لاہور: جامعہ نعیمیہ میں خودکش حملہ ،ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید

لاہور . . . لاہور میں گڑھی شاہو کے علاقے میں جامعہ نعیمیہ میں نماز جمعہ کے اختتام کے بعد ہونے والے خودکش حملے میں جامعہ نعیمیہ کے مہتمم اعلیٰ ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی سمیت چار افراد شہید جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق جامعہ نعیمیہ میں نماز جمعہ کے اختتام کے بعد ڈاکٹر سرفراز نعیمی مسجدسے ملحقہ اپنے دفتر میں لوگوں سے مل رہے تھے کہ اسی اثناء میں ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ مولانا سرفرار نعیمی کو تشویشناک حالت میں اسپتال لے جایا جارہا تھا کہ تاہم وہ راستے میں ہی اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔شہید ہونے والوں میں سرفراز نعیمی کے معتمد ڈاکٹر خلیل بھی شامل ہیں۔ دھماکے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ۔جبکہ ایمبولینسوں کے ذریعے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔دھماکے سے قریب کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جبکہ اس وقت نمازیوں کی بڑی تعدادمسجد میں موجود تھی۔لاہور کے اسپتالوں کے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے ۔ڈی سی او لاہور سجاد بھٹہ کے مطابق ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی کی شہادت ٹارگٹ کلنگ کا نتیجہ ہے،ان کا کہنا تھا کہ مولانا سرفراز نعیمی کو مناسب سکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔
Advertisements

اہل سنت جماعتوں نے صوفی محمد کو شریعت اور آئین کا باغی قرار دے دیا

راول پنڈی . . . . . . اہل سنت جماعتوں نے تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کو شریعت اور آئین کا باغی قرار دیتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ شدت پسندوں اور دہشت گردوں سے مرعوب ہوئے بغیر پورے ملک میں اپنی رٹ قائم کرے۔ راول پنڈی میں اہل سنت جماعتوں کا استحکام پاکستان کنونشن ہوا۔ کنونشن کے اختتام پر جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ شریعت کے نام پر پاکستانی مسلمانوں کا قتل، مزارات کا انہدام اور علما کی بے حرمتی شدید مذمت کے قابل ہیں ۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ تمام اہلسنت جماعتوں کی قیادت مستعفی ہوکر ایک مرکزی قیادت میں اکھٹی ہوجائے ۔ اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ فوج، سپریم کورٹ اور پارلے منٹ ، آئین کے تحفظ اور تقدس کی ذمہ داری پورا کریں۔اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ سوات میں کارروائیاں تاریخ کے بدترین خوارج کی ذہنیت کی عکاس ہیں۔ اس سے پہلے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے علما کرام کا کہنا تھا کہ صوفی محمد شریعت کے باغی اور آئین کے غدار ہیں ان کو سزا دی جائے اور ان کو ہیرو بنا کر پیش نہ کیا جائے۔ علما نے اپیل کی کہ تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اختلافات بھلا کر ملک کو بچانے کی کوشش کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سوات کے حالات پر جماعت اہلسنت کی جانب سے متفقہ موقف سامنے آنا چاہیے اور تمام جماعتیں متفقہ طور پر پاکستان بچاؤ کنونشن منعقد کریں ۔

اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی کسی نئے فرقے کے بانی نہیں، علامہ کوکب اوکاڑوی

مولانا اوکاڑوی اکادمی (العالمی) کے سربراہ خطیب ملت علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی نے کہا ہے کہ اعلیٰ حضرات امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضا خان بریلوی  اسلام اور ملت اسلامیہ کے محسن اور چودہویں صدی ہجری میں مجدداعظم شمار ہوئے ہیں اور ان کی علمی فقہی عظمت کا اعتراف سمتوں میں اپنوں بیگانوں نے کیا ہے، اُنہوں نے ہرگز کوئی نئے عقائد وضع نہیں کیے نہ ہی وہ کسی نئے فرقے کے بانی ہیں بلکہ اُنہوں نے کتاب و سنت کی صحیح ترجمانی کرتے ہوئے اہل سنت و جماعت کی اس دور میں صحیح پاس بانی کی ہے جب کہ دین فروش اور ابن الوقت لوگ دین کو بدلنا چاہ رہے تھے، علامہ اوکاڑوی  نے کہا کہ بریلوی ہرگز کوئی فرق نہیں بلکہ اہل سنت کی صحیح پہچان کا عنوان ہے اور اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمتہ اللہ علیہ کی نسبت سے یہی ظاہر کیا جاتا ہے کہ بریلوی وہ سنی ہیں جن کے عقائد کی ترجمانی اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان نے کی ہے، علامہ اوکاڑوی نے کہا کہ اعلیٰ حضرت بریلوی کی ایک ہزار سے زائد کتب اور ان کی تعلیمات و تحریرات موجود ہیں اور ان میں کتاب و سنت کے خلاف یا ان سے متضاد کوئی بات پیش نہیں کی جا سکی ہے بلکہ ان کے مخالفین نے بھی انہیں سچا عاشق رسول اور عالم حق تسلیم کیا ہے، علامہ اوکاڑوی نے جیو ٹی وی کے پروگرام ”میرے مطابق “ میں ڈاکٹر اسرار کی زبانی کہے گئے ان جملوں پر شدید احتجاج کیا ہے جن میں اُنہوں نے اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے بارے میں نامناسب الفاظ و انداز اختیار کیا اُنہوں نے کہا کہ اس پروگرام میں صحیح العقیدہ اہل سنت و جماعت بریلوی کا غلط تعارف پیش کرنے کی سازش کی گئی ہے جو قابل مذمت ہے۔