میں آواز اٹھاتے ہیں اور بجا طور پر یہ سب کرتے ہیں۔ لیکن دیکھا گیا ہے کہ جب شیخانِ حرم یا آلِ شیخ کے خانوادے کی کوئی شخصیت پاکستان بطور مہمان آتی ہے تو میڈیا کے حضرات ان خادمانِ حرمین شریفین سے اس قسم کے سوالات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ وہ ان سے یہ سوال کیوں نہیں پوچھتے کہ آپ کے ملک اور اس کے آئین کو تو اسلام کے دورِ اول والے خلافتِ راشدہ کے عادلانہ، رفاہی، فلاحی، سیاسی، معاشی، معاشرتی اور عدالتی نظام کا نمونہ (Model) ہونا چاہیے تھا۔ لیکن گذشتہ سو سال سے آپ کے ملک میں ملوکیت، جبر و استیصال اور قبائلی، مذہبی، مسلکی و طبقاتی امتیازات پر مبنی سیاسی و معاشرتی نظام قائم ہے۔ کیا وجہ ہے کہ آپ دنیا بھر کے مسلمانوں کو یکجہتی اور اسلامی شریعت کے نظام کے تحت زندگی بسر کرنے کی تلقین کرتے ہیں لیکن خود اپنے ملک میں اور اپنے اوپر اس نظام کو جاری و ساری نہیں کرتے؟
امام حرم اور شیخِ حرم ہونا ایک بہت بڑا منصب ہے، دنیا کے کروڑوں مسلمان ان سے مذہبی اور سیاسی طور پر رہنمائی کی توقع رکھتے ہیں۔ اس لیے اس منصب پر فائز شخصیات پر بھی لازم ہے کہ سچائی، دیانتداری، نیک نیتی اور اسلام کے نظامِ عدل و احسان سے واقفیت اور اللہ سبحانہ، و تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرم و محتشمؐ سے محبت کا جو کم سے کم معیار ہے اس پر پوری اتریں۔ جو لوگ ان تقاضوں کو پورا نہیں کرتے وہ بلاشبہ امانت کے ضائع کرنے والوں میں سے ہیں۔ قیامت کے دن رسوائی ان کا مقدر ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شیخانِ حرم کی مجلس میں میڈیا کے سارے ہی فرد وہابی بن جاتے ہیں یا پھر وہاں بلائے ہی وہابی جاتے ہیں؟ بہرحال قوم کو اس سے دلچسپی نہیں کہ ایک صحافی کا مذہب و مسلک کیا ہے بلکہ وہ تو اس چیز سے دلچسپی رکھتی ہے کہ ایک صحافی یا میڈیا مین کی دیانت ہی اس کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ ان کا یہ دعویٰ کہ ہم وہی لکھتے، چھاپتے اور وہ خبریں پیش کرتے ہیں جو سچ ہے، دلیل کا طالب ہے۔ کم از کم شیخِ حرم محترم محمد عبد الرحمن السدیس کے حالیہ دورہ پاکستان کے حوالے سے ان کا یہ دعویٰ تشنہ دلیل ہے:
چو پردہ دار بشمشیر می زندہمہ را
کسی مقیمِ حریمِ حرم نخواہد ماند

لال قلعے سے لال مسجد

صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری کے قلم سے

 

 

 

قارئین کرام!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ماہِ جولائی میں لال مسجد کا سانحہ پاکستان کی تاریخ کی ایک ایسی ٹریجڈی ہے جس کے دُور رس اثرات بے حد و بے حساب ہیں۔ مسلمانانِ پاکستان ہی نہیں بلکہ عالمِ اسلام کے مسلمانوں کے لیے بھی یہ بات نہایت ہی قابلِ افسوس اور سخت صدمے کا باعث ہے کہ ایک عبادت گاہ (مسجد) کو گولہ بارود کے ذخیرہ خانہ یا جنگی قلعے میں تبدیل کیا گیا، لال مسجد اور ملحقہ مدرسہ حفصہ سے جدید اسلحہ کی نہ صرف نمائش کی گئی بلکہ معصوم طالب عالم بچوں، بچیوں، مرد اور عورتوں کو یرغمال بناکر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے دہشت گردی کا بدترین مظاہرہ کیا گیا۔ مملکت کے اندر ایک مملکت بنائی گئی، حکومتِ وقت کی رٹ کو چیلنج کیا گیا۔ اپنی من پسند کی شریعت نافذ کرنے کے لیے خواتین اور مرد طلباء کی ڈنڈا بردار اور پستول بردار ”پولیس” ٹولیاں بنائی گئیں، جو لال مسجد کے اردگرد کے علاقوں اور بازاروں میں گشت کرتی تھیں، ملکی اور غیر ملکی خواتین، مردوں اور پولیس کو بازاروں، شاہراہوں، دکانوں اور حتیٰ کہ گھروں کے اندر گھس گھس کر اغوا کیا گیا اور انہیں لال مسجد میں حبسِ بے جا میں رکھا گیا۔ لال مسجد میں قائم عدالت سے سزائیں سنائی گئیں، سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی گئی، پبلک عمارات کو آگ لگائی گئی، جس پر مجبوراً سیکیورٹی فورسز نے گھیراؤ کرکے ایک ہفتہ تک انہیں وارننگ دی۔ پھر مذاکرات کی ناکامی پر وہ کچھ ہوا جو پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا تھا جس کی تمام تر ذمہ داری لال مسجد کی انتظامیہ اور وفاق المدارس کے کرتا دھرتا اور پسِ پردہ حکومتی اداروں میں ان کے ہمدردوں پر عائد ہوتی ہے۔ نتیجتاً سیکڑوں بے گناہ معصوم جانوں کو آگ اور خون کے دریا کی بھینٹ چڑھا دیا گیا اور لطف کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ اسلام کے مقدس نام پر کیا گیا۔ نام نہاد ”جہاد” میں فتح سے قبل ہی دہشت پسندوں کے دونوں سرداروں عبد العزیز اور عبد الرشید نے ”غازی” کے لفظ کا لاحقہ اپنے نام کے آگے لگالیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ:
دونوں ہی ننگِ ملت، دونوں وطن کے باغی
عبد العزیز ”برقع”، عبد الرشید ”غازی”
پھر دنیا نے براہِ راست ٹیلی ویژن (Live Media) اسکرین پر دیکھا کہ لال مسجد کے ”مجاہدین” کا کمانڈر انچیف، ”خیالی اسلامی حکومت” کا ”امیر المؤمنین”، ”خود ساختہ اسلامی عدالت” کا ”قاضی القضات” جس نے ”شہادت” کا جامِ شیریں پینے اور جنت کی حوروں کے استقبال کے تین سو سے زیادہ مبشرات بیان کئے تھے، جامعہ حفصہ سے نکلنے والی نوجوان طالبات کے جھرمٹ میں بزدلوں کی طرح برقع پہن کر فرار ہوتے ہوئے پکڑا گیا۔ بھلا گستاخانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی مبشرات ہوسکتے ہیں؟ ہاں شیطانی الہامات ہوں تو تعجب نہیں!
جب ہی اللہ تعالیٰ نے خود اس کو اپنے مبشرات کے جھوٹے ہونے کی دلیل بنادیا اور اس نے خود بھی پوری دنیا کے لیے میڈیا اسکرین پر ”نقابِ رُخ” الٹ کر قرآن مجید فرقان حمید کی آیاتِ کریمہ:
وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ عَلَیْہَا غَبَرَۃٌ O تَرْھَقُہَا قَتَرَۃٌ O
(ترجمہ: اور کتنے مونہوں پر اس دن گرد پڑی ہوگی، ان پر سیاہی چڑھ رہی ہے۔ [عبس: ٨٠/ ٤٠،٤١]) کی عملی تفسیر اپنا اصل چہرہ دکھا کر پیش کی، وہ چہرہ جس کی تصویر آج سے قبل دنیا کی کسی بھی الیکٹرونک میڈیا کا کیمرہ نہ اتار سکا، آج اس نے خود اپنے اترے ہوئے چہرے کی اصل تصویر دکھا کر ملت اسلامیہ کو افسردہ و شرمندہ اور ملت کفر کو فرخندہ ”بآں میوہ رسیدہ” بنادیا۔ پھر کیا تھا، ملتِ کفر نے جسے عصرِ حاضر کی زبان میں ”صیہونی لابی” کہتے ہیں، اپنے ہر چینل پر اس ننگِ دین، ننگِ وطن، ننگِ ملت کے چہرہئ غَبَرَۃ قَتَرَۃ کی ہر ہر زاویئے سے خوب خوب تصویر کشی کی اور ہر تجزیہ نگار حافظ علیہ الرحمۃ کے اس شعر کے بموجب:
بس شُکر باز گویم در بندگیِ خواجہ
گر اوفتد بدستم آں میوہ رسیدہ
اس ”میوہ رسیدہ” کے حصول پر خوب خوب بغلیں بجاتا اور منحوس چہرہ کو ملتِ اسلامیہ اور علماءِ ملت اسلامیہ کا اصلی چہرہ قرار دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا اور اسلام کو دہشت گرد مذہب قرار دینے کے لیے دور دور کی کوڑی لاتا اور ان تبصروں کو بار بار نشر کرکے مسلمانوں کا خون کھولاتا۔ لال مسجد اور اس کے ملحقہ مدرسہ حفصہ سے گولہ بارود کا جو ذخیرہ نکلا، کلاشنکوف، مشین گن، ہینڈ گرینیڈ، راکٹ اور راکٹ لانچر پیڈ، مائینز، دیسی بم بنانے کے سامان، مدرسہ حفصہ کی وسیع و عریض عظیم چھ منزلہ عمارت میں تہہ خانہ در تہہ خانہ، اس کی قلعہ نما دیواریں کہ ڈائنامائٹ لگانے سے بھی نہ گرپائیں، ان سب نے دنیا پر ثابت کردیا کہ لال مسجد اور غصب شدہ زمین پر اس کی اسلحہ کے زور پر توسیع اور مدرسہ حفصہ کی سی۔ڈی۔اے سے بلااجازت منظوری تعمیر، ایک سوچے سمجھے طویل المدت منصوبہ کا حصہ تھی جس کا مقصد کسی بھی سازگار وقت میں اسلام آباد پر قبضہ کرکے ”امیر المؤمنین عبد العزیز برقع” کی امارت اور ایک دیوبندی وہابی اسٹیٹ کے قیام کا اعلان تھا۔ لال مسجد کے سانحہ اور اس کے بعد کے حالات و واقعات سے اب یہ بات اظہر من الشمس ہوگئی اور ملکی غیرملکی پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں بار بار دہرائی گئی اور اب بھی کہی جارہی ہے کہ نہ صرف لال مسجد اور مدرسہ حفصہ کی انتظامیہ اور اس میں تَعَیُّنَات مسلح دہشت گرد طالبان کا تعلق پاکستان میں نجدی عقائد کے ناشر فرقہ دیوبندیہ سے ہے کیونکہ لال مسجد، مدرسہ حفصہ، مدرسہ فریدیہ اور لال مسجد کی انتظامیہ سے ملحقہ دیگر ٢٨مدارس جن کے متعلق حکومت جمہوریہ اسلامیہ پاکستان کی سیکرٹ ایجنسیوں کی خفیہ رپورٹ اخبارات میں شائع ہوچکی ہے، ان سب کا الحاق دیوبندی مدارس کی تنظیم وفاق المدارس سے ہے۔ خود وفاق المدارس کی مجلس عاملہ نے نہ صرف اسے تسلیم کیا بلکہ لال مسجد پر سیکیورٹی فورسز کے پولیس ایکشن سے قبل اور بعد انہوں نے لال مسجد انتظامیہ کی حمایت میں زور دار بیانات جاری کئے اور ”برقع برادران” اور دیگر دہشت گردوں کو ”محفوظ راستہ” فراہم کرنے کے لیے وزیرِ اعظم، صدرِ مملکت اور حکومتی نمائندوں پر اثر انداز ہونے کی بھرپور کوشش بھی کرتے رہے۔ یہ بات اخبارات کی فائلوں اور الیکٹرونک میڈیا کی سی۔ڈی میں ریکارڈ ہے۔ اس سے وہی انکار کرسکتا ہے جو دن کو نصف النہار کے وقت آسمان پر سورج کے چمکنے کا انکار کرے۔ لہٰذا جتنے بھی کلاشنکوف بردار طالبان نظر آتے ہیں ان سب کا تعلق دیوبندی فرقہ سے ہے اور وہ انہی کہ مدرسہ سے پڑھے ہوئے ہیں، وہیں کے پروردہ ہیں یا اب بھی وہاں بطور طالبعلم پرورش و تربیت پا رہے ہیں جبکہ الحمدللہ اہلِ سنت و جماعت کی تنظیم، تنظیم المدارس سے ملحقہ کسی بھی دارالعلوم کا کوئی طالبعلم چھری بردار بھی نظر نہیں آئے گا۔
یہاں ہم یہ بھی وضاحت کردیں کہ ”ہم سخن فہم ہیں، غالب کے طرفدار نہیں”۔ ہم نہ حکومت وقت کے حریف ہیں نہ حلیف اور نہ ہمارے کوئی اور سیاسی عزائم ہیں۔ ہم دین حقہ کے خدمت گذار ہیں۔ ہم نے ہر غلط کام پر حکومت کی تنقید کی ہے۔ خواہ وہ کشمیر کی آزادی کا معاملہ ہو، آزادئ خواتین بِل کا یا ملک میں نفاذِ شریعت کا یا نام نہاد ”روشن خیالی” کے فروغ کا یا پاکستان کے استحکام کا، معارفِ رضا کے اداریئے اور مضامین اس پر شاہدِ عدل ہیں۔ ہمارے بزرگوں نے ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی میں بھرپور حصہ لیا اور بے مثال قربانیاں دیں جو تاریخ میں مرقوم ہے۔ آل انڈیا سنی کانفرنس کے پلیٹ فارم سے آزاد مسلم مملکت کی تحریک شروع کی گئی تو پاکستان کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرتے وقت اس کا ہراول دستہ ہم ہی تھے۔ اس لیے جس تحریک یا اقدام سے استحکامِ پاکستان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو یا مملکتِ خداداد کے حصول کے مقاصد میں رخنہ آئے، یا قرآن و سنّہ کے خلاف آئین سازی کی کوشش کی جائے، ہم اس کی مخالفت کریں گے۔ لہٰذا لال مسجد کے واقعات کے پسِ پردہ جو عوامل سامنے آئے ہیں ہم اس پر بھی اسی نکتہ نظر سے روشنی ڈالیں گے تاکہ قارئین کرام اس کے پسِ منظر اور پیشِ منظر کے مختلف پہلوؤں سے واقف ہوسکیں اور انہیں اپنی رائے قائم کرنے میں آسانی ہوجائے۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ حادثہ لال مسجد (Lal Masjid Episode) کے ذمہ دار کون لوگ ہیں؟

 

جب ہم تاریخ کے تناظر میں وہابیہ نجدیہ کا تحقیقی اور معروضی جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ اس کی بنیاد ہی شدت پسندی، فتنہ و فساد، دہشت گردی اور قتل و غارت گری پر رکھی گئی ہے۔ چنانچہ برصغیر پاک و ہند کی ایک نہایت معتبر و مستند اور غیر جانبدار شخصیت جن کا سُنّی، دیوبندی، وہابی سب ہی احترام کرتے ہیں، یعنی حضرت علامہ مولانا شاہ زید ابو الحسن فاروقی مجددی نقشبندی علیہ الرحمۃ (پ١٣٢٤ھ/١٩٠٦ء) تحریر فرماتے ہیں کہ شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی (پ١١١١ھ/ ١٦٩٩ء یا ١١١٥ھ/ ١٧٠٣ء۔ ١٢٠٦ھ/ ١٧٩٢ء) جو وہابیہ فرقہ کے بانی ہیں، پر سب سے زیادہ نکیر (مخالفت) دو باتوں کی وجہ سے کی گئی ہے:
ایک: صرف تَلفیقاتِ بلا دلیل کے (جھوٹی باتوں کو بناکر بیان کرکے) اہلِ جہاں کو کافر قرار دینا اور اس سلسلے میں علامہ سید داؤد بن سلیمان نے انصاف کے ساتھ ان کا رد لکھا ہے۔
دوم: بغیر کسی حجت اور دلیل کے معصوم خون کا بہانہ اور اس کام میں ان کا تَوَغُّل۔ [١]
حضرت زید فاروقی رحمۃ اللہ علیہ مزید لکھتے ہیں کہ شیخ محمد بن عبد الوہاب کے مذہب کی تحقیق اس وقت کے دو اماموں علامہ بدر الملۃ سید محمد بن اسماعیل الامیر الصنعانی اور شیخ مربد التمیمی نے کی۔ ان کا بیان ہے کہ ”ہمارے پاس محمد عبد الوہاب کے بعض رسالے بھی پہنچے ان رسالوں میں اہلِ ایمان کو کافر قرار دینے اور ان کو قتل کرنے اور ان کے مال لوٹنے کا بیان ہے۔ محمد بن عبد الوہاب کے رسالوں کو پڑھ کر اور ان کے احوال سن کر ہم کو یقین ہوگیا اس شخص کو شریعت کے صرف ایک حصہ کا علم ہے اور وہ بھی (اس نے) دقیق نظر سے نہیں دیکھا ہے اور نہ کسی باکمال سے پڑھا ہے کہ وہ اس کو صحیح راستہ پر لگاتا اور مفید علوم سے آگاہ کرتا اور تفقہ اور دقیق سنجی کی راہ پر لگاتا۔” [٢]
اور سید محمد امین بن عمر معروف بہ ابنِ عابدین نے ”در مختار” کی شرح ”رد المحتار” مطبوعہ ١٢٤٩ھ کی تیسری جلد ”باب البغات” ص٣٩ میں لکھا ہے:
”جیسا کہ ہمارے زمانہ میں پیش آیا ہے کہ نجد سے عبد الوہاب کے پیروان نکلے اور انہوں نے حرمین پر قبضہ کیا۔ وہ اپنے کو اگرچہ حنبلی کہتے ہیں لیکن ان کا عقیدہ یہ ہے کہ مسلمان صرف وہی ہیں، جو بھی ان کے عقائد کے خلاف ہو وہ مشرک ہے بنا بریں انہوں نے اہلِ سنت اور ان کے علماء کو قتل کرنا مباح قرار دیا ہے۔ تا آں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی شوکت اور طاقت توڑی، ١٢٣٣ھ میں مسلمان افواج کو ان پر فتح دی اور ان کا وطن برباد کیا۔” [٣]
امام عبد اللہ بن عیسیٰ بن محمد صنعانی نے ١٢١٨ھ میں کتاب ”السیف الہندی فی أبانۃ طریقۃ الشیخ النجدی” لکھی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ محمد بن عبد الوہاب، عبد العزیز نجدی کے محلہ میں فروکش ہوئے، عبدالعزیز نے بیعت کی اور وہاں کے لوگ ان کے مددگار ہوئے۔ ان لوگوں نے درعیہ کے قرب و جوار کے بستیوں میں اپنا مسلک پھیلایا۔ جب محمد بن عبد الوہاب کے ساتھ ایک قوی جماعت ہوگئی: قَرَّرَ لَھُمْ أَنَّ مَنْ دَعَا غَیْرَ اللّٰہِ أَوْ تَوَسِّلَ بِنَبِیٍّ أَؤْ مَلَکٍ أَوْ عَالِمٍ فَإِنَّہ، مُشْرِکٌ شَاءَ أَوْ أَبٰی یہ قانون نافذ کردیا کہ جو شخص غیر اللہ کو آواز دے یا کسی نبی، یا فرشتے یا عالم کا وسیلہ لے، وہ مشرک ہے، اس کا ارادہ شرک کا ہو یا نہ ہو۔
محمد بن عبد الوہاب کے اس قول کی وجہ سے عام مسلمانوں کی تکفیر لازم آتی ہے اور اسی پر وہ مسلمانوں سے لڑے ہیں۔” [٤]
نواب صدیق حسن خاں نے ”ابجد العلوم” میں کچھ تفصیل سے محمد بن عبد الوہاب نجدی کا حال لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے:
”ولادت عینیہ میں ہوئی، قرآن مجید پڑھا اور حدیث کی سماع کی اور اپنے والد سے جو کہ حنبلی فقیہ گھرانے میں سے تھے، پڑھا، پھر حج کیا اور مدینہ منورہ گئے۔ وہاں شیخ عبد اللہ بن ابراہیم نجدی تلمیذ ابو المواہب بعلی دمشقی سے پڑھا، پھر اپنے والد کے ساتھ نجد آئے اور جریمل میں قیام کیا، والد کی وفات کے بعد عینیہ آگئے۔ وہاں اپنی دعوت پھیلائی، پھر کسی وجہ سے درعیہ آگئے۔ وہاں امیر محمد بن سعود آل مقرن از اولاد بنی حنیفہ (ازربیعہ) نے ان کی اطاعت کی۔ یہ واقعہ تقریباً ١١٥٩ھ کا ہے،اس کے بعد محمد بن عبد الوہاب کی دعوت نجد میں اور جزیرہ عرب کے مشرقی حصوں میں عمان تک پھیلی۔” [٥]
مذکورہ بالا حوالہ جات سے ثابت ہوا کہ محمد ابن عبد الوہاب نے اپنے مذہب کی بنیاد جمہور ائمہ اربعہ کے مذہب کے خلاف پر رکھی اور اول روز سے جبر، ظلم اور دہشت گردی کا سہارا لے کر عامۃ المسلمین کو بالجبر اپنا ہمنوا بنانے اور اربعہ امام کے مذہب کو ترک کرکے نجدی عقیدہ اختیار کرنے پر مجبور کیا کیونکہ جو ان کا عقیدہ و مذہب اختیار نہیں کرتا تھا، وہ اسے کافر و مشرک قرار دے کر قتل کردیتے تھے اور دنیا کی سب سے بڑی مسلم سنی اسٹیٹ سلطنتِ ترکیہ کو جو اس زمانے میں دنیا کی سپرپاور تھی، انگریزوں کی ملی بھگت سے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوشش کی اور آخرکار تقریباً سو سال کے بعد ١٩٢٤ء میں حکومت برطانیہ کی مدد سے وہ اس عظیم الشان مسلم قوت کا شیرازہ بکھیرنے میں کامیاب ہوگئے تو عبد العزیز آل سعود نے ١٩٢٤ء میں انگریزوں کی فوجی اور سیاسی مدد و حمایت سے مکۃ المکرمہ اور مدینۃ المنورہ کو تاراج کیا، مثلاً اسلامی آثار، مسجدوں، مدرسوں، صحابہ کرام اور اہلِ بیت کے مزارات اور ان سے منسوب مکانات اور مساجد اور دیگر تبرکات کی بے حرمتی کی گئی، ان کو ڈھاکر ان پر گدھوں کے ہل چلائے گئے۔ طائف، مکۃ المکرمہ اور پھر مدینۃ المنورہ میں سیکڑوں کی تعداد میں علمائے کرام اور ہزاروں کی تعداد میں اہلِ سنت کو تہہ تیغ کیا گیا۔ حضرت علامہ مفتی عبد القیوم ہزاروی علیہ الرحمۃ کی تصنیف تاریخِ نجد و حجاز میں اس کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔ برطانیہ اور یورپ کی دیگر عیسائی حکومتوں کی سلطنتِ ترکیہ اور مسلمانوں کے خلاف اقدامات اور خفیہ سازشوں کی مزید تفصیل اس دور کے ایک برطانوی جاسوس ”ہمفرے کے انکشافات” نامی کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے جو اول جرمنی کے جریدے ”سی گل” میں شائع ہوئی۔ پھر عربی میں ترجمہ ہوکر بیروت سے شائع ہوئی۔ پاکستان میں اس کا اردو ترجمہ ہوا۔
پہلی بار ١٢٢٠ھ میں نجدیوں نے ترکی صوبہ حجاز کے شہر طائف پر اچانک حملہ کیا، خلقِ خدا کو قتل کیا، حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی مسجد گرائی اور پھر وہاں سے محمد بن عبد الوہاب نجدی کا ایک مختصر رسالہ ”ردّ الاشراک” مکۃ المکرمہ ارسال کیا گیا کہ اہلِ مکہ اربعہ امام کا مذہب (جو بقول ان کے معاذ اللہ) مشرکوں کا مذہب ہے، چھوڑ کر نجدیوں کا مذہب اختیار کرلیں ورنہ جنگ کے لیے تیار ہوجائیں۔ اسی دوران (١٢٢١ھ میں) یہ مختصر رسالہ ”ردّ الاشراک” تمام ممالکِ اسلامیہ میں پہنچایا گیا، چنانچہ یہ ہندوستان بھی پہنچا اور حضرت شاہ عبد العزیز علیہ الرحمۃ کی حیات میں دہلی پہنچا اور مولوی اسماعیل نے جزوی ردّ و بدل کے ساتھ ”تقویت الایمان” کے نام سے شائع کیا۔ [٦]
یہ عجب اتفاق ہے کہ جس طرح نجدی کے رسالہ ”ردّ الاشراک” کا سب سے پہلا ردّ ان کے بھائی علامہ شیخ سلیمان بن عبد الوہاب نجدی نے ”الصوائق الالہیۃ فی ردّ علی الوہابیہ” علمی انداز میں لکھ کر کیا بالکل اسی طرح اسماعیل دہلوی کے چچا زاد بھائی حضرت مولانا مخصوص اللہ دہلوی اور حضرت مولانا شاہ محمد موسیٰ دہلوی نے ”معید الایمان” اور ”حجۃ العمل” کے نام سے تقویت الایمان کا ردّ لکھ کر کیااور وہ تقویت الایمان کو ”تفویت الایمان” یعنی ایمان کو فوت کرنے والی کتاب کہتے تھے۔ [٧]
حضرت علامہ مولانا فضل رسول بدایونی علیہ الرحمۃ کے استفسار پر مولانا مخصوص اللہ ابن مولانا شاہ رفیع الدین دہلوی علیہما الرحمۃ نے ”تحقیق الحقیقہ” کے نام سے ایک رسالہ تحریر فرمایا تھا جس کے مندرجات سے تقویت الایمان اور خود اس کے مصنف آنجہانی اسمٰعیل دہلوی کی حیثیت متعین ہوتی ہے۔ اس میں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں لکھا ہے: ”میرے نزدیک اس کا رسالہ عمل نامہ برائی اور بگاڑ کا ہے اور بنانے والا فتنہ گر اور مفسد اور غاوی اور مغوی ہے۔” [٨] غالباً تقویت الاسلام کی اسی فتنہ انگیزی کی وجہ سے انگریزوں نے اس کی اشاعت اور مفت تقسیم میں حصہ لیا۔ (ملاحظہ ہو، مقالہ ڈاکٹریٹ عربی، ”العلامۃ فضل حق خیر آبادی، تحریر: ڈاکٹر قمر النساء، ناشر: عثمانیہ یونیورسٹی، حیدر آباد، دکن، ص: ٥٢) یہی نہیں بلکہ انگریزوں نے مسلمانانِ ہند کے دلوں سے محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چراغ کو گل کردینے اور سوادِ اعظم کے پختہ دینی عقائد کو متزلزل اور اسلامی افکار کو تبدیل کرنے کے لیے ایک اسلام دشمن اسکیم کے تحت اسمٰعیل دہلوی کی جماعت سے بعض کرائے کے مولویوں کو ١٨٤٨ء میں پچاس پچاس روپے یا اس سے بھی زائد رقم دے کر اس کام پر مامور کیا کہ وہ مسلمانوں کے سوادِ اعظم میں انگریزی مشنری کی طرف سے تیار کردہ ایک ”اسلامی نصاب” کے مطابق قرآنی آیتوں اور احادیثِ مبارکہ کی من مانی تفسیر و تشریح سنا سناکر سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ اربعہ خصوصاً امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی محبت اور ان کی سچی پیروی کا جذبہ مسلمانوں کے دل سے محو کروائیں۔ انگریزوں کی اس نہایت سنگین اور خطرناک سازش کا انکشاف اس دور کے (١٨٤٨ء) کے ایک سنّی عالم مولانا سید اشرف علی، گلشن آبادی (ناسک، مہاراشٹر، انڈیا) نے اپنی ایک کتاب ”تحفہ محمدیہ”، مطبوعہ لیتھو برقی پریس، نئی سڑک، کانپور، ص:٣٢، ٣١ پر کیا ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ کریں: محمد نجم مصطفائی، منزل کی تلاش، ناشر: ادارہ تحقیقاتِ اسلامیہ حنفیہ، فیصل آباد، پنجاب، ای۔میل: najamustafai@yahoo.com ، ص: ١٨ تا ٢٠)۔ انگریز اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوگئے۔ انگریزوں کے تنخواہ دار مولویوں اور سید احمد بریلوی اور اسمٰعیل دہلوی جیسے جعلی پیروں کے ماننے والے جھوٹے پیرؤوں کی تبلیغ سے بے شمار مسلمانوں کے صحیح عقائد خراب ہوئے، پھر نئے اور پرانے عقائد والوں میں آپس میں جھگڑا فساد شروع ہوگئے۔ مسلمان مختلف گروہوں میں بٹ کر تتر بتر ہوگئے اور آج آپس کے ان جھگڑوں نے اس قدر شدت اختیار کرلی کہ کھلے عام ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے، دلائل کی جگہ پستول اور بندوق نے لے لی۔ انگریز اور صیہونی طاقتیں جو چاہتی تھیں، وہ ہی ہوا۔ مسلمانوں کی اجتماعی قوت ختم ہوکر رہ گئی۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ہندوستان میں انگریزوں کو سب سے زیادہ خطرہ مسلمانوں سے ہی تھا۔ انہوں نے ان کے اندر اپنے ایجنٹوں سے خلفشار پیدا کرکے اس سے پورا فائدہ اٹھایا۔ مسلمان ١٨٥٧ء میں انگریزوں کے خلاف اپنوں کی غداری کے سبب ناکام رہے اور بعد میں حکومتِ برطانیہ کے خلاف جہاد کی جرأت نہ کرسکے۔
حضرت علامہ مفتی سید شاہ حسین گردیزی صاحب، اسماعیل دہلوی کی شخصیت کا ایک تجزیاتی اور نفسیاتی پسِ منظر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مسلمانانِ ہند میں انتشار و افتراق، فتنہ پردازی، ضرب و فساد اور گردن کشی (دہشت گردی) کی روایت دلی کے لال قلعہ کے اردگرد جامعہ مسجد دہلی سے شروع ہوتی ہے۔
”حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے یتیم پوتے شاہ اسمٰعیل دہلوی اس کام کے لیے استعمال ہوئے جو اپنے اعمام (چچا حضرات، مثلاً حضرت شاہ عبد العزیز محدثِ دہلوی، حضرت شاہ عبد القادر اور حضرت شاہ رفیع الدین رحمہم اللہ) سے کبیدہ خاطر تھے۔ بعض خانگی اور شخصی معاملات پر ناراضگی کو دیرپا بنانے کے لیے محمد بن عبد الوہاب نجدی کی متابعت میں ”تقویۃ الایمان” کے نام سے ایک اختلافی رسالہ لکھ کر میدان میں لے آئے جس میں انہوں نے بعض معمولی ”افکار و افعال” کو شرک اور حرام قرار دیا۔۔۔”
”اس طرح شاہ اسماعیل دہلوی نے اپنے علمی و دینی خاندان سے شخصی اختلاف کا بدلہ لے کر مسلمانوں کو سو سالہ غلامی کے اندھیرے میں دھکیل دیا گویا شاہ اسماعیل دہلوی نے مسلمانوں میں مذہبی منافرت پیدا کی جس سے مسلمان حکومت کمزور ہوئی اور ایک مقامی طاقت اور حکومتِ پنجاب کو کمزور کرکے انگریز کی گود میں ڈال دیا۔ بس ان کے دو ہی کارنامے ہیں۔” [٩]
مولوی اسمٰعیل دہلوی اور سید احمد بریلوی کی تحریک وہابیت کے تاریخی پسِ منظر اور برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے عقائد ان کی یکجہتی اور اتحاد و اتفاق پر اس کے مضمرات کے حوالے سے علامہ حضرت زید ابو الحسن فاروقی علیہ الرحمۃ کی مذکورہ معرکۃ الآراء تصنیف ”مولوی اسماعیل دہلوی اور تقویت الایمان” پر ماہر رضویات حضرت پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی صاحب نے ایک بھرپور مقدمہ تحریر کیا ہے اور برصغیر پاک و ہند میں اس تحریک کے اصل چہرہ اور ان کے کریہہ مقاصد پر بھرپور انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ اس کے مطالعہ سے اس بات کا احساس اجاگر ہوتا ہے کہ آج مسلمانانِ عالم کی زبوں حالی اور کسمپرسی کے اصل ذمہ دار کون لوگ ہیں۔
غرض کہ تاریخی تواتر اور شواہد سے یہ بات ثابت ہے کہ مولوی اسمٰعیل دہلوی اور ان کے جاہل پیر سید احمد بریلوی انگریزوں کے وفادار تھے۔ بقول سرسید احمد خاں علیگڑھی، ”سید احمد بریلوی اور شاہ صاحب (اسماعیل دہلوی) کی عملی زندگی سب پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ لہٰذا ان حضرات کے انگریزوں سے جیسے اچھے تعلقات تھے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔” (ملاحظہ کیجئے: مقالاتِ سرسید، ص:٣١٩، حصہ شانزدھم، اس موضوع پر مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، منزل کی تلاش، مصنفہ: محمد نجم مصطفائی، مکتبہ تحقیقاتِ اسلامیہ حنفیہ، فیصل آباد، پاکستان، ص: ٦٥)
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہ وہ دور ہے جب مغلیہ حکومت کا چراغ ٹمٹمارہا ہے، عملاً انگریز پورے ہندوستان پر مسلط ہے، مگر پنجاب اور صوبہ سرحد پورے طور پر اس کے قابو میں نہیں ہے۔ پنجاب میں سکھ ایک طاقتور قوم اور انگریزی اقتدار کے حریف کے طور پر ابھر رہی ہے، اُدھر سرحد کے علاقہ میں غیور مسلمان پٹھان قبائل متحد ہوکر انگریزی اقتدارِ اعلیٰ کے لیے چیلنج بن رہے ہیں۔ فرنگی پریشان ہے کہ ان دونوں سے کیسے نمٹا جائے۔ اِدھر دہلی میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا خانوادہ ایک ایسا علمی خانوادہ ہے جس کا اثر و رسوخ عوام، علماء اور لال قلعے کے اندر مغل بادشاہ اور اس کے درباریوں پر بھی ہے لہٰذا انہوں نے اسی خانوادہ کے ایک فرد اسمٰعیل دہلوی کو مسلمانوں پر اثر و رسوخ ڈالنے کے لیے استعمال کیا کہ لوگ (مسلمان) ان کی بات سنیں گے اور اسے وہابیت کی تبلیغ کے لیے نہ صرف کھلی چھوٹ دی بلکہ وسائل بھی مہیا کیے۔ یہاں تک کہ ان کی کتاب ”تقویت الایمان” فورٹ ولیم کالج پریس، کلکتہ سے شائع کرکے مفت پورے ہند میں تقسیم کی گئی [١٠] اور پھر موصوف کو مسلمانانِ سرحد اور سکھوں کی قوت کو توڑنے اور منتشر کرنے کے لیے خوب اچھی طرح استعمال کیا۔ اگر اسمٰعیل دہلوی واقعی سکھوں سے جنگ کرنا چاہتے تو امرتسر کی طرف سے حملہ آور ہوتے نہ کہ سندھ اور بلوچستان سے گذر کر ہزاروں میل کا سفر طے کرکے سب سے پہلی جنگ یاغستان کے امیر یار محمد خان سے کرتے۔ (ملاحظہ ہو، تذکرۃ الرشید، ج:٢، ص:٣٧٠)
انگریزوں نے اس مہم میں اپنی عیارانہ سیاست سے تین مقاصد حاصل کیے:

 

واضح ہو کہ انگریز اپنی اس حکمت عملی (اسٹرٹیجی) میں بہت حد تک کامیاب رہا۔ چنانچہ ١٨٥٧ء کی جنگِ آزادی میں اسمٰعیل دہلوی کے پیروکار، جنہیں عرف عام میں وہابی اور انگریزوں کے بنائے ہوئے قانون کی اصطلاح میں ”محمدی” کہا جاتا ہے، انگریزوں کے حلیف اور مجاہدینِ جنگ آزادی کے حریف بنے، کچھ جو خاموش رہے، انہوں نے انگریزوں کی خفیہ سی۔آئی۔ڈی کی خدمات انجام دیں۔ جنگِ آزادی میں ناکامی کی جہاں اور وجوہ تھیں، ان میں ایک اہم وجہ اپنوں کی غداری بھی تھی۔ اس غداری کے عوض انگریزوں نے انہیں سیاسی، مالی اور قانونی تحفظ فراہم کیا جس کے مثال ایسے وقت میں جبکہ ایک طرف انگریز ہزاروں علماء حق کا قتلِ عام کررہا ہو اور سینکڑوں کی تعداد میں دینی مدارس کو بلڈوز کیا جارہا ہو، دیوبند میں (مقلد) وہابیوں کے لیے ایک مدرسہ کا قیام اور اس کی سالانہ مالی گرانٹ [١١] اور غیر مقلد وہابیوں کو ”وہابی” کہنے پر انگریزوں کی طرف سے قانونی پابندی اور ملک و بیرونِ ملک کے تبلیغی اسفار کے لیے ہر طرح کی سہولیات کی فراہمی ہے۔ [١٢] آگے چل کر ان ہی دیوبندی (مقلد) وہابی علماء کے فتاویٰ کی بنیاد پر فتنہئ انکارِ ختمِ نبوت نے سر اٹھایا اور اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قادیان (مشرقی پنجاب، انڈیا) سے انگریزوں کے ایک زرخرید غلام نے جھوٹی نبوت کا اعلان کرکے مسلمانانِ ہند کی جمعیت کو مزید کمزور کرنے کی کوشش کی۔ عجب اتفاق ہے کہ بساطِ تاریخ کے اسی منظر نامہ پر ٹھیک اسی عہد میں انگریزوں اور نجدیوں کی آپس کی ملی بھگت سے جبکہ سلطنتِ ترکیہ مغرب میں زوال پذیر ہورہی تھی، فلسطین کی مقدس سرزمین پر ایک یہودی اسٹیٹ کے قیام کا خفیہ منصوبہ رو بہ عمل آیا۔ انگریزوں نے غدار مسلمانوں کے تعاون سے مسلمانوں کے جسد میں دو اطراف سے ”قادیانیت” اور ”یہودیت” کے ایسے ناسور بنادیے ہیں جن کا اندمال بظاہر قیامت تک نظر نہیں آتا لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ اہلِ اسلام کے لیے کوئی راہ پیدا فرمادے۔
ذرا محمد بن عبد الوہاب نجدی کے پیروکاروں اور ہندوستان میں نجدی تحریک کے بانی اسمٰعیل دہلوی کے پیروکاروں میں انگریزوں اور اسلام دشمن قوتوں کے ساتھ اشتراک عمل ملاحظہ!
کسے کہ لا الہ را در گرہ بست
زبندِ مکتب و ملّا بروں جست
بآں دین و بآں دانش مپرداز
کہ از مامی برد چشم و دلِ دوست
(اقبال)
ناقابلِ تردید تاریخی دستاویزات سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ انگریزوں نے اپنے غاصبانہ قبضہ کو قائم رکھنے اور جہاد کو روکنے کے لیے ایسے زرخرید مولوی تیار کئے جنہوں نے ہندوستان پر ان کے ناجائز تسلط کو مستحکم اور مضبوط کیا۔ یہ عمل جاہل پیر سید احمد بریلوی اور اس کے مرید جانی اور عظیم علمی و روحانی خانوادہئ دہلی، ولی اللّٰہی کی ناخلف و باغی اولاد شاہ اسمٰعیل دہلوی سے شروع ہوا اور مختلف مراحل سے گزرتا ہوا قیامِ پاکستان تک اور پھر اس کے بعد تیسرے مرحلے میں بھیس بدل کر لال مسجد کے واقعہ تک جاری رہا اور اب کہیں دہشت گردی اور کہیں پِٹرول و ڈالر (نجدی ایڈ) کی مدد سے دینی مدارس، غصب شدہ زمینوں پر سرعتِ رفتار سے تعمیر مسجد پروگرام تبلیغی اسفار اور چلوں کی صورت میں اور کہیں مزاراتِ اولیاء کے توڑ پھوڑ کے لبادے میں جاری ہے۔ ١٨٢٦ء سے لے کر آج تک برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش کے کروڑوں مسلمان ان نام نہاد وہابی مولویوں اور ان کی تبلیغی جماعت کے دامِ فریب میں مبتلا ہوکر گروہ در گروہ بٹ گئے۔ اس طرح ان دو ضمیر فروش نام نہاد مولویوں سید احمد بریلوی اور اسمٰعیل دہلوی کی تعلیم و تربیت اور تقریر و تحریر سے برصغیر میں فرقہ واریت کا آغاز ہوا۔ عالم ماکان و ما یکون مخبر صادق سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے عین مطابق سرزمینِ نجد سے قرن الشیطان برآمد ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی نحوست نے مشرق و مغرب کے امن پسند علاقوں کو فتنہ و فساد اور قتل و غارتگری کی آماجگاہ بنادیا۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ تحریکِ پاکستان میں دیوبندی وہابیوں نے من حیث القوم (باستثناء چند) گاندھی اور کانگریس کی حمایت اور بابائے قوم جناب محمد علی جناب اور مسلم لیگ کی کھل کر مخالفت کی لیکن حیرت و استعجاب اس بات پر ہے کہ آج ان کے اخلاف یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ پاکستان کی تحریک کا ہراول دستہ علماء دیوبند تھے اور پاکستان کا قیام دیوبندی حضرات کی حمایت سے ہی رو بہ عمل ہوسکا اور بہت سے ایسے بھی کانگریسی اور احراری علماء پاکستان ہجرت کرکے آگئے جن کا تقسیمِ ہند سے قبل دعویٰ تھا کہ پاکستان پلیدستان ہے اور وہ اس کی ”پ” بھی نہیں بننے دیں گے۔ [١٣] ان علماء نے قیامِ پاکستان کے بعد اپنے گماشتوں کے ذریعہ حکومت کے مختلف محکموں میں رسوخ حاصل کیا اور ایوانِ حکومت تک رسائی حاصل کرکے مراعات وصول کیں۔ اپنے مدارس کے لیے مفت زمینیں حاصل کیں، غصب شدہ زمین پر مساجد تعمیر کیں اور اہلِ سنت کے مساجد پر ڈنڈوں اور بندوق کے زور پر فتنہ و فساد مچاکر قبضہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں جماعتِ اسلامی بھی جو خود مسلکاً وہابی ہیں، دیوبندیوں سے پیچھے نہ رہی۔ ١٩٨٨ء میں ہمارے ادارہ کے فائنانس سیکریٹری جناب منظور حسین جیلانی صاحب نے کراچی شہر کے پارکوں میں غصب شدہ زمین پر تعمیر شدہ سو (١٠٠) مساجد کا ایک جائزہ مرتب کیا تھا۔ اس وقت کراچی شہر کی میونسپلٹی کے سربراہ جماعت اسلامی کے آنجہانی لیڈر عبدالستار افغانی صاحب تھے۔ تقریباً اَسّی فیصد مساجد کا تعلق دیوبندی مسلک، پندرہ فیصد کا جماعتِ اسلامی اور پانچ فیصد کا اہلِ حدیث مسلک سے تھا۔ ان مساجد میں اہلِ سنت کی ایک مسجد بھی نہیں تھی۔ بعض علاقوں میں اہلِ سنت و جماعت کی چند مساجد (تین یا چار) پارک سے ملحقہ زمین پر بنی ہوئی تھیں۔ وہاں کی انتظامیہ نے کراچی کے میئر آنجہانی عبد الستار افغانی کو تحریری درخواست دی تھی کہ ان کی مساجد بہت چھوٹی ہیں، نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ اگر پارک کا کچھ حصہ (تقریباً ١٠٠/ ٢٠٠مربع گز) الاٹ کردیا جائے تو نمازیوں کو سہولت ہوجائے گی۔ تو ان کو جواب دیا گیا کہ پارک کی جگہ مسجد تعمیر نہیں ہوسکتی۔ اس سے اہلِ سنت کے خلاف بغض و عناد کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ لہٰذا ملک میں مذہبی و مسلکی معاملات میں جبر اور شدت پسندی کو فروغ ملنے لگا۔ اِدھر یونیورسٹیوں اور کالجوں میں جماعتِ اسلامی کی طلبہ تنظیم نے ”تھنڈر اسکواڈ” کے نام سے دہشت گردی کو پہلی بار متعارف کرایا۔ پھر الیاسی تبلیغی جماعت کا طریقہئ ارشاد والدعوۃ، دیوبندی وہابیوں کی اس شدت پسندی میں مزید اضافے کا سبب بنی۔ اخباری خبروں کے مطابق تبلیغی جماعت کے اجتماع میں متعدد بار ایسے واقعات ہوئے کہ بھولے بھالے سنّی پہلی بار ان کے دامِ تذویر میں پھنس کر رائے ونڈ کے اجتماع میں گئے۔ حسبِ عادت جوش میں آکر انہوں نے ”یارسول اللہ”(صلی اللہ علیہ وسلم) کا نعرہ لگایا تو نہ صرف ان کو روکا گیا بلکہ اس ”شرک” کے بدلے میں انہیں الٹا لٹکا کر مارا پیٹا گیا۔
سید احمد بریلوی اور اسمٰعیل دہلوی نے وہابیت کے جو زہریلے جراثیم اپنے دور میں صوبہئ سرحد اور اردگرد کے دوسرے علاقوں میں چھوڑے تھے، قیامِ پاکستان کے بعد دیوبندی علماء اور ان کی تبلیغی جماعت نے ان سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پورے ملک پاکستان بالخصوص صوبہ سرحد اور بلوچستان کی فضاؤں کو پوری طرح مسموم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے زیادہ پذیرائی انہیں صوبہئ سرحد میں ملی۔ وہیں سے عسکریت پسندی، تشدد اور دہشت گردی کا مزاج وہابی مدارس اور تبلیغی جماعتوں کی تعلیم و تربیت سے عام اور سادہ مسلمانوں میں در آیا۔ اہلسنّت کی مساجد و مدارس پر جبر و تشدد کے ذریعہ قبضہ ہونے لگا۔ بے شمار اولیاء کرام کے مزارات کو زمین بوس کیا گیا۔ بہت سوں کا نام و نشان بھی مٹادیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں افغانستان میں روس کے خلاف جہاد شروع ہوا۔ بے شمار خاندان ہجرت کرکے پاکستان، صوبہ سرحد اور صوبہئ بلوچستان کے علاقہ میں آگئے۔ دیوبندی اور تبلیغی علماء صدر ضیاء الحق کے بہت قریب تھے۔ انہوں نے صدر کی تائید سے اپنے مدارس کے دروازے افغانی طلباء پر کھول دیے۔ یہ مدارس میں تعلیم حاصل کرتے، پھر علاقہئ غیر میں عسکری تربیت حاصل کرتے اور بعدہ، افغانستان جاکر جہاد میں شریک ہوجاتے۔ ان علماء دیوبند میں لال مسجد اسلام آباد کے مولوی عبد اللہ، ضیاء الحق کے بہت قریب تھے۔ انہوں نے اس جنگ میں ضیاء الحق صاحب کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ انہوں نے خود بھی عسکری تربیت حاصل کی اور اپنے صاحبزادگان عبد الرشید اور عبد العزیز کو بھی عسکری تربیت دلوائی مجاہدینِ افغانستان اور حکومت پاکستان کے درمیان ایک طرح کے رابطہ (Liasoning) کی خدمات بھی انجام دیں۔ جب ضیاء الحق کے بعد افغانستان میں طالبان کا دور آیا تو یہ ان کے ساتھ ہوگئے۔ ملٹری انٹیلی جنس دیگر حکومتی خفیہ ایجنسیز سے ان کے ٹھیک ٹھاک تعلقات استوار ہوئے۔ یہیں سے ان کی زندگی میں نیا موڑ آیا۔ آنجہانی مولوی عبد اللہ کے حکومتی حلقوں اور حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) دونوں میں ہمدرد اور دوست بھی پیدا ہوگئے۔ مولوی عبد اللہ نہایت متعصب، متشدد اور غالی قسم کے وہابی تھے، اہلِ سنت کے خلاف بالعموم اور شیعوں کے خلاف بالخصوص جارحانہ تقاریر کرتے تھے اور غالباً اسی پاداش میں اپنے ”لال قلعے” یعنی لال مسجد کے صدر دروازے کے سامنے گولی کا نشانہ بن کر ہلاک ہوئے۔
ان کی ہلاکت کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے مولوی عبد العزیز نے ان کی جگہ لے لی اور اپنے چھوٹے بھائی عبد الرشید کو جنہیں مولوی عبد اللہ نے اپنی زندگی میں ان کی ناشائستہ اور غیر اسلامی حرکتوں کی بناء پر عاق کررکھا تھا، اپنا دستِ راست بنایا۔ دونوں بھائیوں نے اپنے والد کے قتل کا بدلہ لینے کی قسم کھائی اور اپنے نام کے آگے لفظ ”غازی” کا اضافہ کیا۔
اسی دوران جنرل پرویز مشرف کی حکومت آگئی اور پھر ٩/١١ کے واقعہ کے بعد حکومتِ پاکستان نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حمایت سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی کو یوٹرن دیا اور دہشت گردی کے خلاف امریکہ اور یورپین برادری کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ اس پسِ منظر میں ملٹری انٹیلی جنس اور دیگر حکومتی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان بھی تبدیل کیے گئے جس سے ”غازی” برادران کے لیے مشکلات کا آغاز ہوا۔ مولوی عبد العزیز پر اسلحہ کی اسمگلنگ کے سلسلے میں متعدد مقامات قائم ہوئے، اس سلسلے میں رنگے ہاتھوں پکڑے بھی گئے۔ لیکن چونکہ حکومتی حلقوں اور خفیہ اداروں کی نچلی سطح پر ان کے ہم درد موجود تھے، اس لیے یہ گرفتاری سے گریز کرتے ہوئے لال مسجد میں قلعہ بند ہوگئے اور پھر باہر نہیں آئے تاآنکہ لال مسجد پر پولیس ایکشن کے وقت برقعہ پہن کر فرار ہوتے ہوئے گرفتار ہوئے۔
مولوی عبد العزیز حکومتِ وقت کی دہشت گردوں اور مقامی اور بیرونی طالبان کے خلاف فوجی مہم اور اپنے اوپر دہشت گردی و ناجائز اسلحہ کی اسمگلنگ کے سلسلہ میں قائم شدہ متعدد مقدمات سے سخت نالاں اور برہم تھے لہٰذا انہوں نے حکومتِ وقت بالخصوص جنرل پرویز مشرف پر دباؤ ڈالنے کے لیے اسلامی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ شروع کردیا تاکہ عوام الناس کو یہ باور کرایا جاسکے کہ ان پر جو دہشت گردی اسلحہ کی ذخیرہ اندوزی اور اس کی بیرونِ ملک سے اسمگلنگ کے جو الزامات حکومت کی طرف لگائے گئے ہیں، وہ ان کی شریعتِ اسلامی کے نفاذ کے لیے جدوجہد اور مطالبہ کی بنیاد کی پاداش میں لگائے گئے ہیں۔ ”غازی برادران” نے ایک نہایت منظم اور منضبط طریقہ پر حکومت وقت کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کیا اور مسجد اور اس سے ملحقہ مدرسہ حفصہ کے تقدس کی آڑ میں اسلحہ کی ذخیرہ اندوزی اور طلباء اور نمازیوں کے بھیس میں مسلح دہشت گردوں کی آمد و رفت کا سلسلہ تیز سے تیز تر کیا۔ لال مسجد کو لال قلعہ میں تبدیل کردیا گیا۔ افسوسناک اور باعثِ شرم امر یہ ہے کہ اپنے ذاتی مفاد میں معصوم طلباء و طالبات کو استعمال کیا گیا، غصب شدہ زمینوں پر اسلحہ کے زور پر دن دھاڑے قبضہ کرکے مساجد و مدرسہ قائم کئے گئے۔ طالبات کی ایک ڈنڈا بردار فوج بنائی گئی جس نے غازی برادران کے نفاذِ اسلام اور غصب شدہ زمینوں پر مساجد بنوانے کا مطالبہ منوانے کے لیے مدرسہ حفصہ سے ملحقہ حکومت کی قائم کردہ چلڈرن لائبریری پر راتوں رات قبضہ کرلیا۔ لال مسجد کی حفاظت کے نام پر اس کے اطراف میں طلباء کے بھیس میں کلاشنکوف بردار دہشت گردوں کا پہرہ مقرر کیا گیا۔ رفتہ رفتہ یہ حال ہوگیا کہ لال مسجد اور مدرسہ حفصہ کے اطراف کی سڑکوں سے کوئی فرد پا پیادہ یا کار/ اسکوٹر سوار بغیر تلاشی دیئے گذر نہیں سکتا تھا۔ حتیٰ کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد کو بھی گذرنے نہیں دیا جاتا تھا۔ رفتہ رفتہ مولوی عبد العزیز کی ہمتیں بڑھیں، پولیس اور رینجرز کے افراد کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے سلسلہ میں اس علاقہ میں راہ چلتے ڈنڈوں اور کلاشنکوف کی بٹوں سے زد و کوب کرکے اغوا کیا جانے لگا۔ حکومتی جماعت میں ان کے ہم مسلک اور ہمدرد افراد جو وفاق المدارس (دیوبندی مدارس کے الحاق کا وفاق) کے علماء اور تبلیغی جماعت کے زیرِ اثر ہیں، ہمیشہ آڑے آتے رہے اور غازی برادران کے خلاف کسی قسم کے قانونی اقدام سے گریز کیا جاتا رہا۔ غازی برادران حکومتی حلقوں اور خفیہ ایجنسیوں میں اپنے ہمدردوں کی پسِ پردہ حمایت پر اس قدر پُر اعتماد تھے کہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے خلاف کوئی پولیس ایکشن نہیں کیا جاسکے گا اور وہ حکومت پر دباؤ کے ان ہتھکنڈوں سے نہ صرف اپنے اوپر قائم مقدمات سے خلاصی حاصل کرلیں گے بلکہ غصب شدہ زمین پر مساجد اور مدرسوں کی صورت میں انہوں نے جو اپنی ذاتی جائیدادیں بنائی تھیں وہ بھی مفت میں ان کے حوالے کردی جائیں گی نیز یہ کہ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ جو بھی اسلام آباد میں آئندہ حکومت آئے گی وہ مساجد، مدارس کی تعمیر و توسیع، اسلامی شریعت کے نفاذ کے لیے شرعی نکات کی تشریح و توضیح اور دارالحکومت اسلام آباد میں امن و امان کے سلسلہ میں ”غازی برادران” اور ان کی ”ملیشیا” سے مصالحت کی محتاج رہے گی۔ ”لال مسجد” پر ١٠/جولائی ٢٠٠٧ء کے پولیس ایکشن سے قبل پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جو حالات تھے وہ آج سے تقریباً پونے دو سو سال قبل (١٨٢٥ء) کے مغل سلطنت کے دارالحکومت دلّی سے ملتے جلتے تھے۔ بادشاہِ وقت کی حکومت کی عملداری لال قلعہ کے اطراف تک محدود ہوچکی تھی۔ انگریز پورے ہندوستان پر عملی تسلط حاصل کرچکا تھا۔ دلّی کے اردگرد جاٹ اور مرہٹہ اور سکھوں کے دہشت گرد دندناتے پھرتے تھے۔ رات کو شب خون مارتے، دن دہاڑے جس کو چاہے لوٹ لیتے، جسے چاہے اغوا کرلیتے اور بادشاہِ وقت کے عمال سے تاوان الگ وصول کرتے رہتے تھے۔ دلّی کے لال قلعہ کے اردگرد یہی حالات اور ماحول تھے جس سے انگریزوں کی ایما پر مولوی اسمٰعیل دہلوی نے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ اگر وہ دلّی میں بیٹھ کر اپنی تبلیغی کوششوں میں کامیاب ہوجاتے اور مرتدین اہلِ سنت (وہابیوں) کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہوجاتی اور بادشاہِ وقت ان کا مسلک اختیار کرلیتا تو ان کا سلوک اور اگلا قدم اسی جہاد کا ہوتا جو محمد بن عبد الوہاب نجدی نے عامۃ المسلمین کے ساتھ کیا۔ یعنی ان کے عقیدہ و مسلک سے اختلاف رکھنے والوں کا قتلِ عام اور ان کی عزت و آبرو اور مال و متاع کی بربادی۔ لیکن چونکہ اس وقت دلّی میں جیّد علمائے وقت بشمول ”شہید لیلٰیِ نجد” اسمٰعیل دہلوی کے محترم چچا حضرت شاہ عبد العزیز محدث بریلوی علیہم الرحمۃ موجود تھے اور عامۃ المسلمین کی غالب اکثریت متصلب قسم کی سنی المذہب تھی نیز بادشاہِ وقت خود متصلب قسم کا سنّی تھا لہٰذا بادشاہی مسجد میں خانوادہئ ولی اللّٰہی اور دلّی کے دیگر جیّد علماءِ اہلِ سنت کے ساتھ مناظرہ میں شکست کے بعد اسمٰعیل دہلوی نے انگریزوں کے مشورے پر بہار، بنگال اور کرناٹک کا رخ کیا جہاں انہوں نے اپنے عقیدے کی تبلیغ اور سکھوں سے جہاد کے لیے عامۃ المسلمین کو تشویق و ترغیب دینے کے ساتھ ساتھ انگریزوں سے وفادار رہنے اور ان کے خلاف جہاد نہ کرنے بلکہ ان کی طرف سے ان کی حمایت میں جہاد کرنے کے بھی فتوے دیئے۔[١٤]
غرض کہ عبد العزیز غازی اس دور میں اسلام آباد میں اسی اسمٰعیلی نجدی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے سرگرم تھے۔ وہ دارالحکومت اسلام آباد کو آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے زمانے کا دلّی بنانا چاہتے تھے جہاں چاروں طرف انارکی پھیلی ہوئی تھی اور حکومت کی رٹ ختم ہوچکی تھی۔ اس سے فائدہ اٹھاکر وہ سید احمد بریلوی کی طرح ایک وہابی اسٹیٹ کا ”امیر المومنین” بننے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا حشر ١٨٣٢ء میں بالاکوٹ میں ہونے والے واقعہ سے زیادہ عبرتناک بنادیا۔ سید احمد بریلوی اور اسمٰعیل دہلوی کی تو انگریزوں نے حمایت کی اور مالی و فوجی تعاون کیا۔ [١٥] لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ”برقع برادران” اور لال مسجد کے دہشت گردوں کی پشت پناہ کون سی طاقت تھی یا اب بھی ہے؟ یہی بات سمجھنے اور سمجھانے کی ہے! یہ جدید اسلحہ جات (Sophisticated Weapons) پاکستان میں نہیں بنتے۔ روس، امریکہ اور یورپ میں بنتے ہیں، وہیں سے خریدے جارہے ہیں اور یہ نہایت مہنگے داموں پر ملتے ہیں۔ چونکہ یہی اسلحے پاکستان کی افواج کے پاس بھی ہیں تو ہمیں معلوم ہے کہ یہ کس قدر مہنگے ہیں۔ ان اسلحہ جات کی خریداری کے لیے ایک طاقتور فائنانسر کی بھی ضرورت ہے۔ آخر بلین ڈالر کہاں سے آرہے ہیں؟ سوال ٹیڑھا ہے لیکن جواب بالکل آسان اور سیدھا سادھا۔ محمد بن عبد الوہاب نجدی اور اسمٰعیل دہلوی کے وقت میں فرنگی (برطانیہ) سپرپاور تھا۔ وہی ان کے لائحہ عمل کا منصوبہ بندی کرنے والا اور وہی ان کا فائنانسر بھی تھا۔ برطانوی جاسوس ”ہمفرے کے انکشافات” نامی کتاب میں اس کی ساری تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔ آج کے دور میں سپرپاور امریکہ ہے جس کا دوسرا نام ”صیہونی لابی” ہے۔ آج یہی صیہونی لابی مسلمان ملکوں بشمول پاکستان میں ہمارے اندر کے منافقین کے ذریعہ دہشت گردی، فرقہ واریت اور تشدد پسندی کو فروغ و ترغیب دینے کی کوشش کررہی ہے اور اپنے مقاصد کے حصول کی تکمیل کے لیے اسلحہ اور فنڈ بھی مہیا کررہی ہے۔ یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے!
اُس وقت سلطنتِ ترکیہ مسلمانوں کی عظیم اور طاقتور سلطنت تھی۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ وہ ایک سنّی اسٹیٹ تھی۔ اس کے جتنے سربراہ (خلیفہ) گذرے ہیں، وہ سب آقا و مولیٰ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعل پاک اپنے سروں پر لے کر چلنے والے تھے۔
دشمنانِ اسلام بالخصوص صیہونی فکر والوں کو سب سے زیادہ بغض اور نفرت ان مسلمانوں سے ہے جو نبی کریم سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدسہ سے وارفتگانہ لگاؤ اور آپ کی محبت میں فدا کارانہ جذبہ رکھتے ہیں۔ ایسے افراد پر مشتمل قوم بزورِ شمشیر بھی زیر نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذا اس کا توڑ انہوں نے ابلیسی نظریہ سے سیکھا کہ ان کے دلوں سے حُبِّ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نکالدو پھر ان سے جو چاہو کروالو، جو چاہو لکھوالو۔ لیکن ایسی تعلیم اور ایسے نظریات کو عام کون کرے گا؟ ایک منافق ہی ایسی جسارت کرسکتا ہے۔ سلطنت ترکیہ کے زوال کے لیے فرنگیوں نے محمد بن عبد الوہاب نجدی اور اس کے پیروکاروں کو منتخب کرکے استعمال کیا اور ہندوستان میں مسلمانوں میں انتشار و افتراق کے لیے انہوں نے رائے بریلی کے ایک قزاق ١٦؎ اور جعلی و جاہل پیر سید احمد بریلوی اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمۃ کی ناخلف اولاد مولوی اسمٰعیل دہلوی کو استعمال کیا اور اپنے ”حسنِ انتخاب” پر دشمنانِ اسلام سے داد لی۔
دورِ حاضر میں مسلم ممالک میں پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر قائم ہوا اور آج فوجی بالخصوص جوہری توانائی کے اعتبار سے تمام مسلم ممالک میں سب سے زیادہ طاقتور تسلیم کیا جاتا ہے۔ پھر اس ملک کی اکثریت اپنے نبی و آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت رکھتی ہے۔ اس لیے دشمنانِ اسلام کی نظر میں یہ کھٹک رہا ہے۔ اگرچہ اس کا ایک بازو ١٩٧١ء میں ”صیہونی لابی” کی سازشوں کی بدولت ہم سے الگ کردیا گیا لیکن بحمداللہ! آج بھی پاکستان اپنے خطہ کا مضبوط ترین ملک ہے۔ صیہونی لابی اب عراق اور افغانستان کے بعد (معاذ اللہ) ہمارے پیارے ملک کے اندر خلفشار پیدا کرنے اور اسے دولخت کرنے کی منصوبہ بندی کرتی نظر آرہی ہے۔ لال مسجد کا واقعہ اسی سازش کی ایک کڑی ہے۔ اس کے لیے آج پھر اسمٰعیل دہلوی تحریک کے کارکنان اسے مل گئے ہیں۔ لال مسجد ایپی سوڈ (Episode) سو فیصد اسمٰعیل دہلوی کے نظریات کو مسلط کرنے کی ایک تحریک تھی جو اب صوبہئ سرحد کے دور دراز علاقہئ غیر تک پھیل چکی ہے جس کا مقصد اسلام آباد سمیت پورے صوبہئ سرحد میں ایک وہابی اسٹیٹ کا قیام ہے۔ اس صوبہ میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت کے قیام کا امریکہ کی طرف سے خیر مقدم بھی اسی مہم کا ایک حصہ ہے۔ گویا پاکستان کے اندر ایک وہابی اسٹیٹ کے قیام کی ریہرسل ہورہی ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح عراق میں صیہونی لابی نے بظاہر اس ملک کو تقسیم نہ کرنے کے اعلان کے باوجود شمالی عراق میں ایک سوشلسٹ کرد اسٹیٹ قائم کردی ہے اور بقیہ ملک کو سنّی اور شیعہ حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ حالانکہ کُرد خود بھی مذہباً سنّی ہیں۔
”لال مسجد” کا سانحہ ہمارے لیے ایک وارننگ ہے۔ پاکستان کی بقا اور مسلم ممالک کے اتحاد و اتفاق کے لیے ایک ہی راستہ ہے اور وہ اپنے نبی پاک آقا و مولیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی نسبتوں کی استواری اور ان کی سچی اطاعت و پیروی اور ان تمام باطل عقائد و نظریات کے ترک کا جو عقیدہئ توحید کی تعلیم کی آڑ میں ہمیں سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تمام نسبتیں منقطع کرنے کی ترغیب دیتے ہیں اور سرکارِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا گستاخ اور نافرمان بناکر ہماری دنیا و آخرت برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
اس دنیائے فانی میں آنے کے مقاصد کی تکمیل اور یہاں سے کامیابی و کامرانی سے کوچ کرنے کا ایک یہی راستہ ہے جس کی نشاندہی عصرِ حاضر میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدثِ بریلوی علیہ الرحمۃ نے یوں فرمائی ہے ؎
انہیں جانا، انہیں مانا، نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا
یا بقولے علامہ اقبال:
بمصطفیٰ برساں خویش را کردیں ہمہ اوست
اگر باو نہ رسیدی تمام بولہبی است
سیاسی و فوجی مقاصد:
لال مسجد سانحہ سے قبل گذشتہ ٦ماہ کے دوران لال مسجد کی انتظامیہ کی طرف سے میڈیا انٹرویو اور اخباری بیانات کے ذریعہ بار بار یہ بات کہی گئی کہ ان کے کوئی سیاسی و فوجی مقاصد نہیں ہیں، وہ صرف حکومت کی غلط پالیسیوں کی اصلاح، معاشرے کا سدھار چاہتے ہیں۔ چونکہ گذشتہ کئی برسوں سے حکومت نے ان کی بات نہیں سنی اور شریعت کا مکمل نفاذ نہ کرکے آئینِ پاکستان کی خلاف ورزی کی ہے، معاشرے کے بگڑے ہوئے افراد نے ان کے طلباء و طالبات کے بار بار کے انتباہ کے باوجود انہوں نے فحاشی و بے حیائی کے خلاف اپنا رویہ نہیں بدلا اس لیے ارشادِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں بزورِ طاقت شریعت کا نافذ کرنا اور معاشرے سے برائیوں کو ختم کرنا ان پر فرض ہوگیا ہے اور وہ یہ کام کر گذریں گے۔ ظاہر ہے کہ لال مسجد کی برقع پوش انتظامیہ کے اس بیان سے اور وفاق المدارس سے وابستہ علماء و اساتذہ کی طرف سے ان کے مطالبے کی مکمل تائید سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ ان حضرات کے سیاسی اور فوجی دونوں عزائم تھے (اور اب بھی ہیں) اور وہ ملک خصوصاً دارالحکومت اسلام آباد کی مرکزی جگہ پر قبضہ جماکر، معاشرے میں انتشار پھیلاکر اور لوگوں کو اغواء کے واقعات اور اسلحہ کی نمائش سے خوف زدہ و دہشت زدہ کرکے اپنے ان عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتے تھے۔
اس کی تائید اور دستاویزی شہادت ان دو کتابچوں سے بھی ہوتی ہے جو لال مسجد انتظامیہ نے اپریل ٢٠٠٧ء میں شائع کیے تھے جس کا انکشاف معروف صحافی اور اخبار ”جنگ” کے کالم نگار جناب حامد میر نے مذکورہ اخبار کی ٢/اگست کی اشاعت میں ”قول و فعل کا تضاد” کے عنوان کے تحت کیا ہے۔ اس کالم میں موصوف نے ملک کے جید دیوبندی علماء اور ان کے ہم مسلک فرقہ ”جماعتِ اسلامی” کے امیرترین ”امیر” جناب قاضی حسین احمد صاحب کے لال مسجد میں محصور دہشت گردوں اور ان کے سردار ”برقع برادران” کے ساتھ منافقانہ رویہ کا ذکر کیا ہے۔ حامد میر صاحب کو یہ کتابچے لال مسجد کے نائب خطیب نے اس وقت دیئے تھے جب اپریل ٢٠٠٧ء میں ان کا انٹرویو لینے وہاں گئے تھے۔ ان میں ایک کتابچہ پاکستان میں اسلامی نظام کے عملی نفاذ سے متعلق ”تحریک طلباء و طالبات” کے عنوان سے تھا اور دوسرا کتابچہ ”تحریک طلباء طالبات کے مقاصد” کے بارے میں تھا۔ اس کتابچے میں ملک بھر کے معروف ٨٨دیوبندی علماء کے ناموں کی ایک فہرست شائع ہوئی جنہوں نے ”برقع” برادران اور لال مسجد کے طلباء و طالبات کے مطالبات اور لائحہ عمل کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا۔ لیکن جناب حامد میر صاحب نے غالباً بعض مصلحتوں کی وجہ سے یا شاید اخبار جنگ نے اپنی پالیسی کے تحت صرف ١٨علماء کے نام کالم میں درج کیے ہیں، ٧٠ناموں کو حذف کردیا گیا ہے۔ اس کتابچے میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ ١٥/فروری ٢٠٠٧ء کو قاضی حسین احمد صاحب لال مسجد آئے اور انہوں نے مسجد میں موجود طلباء کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے نفلی اعتکاف کیا اور طلباء کو اپنی حمایت کا یقین دلایا۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ جو حضرات بڑی راتوں مثلاً لیلۃ القدر، لیلۃ الاسریٰ وغیرہ میں مسجدوں میں نفلی اعتکاف اور شب بیداری کو بدعت سیّہ قرار دیتے نہیں تھکتے، وہ لال مسجد میں نفلی اعتکاف کے ثواب کا زبردستی مزہ لوٹنے جارہے ہیں۔ پھر ”الاعمال بالنّیات” کے تحت اگر واقعی قاضی صاحب اعتکاف کی ہی نیت سے گئے تھے تو صرف اعتکاف کرکے واپس آجاتے اور سیاسی مذاکرات نہ کرتے۔ جب دُنیوی سیاسی مقصد کی تکمیل کی خاطر ”برقع” برادران سے محوِ گفتگو ہوگئے تو اب اعتکاف کیسا اور اس کا ثواب کیسا؟ کاش کہ قاضی صاحب نے مجددِ عصر حضور مفتئ اعظم مصطفی رضا خاں نوری قدس سرہ، جیسے بزرگوں کے سامنے زانوئے ادب تہہ کیا ہوتا تو انہیں آدابِ بندگی سے آگاہی ہوتی۔ ایک طرف آپ نے کائنات کے سردار اور ہمارے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو معاذ اللہ ”عرب کے ایک چرواہے” کا لقب دینے والے پیروکار کا عمل ملاحظہ کیا۔ اب دوسری طرف ایک رہبرِ شریعت و طریقت، مجدد وقت، مفتی اعظم محمد مصطفی رضا خاں قادری برکاتی نوری علیہ الرحمۃ والرضوان کی اپنے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ مبارکہ کی پیروی کا حال سنیں، اپنے ایمان کو جِلا بخشیں اور شریعت کا مسئلہ بھی سمجھ لیں۔ ایک مرتبہ آپ حرم شریف میں بعد طواف بیٹھے ذکر اذکار فرمارہے تھے کہ ایک صاحب نے انہیں زمزم شریف نوش کرنے کے لیے پیش کیا۔ آپ نے جزاک اللہ فرمایا اور فوراً گلاس لے کر مسجدِ حرام کے دروازے کے باہر تشریف لے گئے، زمزم شریف پیا، پھر واپس تشریف لاکر اپنی نشست پر تشریف فرما ہوگئے۔ زمزم لانے والے صاحب نے دریافت کیا حضرت آپ نے اتنی زحمت کیوں فرمائی، یہیں زمزم شریف پی لیتے۔ آپ نے فرمایا، بات یہ تھی کہ میں نے مسجد شریف میں داخل ہوتے وقت سنّتِ اعتکاف کی نیت نہ کی تھی، اس لیے باہر جاکر زمزم شریف پیا اور اب اعتکاف کی نیت کرکے آیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بات نہیں، آپ اعتکاف کی نیت فرمالیتے، پھر یہیں زمزم شریف پی لیتے۔ آپ نے فرمایا کہ آپ نے جس وقت زمزم شریف پیش کیا مجھے سخت پیاس لگی تھی اگر اب میں اعتکاف کی نیت کرتا تو اصل نیت تو پیاس بجھانے کی ہوتی، اعتکاف کا اجر نہ ملتا چونکہ پیاس بجھانے کی خاطر ایسا کرتا جبکہ اعتکاف خالصاً لوجہ اللہ ہوتا ہے۔
قاضی صاحب! یہ آدابِ بندگی و زندگی وہی حضراتِ قدس سکھاسکتے ہیں جو اہل اللہ ہیں، جو شریعت و طریقت دونوں کے مجمع البحرین ہوتے ہیں، جو لوگ اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد کی تکمیل اور جان و مال کی حفاظت کی خاطر ہمہ وقت مسلح دستوں اور ڈنڈا بردار پولیس کے حلقوں میں گھرے ہوتے ہیں، وہ خود اپنے عمل سے اپنے مجرم ہونے اور اللہ مالک و مولیٰ کی ذات پر ایمان کامل نہ ہونے کے مُقِر ہوتے ہیں، وہ انسانیت دشمن ہیں۔ وہ خود کو اور اپنے پیروکاروں کو ہلاکت میں ڈالنے والے ہوتے ہیں، یہ بھٹکے ہوئے کسی کی کیا رہبری و رہنمائی کرسکیں گے؟ ؎
ادھر آ ہر قدم پر حسنِ منزل تجھ کو دکھلادوں
فلک کو یاس سے منزل بہ منزل دیکھنے والے
تعجب ہے کہ جناب قاضی صاحب برس ہا برس حضرت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی صاحب کی صحبت میں رہے اور انہیں ببانگِ دہل اپنا امام اور پیر و رہنما کہتے رہے لیکن نہ آدابِ فرزندی سیکھے نہ بندگی کا سلیقہ۔ شاید وہاں بھی اپنے گروہ کی روایتی پالیسی مداہنت و منافقت کا شکار رہے۔
غصب شدہ زمین پر تعمیر مدرسہ و مسجد:
لال مسجد کرائسس کے دوران ”برقع برادران” اور ان کے حمایتی دیوبندی فرقہ کے علماء کی طرف سے دیگر مطالبات کے علاوہ جو اہم مطالبہ سامنے آیا اور جو اس کرائسس کے سنگین تر ہونے کا فوری سبب بھی بنا، وہ ان آٹھ مساجد کی تعمیر نو اور ان کا لال مسجد کی انتظامیہ کے حوالے کرنا تھا جو سی۔ڈی۔اے (Capital Development Authority) نے اس بنا پر گرادی تھیں کہ وہ غصب شدہ زمین پر ناجائز طریقہ پر بنائی گئی تھیں۔
لال مسجد وہ مسجد ہے جو اسلام آباد میں غالباً ١٩٦٠ء/ ١٩٦١ء میں صدر ایوب خاں کے دور میں سرکاری طور پر بنائی گئی تھی جب شروع شروع دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوا تھا۔ یہ مسجد محکمہ اوقاف کی تحویل میں تھی، امام و خطیب کی وہاں ضرورت تھی۔ اس زمانے میں پیر دیول شریف مرحوم کو صدر ایوب خاں کا بڑا قرب حاصل تھا۔ مشہور یہی ہے کہ وہ صدر ایوب کے پیر تھے۔ ”برقع برادران” کے ابا جان عبد اللہ ایک عام سے غیر معروف دیوبندی مولوی تھے، بے روزگار بھی تھے۔ لال مسجد اسلام آباد کی مرکزی جامع مسجد تھی لہٰذا ایک پلاننگ کے تحت ان کو پیر دیول شریف مرحوم سے مرید کرایا گیا۔ موصوف ان کے آگے پیچھے خادم کی طرح رہنے لگے۔ مداہنت اور منافقت کا لبادہ اوڑھ کر خود کو سنّی ظاہر کرتے تھے۔ پیر صاحب کی ذکر و فکر اور میلاد شریف کی محفل میں شریک ہوکر تمام معمولات ادا کرتے تھے۔ عبد اللہ صاحب نے پیر صاحب سے سفارش کی حضرت میں بیروزگار ہوں، آپ صدر ایوب سے کہہ کر لال مسجد کی امامت و خطابت دلوادیں۔ پیر دیول شریف مرحوم سیدھے سادے انسان تھے وہ انہیں پہچانے نہیں، ان کی سفارش کردی اور یہ لال مسجد کی مسندِ امامت و خطابت پر مامور ہوگئے۔ پھر انہوں نے صدر مملکت کے حضور رسوخ حاصل کرلیا، محکمہ اوقاف میں بھی دخیل ہوگئے۔ گریڈ پر گریڈ بڑھواتے رہے۔ صدر ایوب کی برطرفی کے بعد بلّی تھیلے سے باہر آگئی۔ اب کھل کر اپنے عقیدہئ مسلک کی تبلیغ کرنے لگے۔ صدر ضیاء الحق کے زمانے میں ان کے بھاگ کھل گئے۔ افغانستان پر روسی حملہ کے بعد صدر ضیاء الحق نے امریکہ کی شہ پر وہاں کے مجاہدین کے حمایت میں پاکستانی فوج بھیجنے کے بجائے یہاں سے مجاہدین بھیجنے کا فیصلہ کیا تو مولوی عبد اللہ صاحب صدر ضیاء الحق کے ہر طرح سے کام آئے۔ پہلے علماء سے جہاد کے حق میں فتویٰ لیا، افغان مہاجرین کے طلباء (طالبان) کا پاکستان کے تمام بڑے دیوبندی مدارس میں داخلہ کا بندوبست کیا، ان کی تعلیم و تربیت کے علاوہ ان کی ”جہادی” تربیت کی ذمہ داری بھی نبھائی، اسلحہ کی کھیپ کی کھیپ ان کے پاس آنے جانے لگی۔ ضیاء الحق صاحب ان سے بہت خوش ہوگئے اور انہیں ان ”خدماتِ جلیلہ” کے صلہ میں خوب خوب نوازا۔ پھر صدر ضیاء الحق کے بعد جتنی بھی حکومتیں اور صدور آئے، ان کو اپنی افغان پالیسی کی حمایت کے لیے عبد اللہ صاحب کی ضرورت رہی۔
اس دوران چونکہ ان کے عسکری اور خفیہ ایجنسیوں کی اعلیٰ شخصیات سے روابط مضبوط ہوگئے، انہوں نے لال مسجد کی حدود کو ملحقہ غصب شدہ زمین پر وسیع سے وسیع تر کرکے اپنی جائیداد بنانا شروع کردی۔ مدرسہ حفصہ محکمہئ تعلیم کو الاٹ شدہ وسیع و عریض رقبہ کی غصب شدہ زمین پر قائم کیا گیا اور اس کی چھ منزلہ عمارت قلعہ کی طرز پر بنائی گئی۔ اس طور پر موجودہ حکومت کی خفیہ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد اور اس کے اطراف میں ان کے ٢٨مدارس اور لال مسجد کے علاوہ آٹھ دیگر مساجد ان کے قبضہئ اثر میں آگئی تھیں۔ کشمیر میں وہابی جہادی تنظیموں، لشکرِ طیبہ، حرکۃ المجاہدین، حرکۃ الانصار، جیش محمدی وغیرہم کی طرف سے نام نہاد جہادِ کشمیر میں حصہ لینے اور افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد ان کے رابطے مذکورہ وہابی جہادی تنظیموں اور طالبان افغانی حکومت سے مزید مضبوط ہوگئے۔اب طالبان مجاہدین کی کھلے بندوں ان کے پاس آمد و رفت شروع ہوگئی۔ کشمیر میں جہاد کرنے والی کالعدم وہابی تنظیمیں اپنے مجاہدین کو فوجی تربیت کے لیے افغانستان بھیجنے لگیں۔ آنجہانی مولوی عبد اللہ اور ان کے ساتھیوں کو ایک طرف ان وہابی جہادی تنظیموں کی حمایت حاصل ہوگئی تو دوسری طرف ان تنظیموں کو پاکستان کے دارالحکومت کے عین قلب میں لال مسجد کی صورت میں ایک پناہ گاہ میسر آگئی۔ ان جہادی تنظیموں کا پاکستان کو تباہ و برباد کرنے کا کیا منشور تھا، اس کے لیے ملاحظہ ہو، روزنامہ ”پاکستان”، لاہور، مورخہ ٩/نومبر ١٩٩٦ء، اور ماہنامہ ”اہلِ سنت” گجرات، ماہِ دسمبر ١٩٩٨ئ۔ مثال کے لیے صرف ایک کالعدم جہادی تنظیم ”لشکرِ طیبہ” کے مقاصد کی، جس کا فوجی ہیڈ کوارٹر مریدکے میں ہوا کرتا تھا، ایک رپورٹ ملاحظہ ہو:
”آج پاکستان بھر میں سنی مسلمانوں کو کشمیر کے جہاد کے بہانے لشکرِ طیبہ، حرکۃ المجاہدین، حرکۃ الانصار، حزب المجاہدین، تحریک المجاہدین، البدر، جیش محمد اور دیگر وہابی تنظیموں میں شامل کیا جارہا ہے۔ حالانکہ یہ وہ تنظیمیں ہیں جن کے بڑوں نے انگریزوں کے خلاف جہاد سے منع کیا اور ہندوؤں کا بھرپور ساتھ دیا۔ آج وہابی دیوبندی تنظیمیں جہاد کے نام پر ہندوستان کو اپنا دشمن ظاہر کررہی ہیں۔ ذرا سوچئے اگر یہ واقعی دشمن ہیں تو پھر بھارتی حکومت اپنے دشمنوں کے عالمی مرکز مدرسہ دیوبند کا محاصرہ کیوں نہیں کرتی؟ دہلی کی جامع مسجد کے دیوبندی امام بخاری کو گرفتار کیوں نہیں کرتی؟ دہلی میں تبلیغی جماعت کے عالمی مرکز کو مسمار کیوں نہیں کرتی؟ کیا یہ ساری حقیقتیں انڈین حکومت کے علم میں نہیں ہیں؟ یقینا ہیں مگر ایسا سب کچھ مسلمانوں کو دھوکہ دینے اور ہندو اور یہودکے پاؤں مضبوط کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔ اب یہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ ان حقائق کو جاننے کے بعد ان کے بناوٹی جہاد سے دور رہیں۔۔۔۔”
”ملک کو مکمل تہس نہس کرنے اور یہاں نیا دین، نئی شریعت اور نیا کلچر رائج کرنے کے لیے مذہب کے نام پر ایک دہشت گرد عسکری تنظیم خفیہ طور پر مکمل تیاری میں مصروف ہے جو منافقت اور دھوکہ فریب کے پردوں اور جعلی جہادِ کشمیر کے لبادوں میں لپٹی اپنی تیاری مکمل کررہی ہے۔ اس دہشت گرد تنظیم کا نام لشکرِ طیبہ ہے اور ”مرید کے” میں اس کا ہیڈ کوارٹر ہے جس کی سرپرستی بعض بیرونِ ملک کی ایجنسیاں کررہی ہیں۔ اس تنظیم کے مقاصد کا خلاصہ حسبِ ذیل ہے:

 

[خصوصی نوٹ: اس کی زندہ مثال تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شرکت کے لیے افواجِ پاکستان کے تینوں شعبے، آرمی، ائیرفورس اور نیوی کے جوانوں اور افسروں کو نہ صرف فری ہینڈ دینا بلکہ ان کو اجتماع میں شرکت کے لیے تبلیغی وہابی افسروں کی طرف سے باقاعدہ تشویق و ترغیب دینا اور ٹرانسپورٹ مہیا کرنا ہے۔ لیکن کوئی جوان سنّی تبلیغی جماعت ”دعوتِ اسلامی” کے اجتماع میں اگر چھٹی لے کر بھی جانا چاہے تو اس کے خلاف فوجی تنظیمی قوائد کی خلاف ورزی کی شق لگاکر تادیبی کاروائی کی دھمکی دینا، اسی طرح کراچی کی ایک ائیربیس (Air Base) میں ایک سینئر آفیسر کے لیے اپنا ہیڈکوارٹر چھوڑ کر نہ جانے کی پابندی ان کے ایک تبلیغی کمانڈنگ آفیسر نے اس لیے لگادی تھی کہ وہ ایک اعلیٰ پایہ کے سنّی عالمِ دین اور مفتی تھے اور میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلسوں میں فی سبیل اللہ خطاب فرماتے تھے۔ فوج میں فرقہ پرستی اور تعصب کی ایک اور مثال کارساز پر بخاری شاہ صاحب علیہ الرحمۃ کے مزار سے متصل مسجد اور مدرسہ پر، جو گذشتہ ٢٥سال سے قائم تھا، راتوں رات قبضہ اور پھر مدرسہ کو نیوی کی تحویل میں دینے کے بجائے شہر کی ایک متعصب وہابی تنظیم ”عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ” کی انتظامیہ کے حوالہ کرنا ہے۔ اسی طرح ملیر کینٹ بازار میں اہلِ سنت کی ایک نیک فیاض خاتون کی اپنے پیسوں سے تعمیر شدہ مسجد پر دیوبندی کمانڈنگ آفیسر کی طرف سے جبراً قبضہ کرکے آرمی انتظامیہ کے حوالے کرنا اور پھر وہاں دیوبندی مسلک کے خطیب و امام کی تقرری ہے۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں، ایسی سیکڑوں مثالیں دی جاسکتی ہیں۔]

 

(ملاحظہ کیجئے، ماہنامہ ”اہلِ سنت” گجرات، ص: ٥،٦،٧، ماہِ دسمبر ١٩٩٨ء)
اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے محترم محمد نجم مصطفائی تحریر کرتے ہیں:
”مسلمانو! مذکورہ رپورٹ کو جان لینے کے بعد یہ حقیقت کھل کر واضح ہوجاتی ہے کہ وہابیوں کے نام نہاد جہادی اور عسکری تنظیم لشکرِ طیبہ (اور دیگر تنظیمیں بھی) جب اپنے مقاصد کو حاصل کرلے گی (کرلیں گی) تو اس پاک سرزمین پر کیسی اندھیری رات ہوگی کہ جس کے منحوس سائے ہر سمت پھیل چکے ہوں گے۔ ذرا اس دن کو تصور میں لایئے خدانخواستہ اس دھرتی پر سنی اور وہابی بنیادوں پر جنگ چھڑ گئی تو کون سا گھر اور کون سا قومی ادارہ ہے جو اس خون ریز تصادم سے محفوظ رہے گا۔ حکومتِ وقت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس خطرناک ناسور پر قابو پائے۔ اگر خدانخواستہ یہ خوفناک معاملہ ہاتھوں سے نکل گیا تو پھر اس ملک کی آنے والی نسلیں روزِ محشر تک حکومتِ وقت کی لاپرواہی اور چشم پوشی کا ماتم کرتی رہیں گی اور اس کا تمام تر وبال بروزِ محشر حکومت کی گردن پر آسکتا ہے۔ [١٧] (اس سلسلہ میں آج جو صوبہ سرحد کے علاقہ پارا چنار میں باقاعدہ مسلح دیوبندی اور شیعہ تصادم ہورہا ہے اور جس میں ایک سو سے زیادہ جانیں اب تک ضائع ہوچکی اور املاک کا نقصان الگ حتیٰ کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز سے بھی مسلح طرفین کو قابو میں کرنا مشکل ہورہا ہے، ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے)۔
لال مسجد کے مولوی عبد اللہ اور ان کے بیٹے (برقعہ برادران) انہی تنظیموں کے آلہئ کار تھے۔ لال مسجد کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے جہادیوں کا مرکز بن گئی تھی۔ دوسرے الفاظ میں گویا لال مسجد اب لال قلعے میں تبدیل ہوگئی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ مولوی عبد اللہ کی زبان و بیان میں شدت آگئی۔ ان کی ہر تقریر اور جمعہ کا ہر خطاب فرقہ وارانہ رنگ کا ہوتا، اہلِ سنت و جماعت کے عقائد و نظریات پر حملہ کرتے کرتے، انہوں نے اپنا رخ اہل التشیع کی طرف موڑ دیا۔ حکمراں طبقہ، عسکری اور خفیہ ایجنسیوں کی اعلیٰ شخصیات سے رابطوں نے ان کو متکبر بھی بنادیا تھا۔ خود اپنے فرقہ کے معتدل مزاج لوگوں کا مشورہ بھی رد کردیتے تھے۔ چنانچہ فرقہ واریت کی جو آگ انہوں نے لگائی تھی، ایک دن خود اسی میں جل کر بھسم ہوگئے۔ کلاشنکوف بردار پہریداروں کے جھرمٹ میں رہتے ہوئے بھی قتل کردیئے گئے۔ شاید ان کی فتنہ پروری کی وجہ سے حکومتِ وقت نے بھی ان کے قتل کا زیادہ نوٹس نہیں لیا۔
مولوی عبد اللہ کے قتل کے بعد ان کے بڑے بیٹے مولوی عبد العزیز صاحب (شاگردِ رشید و مرید خاص جناب مفتی رفیع عثمانی صاحب) جانشین بنے۔ انہوں نے اپنے بھائی عبد الرشید کو جن کو ان کے ابا جان نے ان کی غیر شرعی حرکتوں کی وجہ سے گھر سے نکال دیا تھا اور عاق کررکھا تھا، معافی تلافی کرکے اپنے پاس بلالیا۔ اب دونوں برادران نے اپنے ابّا کے نام کے آگے ”شہید” اور خود اپنے نام کے آگے ”غازی” کا لاحقہ لگالیا اور ان کی چھوڑی ہوئی کروڑوں کی جائیداد کے مالک بن بیٹھے، حالآنکہ یہ ان کے گھر، دفتر، مساجد، مدرسے، یہ سب کے سب غصب شدہ زمین پر تعمیرہ شدہ ہیں اور ان کی تعمیر پر ان کے ”اباجان” کی جیب سے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوا بلکہ یہ سب پبلک کا پیسہ ہے جو زکوٰۃ، خیرات اور عطیات کے بطور وصول کیا گیا تھا۔ ان کو اپنے ”پیارے ابا جان” کے ناگہانی قتل پر آنجہانی ہونے کا بڑا صدمہ اور ان کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر شدید غصہ تو تھا ہی، اس لیے انہوں نے اپنے بزرگوں کے مشورہ سے نفاذِ شریعہ کی آڑ میں ایک ایسی اسٹریٹجی اپنائی جس سے پہلے تو دارالحکومت کے نظم و ضبط کو مفلوج کرکے اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جاتی، پھر سارے ملک کی دوسرے مسالک کی مساجد، مدارس، خانقاہوں اور مزارات پر قبضہ کرکے ملک میں فرقہ وارانہ فساد اور سول وار کی کیفیت پیدا کی جاتی اور جب ملک میں انارکی پیدا ہونے کی صورت میں حکومت کی رٹ کمزور ہوجاتی تو اسلام آباد سے لے کر علاقہئ غیر تک کے علاقوں کو اپنے عسکری تربیت یافتہ دہشت گرد جتھوں کی مدد سے قبضہ کرکے سعودی طرز پر ایک ”خالص اسلامی” حکومت کے قیام کا اعلان کیا جاتا جس کے ”امیر” اور ”نائب امیر” بلکہ ”آمر” اور ”نائب آمر” یہ دونوں ”غازی امرائ” ہوتے۔ لیکن چونکہ یہ دونوں ”برقع برادران” اپنے ”پیارے ابا جان” کے ناگہانی آنجہانی ہونے پر شدید غم و غصہ کی بناء پر سائیکی (نفسیاتی مریض) ہوگئے اور جلد بازی میں وہ کربیٹھے جو انہیں نہیں کرنا چاہئے تھا یعنی پوری عسکری تیاری کے بغیر اپنے اسلحوں کی برسر عام نمائش اور پھر پاکستان کی طاقتور سکیورٹی فورسز سے دو دو ہاتھ کر بیٹھے، نتیجتاً وہ تو اپنی جان سے گئے لیکن اپنے پیچھے اپنی دس سالہ منصوبہ بندی کے شریک بزرگوں، بالخصوص وفاق المدارس کے رہنماؤں اور بالعموم اپنی پوری قوم کو ہکّا بکّا اور رنجیدہ کرگئے۔ (نوٹ:یہ نہیں پتا چل سکا کہ یہ بزرگ اپنے اخلاف کی اس حرکت پر شرمندہ بھی ہوئے کہ نہیں)۔
ابھی جب کہ لال مسجد کا گھیراؤ چل رہا تھا اور پھر اس پر سے دہشت گردوں کے خاتمہ کے بعد بھی دو سوالات علماء سے بار بار دریافت کیے گئے، الیکٹرونک میڈیا پر بھی اور پرنٹ میڈیا میں بھی۔

 

پہلے سوال کا جواب اہلِ سنت کے علماء نے یہ دیا کہ شرعاً ایسا کرنا ناجائز ہے۔ ایسا کرنے والا نہ صرف گنہگار ہوگا بلکہ ایسی مسجد میں جو لوگ نماز پڑھیں یا پڑھائیں گے، ان کی نمازیں باطل ہوں گی اور جو پڑھے یا پڑھائے اس پر نماز کا اعادہ اور توبہ واجب۔ اس پر انہوں نے کتب فقہ سے دلائل دیئے اور صدر اول سے مثالیں دیں۔
لیکن جن علمائے دیوبند سے یہ سوال کیا گیا، الا ماشاء اللہ تقریباً سب نے اس کے اصل جواب سے گریز کرتے ہوئے آئیں بائیں شائیں کرکے یہ ثابت کیا کہ ”مسجد و مدرسہ کے سلسلہ میں ایسا کرنا ناجائز نہیں ہے۔ ہاں البتہ کوئی اپنی ذاتی ملکیت بنانے کے لیے اسے استعمال نہیں کرسکتا۔ ”برقع برادران” اور ان کے ”پیارے آنجہانی ابا جان” نے جن قطعات پر مساجد و مدارس بنائے وہ تو ویرانہ اور بیکار زمینیں (Barren Lands) تھیں۔ اس کا انہوں نے صحیح استعمال کیا۔ دیکھئے جی اللہ تبارک و تعالیٰ نے تو تمام کرہ ارض کو مسلمانوں کے لیے مسجد قرار دیدیا ہے۔ بالفرض وہ زمین حکومت کی بھی ملکیت ہے تو زیادہ سے زیادہ اس سے عوامی ملکیت ثابت ہوتی ہے، ایسی زمینیں حکومت عوام کی فلاح کے لیے استعمال کرتی ہے۔ مسجد و مدرسہ سے بڑھ کر عوام کی فلاح کا کیا کام ہوسکتا ہے؟ ہاں زمین اگر کسی کی ذاتی ملکیت ہو تو اس پر زبردستی قبضہ کرکے مسجد کی تعمیر بیشک ناجائز ہوگی۔ لیکن کوئی یہ ثابت نہیں کرسکتا کہ ہمارے ان تینوں ”مجاہدینِ اسلام” (یعنی برقع برادران اور ان کے پیارے ابا جان) نے کسی شخص کی ذاتی ملکیت کو زبردستی قبضہ کرکے مسجد یا مدرسہ بنایا ہو۔ گورنمنٹ نے مدرسہ حفصہ کو قبضہ کرنے کے بعد اس لیے ڈھادیا کہ یہ محکمہ تعلیم کی زمین تھی تو ان ”مجاہدین” نے بھی تعلیم گاہ بنائی تھی جہاں بچوں اور بچیوں کو مفت تعلیم دی جارہی تھی، کوئی فائیو اسٹار ہوٹل تو نہیں بنایا تھا جہاں عیش و عشرت کے حرام مواقع مہیا کرکے لوگوں سے کمایا جارہا ہو۔” ایک مولوی صاحب نے ایک ٹی وی پروگرام میں زچ ہوکر کہا کہ کیا ہوا اگر ان تینوں ”محترم دین کے علمبرداروں” نے نادانی سے سی۔ڈی۔اے کی زمین پر مسجدیں اور مدرسے بنا بھی لیے تھے تو سی۔ڈی۔اے کی انتظامیہ تو اندھی نہ تھی، کیا وہ نہیں دیکھ رہی تھی ایک نیک اور فلاحی کام ہورہا ہے، اس کو مفت میں الاٹ کرکے ریگولرائز کردیتی۔ آخر یہ اختیار تو ان کو حاصل تھا اور ہے۔ اگر کسی صاحب کے فتوے کے مطابق ان مسجدوں میں نمازیں باطل تھیں تو اب صحیح ہوجائیں گی اور جو لوگ پڑھ چکے ہیں ان کو دہرانے کی ضرورت نہیں پڑے گی، اس کا الاٹمنٹ یا ریگولرائیزیشن سجدہئ سہو کی مانند ہے۔”
قارئین کرام! ملاحظہ فرمائیں کہ سوال کیا ہے اور یہ مفتیانِ دیوبند جواب کیا عطا فرمارہے ہیں! اس کو کہتے ہیں ”مارو گھٹنا، پھوٹے آنکھ”۔ لیکن لوگ اب اتنے بے وقوف نہیں کہ سچ اور جھوٹ میں تمیز نہ کرسکیں۔ انہوں نے بلکہ دنیا کے لاکھوں کروڑوں لوگوں نے جن میں مسلمان، ہندو، سکھ، عیسائی، یہودی، پارسی سبھی شامل ہیں، اپنی آنکھوں سے ٹیلیویژن اسکرین پر دیکھا ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے دو بڑے مفتیوں نے اپنا سابقہ فتویٰ رشوت لے کر بدل دیا اور نیا لکھ کر دیدیا۔ گویا زبانِ حال سے کہہ رہے ہوں کہ ”حضرت مستفتی صاحب ہم دیوبند والے اصل نسل، جدّی پشتی مفتی ہیں، مفتے نہیں ہیں کہ آپ کو مفت میں فتویٰ دیدیں، پیسے لاؤ جونسا چاہو فتویٰ لے لو جس قدر زیادہ گڑ ڈالوگے اتنا زیادہ میٹھا ہوگا اور خبردار کسی سے شکایت نہ کرنا۔ ہم دارالعلوم دیوبند کے مفتی ہیں، دنیا میں ہماری دھاک ہے، تمہاری کوئی نہ سنے گا، ذلیل ہوگے۔”
دوسرے سوال کے جواب میں علماءِ اہلسنّت کا جواب بالکل صاف اور واضح تھا کہ اسلامی حکومت کے فرائض میں ہے کہ سرحدوں پر اگر بیرونی دشمن حملہ کرے تو اس کے خلاف جنگ کرے۔ اس دوران جو بھی فوجی مارا جائے گا، وہ شہید ہوگا اور دشمن حرام موت مرے گا۔ اسی طرح اگر مملکت کے اندرونی دشمن ملک کے اندر بغاوت کریں یا فتنہ و فساد پیدا کریں اور اگر ان کو روکا اور سمجھایا جائے تو اسلامی فوج پر حملہ آور ہوں تو فوج پر لازم ہے کہ ان کی بیخ کنی کرے اور امن و امان قائم کرے۔ اس فرض کی ادائیگی میں جو فوجی جاں بحق ہوگا، وہ شہید ہے اور جو باغی مارا جائے گا وہ حرام موت مرے گا۔ لال مسجد کے جو دہشت گرد ہلاک ہوئے، حرام موت مرے اور افواجِ پاکستان اور سیکیورٹی فورسز کے جو جوان اس ایکشن میں جاں بحق ہوئے، وہ بلاشبہ شہید ہیں۔ البتہ اس لڑائی میں دو طرفہ گولیوں کی زد میں جو معصوم طالب علم اور طالبات جنہیں دہشت گردوں نے یرغمال بنایا ہوا تھا، وہ بے گناہ مارے گئے، وہ بھی شہید کہلائیں گے۔ علمائے دیوبند میں سے اس سوال کے دو جواب آئے۔ بعض نے لال مسجد کے دہشت گردوں کو ”مجاہد” قرار دے کر کہ اسلامی نظام کے نفاذ اور مسجد کے دفاع کی خاطر ”جہاد” کررہے تھے، شہید قرار دیا اور افواجِ پاکستان اور سیکورٹی فورسز کے جاں بحق ہونے والے نوجوانوں کو حرام موت کا مرتکب قرار دیا۔ دوسرے لوگوں نے جس میں مفتی رفیع عثمانی صاحب بھی شامل ہیں، نہایت گول مول جواب دیا۔ مفتی رفیع عثمانی کا جواب جو روزنامہ جنگ، ١١/جولائی ٢٠٠٧ء، ص:١٧ پر شائع ہوا، وہ ملاحظہ ہو:
”لال مسجد آپریشن میں فریقین کی طرف سے جاں بحق ہونے والے افراد کو شہید قرار دیا جاسکتا ہے، اس کا انحصار ان کی نیت پر ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ لال مسجد کے اندر جاں بحق ہونے والوں کی نیت کیا ہے، اگر وہ اس نیت کے ساتھ لڑرہے تھے کہ اللہ تعالیٰ اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو بچایا جائے، غیر اسلامی اقدام کو روکا جائے تو اس حوالے سے رائے کا مختلف ہونا معنی نہیں رکھتا ہے، وہ شخص شہید ہے اسی طرح سے سیکیورٹی فورسز میں شامل اہل کاروں کی نیت کو دیکھنا ہوگا۔ اگر وہ اس نیت کے ساتھ آپریشن میں شریک تھے کہ مسجد اور مدرسے میں موجود لوگ ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں جو شرعاً صحیح نہیں تو وہ شہید قرار پائیں گے لیکن اگر وہ ملازم کے طور تنخواہ کے عوض کاروائی میں شریک تھے تو شہید نہیں ہوں گے، جہنمی ہوں گے۔”

 

اس تجزیہ کا مدعا یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ کسی ایک مسجد یا مدرسہ کا معاملہ نہیں اور نہ کوئی جزوقتی حادثہ ہے بلکہ یہ ایک طویل المدت سوچے سمجھنے منصوبہ کی بات ہے جس کا مقصد پاکستان کے اندر ایک نجدی حکومت کا قیام ہے اور پاکستان کی حساس فوجی تنصیبات بالخصوص جوہری تنصیبات پر قبضہ ہے اور ظاہر ہے اس کے پسِ پردہ ہنود اور صیہونی لابی ہے۔ خواہ اس کے لیے پاکستان کو توڑنا ہی کیوں نہ پڑے۔ اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ جب حکومتِ پاکستان کے وزیر مذہبی امور جناب اعجاز الحق نے حرم کعبہ شریف کے امام صاحب جناب علامہ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس بن عبد العزیز کو پاکستان آنے کی دعوت دی کہ وہ یہاں آکر اپنے ہم مسلک شدت پسند لال مسجد کے خطیب و امام ”عبد العزیز برقع” کو سمجھائیں اور اسے دہشت گردی اور عسکریت پسندی سے روکیں۔ تو ان کی پاکستان آمد پر ”برقع برادران” کی طرف سے ایک بیان تمام اخبارات میں آیا تھا کہ ”اگر صدر پرویز مشرف سعودی مہمان مکرم شیخ حرم کو پاکستان کا صدر بنادیں تو ہم اپنے مطالبات اور رویوں سے دستبردار ہوجائیں گے۔” حالانکہ کسی غیر ملکی کو اپنے ملک کے صدر بننے کی دعوت دینا کس قدر ملک دشمنی اور غداری کی بات ہے۔ سوال یہ ہے کہ ”برقع برادران” نے نجدی حکومت کے ایک مجبور و محصور ملازم کو صدر بنانے کی بات کیوں کی؟ ملائشیا کے مہاتیر محمد صاحب جو کہ ملائشیا کے قابل ترین حکمران رہے ہیں، ان کا نام کیوں نہیں لیا؟ وہ اپنے ملک کے قابل ترین حکمران گذرے ہیں، آدابِ حکمرانی و جہاں بانی سے اچھی طرح واقف ہیں، جنوبی مشرقی ایشیا میں ملائشیا کو فوجی اور معاشی اعتبار سے طاقتور ملک بنانے میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے۔ مزید یہ کہ وہ امریکہ، یورپین ممالک کی استعماری طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گفتگو کرنے کے عادی ہیں اور عالمی پیمانے پر مسلم ممالک کے فوجی اور اقتصادی اتحاد کے داعی ہیں، ان کے مقابلہ پر نجدی حکومت کے مذکورہ مجبورِ محض ملازم امام کی کیا حیثیت ہے جو بے چارہ اپنی مرضی سے اپنے الفاظ میں جمعہ و عیدین کا خطبہ بھی دینے کا مجاز نہ ہو؟ لیکن محترم مہاتیر محمد صاحب اس لیے پسند نہیں آئیں گے کہ وہ سنّی ہیں، عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم دھوم دھام سے سے مناتے ہیں اور ملائشیا میں یوں بھی سرکاری طور پر یومِ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم جشن کے طور پر منایا جاتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ”صالح نیت” کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر پاکستان کے بیس ہزار سے زیادہ دینی مدارس اور لاکھوں مساجد میں اسلحوں کا ڈھیر لگ جائے اور ان میں تعلیم حاصل کرنے والے تقریباً بیس لاکھ طلباء ہاتھوں میں کلاشنکوف اور مشین گنیں لے کر اپنے مطالبات منوانے کے لیے سڑکوں پر آجائیں تو ملک میں لوٹ مار، فتنہ و فساد، خون خرابے کو کون روک سکے گا اور ملک کی سا لمیت کیسے باقی رہ سکے گی؟
بریں عقل و دانش بباید گریخت
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں۔ سچ کہا، علامہ اقبال نے ایسے ہی لوگوں کے لیے ؎
نماند آں تاب و تب در خونِ نابش
نروید لالہ از کِشتِ خرابش
نیامِ او تہی چوں کیسہ او
بطاقِ خانہ ویراں کتابش
ہم دنیائے اسلام کے حکمرانوں بالخصوص پاکستان کے اربابِ حل و عقد سے بھی یہ مؤدبانہ گذارش کرتے ہیں کہ وہ ان تمام حقائق کا بغور اور بحیثیت آقا و مولیٰ سید عالم نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک وفادار امّتی کے، مشاہدہ کریں اور مسلکی و مذہبی تعصب یا فرقہ وارانہ تنگ نظری سے بلند ہوکر سوچیں کہ وہ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر کس کے آلہ کار بن رہے ہیں۔ نام نہاد ”روشن خیالی” کے بجائے احکامِ الٰہی اور سنتِ مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رہبر و رہنما بنائیں، اپنا دین و ایمان بچائیں اور مملکتِ خداداد پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں کے دین و ایمان اور عقیدہ صالحہ و صحیحہ کی حفاظت کا فریضہ انجام دیں۔ یہ ان کی انفرادی، ملی اور منصبی ذمہ داری بھی ہے، ورنہ دنیا و آخرت دونوں میں اللہ کی گرفت سے نہ بچ سکیں گے۔ اگر ان حکمرانوں نے آج اپنی ایمانی اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناقابلِ تسخیر قوت سے کام لے کر اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اٹھنے والے فتنوں کا پامردی سے مقابلہ نہ کیا تو کل تاریخ سے ان کا نام و نشان بھی مٹ جائے گا اور اپنی قبر کی اندھیری کوٹھریوں میں اپنے کئے کی عبرتناک سزا بھگت رہے ہوں گے۔ ان کی قبروں کے نشان بھی مٹ جائیں گے۔ انہیں یاد ہونا چاہئے کہ آج بھی ہمارے وہ صالح حکمراں جنہوں نے دشمنانِ اسلام کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے چراغ مسلمانوں کے دلوں سے بجھنے اور شعائرِ اسلام کو مٹنے سے بچایا۔ مثلاً صلاح الدین ایوبی، نور الدین زنگی، محمد بن قاسم، شہاب الدین غوری، اوررنگ زیب عالمگیر علیہم الرحمۃ وغیرہم اپنے عظیم کارناموں کی وجہ سے زندہ ہیں۔ صبحِ قیامت تک ان کا نام عقیدت و محبت سے لیا جاتا رہے گا۔ اب بھی موقعہ ہے کہ ہمارے حکمران ہوش کے ناخن لیں اور توبہ کرکے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے وفادار غلام بن کر حق و انصاف اور عدل واحسان سے کام لیں۔ ملک میں نظامِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نافذ کرکے اپنی منصبی اور ایمانی ذمّہ داری نبھائیں۔
آج لے ان کی پناہ، آج مدد مانگ ان سے
پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا
اس موقع پر ہم دیوبندی، اہلحدیث اور جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سنجیدہ، غیر جانبدار، حق پسند، حق گو اور امتِ مسلمہ کا درد رکھنے والے اصحاب فکر ونظر اور اربابان علم وتحقیق سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ آپ ان تمام بیان کردہ حقائق کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیں۔ برطانوی جاسوس ہمفرے کے انکشافات کی روشنی میں مسلم سپر پاور سلطنت ترکیہ کے زوال کے اسباب واثرات اور عرب دنیا کو یہود و نصاریٰ کی سازشوں کے تحت چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے پر عملدر آمد کے بعد عربوں کو سیاست اور ان کے معاشی وسائل کے استعمال پر لندن اور نیویارک سے ڈکٹیشن، پھر اسی تسلسل میں افغانستان، عراق و فلسطین اور کشمیر پر غاصبانہ قبضہ اور آخر میں آج پاکستان کے اندر موجودہ دہشت گردی کی فضاء پیدا کرنے والے عناصر کے کردار، معاملات اور ان کے مفادات کا نہایت غور و فکر سے مطالعہ کریں اور ٹھنڈے دل سے انکا جائزہ لیں پھر سوچیں کہ کیا اس قدر نقصانات اٹھانے کے بعد بھی ہم من حیثیت مسلم امّہ حضور اکرم سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت اور ان کی سنت اور عزت و عظمت کو معیار بناکر آپس میں متحد و متفق نہیں ہوسکتے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا یہی پیغام تھا اور بعد میں آنے والے اہل ایمان، تابعین، تبع تابعین، اولیاء کرام، ائمہ کرمانِ امت علیہم الرحمۃ والرضوان کا یہی پیغام رہا ہے۔ محقق علی الاطلاق مجدد وقت شیخ عبد الحق محدث دہلوی اور حضرت شیخ سرہندی مجدد الف ثانی علیہما الرحمہ نے بھی ان ہی نظریات کا ابلاغ کیا ہے اور آج اعلیٰ حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خاں محمدی، حنفی، قادری برکاتی قدس سرہ، کا بھی یہی پیغام ہے جو ان کی تصانیف کے ایک ایک حرف سے ثابت ہے۔ تعصب کی عینک اتار کر، غیر جانبدار ہوکر ان کا پیغام ان کی اپنی تصانیف کی روشنی میں پڑھیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ انشراحِ قلب ہوگا اور حق واضح ہوجائے گا۔ ہمیں یقین ہے کہ جن کے قلوب میں خشیت الٰہی کا جذبہ اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی چنگاری ہے وہ یقینا ہماری گزارشات پر سنجیدگی سے کان دھریں گے اور حق پرستی کی راہ اپنا کر اتحاد ویکجہتی اور اسلامی جذبوں کو فروغ دینے میں ایک دوسرے کے دست وبازو بن کر ہنود و یہود اور نصاریٰ کی سازشوں کو ناکام بنائیں گے اور وحدتِ امّتِ مسلمہ کو تقویت اور قوت بخشنے کا سبب بنیں گے ؎
اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے دیا جلاکر سرعام رکھ دیا
اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ جلیلہ سے ہر کلمہ گو کو راہِ صواب اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور مسلمانوں کو نشاۃِ ثانیہ عطا فرماکر اہل اسلام کو باطل قوتوں پر غلبہ بخشے۔ آمین بجاہ سید المرسلین۔
چہ گویم زاں فقیرے درد مندے
مسلمانے بہ گوہر ارجمندے
خدا ایں سخت جاں رایاربادا
کہ افتاد است ازبامِ بلندے
حوالہ جات

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭٭٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ١۔ زعمائے فرقہ وہابیہ نجدیہ ٢۔ حکمران ٣۔ حکومتی ایجنسیاں ٤۔ بیرونی حکومتیں اور ایجنسیاں ١۔ سکھوں اور انگریزی عملداری سے آزاد خود مختار صوبہ سرحد کی قبائلی مسلم ریاستوں کی فوجی قوت کو آپس میں دست و گریباں کرکے کمزور کرنا۔ ٢۔ مغلیہ سلطنت کے حدود پر انگریزوں کی روز افزوں کسی نہ کسی بہانے یلغار کے خلاف ہندوستانیوں بالخصوص مسلمانوں کی بے چینی اور اندر ہی اندر ان کی چیرہ دستیوں کے خلاف جہاد کی جو تحریک جنم لے رہی تھی، اس کا رخ سکھوں کی طرف موڑ کر ان کے اس جذبہ کو سرد کرکے رفتہ رفتہ ختم کرنا۔ ٣۔ مسلمانانِ ہند، جن کی اس وقت تک نوے فیصد آبادی اہلسنّت و جماعت پر مشتمل تھی، ان میں فرقہ پرستی کا بیج بوکر داخلی طور پر ان میں انتشار، افتراق اور شکست و ریخت پیدا کرکے آپس میں دست و گریباں کرنا تاکہ وہ اجتماعی طور پر متحد ہوکر انگریزوں سے لڑنے کے قابل نہ رہ جائیں۔ ١۔ مضبوط ترین عسکری قوت بننا جو وقت آنے پر افواجِ پاکستان سے نبرد آزما ہوسکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے جہادِ کشمیر کو حیلہ بنانا اور عوام کو جہاد کا چکمہ دے کر اپنے تربیتی اداروں اور کیمپوں میں لے جاکر انہیں جبراً وہابی اہلِ حدیث بنانا، جو نہ مانے اس کو قتل کرکے بڑے خاص انداز سے یہ مشہور کرنا کہ یہ ہمارا مجاہد ہے جو جہاد میں شہید ہوگیا ہے۔ پھر اس کے بارے میں اخبارات میں جھوٹی خبریں چھپوانا اور غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھنا۔ ٢۔ افواجِ پاکستان میں دھڑے بندی، مذہبی منافرت اور مذہبی گروہ بندی بنانا تاکہ فوج انتشار کا شکار ہوکر کمزور ہوجائے اور وقت آنے پر فوج کے اندر ان کی تیار لابی ان کا ساتھ دے اور فوج کے جو گروہ ان کے مخالف نظریات رکھتے ہوں، ان کو مار بھگایا جاسکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے فوجی اداروں میں اپنے مکتبہئ فکر کے آفیسر اور خطیب مقرر کرانا اور انہیں اپنے نظریات کے پرچار کے لیے فوج میں فری ہینڈ دلوانا۔ ٣۔ پاکستان کو نجدی اسٹیٹ بنانا جس کو عرب ممالک کی طرح انگریز مغربی ممالک کی سرپرستی حاصل ہو۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ملک میں سرِ عام نجدیت کا پرچار کرنا اور مختلف حیلوں سے لوگوں کے ایمان خراب اور عقیدہ تباہ کرنا تاکہ وقت آنے پر عربوں کی طرح ان کی غیرتِ ملی اور حمیتِ دینی مردہ ہوچکی ہو اور وہ چپ چاپ سب کچھ برداشت کرجائیں۔ ٤۔ مسلمانوں کے دلوں سے انبیاء عظام علیہم الصلوٰۃ والسلام اور اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی محبت اور عقیدت مختلف طریقہ ہائے واردات سے ناپید کرنا تاکہ وہ دین کی برکات سے محروم ہوکر بے دست و پا ہوکر رہ جائیں اور ان کو بھیڑ بکریوں کی طرح اپنی مرضی سے ہانکا جاسکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انبیاء عظام علیہم الصلوٰۃ والسلام، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی محبت اور عقیدت کو کفر اور شرک قرار دینا اور ان پاک ہستیوں کے خلاف تقاریر اور لٹریچر کے ذریعے منافرت پھیلانا تاکہ وقت آنے پر ان ہستیوں کے مزارات و آثار کو نیست و نابود کیا جاسکے (جو اسلامی قوت کا سرچشمہ و مرکز شمار ہوتے ہیں)۔ ٥۔ سرکاری اور نجی اداروں میں اپنا اثر و رسوخ پیدا کرنا تاکہ ہر سطح پر حصولِ مقاصد میں آسانی پیدا ہو۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ادارے میں اپنے ایجنٹ ایڈجسٹ کرانا۔ ٦۔ اہلِ سنت و جماعت کے خلاف مختلف پروپیگنڈے کرکے اس کو ختم کرنا اور یہاں انگریزوں کی خود ساختہ نجدی شریعت نافذ کرنا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اپنے ہم نظریہ مولویوں کی مکمل سرپرستی کرنا اور جو علماءِ اہلِ سنت ان کے خلاف لوگوں کو آگاہ کریں، ان کو قتل کرادینا۔ صوبہ سرحد کے سابق صوبائی اسمبلی نے نفاذِ شریعت کے لیے جو حسبہ بل پاس کیا تھا، اس میں بھی شریعت کی اپنی من مانی تعریف کی گئی تھی اور مجلسِ عمل کی شریک کار جماعت جمعیت علماءِ پاکستان کے اعتراض کے باوجود بل کی اس مخصوص شق پر جمعیت کا اعتراض نظر انداز کرکے منظور کیا گیا۔ اس سلسلے میں اس وقت کے جمعیت کے نائب سینئر صدر صاحبزادہ ابو الخیر نقشبندی صاحب نے تمام سُنّی علمائ، اسکالر اور دانشوروں کو ایک گشتی مراسلہ تحریر کیا تھا جس میں بل کے نفاذ کے خلاف احتجاج کے لیے کہا گیا تھا۔ (ملاحظہ ہو، معارفِ رضا ستمبر ٢٠٠٥ء کا اداریہ ”ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا”)۔ ٧۔ مذکورہ مقاصد کے حصول میں جب ہر سطح پر نمایاں کامیابی کے آثار نظر آنے لگیں تو یک دم ہلہ بول دینا اور اپنے سرپرست ممالک کی افواج کو بلواکر اس ملک پر قبضہ کرلینا اور یہاں وہی تاریخ تازہ کردینا جو عرب ممالک میں ترکوں کی (سُنّی) اسلامی حکومت اور ان ممالک کے سنی مسلمانوں کو ان نجدیوں کے ہاتھوں پیش آئی تھی۔” ١۔ کیا غصب شدہ زمین پر مسجد یا مدرسہ بنانا شرعاً جائز ہے؟ ٢۔ لال مسجد پر پولیس ایکشن کے دوران کون مارا جانے والا شخص شرع کی رو سے شہید اور کونسا حرام موت مرے گا؟ لال مسجد سے پاکستانی سیکورٹی فورسز اور فوج پر گولی چلانے والا ”لال مسجدی مجاہد جوان” یا اسلامی جمہوریہ پاکستان کی افواج اور اس کی سیکورٹی فورسز کا سرفروش سپاہی؟ ١۔ بادی النظر میں ایسا لگتا ہے کہ مفتی صاحب یہ گول مول فتویٰ دے کر لال مسجد کے دہشت گردوں کو بھی خوش رکھنا چاہتے ہیں اور حکومتِ وقت کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ لیکن بغور دیکھا جائے تو مفتی صاحب نے اپنے سیاسی عقیدہ کا کھل کر اظہار کردیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ ایک سیاسی بیان ضرور ہے، فتویٰ کسی طور پر نہیں کیوں کہ شریعت کا حکم ظاہر پر ہے نہ کہ نیتوں پر۔ نیتوں کا حکم تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے یا پھر اس کے بتائے سے اس کے نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں۔ ایک شخص نے اگر کسی نماز کے وقت پر طہارت کے ساتھ قیام و رکوع و سجود وغیرہ میں اختتامِ نماز تک اراکین، فرائض، واجبات، سنن وغیرہ ادا کیے تو فتویٰ یہی ہے کہ نماز ادا ہوگئی، اس سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تُو مسجد میں کس نیت سے آیا تھا۔ ٢۔ یہ بیان سیاسی اس لیے ہے کہ مفتی صاحب نے اپنے شاگرد اور ہم مسلک دہشت گرد ”برقع برادران” اور ان کے ساتھی جو افواجِ پاکستان کے خلاف مورچہ بند ہوکر لال مسجد کے اندر سے لڑرہے تھے، کی ہمنوائی اور ہمت افزائی کی ہے۔ ”لال مسجد” کے ہلاک شدگان کے لیے صرف ایک شرط بیان کی ہے ”اللہ تعالیٰ اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو بچایا جائے”، اس نیت سے لڑنے پر وہ شہید ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں دیا کہ کس صورت میں وہ حرام موت مریں گے اور جہنمی ہوں گے۔ جبکہ افواجِ پاکستان کے لیے دو شرائط بیان کی، پہلی صورت میں وہ شہید قرار پاتے ہیں، دوسری صورت میں جہنمی۔ ٣۔ اس بیان سے مملکتِ خداداد پاکستان اور اس کی افواج سے ان کی دلی کدورت کا بھی پتہ چلتا ہے۔ یادش بخیر جب لال مسجد کا تنازعہ چل رہا تھا اور ابھی پولیس ایکشن نہیں ہوا تھا، اس دوران ایک چینل پر اکھوڑہ خٹک، سرحد کے ایک مولوی صاحب کا بالمباشرہ اور علامہ احترام الحق تھانوی صاحب کا بذریعہ فون انٹرویو نشر ہورہا تھا۔ جب علامہ احترام الحق صاحب سے کمپیئر نے دریافت کیا کہ لال مسجد کی انتظامیہ کی دہشت گرد سرگرمیوں کے متعلق کیا خیال ہے تو انہوں نے نہایت صاف گوئی سے کام لے کر دو ٹوک الفاظ میں یہ بات کہی کہ بدقسمتی سے آج وفاق المدارس اور اس سے متعلقہ مدارس پر قابض اکثریت ان لوگوں کی ہے جن کے آباء و اجداد نے غیر منقسم ہند میں پاکستان کے حصول کی شدت سے مخالفت کی تھی لہٰذا یہ لوگ آج بھی پاکستان کے مخالف ہیں اور انہی کے مدارس آج دہشت گردی کی تربیت کا مرکز ہیں۔ ان لوگوں نے دین اسلام، مسلمان، علماء، دینی مدارس اور ملک پاکستان کو تمام عالم میں بدنام کردیا ہے۔ ٤۔ اب مذکور مفتی صاحب استاذ عبد العزیز برقع سے فتویٰ پوچھا جائے کہ ١٩٤٨ء میں کشمیر میں اور ١٩٦٥ء و ١٩٧١ء میں ہندوستان کی افواج کے ساتھ جنگ میں افواجِ پاکستان کے جن بہادر فوجیوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ان کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں۔ کیا ملک کے یہ بہادر سپوت آپ کے خیال شریف میں سرحدوں پر اپنی تنخواہ اور الاؤنس لینے کی لالچ میں گئے تھے اور وہاں ہندوستانی فوج کی بمباری یا گولیوں سے ہلاک ہوگئے اور معاذ اللہ آپ کے بقول حرام موت مرگئے؟ یا آپ ان کی قبروں میں جاکر ان کی نیت معلوم کرکے پھر فتویٰ دیں گے؟ ٥۔ مفتی صاحب کے اپنے اس فتویٰ سے یہ بھی عندیہ ملتا ہے کہ وہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی انتظامیہ کے اس رویہ کے حامی تھے کہ یہاں عسکریت پسندوں کو تربیت دی جائے، اسلحہ کا ذخیرہ کیا جائے، دفاعی مورچہ بنائے جائیں اور اسلحہ کی نہ صرف نمائش کی جائے بلکہ افواجِ پاکستان کے جوانوں کے ساتھ کفار کا سا سلوک کیا جائے اور انہیں مار مار کر جہنم رسید کیا جائے۔ کیوں کہ ہر دہشت گرد یا خود کش بمبار یہی دعویٰ رکھتا ہے بلکہ عقیدہ کا اظہار کرتا ہے کہ ہم اسلامی نظامِ مصطفی کے لیے لوگوں کی جانیں لے رہے ہیں۔ (معاذ اللہ) ٦۔ اگر شیعہ حضرات بھی یہی حرکت کریں جو دیوبندی فرقہ والوں نے لال مسجد میں کی اور مطالبہ کریں کہ فقہ جعفریہ کی شریعت نافذ کی جائے ورنہ بندوق کے زور پر نافذ کریں گے تو اس وقت مفتی صاحب کا فتویٰ کیا ہوگا؟ ٢] ایضاً، ص: ٤٦ ٣] ایضاً ٤] ایضاً، ص: ٣٣ ٥] ایضاً، ص: ٤٢ ٦] ایضاً، ص: ٤٩ ٧] ایضاً، ص: ٤٢، ٨٢، ١٣٩ ٨] ایضاً، ص: ١٤٠ ٩] ایضاً، ص: ٠، ١١ ١٠] (ڈاکٹریٹ مقالہ) قمر النساء، ڈاکٹر، العلامۃ فضلُ حقٍّ الخیر آبادی، مخطوطہ، ص:١٥٢، بحوالہ مولوی اسمٰعیل دہلوی اور تقویت الایمان، ص: ٨٢ ١١] (الف) تاریخِ عجیبیہ، ص: ٨٦، (ب) سیرتِ ثنائی، ص: ٣٧٢ ١٢] (الف) ہفت روزہ المشیر، مراد آباد، ٨/مارچ ١٩٢٥ء، ص:٢، ٧، ٩، کالم (ب) ”مولانا احسن ناناتوی”، ص:٢١٧، (ج) روئداد مدرسہ دیوبند ١٣٣٢ھ، ص:٧، بحوالہ ماہنامہ فیض الاسلام، راولپنڈی، ستمبر ١٩٦٠ء، (د) ماہنامہ ”الولی”، حیدر آباد، سندھ، نومبر، دسمبر ١٩٩١ اور جنوری، فروری ١٩٩٢ء، بحوالہ ”منزل کی تلاش” مصنفہ محمد نجم مصطفائی، ص: ١٠٠ تا ١٠٨ ١٣] منزل کی تلاش، ص: ١٢٦ تا ١٢٩ ١٤] ایضاً، ص:ـ ٥١، ٥٢، ٥٣ ١٥] ایضاً، ص: ٦٢ تا ٦٥ ١٦] ملاحظہ ہو: حیاتِ طیبہ، مصنفہ جعفر تھانیسری، ص: ٣٠٧، بحوالہ ”منزل کی تلاش”، ص: ٤٦، ٥٣ ١٧] منزل کی تلاش، ص: ٢٢٥۔ ٢٢٨ ١] زید ابو الحسن فاروقی مجددی الازہری، مولانا، مولوی اسمٰعیل دہلوی اور تقویت الایمان، ناشر: ضیاء اکیڈمی، کراچی، جنوری ٢٠٠٤ء، ص: ٤٣

 

 

فتنہ طاہریہ

السلام علیکم
محترم حضرات گذشتہ کچھ عرصہ سے فتنہ طاہریہ دوبارہ سے سر اٹھانے کی کوشش کررہا ہے اور الحمد اللہ اہلسنت کے تقریبا تمام فورمز اور بلاگ وغیرہ پر فتنہ طاہریہ کو منہ کی کھانی پڑی کبھی فلاں علماء کا کہتے ہیں کہ اس نے ڈاکٹر پادری کو یوں کہا تھا توکبھی کیاغرض کہیں بھی یہ اپنے آپ کو حلالی ثابت نہ کرسکے ،پھر لاسٹ دنوں میں‌نے دیکھا کہ ورڈ پریس پہ ہی فتنہ طاہریہ نے بلاگ بنایا ہے نام نہادنام اور ایسے جواب دیے گئے جنکا نا منہ ہے نا سرخیرمیری کوشش اور خواہش یہی تھی کہ ان کوجواب یہیں دیا جائے پر شدید تر مصرفیات کہ آج کل تو آن لائن ہی دشوار ہوگیا ہے اسیلیے فقیر نے محترم جناب پاکستانی صاحب ( جوکہ نہایت ہی مخلص اور کافی ایکٹوساتھی ہیں ) ان سے بات چیت کی الحمد اللہ انہوں نے ورڈ پریس پہ ہی
ایک بلاگ بنایاہے جس کالنک لاسٹ میں ہم دیں‌گیں وہاں انشاء اللہ پاکستانی بھائی اپنے خاص اسٹائل میں‌فتنہ طاہریہ کی ہر بات کا جواب دیں گے انشاء اللہ ۔

 

Link 

جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا

اپنی بات

جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا

(”صوفی ازم“ کا فروغ۔ حکومت کا نیا ایجنڈا)

مدیر اعلیٰ صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری کے قلم سے

قارئین کرام!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

            آج کل سلطنتِ خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ”ایوان ہائے قصرِ سلطانی“ کی غلام گردش میں ”صوفی ازم“کے بڑے چرچے سننے میں آرہے ہیں اور یہ کہا جارہا ہے کہ اگر ”صوفی ازم“ کو ایک منصوبہ بندی کے تحت فروغ دینے اور اس کی نشر و اشاعت میں اعانت کی جائے تو پاکستانی قوم کے ذہن اور مزاج سے انتہاپسندی، تشدد، بنیاد پرستی اور دہشت گردی جیسے رجحانات کا ازالہ ممکن ہوسکتا ہے، کیونکہ تصوف لوگوں میں توکل، اخلاقِ حسنہ، محبت، صبر و تحمل، شکر و قناعت، تسلیم و رضا، عجز و انکساری اور شرم و برداشت کا شعور اجاگر کرنا ہے۔ لوگ جب اس روش کو اختیار کریں گے تو ان کی روحانیت میں اضافہ ہوگا جس سے معاشرہ شدت پسندی کے رجحانات سے دور ہوتا چلاجائے گا۔

            ہم اہلِ سنت وجماعت کو فروغِ تصوف کی افادیت سے بالکل انکار نہیں کیونکہ ہم اُمّتِ مسلمہ کا وہ سوادِ اعظم ہیں جو شریعت و طریقت پر مبنی تمام اعمال و عادات و اطوار پر سختی سے عمل پیرا ہیں جو ہمیں اپنے آباءو اجداد اور سلف صالحین سے ملے ہیں اور جو امت کے علماءو فقہا کے ان اجتماعی مسائل سے قطعاً متصادم نہیں ہیں جو کتاب اللہ یعنی ”الکتاب“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنت سے ماخوذ و مستنبط ہیں۔

            علامہ السید یوسف السید ہاشم الرفاعی مدظلہ العالی جو کویت میں سلسلہ رفاعیہ کے عظیم بزرگ ہیں، اپنی کتاب ”التصوف والصوفیائ، فی ضوءالکتاب والسنۃ“(اردو ترجمہ: صوفیا اور تصوف۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں) اپنی کتاب کے مقدمہ میں رقم طراز ہیں کہ ”صوفیہ“ کے اس لقب کا اطلاق آج ان مسلمانوں پر ہوتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت اور اسراءو معراج کی یاد میں جلسے اور اجتماعات منعقد کرتے ہیں۔ اس طرح یہ حضرات عالمِ اسلام میں اپنے اسلاف کرام کے طریقہ پر قائم ہیں یعنی وہ (حضرات) فریضہ حج یا عمرہ کی ادائیگی سے قبل یا بعد مدینہ منورہ میں روضہ نبوی علیٰ صاحبہ التحیۃ والثناءکی زیارت کرتے ہیں۔ اللہ کے ذکر کے لئے تسبیح کا استعمال کرتے ہیں، دمِ مرگ میت کو کلمے کی تلقین کرتے ہیں، وہ عبرت حاصل کرنے کے لئے زیارتِ قبول کرتے ہیں اور قرآنِ کریم پڑھ کر اپنے رشتہ دار اور دیگر مرحومین کے لئے ایصالِ ثواب کرتے ہیں، جیساکہ مسلمانوں کے اکثر شہروں اور ملکوں میں اس کا تعامل ہے۔“

            اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو حضرات ”صوفیائ“ کرام کی طرف منسوب ہیں وہ امتِ مسلمہ کا وہ سوادِ اعظم اور خاموش اکثریتی طبقہ ہیں جو ان دینی اعمال اور مذہبی عادات و اطوار پر سختی سے عمل پیرا ہیں جو انہیں اپنے آباءو اجداد اور اسلاف کرام سے ورثہ میں ملے ہیں اور جو امت کے علماءو فقہا کے ان اجماعی مسائل سے قطعاً متصادم نہیں اور جو اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تنبط ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم

علیکم بالسوادِ اعظم (مشکوٰۃالمصابیح)

(تم پر سوادِ اعظم کی پیروی کرنا لازم ہے۔)

            ہم چودھری شجاعت حسین صاحب، صدر پاکستان مسلم لیگ(ق) کو مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے ”تصوف“ کی راہ و رسم سے بے خبر ہونے کے باوجود مسلمانانِ پاکستان کو ایک دل خوش کن خبر سنائی ہے لیکن ہمیں افسوس ہے کہ جناب چودھری صاحب کا تاریخِ اسلام کا یا تو بالکل مطالعہ نہیں ہے، یا ہے تو سنا سنایا ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ”فرمانِ سلطانی“ کے ذریعہ کبھی بھی تصوف کے معاملات و معمولات کا نفاذ نہیں ہوا ہے۔ ان کی سوچ کا یہ انداز اسلامی تصوف کی تاریخ اور شریعت و طریقت کی روح سے عدم واقفیت کا نتیجہ ہے۔

            اسلامی تصوف دینِ خالص اور اللہ تعالیٰ کے لئے نیت کو خالص کرنے کا نام ہے۔ یہ وہ طریقہ ہے جس پر نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام علیہم الرضوان قائم تھے، پھر اس کے بعد ان کے تربیت یافتہ تابعینِ کرام اور تبع تابعین کرام قائم ہوئے (رضی اللہ تعالیٰ عنہم)۔ یعنی ظاہر و باطن میں دین پر عمل اور دین کے تینوں شعبوں (اسلام، ایمان اور احسان) میں رسوخ اور پختگی، جن کا ذکر اس حدیثِ جبرائیل میں وارد ہے جس کے راوی امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔

            خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مسلمان قرن اول، قرن دوم اور قرن سوم میں اسی حال پر تھے جیسا کہ رسول اللہﷺ کی حدیث مبارکہ میں آیا ہے (یعنی سب سے اچھا زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا جو ان سے قریب ہیں، پھر ان کا جو ان سے قریب ہیں)۔

            قرن سوم کے بعد جب خلفاءراشدین کی برکات اسلامی سلطنت سے ختم ہوگئی، خلافتِ راشدہ کی جگہ ملوکیت و امارت نے لے لی، فتوحاتِ اسلامی کے سبب اسلامی سلطنت کی سرحدیں وسیع تر ہوئیں، مسلمانوں کا غیر مسلموں کے ساتھ اختلاط ہوا تو غیر اسلامی، فلسفہ، اجنبی زبانیں اور رسم و رواج مسلم معاشرہ میں داخل ہوئے تو دینِ اسلام کی حفاظت و صیانت اور اس کی طرف سے دفاع کے لئے تابعین، تبع تابعین اور پھر ان کے تربیت یافتہ باکمال مخلص افراد (عبّاد و زہّاد، فقہاءو صلحائ، محدثین و اتقیاءاور عارف باللہ) اٹھ کھڑے ہوئے تاکہ لوگوں کے سامنے دینِ خالص کو ثابت کریں اور اس حالت کو ثابت کریں جس پر قرنِ اول کے مسلمان قائم تھے یعنی مقامِ احسان میں پختگی اور ظاہر و باطن میں مکمل طور پر دین پر عمل اور یہ اہلِ تصوف تھے۔ اس طرح تصوف کی اصطلاح اس جماعت کا نشان و علم اور شناخت بن گئی جو حق پر قائم تھی اور قیامت تک قائم رہے گی۔

            یہی جماعت اور اس کے افراد ہی روحانیت بانٹ سکتے ہیں اور معاشرے میں روحانی اقدار کو فروغ دے سکتے ہیں۔ سرکاری اور درباری سرپرستی میں یہ نہیں ہوسکتا، نہ ماضی میں کبھی ہوا ہے اور نہ مستقبل میں ہوگا۔

            بہرحال حجت قائم ہے اور وہ قرآن و سنت ہے۔ لہٰذا اب چودھری شجاعت حسین صاحب ہوں یا پرویز الٰہی صاحب یا شیخ رشید صاحب یا اعجاز الحق صاحب یا سرکاری درباری پارٹی کا کوئی اور فرد یہ دعویٰ کرے کہ وہ متبع شریعت صوفی ہے اور ”صوفی ازم“ کے فروغ کے لئے کام کرے گا مگر وہ اپنے اقوال و اعمال و عقائد میں قرآن و سنت کی مخالفت کرے تو اس کا دعویٰ مردود ہے۔

            پھر جو شخص تصوف کا ذوق اور قرآن و حدیث کا بنیاد اور حقیقی علم حاصل کئے بغیر اس سلسلے میں رائے زنی اور اظہارِ خیال کرتا پھرے اور صوفیائے کرام اور اہل اللہ سے کھلے عام بے رغبتی کا بھی اظہار کرے، صوم و صلوٰة کا پابند ہونا ایک طرف منہیات کا کھلم کھلا مرتکب ہو، تاحیات اہلِ اللہ کی صحبت اور وصال شدہ اولیائے کرام کے مزارات پر جانے سے قصداً گریز کرے، بلکہ وہ ایسے لوگوں میں اٹھے بیٹھے اور ان کے جلسوں اور اجتماعات میں جائے جو کھلے ہوئے بدعقیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ اولیائے کرام کے گستاخ ہوں اور وہ ان لوگوں کا مداح ہو کہ جن کی محفلوں میں حضرت سیدنا محی الدین جیلانی غوثِ اعظم، حضرت سیدنا علی بن عثمان ہجویری داتا گنج بخش اور حضرت سیدنا معین چشتی خواجہ غریب نواز (علیہم الرحمۃ) کے نام نامی پکارنا سنگین جرم قرار پائے اور جن کے دارالافتاءسے اس پکار پر شرک کا فتویٰ صادر ہو، راہِ سلوک کی اہم ریاضت ”تصورِ شیخ“ پر اس قدر برہم ہوں کہ حالتِ نماز میں مرشدِ کائنات، ہادیٔ برحق نبی اکرمﷺ کی ذاتِ مقدسہ کا خیال آجانے کو بھی شرکِ جلی قرار دے کر یہ فتویٰ صادر کریں کہ اس سے بہتر ہے کہ نماز میں اپنے پیارے پالتو جانور گائے بیل کا تصور کرکے اپنی نماز ادا کریں اس میں ثواب بھی زیادہ اور لذت بھی زیادہ ہو، تو ایسے افراد کے ”صوفی ازم“ کو فروغ دینے کے اعلان پر یقینا ہر صحیح العقیدہ مسلمان کے کان کھڑے ہونا ایک فطری عمل ہے۔ پھر ایسا شخص اولیاءو صلحاءو ائمہ کے درمیان اپنے آپ کو حکم بنالے اور ان کی حقیقت سے ناواقف ہونے کے باوجود ان کے بارے میں اپنا فیصلہ صادر کرے، قرآن و سنت کی تصریحات و تشریحات کو نہ سمجھتے ہوئے بھی (بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ کلامِ الٰہی کو صحیح تلفظ اور مخرج کے پڑھنے کی اہلیت نہ رکھتے ہوئے بھی) ان کی زبردستی تاویل کرکے خود اس کی مراد تعین کرے اور ہمارے ائمہ کرام علیہم الرحمۃ نے ان کی جو مراد بیان کی ہیں ان سے قصداً صرفِ نظر کرے، اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدوں کو نہ صرف توڑے بلکہ حدود اللہ کے خلاف ایوانِ حکومت میں قانون سازی کروائے، تو یہ اس کے نفس کی خباثت ہے یا جہلِ مرکب یا یہ دونوں ہی باتیں ہیں۔ لہٰذا اسلامی تصوف اور صوفیائے کرام کے بارے میں نہ صرف یہ کہ اس کی بات کا اعتبار نہیں کیا جائے گا بلکہ ہمیں سنجیدگی سے یہ سوچنا پڑے گا کہ یہ “His Maste’s Voice” ہے۔ (یہ کسی بیرونی آقا کی آواز ہے۔) یہ کس کا ایجنڈا ہے؟ انکل سام کا یا من موہن سنگھ کا؟ یا دونوں کا مشترکہ؟ کیونکہ ”صوفی ازم“ کے فروغ کی ایک آواز کچھ عرصہ پہلے دہلی سے اٹھ چکی ہے اور اب چودھری شجاعت حسین صاحب کی آواز اسی کی بازگشت ہے۔ ظاہر ہے کہ جب یہود و ہنود و نصاریٰ کے استعمار کے سرپرست اعلیٰ ”انکل سام“ کی طرف سے اسلام، مسلم ممالک، یا مسلمانوں کی ہمدردی میں کسی نئے پروگرام کا اعلان ہوتا ہے تو وہ یقینا مسلمانوں کے اعمال و افکار کو مزید سیکولر بنانے کے لئے ہوتا ہے۔ ان کے مفاد کے لئے نہیں بلکہ ان کے عذاب کے لئے ہوتا ہے، ان کے اتحاد و اتفاق کے لئے نہیں بلکہ ان میں انتشار و افتراق پیدا کرنے کے لئے ہوتا ہے۔

            لہٰذا ”صوفی ازم“ کے فروغ کا جو نعرہ ایوانِ حکومت کے بعض گماشتوں اور حکمراں جماعت کے بعض سرکردہ لیڈروں نے لگایا ہے اور جس کو وہ صوفی ازم کے فروغ کا ایک ادارہ بناکر عملی جامہ پہنانے کا اعلان الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پر کرچکے ہیں یہ لبرل صوفی ازم یا سیکولر صوفی ازم کا وہی نظریہ ہے جس کی تصویر کشی یورپ کے مستشرقین صلیبی جنگوں کے دور سے کرتے چلے آئے ہیں جو رقص و سرود، ساز و مزامیر، متصوفانہ اشعار کی حیا باختہ گلوکاراؤں کی گائیکی اور گیان دھیان کی صیہونی اور ہندوانہ رسم و رواج اور لہو و لعب سے عبارت ہے۔ مستشرقین نے ”صوفی ازم“ کے اس پہلو پر بہت زور دیا ہے کہ اہلِ تصوف انسانیت نواز ہوتے ہیں، وہ ہر دین و مذہب یعنی کافر و مسلم سے یکساں محبت کرنے والے ہوتے ہیں اور ان کی محفل میں ہر ایک دین و مذہب کا لحاظ و رعایت رکھی جاتی ہے، وہ مذہب کے نام پر کسی کی دل آزاری نہیں کرتے۔ دوسرے الفاظ میں وہ ایک سیکولر معاشرہ جسے ہمارے حکمرانوں بشمول جناب چودھری شجاعت حسین صاحب نے روشن خیالی سے مشرف کیا ہے، کی بنیاد رکھتے ہیں (معاذ اللہ) ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ایک عرب شاعر نے تصوف کی کیا خوب تعریف کی ہے:

لیس التصوف لیس الصوف ترقعہ

ولا بکاؤک ان غنی المغنونا

(تصوف اونی کپڑے یا پیوند لگے ہوئے کپڑے پہننے کا نام نہیں ہے اور نہ ہی اس کا نام ہے کہ گانے والوں کے گائے پر تم آنسو بہاؤ۔)

ان التصوف ان تصفو بلاکدر

وتحفظ العلم والاخلاق والدینا

(تصوف تو یہ کہتا ہے کہ تمارا باطن صاف ستھرا ہو، کوئی گندگی اور کدورت نہ ہو اور یہ کہ تم اپنے علم، اخلاق اور دین کی حفاظت (اور تبلیغ) کرو۔)

لیس التصوف ثوباً انت لابسہ

تزھو بہ بین اصناف الدوانیا

(تصوف کوئی ایسا لباس نہیں جسے تم پہن کر طرح طرح کے لوگوں کے درمیان فخر کرو۔)

بل التصوف ایمان و معرفت

و خدمت لفقیر او لمسکین

(بلکہ تصوف ایمان و معرفت اور فقیر و مسکین کی خدمت کا نام ہے ۔)

وھو التھجد فی اللیل البھیم اذا

نام الانام لیوم الحشر والدین

(اور وہ تاریک رات جبکہ مخلوق سوجائے تو حشر اور روزِ جزا کے لئے تہجد پڑھنا ہے۔)

وھو الجھاد جھاد النفس عن سفہ

وشھوة الاعیب الشیاطین

(اور وہ جہادہے (جہادِ اکبر و جہادِ اصغر) یعنی نفس کے ساتھ جہاد کرنا ہے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے، اور حماقت، شہوت اور شیاطین کے لہو و لعب سے پرہیز کرنا ہے۔)

            اس سے صاف ظاہر ہے کہ اسلامی تصوف کا اس لہوو لعب والے ”صوفی ازم“ سے کوئی تعلق نہیں ہے جو ہمارے حکمران بھلے شاہ، امیر خسرو اور بابا فرید شاہ مٹھن کوٹ والے (علیہم الرحمة) کی کافیاں، دوہے، گیت اور غزلوں کی آڑ میں حیاباختہ نوخیز گلوکاراؤں کی آواز میں ساز و مزامیر کے ساتھ سیکولر صوفی ازم کے شیدائی مرد و زن کی مخلوط مجلسوں میں پیش کررہے ہیں۔

            صوفیائے کرام شریعت و طریقت کے جامع ہوتے ہیں۔ وہ اپنے ظاہر و باطن کی صفائی کے ساتھ ساتھ اپنے علم و اخلاق اور دینِ اسلام کی حفاظت اور نشر و اشاعت کا احسن فریضہ بطریقِ احسن و اکمل انجام دیتے ہیں، یہ صوفیائے کرام ہی تو ہیں جنہوں نے اپنے اخلاقِ عالیہ اور ظاہری و باطنی علوم میں رسوخ کی بناءپر لاکھوں لاکھ غیرمسلموں کو دینِ فطرت اسلام سے ہم آغوش کیا اور اکنافِ عالم میں کفار و مشرکین کے مراکز میں پہنچ کر اسلام کی تبلیغ کی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صوفیائے کرام اور اولیائے عظام نے اپنے اخلاقِ عالیہ، کردار و گفتار اور سادگی و فروتنی کی بدولت لوگوں کے دلوں کو جیتا اور انہیں مشرف بہ اسلام کرکے انہیں آقا و مولیٰ سید عالمﷺ کا جانثار شیدائی بنادیا۔ لیکن جب بھی دنیا کے کسی خطے میں مسلمانوں پر کوئی برا وقت آیا یا اسلامی سلطنت کو کفار و مشرکین کی فوجوں سے کوئی خطرہ درپیش ہوا تو صوفیائے کرام نے اپنے تمام مریدوں اور شاگردوں کے ساتھ جہادِ فی سبیل اللہ میں حصہ لے کر سلطنتِ اسلامی کی سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا ہے اور ان میں بعض نے اس ”جہادِ اصغر“ میں جامِ شہادت بھی نوش کیا ہے۔

            اس کی بے شمار مثالیں تاریخِ اسلام کے اوراق میں رقم شدہ ہیں۔ یہاں ہم صرف ایک مثال پیش کرتے ہیں:

            بعض حضرات خیال کرتے ہیں کہ صوفیائے کرام ہر قیمت پر ظلم کو برداشت کرنے کی تعلیم دیتے ہیں جو سراسر غلط ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صوفی ہر ایک انسان کے ساتھ امن و آتشی چاہتا ہے اور اسی کی تعلیم دیتا ہے کیونکہ وہ اپنے نبی کریمﷺ کے اسوۂ حسنہ کا پیروکار ہوتا ہے۔ وہ ان کی صراطِ مستقیم پر چل کر غیرمسلموں سے بھی حسنِ سلوک سے پیش آتا ہے اس لئے کہ اس کو معلوم ہے کہ نبیِ رحمتﷺ تمام بنی نوع انسان کے لئے نبی بناکر مبعوث کئے گئے ہیں لیکن جب اللہ کی راہ میں جہاد کا وقت آتا ہے وہ سب سے آگے ہوتا ہے۔ صوفی کے لئے مشہور مقولہ ہے کہ وہ رات کے شبِ زندہ دار اور عبادت گذار اور دن کے گھڑسوار مجاہد ہوتے ہیں۔ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمۃ سلسلہ چشتیہ کے عظیم صوفی بزرگ ہیں۔ ان کی تبلیغ سے لاکھوں غیر مسلم اسلام کے دائرے میں داخل ہوئے۔ ان کے صاحبزادے حضرت شیخ نظام الدین شہید علیہ الرحمۃ جو خود بھی صوفی تھے اور علم و فضل میں بڑا مقام رکھتے تھے، جب دین کے لئے جہاد کا وقت آیا تو وہ سب سے آگے تھے اور لڑتے لڑتے جامِ شہادت نوش کیا۔ اسی طرح حضرت فرید الدین گنج شکر علیہ الرحمۃ کے پوتے حضرت شیخ بابا تاج الدین سرور علیہ الرحمۃ بھی اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہوئے۔

            صوفی ازم اللہ کی راہ سے فرار نہیں سکھاتا۔ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرمﷺ کے احکامات پر سختی سے عمل پیرا ہونے اور ان کی راہ میں جان دینا سکھاتا ہے۔ وہ مظلوم کی حمایت اور ظالم کے ساتھ بھلائی کا راستہ اختیار کرنے کا سبق دیتا ہے یعنی ظالم کو ظلم سے روکنا ہی اس کے ساتھ بھلائی ہے۔ شریعت و طریقت عین اسلام ہیں۔ لہٰذا صوفی ازم اسلام سے الگ کوئی چیز نہیں ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو چاہئے کہ غریبوں کے مداوے کے لئے کوششیں کریں، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں، لاقانونیت اور اسٹریٹ کرائمز کو ختم کریں، اللہ کی زمین پر اللہ مالک و مولیٰ نے ان کو جو اقتدار بخشا ہے تو وہ اس خطۂ ارضی پر اس کے قانون کو نافذ کرنے کی کوشش کریں، معاشرے میں عدل و انصاف کے قیام کو یقینی بنائیں۔ کہاگیا ہے کہ صوفی باصفا احسان اور حضورِ قلب سے لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کرتا ہے اور خشیت الٰہی رکھنے والا حاکم عدل و انصاف کے قیام سے۔ امیر المؤمنین حضرت مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم وقت کے حکمرانوں کو خصوصاً اور عامۃ المسلمین کو عموماً مخاطب فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

 ”خدا کے بندو! قبل اس کے کہ میزان (حشر) میں تمہیں تولا جائے، تم خود اپنے تئیں تول لو۔ خود اپنا محاسبہ کرلو قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ (میدانِ حشر میں) کیا جائے۔ رسن گلوگیر (موت) سے پہلے اچھی طرح سانس لے لو (اچھے نیک کام انجام دے لو)، اطاعت شعار بن جاؤ  قبل اس کے کہ عذاب کی سختی تمہیں کھینچ لے جائے۔“    (بحوالہ ماہنامہ ماہِ نور، دسمبر 2006ء، ص:46، دہلی)

            ہمارے حکمراں حدود اللہ کے خلاف قانون سازی کرکے اور سیکولر صوفی ازم (ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، روحانی بھائی بھائی) کی تشہیر و تبلیغ کرکے یقینا اللہ واحد القہار کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں جو ملک اور قوم کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں پناہ میں رکھے۔

             اگر بھارت میں من موہن سنگھ کو مشورہ دیا جارہا ہے کہ صوفی ازم کے فروغ کے لئے وہ روحانی مراکز قائم کریں تو ہمیں ان کی نقل میں صوفی ازم کے فروغ کے لئے وزارتیں اور ادارے قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں عدل و انصاف کے قیام کے ساتھ ان لوگوں کو تقویت دینے کی پالیسی اختیار کرنی چاہئے جو صوفیائے کرام کے قائم کردہ خانقاہی نظام پر یقین رکھتے ہیں اور ان مدارس اور علمائے کرام کی ہمت افزائی کرنی چاہئے جو علومِ اسلامی اور تراثِ اسلامی کے حصہ کے طور پر تصوف کو اپنی مسندوں پر فروغ دے رہے ہیں۔ اسی طرح ان افراد اور اداروں پر کڑی نظر رکھنی چاہئے جو اپنے مسندوں پر صوفیائے کرام کے خلاف توہین آمیز نظریات کو فروغ دے کر تاریخِ اسلام کو مسخ کرنے اور فرقہ واریت اور دہشت گردی کو ہوا دینے کی کوششیں کررہے ہیں۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے نصاب میں صحیح اسلامی تعلیمات اور صوفیائے کرام کے تذکروں اور تعلیمات کو شامل کیا جائے اور خود تصوف کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ جیسا کہ امام احمد رضا اور ان سے قبل کے بزرگ (علیہم الرحمۃ) نے اپنے مدارس کے نصاب میں تصوف کو بھی شامل کر رکھا تھا اور تصوف کی مشہور کتاب رسالۂ ”قشیریہ“ کا باقاعدہ درس دیا جاتا تھا۔

            یادش بخیر آج سے پونے دو سو سال قبل بھی برطانوی سامراج نے غیر منقسم ہندوستان میں اسی طرح کا ایک ایجنڈا دیا تھا لیکن وہ ایجنڈا خانقاہی نظام کو تباہ کرنے، علمائے حق اور صوفیائے باصفا کی عظمت و محبت کو مسلمانوں کے دل سے مٹانے کا ایجنڈا تھا۔ برطانوی سامراج نے مسلمانوں ہی میں سے جبہ و دستار والے نام نہاد علماءتلاش کرلئے تھے، یہ وہ حضرات تھے جن کے ڈانڈے شیخِ نجد کے شاگردوں سے ملتے تھے۔ چنانچہ فورٹ ولیم کالج (کلکتہ) میں باقاعدہ تصنیف و تراجم کا ایک سیل قائم کیا گیا تھا جس میں پچاس روپے ماہوار پر علمائے سوءکو نوکر رکھا گیا اور دل آزار کتاب ”تقویۃ الایمان“ (جسے تفویت الایمان کہنا مناسب ہے) کہ جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے رسول مکرمﷺ، اولیاءاللہ اور اہل ِ تصوف کی شان میں کھل کر گستاخیاں تحریر ہیں، اس کی مفت اشاعت اور تقسیم کا انتظام کیا گیا۔

            سرفراز خاں صاحب اپنی تالیف قصۂ نجد (ص:53) پر رقم طراز ہیں:

            ”ہند میں صوفیائے کرام کے پیروکاروں کوایک دم چیلنج نہیں کیا جاسکتا تھا، اس کے لئے ایک متوازی محاذ قائم کرنے کی ضرورت تھی اور وہ ضرورت سید احمد اور شاہ اسمٰعیل نے پوری کردی۔ برصغیر میں مسلمانوں کی دو بڑی قوتیں شیعہ، سنی لڑبھڑ کر تھک گئے، انہیں مزید لڑانا انگریز کے لئے آسان نہ تھا۔ اس کا بدل نجدیت کو درآمد کرکے ہی ممکن تھا۔“

            یہی نہیں بلکہ بطورِ انعام و نوازشات فرنگی حکومت نے انہیں برطانوی شہریت بھی بخشی، یہی وجہ ہے کہ آج برطانیہ میں زیادہ تر دینی مدارس انہی فرنگی دوست علماءکے تلامذہ یا تلامذة التلامذہ کے قائم کردہ ہیں۔ اس سے ان کے آپس کے ربط کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔

            قارئین کرام! یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ برطانوی استعمار کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جو افراد یا گروہ آلہ کار بنا ان کا تعلق گستاخانِ رسول و اولیاءسے تھا اور آج امریکی استعمار کے تازہ ایجنڈہ شروعی حدود میں ترمیم و تنسیخ اور صوفی ازم کی جدید تشریح و تبلیغ کے لئے جو لوگ آلۂ کار ہیں، ان کی بھی ذہنی ہم آہنگی اسی گروہ کے ساتھ ہے جس کو عرف عام میں وہابی کہا جاتا ہے۔ یہ عوامِ اہلِ سنت کے لئے عموماً اور علماءو مشائخِ اہلِ سنت کے لئے خصوصاً لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر ہم نے اب بھی اپنی صفوں میں اتحاد، یکجہتی، ہم آہنگی اور نظم و ضبط پیدا نہ کیا اور خانقاہی نظام میں در آئی خرابیوں کو درست کرکے اہل حضرات یعنی صاحبانِ علم و معرفت کو مسندِ ارشاد و تبلیغ پر صدر نشین کیا تو نتائج کے ذمہ دار ہم خود ہوں گے۔ دشمنانِ اسلام کا ایجنڈا آپ کے سامنے ہے

ز راہِ میکدہ یاران عنان بگرداند

چرا کہ حافظ ازین راہ رفت مفلس شد

عید الاضحٰی مبارک ہو

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
تمام مسلمانوں کو عید الاضحٰی کی بہت بہت مبارکباد ہو ، دعا ہے اس خوشی بھرے موقع پر اللہ تعالٰی اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حال پر رحم فرمائے اور مسلمانوں کو فتح و نصرت عطا فرمائے آمین یا اللہ تبارک وتعالٰی تمام حجاج کرام کا حج اپنی بارگاہ میں‌قبول فرما ۔ اور جو اس نعمت سے محروم رہے ہیں انہیں یہ نعمت جلد عطا فرما۔ یا اللہ تبارک و تعالٰی ہماری نمازوں کو ہماری قربانی کو اپنی بارگاہ میں‌قبول ومقبول فرما ۔ آمین
ہمارے جتنے بھی مسلمان مرد عورت بوڑھے بچے اس دنیا سے جا چکے ہیں الٰہی سب کی مغفرت فرما ۔ سب کی قبر پر اپنی  رحمت و برکات کا نزول فرما۔ خصوصی طور پر ہمارے نہایت ہی محترم عمر الٰہی صاحب ، حافظ علامہ محمد نواز صاحب ، سیف اللہ خان صاحب ، محترم سعد صاحب وزوجہ ، عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم محترم الحاج شیر محمد صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کے دعا کیجیے اللہ تعالٰی مرحومین کے درجات کو بلند فرمائے آمین
                                            والسلام
                    سلیمان سبحانی و مسز سلیمان سبحانی

علوم قرآن اور ملت اسلامیہ

علوم قرآن اور ملت اسلامیہ

مدیر “معارف رضا”   پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری   کے قلم سے

                        قارئین کرام!

            آیاتِ ربانی و ارشاداتِ حضرت رسولِ گرامی صلی اللہ علیہ وسلم اس ملتِ اسلامیہ کو قرآن مجید کے ساتھ مضبوط وابستگی کا درس دے رہے ہیں، یہ ملتِ اسلامیہ نہ گمراہ ہوگی، نہ مغلوب جب تک اس کتاب اللہ اور صاحبِ کتاب کے دامن کو تھامے رہے گی اور الحمدللہ اس ملتِ اسلامیہ کا وہ سنہرا زمانہ تاریخ میں محفوظ ہے کہ ہند سے لے کر یورپ کے آخری کنارے اسپین تک اسی قرآن و حدیث کے پیروکاروں کی حکومت تھی اور لگ بھگ ایک ہزار برس تک مسلمان مدبر (سائنسدان) پوری دنیا پر چھائے رہے، یہ سب ان کی قرآن مجید سے وابستگی کا نتیجہ تھی۔ جیسے جیسے مسلمانوں نے قرآن مجید کا دامن چھوڑا، علوم و فنون کے دروازے بھی بند ہوتے چلے گئے اور نوبت یہاں تک آپہنچی کہ دنیاوی علوم جو دنیا کی ہزاروں جامعات میں پڑھائے جاتے ہیں وہ سب کے سب غیرمسلموں کی لکھی ہوئی کتابوں کی روشنی میں پڑھائے جاتے ہیں، ان کتابوں میں شاید چند کتابیں مسلمانوں سائنسدانوں کی لکھی ہوئی ہوں گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسلمانوں نے علم حاصل کرنا چھوڑ دیا یا بہت ہی قلیل تعداد دنیاوی علوم حاصل کررہی ہے یا پھر مسلمانوں نے تدبر اور تفکر جیسے اعلیٰ وصف کو ترک کردیا، آیئے اس کا ایک سرسری جائزہ لیتے ہیں۔

            اللہ تعالیٰ کا قرآنِ مجید و فرقانِ حمید میں ارشاد ہے:

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآَنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (النساء:82)

            تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں اور اگر وہ غیر اللہ کے پاس سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت سے اختلاف پاتے۔

            ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

            أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآَنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا  (ص: 29)

            یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقلمند نصیحت مانیں۔

            نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی نے آخری خطبہ (حج) عام میں لگ بھگ ایک لاکھ چوبیس ہزار اصحاب کے سامنے خطاب میں ارشاد فرمایا:

            اولھما کتاب اللہ فیہ الھدی والنور فخذوا بکتاب اللہ واسمتسکوا بہ فحث علی کتاب اللہ ورغب فیہ

            پہلی چیز کتاب اللہ ہے، اس میں ہدایت اور نور ہے تو خدا کی کتاب کو پکڑے رہو اور اسی سے دلیل لیا کرو۔ لوگوں کو کتاب اللہ کی طرف رغبت دلا۔

            ایک مقام پر یوں بھی ارشاد فرمایا:

            لوگو! کتاب اللہ کو پکڑے رہو، جب تک اس کتاب اللہ کو پکڑے رہو گے، گمراہ نہ ہوگے۔

            حضرت امام عبد الرحمن السیوطی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد گرامی ہے:

            کائنات میں کوئی ایسی چیز نہیں جس کا استخراج اور استنباط آپ قرآن کریم سے نہ کرسکیں لیکن یہ علوم و معارف اس پرآشکار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے فہم عطا فرمایا ہے۔

            نبی کریم نے ظاہری دنیا سے پردہ فرماتے وقت ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زیادہ صحابہ کرام کا گروہ رہتی دنیا تک کی تعلیم و تربیت کے لئے اپنے پیچھے چھوڑا۔ یہ سب کے سب ہدایت کے نور تھے۔ کیوں؟ اس لئے کہ یہ سب پورے قرآن مجید کے عامل اور حضور کی تمام احادیث کے مکمل پیروکار تھے۔ چنانچہ تمام صحابہ کرام عملاً سرچشمہ ہدایت تھے اور انہوں نے یہ نور اپنی next generation تابعین میں پورا پورا منتقل کیا اور تابعین کے گروہ نے تبع تابعین میں یہ قرآن و حدیث کا ذخیرہ منتقل کیا اور یہ سلسلہ صدیوں چلتا رہا۔ احقر یہاں سیاسی، مولی معاملات پر بحث نہیں کرے گا مگر اس بات کی نشاندہی ضرور کرے گا کہ لگ بھگ قرآن مجید کے نزول کے ایک ہزار برس تک مسلمانوں میں قرآن مجید سے تفکر و تدبیر کا رشتہ قائم رہا اور جب تک یہ سلسلہ قائم رہا۔ مسلمان دنیاوی علوم پر بھی دنیا میں غالب رہے اور نئی نئی ایجادات کا سلسلہ جاری رہا ہے لیکن جب غیر مسلموں نے دنیاوی علوم میں مسلمانوں کا مقابلہ شروع کیا تو مسلمانوں نے نہ جانے کیوں ہتھیار ڈالنا شروع کردیئے اور آہستہ آہستہ غیر مسلم سائنسدان غالب ہوتے چلے گئے اور اب حال یہ ہے کہ آج ہم صحابہ کرام کے دور کے مقابلہ میں کم از کم 2000 گنا تعداد میں زیادہ ہیں مگر قرآن مجید کی روشنی میں دنیاوی علوم و فنون کا مقابلہ کرنے والے شاید دورِ حاضر میں ایک بھی جید مسلمان سائنسدان نہیں ہے۔ افسوس کہ قرآن مجید بار بار نشاندہی فرماتا ہے:

مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ (الانعام:38)

ہم نے اس کتاب میں کچھ اٹھا نہ رکھا۔

We have left out nothing in the Book.

وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ  (النحل:89)

اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے۔

And we have sent down this Quran on You in which, everything (knowledge) is clearly explained.

وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ (الانعام:59)

اور نہ کوئی تر اور نہ خشک جو ایک روشن کتاب میں لکھا نہ ہو۔

And nor anything wet or nor dry which is not written in a luminous book.

            قارئین کرام! آیئے تاریخ کے صفحات کو الٹتے ہیں، دیکھئے کیا شاندار ماضی ہے ہمارے مسلمان سائنسدانوں کا۔۔۔

مسلمان سائنسدانوں کی خدمات کا انتہائی سرسری جائزہ:

1۔         ابو اسحاق ابراہیم بن جندب (م 157ھ/ 776ء)

            دور بین کا موجد

2۔         جابر بن حیان (م 198ھ/ 817ء)

            علمِ کیمیا کا بانی اور کئی مرکبات کا موجد

3۔         عبد المالک اصمعی (م 213ھ/ 831ء)

            علمِ حیوانات، نباتیات کی ابتدائی 5 کتابوں کا مصنف

4۔         حکیم یحییٰ منصور (م 214ھ/ 832ء)

            دنیا کی پہلی observatory کا صدر اور فلکیاتی جدول کا بانی/ موجد

5۔         محمد بن موسیٰ خوارزمی (م 232ھ/ 850ء)

            الجبرا کا موجد اور الجبرا و حساب کی کتابوں کامصنف

6۔         احمد بن موسیٰ شاکر (م 240ھ/ 850ء)

            پہلا Mechanical Eng. اور اس موضوع پر پہلی کتاب کا مصنف

7۔         ابو عباس احمد محمد کثیر (م 243ھ/ 861ء)

            زمین کا صحیح محیط Circumferences معلوم کرنے والا پہلا سائنسدان

8۔         ابو یوسف یعقوب بن اسحاق کندی (م 254ھ/ 873ء)

            پہلا مسلم فلسفی

9۔         محمد ذکریا رازی (م 308ھ…. 932ء)

            طب کا امام، میزانِ طبعی اور الکحل کا خالق

10۔       حکیم ابو نصر محمد بن فارابی (م 338ھ/ 961ء)

            علمِ نفسیات کا عظیم ماہر

11۔       ابو علی حسن ابن الہیثم (م 410ھ/ 1021ء)

            کیمرہ کا موجد، آنکھ کی پتلی کا محقق، انعطاف نور کے نظریہ کا ماہر

12۔       احمد بن محمد علی مکویہ (م 421ھ/ 1032ء)

            نباتیات، حیوانات کا ماہر، دماغی ارتقاءکی دریافت کرنے والا

13۔       شیخ حسین عبد اللہ بن علی سینا (م 428ھ/ 1039ء)

            علمِ طبیعیات، علم الامراض، الادویہ کے فنون کا موجد، سب سے زیادہ کتابوں کا مصنف

14۔       ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی (م 439ھ/ 1049ء)

            پہلا جغرافیہ داں، ماہر آثارِ قدیمہ و ارضیات، دھاتوں کی کثافت کا موجد، برصغیر کا پہلا مورخ

15۔       امام محمد غزالی (م 505ھ/ 1111ء)

            جدید فلسفہ اخلاق کا موجد، نفسیات اور فلسفہ کا عظیم محقق

16۔       امام احمد رضا خاں بریلوی (م 1340ھ/ 1921ء)

تمام ہی تمام دنیاوی علوم و فنون کا ماہر، خاص کر ہیئت، حساب، ٹگنومیٹری، فلسفہ، ارضیات، فلکیات، اقتصادیات، معاشیات، عمرانیات، سیاسیات وغیرہا۔

            دورِ حاضر کے مسلمانوں کا قرآن کریم سے جو رشتہ کمزور ہوگیا تو اس کو ان اشعار میں آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے:

درسِ قرآن نہ اگر ہم نے بھلایا ہوتا                             یہ زمانہ نہ زمانے نہ دکھایا ہوتا

ہم نے قرآن کو مسلک جو بنایا ہوتا                           قوم کے خفیہ نصیبوں کو جگایا ہوتا

چاٹ لیں تم نے کتب فلسفہ و منطق کی                     ہاتھ بھولے سے بھی قرآں کو لگایا ہوتا

لائی ہر ڈاک، تِرے واسطے لندن سے کتاب                   گھر سے ہمسائے کے قرآن بھی منگایا ہوتا

وہ جو انجیل یہاں تجھ کو سنانے آئے                         تُونے قرآن وہاں جاکے سنایا ہوتا

قوم کے درد کا درماں ہے تو ہے قرآن                            مفلسی میں کوئی ساماں ہے تو ہے قرآن

            قارئین کرام! راقم نے یہاں چند قرآنی آیات عنوانات کے تحت درج کی ہیں تاکہ ہم اس بات کا احساس کرلیں کہ ہماری یہ کتابِ مبین ہمیں ہر علم کےبارے میں ہدایت فراہم کررہی ہے۔ آیئے چند آیات اور ان کا ترجمہ ملاحظہ کریں۔

القرآن:    كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آَيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (ص: 29)

            یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقلمند نصیحت مانیں۔

We have sent down a Book to you that is blessed, so prudent men may ponder over its verses and therebye be reminded.

القرآن:   إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآَيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ O الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ O  (اٰلِ عمران: 190-191)

            بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لئے۔ جو لوگ اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں، اے رب ہمارے تُونے یہ بیکار نہ بنایا۔

In the Creation of Heavens and Earth and the atternation between night and day light, there are signs for prudent persons who remember Allah while standing, sitting and lying on their sides, and mediate on the creation of Heaven and Earth (by saying) Our Lord, You have not created this in vain. Glory be to You, shield us from tormont of fire.

القرآن:   وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ   (الانعام: 59)

            اور اسی کے پاس ہیں کنجیاں غیب کی، انہیں وہی جانتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ خشکی اور تری میں ہے اور جو پتا گرتا ہے وہ اسے جانتا ہے اور کوئی دانہ نہیں زمین کی اندھیریوں میں اور نہ کوئی تر اور نہ خشک جو ایک روشن کتاب میں لکھا نہ ہو۔

He holds the keys to the Unseen, Only He knows them! He known whatever exists on the land and at sea; No leaf drops down unless He knows it, And there is no grain in the darkness of the Earth, and nor anything wet and nor dry which is not written in luminous Books.

پیدائشِ کائنات

القرآن:   الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ  (الفرقان: 95)

            جس نے آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استویٰ فرمایا (جیسا اس کی شان کے لائق ہے)

He is the one who created Heaven and the Earth as wel as whatever lies in between them, in six days.

علمِ ارضیات

القرآن:   وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا O  أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءَهَا وَمَرْعَاهَا O وَالْجِبَالَ أَرْسَاهَا O (النزعت:30-32)

            اور اس کے بعد زمین پھیلائی۔ اس میں سے اس کا پانی اور پارہ نکالا۔ اور پہاڑوں کو لبھایا۔

And after that He spread out the Earth. He brought forth there from its water and its pasture. And set firmly the mountains.

علمِ نباتات

القرآن: وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَهَّاجًا O وَأَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَاءً ثَجَّاجًا O لِنُخْرِجَ بِهِ حَبًّا وَنَبَاتًاO (النباء:13-15)

            اور ان میں ایک نہایت چمکتا چراغ رکھا اور پھر بدلیوں سے زور کا پانی اتارا کہ اس سے پیدا فرمائیں اناج اور سبزہ۔

And set a bleezing lamp (Source of Energy and light) there. And send down torrentail rains through (heavy and dark) clouds. So We may (crops out) produce grain and vegitation.

القرآن:  وَاللَّهُ أَنْبَتَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا O  ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا O  (نوح:17-18)

اور اللہ نے نہیں سبزے کی طرح زمین سے اگایا۔ پھر تمہیں اس میں لے جائے گا اور دوبارہ نکالے گا۔

Allah makes you grow out of the Earth like Plants. Later He will return you to it and bring you forth once more.

علمِ حیوانات

القرآن:   وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً نُسْقِيكُمْ مِمَّا فِي بُطُونِهِ مِنْ بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِلشَّارِبِينَ

 (النحل: 66)

            اور بے شک تمہارے لئے چوپایوں میں نگاہ حاصل ہونے کی جگہ ہے۔ ہم تمہیں پلاتے اس چیز میں سے جو ان کے پیٹ میں ہے گوبر اور خون کے بیچ میں سے خالص دودھ گلے سے سہل اترتا پینے والوں کے لئے۔

You have a lesson livestock (Cattle) [Have you think over it] How we let you drinks of milk that comes from (extracted or sringed from) bellies in between the cud (dung) and blood pure refreshing milk easy to swallow for those whodrink it.

چاند سورج کی حرکات

القرآن:    وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى ط۔۔۔ (الرعد:2، الزمر: 5)

            وَقَدَّرَ مَنَازِلَ   (یونس:5)

            سورج اور چاند کو مسخر کیا، ہر ایک، ایک پڑائے ہوئے وعدے تک چلتا ہے۔

            اور اس کی کے لئے منزلیں ٹھہرائیں۔

Made the moon and sun sbservient. Each one runs (move in an orbit) to a term stated [completing their movements or rotation in their orbits in fixed time daily, yearly].

سکونتِ آسمان و زمین

القرآن:  إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا وَلَئِنْ زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ  ۔۔۔ (فاطر:41)

            بے شک اللہ روکے ہوئے آسمانوں اور زمین کو کہ جنبش نہ کریں اور اگر وہ ہٹ جائیں تو انہیں کون روکے اللہ کے سوا۔

Allah has definitely withhold the heavens and the Earth, Lest they move. If either should slip or move out of place (static position) no one else would hold on to them beside him Allah.

پیدائشِ انسان

القرآن:   فَإِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ تُرَابٍ  (الحج:5)   ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔    Sticky cloy, ringing cloy

القرآن: خلقکم من طین  (الانعام:2)     تمہیں (باریک) مٹی سے پیدا کیا۔    dust/soil, mud clay sond.

القرآن: خلقنھم من طین الاذب (الصفت:11)

چپکتی مٹی سے بنایا۔  We first created you from black smelling mud, extract of clay.

            قارئین کرام! آپ نے ملاحظہ کیا۔ ہماری یہ کتاب قرآن مجید صرف نماز، روزے کے مسائل تک محدود نہیں بلکہ اس کائنات کے اندر موجود تمام اصول و ضوابط کی نشاندہی کرتی ہے، اب اسے آگے بڑھانا ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ ان آیات کے اصول پر تفکر اور تدبر کرے اور اپنے سائنسی علوم کو آگے بڑھانے کے لئے صرف اور صرف قرآن و حدیث کے اصول کو حقیقی اور صحیح جانے اور دنیا کو ایک دفعہ پھر بتائے کہ وہی اصولِ صحیحہ تسلیم کیا جائے گا جو قرآنی اصول کے مطابق ہوگا اگر ہم دورِ حاضر میں کسی مسلمان سائنسدان کو قرآن و حدیث کا عالم نہ پاسکیں تو ماضی قریب میں نظر میں دوڑائیں تو آپ کو 100 سال قبل صرف اور صرف امام احمد رضا قادری برکاتی محدث بریلوی نظر آئیں گے جو ایک طرف مجدد، مجتہد و فقیہہ ہیں تو دوسری طرف طرف ایک عظیم سائنسدان جو سائنس کے کسی ایک علم پر نہیں بلکہ سائنس کے تمام علوم مثلاً علم ہیئت، فلکیات، حساب، الجبرا، ٹگنومیٹری، علمِ نجوم، علمِ کیمیا، ارضیات، حجریات، وغیرہ۔۔ اسی طرح سوشل سائنس کے علوم، سیاسیات، عمرانیات، فلسفہ، نفسیات، اقتصادیات، معاشیات، غرض یہ کہ تمام ہی تمام علوم و فنون جو ان کے دور کے تھے۔ سب پر نہ صرف عبور رکھتے تھے بلکہ ان پر کتابیں اور مقالات یادگار چھوڑے ہیں جن کی تعداد 250 سے زیادہ ہے اور یہ رسائل اردو، فارسی اور عربی تینوں زبانوں میں تحریر کئے گئے ہیں۔ احقر پوری ملتِ اسلامیہ کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہے کہ ہم مسلمان بالعموم اور دور جدید کے علوم پڑھے ہوئے مسلمان بالخصوص اپنے فرقہ وارانہ معاملات کو ایک طرف رکھیں اور سب کے سب متحد ہوکر مل جل کر قرآن کریم کی ان آیات بینات پر خاص کر غور و فکر کریں جو ہمیں جدید علوم کی طرف رہنمائی کریں اور ہم مغرب اور غیرمسلموں کی تھیوری اور قوانین کے بجائے قرآن و حدیث کی اصول کی روشنی میں قوانین وضع کریں اور ان کو آگے بڑھائیں اور جو قوانین دورِ حاضر کی سائنسی علوم کے قرآن و حدیث سے متضاد ہیں، ان کا حل ہم قرآنی اصول سے مہیا کریں۔

            قرآن کریم کی ان آیات و بینات کی تفصیل سمجھنے کے لئے جس کا تعلق دورِ جدید کی سائنسی علوم سے امام احمد رضا کی کتب اور مقالات تفصیل سے پڑھنے کی ضرورت ہے کیونکہ امام احمد رضا نے دورِ جدید کے علوم سے متعلق اتنا کچھ لکھ دیا ہے کہ اگر ہم مسلمان ان کی تعلیمات کو مطالعہ کریں تو ہم دورِ حاضر کی جدید علوم کی دور میں اپنا انفرادی مقام حاصل کرسکتے ہیں۔ یاد رکھئے ترقی اس بات کا نام نہیں کہ آپ دوسروں کی ٹکنالوجی کو اپنے ملک میں لے آئیں اور اس سے Product حاصل کریں یوں تو ہم نے ان کی تعلیمات کو 100 فیصد قبول کرلیا۔ ترقی کی دوڑ میں ہم اس وقت شامل سمجھے جائیں گے جب ہم اپنی تھیوری اور اپنی ٹکنا لوجی دوسروں کے سامنے پیش کریں ۔ہم مسلمانوں نے تو بالکل ہتھیار ڈال دئیے ہیں جو کچھ باہر کتابوں میں پڑھایا جاتاہے جوکچھ سکھایا جاتا ہے ہم من و عن اسے قبول کرلیتے ہیں اور جب وہ تھیوری غلط ہوجاتی ہے تو ہم بھی اس کو ٹھکرادیتے ہیں صرف ایک مثال دے رہاہوں ۔ مثلاً

            آج سے چند سال پہلے تک دور حاضر کے سائنسدانوں کی تحقیق یہ سامنے آئی کہ ماں کے دودھ کے بجائے پاڈر کا دودھ بچے کو پلائیں تو اس سے بچے کی نشوونما تیزہوگی اور عورت کی صحت پر کوئی اثر نہ پڑے گا اور دودھ پلانے سے عورت کا جسم بے ڈھنگا ہوجاتا ہے اس کی صحت بھی خراب ہوجاتی ہے اس کو ہمارے ملک میں بھی شدت کے ساتھ مشتہر کیا گیا T.V پر اشتہار اس قسم کے آنے لگے کہ ماں نے اپنے بچوں کو دودھ پلانا چھوڑ دیا۔ جب اس پر عمل درآمد کیا گیا تو عورتوں کو کثرت سے سینہ کا کینسر ہونے لگا اب سائنسدانوں نے اپنی تھیوری بدلی اور دوبارہ اس طرف آگئے کہ ماں کا دودھ بچے کے لئے انتہائی مفید ہے اور دوسال تک ماں بچے کو دودھ پلائے ۔ ہمارے کسی مسلم ملک کے کسی مسلمان سائنسدان نے قرآن وحدیث کی روشنی میں دنیا کو یہ باور نہ کردیا کہ نہیں جب ہمارا قرآن بچے کی پرورش کے لئے ماں کے دودھ کو لازم قرار دے رہا ہے اور دوسال تک پلانے کی اجازت دے رہا ہے تو پھر کیونکر بچے یا ماں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے لیکن افسوس کہ مسلمانوں کے مغرب زدہ طبقہ نے مغرب کو معاذ اللہ خدا مان لیا ہے جو وہ کہتا ہے ہم اسی کو حق تسلیم کرتے ہیں۔

            قارئین کرام! ملت اسلامیہ اس وقت تباہی کے بالکل آخری کنارے پر پہنچ گئی ہے ہم مسلمان دنیا کی دہشت گرد قوم قراد دیئے جاچکے ہیں ، دنیا کی ترقی میں بحیثیت ملت قوم مسلمانوں کا 5 فیصد حصہ بھی نظر نہیں آتا۔ 65اسلامی ملکوں کے باوجود دنیا کے علوم فنون میں ہماری 65 تھیوریز بھی رائج نہیں ہیں سوچئے اس کا حل کیا ہے؟ اس کا حل صرف اور صرف یہ ہے کہ فرقہ وارانہ باتوں کو ایک کونے میں ڈالیں قرآن کے دامن کو مضبوطی سے تھامیں اور اس قرآن کی مکمل تعلیم جامعات میں دی جائے خاص کر ان آیات بینات کی جو علوم وفنون کے اصول سے تعلق رکھتی ہیں امام احمدرضا کی کتب اور رسائل کو جلد از جلد عام کیا جائے اور ان سے استفادہ کیا جائے اور ملت اسلامیہ اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگادے ان شاءاللہ کامیابی ہمارے قدم چومے گی ۔

طریقہ احمد مرسل پہ مجھکو استقامت دے

میرے سینے میں یارب حکمت قرآن عطافرما