لاہور: جامعہ نعیمیہ میں خودکش حملہ ،ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید

لاہور . . . لاہور میں گڑھی شاہو کے علاقے میں جامعہ نعیمیہ میں نماز جمعہ کے اختتام کے بعد ہونے والے خودکش حملے میں جامعہ نعیمیہ کے مہتمم اعلیٰ ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی سمیت چار افراد شہید جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق جامعہ نعیمیہ میں نماز جمعہ کے اختتام کے بعد ڈاکٹر سرفراز نعیمی مسجدسے ملحقہ اپنے دفتر میں لوگوں سے مل رہے تھے کہ اسی اثناء میں ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ مولانا سرفرار نعیمی کو تشویشناک حالت میں اسپتال لے جایا جارہا تھا کہ تاہم وہ راستے میں ہی اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔شہید ہونے والوں میں سرفراز نعیمی کے معتمد ڈاکٹر خلیل بھی شامل ہیں۔ دھماکے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ۔جبکہ ایمبولینسوں کے ذریعے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔دھماکے سے قریب کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جبکہ اس وقت نمازیوں کی بڑی تعدادمسجد میں موجود تھی۔لاہور کے اسپتالوں کے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے ۔ڈی سی او لاہور سجاد بھٹہ کے مطابق ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی کی شہادت ٹارگٹ کلنگ کا نتیجہ ہے،ان کا کہنا تھا کہ مولانا سرفراز نعیمی کو مناسب سکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔

اہل سنت جماعتوں نے صوفی محمد کو شریعت اور آئین کا باغی قرار دے دیا

راول پنڈی . . . . . . اہل سنت جماعتوں نے تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کو شریعت اور آئین کا باغی قرار دیتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ شدت پسندوں اور دہشت گردوں سے مرعوب ہوئے بغیر پورے ملک میں اپنی رٹ قائم کرے۔ راول پنڈی میں اہل سنت جماعتوں کا استحکام پاکستان کنونشن ہوا۔ کنونشن کے اختتام پر جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ شریعت کے نام پر پاکستانی مسلمانوں کا قتل، مزارات کا انہدام اور علما کی بے حرمتی شدید مذمت کے قابل ہیں ۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ تمام اہلسنت جماعتوں کی قیادت مستعفی ہوکر ایک مرکزی قیادت میں اکھٹی ہوجائے ۔ اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ فوج، سپریم کورٹ اور پارلے منٹ ، آئین کے تحفظ اور تقدس کی ذمہ داری پورا کریں۔اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ سوات میں کارروائیاں تاریخ کے بدترین خوارج کی ذہنیت کی عکاس ہیں۔ اس سے پہلے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے علما کرام کا کہنا تھا کہ صوفی محمد شریعت کے باغی اور آئین کے غدار ہیں ان کو سزا دی جائے اور ان کو ہیرو بنا کر پیش نہ کیا جائے۔ علما نے اپیل کی کہ تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اختلافات بھلا کر ملک کو بچانے کی کوشش کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سوات کے حالات پر جماعت اہلسنت کی جانب سے متفقہ موقف سامنے آنا چاہیے اور تمام جماعتیں متفقہ طور پر پاکستان بچاؤ کنونشن منعقد کریں ۔

اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی کسی نئے فرقے کے بانی نہیں، علامہ کوکب اوکاڑوی

مولانا اوکاڑوی اکادمی (العالمی) کے سربراہ خطیب ملت علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی نے کہا ہے کہ اعلیٰ حضرات امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضا خان بریلوی  اسلام اور ملت اسلامیہ کے محسن اور چودہویں صدی ہجری میں مجدداعظم شمار ہوئے ہیں اور ان کی علمی فقہی عظمت کا اعتراف سمتوں میں اپنوں بیگانوں نے کیا ہے، اُنہوں نے ہرگز کوئی نئے عقائد وضع نہیں کیے نہ ہی وہ کسی نئے فرقے کے بانی ہیں بلکہ اُنہوں نے کتاب و سنت کی صحیح ترجمانی کرتے ہوئے اہل سنت و جماعت کی اس دور میں صحیح پاس بانی کی ہے جب کہ دین فروش اور ابن الوقت لوگ دین کو بدلنا چاہ رہے تھے، علامہ اوکاڑوی  نے کہا کہ بریلوی ہرگز کوئی فرق نہیں بلکہ اہل سنت کی صحیح پہچان کا عنوان ہے اور اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمتہ اللہ علیہ کی نسبت سے یہی ظاہر کیا جاتا ہے کہ بریلوی وہ سنی ہیں جن کے عقائد کی ترجمانی اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان نے کی ہے، علامہ اوکاڑوی نے کہا کہ اعلیٰ حضرت بریلوی کی ایک ہزار سے زائد کتب اور ان کی تعلیمات و تحریرات موجود ہیں اور ان میں کتاب و سنت کے خلاف یا ان سے متضاد کوئی بات پیش نہیں کی جا سکی ہے بلکہ ان کے مخالفین نے بھی انہیں سچا عاشق رسول اور عالم حق تسلیم کیا ہے، علامہ اوکاڑوی نے جیو ٹی وی کے پروگرام ”میرے مطابق “ میں ڈاکٹر اسرار کی زبانی کہے گئے ان جملوں پر شدید احتجاج کیا ہے جن میں اُنہوں نے اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے بارے میں نامناسب الفاظ و انداز اختیار کیا اُنہوں نے کہا کہ اس پروگرام میں صحیح العقیدہ اہل سنت و جماعت بریلوی کا غلط تعارف پیش کرنے کی سازش کی گئی ہے جو قابل مذمت ہے۔

اسلام طاقت سے نہیں پھیلا،صوفی محمد کا پیش کردہ نظام عدل بطور شریعت قبول نہیں، علمائے کرام

مرکزی جماعت اہلسنت برطانیہ و یورپ کے رہنماؤں اور سواد اعظم اہلسنت والجماعت کے ممتاز علمائے کرام نے کہا ہے کہ سوات میں صوفی محمد کی پیش کردہ شریعت کا شریعت محمدی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ صوفی محمد نے نظام عدل کے نام سے جو شرعی خاکہ پیش کیا ہے اس کی عمر صرف 80 سال کے لگ بھگ ہے جو سعودی عرب کے محمد بن عبدالوہاب کی تخلیق ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک نام نہاد نظام عدل کو شریعت کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ شریعت میں نظام اخلاق، نظام معیشت، نظام معاشرت اور زندگی کے دیگر تمام شعبوں کے بارے میں بہترین نقطہ نظر، ہدایات اور اصول موجود ہونے چاہئیں اور ان پر علمائے کرام کا مکمل اعتماد اور رہنمائی شامل ہونی چاہئے۔ مرکزی جماعت اہلسنت کے مرکزی رہنما اور محقق علامہ احمد نثار بیگ قادری نے جنگ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ شریعت محمدی تو وہ عظیم نظام ہے جس کو عام کرنے کے لیے ڈنڈے یا تلوار کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر، افغانستان اور وسطی ایشیا میں اسلام صرف اور صرف اولیا اللہ، صوفیائے کرام اور اللہ کے فقیروں اور درویشوں کے طفیل پھیل ہے اور انہی ہستیوں کے صدقے میں ہم آج مسلمان ہیں اور ان صوفیا اور اولیا اللہ کا طریقہ تبلیغ صرف کردار کی سچائی، عمل، محبت و رواداری تھی۔ مرکزی جماعت اہلسنت والجماعت کے سابق صدر صاحبزادہ پیر مزمل شاہ جماعتی نے کہا کہ پاکستان سترہ کروڑ عوام کا ملک ہے جس میں خدا کے فضل و کرم سے اہلسنت والجماعت عظیم اکثریت سے آباد ہیں یہی وہ مسلمان ہیں جو نظام مصطفی اور مقام مصطفی کے علمبردار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سنی عوام کسی ایسے شخص کی بیان کردہ شریعت کو نہیں مانتے جو اولیا اللہ سے عقیدت اور محبت کی بجائے ان کے مزارات مبارکہ پر حملے کرواتا رہے۔ انہوں نے کہا کہ 1973ء کے آئین میں تمام مکاتب فکر اور جماعتوں کی رضامندی اور اعتماد شامل ہے لیکن سوات والے تو 1973ء کے آئین کے بھی منکر ہیں۔ جماعت کے جنرل سیکرٹری صاحبزادہ سید منور حسین شاہ بخاری نے کہا کہ اہلسنت والجماعت اور ملک بھر کے عوام کے پاس امیر ملت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پور شریف جیسی معتبر ہستی موجود ہے جنہوں نے قائداعظم کاکھل کر ساتھ دیا لیکن وہ لوگ جو اس وقت دن رات پاکستان کے قیام کی مخالفت کرتے تھے وہ آج پاکستان میں اپنی پسند کی شریعت کیسے چلا سکتے ہیں۔ سابق صدر علامہ حافظ فضل احمد قادری نے کہا کہ دین دراصل دنیاوی طاقت اور قوت کا محتاج نہیں ہے کیونکہ دنیاوی طاقت اور قوت آنی جانی چیزیں ہیں اصل طاقت قوت ایمان ہے جس سے دنیاوی طاقتیں خوف کھاتی ہیں اس لئے جو لوگ ڈنڈے اور بندوق کے زور پر لوگوں کو ڈرا دھمکا کر اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دین جب کسی میں داخل ہو جاتا ہے تو اس کے لیے دنیا کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ حضور کے دور میں صرف ایک شخص پر حد نافذ ہوئی اور اس مقدمے میں کوئی گواہ نہ تھا لیکن جس صحابی سے غلطی سرزد ہوئی انہوں نے خود رسول اکرم کے سامنے پیش ہو کر اعتراف جرم کر لیا۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ دین اور شریعت کو دلوں میں اتارا جائے ڈنڈے اور گولی سے ہم لوگوں کے جسم اور دھڑ تو قابو کر سکتے ہیں لیکن ان کے دل، دماغ اور ضمیر قابو نہیں کئے جا سکتے۔ مرکزی جماعت کے بانی رہنما سید زاہد حسین شاہ رضوی نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ نہ صرف سوات بلکہ پورے ملک میں عدل و انصاف کو یقینی بنائے کیونکہ یہ کام صرف حکومت کر سکتی ہے اور کوشش کرے کہ اسلامی اور شرعی قوانین کے متصادم کوئی قانون اور شق موجود نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کبھی ہو ہی نہیں سکتا کہ حکومت پاکستانیوں کی ہو اور طاقت فوج، پولیس، ایجنسیوں یا حکومتی اداروں کے پاس ہو اور کوئی دوسرا سوات یا کسی قبائلی علاقے سے اٹھ کر اپنے لشکر کے ساتھ اپنی پسند کی شریعت نافذ کرلے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمزوری حکومت وقت کی ہے حکومت کو چاہئے کہ وہ اس صورتحال پر جلد از جلد قابو پائے اور تمام مکاتب اور جماعتوں کو اعتماد میں لے۔ علامہ پروفیسر سید احمد شاہ ترمذی نے کہا کہ قیام پاکستان کے موقع پر بھی کچھ گروہ اور جماعتیں خلافت اور پورے ہندوستان پر حکومت بحال کرانے پر بضد تھیں لیکن اس وقت اگر علامہ محمد اقبال، بابائے قوم قائداعظم اور پاکستان کے مشائخ، عظام، اولیا اور صوفیائے کرام کی فکر کامیاب نہ ہوتی تو خدانخواستہ پاکستان قائم ہی نہ ہوتا اور آج ہم بھارت میں ٹھوکریں کھا رہے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ صوفی محمد کی شریعت کسی کو بھی قبول نہیں ہے کیونکہ نہ وہ خود شریعت کا علم رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کا طریق کار درست ہے۔ حافظ محمد صادق ضیاء، حافظ نعمت علی چشتی، قاری محمد سرور نقشبندی نے بھی سوات میں حکومت کے معاہدے کی مذمت کی اور صوفی محمد کے نظام عال کو ایک ناقص اور ناقابل قبول نظام قرار دیتے ہوئے حکومت سے فوری مداخلت اور دیگر مکاتب فکر سے رابطے کی اپیل کی۔

مانچسٹر: جمعیت علمائے پاکستان کا اجلاس‘ سوات صورتحال پر اظہار تشویش

مرکزی جمعیت علمائے پاکستان (یو کے برانچ) کا اجلاس زیر صدارت علامہ سید زاہد حسین رضوی منعقد ہوا۔ صدر جمعیت نے مالا کنڈ ڈویژن میں نظام عدل ریگولیشن کے نفاذ اور سوات و علاقہ دیر میں پاکستانی طالبان کی دہشتگردی اور انسانیت سوز واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے اجلاس کو بتایا کہ ان علاقوں میں بائیس سے زیادہ پیران طریقت اور ان کے مریدین کو طالبان نے اپنی بربریت کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کردیا۔ پیر بابا بنیر شریف حضرت سید علی ترمذی کے مزار شریف کے علاوہ درجنوں دوسرے مزارات میں توڑ پھوڑ کرکے تالہ بندی کی۔ کئی مزارات کو دھماکوں سے اڑا دیا۔ اہلسنّت کے بہت سے دینی مدارس پر زبردستی قبضہ کرلیا اور مدرسین کو ضلع بدر کر دیا۔ اہلسنّت و جماعت کی درجنوں مساجد پر راتوں رات حملے کرکے سنی علماء اور خطباء کو بے گھر کردیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے معتبر ذرائع سے آمدہ اطلاعات کے مطابق طالبان جدید اور تباہ کن اسلحہ سے لیس ہیں جو انہیں بیرونی ممالک سے مہیا کیا جارہا ہے۔ انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ وہاں کی پولیس اور افواج مبینہ طور پر درپردہ طالبان کی حمایت کررہی ہیں اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ لہٰذا دنیا بھر کے سنی عوام پر واجب ہوگیا ہے کہ وہ سرحد اور بالخصوص سوات و مالاکنڈ ڈویژن میں اپنے عقیدے کے تحفظ، مشائخ علماء اور عوام کے حقوق اور بزرگان دین کے مزارات کی حفاظت کیلئے صدائے احتجاج بلند کریں۔ جمعیت کے نائب صدر حافظ فضل احمد قادری نے سرحد کے مخدوش حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ یکدم نہیں ہوا بلکہ اس طرح کے آثار ایک عرصہ سے نظر آرہے تھے۔ علامہ احمد نثار بیگ قادری نے کہا کہ پیران طریقت کے بہیمانہ قتل اور بزرگان دین کے مزارات مقدسہ کو شہید و برباد کرکے طالبان بے نقاب ہوگئے ہیں لہٰذا لازمی ہوگیا ہے کہ اس فتنے کے سد باب کیلئے اہلسنّت و جماعت کی تمام تنظیمیں اپنی مدد آپ کے اصول کے تحت اپنے عوام کو منظم اور مسلح کریں اور موثر دفاع کی تربیت کی منصوبہ بندی کریں۔ پروفیسر پیر سید احمد حسین شاہ ترمذی نے افواج پاکستان کی سرحدی علاقوں میں غیر تسلی بخش کارکردگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ حافظ محمد صادق ضیاء نے کہا کہ اب یہ حقیقت ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ طالبان کا تعلق ان لوگوں سے ہے جنہوں نے نظریہ پاکستان کی مخالفت کی۔ مملکت خداداد پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔پیرزادہ سید محمد انور حسین شاہ کاظمی، صاحبزادہ پیر سید مزمل حسین شاہ جماعتی، سید منور حسین شاہ بخاری، قاری محمد خان قادری، صاحبزادہ سید محمد شعیب شاہ نقشبندی مجددی، پیر سید نور احمد شاہ کاظمی، قاضی عبداللطیف قادری، قاری محمد سرور نقشبندی، حافظ نعمت علی چشتی، مولانا حافظ ظہیر احمد قادری، صاحبزادہ قاضی عبدالرشید چشتی، برکات احمد چشتی، حافظ خداداد قادری، مفتی اختر علی قادری، عبدالرحمن نقشبندی، مولانا حافظ محمد شفیع نے بھی اجلاس میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

کیا یہ اسلام ہے؟

 

آخر کار مولانا صوفی محمد نے وہ کچھ کہہ ہی ڈالا جس کی توقع کی جا رہی تھی کہ پاکستان میں کفر کا نظام رائج ہے۔ لیکن انہوں نے یہ بات پہلی مرتبہ نہیں کی، بلکہ پچھلے ہفتے جب نظام عدل ریگولیشن کو پارلینمٹ میں پیش کیا جا رہا تھا تو انہوں ایک ‘فتوی’ جاری کیا تھا کہ مخالفت کرنے والوں کو کافر اور پاکستان کو دارالحرب قرار دیا جائے گا۔

 

مولانا صوفی محمد عرصے سے اس ملک کے نظام اور اداروں کو کفری قراردیتے آ رہے ہیں

 
لیکن اس بیان میں اور حالیہ بات میں ایک فرق ضرور ہے۔ پہلے بیان کو دھمکی سمجھا گیا تھا جبکہ حالیہ بات بظاہر پالیسی معلوم ہو رہی ہے۔ مولانا صوفی محمد کی یہ سوچ کسی سے ڈھکی چھپی بھی نہیں کیونکہ وہ تو سنہ انیس نوے سے ہی اس ملک کے نظام اور اداروں کو کفری قراردیتے آ رہے ہیں لیکن آج انکی بات کو اس لیے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیئے کیونکہ اس وقت سات قبائلی ایجنسیوں اور پشاور اور چند اضلاع کو چھوڑ کر پورے صوبے پر طالبان نے بندوق کے زور سے اپنی عملداری قائم کردی ہے۔

سوات کے طالبان نے تو پاکستانی فوج کے ساتھ ڈیڑھ سال تک جاری رہنے والی مسلح آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے فوج، سیکولر حکمران جماعتوں، پیپلز پارٹی اور عوامی نینشل پارٹی کے گھٹنے ٹیک دیئے اور اس شکست کی توثیق نظام عدل ریگولیشن کی منظوری کی شکل میں پارلیمنٹ سے بھی کرا لی۔اس شکست کی خوبصورت تشریح ممتاز کالم نویس اور رکنِ قومی اسمبلی ایاز امیر نے نظام عدل ریگولیشن کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے دوران بحث میں حصہ لیتے وقت کی کہ’ اسکا مطلب ہے کہ طالبان کی بندوقیں ہماری مسلح افواج کی بندوقوں سے زیادہ طاقتور ثابت ہوئی ہیں۔’

جیسا کہ آپ نے پڑھا کے اب ہم پر کفر کا فتویٰ طلبان کی طرف سے لگ چکا ہے۔
 
مان لیجئے کہ جمہوری نظام کفر ہے تو کیا اسلام یہ ہے کہ کسی دوسرے مکتبہ فکر سے تعلق رکھناے والوں کو قبر سے نکال کر درخت پر لٹکایا جائے کیا یہ اسلام ہے؟ یہ اولیائ کرام کی مزارات پر خودکش حملہ کرنا کیا یہ اسلام ہے؟ مان لیجئے کہ جمہوری نظام کفر ہے تو کیا اسلام یہ ہے کہ کسی دوسرے مکتبہ فکر سے تعلق رکھناے والوں کو قبر سے نکال کر درخت پر لٹکایا جائے کیا یہ اسلام ہے؟ یہ اولیائ کرام کی مزارات پر خودکش حملہ کرنا کیا یہ اسلام ہے؟ یا کسی لڑکی کو تین یا چار مرد پکر کر مارے وہ بھی سرے عام کیا یہ اسلام ہے؟ کیا یہ شریعت ہے؟ اگر حضورصلی علیہ والہٍ وسلم کی حیاتِ طیبہ پر غور کیا جائے تو اخوت اور محبت کا ہی سبق ملتا ہے۔حضورصلی علیہ والہٍ وسلم تو دشمنوں کو بھی معاف کردیا کرتے تھے۔
 
یہ تو تھی میری رائے اب آپ کی کیا رائے ضرور پوسٹ کیجئے گا۔
 
 
اب تو کسی انقلاب کا انتظار نہ کر
ہوسکے تو خود انقلاب پیدا کر


لیکن اس بیان میں اور حالیہ بات میں ایک فرق ضرور ہے۔ پہلے بیان کو دھمکی سمجھا گیا تھا جبکہ حالیہ بات بظاہر پالیسی معلوم ہو رہی ہے۔ مولانا صوفی محمد کی یہ سوچ کسی سے ڈھکی چھپی بھی نہیں کیونکہ وہ تو سنہ انیس نوے سے ہی اس ملک کے نظام اور اداروں کو کفری قراردیتے آ رہے ہیں لیکن آج انکی بات کو اس لیے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیئے کیونکہ اس وقت سات قبائلی ایجنسیوں اور پشاور اور چند اضلاع کو چھوڑ کر پورے صوبے پر طالبان نے بندوق کے زور سے اپنی عملداری قائم کردی ہے۔

سوات کے طالبان نے تو پاکستانی فوج کے ساتھ ڈیڑھ سال تک جاری رہنے والی مسلح آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے فوج، سیکولر حکمران جماعتوں، پیپلز پارٹی اور عوامی نینشل پارٹی کے گھٹنے ٹیک دیئے اور اس شکست کی توثیق نظام عدل ریگولیشن کی منظوری کی شکل میں پارلیمنٹ سے بھی کرا لی۔اس شکست کی خوبصورت تشریح ممتاز کالم نویس اور رکنِ قومی اسمبلی ایاز امیر نے نظام عدل ریگولیشن کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے دوران بحث میں حصہ لیتے وقت کی کہ’ اسکا مطلب ہے کہ طالبان کی بندوقیں ہماری مسلح افواج کی بندوقوں سے زیادہ طاقتور ثابت ہوئی ہیں۔’

جیسا کہ آپ نے پڑھا کے اب ہم پر کفر کا فتویٰ طلبان کی طرف سے لگ چکا ہے۔
 
مان لیجئے کہ جمہوری نظام کفر ہے تو کیا اسلام یہ ہے کہ کسی دوسرے مکتبہ فکر سے تعلق رکھناے والوں کو قبر سے نکال کر درخت پر لٹکایا جائے کیا یہ اسلام ہے؟ یہ اولیائ کرام کی مزارات پر خودکش حملہ کرنا کیا یہ اسلام ہے؟ مان لیجئے کہ جمہوری نظام کفر ہے تو کیا اسلام یہ ہے کہ کسی دوسرے مکتبہ فکر سے تعلق رکھناے والوں کو قبر سے نکال کر درخت پر لٹکایا جائے کیا یہ اسلام ہے؟ یہ اولیائ کرام کی مزارات پر خودکش حملہ کرنا کیا یہ اسلام ہے؟ یا کسی لڑکی کو تین یا چار مرد پکر کر مارے وہ بھی سرے عام کیا یہ اسلام ہے؟ کیا یہ شریعت ہے؟ اگر حضورصلی علیہ والہٍ وسلم کی حیاتِ طیبہ پر غور کیا جائے تو اخوت اور محبت کا ہی سبق ملتا ہے۔حضورصلی علیہ والہٍ وسلم تو دشمنوں کو بھی معاف کردیا کرتے تھے۔
 
یہ تو تھی میری رائے اب آپ کی کیا رائے
ضرور پوسٹ کیجئے گا۔
 
 
اب تو کسی انقلاب کا انتظار نہ کر
ہوسکے تو خود انقلاب پیدا کر