تقلید کے معنی اور اس کے اقسام

تقلید کے معنی اور اس کے اقسام

تقلید کے دو معنی ہیں- ایک لغوی، دوسرے شرعی- لغوی معنی ہیں- قلادہ ور گردن بستن گلے میں ہار یا پٹہ ڈالنا- تقلید کے شرعی معنی ہیں کہ کسی کے قول و فعل کے اپنے پر لازم شرعی جاننا یہ سمجھ کر کہ اس کا کلام اور اس کا کام ہمارے لئے حجت ہے- کیونکہ یہ شرعی محقق ہے- جیسے کہ ہم مسائل شرعیہ میں امام صاحب کا قول و فعل اپنے لئے دلیل سمجھتے ہیں اور دلائل شرعیہ میں نظر نہیں کرتے-
حا شیہ حسامی متابعت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں صفحہ 86 پر شرح مختصر المار سے نقل کیا اور یہ عبارت نورالانوار بحث تقلید میں بھی ہے-

التقلید اتباع الرجل غیرہ فیما سمعہ یقول اوفی فعلہ علٰی زعم انہ محق بلا نظر فی الدلیل-
تقلید کے معنی ہیں کسی شخص کا اپنے غیر کی اطاعت کرنا اس میں جو اس کو کہتے ہوئے یا کرتے ہوئے سن لے یہ سمجھ کر کہ وہ اہل تحقیق میں سے ہے- بغیر دلیل میں نظر کئے ہوئے-نیز امام غزالی کتاب المستصفٰی جلد دوم صفحہ 387 میں فرماتے ہیں التقلید ھو قبول قول بلا حجتہ- مسلم الثبوت میں ہے التقلید العمل بقول الغیر من غیر حجتہ-
ترجمہ وہ ہی جو اوپر بیان ہوا اس تعریف سے معلوم ہوا کہ حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی اطاعت کرنے کو تقلید نہیں کہہ سکتے- کیونکہ انکا ہر قول و فعل دلیل شرعی ہے تقلید میں ہوتا ہے – دلیل شرعی کو نہ دیکھنا- لٰہذا ہم حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے امتی کہلائیں گے نہ کہ مقلد- اسی طرح صحابہ ءکرام و آئمہ دین حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے امتی ہیں نہ کہ مقلد- اسی طرح عالم کی اطاعت جو عام مسلمان کرتے ہیں اس کو بھی تقلید نہ کہا جائے گا- کیونکہ کوئی بھی ان عالموں کی بات یا ان کے کا کو اپنے لئے حجت نہیں بناتا- بلکہ یہ سمجھ کر ان کی بار مناتا ہے کہ مولوی آدمی ہیں کتاب سے دیکھ کر کہہ رہے ہوں گے اگر ثابت ہو جائے کہ ان کا فتوٰی غلط تھا، کتب فقہ کے خلاف تھا تو کوئی بھی نہ مانے بخالف قول امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے کہ اگر وہ حدیث یا قرآن یا اجماع امت کو دیکھ کر مسئلہ فرمادیں تو بھی قبول اور اگر اپنے قیاس سے حکم دیں تو بھی قبول ہو گا- یہ فرق ضرور یاد رہے-
تقلید دو طرح کی ہے- تقلید شرعی اور غیر شرعی- تقلید شرعی تو شریعت کے احکام میں کسی کی پیروی کرنے کو کہتے ہیں- جیسے روزے، زکوٰۃ وغیرہ کے مسائل میں آئمہ دین کی اطاعت کی جاتی ہے اور تقلید غیر شرعی دنیاوی باتوں میں کسی کی پیروی کرنا ہے- جیسے طیب لوگ علم طب میں بوعلی سینا کی اور شاعر لوگ داغ، یا مرزا غالب کی یا نحوی و صرفی لوگ سیسوبیہ اور خلیل کی پیروی کرتے ہیں- اسی طرح ہر پیشہ ور اپنے پیشہ میں اس فن کے ماہرین کی پیروی کرتے ہیں- یہ تقلید دنیاوی ہے-
صوفیائے کرام جو وظائف و اعمال میں اپنے مشائخ کے قول و فعل کی پیروی کرتے ہیں وہ تقلید دینی تو ہے مگر تقلید شرعی نہیں بلکہ تقلید فی الطریقت ہے- اس لئے کہ یہ شرعی مسائل حرام و حلال میں تقلید نہیں- ہاں جس چیز میں تقلید ہے وہ دینی کام ہے-
تقلید غیر شرعی اگر شریعت کے خلاف میں ہے تو حرام ہے اگر خلاف اسلام نہ ہو تو جائز ہے بوڑھی عورتیں اپنے باپ داداؤں کی ایجاد کی ہوئی شادی غمی کی ان رسموں کی پابندی کریں جو خلاف شریعت ہیں تو حرام ہے اور طبیب لوگ جو طبی مسائل میں بو علی سینا وغیرہ کی پیروی کریں جو کہ مخالف اسلام نہ ہوں تو جائز ہے- اسی پہلی قسم کی حرام تقلید کے بارے میں قرآن کریم جگہ جگہ مما نعت فرماتا ہے اور ایسی تقلید کرنے والوں کی برائی فرماتا ہے-
ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکر نا واتبع ھواہ وکان امرہ فرطا- ( پارہ 15، سورۃ الکہف آیت 28 )
اور اس کا کہنا نہ مانو جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حد سے گزر گیا-
وان جا ھدک علٰی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما- ( پارہ21، سورہ لقمان آیت 15)
اور اگر وہ تجھ سے کوشش کریں کہ تو میرا شریک ٹھرا اس کو جس کا تجھ کو علم نہیں تو ان کا کہا نہ مان-
واذا قیل لھم تعالوا الٰی ما انزل اللہ والی الرسول قالوا حسبنا ما وجدنا علیہ وباتا اولو کان اٰباوھم لا یعلمون شیئا ولا یھتدون-( پارہ8 سورہ5 آیت 104)
اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ اس طرف جو اللہ نے اتارااور رسول کی طرف کہیں ہم کو وہ بہت ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا- اگرچہ ان کر باپ دادا کچھ نہ جانیں اور نہ راہ پر ہوں-
واذا قیل لھم اتبعوا ما انزل اللہ قالو ا بل نتبع ما الفینا علیہ ابائنا- ( پاری2 سورہ2 آیت 170)
اور جب ان سے کہا جاوے کہ اللہ کے اتارے ہوئے پر چلو تو کہیں گے ہم تو اس پر چلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا-
ان میں اور ان جیسی آیتوں میں اسی تقلید کی برائی فرمائی گئی جو شریعت کے مقابلہ میں جاہل باپ داداؤں کے حرام کاموں میں کی جاوے کہ چونکہ ہمارے پاب دادا ایسے کرتے تھے ہم بھی ایسا کریں گے- چاہے یہ کام جائز ہو یا نا جائز- رہی زرعی تقلید اور ائمہ دین کی اطاعت اس سے ان آیات کو کوئی تعلق نہیں ان آیتوں سے تقلید ائمہ کو شرک یا حرام کہنا محض نے دینی ہے- اس کا بہت خیال رہے-

ایک پرابلم

ایک پرابلم
رحیم خدا کا اسم ہے ۔
ان ربک لھو العزیز الرحیم
ترجمہ: تمھارا رب عزیز اور رحیم ہے۔
2۔ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی رحیم ہیں۔
لقد جآءکم رسول من انفسکم عزیز علیہ ماعنتم حریص علیکم بالمو منین رو ءف رحیم
ترجمہ: تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول آئے تمہاری تکلیف ان کو گراں گزرتی ہے اور تمہاری بھلائی کے بہت خواہش مند ہیں اور مومنوں کے لئے روف اور رحیم ہیں۔
3۔ اللہ کا نام بھی روف ہے۔
ان ربک لروف الرحیم (نحل ۔7)
ترجمہ: تمہارا رب روف اور رحیم ہے۔
4۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی روف ہے
وبالمو منین رئوف رحیم (توبہ۔128)
ترجمہ: اور مو منوں کے لئے وہ رؤف (تکلیف دہ امور ہٹانے والے ) اور رحیم (راحت رساں امور پہنچانے والے ہیں)۔
5۔ اللہ کا نام مومن ہے ۔
لا الہ الا ھو ۔ المک القدوس السلام المومن (حشر ۔ 23)
ترجمہ: اللہ کے سواکوئی معبود نہیں ۔ وہ بادشاہ قدوس ہے سلام ہے اور مومن ہے
6۔ بندے بھی مومن ہیں ۔
الذین یقیمون الصلوۃ ومما رز قنھم ینفقون او لئک ھم المو منون حقا
ترجمہ: وہ نماز قائم کرتے ہیں اللہ کے دیئے ہوئے میں سے خرچ کرتے ہیں وہی سچے مومن ہیں ۔
7۔ اللہ کا نام ولی ہے ۔
ام اتخذوا من دونہ اولیآء فااللہ ھو ا لولہ (شوریٰ۔9)
ترجمہ: کیا انہوں نے اس کے سوا کار ساز بنالئے ہیں ؟ولی تو خدا ہے ۔
8۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ولی ہیں ۔
انما ولیکم اللہ ورسولہ (مائدہ )
ترجمہ: تمہارا ولی اللہ ہے ۔ اس کا رسول ۔
9۔ علیم اللہ ہے ۔
نرفع درجت من نشاء ان ربک حکیم علیم (انعام ۔83)
ترجمہ: ہم جسے چاہتے ہیں درجے بلند کردیتے ہیں بے شک تمہارا رب حکیم اور علیم ہے۔
10۔ یوسف علیہ السلام کا نام بھی علیم ہے ۔
قال اجعلنی علی خزائن الارض انی حفیظ علیم (یوسف ۔ 58 )
ترجمہ:۔ یوسف علیہ السلام نے کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کردیجئے کیونکہ میں حفاظت کرنے والا علیم ہوں۔

مندرجہ بالا حوالہ جات کے بعد خلاصہ ملاحظہ ہو ۔
رب بھی رحیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی رحیم
رب بھی رؤف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مصطفٰےصلی اللہ علیہ وسلم بھی رؤف
اللہ مومن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بندہ بھی مومن
اللہ ولی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بندہ بھی ولی
اللہ علیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بندہ بھی علیم
اللہ حفیظ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بندہ بھی حفیظ
اللہ سمیع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بندہ بھی سمیع

( دو آدمی آپس میں جھگڑ رہے تھے میں نے پوچھا: بون آف کنٹنشن کیا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟ کہنے لگا یہ علی کو مشکل کشاء کہتا ہے مشکل کشاء صرف اللہ ہے ، حاجت روا صرف اللہ ہے میں نے پوچھا جناب کیا مشکل صرف اللہ دور کرتا ہے ؟ بولے ہاں میں نے کہاں بھوک لگی تھی آپ گھر گئے ۔ فورا بیوی نے روٹی پکا کردی ۔ آپ نے کھائی۔۔۔۔۔ جان میں جان آئی ۔۔۔۔۔ ایک مشکل تو آپ کی بیوی نے بھی حل کردی آپ دیوالیہ ہونے لگے ، آپ کی کروڑوں کی جائیداد بکنے لگی ۔ مگر ایک دوست نے آپ کی مطلوبہ رقم پینچادی اتنی بڑی مشکل کشاء پکاراٹھے تو کیا قیامت ہے ؟ وہ مجھے کہنے لگے مشکل کشاء صرف اللہ کو کہیں گے میں نے کہا ٹھیک ہے اب اپنے بیان پر قائم رہنا۔۔۔۔۔۔۔جو اللہ ہے وہ بندہ نہیں ہو سکتا یہی ہے ناں تمہارا مطلب ؟ وہ بولا ہاں ۔۔
اللہ رحیم ہے تو بندہ رحیم
اللہ مومن ہے بندہ بھی مومن
اللہ کو ولی کہتے ہی بندہ کو بھی ولی کہتے ہیں
بولو کہنے والا مشرک ہوگا ؟
رحیم اللہ کا نام ہے اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کہہ دیا تو کہنے والا مشرک ہوگا ؟ میں نے آیات بھی پڑھیں وہ خاموش ہو گیا میں نے کہا سن تجھے بتاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خدا رحیم ہے ذاتی طور ہر ۔۔۔۔۔ بندہ رحیم عطائی طور پر
اللہ ولی ہے ذاتی طور پر ۔۔۔۔۔ بندہ ولی ہے عطائی طور پر
اللہ علیم ہے ذاتی طور پر ۔۔۔۔۔ بندہ علیم ہے عطائی طور پر
اللہ حفیظ ہے ذاتی طور پر ۔۔۔۔۔ بندہ حفیظ ہے عطائی طور پر

فرق ہوگیا ناں ؟ اگر کوئی آدمی بندے کو مجازی طور پر مشکل کشاء کہنے سے کافر ہوجاتا ہے کیونکہ مشکل کشاء اللہ ہے تو پھر رحیم نبی کو کہا تو بھی کافر ہوناچاہیے ۔ علیم کہو تو کافر ، ولی کہنے سے بھی کافر ، اگر کافر ہو گا تو پھر اللہ نے رحیم ، علیم ، حفیظ ، سمیع ، ولی ، مومن باوجودیکہ اس کے نام ہیں بندوں کو ان ناموں سے کیوں مخاطب کیا ہے ؟ اگر غیر اللہ کو علیم ، حکیم ، حلیم ، کریم ، حفیظ ، سمیع ولی ، مومن کے اسماء سے پکارنے والا کافر نہیں ہوتا تو اسی طرح مجازی طور پر کسی کو مشکل کشاء کہنے سے بھی آدمی کافر نہیں ہوتا ۔
اسی طرح عدد ایک بھی ہے ۔ کوئی پوچھے اللہ کتنے ہیں ؟ آپ فورا کہتے ہیں اللہ ایک ہے اور یہی ایک آپ باپ کے ساتھ بھی استعمال کرتے ہیں جب کوئی پوچھے کہ تمہارے باپ کتنے ہیں تو آپ کہتے ہی ایک ہے باپ ایک ہے کیا آپ کے نزدیک مشرک نہ ہوگا ؟

لفظ داتا
لفظ اللہ اور رحمن کے علاوہ اللہ کے باقی صفاتی نام مجازی طور پر غیر اللہ پر بول سکتے ہیں کچھ الفاظ اللہ نے قرآن مجید میں خود بھی استعمال کئے ۔اسی طرح آج کل شور ہے کہ داتا صرف اللہ ہے گنج بخش کو داتا کہنا شرک ہے ۔ داتا ہندی کا لفظ ہے معنی ہے دینے والا ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کے پہلے مریدار رائے راجو جن کا نام شیخ ہندی رحمتہ اللہ علیہ رکھا انہیں آپ رحمتہ اللہ علیہ کے صدقے ایمان کی دولت نصیب ہوئی تو انہوں نے داتا کہا سورہ یوسف آپ پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ جب یوسف علیہ السلام قید خانہ میں گئے تو دو قیدی بھی ساتھ داخل ہوئے ۔ان میں سے ایک نے کہا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ شراب نچوڑ رہاہوں آپ نے فرمایا
یسقی ربہ خمرا وہ اپنے رب کو شراب پلائے گا ۔۔۔ لفظ رب نبی استعمال کررہاہے بادشاہ مصر کے لئے تو مجھے کہنے دیجئے اگر کافر شرابی بادشاہ کے لئے یوسف علیہ السلام لفظ رب مجازی طور پر استعمال کریں تو شرک نہیں اگر ہم ولی کامل عالم دین آلِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مجازی طور پر داتا کا لفظ استعمال کردیں تو بھی شرک نہیں ہے ۔ کیا داتا لفظ بڑا ہے یا رب ؟

عقائد متعلقہ نبوت و رسالت

#######################
عقائد متعلقہ نبوت و رسالت
ہر نبی پیدائشی نبی ہوتا ہے
عقیدہ عصمت انبیائ
انبیاء بے مثل بشر ہیں
نبی کی ہر بات پوری ہوتی ہے
انبیاء کرام کے بعض خصائص
سب سے افضل رسول
نور مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تخلیق
بارگاہ رسالت میں گستاخی کفر ہے
حضور کی تعظیم و محبت فرض ہیں
حیات انبیاء علیہم السلام
عقیدہ علم غیب
عقیدہ حاضر و ناصر
اولیاء اللہ کی شان
محبوبان خدا کا وسلیہ
حضور نائب مطلق ہیں
رحمت عالم ہونے کے تقاضے
قرآن عظیم کی عظمت
##########

عقائد متعلقہ نبوت و رسالت
# نبی اس اعلی و ارفع شان والے بشر کو کہتے ہیں جس پر اللہ تعالی نے وحی نازل کی ہو اس کی تائید معجزات سے فرمائی ہو۔ جس طرح ہمیں اپنی اختیاری حرکات پر قدرت ہوتی ہے ۔ اسی طرح انبیاء کرام کے معجزات ان کے اختیار میں ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی نے محض اپنے فضل و کرم سے لوگوں کی ہدایت کی لئے انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا۔ سب انبیاء کرام مرد تھے، نہ کوئی جن نبی ہوا اور نہ کوئی عورت نبی ہوئی۔
# انبیاء کرام علیہم السلام تمام مخلوق حتی کہ رسل ملائکہ سے بھی افضل ہیں ۔ ارشاد باری تعالی ہے، (اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب سے فضیلت دی)۔ (الانعام : ۸۶) جو شخص کسی غیر نبی کو کسی نبی سے افضل یا برابر بتائے وہ کافر ہے ۔ اسی طرح جو یہ کہے کہ غیر نبی بسا اوقات اعمال میں انبیاء کرام سے بڑھ جاتے ہیں وہ گمراہ و بدمذہب ہے۔ انبیاء کرام کی تعداد معین کرنا جائز نہیں۔ بس یہ اعتقاد ہونا چاہیے کہ اللہ تعالی کے تمام انبیاء علیہم السلام پر ہمارا ایمان ہے جن کی تعداد کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار بیان کی جاتی ہے۔
# نبوت کسبی نہیں کہ کوشش و ریاضت سے حاصل ہوسکے، یہ محض اللہ تعالی کی عطا ہے۔ ارشاد ہوا ، ( اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھے ) ۔
( الانعام : ۱۲۴) لیکن اللہ عزوجل اپنے فضل و کرم سے جسے نبوت عطا فرماتا ہے اور اس عظیم منصب کے قابل بناتا ہے اور ایسی کامل عقل عطا فرماتا ہے کہ دوسروں کی عقل اس کے کرورویں حصے تک نہیں پہنچ سکتی۔ ہر نبی اپنے نسب و جسم ، قول و فعل اور عادات و اطوار میں ہر عیب سے پاک ہوتا ہے۔
# ہر نبی پیدائشی نبی ہوتا ہے ۔ البتہ نبوت کا اعلان وہ رب تعالی کے حکم سے کرتا ہے ۔ ارشاد ہوا ، ( میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے نبی بنایا )۔ (مریم : ۳۰)
یہ کلام حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنی قوم سے اس وقت فرمایا جبکہ آپ کی عمر مبارک چند یوم کی تھی۔ قرآن پاک میں اللہ تعالی نے انبیاء کرما کی ارواح کو بھی (النبیین) یعنی انبیاء فرمایا ہے ۔ (آل عمران : ۸۱) آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشا د ہے ، (میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے)۔ (ترمذی )
# نبی زمین پر اللہ تعالی کا نائب اور شارع ہوتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہوا ، ( اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے) ۔ (النساء : ۶۴)
دوسری جگہ فرمایا گیا ، (اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں، باز رہو)۔ (الحشر : ۷) ایک اور جگہ ارشاد ہوا، (تو اے محبوب تمہارے رب کی قسم ! وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرما دو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں )۔ (النساء : ۶۵، ، کنزالایمان ) چونکہ رسول کا بھیجنا ہی اس لئے ہے کہ وہ مطاع بنایا جائے ۔ اور اس کی اطاعت فرض ہو تو جو اس کے حکم سے راضی نہ ہوا گویا اس نے رسالت کا انکار کیا ، ایسا شخص کافر ہے ۔
# تمام انبیاء کرام گناہوں او ر خطاؤں سے معصوم ہوتے ہیں قرآن حکیم میں انبیاء کرام کے بارے میں جن امور کا ذکر ہے انکی حقیت گناہ نہیں بلکہ وہ یا تو نسیان ہیں جیسے حضرت آدم علیہ السلام کا گندم کا دانہ کھالینا اور یا وہ لغزش ہیں جیسے حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں فرمایا گیا ۔ ارشاد باری تعالی ہوا ، ( اور بیشک ہم نے آدم کو اس سے پہلے ایک تاکیدی حکم دیا تھا تو وہ بھول گیا اور ہم نے اس کا مقصد نہ پایا )۔ (طہ : ۱۱۵) انبیاء کرام علیہم السلام کے حق میں بھول اور لغزش دونوں جائز ہیں ۔ جبکہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں لغزش بھی جائز نہیں کیونکہ آپ کا مرتبہ تمام انبیاء کرام سے بلند و بالا ہے آپ کے اس خاص منصب پر یہ آیت قرآنی گواہ ہیں:۔
# اور بیشک تم ضرور سیدھی راہ بتاتے ہو ۔ (الشوریٰ : ۵۲)
# بیشک تم سیدھی راہ پر ہو۔ (الحج : ۶۷، کنز الایمان)
# تمہارے صاحب نہ بہکے نہ بے راہ چلے ۔ (النجم : ۲ ، کنزا لایمان)
انبیاء کرام کی لغزش کا ذکر تلاوت قرآن اور روایت حدیث کے سوا سخت حرام ہے ، انبیاء کرام اور فرشتوں کے سوا کوئی معصوم نہیں۔ عصمت انبیاء کے معنی یہ ہیں کہ انبیاء کرام کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے حفاظت کا وعدہ ہے ۔ اس لئے ان سے گناہ ہونا شرعا نا ممکن ہے جبکہ صحابہ کرام و اولیاء عظام کو اللہ عزوجل اپنے کرم سے وگناہوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ لیکن ان سے گناہ صادر ہونا شرعا محال نہیں۔
# انبیاء علیہم السلام برکت و رحمت والے ہوتے ہیں حضرت عیسٰی علیہ السلام کا ارشاد ہے ، (اور اس نے ( یعنی رب تعالی نے ) مجھے بابرکت کیا ، میں کہیں بھی ہوں ) ۔ ( مریم ، ۳۱ ) ۔ انبیاء کرام کے استعمال کی اشیاء بھی رب تعالی کی برکتوں اور رحمتوں کے نزول کا سبب ہوتی ہیں ارشاد ہوا ، اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا ، اس کی بادشاہی کی نسانی یہ ہے کہ آئے تمہارے پاس تابوت جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلوں کا چین ہے ۔ اور کچھ بچی ہوئی چیزیں معزز موسی اور معزز ہارون کے ترکہ کی ) ۔ (البقرہ : ۲۴۸، کنز الایمان)
تفاسیر میں ہے کہ انبیاء کرام کے تبرکات والے اس صندوق کی برکت سے بنی اسرائیل جنگ میں فتح پانے اور ان کی حاجات پوری ہوتیں۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان ان بھی رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت والی اشیاء کو مبرک جانتے تھے اسی لئے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تھوک مبارک اور وضو کے مستعمل پانی کو زمین پر نہ گرنے دیتے بلکہ اپنے چہروں اور جسموں پر مل لیتے ۔ (بخاری) فجر کے بعد لوگ پانی کے برتن لیکر بارگاہ نبوی میں حاضر ہو تے اور آپ ہر برتن میں اپنا دست مبارک ڈبو دیتے ۔ (مسلم) حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس آقا علیہ السلام کا جبہ مبارک تھا وہ فرماتی ہیں کہ ہم اسے دھوکر بیماروں کو پلاتے ہیں تو انہیں شفا ہوجاتی ہے ۔ (مسلم)
# انبیاء کرام کو اپنی مثل بشر سمجھنا گمراہی ہے قرآن حکیم نے کافروں کا طریقہ بیان کیا ہے کہ وہ نبیوں کو محض اپنی ہی مثل بشر کہتے تھے۔ (المومنون : ۲۴، ۳۳، یس : ۱۵) کفار مکہ بھی نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ہی مثل بشر جانتے تھے۔ (الانبیاء : ۳) حقیقت یہ ہے کہ یہ نفوس قدسیہ بشری شکل و صورت ہی میں دنیا میں جلوہ گر ہوتے یں مگر انکے جسمانی و روحانی اوصاف درجہء کمال پر ہوتے ہیں اور انکی سماعت و بصارت اور طاقت و قدرت عام انسانوں جیسی نہیں ہوتی ۔ قرآن حکیم سے چند مثالیں ملاحظہ ہوں۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی انکی قمیض لیکر جب مصر سے روانہ ہوئے تو میلوں دور حضرت یعقوب علیہ ا لسلام نے اس کی خوشبو سونگھ لی ۔ (یوسف : ۹۴) حضرت سلیمان علیہ السلام نے کئی میل دور سے چیونٹی کی بات سن لی جب اس نے دوسری چیونٹیوں سے کہ کہ اپنے گھرو ں میں چلی جاؤ ، کہیں تمہیں سلیمان اور انکے لشکر بے خبری میں کچل نہ ڈالیں ، تو سلیمان علیہ السلام اس کی بات سن کر مسکرادیئے۔ (النمل : ۱۹) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرش سے عرش تک ساری کائنا ت دیکھ لی ۔ ( الانعام : ۷۵ ) حضرت عیسی علیہ السلام فرماتے ہیں ، ( میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی مورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فورا پرند ہوجاتی ہے اللہ کے حکم سے اور میں شفا دیتا ہوں مادر زاد اندھ اور سفید داغ والے کو اور میں مردے جلاتا ہوں اللہ کے حکم سے ، اور تمہیں بتایا ہوں جو تم کھاتے (ہو) اور جو اپنے گھروں میں جمع کر کے رکھتے ہو)۔ (آل عمران : ۴۹، کنزالایمان)
# انبیاء کرام علیہم السلام کی فرمائی ہوئی ہر بات پوری ہوتی ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس دو افراد نے جھوٹے خواب بیان کیے، آپ نے تعبیر دی کہ ایک اپنے بادشاہ کو شراب پلائے گا ۔ اور دوسرے کو پھانسی دے د ی جائے گی۔ وہ دونوں یہ سن کر ہنسنے لگے اور بولے ، ہم نے کوئی خواب نہیں دیکھا ہم تو مذاق کر رہے تھے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا ، ( فیصلہ ہو چکا اس بات کا جس کے متعلق تم دریافت کرتے ہو)۔ (یوسف : ۴۱) یعنی جو میں نے کہہ دیا وہ ضرور پورا ہو گا ۔ چنانچہ آپ کے فرمانے کے مطابق واقع ہوا اور کیوں نہ ہوتا کہ نبی کی ہر بات پوری ہوتی ہے ۔ اسی طرح قرآن کریم میں حضرت موسی علیہ السلام کے بار ے میں مذکور ہے کہ آپ نے سامری سے فرمایا ، دنیا میں تیری سزا یہ ہے کہ تو کہے گا کوئی مجھ سے نہ چھوجائے۔ (طہ ، ۹۷) چنانچہ آپ کا فرمان پورا ہوا۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ کی تمام پیشن گوئیاں حرف بہ حرف پوری ہوئیں۔ حضور علیہ السلام سے جب سوال کیا گیا کہ کیا حج ہر سال فرض ہے تو آقائے دو جہاں ﷺ نے فرما یا، ( نہیں ! اور اگر میں وہاں کہہ دیتا تو حج ہر سال فرض ہوجاتا)۔ (احمد ، ترمذی ، ابن ماجہ)
# انبیاء کرام کا نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک بار میں نے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ وتر پڑھے بغیر سوجاتے ہیں اور پھر بیدار ہو کر بغیر وضو کیے وتر ادا فرماتے ہیں ، ارشاد فرمایا ، اے عائشہ ! میری آنکھیں سوتی ہیں مگر دل بیدار رہتا ہے۔ (بخاری) اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمتہ اللہ علیہ کی تحقیق یہ ہے کہ انبیاء کرام کا وضو نواقص حکمیہ یعنی خواب و غشی سے نہیں جاتا مگر نواقض حقیقیہ یعنی پیشاب وغیرہ سے انکی عظمت شان کے سبب جاتا رہتا ہے ، حضور علیہ السلام کے فضلات مبارک پیشاب وغیرہ امت کے حق میں طیب و طاہر تھے مگر آقا علیہ السلام کی اعلی و ارفع شا ن کے باعث وہ آپ کے لیے نجاست کا حکم رکھتے تھے۔
# انبیاء کرام علیہم السلام کے وضو بلکہ غسل جنابت کا پانی بھی ہمارے لئے ظاہر و مطہر ہے ۔ ابو رافع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ حضرت سلمیٰ رضی اللہ عنہا نے حضور علیہ السلام کے غسل کا پانی پی لیا ، جب آپ کو اطلاع ہوئی تو فرمایا ، تیرے جسم پر دوزخ کی آ گ حرام ہوگئی۔ (طبرانی) خون کا حرام ہونا نص قطعی سے ثابت ہے مگر متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ صحابہ کرام آقا علیہ السلام کے خون مبارک کو طیب و طاہر جانتے تھے ۔ غزوہ احد میں مالک بن سنان رضی اللہ عنہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم سے خون چوسا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جو جنتی کو دیکھنا چاہے وہ انہیں دیکھ لے۔ (زرقانی ، کتاب الشفا) جب آقا علیہ السلام نے پچھنے لگوائے اور ان کا خون حضرت عبد اللہ بن زبیر ضی اللہ عنہ نے پی لیا تو حضور علیہ السلام نے انہیں دوزخ سے نجات کی خوشخبری دی۔ (حاکم ، طبرانی ، بیہقی) انبیاء کرام کی ایک اور خصوصیت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یوں بیان کی ہے کہ کسی نبی کو کبھی احتلام نہیں ہواکیونکہ احتلام شیطان کے اثر سے ہوتا ہے اور انبیاء کرام شیطان کے اثر سے محفوظ ہوتے ہیں۔ (طبرانی ، زرقانی ، خصائص کبریٰ)
# انبیاء کرام علیہم الصلوہ والسلام کے مختلف درجے ہیں بعض کو بعض پر فضیلت حاصل ہے۔ جس نبی پر کتاب نازل ہو اسے رسول کہتے ہیں گویا ہر رسول نبی ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول انہیں ہوتا ۔ سارے انبیاء و رسل علیہم السلام میں ہمارے آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل ہیں آپ کے بعد بالترتیب حضرت ابراہیم علیہم السلام ، حضرت موسی علیہ السلام ، حضرت عیسی علیہ السلام ، حضرت نوح علیہ السلام تمام انبیاء میں افضل ہیں انہیں اولو العزم رسول کہا جاتا ہے۔
# سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام مخلوق میں سب سے افضل و اعلی ہیں جس کو جو بھی اوصاف و کمالات دیے گئے وہ سب حضور علیہ السلام کو عطا فرمائے گئے بلکہ آپ کو ایسے کمالات بھی عطا فرمائے گئے جو کسی کو نہیں دیے گئے، حقیقت یہ ہے کہ جس کو جو بھی ملا ہے وہ آپ ہی کے طفیل بلکہ آپکے دست اقدس سے ملا ہے۔ آپ کا فرمان عالیشان ہے، (بیشک میں تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ تعالی عطا فرمانے والا ہے)۔ (بخاری ، مسلم ) یہ ناممکن و محال ہے کہ کوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مثل ہو، جو کسی صفت خاصہ میں کسی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مثل بتائے وہ گمراہ ہے یا کافر ۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا ، ( ایکم مثلی ) ۔ ( تم میں کون میری مثل ہے؟ بیشک میں اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے)۔ دوسری روایت میں ہے ، ( انی لست مثلکم ) ۔ بیشک میں تمہاری مثل نہیں ہوں۔ تیسری روایت میں ہے ، لست کا حد منکم۔ میں تمہارے جیسا نہیں ہوں۔ (بخاری ، مسلم )
# اللہ تعالی نے کائنات کی تخلیق سے قبل نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کو اپنے نورکے فیض سے تخلیق فرمایا پھر وہ نورجہاں رب تعالی کو منظور ہوا ، سیر کرتا رہا اور پھر نور مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بشری شکل و صورت میں حضرت عبد اللہ و حضرت آمنہ رضی اللہ عنہما کے گھر جلوہ گر ہوا۔ متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ شب معراج میں ایک مقام پر نوری مخلوق سید الملائکہ حضرت جبریل علیہ السلام بھی آگے جانے سے عاجز ہوگئے تھے مگر آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی آگے عرش و لا مکان میں جلوہ فرما ہوئے اور سر مبارک کی آنکھوں سے اللہ تعالی کا دیدار کیا، حضور علیہ السلام کی حقیقت کو کماحقہ سوائے اللہ تعالی کے کوئی نہیں جانتا۔
# تمام انبیاء کرام اللہ عزوجل کی بارگاہ اقدس میں عزت و وجاہت اور عظمت و بزرگی والے ہیں۔ حضرت موسی علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوا ، (اور آپ اللہ کے نزدیک بڑی عزت والے ہیں)۔ (الاحزاب : ۶۹) حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق فرمایا گیا ، (معزز ہوگا دنیا اور آخرت میں ا ور مقربین میں سے ہوگا)۔ (آل عمران : ۴۵) انبیاء کرام علیہم السلام کو اللہ تعالی کے نزدیک چوڑھے چمار کی مثل کہنا کھلی گستاخی اور کفر ہے۔
# امت کا اجماع ہے جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں گستاخی کرے یا آپ کی ذات اقدس کو کسی قسم کا عیب لگائے یا نقص تلا ش کرے یا وہ عوارض بشری جو آپ کے لئے جائز تھے، ان کی وجہ سے آپکی تحقیر کرے یا آپ کی شان گھٹانے کی کوشش کرے وہ کافر ا ور واجب القتل ہے ۔ اور جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے ۔ ایسا ذو معنی لفظ کہنا بھی گستاخی اور توہین ہے جس کا ایک مفہوم گستاخی کا ہو، خواہ وہ لفظ توہین کی نیت سے نہ کہا جائے ۔ ارشاد باری تعالی ہے ، ( اے ایمان والو! ( راعنا ) نہ کہو بلکہ (انظرنا) کہو اور غور سے سنا کرو، اور کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے)۔ (البقرہ : ۱۰۴)
# سید الانبیاء محمد مصطفی احمد مجتبٰی علیہ التحیتہ والثناء کی تعظےم فرض عین بلکہ ایمان کی جان ہے۔ ارشاد ہوا ، ( اے لوگو! تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و مقدم ہے یعنی ایمان کے بغیر تعظےم و توقیر قبول نہ ہوگی اور حضور علیہ السلام کی تعظیم و توقیر کے بغیر ساری عبادات اور نیکیاں بے کار ہونگی ۔ آقا علیہ السلام کی تعظیم کا تقاضا ہے کہ ان تمام چیزوں کی بھی تعظیم کی جائے جو آپ سے نسبت رکھتی ہوں ۔ ارشاد ہوا ، ( اور جو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیز گاری سے ہے)۔ (الحج : ۳۲، کنز الایمان)
بیشک حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے شعائر میں سے عظےم ترین نشان ہیں اسی لئے صحابہ کرام آپ کے تھوک مبارک ، بال مبارک اور وضو کا مستعمل پانی زمین پر نہ گرنے دیتے ، لعاب دہن اور اعضائے وضو کا دھوون اپنے چہروں پر مل لیتے اور بال مبارک حصول برکت کے لئے محفوظ کر لیتے ۔ (بخاری ، مسلم )
# جان کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ایمان کی بنیاد اور روح ہے ۔ آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے ۔ ( تم میں سے کوئی بھی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اسے اس کے والد ، اس کی اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ پیارا نہ ہو جاؤں ) ۔ ( بخاری ، مسلم ) آپ نے اپنے ایک محبت کرنے والے صحابی کو کوشخبری دی ، ( انت مع من احببت ) ۔ یعنی تم جن سے محبت کرتے ہو کل قیامت میں انہی کے ساتھ ہوگے ۔ (بخاری ) دوسری حدیث میں فرمایا ، ( المر ء جع من احب ) ۔ یعنی جو جس سے محبت کرتا ہے قیامت میں اسی کے ساتھ ہوگا ۔ ( بخاری ، مسلم )
قرآن کریم میں بھی ایمان کی شرط یہی بیان ہوئی ہے کہ اللہ عزوجل اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت دنیا کی ہر شے سے زائد ہونی چاہئے ۔ (التوبہ : ۲۴) محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی علامت یہ ہے کہ آقا علیہ السلام کی اطاعت و غلامی کی جائے ، آپ کی تعظیم کی جائے ، آپ کی تعلیمات و سیرت طیبہ کا علم حاصل کیا جائے ، آپ کے ذکر او ر درود و سلام کی کثرت کی جائے ، روضہء مطہرہ پر حاضری کی تڑپ پیدا کی جائے ، آپ کے آل و اصحاب اور تمام متعلقین و متوسلین سے محبت کی جائے اورآ پ کے کستاخوں اور بے ادبوں سے نفرت و عداوت کی جائے ۔
# انبیاء کرام علیہم السلا م اپنی اپنی قبروں میں ا سی طرح حقیقی طور پر زندہ ہیں ۔ جیسے دنیا میں تھے ، وہ کھاتے پیتے ہیں ، جہاں چاہتے ہیں آتے جاتے ہیں اور تصرف فرماتے ہیں ، اللہ تعالی کے فرمان کے مطابق ان پر ایک آن کے لئے موت طاری ہوئی اور پھر وہ زندہ کر دیئے گئے۔ شہداء کے بارے میں ارشاد ہوا ، (اورجو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں (اور) روزی پاتے ہیں )۔ (آل عمران : ۱۶۹ ، کنزا لایمان ) علامہ سیوطی فرماتے ہیں ، کوئی نبی ایسا نہیں کہ ا س نے نبوت کے ساتھ وصف شہادت نہ جمع کیا ہو ۔ پس وہ اس آیت کے عموم میں ضرور داخل ہونگے۔ (انباء الاذکیاء)
یہ امر طے شدہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام دیگر تمام مخلوق سے افضل ہیں ۔ لہذا ان کی زندگی شہداء کی زندگی سے یقینا بہت اعلی و ارفع ہے، شہید کا ترکہ تقسیم ہوتاہے ۔ اور اس کی بیوی عد ت کے بعد نکاح کرسکتی ہے جبکہ انبیاء کرام کے متعلق یہ دونوں باتیں جائز نہیں ۔ ارشاد باری تعالی ہے، ( ان کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح نہ کرو ) ۔ (الاحزاب : ۵۳)
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے، (بیشک اللہ تعالی نے انبیاء کرام کے اجسام کا کھانا زمین پر حرام فرمادیا ، پس اللہ کے نبی زندہ ہیں اور رزق دیے جاتے ہیں )۔ ( ابن ماجہ) ایک اور حدیث شریف میں ہے ، (انبیاء کرام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نمازیں پڑھتے ہیں ) ۔ (بیہقی) ایک اور ارشاد گرامی ہے ، (جب کوئی مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو اللہ تعالی میری روح مجھ پر لوٹا دیتا ہے ۔ (یعنی میری روح کی توجہ سلام بھیجنے والے کی طرف ہوجاتی ہے) یہانتک کہ میں اس کو اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں)۔ (مسند احمد ، ابو داؤد ، بیہقی)
آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ، جمعہ کے دن مجھ پر زیادہ درود پڑھا کرو کیونکہ وہ یوم مشہود ہے اس دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں ، جو شخص بھی مجھ پر درود پڑھتا ہے اس کی آواز مجھ تک پہنچ جاتی ہے خواہ وہ کہیں بھی ہو۔ صحابہ نے عرض کی، کیا آپ کے وصال کے بعد بھی ؟ فرمایا ، ہاں میرے وصا ل کے بعد بھی ، بیشک اللہ تعالی نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ نبیوں کے جسموں کو کھائے۔ اس حدیث کو حافظ منذری نے ترغیب میں بیان کر کے فرمایا کہ ابن ماجہ نے اسے سند جید کے ساتھ روایت کیا۔ (طبرانی ، جلاء الافہام)۔ ایک اور ارشاد مبارکہ ہے کہ (اہل محبت کا دور میں خود سنتا ہوں اور انہیں پہنچانتا بھی ہوں)۔ (دلائل الخیرات)
ان احادیث مبارکہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بعد از وصال ظاہری درود و سلام سننا بھی ثابت ہوگیا۔ شارح بخاری امام قسطلانی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں، (جمہور علماء کا اتفاق ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور وفات میں کوئی فرق نہیں ہے آپ اب بھی اپنی امت کا مشاہدہ فرمارہے ہیں اور ان کی حالتوں ، نیتوں ، ارادوں اور دل کے خیالات کو بھی جانتے ہیں اور یہ سب امور آپ پربالکل ظاہر ہیں ان میں کوئی شے پوشیدہ نہیں ہے) ۔ (مواہب الدینہ ج ۲)
# تمام انبیاء کرام علیہم السلام کو اللہ تعالی نے علم غیب عطا فرمایا اور اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( علم ما کان وما یکون ) یعنی کائنات میں جو کچھ ہو چکا اور جو آئندہ ہوگا ، ان سب کا علم عطا فرمایا ۔ ارشاد باری تعالی ہے، ( اللہ تعالی یوں نہیں کہ تم لوگوں کو غیب پر مطلع کر دے لیکن اللہ تعالی اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے )۔ (آل عمران : ۱۷۹)
دوسری جگہ فرمایا ، (اے حبیب ۔ تم کو سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے)۔ (النساء : ۱۱۳) ایک جگہ یوں ارشاد ہوا، (یہ غیب کی خبریں ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں )۔ (ھود : ۴۹) جن آیات قرآنی میں علم غیب کی نفی کی گئی ہے ان سے مراد اس علم کی نفی ہے جو ذاتی یعنی بغیر خدا کے بتائے ہو۔ پس اللہ تعالی کے بتائے بغیر کوئی غیب نہیں جانتا۔
شیخ الاسلام اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ خالص الاعتقاد میں فرماتے ہیں ، (بلا شبہ غیر اللہ کے لئے ایک زرہ کا علم ذاتی نہیں ہوسکتا ، مساوی تو درکنار تمام اولین و آخرین و انبیاء و مرسلین و ملائکہ مقربین سب کے علوم مل کر علوم الہیہ سے وہ نسبت نہیں رکھتے جو کروڑہا کروڑ سمندروں سے ایک ذرا سی بوند کے کروڑویں حصے کو ہے کہ وہ تمام سمندر اور یہ بوند کا کروڑواں حصہ دونوں متناہی اور محدود ہیں اور متناہی کو متناہی سے نسبت ضرور ہوتی ہے جبکہ علوم الہیہ غیر متناہی در غیر متناہی در غیر متناہی ہیں)۔
علم غیب عطائی اللہ تعالی کی شان کے منافی اور انبیاء کرام ہی کی شان کے لائق ہے بعض لوگوں کا یہ اعتراض کہ ہر ذرہ کا علم نبی کے لئے ماننے سے خالق و مخلوق کی برابری لازم آئے گی، باطل و مردود ہے کیونکہ محدود لامحدود اور ذاتی و عطائی کا فرق موجود ہے اس فرق کے ہوتے ہوئے بھی اگر برابری ممکن ہو تو لازم ہوگا کہ ممکن یعنی مخلوق اور واجب یعنی اللہ تعالی وجود میں برابر جائیں کیونکہ مخلوق بھی موجود ہے اور اللہ تعالی بھی موجود ، اور وجود میں مساوی کہنا صریح کفر و شرک ہے۔ تعصب سے ہٹ کر دیکھا جائے تو واضح ہوگا کہ انبیاء علیہم السلام غیب کی خبریں دینے کے لئے ہی آتے ہیں کہ جنت و دوزخ ، حشر و نشر اور عذاب و ثواب غیب نہےں تو اور کیا ہیں ؟ ان کا منصب ہی یہ ہے کہ وہ باتیں ارشاد فرمائیں جن تک عقل و حواس کی رسائی نہیں اور اسی کا نام غیب ہے ۔ اولیاء کو بھی انبیاء کرام کے وسیلے سے علم غیب عطائی حاصل ہوتا ہے انبیاء کرما کے لئے اللہ عزوجل کا دیا ہوا علم غیب ماننا ضروریات دین سے ہے کیونکہ یہ قرآن اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے ۔ مطلق علم غیب کا منکر کافر ہے کہ سرے سے نبوت ہی کا منکر ہے ۔
# اہلسنت کا عقیدہ ہے کہ جس طرح روح اپنے بدن کے ہر جزو میں موجود ہوتی ہے اسی طرح روح مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقت کائنا ت کے ہر ذرے میں جاری و ساری ہے جس کی بنا ء پر جان کائنات صلی اللہ علیہ وسلم تمام کائنات کو اپنی ہتھیلی مبارک کی طرح ملاحظہ فرماتے ہیں، دور و نزدیک کی آوازیں یکساں سنتے ہیں اور اپنی روحانیت و نورانیت کے ساتھ بیک وقت متعدد مقامات پر تشریف فرما ہوسکتے ہیں۔ جمہور اہلسنت کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضر و ناظر ہونے کا یہی مفہوم ہے۔
ارشاد باری تعالی ہوا ، ( یہ نبی مسلمانوں کی جانوں سے زیادہ ان کے قریب ہے )۔ ( الاحزاب : ۶ ) یہ بھی ارشاد ہوا، ( اے غیب بتانے والے ! بیشک ہم نے آ پ کو بھیجا حاضر و ناظر )۔ ( الاحزاب : ۴۵، الفتح : ۸ ) اس آیت کی تفسیر میں امام رازی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں ، ( مفسرین کرام نے بیان کیا ہے کہ (شاھدا ) کا معنی یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے افعال کا مشاہدہ فرماتے ہیں ) ۔ ( تفسیر کبیر ) سورہ البقرہ کی آیت ( ۱۴۳ ) کی تفسیر میں شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں ، (حضور علیہ السلام تمہارے گناہوں ، تمہارے ایمان کے درجات، تمارے نیک و بد اعمال اور تمہارے اخلاص و نفاق کو جانتے ہیں )۔ ( تفسیر عزیزی ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دلوں کی کیفیات سے آگاہ ہونا۔ اس حدیث صحیح سے بھی ثابت ہے ، ارشاد ہوا، (خدا کی قسم ! مجھ پرنہ تمہارا رکوع پوشیدہ ہے اور نہ خشوع ( نہ کہ دل کی ایک کیفیت ہے ) ، اور بیشک میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں )۔ ( بخاری )
آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے ، (بیشک میں تمہارا سہارا اور تم پر گواہ ہوں ، اور خدا کی قسم ! میں اپنے حوض کوثر کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور بیشک مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں عطا کر دی گئی ہیں)۔ (بخاری) دوسری حدیث میں ہے ، ( میں وہ چیزوں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اورمیں وہ آوازیں سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے ، آسمان چرچرا رہا ہے اور اس کو ایسا ہی کرنا چاہیے کیونکہ اس میں چار انگشت جگہ بھی ایسی نہیں ہے جہاں کوئی فرشتے سجدہ میں نہ ہو )۔ (ترمذی) ایک اور ارشاد گرامی ہے ، (اللہ تعالی نے میرے لئے دنیا کو ظاہر فرمایا پس میں دنیا کو اور جو کچھ اس میں قیامت تک ہونے والا ہے ، سب کو اس طرح دیکھ رہا ہوں جیسے اپنی اس ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں )۔ (طبرانی ، ابو نعیم)
بعض کم عقل اور ناسمجھ لوگ جہالت و تعصب کے باعث انبیاء کرام کی ان صفات کا انکار کرتے ہیں اور اپنی د انست میں ان صفا ت کا ماننا شرک گردانتے ہیں حالانکہ قرآن و حدیث میں انبیاء کرام کے غلاموں کی بھی اعلی شان بیان ہوئی ہے، سورہ النمل میں ہے کہ جب حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں یمن کی وادی صبا سے تخت بلقیس کو لانے کا ذکر ہو ا تو ، (اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے حضور میں حاضر کردوں گا پلک جھپکنے سے پہلے)۔ (النمل : ۴۰) اور پھر حضرت سلیمان علیہ السلام کے اس امتی نے پلک جھپکنے سے پہلے وہ تخت یمن سے بیت المقدس میں حاضر کردیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم سے دریائے نیل جاری ہو گیا۔ (تاریخ الخلفاء)
حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر کے ساتھ نہاوند میں جہاد کر رہے تھے اور کافر پہاڑ کی طرف سے حملہ کرنا چاہتے تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ طیبہ میں خطبہ دیتے ہوئے یہ سب کچھ دیکھ لیا تو پکارا ، ( اے ساریہ ! پہاڑ کو لو )۔ میلوں دور مجاہدین نے یہ آواز سن لی اور پہاڑ کی طرف ہوگئے پھر فتح پائی ۔ (مشکوہ ) اولیاء اللہ کا یہ تصرف و اختیار اللہ عزوجل ہی کا عطا کردہ ہے حدیث قدسی ہے کہ رب تعالی نے فرمایا ، ( میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے ۔ یہانتک کہ میں اسے اپنا محبوب بنالیتا ہوں تو میں اس کے کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے ، اور اس کی آنکھیں ہو جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے ، اور اس کے ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اور اس کے پاؤں ہوجاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسکو دیتا ہو اور اگر وہ میری پناہ مانگے تو اس کو پناہ دیتا ہوں)۔ (بخاری )
امام رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ جب اللہ کا نور جلال بندے کی سماعت ہو جاتا ہے تو وہ بندہ دور و نزدیک کی آوازوں کو یکساں سن سکتا ہے اور جب یہ نور بندے کی بصارت ہوجاتا ہے تو وہ دور و نزدیک کی چیزوں کو یکساں دیکھ سکتا ہے اور جب یہی نور بندے کا ہاتھ ہوجائے تو وہ دور و نزدیک کی چیزوں میں تصرف کرنے پر قادر ہوجاتا ہے ۔ اللہ اکبر! جب اولیاء کرام کی یہ شان ہے تو انبیاء علیہم السلام کا مقام تو یقینا بہت اعلی و ارفع ہے، قادر مطلق اللہ عزوجل نے اپنے کرم سے وعدہ فرمایا ہے کہ ہر آنے والا لمحہ رحمت عالم ﷺ کے لئے پہلے سے بہتر ہے (الضحی : ۴) گویا لمحہ بہ لمحہ آپ کے درجات و مراتب میں ترقی ہو رہی ہے۔
# نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حرف (یا ) کے ساتھ ندا کرنا اور (الصلوہ والسلام علیک یا رسول اللہ ) کہنا نہ صرف صحابہ کرام کی سنت ہے بلکہ اس دور میں صحیح العقیدہ مسلمان ہونے کی علامت ہے ، اسے کفر و شرک کہنے والا خود گمراہ بد مذہب ہے۔ رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نابینا صحابی کو قضائے حاجت کے لئے یہ دعا تعلیم فرمائی ۔ (ترجمہ ) (اے اللہ ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں تیرے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے جو کہ نبیء رحمت ہیں ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کے دربارمیں اس لئے متوجہ ہوا ہوں کہ میری یہ حاجت پوری ہوجائے ، یا اللہ ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما)۔ (حاکم ، ترمذی ، ابن ماجہ ، نسائی ، بیہقی، طبرانی)
امام بخاری نے الادب المفرد میں روایت کیا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا پاؤں سو گیا کسی نے کہا، انہیں یاد کرو جو تمہیں سب سے زیادہ محبوب ہیں آپ نے بلند آواز سے فرمایا ، یا محمداہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ، تو آپ کا پاؤں فورا صحیح ہو گیا ۔ امام نووی نے کتاب الاذکار میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی ا للہ عنہما کا اورابن اثیر نے تاریخ کامل میں حضرت بلال بن الحارث المزنی رضی اللہ عنہ کا یا محمداہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ندا کرنا روایت کیا ہے ۔نسیم الریاض شرح شفائے عیاض میں ہے کہ اہل مدینہ میں یا محمداہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کہنے کا رواج عام ہے ۔ آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کو حرف ندا کے ساتھ مخاطب کر کے سلام عرض کرنا یعنی (السلام علیک ایھا النبی ) کہنا جب نماز میں واجب ہے تو نماز کے باہر کیسے شرک ہوسکتا ہے؟ شیخ عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ فرماتے ہیں ، (یہ خطاب اس لئے ہے کہ حقیقت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم موجودات کے ذرے ذرے میں اورممکنات کے ہر فرد میں سرایت کیے ہوئے ہے پس نور کبریا صلی اللہ علیہ وسلم ہر نمازی کی ذات میں موجود و حاضر ہیں نمازیوں کو چاہیے کہ اس حقیقت سے آگاہ رہیں )۔ (اشعتہ اللمعات) امام عبد الوہاب شعرانی نے کتاب المیزان میں ، امام غزالی نے احیاء العلوم میں ، حافظ ابن حجر نے فتح الباری شرح بخاری میں ، امام عینی نے عمدہ القاری شرح بخاری میں اور امام قسطلانی نے مواہب الدنیہ میں یہی عقیدہ بیان کیا ہے ۔ (رحمہم اللہ تعالی علیہم اجمعین )
# ارشاد باری تعالی ہے ، (اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو) ۔ (المائدہ : ۳۵ ، کنز الایمان ) وسیلہ کی دو قسمیں ہیں اول یہ کہ جسے وسیلہ بنایا جائے بارگاہ الہی میں قرب حاصل کرنے کے لئے دعا میں اس کا ذکر کیا جائے ، جیسا کہ قرآن حکیم میں ہے ، (اور اس سے پہلے وہ اسی نبی کے وسیلے سے کافروں پر فتح مانگتے تھے )۔ (البقرہ : ۸۹) صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو وسیلہ بنا کر دعا کی ۔
دوم یہ کہ کسی مقرب بندے سے منسوب جگہ یا کسی عمل صالح کو وسیلہ بنایا جائے جیسے کہ قرآن کریم میں حضرت زکریا علیہ السلام کا حضرت مریم علیہا السلام کی محراب میں کھڑے ہوکر اولاد کے لئے دعا کرنا (آل عمران : ۳۸) ، حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیض سے حضرت یعقوب علیہ السلام کا بینائی حاصل کرنا (یوسف : ۹۲)، تبرکات انبیاء والے تابوت سے بنی اسرائیل کی مشکلیں آسان ہونا (البقرہ : ۲۴۸) بیان ہوا ہے ۔
احادیث مبارکہ سے بھی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا حضور علیہ السلام کا جبہ مبارک دھو کر مریضوں کو پلاتیں تو وہ شفا یاب ہوجائے (مسلم ) حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے برکت کے لئے اپنی ٹوپی میں موئے مبارک سی رکھے تھے (حاکم ، بیہقی) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما منبر نبوی پر اپنے ہاتھ پھیر کر منہ پر ملتے (کتاب الشفا) ایک صحابی نے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے چادر مانگی تاکہ ان کا کفن بنے (بخاری) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے صحابہ کرام کو روضہء اقدس کے وسیلے سے بارش مانگنے کا طریقہ بتایا (مشکوہ ) حضرت سفنیہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وسیلہ پیش کیا تو شیر مطیع ہوگیا ۔ (مشکوہ)
# رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل کے محبوب اور نائب مطلق ہیں ، رب تعالی کی دی ہوئی طاقت سے تمام جہان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا محکوم ہے آپ کے حکم کے خلاف کوئی کچھ نہیں کر سکتا ۔ آپ مالک شریعت بنائے گئے ، جو چاہیں حرام فرمائیں اور جس پر جو چاہیں حلال فرمائیں ۔
اللہ تعالی کی تمام نعمتیں آپ ہی کے دربار سے تقسیم ہوتی ہیں ، آپ کا فرمان عالیشان ہے ، ( بیشک میں تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ تعالی عطا فرمانے والا ہے ) ۔ ( بخاری ، مسلم ) متعدد صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان بارگاہ نبوی میں مشکل کشائی کے لئے فریاد کرتے ، آپ کو قضائے حاجات کے لئے وسیلہ بناتے اور آپ اللہ تعالی کے دیے ہوئے تصرف و اختیار سے ان کی حاجت روائی اور مشکل کشائی فرماتے ، اختصار کے ساتھ چند دلائل پیش خدمت ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حافظہ مانگا جو عطا ہوا ۔ ( بخاری ) حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ نے جنت مانگی ، آپ نے عطا فرمائی ( مسلم ، ابو داؤد ، ابن ماجہ) حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ کو بھی جنت عطا فرمائی ( بخاری ) ایک صحابی نے قحط پڑنے پر فریاد کی ، آپ کی دعا سے بارش ہوئی ( بخاری ، مسلم ) حدیبیہ کے دن صحابہ کرام نے پانی کے لئے فریاد کی ، آپ کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہوئے جس سے تقریبا ڈیڑھ ہزار صحابہ سیراب ہوئے ( بخاری ، مسلم ) آپ نے ستر اصحاب صفہ کو ایک پیالہ دودھ سے سیر کر دیا ( بخاری ) حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے گھر ہانڈی میں لعاب دہن ڈال کر ایک ہزار صحابہ کو شکم سیر فرما دیا ( بخاری ) سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی ٹوٹی ہوئی پنڈلی کو جور دیا ( بخاری ) تیر لگنے سے قتادہ رضی اللہ عنہ کی باہر نکلی ہوئی آنکھ پھر روشن فرمادی ، معوذ رضی اللہ عنہ کا کٹا ہوا بازو جوڑ دیا ، ایک گونگے کو قوت گویائی عطا فرمادی ۔ (کتاب الشفا)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال ظاہری کے بعد پکارنے سے متعلق چند دلائل پہلے پیش کیے جاچکے ، مزید چند دلائل ملاحظہ فرمائیں ۔ ایک اعرابی نے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضر ہو کر مغفرت مانگی ، روضہ مبارک سے اواز آئی ، تجھے بخش دیا گیا۔ ( جذب القلوب ، مدارج النبوہ ) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات سے قبل وصیت فرمائی کہ میرے جنازے کو روضہ نبوی پر لے جا کر دفن کی اجازت طلب کرنا، صحابہ کرام نے ایسا ہی کیا تو روضہ اقدس سے آواز آئی ، حبیب کو حبیب کے پاس لے آؤ۔ ( تفسیر کبیر ج ۵ ص ۴۷۵)
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ صحابہ کرام کے ہمراہ جب مسلیمہ کذاب کے لشکر سے برسر پیکار تھے اس وقت سب کی زبان پر یہ ندا تھی، یا محمداہ (یا رسول اللہ ﷺ! مدد فرمائیے) پھر مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی ۔ (ابن اثیر ، طبری ، البدایہ والنہایہ) حضرت کعب بن ضمرہ رضی اللہ عنہ اپنی فوج کے ساتھ جب حلب کی فتح کے لئے لڑرہے تھے تو پکارتے تھے ، یا محمد یا محمد یا نصر اللہ انزل یعنی یا رسول اللہ ﷺ ! اے اللہ کی مدد نزول فرما ، انہیں فتح حاصل ہوئی ۔ (فتوح الشام ، ناسخ التواریخ)
# ارشاد باری تعالی عزوجل ہے ، (اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لئے )۔ (الانبیاء : ۱۰۷ ، کنزا لایمان )آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اور ہر لمحہ کائنات کے لئے رحمت ہیں ا ور رحمت ہونے کے لئے ضروری ہے کہ حضور علیہ السلام تمام جہان والوں کے لئے حاضر و ناضر ہوں ، ان کے پکار کو سنتے ہوں اور ان کی مشکل کشائی و حاجت روائی پر قدرت و اختیار ہوں، جیسا کہ دلائل و براہین کی روشنی میں بیان کیا جاچکا کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے ا ستمداد و استعانت ہر دور میں صالحین کا معمول رہا ہے اور آقا علیہ السلام اپنے غلاموں کی دستگیری فرماتے رہے ہیں اور کیوں نہ ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حاضر و ناظر ہونا ، اپنے غلاموں کی پکار کو سننا اور اللہ عزوجل کے دیے ہوئے تصرف و اختیار سے ان کی حاجت روائی اور مشکل کشائی فرمانا ، یہ سب امور آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے رحمتہ اللعالمین ہونے کی دلیل ہیں۔
# اللہ عزوجل نے انبیاء علیہ السلام پر جو کتابیں نازل فرمائیں وہ سب حق ہیں البتہ اب وہ اصل حالت میں موجود نہیں ہیں ، لوگوں نے ان میں تحریف کردی پھر اللہ تعالی نے بے مثل رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بے مثل و بے مثال کتاب قرآن عظیم نازل فرمائی اور اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ۔ ارشاد ہوا ، ( بیشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بیشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں )۔ (الحجر :۹ ، کنزا لایمان )
سب جن و انسان مل کر کوشش کریں تب بھی اس میں ایک حرف کی کمی بیشی نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس کی مثل کوئی آیت بنائی جاسکتی ہے یہ ایک عظیم معجزہ ہے ۔ جو یہ کہے کہ قرآن کریم میں کسی نے کچھ گھٹا دیا یا بڑھا دیا یا اصلی قرآن غائب امام کے پاس ہے وہ کافر ہے ۔ یہی اصل قرآن ہے اور ا س پر ایمان لانا ہر شخص پر لازم ہے ۔

( وصلی اللہ تعالی علی خیر خلقہ سیدنا محمد و آلہ و اصحابہ اجمعین )

عقائد متعلقہ ذات و صفات الہی

#####################
عقائد متعلقہ ذات و صفات الہی
رب تعالی کے لئے عیب محال ہے
متشابہ الفاظ کا حکم
رب کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں
تقدیر کی قسمیں
بندوں کی ربانی صفات
استعانت کی قسمیں

#######################
عقائد متعلقہ ذات و صفات الہی
# ارشاد باری تعالی ہوا ، (تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے ، اللہ بے نیاز ہے ، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی ) ۔ (سورہ الاخلاص ۔ کنزالایمان از امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ)
# دوسری جگہ ارشاد ہوا ، اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ آپ زندہ اور اوروں کا قائم رکھنے والا ( ہے ) ، اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند ، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ، وہ کون ہے جو اس کے یہاں سفارش کرے بے اسکے حکم کے ، جانتا ہے جو کچھ انکے آگے ہے اور جو کچھ انکے پیچھے، اور وہ نہیں پاتے اسکے علم میں سے مگر جتنا وہ چاہے ، اس کی کرسی میں سمائے ہوئے ہیں آسمان اور زمین ، اور اسے بھاری نہیں ان کی نگہبانی ، اور وہی ہے بلند بڑائی والا ) ۔ (البقرہ : ۲۵۵ ، کنزالایمان )
# اللہ تعالی واجب الوجود ہے یعنی اس کا وجود ضروری اوع عدم محال ہے اس کو یوں سمجھیے کہ اللہ تعالی کو کسی نے پیدا نہیں کیا بلکہ اسی نے سب کو پیدا کیا ہے وہ خود اپنے آپ سے موجود ہے اور ازلی و ابدی ہے یعنی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا ۔ اس کی تمام صفات ا سکی ذات کی طرح ازلی و ا بدی ہیں۔
# اللہ تعالی سب کا خالق و مالک ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ وہ جسے چاہے زندگی دے ، جسے چاہے موت دے ، جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے، وہ کسی کا محتاج نہیں سب اس کے محتاج ہیں ، وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے اسے کوئی روک نہیں سکتا ، سب اس کے قبضہء قدرت میں ہیں۔
# اللہ تعالی ہر شے پر قادر ہے مگر کوئی محال اس کی قدرت میں داخل نہیں ، محال اسے کہتے ہیں جو موجود نہ ہو سکے مثال کے طور پر دوسرا خدا ہونا محال یعنی ناممکن ہے تو اگر یہ زیر قدرت ہو تو موجود ہوسکے گا اور محال نہ رہے گا جبکہ اس کو مہال نہ مانناوحدانیت الہی کا انکار ہے ۔ اسی طرح اللہ عزوجل کا فنا ہونا محال ہے اگر فنا ہونے پر قدرت ما ن لی جائے تو یہ ممکن ہوگا اور جس کا فنا ہونا ممکن ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا ۔ پس ثابت ہوا کہ محال و ناممکن پر اللہ تعالی کی قدرت ماننا اللہ عزوجل ہی کا انکار کرنا ہے۔
# تمام خوبیاں اور کمالات اللہ تعالی کی ذات میں موجود ہیں اور ہر وہ بات جس میں عیب یا نقص یا نقصان یا کسی دوسرے کا حاجتمند ہونا لازم آئے اللہ عزوجل کے لیے محال و ناممکن ہے جیسے یہ کہنا کہ (اللہ تعالی جھوٹ بول سکتا ہے ) اس مقدس پاک بے عیب ذات کو عیبی بتانا ہے ور درحقیقت اللہ تعالی کا انکار کرنا ہے ۔ خوب یاد رکھیے کہ ہر عیب اللہ تعالی کے لیے محال ہے اور اللہ تعالی ہر محال سے پاک ہے ۔
# اللہ تعالی کی تمام صفات اس کی شان کے مطابق ہیں ، بیشک وہ سنتا ہے ، دیکھتا ہے ، کلام کرتا ہے ، ارادہ کرتا ہے ، مگر وہ ہماری طرح دیکھنے کےلیے آنکھ ، سننے کے لےے کان ، کلام کرنے کے لیے زبان اور ارادہ کرنے کے لیے ذہن کا محتاج نہیں کیونکہ یہ سب اجسام ہیں ۔ اور وہ اجسام اور زماں و مکاں سے پاک ہے نیز اس کا کلام آواز و الفاظ سے بھی پاک ہے ۔
# قرآن و حدیث میں جہاں ایسے الفاظ آئے ہیں جو بظاہر جسم پر دلالت کرتے ہیں جیسے (ید ، وجھہ ، استوا ) وغیرہ ان کے ظاہری معنی لینا گمراہی و بد مذہبی ہے ۔ ایسے متشابہ الفاظ کی تاویل کی جاتی ہے ۔ کیونکہ ان کا ظاہری معنی رب تعالی کے حق میں محال ہے مثال کے طور پر ( ید ) کی تاویل قدرت سے ، ( وجھہ ) کی ذات سے اور استواء کی غلبہ و توجہ سے کی جاتی ہے ۔ بلکہ احتیاط اس میں ہے کہ بلا ضرورت تا ویل کرنے کی بجائے ان کے حق ہونے پر یقین رکھے ۔ ہمارا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ ( ید ) حق ہے ، ( استواء ) حق ہے مگر اس کا ( ید ) مخلوق کا سا ( ید ) نہیں اور اس کا ( استواء ) نہیں ۔
# اللہ تعالی بے نیاز ہے وہ جسے چاہے اپنے فضل سے ہدایت دے اور جسے چاہے اپنے عدل سے گمراہ کرے۔ یہ اعتقاد رکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اللہ تعالی عادل ہے ۔ کسی پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا ، کسی کو اطاعت یا معصیت کے لیے مجبور نہیں کرتا ، کسی کو بغیر گناہ کے عذاب نہیں فرماتا ۔ اور نہ ہی کسی کا اجر ضائع کرتا ہے ، وہ استطاعت سے زیادہ کسی کو آزمائش میں نہیں ڈالتا اور یہ اس کا فضل و کرم ہے کہ مسلمانوں کو جب کسی تکلیف ب مصیبت میں مبتلا کرتا ہے اس پر بھی اجر و ثواب عطا فرماتا ہے ۔
# اس کے ہر فعل میں کثیر حکمتیں ہوتی ہیں خواہ وہ ہماری سمجھ میں آئے یا نہیں۔ اس کی مشیت اور اراد ے کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا مگر وہ نیکی سے خوش ہوتا ہے اور برائی سے ناراض ۔ برے کا م کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کرنا بے ادبی ہے اس لیے حکم ہوا ، ( تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے ) ۔ ( النساء : ۷۹ ) پس برا کام کر کے تقدیر یا مشیت الہی کی طرف منسوب کرنا بہت بری بات ہے اس لیے اچھے کام کو اللہ عزوجل کے فضل و کرم کی طرف منسوب کرنا چاہیے اور بر ے کام کو شامت نفس سمجھنا چاہیے۔ اللہ تعالی کے وعدہ و وعید تبدیل نہیں ہوتے، اس نے اپنے کرم سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ کفر کے سوا ہر چھوٹے بڑے گناہ کو جسے چاہے معاف فرمادے گا، مسلمانوں کو جنت میں داخل فرمائے اور کفار کو اپنے عدل سے جہنم میں ڈالے گا۔
# بیشک اللہ تعالی رازق ہے وہی ہر مخلوق کو رزق دیتا ہے حتی کہ کسی کونے میں جالا بنا کر بیٹھی ہوئی مکڑی کے رزق کو پر لگا کر اڑاتا ہے ۔ اور اس کے پاس پہنچا دیتا ہے ۔ حدیث شریف میں ہے ، ( بیشک بندے کا رزق اس کو ایسے تلاش کرتا ہے جیسے اسے موت ڈھونڈتی ہے )۔ یعنی جب موت کا بروقت آنا یقینی ہے تو رزق کا ملنا بھی یقینی ہے۔ اللہ عزوجل جس کا رزق چاہے وسیع فرماتا ہے اور جس کا رزق چاہے تنگ کردیتا ہے ایسا کرنے میں اس کی بے شمار حکمتیں ہیں ، کبھی وہ رزق کی تنگی سے آزماتا ہے اور کبھی رزقی فراوانی سے ، پس بندے کو چاہیے کہ وہ حلال ذرائع اختیار کرے۔
مشکوہ میں ہے کہ ( رزق میں دیر ہونا تمہیں اس پر نہ اکسائے کہ تم اللہ تعالی کی نافرمانی سے رزق حاصل کرنے لگو ) ۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے ، ( اور جو ڈرتا رہتا ہے اللہ تعالی سے ، اس کے لیے و ہ نجات کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا ، اور جو اللہ تعالی پر بھروسہ رکھے گا تو اس کے لیے وہ کافی ہے )۔ (الطلاق : ۳)
# اللہ عزوجل کا علم ہر شے کو محیط ہے اس کے علم کی کوئی انتہا نہیں ، ہماری نیتیں اور خیالات بھی اس سے پوشیدہ نہیں ، وہ سب کچھ ازل میں جانتا تھا اب بھی جانتا ہے اور ابد تک جانے گا ، اشیاء بدلتی ہیں مگر اس کا علم نہیں بدلتا ۔ ہر بھلائی برائی اس نے اپنے ازلی علم کے مطابق تحریر فرمادی ہے جیسا ہونے والا تھا اور جو جیسا کرنے والا تھا اس نے لکھ لیا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ جیسا ہم اپنے ارادے اور اختیار سے کرنے والے تھے ویسا اس نے لکھ دیا یعنی اسکے لکھ دینے نے کسی کو مجبور نہیں کردیا ورنہ جزا کا فلسفہ بے معنی ہر کر رہ جاتا ، یہی عقیدہ تقدیر ہے۔
قضا و تقدیر کی تین قسمیں ہیں
(۱) ۔ قضائے مبرم حقیقی
یہ لوح محفوظ میں تحریر ہے اور علم الہی میں کسی شے پر معلق نہیں، اس کا بدلنا ناممکن ہے اللہ تعالی کے محبوب بندے بھی اگر اتفاقا اس بار ے میں کچھ عرض کرنے لگیں تو انہیں خیال سے واپس فرما دیا جاتاہے ۔
( ۲) ۔ قضائے معلق
اس کا صحف ملائکہ میں کسی شے پر معلق ہونا ظاہر فرما دیا گیا ہے اس تک اکثر اولیاء اللہ کی رسائی ہوتی ہے یہ تقدیر ان کی دعا سے یا اپنی دعا سے یا والدین کی خدمت اور بعض نیکیوں سے خیر و برکت کی طرف تبدیل ہوجاتی ہے اور اسی طرح گناہ و ظلم اور والدین کی نافرمانی وغیرہ سے نقصان کی طرف تبدیل ہوجاتی ہے ۔
( ۳) ۔ قضائے مبرم غیر حقیقی
یہ صحف ملائکہ کے اعتبار سے مبرم ہے مگر علم الہی میں معلق ہے اس تک خاص اکابر کی رسائی ہوتی ہے نبی کریم ﷺ اور انبیاء کرام علیہم السلام کے علاوہ بعض مقرب اولیاء کی توجہ سے اور پر خلوص دعاؤں سے بھی یہ تبدیل ہوجاتی ہے ۔ سرکار غوث اعظم سیدنا عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ، میں قضائے مبرم کو رد کردیتا ہوں۔ حدیث پاک میں اسی کے بارے میں ارشاد ہوا ، بیشک دعا قضائے مبرم کو ٹال دیتی ہے ۔
مثال کے طور پر فرشتوں کے صحیفوں میں زید کی عمر (۶۰) برس تھی اس نے سرکشی و نافرمانی کی تو (۲۰) برس پہلے ہی اس کی موت کا حکم آ گیا یا اس نے نیکیاں کیں تو (۲۰) برس مزید زندگی کا حکم فرمایا دیا گیا ، یہ تقدیر میں تبدیلی ہوئی لیکن علم الہی ور لوح محفوظ میں وہی (۴۰) یا (۸۰) برس لکھی ہوئی تھی اور اسی کے مطابق ہوا۔
# قضا و قدر کے مسائل عام عقلوں میں نہیں آسکتے اس لیے ان میں بحث اور زیادہ غور و فکر کرنا ہلاکت و گمراہی کا سبب ہے صحابہ کرام علیہم الرضوان اس مسئلہ میں بحث کرنے سے منع فرمائے گئے تو ہم اور آپ کس گنتی میں ہیں ۔ بس اتنا سمجھ لیجے کہ اللہ تعالی نے آدمی کو پتھر کی طرح بے اختیار و مجبور نہیں پیدا کیا بلکہ اسے ایک طرح کا اختیار دیا ہے کہ وہ کوئی کام چاہیے کرے ، چاہے نہ کرے ور اسکے ساتھ ہی عقل بھی دی ہے کہ اپنے بھلے برے اور نفع نقصان کو پہچان سکے اور سکے لیے ہر قسم کے اسباب بھی مہیا کردیے ہیں ۔ جب بندہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے اسی قسم کے اسباب اختیار کرتاہے اسی بنا پر مواخذہ اور جزا و سزا ہے خلاصہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو بالکل مجبور یا بالکل مختار سمجھنا دونوں گمراہی ہیں ۔
# ہدایت دینے والا اللہ تعالی ہے حبیب کبریا ﷺ وسیلہ ہیں چنانچہ ارشاد ہوا ، (اور بیشک تم ضرور سیدھی راہ بتاتے ہو)۔ (الشوری : ۵۲) شفا دینے والا وہی ہے مگر اس کی عطا سے قرآن آیات اور دواؤ ں میں بھی شفا ہے ارشاد ہوا ، (اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے)۔ (بنی اسرائیل : ۸۲) شہد کے بارے میں فرمایا گیا ، (اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے)۔ (النحل : ۶۹)
بیشک اللہ تعا لی ہی اولاد دینے والا ہے مگر اس کی عطا سے اس کے مقرب بندے بھی اولاد دیتے ہیں حضرت جبریل علیہ السلام نے حضرت مریم علیہا السلام سے فرمایا، (میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں)۔ (مریم : ۱۹ ، کنز الایمان )
اللہ عزوجل ہی موت اور زندگی دینے والا ہے مگر اسکے حکم سے یہ کام مقرب بندے کرتے ہیں ارشاد ہوا ، (تمہیں وفات دیتا ہے موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر ہے)۔ (السجدہ : ۱۱)
حضرت عیسی علیہ السلام کا ارشاد ہے ، (میں مردے زندہ کرتا ہوں اللہ کے حکم سے )۔ (آل عمران : ۴۹) سورہ النزعت ، کی ا بتدائی آیات میں فرشتوں کا تصرف و اختیار بیان فرمایا گیا۔
قرآن حکیم میں اللہ تعالی کی بعض صفات بندوں کے لیے صراحتا بیان ہوئی ہیں جیسے سورہ الدھر آیت ۲ ، میں انسان کو (سمیع و بصیر ) کہا گیا ، سورہ البقرہ آیت ۱۴۳، میں حضور علیہ السلام کا (رؤف و رحیم ) ہونا بیان فرمایا گیا اسی طرح حیات ، علم ، کلام ، ارادہ وغیرہ متعدد صفات بندوں کے لیے بیان ہوئی ہوگی تو وہ ذاتی ، واجب ، ازلی ، ا بدی ، لا محدود اور شان خالقیت کے لائق ہوگی اور جب کسی مخلوق کے لیے ثابت ہوگی تو عطائی ، ممکن ، حادث ، عارضی، محدود اور شان مخلوقیت کے لائق ہوگی پس جس طرح اللہ تعالی کی ذات کسی اور ذات کے مشابہ نہیں اسی طرح اس کی صفات بھی مخلوق کی صفات کے مماثل نہیں۔
# استعانت کی دو قسمیں ہیں حقیقی اور مجازی ۔ استعانت حقیقی یہ ہے کہ کسی کو قادر بالذات ، مالک مستقل اور حقیقی مددگار سمجھ کر اس سے مدد مانگی جائے یعنی اس کے بارے میں یہ عقیدہ ہو کہ وہ عطائے الہی کے بغیر خود اپنی ذات سے مدد کرنے کی قدرت رکھتا ہے غیر خدا کے لیے ایسا عقیدہ رکھنا شرک ہے اور کوئی مسلمان بھی انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیائے عظام کے متعلق ایسا عقیدہ نہیں رکھتا۔ استعانت مجازی یہ ہے کہ کسی کو اللہ تعالی کی مدد کا مظہر ، حصول فیض کا ذریعہ اور قضائے حاجات کا وسیلہ جا ن کر اس سے مدد مانگی جائے اور یہ قطعا حق ہے اور قرآن و حدیث کا وسیلہ جان کر اس سے مدد مانگی جائے اور یہ قطعا حق ہے اور قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔
حضرت موسی علیہ السلام نے اپنے بھائی کو مددگار بنانے کی دعا کی جو قبول ہوئی ۔ ( طہ : ۳۶ ) حضرت عیسی علیہ السلام نو حواریوں سے مدد مانگی ۔ (آل عمران : ۵۲ ) ایمان والوں کو صبر اور نماز سے مدد مانگنے کا حکم دیا گیا ۔ ( البقرہ : ۱۵۳ ) حضرت ذوالقرنین کا لوگوں سے مدد مانگنا بھی قرآن میں مذکور ہے ۔ (الکہف : ۹۵) نیک کاموں میں مسلمانوں کو مدد گار بننے کا حکم دیا گیا ہے۔ (المائدہ : ۲) ایک جگہ صالحین اور فرشتوں کا مددگار ہونا یوں بیان فرمایا گیا ، بیشک اللہ ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے اور اس کے بعد فرشتے مددگار ہیں)۔ (التحریم : ۴) ایک جگہ یوں ارشاد ہوا ، (بیشک تمہارے مددرگار تو صرف اللہ تعالی اور اس کا رسول اور ایمان والے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوہ دیتے ہیں اور اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں)۔ (المائدہ : ۵۵)
ان دلائل و براہین سے ثابت ہوا کہ حقیقی مددگار و مشکل کشا اللہ تعالی ہی ہے ۔ اور اس کی عطا سے اس کے محبوب بندے بھی مددگار ہوتے ہیں ۔ پس محبوبان خدا کو مددگار و متصرف سمجھنا اور ان سے مدد مانگنا ہرگز شرک نہیں کیونکہ اللہ تعالی کا مددگار و مشکل کشا ہونا بالذات اور مخلوق سے بے نیاز و غنی ہو کر ہے جبکہ انبیاء کرام ، اولیاء عظام اور مومنوں کا مددگار و مشکل کشا ہونا اللہ تعالی کی عطا سے ہے اور یہ سب اللہ عزوجل کے فضل و کرم کے محتاج ہیں ۔ نیز ان کا تصرف و اختیار اور طاقت و قدرت اذن الہی کے تابع ہے۔
( وصلی اللہ تعالی علی خیر خلقہ سیدنا محمد و آلہ و اصحابہ اجمعین )