تقلید کے معنی اور اس کے اقسام

تقلید کے معنی اور اس کے اقسام

تقلید کے دو معنی ہیں- ایک لغوی، دوسرے شرعی- لغوی معنی ہیں- قلادہ ور گردن بستن گلے میں ہار یا پٹہ ڈالنا- تقلید کے شرعی معنی ہیں کہ کسی کے قول و فعل کے اپنے پر لازم شرعی جاننا یہ سمجھ کر کہ اس کا کلام اور اس کا کام ہمارے لئے حجت ہے- کیونکہ یہ شرعی محقق ہے- جیسے کہ ہم مسائل شرعیہ میں امام صاحب کا قول و فعل اپنے لئے دلیل سمجھتے ہیں اور دلائل شرعیہ میں نظر نہیں کرتے-
حا شیہ حسامی متابعت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں صفحہ 86 پر شرح مختصر المار سے نقل کیا اور یہ عبارت نورالانوار بحث تقلید میں بھی ہے-

التقلید اتباع الرجل غیرہ فیما سمعہ یقول اوفی فعلہ علٰی زعم انہ محق بلا نظر فی الدلیل-
تقلید کے معنی ہیں کسی شخص کا اپنے غیر کی اطاعت کرنا اس میں جو اس کو کہتے ہوئے یا کرتے ہوئے سن لے یہ سمجھ کر کہ وہ اہل تحقیق میں سے ہے- بغیر دلیل میں نظر کئے ہوئے-نیز امام غزالی کتاب المستصفٰی جلد دوم صفحہ 387 میں فرماتے ہیں التقلید ھو قبول قول بلا حجتہ- مسلم الثبوت میں ہے التقلید العمل بقول الغیر من غیر حجتہ-
ترجمہ وہ ہی جو اوپر بیان ہوا اس تعریف سے معلوم ہوا کہ حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی اطاعت کرنے کو تقلید نہیں کہہ سکتے- کیونکہ انکا ہر قول و فعل دلیل شرعی ہے تقلید میں ہوتا ہے – دلیل شرعی کو نہ دیکھنا- لٰہذا ہم حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے امتی کہلائیں گے نہ کہ مقلد- اسی طرح صحابہ ءکرام و آئمہ دین حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے امتی ہیں نہ کہ مقلد- اسی طرح عالم کی اطاعت جو عام مسلمان کرتے ہیں اس کو بھی تقلید نہ کہا جائے گا- کیونکہ کوئی بھی ان عالموں کی بات یا ان کے کا کو اپنے لئے حجت نہیں بناتا- بلکہ یہ سمجھ کر ان کی بار مناتا ہے کہ مولوی آدمی ہیں کتاب سے دیکھ کر کہہ رہے ہوں گے اگر ثابت ہو جائے کہ ان کا فتوٰی غلط تھا، کتب فقہ کے خلاف تھا تو کوئی بھی نہ مانے بخالف قول امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے کہ اگر وہ حدیث یا قرآن یا اجماع امت کو دیکھ کر مسئلہ فرمادیں تو بھی قبول اور اگر اپنے قیاس سے حکم دیں تو بھی قبول ہو گا- یہ فرق ضرور یاد رہے-
تقلید دو طرح کی ہے- تقلید شرعی اور غیر شرعی- تقلید شرعی تو شریعت کے احکام میں کسی کی پیروی کرنے کو کہتے ہیں- جیسے روزے، زکوٰۃ وغیرہ کے مسائل میں آئمہ دین کی اطاعت کی جاتی ہے اور تقلید غیر شرعی دنیاوی باتوں میں کسی کی پیروی کرنا ہے- جیسے طیب لوگ علم طب میں بوعلی سینا کی اور شاعر لوگ داغ، یا مرزا غالب کی یا نحوی و صرفی لوگ سیسوبیہ اور خلیل کی پیروی کرتے ہیں- اسی طرح ہر پیشہ ور اپنے پیشہ میں اس فن کے ماہرین کی پیروی کرتے ہیں- یہ تقلید دنیاوی ہے-
صوفیائے کرام جو وظائف و اعمال میں اپنے مشائخ کے قول و فعل کی پیروی کرتے ہیں وہ تقلید دینی تو ہے مگر تقلید شرعی نہیں بلکہ تقلید فی الطریقت ہے- اس لئے کہ یہ شرعی مسائل حرام و حلال میں تقلید نہیں- ہاں جس چیز میں تقلید ہے وہ دینی کام ہے-
تقلید غیر شرعی اگر شریعت کے خلاف میں ہے تو حرام ہے اگر خلاف اسلام نہ ہو تو جائز ہے بوڑھی عورتیں اپنے باپ داداؤں کی ایجاد کی ہوئی شادی غمی کی ان رسموں کی پابندی کریں جو خلاف شریعت ہیں تو حرام ہے اور طبیب لوگ جو طبی مسائل میں بو علی سینا وغیرہ کی پیروی کریں جو کہ مخالف اسلام نہ ہوں تو جائز ہے- اسی پہلی قسم کی حرام تقلید کے بارے میں قرآن کریم جگہ جگہ مما نعت فرماتا ہے اور ایسی تقلید کرنے والوں کی برائی فرماتا ہے-
ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکر نا واتبع ھواہ وکان امرہ فرطا- ( پارہ 15، سورۃ الکہف آیت 28 )
اور اس کا کہنا نہ مانو جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حد سے گزر گیا-
وان جا ھدک علٰی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما- ( پارہ21، سورہ لقمان آیت 15)
اور اگر وہ تجھ سے کوشش کریں کہ تو میرا شریک ٹھرا اس کو جس کا تجھ کو علم نہیں تو ان کا کہا نہ مان-
واذا قیل لھم تعالوا الٰی ما انزل اللہ والی الرسول قالوا حسبنا ما وجدنا علیہ وباتا اولو کان اٰباوھم لا یعلمون شیئا ولا یھتدون-( پارہ8 سورہ5 آیت 104)
اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ اس طرف جو اللہ نے اتارااور رسول کی طرف کہیں ہم کو وہ بہت ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا- اگرچہ ان کر باپ دادا کچھ نہ جانیں اور نہ راہ پر ہوں-
واذا قیل لھم اتبعوا ما انزل اللہ قالو ا بل نتبع ما الفینا علیہ ابائنا- ( پاری2 سورہ2 آیت 170)
اور جب ان سے کہا جاوے کہ اللہ کے اتارے ہوئے پر چلو تو کہیں گے ہم تو اس پر چلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا-
ان میں اور ان جیسی آیتوں میں اسی تقلید کی برائی فرمائی گئی جو شریعت کے مقابلہ میں جاہل باپ داداؤں کے حرام کاموں میں کی جاوے کہ چونکہ ہمارے پاب دادا ایسے کرتے تھے ہم بھی ایسا کریں گے- چاہے یہ کام جائز ہو یا نا جائز- رہی زرعی تقلید اور ائمہ دین کی اطاعت اس سے ان آیات کو کوئی تعلق نہیں ان آیتوں سے تقلید ائمہ کو شرک یا حرام کہنا محض نے دینی ہے- اس کا بہت خیال رہے-

ایک پرابلم

ایک پرابلم
رحیم خدا کا اسم ہے ۔
ان ربک لھو العزیز الرحیم
ترجمہ: تمھارا رب عزیز اور رحیم ہے۔
2۔ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی رحیم ہیں۔
لقد جآءکم رسول من انفسکم عزیز علیہ ماعنتم حریص علیکم بالمو منین رو ءف رحیم
ترجمہ: تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول آئے تمہاری تکلیف ان کو گراں گزرتی ہے اور تمہاری بھلائی کے بہت خواہش مند ہیں اور مومنوں کے لئے روف اور رحیم ہیں۔
3۔ اللہ کا نام بھی روف ہے۔
ان ربک لروف الرحیم (نحل ۔7)
ترجمہ: تمہارا رب روف اور رحیم ہے۔
4۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی روف ہے
وبالمو منین رئوف رحیم (توبہ۔128)
ترجمہ: اور مو منوں کے لئے وہ رؤف (تکلیف دہ امور ہٹانے والے ) اور رحیم (راحت رساں امور پہنچانے والے ہیں)۔
5۔ اللہ کا نام مومن ہے ۔
لا الہ الا ھو ۔ المک القدوس السلام المومن (حشر ۔ 23)
ترجمہ: اللہ کے سواکوئی معبود نہیں ۔ وہ بادشاہ قدوس ہے سلام ہے اور مومن ہے
6۔ بندے بھی مومن ہیں ۔
الذین یقیمون الصلوۃ ومما رز قنھم ینفقون او لئک ھم المو منون حقا
ترجمہ: وہ نماز قائم کرتے ہیں اللہ کے دیئے ہوئے میں سے خرچ کرتے ہیں وہی سچے مومن ہیں ۔
7۔ اللہ کا نام ولی ہے ۔
ام اتخذوا من دونہ اولیآء فااللہ ھو ا لولہ (شوریٰ۔9)
ترجمہ: کیا انہوں نے اس کے سوا کار ساز بنالئے ہیں ؟ولی تو خدا ہے ۔
8۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ولی ہیں ۔
انما ولیکم اللہ ورسولہ (مائدہ )
ترجمہ: تمہارا ولی اللہ ہے ۔ اس کا رسول ۔
9۔ علیم اللہ ہے ۔
نرفع درجت من نشاء ان ربک حکیم علیم (انعام ۔83)
ترجمہ: ہم جسے چاہتے ہیں درجے بلند کردیتے ہیں بے شک تمہارا رب حکیم اور علیم ہے۔
10۔ یوسف علیہ السلام کا نام بھی علیم ہے ۔
قال اجعلنی علی خزائن الارض انی حفیظ علیم (یوسف ۔ 58 )
ترجمہ:۔ یوسف علیہ السلام نے کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کردیجئے کیونکہ میں حفاظت کرنے والا علیم ہوں۔

مندرجہ بالا حوالہ جات کے بعد خلاصہ ملاحظہ ہو ۔
رب بھی رحیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی رحیم
رب بھی رؤف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مصطفٰےصلی اللہ علیہ وسلم بھی رؤف
اللہ مومن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بندہ بھی مومن
اللہ ولی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بندہ بھی ولی
اللہ علیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بندہ بھی علیم
اللہ حفیظ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بندہ بھی حفیظ
اللہ سمیع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بندہ بھی سمیع

( دو آدمی آپس میں جھگڑ رہے تھے میں نے پوچھا: بون آف کنٹنشن کیا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟ کہنے لگا یہ علی کو مشکل کشاء کہتا ہے مشکل کشاء صرف اللہ ہے ، حاجت روا صرف اللہ ہے میں نے پوچھا جناب کیا مشکل صرف اللہ دور کرتا ہے ؟ بولے ہاں میں نے کہاں بھوک لگی تھی آپ گھر گئے ۔ فورا بیوی نے روٹی پکا کردی ۔ آپ نے کھائی۔۔۔۔۔ جان میں جان آئی ۔۔۔۔۔ ایک مشکل تو آپ کی بیوی نے بھی حل کردی آپ دیوالیہ ہونے لگے ، آپ کی کروڑوں کی جائیداد بکنے لگی ۔ مگر ایک دوست نے آپ کی مطلوبہ رقم پینچادی اتنی بڑی مشکل کشاء پکاراٹھے تو کیا قیامت ہے ؟ وہ مجھے کہنے لگے مشکل کشاء صرف اللہ کو کہیں گے میں نے کہا ٹھیک ہے اب اپنے بیان پر قائم رہنا۔۔۔۔۔۔۔جو اللہ ہے وہ بندہ نہیں ہو سکتا یہی ہے ناں تمہارا مطلب ؟ وہ بولا ہاں ۔۔
اللہ رحیم ہے تو بندہ رحیم
اللہ مومن ہے بندہ بھی مومن
اللہ کو ولی کہتے ہی بندہ کو بھی ولی کہتے ہیں
بولو کہنے والا مشرک ہوگا ؟
رحیم اللہ کا نام ہے اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کہہ دیا تو کہنے والا مشرک ہوگا ؟ میں نے آیات بھی پڑھیں وہ خاموش ہو گیا میں نے کہا سن تجھے بتاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خدا رحیم ہے ذاتی طور ہر ۔۔۔۔۔ بندہ رحیم عطائی طور پر
اللہ ولی ہے ذاتی طور پر ۔۔۔۔۔ بندہ ولی ہے عطائی طور پر
اللہ علیم ہے ذاتی طور پر ۔۔۔۔۔ بندہ علیم ہے عطائی طور پر
اللہ حفیظ ہے ذاتی طور پر ۔۔۔۔۔ بندہ حفیظ ہے عطائی طور پر

فرق ہوگیا ناں ؟ اگر کوئی آدمی بندے کو مجازی طور پر مشکل کشاء کہنے سے کافر ہوجاتا ہے کیونکہ مشکل کشاء اللہ ہے تو پھر رحیم نبی کو کہا تو بھی کافر ہوناچاہیے ۔ علیم کہو تو کافر ، ولی کہنے سے بھی کافر ، اگر کافر ہو گا تو پھر اللہ نے رحیم ، علیم ، حفیظ ، سمیع ، ولی ، مومن باوجودیکہ اس کے نام ہیں بندوں کو ان ناموں سے کیوں مخاطب کیا ہے ؟ اگر غیر اللہ کو علیم ، حکیم ، حلیم ، کریم ، حفیظ ، سمیع ولی ، مومن کے اسماء سے پکارنے والا کافر نہیں ہوتا تو اسی طرح مجازی طور پر کسی کو مشکل کشاء کہنے سے بھی آدمی کافر نہیں ہوتا ۔
اسی طرح عدد ایک بھی ہے ۔ کوئی پوچھے اللہ کتنے ہیں ؟ آپ فورا کہتے ہیں اللہ ایک ہے اور یہی ایک آپ باپ کے ساتھ بھی استعمال کرتے ہیں جب کوئی پوچھے کہ تمہارے باپ کتنے ہیں تو آپ کہتے ہی ایک ہے باپ ایک ہے کیا آپ کے نزدیک مشرک نہ ہوگا ؟

لفظ داتا
لفظ اللہ اور رحمن کے علاوہ اللہ کے باقی صفاتی نام مجازی طور پر غیر اللہ پر بول سکتے ہیں کچھ الفاظ اللہ نے قرآن مجید میں خود بھی استعمال کئے ۔اسی طرح آج کل شور ہے کہ داتا صرف اللہ ہے گنج بخش کو داتا کہنا شرک ہے ۔ داتا ہندی کا لفظ ہے معنی ہے دینے والا ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کے پہلے مریدار رائے راجو جن کا نام شیخ ہندی رحمتہ اللہ علیہ رکھا انہیں آپ رحمتہ اللہ علیہ کے صدقے ایمان کی دولت نصیب ہوئی تو انہوں نے داتا کہا سورہ یوسف آپ پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ جب یوسف علیہ السلام قید خانہ میں گئے تو دو قیدی بھی ساتھ داخل ہوئے ۔ان میں سے ایک نے کہا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ شراب نچوڑ رہاہوں آپ نے فرمایا
یسقی ربہ خمرا وہ اپنے رب کو شراب پلائے گا ۔۔۔ لفظ رب نبی استعمال کررہاہے بادشاہ مصر کے لئے تو مجھے کہنے دیجئے اگر کافر شرابی بادشاہ کے لئے یوسف علیہ السلام لفظ رب مجازی طور پر استعمال کریں تو شرک نہیں اگر ہم ولی کامل عالم دین آلِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مجازی طور پر داتا کا لفظ استعمال کردیں تو بھی شرک نہیں ہے ۔ کیا داتا لفظ بڑا ہے یا رب ؟

عقائد متعلقہ نبوت و رسالت

#######################
عقائد متعلقہ نبوت و رسالت
ہر نبی پیدائشی نبی ہوتا ہے
عقیدہ عصمت انبیائ
انبیاء بے مثل بشر ہیں
نبی کی ہر بات پوری ہوتی ہے
انبیاء کرام کے بعض خصائص
سب سے افضل رسول
نور مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تخلیق
بارگاہ رسالت میں گستاخی کفر ہے
حضور کی تعظیم و محبت فرض ہیں
حیات انبیاء علیہم السلام
عقیدہ علم غیب
عقیدہ حاضر و ناصر
اولیاء اللہ کی شان
محبوبان خدا کا وسلیہ
حضور نائب مطلق ہیں
رحمت عالم ہونے کے تقاضے
قرآن عظیم کی عظمت
##########

عقائد متعلقہ نبوت و رسالت
# نبی اس اعلی و ارفع شان والے بشر کو کہتے ہیں جس پر اللہ تعالی نے وحی نازل کی ہو اس کی تائید معجزات سے فرمائی ہو۔ جس طرح ہمیں اپنی اختیاری حرکات پر قدرت ہوتی ہے ۔ اسی طرح انبیاء کرام کے معجزات ان کے اختیار میں ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی نے محض اپنے فضل و کرم سے لوگوں کی ہدایت کی لئے انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا۔ سب انبیاء کرام مرد تھے، نہ کوئی جن نبی ہوا اور نہ کوئی عورت نبی ہوئی۔
# انبیاء کرام علیہم السلام تمام مخلوق حتی کہ رسل ملائکہ سے بھی افضل ہیں ۔ ارشاد باری تعالی ہے، (اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب سے فضیلت دی)۔ (الانعام : ۸۶) جو شخص کسی غیر نبی کو کسی نبی سے افضل یا برابر بتائے وہ کافر ہے ۔ اسی طرح جو یہ کہے کہ غیر نبی بسا اوقات اعمال میں انبیاء کرام سے بڑھ جاتے ہیں وہ گمراہ و بدمذہب ہے۔ انبیاء کرام کی تعداد معین کرنا جائز نہیں۔ بس یہ اعتقاد ہونا چاہیے کہ اللہ تعالی کے تمام انبیاء علیہم السلام پر ہمارا ایمان ہے جن کی تعداد کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار بیان کی جاتی ہے۔
# نبوت کسبی نہیں کہ کوشش و ریاضت سے حاصل ہوسکے، یہ محض اللہ تعالی کی عطا ہے۔ ارشاد ہوا ، ( اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھے ) ۔
( الانعام : ۱۲۴) لیکن اللہ عزوجل اپنے فضل و کرم سے جسے نبوت عطا فرماتا ہے اور اس عظیم منصب کے قابل بناتا ہے اور ایسی کامل عقل عطا فرماتا ہے کہ دوسروں کی عقل اس کے کرورویں حصے تک نہیں پہنچ سکتی۔ ہر نبی اپنے نسب و جسم ، قول و فعل اور عادات و اطوار میں ہر عیب سے پاک ہوتا ہے۔
# ہر نبی پیدائشی نبی ہوتا ہے ۔ البتہ نبوت کا اعلان وہ رب تعالی کے حکم سے کرتا ہے ۔ ارشاد ہوا ، ( میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے نبی بنایا )۔ (مریم : ۳۰)
یہ کلام حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنی قوم سے اس وقت فرمایا جبکہ آپ کی عمر مبارک چند یوم کی تھی۔ قرآن پاک میں اللہ تعالی نے انبیاء کرما کی ارواح کو بھی (النبیین) یعنی انبیاء فرمایا ہے ۔ (آل عمران : ۸۱) آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشا د ہے ، (میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے)۔ (ترمذی )
# نبی زمین پر اللہ تعالی کا نائب اور شارع ہوتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہوا ، ( اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے) ۔ (النساء : ۶۴)
دوسری جگہ فرمایا گیا ، (اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں، باز رہو)۔ (الحشر : ۷) ایک اور جگہ ارشاد ہوا، (تو اے محبوب تمہارے رب کی قسم ! وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرما دو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں )۔ (النساء : ۶۵، ، کنزالایمان ) چونکہ رسول کا بھیجنا ہی اس لئے ہے کہ وہ مطاع بنایا جائے ۔ اور اس کی اطاعت فرض ہو تو جو اس کے حکم سے راضی نہ ہوا گویا اس نے رسالت کا انکار کیا ، ایسا شخص کافر ہے ۔
# تمام انبیاء کرام گناہوں او ر خطاؤں سے معصوم ہوتے ہیں قرآن حکیم میں انبیاء کرام کے بارے میں جن امور کا ذکر ہے انکی حقیت گناہ نہیں بلکہ وہ یا تو نسیان ہیں جیسے حضرت آدم علیہ السلام کا گندم کا دانہ کھالینا اور یا وہ لغزش ہیں جیسے حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں فرمایا گیا ۔ ارشاد باری تعالی ہوا ، ( اور بیشک ہم نے آدم کو اس سے پہلے ایک تاکیدی حکم دیا تھا تو وہ بھول گیا اور ہم نے اس کا مقصد نہ پایا )۔ (طہ : ۱۱۵) انبیاء کرام علیہم السلام کے حق میں بھول اور لغزش دونوں جائز ہیں ۔ جبکہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں لغزش بھی جائز نہیں کیونکہ آپ کا مرتبہ تمام انبیاء کرام سے بلند و بالا ہے آپ کے اس خاص منصب پر یہ آیت قرآنی گواہ ہیں:۔
# اور بیشک تم ضرور سیدھی راہ بتاتے ہو ۔ (الشوریٰ : ۵۲)
# بیشک تم سیدھی راہ پر ہو۔ (الحج : ۶۷، کنز الایمان)
# تمہارے صاحب نہ بہکے نہ بے راہ چلے ۔ (النجم : ۲ ، کنزا لایمان)
انبیاء کرام کی لغزش کا ذکر تلاوت قرآن اور روایت حدیث کے سوا سخت حرام ہے ، انبیاء کرام اور فرشتوں کے سوا کوئی معصوم نہیں۔ عصمت انبیاء کے معنی یہ ہیں کہ انبیاء کرام کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے حفاظت کا وعدہ ہے ۔ اس لئے ان سے گناہ ہونا شرعا نا ممکن ہے جبکہ صحابہ کرام و اولیاء عظام کو اللہ عزوجل اپنے کرم سے وگناہوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ لیکن ان سے گناہ صادر ہونا شرعا محال نہیں۔
# انبیاء علیہم السلام برکت و رحمت والے ہوتے ہیں حضرت عیسٰی علیہ السلام کا ارشاد ہے ، (اور اس نے ( یعنی رب تعالی نے ) مجھے بابرکت کیا ، میں کہیں بھی ہوں ) ۔ ( مریم ، ۳۱ ) ۔ انبیاء کرام کے استعمال کی اشیاء بھی رب تعالی کی برکتوں اور رحمتوں کے نزول کا سبب ہوتی ہیں ارشاد ہوا ، اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا ، اس کی بادشاہی کی نسانی یہ ہے کہ آئے تمہارے پاس تابوت جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلوں کا چین ہے ۔ اور کچھ بچی ہوئی چیزیں معزز موسی اور معزز ہارون کے ترکہ کی ) ۔ (البقرہ : ۲۴۸، کنز الایمان)
تفاسیر میں ہے کہ انبیاء کرام کے تبرکات والے اس صندوق کی برکت سے بنی اسرائیل جنگ میں فتح پانے اور ان کی حاجات پوری ہوتیں۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان ان بھی رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت والی اشیاء کو مبرک جانتے تھے اسی لئے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تھوک مبارک اور وضو کے مستعمل پانی کو زمین پر نہ گرنے دیتے بلکہ اپنے چہروں اور جسموں پر مل لیتے ۔ (بخاری) فجر کے بعد لوگ پانی کے برتن لیکر بارگاہ نبوی میں حاضر ہو تے اور آپ ہر برتن میں اپنا دست مبارک ڈبو دیتے ۔ (مسلم) حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس آقا علیہ السلام کا جبہ مبارک تھا وہ فرماتی ہیں کہ ہم اسے دھوکر بیماروں کو پلاتے ہیں تو انہیں شفا ہوجاتی ہے ۔ (مسلم)
# انبیاء کرام کو اپنی مثل بشر سمجھنا گمراہی ہے قرآن حکیم نے کافروں کا طریقہ بیان کیا ہے کہ وہ نبیوں کو محض اپنی ہی مثل بشر کہتے تھے۔ (المومنون : ۲۴، ۳۳، یس : ۱۵) کفار مکہ بھی نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ہی مثل بشر جانتے تھے۔ (الانبیاء : ۳) حقیقت یہ ہے کہ یہ نفوس قدسیہ بشری شکل و صورت ہی میں دنیا میں جلوہ گر ہوتے یں مگر انکے جسمانی و روحانی اوصاف درجہء کمال پر ہوتے ہیں اور انکی سماعت و بصارت اور طاقت و قدرت عام انسانوں جیسی نہیں ہوتی ۔ قرآن حکیم سے چند مثالیں ملاحظہ ہوں۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی انکی قمیض لیکر جب مصر سے روانہ ہوئے تو میلوں دور حضرت یعقوب علیہ ا لسلام نے اس کی خوشبو سونگھ لی ۔ (یوسف : ۹۴) حضرت سلیمان علیہ السلام نے کئی میل دور سے چیونٹی کی بات سن لی جب اس نے دوسری چیونٹیوں سے کہ کہ اپنے گھرو ں میں چلی جاؤ ، کہیں تمہیں سلیمان اور انکے لشکر بے خبری میں کچل نہ ڈالیں ، تو سلیمان علیہ السلام اس کی بات سن کر مسکرادیئے۔ (النمل : ۱۹) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرش سے عرش تک ساری کائنا ت دیکھ لی ۔ ( الانعام : ۷۵ ) حضرت عیسی علیہ السلام فرماتے ہیں ، ( میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی مورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فورا پرند ہوجاتی ہے اللہ کے حکم سے اور میں شفا دیتا ہوں مادر زاد اندھ اور سفید داغ والے کو اور میں مردے جلاتا ہوں اللہ کے حکم سے ، اور تمہیں بتایا ہوں جو تم کھاتے (ہو) اور جو اپنے گھروں میں جمع کر کے رکھتے ہو)۔ (آل عمران : ۴۹، کنزالایمان)
# انبیاء کرام علیہم السلام کی فرمائی ہوئی ہر بات پوری ہوتی ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس دو افراد نے جھوٹے خواب بیان کیے، آپ نے تعبیر دی کہ ایک اپنے بادشاہ کو شراب پلائے گا ۔ اور دوسرے کو پھانسی دے د ی جائے گی۔ وہ دونوں یہ سن کر ہنسنے لگے اور بولے ، ہم نے کوئی خواب نہیں دیکھا ہم تو مذاق کر رہے تھے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا ، ( فیصلہ ہو چکا اس بات کا جس کے متعلق تم دریافت کرتے ہو)۔ (یوسف : ۴۱) یعنی جو میں نے کہہ دیا وہ ضرور پورا ہو گا ۔ چنانچہ آپ کے فرمانے کے مطابق واقع ہوا اور کیوں نہ ہوتا کہ نبی کی ہر بات پوری ہوتی ہے ۔ اسی طرح قرآن کریم میں حضرت موسی علیہ السلام کے بار ے میں مذکور ہے کہ آپ نے سامری سے فرمایا ، دنیا میں تیری سزا یہ ہے کہ تو کہے گا کوئی مجھ سے نہ چھوجائے۔ (طہ ، ۹۷) چنانچہ آپ کا فرمان پورا ہوا۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ کی تمام پیشن گوئیاں حرف بہ حرف پوری ہوئیں۔ حضور علیہ السلام سے جب سوال کیا گیا کہ کیا حج ہر سال فرض ہے تو آقائے دو جہاں ﷺ نے فرما یا، ( نہیں ! اور اگر میں وہاں کہہ دیتا تو حج ہر سال فرض ہوجاتا)۔ (احمد ، ترمذی ، ابن ماجہ)
# انبیاء کرام کا نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک بار میں نے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ وتر پڑھے بغیر سوجاتے ہیں اور پھر بیدار ہو کر بغیر وضو کیے وتر ادا فرماتے ہیں ، ارشاد فرمایا ، اے عائشہ ! میری آنکھیں سوتی ہیں مگر دل بیدار رہتا ہے۔ (بخاری) اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمتہ اللہ علیہ کی تحقیق یہ ہے کہ انبیاء کرام کا وضو نواقص حکمیہ یعنی خواب و غشی سے نہیں جاتا مگر نواقض حقیقیہ یعنی پیشاب وغیرہ سے انکی عظمت شان کے سبب جاتا رہتا ہے ، حضور علیہ السلام کے فضلات مبارک پیشاب وغیرہ امت کے حق میں طیب و طاہر تھے مگر آقا علیہ السلام کی اعلی و ارفع شا ن کے باعث وہ آپ کے لیے نجاست کا حکم رکھتے تھے۔
# انبیاء کرام علیہم السلام کے وضو بلکہ غسل جنابت کا پانی بھی ہمارے لئے ظاہر و مطہر ہے ۔ ابو رافع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ حضرت سلمیٰ رضی اللہ عنہا نے حضور علیہ السلام کے غسل کا پانی پی لیا ، جب آپ کو اطلاع ہوئی تو فرمایا ، تیرے جسم پر دوزخ کی آ گ حرام ہوگئی۔ (طبرانی) خون کا حرام ہونا نص قطعی سے ثابت ہے مگر متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ صحابہ کرام آقا علیہ السلام کے خون مبارک کو طیب و طاہر جانتے تھے ۔ غزوہ احد میں مالک بن سنان رضی اللہ عنہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم سے خون چوسا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جو جنتی کو دیکھنا چاہے وہ انہیں دیکھ لے۔ (زرقانی ، کتاب الشفا) جب آقا علیہ السلام نے پچھنے لگوائے اور ان کا خون حضرت عبد اللہ بن زبیر ضی اللہ عنہ نے پی لیا تو حضور علیہ السلام نے انہیں دوزخ سے نجات کی خوشخبری دی۔ (حاکم ، طبرانی ، بیہقی) انبیاء کرام کی ایک اور خصوصیت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یوں بیان کی ہے کہ کسی نبی کو کبھی احتلام نہیں ہواکیونکہ احتلام شیطان کے اثر سے ہوتا ہے اور انبیاء کرام شیطان کے اثر سے محفوظ ہوتے ہیں۔ (طبرانی ، زرقانی ، خصائص کبریٰ)
# انبیاء کرام علیہم الصلوہ والسلام کے مختلف درجے ہیں بعض کو بعض پر فضیلت حاصل ہے۔ جس نبی پر کتاب نازل ہو اسے رسول کہتے ہیں گویا ہر رسول نبی ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول انہیں ہوتا ۔ سارے انبیاء و رسل علیہم السلام میں ہمارے آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل ہیں آپ کے بعد بالترتیب حضرت ابراہیم علیہم السلام ، حضرت موسی علیہ السلام ، حضرت عیسی علیہ السلام ، حضرت نوح علیہ السلام تمام انبیاء میں افضل ہیں انہیں اولو العزم رسول کہا جاتا ہے۔
# سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام مخلوق میں سب سے افضل و اعلی ہیں جس کو جو بھی اوصاف و کمالات دیے گئے وہ سب حضور علیہ السلام کو عطا فرمائے گئے بلکہ آپ کو ایسے کمالات بھی عطا فرمائے گئے جو کسی کو نہیں دیے گئے، حقیقت یہ ہے کہ جس کو جو بھی ملا ہے وہ آپ ہی کے طفیل بلکہ آپکے دست اقدس سے ملا ہے۔ آپ کا فرمان عالیشان ہے، (بیشک میں تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ تعالی عطا فرمانے والا ہے)۔ (بخاری ، مسلم ) یہ ناممکن و محال ہے کہ کوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مثل ہو، جو کسی صفت خاصہ میں کسی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مثل بتائے وہ گمراہ ہے یا کافر ۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا ، ( ایکم مثلی ) ۔ ( تم میں کون میری مثل ہے؟ بیشک میں اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے)۔ دوسری روایت میں ہے ، ( انی لست مثلکم ) ۔ بیشک میں تمہاری مثل نہیں ہوں۔ تیسری روایت میں ہے ، لست کا حد منکم۔ میں تمہارے جیسا نہیں ہوں۔ (بخاری ، مسلم )
# اللہ تعالی نے کائنات کی تخلیق سے قبل نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کو اپنے نورکے فیض سے تخلیق فرمایا پھر وہ نورجہاں رب تعالی کو منظور ہوا ، سیر کرتا رہا اور پھر نور مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بشری شکل و صورت میں حضرت عبد اللہ و حضرت آمنہ رضی اللہ عنہما کے گھر جلوہ گر ہوا۔ متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ شب معراج میں ایک مقام پر نوری مخلوق سید الملائکہ حضرت جبریل علیہ السلام بھی آگے جانے سے عاجز ہوگئے تھے مگر آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی آگے عرش و لا مکان میں جلوہ فرما ہوئے اور سر مبارک کی آنکھوں سے اللہ تعالی کا دیدار کیا، حضور علیہ السلام کی حقیقت کو کماحقہ سوائے اللہ تعالی کے کوئی نہیں جانتا۔
# تمام انبیاء کرام اللہ عزوجل کی بارگاہ اقدس میں عزت و وجاہت اور عظمت و بزرگی والے ہیں۔ حضرت موسی علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوا ، (اور آپ اللہ کے نزدیک بڑی عزت والے ہیں)۔ (الاحزاب : ۶۹) حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق فرمایا گیا ، (معزز ہوگا دنیا اور آخرت میں ا ور مقربین میں سے ہوگا)۔ (آل عمران : ۴۵) انبیاء کرام علیہم السلام کو اللہ تعالی کے نزدیک چوڑھے چمار کی مثل کہنا کھلی گستاخی اور کفر ہے۔
# امت کا اجماع ہے جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں گستاخی کرے یا آپ کی ذات اقدس کو کسی قسم کا عیب لگائے یا نقص تلا ش کرے یا وہ عوارض بشری جو آپ کے لئے جائز تھے، ان کی وجہ سے آپکی تحقیر کرے یا آپ کی شان گھٹانے کی کوشش کرے وہ کافر ا ور واجب القتل ہے ۔ اور جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے ۔ ایسا ذو معنی لفظ کہنا بھی گستاخی اور توہین ہے جس کا ایک مفہوم گستاخی کا ہو، خواہ وہ لفظ توہین کی نیت سے نہ کہا جائے ۔ ارشاد باری تعالی ہے ، ( اے ایمان والو! ( راعنا ) نہ کہو بلکہ (انظرنا) کہو اور غور سے سنا کرو، اور کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے)۔ (البقرہ : ۱۰۴)
# سید الانبیاء محمد مصطفی احمد مجتبٰی علیہ التحیتہ والثناء کی تعظےم فرض عین بلکہ ایمان کی جان ہے۔ ارشاد ہوا ، ( اے لوگو! تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و مقدم ہے یعنی ایمان کے بغیر تعظےم و توقیر قبول نہ ہوگی اور حضور علیہ السلام کی تعظیم و توقیر کے بغیر ساری عبادات اور نیکیاں بے کار ہونگی ۔ آقا علیہ السلام کی تعظیم کا تقاضا ہے کہ ان تمام چیزوں کی بھی تعظیم کی جائے جو آپ سے نسبت رکھتی ہوں ۔ ارشاد ہوا ، ( اور جو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیز گاری سے ہے)۔ (الحج : ۳۲، کنز الایمان)
بیشک حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے شعائر میں سے عظےم ترین نشان ہیں اسی لئے صحابہ کرام آپ کے تھوک مبارک ، بال مبارک اور وضو کا مستعمل پانی زمین پر نہ گرنے دیتے ، لعاب دہن اور اعضائے وضو کا دھوون اپنے چہروں پر مل لیتے اور بال مبارک حصول برکت کے لئے محفوظ کر لیتے ۔ (بخاری ، مسلم )
# جان کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ایمان کی بنیاد اور روح ہے ۔ آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے ۔ ( تم میں سے کوئی بھی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اسے اس کے والد ، اس کی اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ پیارا نہ ہو جاؤں ) ۔ ( بخاری ، مسلم ) آپ نے اپنے ایک محبت کرنے والے صحابی کو کوشخبری دی ، ( انت مع من احببت ) ۔ یعنی تم جن سے محبت کرتے ہو کل قیامت میں انہی کے ساتھ ہوگے ۔ (بخاری ) دوسری حدیث میں فرمایا ، ( المر ء جع من احب ) ۔ یعنی جو جس سے محبت کرتا ہے قیامت میں اسی کے ساتھ ہوگا ۔ ( بخاری ، مسلم )
قرآن کریم میں بھی ایمان کی شرط یہی بیان ہوئی ہے کہ اللہ عزوجل اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت دنیا کی ہر شے سے زائد ہونی چاہئے ۔ (التوبہ : ۲۴) محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی علامت یہ ہے کہ آقا علیہ السلام کی اطاعت و غلامی کی جائے ، آپ کی تعظیم کی جائے ، آپ کی تعلیمات و سیرت طیبہ کا علم حاصل کیا جائے ، آپ کے ذکر او ر درود و سلام کی کثرت کی جائے ، روضہء مطہرہ پر حاضری کی تڑپ پیدا کی جائے ، آپ کے آل و اصحاب اور تمام متعلقین و متوسلین سے محبت کی جائے اورآ پ کے کستاخوں اور بے ادبوں سے نفرت و عداوت کی جائے ۔
# انبیاء کرام علیہم السلا م اپنی اپنی قبروں میں ا سی طرح حقیقی طور پر زندہ ہیں ۔ جیسے دنیا میں تھے ، وہ کھاتے پیتے ہیں ، جہاں چاہتے ہیں آتے جاتے ہیں اور تصرف فرماتے ہیں ، اللہ تعالی کے فرمان کے مطابق ان پر ایک آن کے لئے موت طاری ہوئی اور پھر وہ زندہ کر دیئے گئے۔ شہداء کے بارے میں ارشاد ہوا ، (اورجو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں (اور) روزی پاتے ہیں )۔ (آل عمران : ۱۶۹ ، کنزا لایمان ) علامہ سیوطی فرماتے ہیں ، کوئی نبی ایسا نہیں کہ ا س نے نبوت کے ساتھ وصف شہادت نہ جمع کیا ہو ۔ پس وہ اس آیت کے عموم میں ضرور داخل ہونگے۔ (انباء الاذکیاء)
یہ امر طے شدہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام دیگر تمام مخلوق سے افضل ہیں ۔ لہذا ان کی زندگی شہداء کی زندگی سے یقینا بہت اعلی و ارفع ہے، شہید کا ترکہ تقسیم ہوتاہے ۔ اور اس کی بیوی عد ت کے بعد نکاح کرسکتی ہے جبکہ انبیاء کرام کے متعلق یہ دونوں باتیں جائز نہیں ۔ ارشاد باری تعالی ہے، ( ان کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح نہ کرو ) ۔ (الاحزاب : ۵۳)
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے، (بیشک اللہ تعالی نے انبیاء کرام کے اجسام کا کھانا زمین پر حرام فرمادیا ، پس اللہ کے نبی زندہ ہیں اور رزق دیے جاتے ہیں )۔ ( ابن ماجہ) ایک اور حدیث شریف میں ہے ، (انبیاء کرام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نمازیں پڑھتے ہیں ) ۔ (بیہقی) ایک اور ارشاد گرامی ہے ، (جب کوئی مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو اللہ تعالی میری روح مجھ پر لوٹا دیتا ہے ۔ (یعنی میری روح کی توجہ سلام بھیجنے والے کی طرف ہوجاتی ہے) یہانتک کہ میں اس کو اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں)۔ (مسند احمد ، ابو داؤد ، بیہقی)
آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ، جمعہ کے دن مجھ پر زیادہ درود پڑھا کرو کیونکہ وہ یوم مشہود ہے اس دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں ، جو شخص بھی مجھ پر درود پڑھتا ہے اس کی آواز مجھ تک پہنچ جاتی ہے خواہ وہ کہیں بھی ہو۔ صحابہ نے عرض کی، کیا آپ کے وصال کے بعد بھی ؟ فرمایا ، ہاں میرے وصا ل کے بعد بھی ، بیشک اللہ تعالی نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ نبیوں کے جسموں کو کھائے۔ اس حدیث کو حافظ منذری نے ترغیب میں بیان کر کے فرمایا کہ ابن ماجہ نے اسے سند جید کے ساتھ روایت کیا۔ (طبرانی ، جلاء الافہام)۔ ایک اور ارشاد مبارکہ ہے کہ (اہل محبت کا دور میں خود سنتا ہوں اور انہیں پہنچانتا بھی ہوں)۔ (دلائل الخیرات)
ان احادیث مبارکہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بعد از وصال ظاہری درود و سلام سننا بھی ثابت ہوگیا۔ شارح بخاری امام قسطلانی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں، (جمہور علماء کا اتفاق ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور وفات میں کوئی فرق نہیں ہے آپ اب بھی اپنی امت کا مشاہدہ فرمارہے ہیں اور ان کی حالتوں ، نیتوں ، ارادوں اور دل کے خیالات کو بھی جانتے ہیں اور یہ سب امور آپ پربالکل ظاہر ہیں ان میں کوئی شے پوشیدہ نہیں ہے) ۔ (مواہب الدینہ ج ۲)
# تمام انبیاء کرام علیہم السلام کو اللہ تعالی نے علم غیب عطا فرمایا اور اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( علم ما کان وما یکون ) یعنی کائنات میں جو کچھ ہو چکا اور جو آئندہ ہوگا ، ان سب کا علم عطا فرمایا ۔ ارشاد باری تعالی ہے، ( اللہ تعالی یوں نہیں کہ تم لوگوں کو غیب پر مطلع کر دے لیکن اللہ تعالی اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے )۔ (آل عمران : ۱۷۹)
دوسری جگہ فرمایا ، (اے حبیب ۔ تم کو سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے)۔ (النساء : ۱۱۳) ایک جگہ یوں ارشاد ہوا، (یہ غیب کی خبریں ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں )۔ (ھود : ۴۹) جن آیات قرآنی میں علم غیب کی نفی کی گئی ہے ان سے مراد اس علم کی نفی ہے جو ذاتی یعنی بغیر خدا کے بتائے ہو۔ پس اللہ تعالی کے بتائے بغیر کوئی غیب نہیں جانتا۔
شیخ الاسلام اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ خالص الاعتقاد میں فرماتے ہیں ، (بلا شبہ غیر اللہ کے لئے ایک زرہ کا علم ذاتی نہیں ہوسکتا ، مساوی تو درکنار تمام اولین و آخرین و انبیاء و مرسلین و ملائکہ مقربین سب کے علوم مل کر علوم الہیہ سے وہ نسبت نہیں رکھتے جو کروڑہا کروڑ سمندروں سے ایک ذرا سی بوند کے کروڑویں حصے کو ہے کہ وہ تمام سمندر اور یہ بوند کا کروڑواں حصہ دونوں متناہی اور محدود ہیں اور متناہی کو متناہی سے نسبت ضرور ہوتی ہے جبکہ علوم الہیہ غیر متناہی در غیر متناہی در غیر متناہی ہیں)۔
علم غیب عطائی اللہ تعالی کی شان کے منافی اور انبیاء کرام ہی کی شان کے لائق ہے بعض لوگوں کا یہ اعتراض کہ ہر ذرہ کا علم نبی کے لئے ماننے سے خالق و مخلوق کی برابری لازم آئے گی، باطل و مردود ہے کیونکہ محدود لامحدود اور ذاتی و عطائی کا فرق موجود ہے اس فرق کے ہوتے ہوئے بھی اگر برابری ممکن ہو تو لازم ہوگا کہ ممکن یعنی مخلوق اور واجب یعنی اللہ تعالی وجود میں برابر جائیں کیونکہ مخلوق بھی موجود ہے اور اللہ تعالی بھی موجود ، اور وجود میں مساوی کہنا صریح کفر و شرک ہے۔ تعصب سے ہٹ کر دیکھا جائے تو واضح ہوگا کہ انبیاء علیہم السلام غیب کی خبریں دینے کے لئے ہی آتے ہیں کہ جنت و دوزخ ، حشر و نشر اور عذاب و ثواب غیب نہےں تو اور کیا ہیں ؟ ان کا منصب ہی یہ ہے کہ وہ باتیں ارشاد فرمائیں جن تک عقل و حواس کی رسائی نہیں اور اسی کا نام غیب ہے ۔ اولیاء کو بھی انبیاء کرام کے وسیلے سے علم غیب عطائی حاصل ہوتا ہے انبیاء کرما کے لئے اللہ عزوجل کا دیا ہوا علم غیب ماننا ضروریات دین سے ہے کیونکہ یہ قرآن اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے ۔ مطلق علم غیب کا منکر کافر ہے کہ سرے سے نبوت ہی کا منکر ہے ۔
# اہلسنت کا عقیدہ ہے کہ جس طرح روح اپنے بدن کے ہر جزو میں موجود ہوتی ہے اسی طرح روح مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقت کائنا ت کے ہر ذرے میں جاری و ساری ہے جس کی بنا ء پر جان کائنات صلی اللہ علیہ وسلم تمام کائنات کو اپنی ہتھیلی مبارک کی طرح ملاحظہ فرماتے ہیں، دور و نزدیک کی آوازیں یکساں سنتے ہیں اور اپنی روحانیت و نورانیت کے ساتھ بیک وقت متعدد مقامات پر تشریف فرما ہوسکتے ہیں۔ جمہور اہلسنت کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضر و ناظر ہونے کا یہی مفہوم ہے۔
ارشاد باری تعالی ہوا ، ( یہ نبی مسلمانوں کی جانوں سے زیادہ ان کے قریب ہے )۔ ( الاحزاب : ۶ ) یہ بھی ارشاد ہوا، ( اے غیب بتانے والے ! بیشک ہم نے آ پ کو بھیجا حاضر و ناظر )۔ ( الاحزاب : ۴۵، الفتح : ۸ ) اس آیت کی تفسیر میں امام رازی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں ، ( مفسرین کرام نے بیان کیا ہے کہ (شاھدا ) کا معنی یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے افعال کا مشاہدہ فرماتے ہیں ) ۔ ( تفسیر کبیر ) سورہ البقرہ کی آیت ( ۱۴۳ ) کی تفسیر میں شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں ، (حضور علیہ السلام تمہارے گناہوں ، تمہارے ایمان کے درجات، تمارے نیک و بد اعمال اور تمہارے اخلاص و نفاق کو جانتے ہیں )۔ ( تفسیر عزیزی ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دلوں کی کیفیات سے آگاہ ہونا۔ اس حدیث صحیح سے بھی ثابت ہے ، ارشاد ہوا، (خدا کی قسم ! مجھ پرنہ تمہارا رکوع پوشیدہ ہے اور نہ خشوع ( نہ کہ دل کی ایک کیفیت ہے ) ، اور بیشک میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں )۔ ( بخاری )
آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے ، (بیشک میں تمہارا سہارا اور تم پر گواہ ہوں ، اور خدا کی قسم ! میں اپنے حوض کوثر کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور بیشک مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں عطا کر دی گئی ہیں)۔ (بخاری) دوسری حدیث میں ہے ، ( میں وہ چیزوں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اورمیں وہ آوازیں سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے ، آسمان چرچرا رہا ہے اور اس کو ایسا ہی کرنا چاہیے کیونکہ اس میں چار انگشت جگہ بھی ایسی نہیں ہے جہاں کوئی فرشتے سجدہ میں نہ ہو )۔ (ترمذی) ایک اور ارشاد گرامی ہے ، (اللہ تعالی نے میرے لئے دنیا کو ظاہر فرمایا پس میں دنیا کو اور جو کچھ اس میں قیامت تک ہونے والا ہے ، سب کو اس طرح دیکھ رہا ہوں جیسے اپنی اس ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں )۔ (طبرانی ، ابو نعیم)
بعض کم عقل اور ناسمجھ لوگ جہالت و تعصب کے باعث انبیاء کرام کی ان صفات کا انکار کرتے ہیں اور اپنی د انست میں ان صفا ت کا ماننا شرک گردانتے ہیں حالانکہ قرآن و حدیث میں انبیاء کرام کے غلاموں کی بھی اعلی شان بیان ہوئی ہے، سورہ النمل میں ہے کہ جب حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں یمن کی وادی صبا سے تخت بلقیس کو لانے کا ذکر ہو ا تو ، (اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے حضور میں حاضر کردوں گا پلک جھپکنے سے پہلے)۔ (النمل : ۴۰) اور پھر حضرت سلیمان علیہ السلام کے اس امتی نے پلک جھپکنے سے پہلے وہ تخت یمن سے بیت المقدس میں حاضر کردیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم سے دریائے نیل جاری ہو گیا۔ (تاریخ الخلفاء)
حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر کے ساتھ نہاوند میں جہاد کر رہے تھے اور کافر پہاڑ کی طرف سے حملہ کرنا چاہتے تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ طیبہ میں خطبہ دیتے ہوئے یہ سب کچھ دیکھ لیا تو پکارا ، ( اے ساریہ ! پہاڑ کو لو )۔ میلوں دور مجاہدین نے یہ آواز سن لی اور پہاڑ کی طرف ہوگئے پھر فتح پائی ۔ (مشکوہ ) اولیاء اللہ کا یہ تصرف و اختیار اللہ عزوجل ہی کا عطا کردہ ہے حدیث قدسی ہے کہ رب تعالی نے فرمایا ، ( میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے ۔ یہانتک کہ میں اسے اپنا محبوب بنالیتا ہوں تو میں اس کے کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے ، اور اس کی آنکھیں ہو جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے ، اور اس کے ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اور اس کے پاؤں ہوجاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسکو دیتا ہو اور اگر وہ میری پناہ مانگے تو اس کو پناہ دیتا ہوں)۔ (بخاری )
امام رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ جب اللہ کا نور جلال بندے کی سماعت ہو جاتا ہے تو وہ بندہ دور و نزدیک کی آوازوں کو یکساں سن سکتا ہے اور جب یہ نور بندے کی بصارت ہوجاتا ہے تو وہ دور و نزدیک کی چیزوں کو یکساں دیکھ سکتا ہے اور جب یہی نور بندے کا ہاتھ ہوجائے تو وہ دور و نزدیک کی چیزوں میں تصرف کرنے پر قادر ہوجاتا ہے ۔ اللہ اکبر! جب اولیاء کرام کی یہ شان ہے تو انبیاء علیہم السلام کا مقام تو یقینا بہت اعلی و ارفع ہے، قادر مطلق اللہ عزوجل نے اپنے کرم سے وعدہ فرمایا ہے کہ ہر آنے والا لمحہ رحمت عالم ﷺ کے لئے پہلے سے بہتر ہے (الضحی : ۴) گویا لمحہ بہ لمحہ آپ کے درجات و مراتب میں ترقی ہو رہی ہے۔
# نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حرف (یا ) کے ساتھ ندا کرنا اور (الصلوہ والسلام علیک یا رسول اللہ ) کہنا نہ صرف صحابہ کرام کی سنت ہے بلکہ اس دور میں صحیح العقیدہ مسلمان ہونے کی علامت ہے ، اسے کفر و شرک کہنے والا خود گمراہ بد مذہب ہے۔ رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نابینا صحابی کو قضائے حاجت کے لئے یہ دعا تعلیم فرمائی ۔ (ترجمہ ) (اے اللہ ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں تیرے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے جو کہ نبیء رحمت ہیں ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کے دربارمیں اس لئے متوجہ ہوا ہوں کہ میری یہ حاجت پوری ہوجائے ، یا اللہ ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما)۔ (حاکم ، ترمذی ، ابن ماجہ ، نسائی ، بیہقی، طبرانی)
امام بخاری نے الادب المفرد میں روایت کیا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا پاؤں سو گیا کسی نے کہا، انہیں یاد کرو جو تمہیں سب سے زیادہ محبوب ہیں آپ نے بلند آواز سے فرمایا ، یا محمداہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ، تو آپ کا پاؤں فورا صحیح ہو گیا ۔ امام نووی نے کتاب الاذکار میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی ا للہ عنہما کا اورابن اثیر نے تاریخ کامل میں حضرت بلال بن الحارث المزنی رضی اللہ عنہ کا یا محمداہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ندا کرنا روایت کیا ہے ۔نسیم الریاض شرح شفائے عیاض میں ہے کہ اہل مدینہ میں یا محمداہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کہنے کا رواج عام ہے ۔ آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کو حرف ندا کے ساتھ مخاطب کر کے سلام عرض کرنا یعنی (السلام علیک ایھا النبی ) کہنا جب نماز میں واجب ہے تو نماز کے باہر کیسے شرک ہوسکتا ہے؟ شیخ عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ فرماتے ہیں ، (یہ خطاب اس لئے ہے کہ حقیقت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم موجودات کے ذرے ذرے میں اورممکنات کے ہر فرد میں سرایت کیے ہوئے ہے پس نور کبریا صلی اللہ علیہ وسلم ہر نمازی کی ذات میں موجود و حاضر ہیں نمازیوں کو چاہیے کہ اس حقیقت سے آگاہ رہیں )۔ (اشعتہ اللمعات) امام عبد الوہاب شعرانی نے کتاب المیزان میں ، امام غزالی نے احیاء العلوم میں ، حافظ ابن حجر نے فتح الباری شرح بخاری میں ، امام عینی نے عمدہ القاری شرح بخاری میں اور امام قسطلانی نے مواہب الدنیہ میں یہی عقیدہ بیان کیا ہے ۔ (رحمہم اللہ تعالی علیہم اجمعین )
# ارشاد باری تعالی ہے ، (اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو) ۔ (المائدہ : ۳۵ ، کنز الایمان ) وسیلہ کی دو قسمیں ہیں اول یہ کہ جسے وسیلہ بنایا جائے بارگاہ الہی میں قرب حاصل کرنے کے لئے دعا میں اس کا ذکر کیا جائے ، جیسا کہ قرآن حکیم میں ہے ، (اور اس سے پہلے وہ اسی نبی کے وسیلے سے کافروں پر فتح مانگتے تھے )۔ (البقرہ : ۸۹) صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو وسیلہ بنا کر دعا کی ۔
دوم یہ کہ کسی مقرب بندے سے منسوب جگہ یا کسی عمل صالح کو وسیلہ بنایا جائے جیسے کہ قرآن کریم میں حضرت زکریا علیہ السلام کا حضرت مریم علیہا السلام کی محراب میں کھڑے ہوکر اولاد کے لئے دعا کرنا (آل عمران : ۳۸) ، حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیض سے حضرت یعقوب علیہ السلام کا بینائی حاصل کرنا (یوسف : ۹۲)، تبرکات انبیاء والے تابوت سے بنی اسرائیل کی مشکلیں آسان ہونا (البقرہ : ۲۴۸) بیان ہوا ہے ۔
احادیث مبارکہ سے بھی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا حضور علیہ السلام کا جبہ مبارک دھو کر مریضوں کو پلاتیں تو وہ شفا یاب ہوجائے (مسلم ) حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے برکت کے لئے اپنی ٹوپی میں موئے مبارک سی رکھے تھے (حاکم ، بیہقی) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما منبر نبوی پر اپنے ہاتھ پھیر کر منہ پر ملتے (کتاب الشفا) ایک صحابی نے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے چادر مانگی تاکہ ان کا کفن بنے (بخاری) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے صحابہ کرام کو روضہء اقدس کے وسیلے سے بارش مانگنے کا طریقہ بتایا (مشکوہ ) حضرت سفنیہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وسیلہ پیش کیا تو شیر مطیع ہوگیا ۔ (مشکوہ)
# رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل کے محبوب اور نائب مطلق ہیں ، رب تعالی کی دی ہوئی طاقت سے تمام جہان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا محکوم ہے آپ کے حکم کے خلاف کوئی کچھ نہیں کر سکتا ۔ آپ مالک شریعت بنائے گئے ، جو چاہیں حرام فرمائیں اور جس پر جو چاہیں حلال فرمائیں ۔
اللہ تعالی کی تمام نعمتیں آپ ہی کے دربار سے تقسیم ہوتی ہیں ، آپ کا فرمان عالیشان ہے ، ( بیشک میں تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ تعالی عطا فرمانے والا ہے ) ۔ ( بخاری ، مسلم ) متعدد صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان بارگاہ نبوی میں مشکل کشائی کے لئے فریاد کرتے ، آپ کو قضائے حاجات کے لئے وسیلہ بناتے اور آپ اللہ تعالی کے دیے ہوئے تصرف و اختیار سے ان کی حاجت روائی اور مشکل کشائی فرماتے ، اختصار کے ساتھ چند دلائل پیش خدمت ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حافظہ مانگا جو عطا ہوا ۔ ( بخاری ) حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ نے جنت مانگی ، آپ نے عطا فرمائی ( مسلم ، ابو داؤد ، ابن ماجہ) حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ کو بھی جنت عطا فرمائی ( بخاری ) ایک صحابی نے قحط پڑنے پر فریاد کی ، آپ کی دعا سے بارش ہوئی ( بخاری ، مسلم ) حدیبیہ کے دن صحابہ کرام نے پانی کے لئے فریاد کی ، آپ کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہوئے جس سے تقریبا ڈیڑھ ہزار صحابہ سیراب ہوئے ( بخاری ، مسلم ) آپ نے ستر اصحاب صفہ کو ایک پیالہ دودھ سے سیر کر دیا ( بخاری ) حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے گھر ہانڈی میں لعاب دہن ڈال کر ایک ہزار صحابہ کو شکم سیر فرما دیا ( بخاری ) سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی ٹوٹی ہوئی پنڈلی کو جور دیا ( بخاری ) تیر لگنے سے قتادہ رضی اللہ عنہ کی باہر نکلی ہوئی آنکھ پھر روشن فرمادی ، معوذ رضی اللہ عنہ کا کٹا ہوا بازو جوڑ دیا ، ایک گونگے کو قوت گویائی عطا فرمادی ۔ (کتاب الشفا)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال ظاہری کے بعد پکارنے سے متعلق چند دلائل پہلے پیش کیے جاچکے ، مزید چند دلائل ملاحظہ فرمائیں ۔ ایک اعرابی نے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضر ہو کر مغفرت مانگی ، روضہ مبارک سے اواز آئی ، تجھے بخش دیا گیا۔ ( جذب القلوب ، مدارج النبوہ ) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات سے قبل وصیت فرمائی کہ میرے جنازے کو روضہ نبوی پر لے جا کر دفن کی اجازت طلب کرنا، صحابہ کرام نے ایسا ہی کیا تو روضہ اقدس سے آواز آئی ، حبیب کو حبیب کے پاس لے آؤ۔ ( تفسیر کبیر ج ۵ ص ۴۷۵)
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ صحابہ کرام کے ہمراہ جب مسلیمہ کذاب کے لشکر سے برسر پیکار تھے اس وقت سب کی زبان پر یہ ندا تھی، یا محمداہ (یا رسول اللہ ﷺ! مدد فرمائیے) پھر مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی ۔ (ابن اثیر ، طبری ، البدایہ والنہایہ) حضرت کعب بن ضمرہ رضی اللہ عنہ اپنی فوج کے ساتھ جب حلب کی فتح کے لئے لڑرہے تھے تو پکارتے تھے ، یا محمد یا محمد یا نصر اللہ انزل یعنی یا رسول اللہ ﷺ ! اے اللہ کی مدد نزول فرما ، انہیں فتح حاصل ہوئی ۔ (فتوح الشام ، ناسخ التواریخ)
# ارشاد باری تعالی عزوجل ہے ، (اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لئے )۔ (الانبیاء : ۱۰۷ ، کنزا لایمان )آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اور ہر لمحہ کائنات کے لئے رحمت ہیں ا ور رحمت ہونے کے لئے ضروری ہے کہ حضور علیہ السلام تمام جہان والوں کے لئے حاضر و ناضر ہوں ، ان کے پکار کو سنتے ہوں اور ان کی مشکل کشائی و حاجت روائی پر قدرت و اختیار ہوں، جیسا کہ دلائل و براہین کی روشنی میں بیان کیا جاچکا کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے ا ستمداد و استعانت ہر دور میں صالحین کا معمول رہا ہے اور آقا علیہ السلام اپنے غلاموں کی دستگیری فرماتے رہے ہیں اور کیوں نہ ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حاضر و ناظر ہونا ، اپنے غلاموں کی پکار کو سننا اور اللہ عزوجل کے دیے ہوئے تصرف و اختیار سے ان کی حاجت روائی اور مشکل کشائی فرمانا ، یہ سب امور آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے رحمتہ اللعالمین ہونے کی دلیل ہیں۔
# اللہ عزوجل نے انبیاء علیہ السلام پر جو کتابیں نازل فرمائیں وہ سب حق ہیں البتہ اب وہ اصل حالت میں موجود نہیں ہیں ، لوگوں نے ان میں تحریف کردی پھر اللہ تعالی نے بے مثل رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بے مثل و بے مثال کتاب قرآن عظیم نازل فرمائی اور اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ۔ ارشاد ہوا ، ( بیشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بیشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں )۔ (الحجر :۹ ، کنزا لایمان )
سب جن و انسان مل کر کوشش کریں تب بھی اس میں ایک حرف کی کمی بیشی نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس کی مثل کوئی آیت بنائی جاسکتی ہے یہ ایک عظیم معجزہ ہے ۔ جو یہ کہے کہ قرآن کریم میں کسی نے کچھ گھٹا دیا یا بڑھا دیا یا اصلی قرآن غائب امام کے پاس ہے وہ کافر ہے ۔ یہی اصل قرآن ہے اور ا س پر ایمان لانا ہر شخص پر لازم ہے ۔

( وصلی اللہ تعالی علی خیر خلقہ سیدنا محمد و آلہ و اصحابہ اجمعین )

عقائد متعلقہ ذات و صفات الہی

#####################
عقائد متعلقہ ذات و صفات الہی
رب تعالی کے لئے عیب محال ہے
متشابہ الفاظ کا حکم
رب کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں
تقدیر کی قسمیں
بندوں کی ربانی صفات
استعانت کی قسمیں

#######################
عقائد متعلقہ ذات و صفات الہی
# ارشاد باری تعالی ہوا ، (تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے ، اللہ بے نیاز ہے ، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی ) ۔ (سورہ الاخلاص ۔ کنزالایمان از امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ)
# دوسری جگہ ارشاد ہوا ، اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ آپ زندہ اور اوروں کا قائم رکھنے والا ( ہے ) ، اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند ، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ، وہ کون ہے جو اس کے یہاں سفارش کرے بے اسکے حکم کے ، جانتا ہے جو کچھ انکے آگے ہے اور جو کچھ انکے پیچھے، اور وہ نہیں پاتے اسکے علم میں سے مگر جتنا وہ چاہے ، اس کی کرسی میں سمائے ہوئے ہیں آسمان اور زمین ، اور اسے بھاری نہیں ان کی نگہبانی ، اور وہی ہے بلند بڑائی والا ) ۔ (البقرہ : ۲۵۵ ، کنزالایمان )
# اللہ تعالی واجب الوجود ہے یعنی اس کا وجود ضروری اوع عدم محال ہے اس کو یوں سمجھیے کہ اللہ تعالی کو کسی نے پیدا نہیں کیا بلکہ اسی نے سب کو پیدا کیا ہے وہ خود اپنے آپ سے موجود ہے اور ازلی و ابدی ہے یعنی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا ۔ اس کی تمام صفات ا سکی ذات کی طرح ازلی و ا بدی ہیں۔
# اللہ تعالی سب کا خالق و مالک ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ وہ جسے چاہے زندگی دے ، جسے چاہے موت دے ، جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے، وہ کسی کا محتاج نہیں سب اس کے محتاج ہیں ، وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے اسے کوئی روک نہیں سکتا ، سب اس کے قبضہء قدرت میں ہیں۔
# اللہ تعالی ہر شے پر قادر ہے مگر کوئی محال اس کی قدرت میں داخل نہیں ، محال اسے کہتے ہیں جو موجود نہ ہو سکے مثال کے طور پر دوسرا خدا ہونا محال یعنی ناممکن ہے تو اگر یہ زیر قدرت ہو تو موجود ہوسکے گا اور محال نہ رہے گا جبکہ اس کو مہال نہ مانناوحدانیت الہی کا انکار ہے ۔ اسی طرح اللہ عزوجل کا فنا ہونا محال ہے اگر فنا ہونے پر قدرت ما ن لی جائے تو یہ ممکن ہوگا اور جس کا فنا ہونا ممکن ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا ۔ پس ثابت ہوا کہ محال و ناممکن پر اللہ تعالی کی قدرت ماننا اللہ عزوجل ہی کا انکار کرنا ہے۔
# تمام خوبیاں اور کمالات اللہ تعالی کی ذات میں موجود ہیں اور ہر وہ بات جس میں عیب یا نقص یا نقصان یا کسی دوسرے کا حاجتمند ہونا لازم آئے اللہ عزوجل کے لیے محال و ناممکن ہے جیسے یہ کہنا کہ (اللہ تعالی جھوٹ بول سکتا ہے ) اس مقدس پاک بے عیب ذات کو عیبی بتانا ہے ور درحقیقت اللہ تعالی کا انکار کرنا ہے ۔ خوب یاد رکھیے کہ ہر عیب اللہ تعالی کے لیے محال ہے اور اللہ تعالی ہر محال سے پاک ہے ۔
# اللہ تعالی کی تمام صفات اس کی شان کے مطابق ہیں ، بیشک وہ سنتا ہے ، دیکھتا ہے ، کلام کرتا ہے ، ارادہ کرتا ہے ، مگر وہ ہماری طرح دیکھنے کےلیے آنکھ ، سننے کے لےے کان ، کلام کرنے کے لیے زبان اور ارادہ کرنے کے لیے ذہن کا محتاج نہیں کیونکہ یہ سب اجسام ہیں ۔ اور وہ اجسام اور زماں و مکاں سے پاک ہے نیز اس کا کلام آواز و الفاظ سے بھی پاک ہے ۔
# قرآن و حدیث میں جہاں ایسے الفاظ آئے ہیں جو بظاہر جسم پر دلالت کرتے ہیں جیسے (ید ، وجھہ ، استوا ) وغیرہ ان کے ظاہری معنی لینا گمراہی و بد مذہبی ہے ۔ ایسے متشابہ الفاظ کی تاویل کی جاتی ہے ۔ کیونکہ ان کا ظاہری معنی رب تعالی کے حق میں محال ہے مثال کے طور پر ( ید ) کی تاویل قدرت سے ، ( وجھہ ) کی ذات سے اور استواء کی غلبہ و توجہ سے کی جاتی ہے ۔ بلکہ احتیاط اس میں ہے کہ بلا ضرورت تا ویل کرنے کی بجائے ان کے حق ہونے پر یقین رکھے ۔ ہمارا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ ( ید ) حق ہے ، ( استواء ) حق ہے مگر اس کا ( ید ) مخلوق کا سا ( ید ) نہیں اور اس کا ( استواء ) نہیں ۔
# اللہ تعالی بے نیاز ہے وہ جسے چاہے اپنے فضل سے ہدایت دے اور جسے چاہے اپنے عدل سے گمراہ کرے۔ یہ اعتقاد رکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اللہ تعالی عادل ہے ۔ کسی پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا ، کسی کو اطاعت یا معصیت کے لیے مجبور نہیں کرتا ، کسی کو بغیر گناہ کے عذاب نہیں فرماتا ۔ اور نہ ہی کسی کا اجر ضائع کرتا ہے ، وہ استطاعت سے زیادہ کسی کو آزمائش میں نہیں ڈالتا اور یہ اس کا فضل و کرم ہے کہ مسلمانوں کو جب کسی تکلیف ب مصیبت میں مبتلا کرتا ہے اس پر بھی اجر و ثواب عطا فرماتا ہے ۔
# اس کے ہر فعل میں کثیر حکمتیں ہوتی ہیں خواہ وہ ہماری سمجھ میں آئے یا نہیں۔ اس کی مشیت اور اراد ے کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا مگر وہ نیکی سے خوش ہوتا ہے اور برائی سے ناراض ۔ برے کا م کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کرنا بے ادبی ہے اس لیے حکم ہوا ، ( تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے ) ۔ ( النساء : ۷۹ ) پس برا کام کر کے تقدیر یا مشیت الہی کی طرف منسوب کرنا بہت بری بات ہے اس لیے اچھے کام کو اللہ عزوجل کے فضل و کرم کی طرف منسوب کرنا چاہیے اور بر ے کام کو شامت نفس سمجھنا چاہیے۔ اللہ تعالی کے وعدہ و وعید تبدیل نہیں ہوتے، اس نے اپنے کرم سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ کفر کے سوا ہر چھوٹے بڑے گناہ کو جسے چاہے معاف فرمادے گا، مسلمانوں کو جنت میں داخل فرمائے اور کفار کو اپنے عدل سے جہنم میں ڈالے گا۔
# بیشک اللہ تعالی رازق ہے وہی ہر مخلوق کو رزق دیتا ہے حتی کہ کسی کونے میں جالا بنا کر بیٹھی ہوئی مکڑی کے رزق کو پر لگا کر اڑاتا ہے ۔ اور اس کے پاس پہنچا دیتا ہے ۔ حدیث شریف میں ہے ، ( بیشک بندے کا رزق اس کو ایسے تلاش کرتا ہے جیسے اسے موت ڈھونڈتی ہے )۔ یعنی جب موت کا بروقت آنا یقینی ہے تو رزق کا ملنا بھی یقینی ہے۔ اللہ عزوجل جس کا رزق چاہے وسیع فرماتا ہے اور جس کا رزق چاہے تنگ کردیتا ہے ایسا کرنے میں اس کی بے شمار حکمتیں ہیں ، کبھی وہ رزق کی تنگی سے آزماتا ہے اور کبھی رزقی فراوانی سے ، پس بندے کو چاہیے کہ وہ حلال ذرائع اختیار کرے۔
مشکوہ میں ہے کہ ( رزق میں دیر ہونا تمہیں اس پر نہ اکسائے کہ تم اللہ تعالی کی نافرمانی سے رزق حاصل کرنے لگو ) ۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے ، ( اور جو ڈرتا رہتا ہے اللہ تعالی سے ، اس کے لیے و ہ نجات کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا ، اور جو اللہ تعالی پر بھروسہ رکھے گا تو اس کے لیے وہ کافی ہے )۔ (الطلاق : ۳)
# اللہ عزوجل کا علم ہر شے کو محیط ہے اس کے علم کی کوئی انتہا نہیں ، ہماری نیتیں اور خیالات بھی اس سے پوشیدہ نہیں ، وہ سب کچھ ازل میں جانتا تھا اب بھی جانتا ہے اور ابد تک جانے گا ، اشیاء بدلتی ہیں مگر اس کا علم نہیں بدلتا ۔ ہر بھلائی برائی اس نے اپنے ازلی علم کے مطابق تحریر فرمادی ہے جیسا ہونے والا تھا اور جو جیسا کرنے والا تھا اس نے لکھ لیا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ جیسا ہم اپنے ارادے اور اختیار سے کرنے والے تھے ویسا اس نے لکھ دیا یعنی اسکے لکھ دینے نے کسی کو مجبور نہیں کردیا ورنہ جزا کا فلسفہ بے معنی ہر کر رہ جاتا ، یہی عقیدہ تقدیر ہے۔
قضا و تقدیر کی تین قسمیں ہیں
(۱) ۔ قضائے مبرم حقیقی
یہ لوح محفوظ میں تحریر ہے اور علم الہی میں کسی شے پر معلق نہیں، اس کا بدلنا ناممکن ہے اللہ تعالی کے محبوب بندے بھی اگر اتفاقا اس بار ے میں کچھ عرض کرنے لگیں تو انہیں خیال سے واپس فرما دیا جاتاہے ۔
( ۲) ۔ قضائے معلق
اس کا صحف ملائکہ میں کسی شے پر معلق ہونا ظاہر فرما دیا گیا ہے اس تک اکثر اولیاء اللہ کی رسائی ہوتی ہے یہ تقدیر ان کی دعا سے یا اپنی دعا سے یا والدین کی خدمت اور بعض نیکیوں سے خیر و برکت کی طرف تبدیل ہوجاتی ہے اور اسی طرح گناہ و ظلم اور والدین کی نافرمانی وغیرہ سے نقصان کی طرف تبدیل ہوجاتی ہے ۔
( ۳) ۔ قضائے مبرم غیر حقیقی
یہ صحف ملائکہ کے اعتبار سے مبرم ہے مگر علم الہی میں معلق ہے اس تک خاص اکابر کی رسائی ہوتی ہے نبی کریم ﷺ اور انبیاء کرام علیہم السلام کے علاوہ بعض مقرب اولیاء کی توجہ سے اور پر خلوص دعاؤں سے بھی یہ تبدیل ہوجاتی ہے ۔ سرکار غوث اعظم سیدنا عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ، میں قضائے مبرم کو رد کردیتا ہوں۔ حدیث پاک میں اسی کے بارے میں ارشاد ہوا ، بیشک دعا قضائے مبرم کو ٹال دیتی ہے ۔
مثال کے طور پر فرشتوں کے صحیفوں میں زید کی عمر (۶۰) برس تھی اس نے سرکشی و نافرمانی کی تو (۲۰) برس پہلے ہی اس کی موت کا حکم آ گیا یا اس نے نیکیاں کیں تو (۲۰) برس مزید زندگی کا حکم فرمایا دیا گیا ، یہ تقدیر میں تبدیلی ہوئی لیکن علم الہی ور لوح محفوظ میں وہی (۴۰) یا (۸۰) برس لکھی ہوئی تھی اور اسی کے مطابق ہوا۔
# قضا و قدر کے مسائل عام عقلوں میں نہیں آسکتے اس لیے ان میں بحث اور زیادہ غور و فکر کرنا ہلاکت و گمراہی کا سبب ہے صحابہ کرام علیہم الرضوان اس مسئلہ میں بحث کرنے سے منع فرمائے گئے تو ہم اور آپ کس گنتی میں ہیں ۔ بس اتنا سمجھ لیجے کہ اللہ تعالی نے آدمی کو پتھر کی طرح بے اختیار و مجبور نہیں پیدا کیا بلکہ اسے ایک طرح کا اختیار دیا ہے کہ وہ کوئی کام چاہیے کرے ، چاہے نہ کرے ور اسکے ساتھ ہی عقل بھی دی ہے کہ اپنے بھلے برے اور نفع نقصان کو پہچان سکے اور سکے لیے ہر قسم کے اسباب بھی مہیا کردیے ہیں ۔ جب بندہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے اسی قسم کے اسباب اختیار کرتاہے اسی بنا پر مواخذہ اور جزا و سزا ہے خلاصہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو بالکل مجبور یا بالکل مختار سمجھنا دونوں گمراہی ہیں ۔
# ہدایت دینے والا اللہ تعالی ہے حبیب کبریا ﷺ وسیلہ ہیں چنانچہ ارشاد ہوا ، (اور بیشک تم ضرور سیدھی راہ بتاتے ہو)۔ (الشوری : ۵۲) شفا دینے والا وہی ہے مگر اس کی عطا سے قرآن آیات اور دواؤ ں میں بھی شفا ہے ارشاد ہوا ، (اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے)۔ (بنی اسرائیل : ۸۲) شہد کے بارے میں فرمایا گیا ، (اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے)۔ (النحل : ۶۹)
بیشک اللہ تعا لی ہی اولاد دینے والا ہے مگر اس کی عطا سے اس کے مقرب بندے بھی اولاد دیتے ہیں حضرت جبریل علیہ السلام نے حضرت مریم علیہا السلام سے فرمایا، (میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں)۔ (مریم : ۱۹ ، کنز الایمان )
اللہ عزوجل ہی موت اور زندگی دینے والا ہے مگر اسکے حکم سے یہ کام مقرب بندے کرتے ہیں ارشاد ہوا ، (تمہیں وفات دیتا ہے موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر ہے)۔ (السجدہ : ۱۱)
حضرت عیسی علیہ السلام کا ارشاد ہے ، (میں مردے زندہ کرتا ہوں اللہ کے حکم سے )۔ (آل عمران : ۴۹) سورہ النزعت ، کی ا بتدائی آیات میں فرشتوں کا تصرف و اختیار بیان فرمایا گیا۔
قرآن حکیم میں اللہ تعالی کی بعض صفات بندوں کے لیے صراحتا بیان ہوئی ہیں جیسے سورہ الدھر آیت ۲ ، میں انسان کو (سمیع و بصیر ) کہا گیا ، سورہ البقرہ آیت ۱۴۳، میں حضور علیہ السلام کا (رؤف و رحیم ) ہونا بیان فرمایا گیا اسی طرح حیات ، علم ، کلام ، ارادہ وغیرہ متعدد صفات بندوں کے لیے بیان ہوئی ہوگی تو وہ ذاتی ، واجب ، ازلی ، ا بدی ، لا محدود اور شان خالقیت کے لائق ہوگی اور جب کسی مخلوق کے لیے ثابت ہوگی تو عطائی ، ممکن ، حادث ، عارضی، محدود اور شان مخلوقیت کے لائق ہوگی پس جس طرح اللہ تعالی کی ذات کسی اور ذات کے مشابہ نہیں اسی طرح اس کی صفات بھی مخلوق کی صفات کے مماثل نہیں۔
# استعانت کی دو قسمیں ہیں حقیقی اور مجازی ۔ استعانت حقیقی یہ ہے کہ کسی کو قادر بالذات ، مالک مستقل اور حقیقی مددگار سمجھ کر اس سے مدد مانگی جائے یعنی اس کے بارے میں یہ عقیدہ ہو کہ وہ عطائے الہی کے بغیر خود اپنی ذات سے مدد کرنے کی قدرت رکھتا ہے غیر خدا کے لیے ایسا عقیدہ رکھنا شرک ہے اور کوئی مسلمان بھی انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیائے عظام کے متعلق ایسا عقیدہ نہیں رکھتا۔ استعانت مجازی یہ ہے کہ کسی کو اللہ تعالی کی مدد کا مظہر ، حصول فیض کا ذریعہ اور قضائے حاجات کا وسیلہ جا ن کر اس سے مدد مانگی جائے اور یہ قطعا حق ہے اور قرآن و حدیث کا وسیلہ جان کر اس سے مدد مانگی جائے اور یہ قطعا حق ہے اور قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔
حضرت موسی علیہ السلام نے اپنے بھائی کو مددگار بنانے کی دعا کی جو قبول ہوئی ۔ ( طہ : ۳۶ ) حضرت عیسی علیہ السلام نو حواریوں سے مدد مانگی ۔ (آل عمران : ۵۲ ) ایمان والوں کو صبر اور نماز سے مدد مانگنے کا حکم دیا گیا ۔ ( البقرہ : ۱۵۳ ) حضرت ذوالقرنین کا لوگوں سے مدد مانگنا بھی قرآن میں مذکور ہے ۔ (الکہف : ۹۵) نیک کاموں میں مسلمانوں کو مدد گار بننے کا حکم دیا گیا ہے۔ (المائدہ : ۲) ایک جگہ صالحین اور فرشتوں کا مددگار ہونا یوں بیان فرمایا گیا ، بیشک اللہ ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے اور اس کے بعد فرشتے مددگار ہیں)۔ (التحریم : ۴) ایک جگہ یوں ارشاد ہوا ، (بیشک تمہارے مددرگار تو صرف اللہ تعالی اور اس کا رسول اور ایمان والے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوہ دیتے ہیں اور اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں)۔ (المائدہ : ۵۵)
ان دلائل و براہین سے ثابت ہوا کہ حقیقی مددگار و مشکل کشا اللہ تعالی ہی ہے ۔ اور اس کی عطا سے اس کے محبوب بندے بھی مددگار ہوتے ہیں ۔ پس محبوبان خدا کو مددگار و متصرف سمجھنا اور ان سے مدد مانگنا ہرگز شرک نہیں کیونکہ اللہ تعالی کا مددگار و مشکل کشا ہونا بالذات اور مخلوق سے بے نیاز و غنی ہو کر ہے جبکہ انبیاء کرام ، اولیاء عظام اور مومنوں کا مددگار و مشکل کشا ہونا اللہ تعالی کی عطا سے ہے اور یہ سب اللہ عزوجل کے فضل و کرم کے محتاج ہیں ۔ نیز ان کا تصرف و اختیار اور طاقت و قدرت اذن الہی کے تابع ہے۔
( وصلی اللہ تعالی علی خیر خلقہ سیدنا محمد و آلہ و اصحابہ اجمعین )

تقلید امام اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ

تقلید امام اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ
تحریر۔ ڈاکٹر الطاف حسین سعیدی ۔ ایم بی بی ایس
دین اسلام میں فقہی مذاہب

اﷲ تعالیٰ نےسورۃ فاتحہ میں ہمیں سکھایا ہےکہ مجھ سےصراطِ مستقیم پر چلنےکی دعا مانگو، پھر ساتھ ہی وضاحت بھی کردی کہ انعام یافتہ لوگوں کی راہ ہی صراط مستقیم ہی، سیدھی راہ ہی، انعام یافتہ لوگوں کی فہرست بھی بتا دی گئی کہ وہ انبیائ، صدیقین، شہداءاور صالحین ہیں (سورۃ النسائ، آیت٩٦) ، سابقہ انبیاءکرام علیہم السلام کےجو مسائل منسوخ ہوئےاُن کےسوا باقی مسائل صراط مستقیم ٹھہری، مگر صدیقین، شہداءاور صالحین میں بھی ایسےمسائل میں اختلاف واقع ہوا ہےجن میں بظاہر نص نہیں ملتی یا جن میں نصوص بظاہر مختلف ہیں اور ایسےمسائل میں وہ ادلہ شرعیہ کی راشنی میں پوری دماغی محنت وجُہد سےمسئلےکےحل میں استنباط و اجتہاد کرتےہیں اور مسائل اخذ کرتےہیں، والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا (سورۃ عنکبوت، آخری آیت) یعنی اور جنہوں نےہماری ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنی راہ دکھائیں گی، یعنی اگر صراط مستقیم ایک چوڑی سڑک ہےتو یہ اجتہادی سبیلیں اُس کےاجزاءہیں، عرف عام میں کل کو دین اور اس کےہر جز و کو مذہب کہا جاتا ہی، اجتہاد واستنباط کرنےوالوں کی اس جماعت کو سورۃالنساءکی آیت نمبر ٣٨ میں اولی الامر کہا گیا ہےاور اسی سورۃ کی آیت نمبر٩٥ میں اولی الامر کی اطاعت کا حکم بھی دیا گیا ہی۔
مجتہد واحد کا اتباع
جن مسائل میں قرآن وحدیث بظاہر خاموش ہیں یا بظاہر مختلف ہیں، وہاں غیر مجتہد کےلئےلازم ہےکہ وہ کسی مجتہدِ عادل سےراہ نمائی لےکر عمل کری، یہ مقام اپنی خواہشِ نفس کو راہ نما بنانےکا نہیں ہی، مجتہد عادل ایک ہی پکڑ لیا جائےورنہ پھر وہی پریشان خیالی کا سامنا کرنا پڑےگا، پھرایک مجتہد عادل اگر ایک جگہ بظاہر کمی چھوڑ جاتا ہےتو دوسری جگہ اُسےپورا کردیتا ہی، مثلاً امام مالک کےیہاں نکاح میں گواہ شرط نہیں اور یہ بظاہر بڑی عجیب بات نظر آتی ہےمگر اُنہوں نےنکاح میں دف بجانا شرط قرار دیا ہی، جس سےکئی گواہ خود بخود پیدا ہوجاتےہیں، یہی وجہ ہےکہ قرآن مجید میں ہےواتبع سبیل من اناب اِلیَّ (سورۃ لقمان، آیت نمبر٥١) ”اور اس کی سبیل پر چل جس نےمیری طرف رجوع کیا“ ، گویااجتہادی سُبُل میں سےشخص واحد کی سبیل اختیار کرلی، بشرطیکہ وہ من اناب الی کا مصداق بھی ہو اور تمام اجتہادی یعنی فقہی مسائل میں اس کی مرتب کردہ سبیل بھی ہم تک براہ راست یا بالواسطہ پہنچ رہی ہو، جیسا کہ ائمہ اربعہ کا حال ہی، ائمہ اہل بیت سےایسی کوئی سبیل دستیاب نہیں ہی۔
مجتہد واحد سےمنسلک نہ ہونےوالوں کا حال بتاتےہوئےمولانا ابوالبرکات سید احمد لاہوری رحمۃ اﷲ علیہ نےاپنےرسالہ”عشرہ? کاملہ“ میں ایک حکایت پیش کی ہے:
”دائود ظاہری کےنزدیک تو جورو کی بیٹی حلال ہےجب کہ اپنی گود میں نہ پلی ہو، یوں غیر مقلدہ نےاپنےسوتیلےباپ غیر مقلد سےنکاح کرلیا، پھر دن چڑھےایک دوسرےغیر مقلد صاحب تشریف لائےتو اس نوجوان آفت جان سےفرمایا کہ یہ نکاح باجماع ائمہ اربعہ باطل محض ہوا، تو ہنوز بےشوہر ہےاب مجھ سےنکاح کرلی، غیر مقلدہ بولی کہ ہمارےمذہب کےتو مطابق ہوا ہی، اس پر مولوی صاحب بولےایک ہی مذہب پر جمنا نہ چاہئیی، غیر مقلدہ بولی کہ اچھا مگر نکاح کو تو گواہ درکار ہیں، وہ اس وقت کہاں؟ کہا نادان لڑکی ! مذہب امام مالک میں گواہوں کی حاجت نہیں ، اس پر یہ دوسرا نکاح ہوگیا ، دوپہر کو تیسرےغیر مقلد تشریف لائےاور کہا لڑکی تو اب بھی بےنکاحی ہی، ائمہ ثلاثہ کےنزدیک بےگواہوں کےنکاح نہیں ہوتا، حدیث میں ایسوں کوزانیہ فرمایا گیا ہے، میں دو گواہ لایا ہوں، مجھ سےنکاح کرلی، لڑکی نےکہا میرا ولی موجود نہیں، کہا حنفی مذہب میںجوان عورت کو ولی کی حاجت نہیں، یوں تیسرا نکاح ہوا، تیسرےپر چوتھےغیر مقلد آدھمکےاور لڑکی کو بےشوہر قرار دیا اور کہا امام شافعی کا قول ہےکہ بےولی کےنکاح نہیں ہوتا، تیرا ولی میرےساتھ ہےآ میرےساتھ نکاح کر، لڑکی بولی تم میرےکفو نہیں نسب میں گھٹیا ہو، کہا تیرا ولی راضی ہےاور ولی راضی ہو تو اکثر ائمہ کےنزدیک نکاح منعقد ہو جاتا ہی، الغرض چوتھا نکاح منعقد ہو گیا، دو گھڑی دن رہےپانچویں غیر مقلد صاحب نےآکر فتویٰ دیا تو اب بھی نکاح شرعی سےمحروم ہی، ہمارےبڑےابن عبدالوہاب نجدی، ابن قیم وابن تیمیہ صاحبان حنبلی تھی، حنبلی مذہب میں غیر کفو سےنکاح صحیح نہیں اگرچہ عورت وولی دونوں راضی ہوں، میں تیرا کفو ہوں ، تیرا وصل بنکاح چاہتا ہوں، یوں متلون مزاج غیر مقلد ہ ایک دن میں پانچوں فقہی مذاہب کی آغوش میں باری باری گئی“۔( ملخص بتغیر یسیر)
جہاں نصوص نہ ملیں یا باہم ٹکرائیں وہاں مجتہدین میں اختلاف واقع ہونا فطری بات ہی، عامی کےلئےکسی ایک مجتہد عادل سےوابستہ ہونا ہی پریشان خیالی اور ذ ہنی بےراہ روی سےمحفوظ رکھتا ہی۔
فقیہ ومجتہد کا مقام
قرآن پاک سےکثیر لوگ گمراہی مین پڑتےہیں اور کثیر لوگ اس سےہدایت پاتےہیں(سورۃ بقرہ۔ آیت نمبر٦٢)، یہی وجہ ہےکہ اسےھُدََی للمتقین بتایا گیا ہی، متقین کا دامن چھوڑ کر اس سےہدایت پانا محال ہی، یہی حال حدیث کا ہی، امام سفیان ابن عیینہ رحمۃ اﷲ علیہ کا فرمان ہےکہ الحدیث مضلۃ الا للفقھاء یعنی حدیث سےلوگ گمراہی میں پڑ سکتےہیںسوائےمجتہدین کے، اور مجتہدین کا دامن پکڑ کر ہی حدیث سےہدایت لینا ممکن ہے، مثال کےطور پربخاری شریف میں حدیث ہےجس میں نبی پاک صلی اﷲ علیہ وسلم کا کھڑےہوکر پیشاب فرمانا مروی ہی، عام آدمی جب ترجمہ پڑھتا ہےتو یا تو سنت سمجھ کر معمول بنا لیتا ہے، یا منکرِ حدیث بن جاتا ہےیا پھر فقہاء ومحدثین کی تشریح سےاپنا ایمان بچاتا ہی۔
یوں سمجھیں کہ تقلید چھوڑ کر حدیث پر عمل جب کہ رُتبہ? اجتہاد حاصل نہ ہو، دین میں گمراہی اور مسلمانوں کی راہ سےجدا چلنا ہے، امام بخاری رحمۃ اﷲ علیہ نےفقہ کو حدیث کا پھل قرار دیا ہی، امام ترمذی رحمۃ اﷲ علیہ نےلکھا ہےکہ فقہاءاحادیث کےمعنی سب سےزیادہ جانتےہیں ھم اعلم بمعانی الاحادیث ، تابعی محدّث حضرت سلیمان اعمش رحمۃ اﷲ علیہ نےفقہاءکو معالج اور محدثین کو دوا دینےوالےقرار دیاہی، بخاری شریف میں حدیث موجود ہےکہ اﷲ جس کی خیر کا ارادہ فرماتا ہےاُسےدین میں فقیہ بنا دیتا ہی، صحاح ستہ کےمصنف محدثین جزوی طور پر اجتہادی شان رکھنےکےباوجود مقلد بنےرہی، مگر آج صحاح ستہ کےناقص اُردو ترجمےپڑھنےوالا اس تقلید کو حرام ، بدعت یا شرک سمجھتا ہی۔ والی اﷲ المشتکی
امام اعظم، ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ
آپ کی ولادت ٠٨ھ میں ہوئی(یعنی امام بخاری علیہ الرحمہ کی پیدائش سےایک صدی اور چودہ سال قبل)، حضرت انس رضی اﷲ عنہ (متوفی ٥٩ھ یا ٣٩ھ)، حضرت عبداﷲبن ابی اوفی رضی اﷲ عنہ بلکہ بقول ابن حجر مکی علیہ الرحمہ آٹھ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو امام ابوحنیفہ نےپایا ہی، خطیب بغدادی، دار قطنی، ابن جوزی ، نووی، ذہبی، ابن حجر عسقلانی، ابن حجر مکی اور امام سیوطی وغیرہم نےآپ کےتابعی ہونےکی تصریح فرمائی ہی، امام سیوطی شافعی نےرسالہ ”تبییض الصحیفہ “میں وہ روایات درج کی ہیںجو آپ نےبراہ راست صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم سےبیان کی ہیں، امام صاحب کی سند کبھی ایک ، کبھی دو، کبھی تین اور کبھی چار واسطوں سےرسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم تک پہنچتی ہی، امام اعظم نےچار ہزار شیوخ سےحدیث پڑھی، اسی لئےامام ذہبی وغیرہ نےآپ کو حفاظ حدیث کےطبقہ میں ذکر کیا ہی، آپ حافظ قرآن تھےاور ایک رکعت میں رات گزار دیتےاور اس میں سارا قرآن پڑھ جاتی(نووی)، آپ نے٠٥١ھ میں سجدہ کی حالت میں انتقال فرمایا، امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتےہیںکہ میں امام ابو حنیفہ سےبرکت حاصل کرتا ہوںاور ان کی قبر کےپاس آتا ہوں جب مجھےکوئی حاجت درپیش ہوتی ہی، دو رکعت نماز پڑھتا ہوں اور اﷲ سےدعا مانگتا ہوںاُن کی قبر کےپاس تو حاجت جلد پوری ہوجاتی ہی(شامی)، امام شافعی علیہ الرحمہ کا قول ہےکہ لوگ فقہ میں ابو حنیفہ کےعیال(نمک خوار) ہیں، امام مالک علیہ الرحمہ نےفرمایا ! یہ ابو حنیفہ ہیں عراق والےاگر یہ کہہ دیں کہ یہ ستون سونےکا ہےتو ایسا ہی نکل آئی(صمیری)، امام احمد بن حنبل رحمۃ اﷲ علیہ نےفرمایاکہ علم، ورع، زہد اور ایثار آخرت میں امام ابوحنیفہ کا مقام ادراک سےبالا ہی(الخیرات الحسان)، سفیان ثوری علیہ الرحمہ کو مشکل درپیش آتی تو کہتےاس کا بہترین جواب وہی دےسکتا ہےجس سےہم حسد کرتےہیںیعنی امام ابو حنیفہ(کردری)، محدّث عبدالعزیز بن ابی رواد کا قول ہےکہ جو ابو حنیفہ سےحُبّ رکھےوہ سُنی ہےاور جس نےبغض رکھا وہ بدعتی ہی(خیرات الحسان) ، حضرت عبداﷲ بن مبارک فرماتےہیں فلعنۃ ربنا اعداد رمل۔ علی من رد قول ابی حنیفہ یعنی لعنت ہو ہمارےرب کی ریت کےبرابر اس شخص پر جو امام ابو حنیفہ کےاجتہادی قول کو مردود ِ(یعنی کفر یاضلالت) قرار دیتا ہی، مکتوبات مجدد الف ثانی میں ہےکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اجتہادامام ابو حنیفہ کےاجتہاد کےموافق ہوگا، جاہل حاسد یا گمراہ لوگ ہر دور میں آپ کےخلاف ہرزہ سرائی کرتےرہے،کچھ نےپاکان امت کےنام سےبھی امام اعظم کےخلاف اقوال گھڑی، جن کو خطیب بغدادی نےتاریخ میں ذکر کردیا، دور حاضر میں بھی ہرزہ سرائی کا سلسلہ بند نہیں ہوا، اس کی نشان دہی مشہور غیر مقلد عالم مولانا دائود غزنوی نےیوں کی ہی:
”(بڑےدرد ناک لہجہ میں فرمایا)مولوی اسحاق! جماعت اہل حدیث کو حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کی بد دعا لےکر بیٹھ گئی ہی، ہر شخص ابو حنیفہ ابو حنیفہ کہہ رہا ہےکوئی بہت ہی عزت کرتا ہےتو امام ابو حنیفہ کہہ دیتا ہی، پھر ان کےبارےمیں ان کی تحقیق یہ ہےکہ وہ تین حدیثیں جانتےتھےیا زیادہ سےزیادہ گیارہ، اگر کوئی بہت بڑا احسان کرےتو وہ انہیں سترہ حدیثوں کا عالم گردانتا ہی، جو لوگ اتنےجلیل القدر امام کےبارےمیں یہ نقطہ نظر رکھتےہوں ان میں اتحاد ویک جہتی کیونکر پیدا ہو سکتی ہی“۔(”حضرت مولانامحمد دائود غزنوی“ ازپروفیسر ابوبکر غزنوی، مطبوعہ مکتبہ غزنویہ شیش محل روڈ لاہور٤٧٩١ئ، ص٧٣١)

حسام الحرمین کی حقانیت و صداقت و ثقاہت

وہ رضا کےنیزےکی مار ہےکہ عدو کےسینےمیں غار ہے ٭

 کسےچارہ جوئی کا وار ہےکہ یہ وار وار سےپار ہے
حسام الحرمین کی حقانیت و صداقت و ثقاہت
الشہاب الثاقب و المہند کی بےبسی و پسپائی اور ناکامی

کلک رضا ہے خنجر خونخو ار برق بار
اعداء سے کہد و خیر منائیں نہ شر کریں

الحمد اللہ ثم الحمد اللہ !
گستاخان رسول ، منکرین ضروریات دین ، باغیان ختم نبوت کےخلاف اکابر و مشاہر علماءو فقہاءعرب وعجم و اعاظم مفتیان حرمین طیبین کےحکم شرعی فتاویٰ حسام الحرمین علیٰ منحر الکفر والمین کو شائع ہوئےایک سو سال ہوگئےاور حسام الحرمین کا پرچم پوری آب و تاب اور جاہ جلال کےساتھ لہرارہا ہےاور خرمن باطل و اہل ارتداد پر برقبار ہے۔
یاد رکھنا چاہئےاور ذہن نشین کر لینا چاہئےکہ سیدنا امام اہلسنت سرکار اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت شیخ الاسلام والمسلمین مولانا الشاہ احمد رضا خاں صاحب فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ نےکسی پر بلا وجہ خواہ مخواہ تکفیر کا حکم جاری نہیں فرمایا جو عناصر تنقیص الوہیت توہین رسالت اور انکار ختم نبوت کےمرتکب اور منکر ضروریات دین ثابت ہوئےانہیں پہلےہر شرعی رعایت دی گئی اُن کو انکےاقوال کفریہ قطعیہ اور گستاخانہ عبارات سےبذریعہ خطوط مطلع اور آگاہ کیا گیا بار بار رجسٹریاں بھیج کر مطلع اور آگاہ کیا گیا گستاخانہ کفریہ عبارات سےتوبہ اور رجوع کی تلقین فرمائی گئی ، آمنےسامنےبیٹھ کر گفتگو کی دعوت دی گئی مگر اہل توہین و تنقیص زمین پکڑ گئےدین کےمسئلہ کو عزت نفس کا مسئلہ بنالیا ، انانیت پر اتر آئےضد و ہٹ دھرمی کو نصب العین بنالیا ناچار مجدداعظم اعلیٰ حضرت امام اہلسنت قدس سرہ نےفرمایا
اف رے منکر یہ بڑھا جوش تعصب آخر
بھیڑ میں ہاتھ سےکمبخت کےایمان گیا
اور تم پر مرےآقا کی عنایت نہ سہی
نجدیو کلمہ پڑھانےکا بھی احسان گیا

امام المحتاطین امام اہلسنت اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ نےاپنی طرف سےکچھ فرمانےاور لکھنےکےبجائےتحذیر الناس ، براہین قاطعہ ، حفظ الایمان ، فتویٰ گنگوہی وغیرہ کی اصل بعینہ عبارات اکابر و اعاظم علماءو فقہاءحرمین طیبین کےسامنےرکھ کر حکم شرعی طلب کیا اور توہین پر تکفیر ہوئی اگر کوئی توہین نہ کرتا تکفیر نہ ہوتی اور اگر اہل توہین و تنقیص توبہ و رجوع کرلیتےتو بھی تکفیر نہ ہوتی مگر آہ افسوس کہ توبہ اور رجوع کرنا ان کےمقدر میں نہ تھا تو اہل توہین کی توہین آمیزگستاخانہ کفریہ عبارات پر تکفیر کا حکم شرعی حسام الحرمین کی صورت میں اکابر علماءحرمین کی طرف سےجاری ہوا

نہ تم توہین یوں کرتےنہ ہم تکفیر یوں کرتے
نہ لگا کفر کا فتویٰ نہ یوں رسوائیاں ہوتیں
نہ توہین کرتے نہ تکفیر ہوتی
رضا کی خطا اس میں اغیار کیا ہی

35 جلیل القدر اکابر و اعاظم علماءو فقہاءحرمین طیبین نےاہل توہین کی اصل کتابیں دیکھ کر مترجمین سےاردو سےعربی میں ترجمہ کرواکر حکم شرعی واضح فرمایا ۔مخالفین کا یہ کہنا ایک حیلہ اور بہانہ بلکہ بد ترین فریب و فراڈ ہےکہ علماءحرمین طیبین ارد و نہیں جانتےتھےدھوکہ دیکر فتویٰ لیا ۔ یہ اہل توہین ہندی و انگریزی مولوی کٹی پٹی عربی جانتےہیں ، تو کیا علماءحرمین ہر سال کثیر تعداد میں ہندوستان سےحج کیلئےجانےوالےعلماءو عوام سےملکر اردو زبان سےواقف نہ ہوں گےاور کیا انہیں تکفیر جیسا نازک و حساس فتویٰ لکھتےوقت مترجم میسرنہ آیا ہوگا اتنےعظیم متبحر و تجربہ کار کہنہ مشق مفتیان کرام اور وہ بھی اہل حرم اکابر کو کوئی دھوکہ و مغالطہ کس طرح دےسکتا ہے۔
:: الشھاب الثاقب و المھند ::

کےمرتبین و مصنفین نےضرور اپنےاکابر کی عبارات میں کتر بیونت و ترمیم و تحریف کی اور مذکورہ بالا کتب میں اپنےاکابر کی عبارات کا حلیہ بگاڑ کر نقل کیں علماءو عوام کو مغالطہ اور صریحاََ دھوکہ دیا جس کا دل چاہےدودھ کا دودھ پانی کا پانی کرکےدیکھ لے، اکابر دیوبند کی گستاخانہ کتب اور توہین آمیز عبارات تحذیرالناس ، براہین قاطعہ ، حفظ الایمان ، فتویٰ گنگوہی وقوع کذب کی پہلےحسام الحرمین سےمطابقت کرلیں اور پھر المہند والشہاب الثاقب سےمطابقت کرلیں صاف طور پر واضح ہو جائےگا کہ المہند و الشہاب الثاقب میں انہوں نےخود اپنےاکابر کی عبارات کفریہ کا حلیہ بگاڑ کر نقل کیں اور خود خیانت و بد دیانتی کی مثال قائم کی ۔
یاد رکھنا چاہئےکہ جب حسام الحرمین پر علماءحرمین طیبین دھوم دھام سےڈنکےکی چوٹ تصدیقات فرمارہےاور تقریظات لکھ رہےتھےتو بےچارہ مصنف المہند مولوی خلیل انبیٹھوی سہانپوری وہیں تھا اور کانگریسی گاندھوی مدنی مولوی حسین احمد اجودھیا باشی ٹانڈوی بھی وہیں حجاز مقدس میں رہتا تھا سیدنا اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مجدد دین و ملت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کی جلالت علمی تاب نہ لاسکتےتھےوہیں آمنےسامنےگفتگو کیوں نہ کرلی اسی وقت علماءحرمین کو حسام الحرمین پر تقریظات لکھنےسےمنع کیوں نہ کردیا کہ جناب یہ دھوکہ دیا جارہا ہےمگر وہاں تو یہ لوگ لب باندھےدم سادھےرہےمولوی خلیل انبیٹھوی چھپ چھپاکر چند اشرفیاں بطور رشوت دیکر اپنا الو سیدھا کرنےکےلئےرئیس العلما ءمولانا شیخ صالح کمال کی خدمت میں حاضر ہوا کہ حضور آپ مجھ سےناراض ہیں ، ئیس العلما ءنےفرمایا تیرا نام خلیل انبیٹھوی ہے؟ مولانا صالح کمال نےفرمایا میں تو تجھےزندیق لکھ چکا ہوں انبیٹھوی نےکہا جو باتیں میری طرف نسبت کی گئی ہیں وہ میری کتاب میں نہیں لوگوں نےمجھ پر افترا کیا ۔ مولانا صالح کمال نےفرمایا تمہاری کتاب براہین قاطعہ چھپ کر شائع ہو چکی ہے، مولوی خلیل انبیٹھوی نےمجبوراََ کہا حضرت کیا کفر سےتوبہ قبول نہیں ہوتی ، مولانا نےفرمایا ہوتی ہےمولوی انبیٹھوی اپنی براہین کی کفریہ عبارات سےتوبہ کا وعدہ کرکےجدہ بھاگ گئےاور تین سال بعد جوڑ توڑ اور ہیرا پھیری کرکےاپنےتمام اکابر ہند کےتعاون و تصدیقات سےالمہند نامی بزعم خود حسام الحرمین کےرد میں لکھ مارا جو از اول تا آخر سراپا کذب صریح جھوٹ اور دروغگوئی کا بد ترین نمونہ ہے۔ مولوی خلیل انبیٹھوی نےاپنےخالص وہابیانہ عقائد کو چھپایا اور خلاف واقع اپنےعقائد سنیوں کےسےظاہر کئےوہابیوں اور محمد بن عبد الوہاب نجدی کو سخت برا بھلا گستاخ و مکفر اور علماءاہلسنت کا قاتل قرار دیا ۔میلاد تو میلاد سواری کےگدھےکےپیشاب کا تذکرہ بھی اعلیٰ درجہ کا مستحب قرار دیا۔خود کو سنی ظاہر کرکےوہابیوں پر سخت لعن و طعن کیا ، گویا وہابی ان کےسوا کوئی اور ہے، المہند کےسوال بھی خود گڑھےاور فریب کاریوں کےخول چڑھا کر مغالطہ آمیز جواب بھی خود ہی دیئے، اعلیٰ حضرت قدس سرہ نےحسام الحرمین پر 35 مسلمہ اکابر علماءحرمین کی تصدیقات حاصل کی تھیں ۔ جبکہ خلیل انبیٹھوی صاحب سر دھڑ کی بازی لگاکر بمشکل 6 علماءکی تصدیقات المہند پر حاصل کرسکا ، جن میں 2 حضرات مولانا سید محمد مالکی اور مولانا محمد علی بن حسین نےاپنی تصدیقات واپس لےلیں ان میں ایک مولانا شیخ محمد صدیق افغانی تھےعلماءحرم سےنہ تھے۔ باقی بھرتی ہندی وہابی مولویوں کی تھی اور سب سےبڑی بات یہ کہ المہند میں اپنےاکابر کی اصل کفریہ عبارات بعینہ و بلفظہ نقل نہ کیں ، مقام غور و لمحہ فکریہ ہے۔
محترم حضرات !! المہند کا بغور مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ وہابیوں اور محمد بن عبد الوہاب شیخ نجدی کو کتنا برا بھلا کہا گیا ہے، یہ مکاری اور عیاری تھی خلیل انبیٹھوی کی ۔وہابیوں اور شیخ نجدی کےمتعلق اصل حقیقی رائےوہ ہےجو انہوں نےاپنےدو مکتوبات (خطوط ) محررہ 22 ربیع الثانی 1345 ھ اور محررہ ماہ رجب المرجب 1345 ھ کتاب اکابر کےخطوط صفحہ 11, 12 پر مولوی محمد زکریا سابق امیر تبلیغی جماعت کےنواسےمولوی محمد شاہد مظاہری نےشائع کئےاور ماہنامہ النو ر تھانہ بھون ماہ رجب 1345 ھ میں مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی نےصفحہ 23 پر شائع کئے۔جن میں محمد بن عبد الوہاب شیخ نجدی اور نجدی وہابی سعودی حکومت اور انکےعلماءکی بھر پور قصیدہ خوانی کی گئی ہےاور والہانہ خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔دیوبندی ، وہابی مفرور مناظر مولوی منظور سنبھلی نےبھی مولوی انبیٹھوی صاحب کےیہ خط اپنی کتاب شیخ محمد بن عبد الوہاب اور ہندوستان کےعلماءحق کےصفحہ 43 پر نقل کرکےان کےمستند ہونےپر مہر تصدیق ثبت کردی ہے
مولوی انبیٹھوی اور مولوی ٹانڈوی

دونو ں جنہوں نےبزعم خود و بزعم جہالت حسام الحرمین کا نام نہاد برائےنام رد لکھ کر حقیقت و صداقت کا منہ چڑایا مولوی خلیل انبیٹھوی اور مولوی حسین احمد کانگریسی ٹانڈوی اُن دنوں وہیں حرمین شریفین میں موجود تھےدیکو ملفوظات اعلیٰ حضرت پہلا حصہ بلکہ خود شکست خوردہ مفرور مناظر مولوی منظور سنبھلی مدیر الفرقان نےبھی تسلیم کیا ہےکہ مولوی خلیل انبیٹھوی ان دنوں حرم مکہ معظمہ میں تھا اور تسلیم کیا ہےکہ ” حضرت مولانا حسین احمد مدنی جو 1316 ھ سے1333 ھ تک مسلسل 17,18 سال مدینہ منورہ میں مقیم رہےتو ان دونوں حضرات نےوہیں امام اہلسنت اعلیٰ حضرت مجدد و دین و ملت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ سےآمنےسامنےگفتگو کیوں نہ کرلی ؟ اگر ہمت و جرات اور استعداد و قابلیت تھی اور کفریہ گستاخانہ عبارات کےبارےمیں ان کا موقف مضبوط تھا تو علماءحرمین طیبین کا حسام الحرمین پر تصدیقات کرتےتقریظات لکھنےسےکیوں نہ روک دیا مگر حقیقت یہ ہے
تیرےاعداءمیں رضا کوئی بھی منصور نہیں
بےحیا کرتےہیں کیوں شور بپا تیرےبعد
المہند اور شھاب ثاقب

میں ایک ایک فریب و فراڈ اور جعلسازی کا مجموعہ ہےتو دوسرا گالی نامہ ہےجس میں غلیظ ترین بازاری زبان استعمال کی گئی ہے۔
محترم حضرات !! خود مطابقت کرلیں کہ حسام الحرمین میں جن جن اکابر و مشاہیر علماءمکہ مدینہ کی تصدیقات و تقریظات ہیں مزہ تو جب تھا کہ ان سب علماءسےالمہند و شہاب ثاقب پر تصدیقات حاصل کی جاتیں اور یہ لکھوادیا جاتا کہ ہمیں ( علماءحرمین ) کو دھوکہ و مغالطہ دیکر مولانا احمد رضا خاں صاحب نےنےحسام الحرمین پر غلط تصدیقات کروائیں اور تحذیر الناس ، براہین قاطعہ اور حفظ الایمان کی عبارات حق و عین اسلام ہیں ۔ مگر ایسا نہ کراسکےتو المہند اور شھاب ثاقب کو حسام الحرمین کا رد اور جواب کیسےقرار دیا جاسکتا ہے۔ بفضلہ تعالیٰ حسام الحرمین کل بھی لاجواب تھا اور آج بھی لاجواب ہےاور انشاءاللہ صبح قیامت تک لاجواب رہےگا ۔
پڑگیا ہےپشت پر اعداءکےاب کیا جائےگا
تیرےکوڑوں کا نشاں احمد رضا خاں قادری
چیر کر اعداء کا سینہ دل سےگزری وار پار
تیرےنیزےکی سناں احمد رضا خاں قادری

یاد رہےکہ المہند کا مدلل و محقق ایک جواب صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مرادآبادی رحمۃاللہ علیہ نےالتحقیقات لدفع التلبیسات کےنام سےاور ایک قاہر رد بلیغ شیر بیشہ اہلسنت مولانا محمد حشمت علی خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ نےفی الفور اُسی زمانےمیں لکھ کر شائع فرمادیا تھا اور مولوی خلیل احمد صاحب اور مولوی حسین احمد صاحب کو پہنچادیا تھا جس کےجواب الجواب سےمخالفین عاجز و قاصر و بےبس ہیں ۔
::حسام الحرمین والمہند کا معنی و مفہوم ::

حسام الحرمین کا معنی ہے” مکہ مدینہ کی تیز کاٹنےوالی تلوار “ ” مکہ مدینہ کی تیز تلوار “ (حسن اللغات )(المنجد)
المہند کا معنی ہے” ہندوستانی لوہےکی تلوار “ (المنجد)
بھلا ہندوستانی لوہےکی تلوار مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی تیز کاٹنےوالی تلوار کا کیا مقابلہ کرسکتی ہے۔ تلوار اہل ایمان اہل حرمین کا ہتھیا رہےہندی لوگوں کا ہتھیار برچھی بھالا ہے، برچھی بھالا تلوار کا کیا مقابلہ کرسکتی ہیں ۔ صنم کدہ ہند کےہندی لوہےکی کیا عظمت اور کیا قدر و قیمت ہوسکتی ہےمکہ و مدینہ کی تیز کاٹنےوالی تلوار کےمقابلہ میں اس کی کیا حیثیت ؟
شہاب ثاقب کا معنی ہے” آگ کا روشن شعلہ “ آسمان پر ٹوٹنےوالا ستارہ (المنجد، حسن اللغات ، فیروزللغات ، امیر اللغات )وغیرہ
آگ کا شعلہ مکہ مدینہ کی تیز تلوار کا کیا بگاڑ سکےگا ؟ آسمان سےستارےکم و بیش ہر شب ٹوٹتےہیں بتایا جائےان سےکتنی تلواریں کنڈم اور ناکارہ ہوئی ہیں اسی طرح المہند اور الشہاب الثاقب بھی آج تک حسام الحرمین کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔
اگر المہند اور شہاب ثاقب نےحسام الحرمین کا کچھ بگاڑا ہوتا تو جب سےابتک المہند اور شہاب الثاقب کےجتنی بھی ایڈیشن چھپےہیں، مخالفین کو باربار ہر بار ضمنی اور اضافی اوروضاحتی مضامین کا اضافہ کرنا پڑا ہےہمارےپاس مخالفین کی قابل اعتراض گستاخانہ کتابوں کےکئی کئی ایڈیشن ہیں اور المہند اور شھاب ثاقب کےبھی کئی کئی ایڈیشن ہیں جو ایک دوسرےسےمختلف و متضاد ہیں ، اور ان میں الفاظ و عبارات کی کمی و بیشی کی ہےجو احساس کمتری کا نتیجہ ہےیہ لوگ خود بھی اپنےاکابر کی کتابوں کےمندرجات سےمطمئن نہیں ایک مضمون میں اس بات کی تفصیل بیان کرنا ممکن نہیں ، ہاں اتنا ضرور کہونگا ملتان کےمکتبہ صدیقہ سےچھپنےوالا اور کراچی کےمکتبہ تھانوی دفتر الابقا سےچھپنےوالا المہند کے32,32 صفحات ہیں اور عرفی نام عقائد علمائےدیوبند ہےمگر اب کراچی اور کتب خانہ مجید یہ ملتان اور اتحاد ڈپو مدرسہ دیوبند یوپی سےجو المہند چھپا ہےان میں ضمنی مضامین کی بھرمار کرکےاس کےصفحات 188 ہیں اور نام بھی بدل دیا پہلےعقائد علمائےدیوبند عرفی نام تھا اور اب جو تین ایڈیشن نئےشائع ہوئےان کا عرفی نام ” یعنی عقائد علمائےاہلسنت دیوبند “ ہے۔ مقصد یہ کہ کچھ بھی جس طرح بھی بن پڑےعوام کو دھوکہ اور مغالطہ دیکر گمراہ کیا جائے۔ یہ بھی چیلنج ہےہمیں بتایا جائے” المہند “ کا یہ معنی یعنی عقائد علماءدیوبند یا اب عقائد علماءاہلسنت دیوبند کہاں اور کس کتاب میں لکھا ہے؟؟ سیدنا سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ نےٹھیک ہی تو فرمایا تھا
سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونےوالوجاگتےرہیو چوروں کی رکھوالی ہے
:: یہی حال توہین آمیز گستاخانہ کتابوں کا ہے::
ہمارےپاس تقویۃ الایمان ، تحذیر الناس ، براہین قاطعہ ، حفظ الایمان وغیرہ وغیرہ کےکئی کئی ایڈیشن ہیں جو ایک دوسرےسےمختلف اور متضاد ہیں مفہوم نہیں عبارتیں بدل گئی ہیں ۔ مگر سیدھےطریقےسےسچےدل سےپکی توبہ اور رجوع کرنےکی توفیق نصیب نہ ہوئی ، یہ بھی حسام الحرمین کی حقانیت و صداقت و ثقاہت کی روشن دلیل ہے، اختصار مانع ہےچند حوالہ جات ملاحظہ ہوں ہمارےپاس کتب خانہ رحیمیہ دیوبند ضلع سہارنپور کا شائع کردہ الشہاب الثاقب ہےجس کے111 صفحات ہیں مگر اب جو انجمن ارشاد المسلمین لاہور نےالشہاب الثاقب کا ترمیم و اضافہ اور دلیرانہ تحریف و خیانت کےساتھ جو جدید ایڈیشن شائع کیا ہی،اس کےصفحات 290 ہیں اور عوام کو گمراہ کرنےکےلئےجو پیوند کاریاں کیں ٹاکیاں لگائیں گالی گفتار سمیت 504 صفحات ہیں ۔ تحذیرالناس ایک مختصر رسالہ تھا کتب خانہ امدایہ دیوبند اور انار کلی لاہور کےتین ایڈیشن تین چھاپےعلی الترتیب 62,52,48 صفحات کےہیں لیکن اب مکتبہ حفیظیہ گوجرانوالہ کےشائع کردہ جدید ایڈیشن کے128 صفحات ہیں جسمیں کذاب مصنف خالد محمود مانچسٹروی نےمقدمہ کےعنوان سےاپنی دوکانداری چمکائی ہے، کسی عزیر الرحمان نےطویل ترین حاشیےلکھےہیں اور شکست خوردہ مفرور مناظر کا طویل ترین مقالہ توضیح عبارات کےعنوان سےشامل کیا گیا ہےاور جعل سازی کی قابلیتیں ختم کردیں ۔یہ اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت سیدنا امام احمد رضا خاں رضی اللہ عنہ اور فتاویٰ حسام الحرمین کی عظیم فتح و نصرت اور بےمثال کامیابی و کامرانی ہےکہ اہل توہین کی گستاخانہ کتابیں اصل شکل و صورت میں نہ رہیں اور خود مخالفین کو ان پر ترمیمات و تحریفات کےخول چڑھانےپڑےمگر گستاخانہ عبارات سےتوبہ میسر نہ آئی ۔
::توہین آمیز کتابوں کی عبارتیں بدل دیں ::
یہ مضمون کوئی مستقل کتاب نہیں اس لئےاختصار سےکام لینا پڑرہا ہےاور نور مدینہ ڈاٹ نیٹ پہ آئےہوئےدیوبندی کو ٹھنڈا کرنےکےلئےرقم کیا جارہا ہے۔
محترم حضرات !! اب ایک نظارہ عبارتیں بدلنےکا بھی دیکھ لیں ۔ تقویۃ الایمان کےبیسوں ایڈیشنوں میں لکھا ہے” ف یعنی میں بھی ایک دن مر کر مٹی میں ملنےوالا ہوں “ ( میر محمد کتب خانہ کراچی صفحہ 57 )
لیکن اب جدید اور دیگر مقامات سےچھپنےوالےجدید ایڈیشنوں میں لکھا ہے” یعنی ایک نہ ایک دن میں بھی فوت ہوکر آغوش لحد میں جاسووں گا “ (مطبوعہ جدہ صفحہ 164 )
تحذیر الناس میں اجماع صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اور اجماع امت کےخلاف جوجدید معنی و مفہوم خاتم النبیین کےبیان کئےگئےفتاویٰ حسام الحرمین کی اشاعت کےبعد تحذیر الناس کی عبارات میں بھی توبہ کرنےکی بجائےکم و بیش ترمیم و تحریف کی گئی مثلاََ المہند صفحہ 11 پر تحذیر الناس کی عبارات اصل بعینیہ و بلفظہ نقل نہ کیں خلاصہ بیان کیا اور حاشا حاشا وکلا کہہ کہ جھوٹ بولاگیا۔اسی طرح شہاب ثاقب میں مولوی حسین احمد کانگریسی نےصفحہ 72 تا 79 تک تحذیرالناس کی عبارات کی من گھڑت و پرفریب تاویلات کی ہیں ، پیوندکاری کی ہےیہ مطلب ہےوہ مطلب ہےیہ معنی ہےوہ معنی ہےمگر اصل عبارت بلفظہ نقل نہ کیں بھانڈہ پھوٹ جانےپول کھل جانےکا اندیشہ تھا ، اور راشد کمپنی دیوبندی والوں نےتو عبارت میں من مانےالفاظ داخل کردیئےجگہ جگہ نانوتوی صاحب کےصلعم کےبرعکس لکھا اور ” بالفرض بعد زمانہ نبوی صلعم بھی کوئی نبی پیدا ہو“ کےبجائے” فرض کیا جائے“ لکھ دیا (صفحہ 22 )
پھر سب سےبڑی بات تو یہ ہےمولوی قاسم نانوتوی کےسوانح نگار مولوی مناظر احسن گیلانی نےخود تسلیم کرتےہیں ” اسی زمانہ میں تحذیرالنا س نامی رسالہ کےبعض دعاوی پر بعض مولوی کی طرف سےخود سیدنا امام الکبیر (نانوتوی) پر طعن وتشنیع کا سلسلہ جاری تھا “ ( سوانح قاسمی جلد اول صفحہ 370 ) مولوی اشرف تھانوی نےلکھا ہے” جس وقت سےمولانا ( قاسم نانوتوی) نےتحذیرالناس لکھی کسی نےہندوستان بھر میں مولانا (نانوتوی ) کےساتھ موافقت نہیں کی بجز مولانا عبد الحی صاحب کے“ (الاضافات یومیہ جلد 4 صفحہ 580 )
جب مولانا محمد قاسم نانوتوی صاحب نےکتاب تحذیر الناس لکھی تو سب نےمخالفت کی (قصص الاکابر 159 )
خود محدث دیوبند مولوی انور کاشمیری نےفیض الباری جلد 3 صفحہ 334, 333 میں تحذیرالناس پر سخت جرح کی ہے۔
مولوی حسین احمد کانگریسی شہاب ثاقب میں اور مولوی خلیل انبیٹھوی المہند میں کفر یہ عبارات اسلامیہ ثابت کرنےاٹھےتھےمگر انہوں نےبھی براہین قاطعہ کی گستاخانہ عبارات کی نہ تو معقول تاویل کی نہ براہین قاطعہ کی اصل عبارت بعینیہ و بلفظہ نقل کی شہاب ثاقب میں صفحہ 89 تا 92 اور المہند میں صفحہ 13 تا 14 ۔براہین قاطعہ کی گستاخانہ عبارت کی صفائی پیش کی گئی مگر اصل زیر بحث پوری عبارت نقل نہیں کی رہا وقوع کذب کا گنگوہی کا فتویٰ تو اصل فتویٰ وقوع کذب باری تعالیٰ کی فوٹو کاپیاں عام ہیں اور متعدد کتابوں میں چھپ چکی ہیں یاد رہےگنگوہی صاحب کا یہ فتویٰ خود ان کی زندگی میں 1308 ھ سےلےکر ان کےمرنےتک یعنی 1323 ھ تک بار بار مختلف مقامات سےچھپ کر شائع ہوتا رہا مگر گنگوہی صاحب گم سم رہےساکت و جامد ہوگئےنہ فتویٰ سےانکار کرسکےنہ تاویل و تردید کرسکےآج ان کےکم سن وکیل شیر خوار مناظرین و مصنفین ناحق جھک مار رہےہیں ۔
باقی رہی حفظ الایمان کی گستاخانہ عبارت تو جناب دیوبندی مصنفین و مناظرین نےنوع بنوع اور مختلف النوع تاویلیں کرکےخود تھانوی صاحب کو کفر کی دلدل میں دھکیل دیا ۔
دیکھئےابتداءحفظ الایمان 9,10 صفحہ کا مختصر سا پمفلٹ تھا جس میں ان کی وہ گستاخانہ عبارت تھی جس پر حسام الحرمین میں تکفیر کا حکم شرعی بیان ہوا ، چونکہ دیوبندی وہابی اکابرین احساس کمتری میں مبتلا تھےرنگ برنگی عقل شکن تاویلیں کرنےلگےتھےتھانوی صاحب میں مناظرہ کا دم خم نہ تھا ۔مولوی مرتضی حسن در بھنگی چاند پوری ، مولوی منظور حسن سنبھلی ، مولوی عبد الشکور کاکوروی ،مولوی ابو الوفا شاہ جہانپوری نےمناظر بن کر بحث و مباحثہ کا پیشہ اور ذریعہ معاش اختیار کرکےاپنی دوکانداری چمکائی ، مولوی منظور سنبھلی نےمناظرہ بریلی ، مولوی مرتضی حسن دربھنگی نےتوضیح البیان ، خلیل انبیٹھوی نےالمہند ، مولوی عبد لشکور کاکوروی نےاپنی کتابوں میں جو مختلف النوع متضاد تاویلات کی ہیں ایک کی تاویل سےدوسرےپر اور دوسرےکی تاویل سےتیسرےپر چوتھےاور چوتھےکی تاویل سےان سب پر تکفیر کا حکم شرعی لگتا ہےاور ان سب کی تاویلات سےجناب تھانوی صاحب پر تکفیر کی شرعی ڈگری ہوجاتی ہے۔اور حسام الحرمین کا پھریرہ آب و تاب و جاہ و جلال سےلہراتا ہوا نظر آتا ہےبالآ خر کفریہ گستاخانہ عبارتوں کےوکیلوں نےمیدان مناظرہ میں شکستیں کھاکھاکر جناب تھانوی صاحب کو ترمیم و تحریف کی راہ پر ڈال دیا اور ترمیموں و ضمیموں والی حفظ الایمان چھپنےلگی۔صفحات 9,10 کی حفظ الایمان جو اب انجمن ارشاد المسلمین لاہور نےشائع کی ہےاس کےصفحات اب 119 ہیں ۔ ع
مرض بڑھتا گیا جوںجوں دوا کی
تھانوی صاحب کےوکیل میدان مناظرہ میں فیل تھےلہذا تھانوی صاحب کو حفظ الایمان کی وضاحت اور تاویل میں بسط البنان لکھنی پڑی ۔ اور پھر بسط البنان اور حفظ الایمان کی وضاحت میں عبارت بدل کر تغیر العنوان لکھنی پڑی اور عبارت حفظ الایمان کو مجبوراََ یوں کردیا ۔اور تھانوی صاحب نےحکم دیا کہ اب حفظ الایمان کی عبارت کو یوں پڑھا جاوےاگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور علیہ السلام کی کیا تخصیص ہےمطلق بعض علوم غیبیہ تو غیر انبیاےعلیہم السلام کو بھی حاصل ہیں الخ
اب لاہور اور دیوبند سےجو جدید حفظ الایمان چھپی ہےانجمن ارشاد المسلمین لاہور اور مکتبہ نعمانیہ دیوبند والوں نےبھی یہ بدلی ہوئی ترمیم و تحریف شدہ حفظ الایمان شائع کی ہے۔افسوس کہ تھانوی صاحب کو ترمیم کرنےالفاظ وعبارت بدلنےکی سوجھی توبہ اور رجوع کی توفیق نہ ہوئی ۔بہرحال ان الفاظ بدلنےسےیہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ حسام الحرمین کا حکم شرعی حق اور مبنی بر حقیقت تھا اور المہند و شہاب ثاقب حسام الحرمین کےدلائل قاہرہ کو توڑ نہ سکے۔اور ناکام و نامراد رہے۔اور کیوں نہ ہوجب کہ امام اہلسنت سیدنا سرکار اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کی ذات والا صفات وہ ہیں جس کےلئےکہا گیا ہے
یہ وہ دربار سلطان قلم ہی
جہاں پر سرکشوںکا سر قلم ہے
تو جناب والا اصل مسئلہ اور تنازعہ توہین و تکفیر کا ہےہمارا مدمقابل حریف طائفہ تکفیر کو بہت برا سمجھتا ہےکبیدہ خاطر ہوتا ہےبلاوجہ تکفیر کردی ناحق تکفیر کردی بریلی میں کفر کےفتوئوں کی مشین لگی ہےمگر یہ نہیں دیکھتےتکفیر کیوں کی گئی وجہ تکفیر کیا ہے؟ تو جناب کتابیں چھپی ہوئی ہیں موجود ہیں ، تحذیر النا س ، براہین قاطعہ ، حفظ الایمان کی گستاخانہ کفریہ عبارات اپنی آنکھوں سےدیکھ سکتےہیں ۔ امام اہلسنت سیدنا اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ از خود اپنی طرف سےتکفیر کا شرعی حکم جاری نہیں فرمایا ۔حسام الحرمین میں 35 اکابر و اعاظم علماءو فقہاءحرمین کےمبارک مدلل فتاویٰ اور تقاریظ ہیں ۔الصوارم
الہندیہ پر اب تک 300 سےزائد اکابر علماءتصدیقات فرماچکےہیں تصدیقات لکھ چکےہیں ۔اکابر دیوبند کی گستاخانہ کتابوں کےہر نئےآنےوالےجدید ایڈیشن میں یہ لوگ خود ہی کاٹ چھانٹ ترمیم و تحریف کررہےہیں ۔ نت نئی عبارتیں بدل رہےہیں جس کا واضح مطلب یہ ہےکہ گستاخانہ عبارات خود ان کےنزدیک بھی کفریہ اور توہین آمیز ہیں ناقابل تاویل ہیں ۔جبھی تو عبارات بدل رہےہیں اگر المہنداور الشہاب الثاقب سچےتھےتو انہی 35 اکابر علماءحرمین کےسامنے تحذیر النا س ، براہین قاطعہ ، حفظ الایمان ، فتویٰ گنگوہی کی اصل عبارت رکھ کر تصدیقات حاصل کی جاتیں اور یہ لکھوایا جاتا کہ ہم نےحسام الحرمین پر جو تصدیقات کیں تقریظات لکھیں وہ واپس لیتےہیں فلاں فلاں عبارت کفریہ اور گستاخانہ نہیں مگر افسوس کہ المہند اور الشہاب الثاقب گونگا بہری ہےوہ حسام الحرمین کا جواب نہیں ۔
ع :: دل کو بہلانےکو غالب یہ خیال اچھا ہے
ویسےبھی المہند اور الشہاب الثاقب جیسی جھوٹی کتابوں کےجوابات شیر بیشہ اہلسنت مولانا حشمت علی خان صاحب اور فاضل اجل مولانا شاہ محمد اجمل سنبھلی قدس سرہ نےراد المہند اور رد شہاب ثاقب اور صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مرادآبادی نےالتحقیقات کےنام سےشائع فرمادیئےتھی۔
افادہ: نبیرہ اعلیٰ حضرت علامہ الحاج سبحان رضا خاں سبحانی میاں صاحب قبلہ دامتہم برکاتہم عالیہ
سجادہ نشین خانقاہ عالیہ رضویہ
والسلام

مسلک اعلٰیحضرت کیوں؟

سب سے پہلے یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ بریلوی یا مسلک اعلٰی حضرت سے مراد کوئی نیا مسلک نہیں‌، بلکہ صحابہ کرام ، تابعین ، تبع تابعین ، صالحین اور علماء امت جس مسلک پر تھے مسلک اعلٰی حضرت ، بریلوی کا اطلاق اُسی پر ہوتا ہے دراصل اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ تقریبا دو صدی قبل برصغیر کی سرزمین پر کئی نئے فرقوں‌نے جنم لیا اور ان فرقوں‌کے علمبرداروں نے اہلسنت و جماعت کے عقائد و معمولات کو شرک و بدعت قرار دینے کی شرمناک روش اختیار کی ، خصوصا مولوی اسماعیل دہلوی نے وہابی مسلک کی اشاعت کے لئے جو کتاب تقویۃ الایمان کے نام سے مرتب کی اس میں علم غیب مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم ، حاضرو ناظر ، شفاعت ، استعانت ، نداء یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، اختیارات نبی صلی اللہ علیہ وسلم  وغیرہ تمام عقائد کو معاذاللہ کفر و شرک قرار دے دیا ، جب کہ یہ سارے عقائد روز اول سے قران و سنت سے ثابت شدہ ہیں‌، اسی طرح میلاد و قیام ، صلوٰۃوسلام ، ایصال ثواب ، عرس یہ سب معمولات جو صدیوں‌سے اہلسنت و جماعت میں رائج ہیں‌اور علمائے امت نے انھیں‌باعث ثواب قرار دیا ہے ، لیکن نئے فرقوں‌کے علمبرداروں‌نے ان عقائد و معمولات کو شرک و بدعت قرار دیتے ہوئے اپنی ساری توانائی انہیں مٹانے پر صرف کی ، اسی زمانے میں علمائے اہلسنت نے اپنے قلم سے ان عقائد و معمولات کا تحفظ فرمایا اور تحریر و تقریر اور مناظروں‌کے ذریعے ہر اعتراض کا دندان شکن جواب دیا ۔
 عقائد کی اسی معرکہ آرائی کے دور میں‌بریلی کی سرزمین پر امام احمد رضا خان قدس سرہ پیدا ہوئے ، آپ زبردست عالم دین تھے اللہ تعالٰی نے آپ کو بے پناہ علمی صلاحیتوں سے مالا مال فرمایا تھا اور آپ تقریبا 100 سے زائد علوم میں مہارت رکھتے تھے خصوصا علم فقہ میں آپ کے دور میں کوئی آپ کا ثانی نہ تھا ، اعلٰی حضرت امام اہلسنت مجدد و ملت مولانا الشاہ احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کی علمی صلاحیتوں‌کا اعتراف ان لوگوں نے بھی کیا جو آپ کے مخالف ہیں ، بہرحال آپ نے اپنے دور کے علمائے اہلسنت کو دیکھا کہ وہ باطل فرقوں کے اعتراضات کے جوابات دے کر عقائد اہلسنت کا دفاع کررہے ہیں‌تو آپ نے بھی اس عظیم خدمت کے لئے قدم اٹھایا اور اہلسنت کے عقائد کے ثبوت میں دلائل و براہین کا انبار لگادیا ، ایک ایک عقیدے کے ثبوت میں کئی کئی کتابیں تصنیف فرمائیں ، ساتھ ہی ساتھ جو معمولات آپ کے زمانے میں رائج تھے ان میں سے جو قرآن و سنت کے مطابق تھے آپ نے ان کی تائید فرمائی اور جو قرآن اور سنت کے خلاف تھے  آپ نے ان کی تردید فرمائی ، اس طرح بے شمار موضوعات پر ایک ہزار سے زائد کتابوں کا عظیم ذخیرہ مسلمانوں کو عطا فرمایا ، بہرحال آپ نے باطل فرقوں کے رد میں اور عقائدو معمولات اہلسنت کی تائید میں جو عظیم خدمات انجام دین اس بنیاد پر آپ علمائے اہلسنت کی صف میں نمایاں ہوگئے ، اور عقائد اہلسنت کی زبردست وکالت کرنے کے سبب سے یہ عقائد امام احمد رضا کی ذات کی طرف منسوب ہونے لگے ، اور اب حال یہ ہے کہ آپ کی ذات اہلسنت کا ایک عظیم نشان کی حیثیت سے تسلیم کرلی گئی ہے یہی وجہ ہے کہ کوئی حجازی یا شامی و یمنی یا عراقی و مصری بھی مدینہ منورہ میں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتا ہے تو نجدی اسے بریلوی کہتے ہیں‌حالانکہ اس کا کوئی تعلق بریلی شہر سے نہیں ہوتا ، اسی طرح اگر کوئی اسئلک الشفاعۃ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شفاعت طلب کرے تو چاہے وہ جزیرہ العرب ہی کا رہنے والا کیوں نہ ہو وہابی اسے بریلوی ہی کہتا ہے جبکہ بریلوی اسے کہنا چاہیے جو شہر بریلوی کا رہنے والا ہو لیکن اس کی وجہ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ اسلاف کے وہ عقائد ہیں جن کی امام احمد رضا قدس سرہ نے دلائل کے ذریعے شد و مد سے تائید فرمائی ہے اور ان عقائد کے ثبوت میں سب نمایاں خدمات انجام دی ہیں ، جس کی وجہ سے یہ عقائد امام احمد رضا سے اس قدر منسوب ہوگئے ہیں کہ دنیا میں کوئی بھی مسلمان اگر ان عقائد کا قائل ہو تو اسے آپ ہی کی طرف منسوب کرتے ہوئے بریلوی کہا جاتا ہے ۔
 اب چونکہ برصغیر میں فرقوں کی ایک بھیڑ موجود ہے اس لئے اہلسنت وجماعت کی شناخت قائم کرنا ناگزیر ہوگیا ہے اس لئے کہ دیوبندی فرقہ بھی اپنے آپ کو اہلسنت ہی ظاہر کرتا ہے جبکہ کے دیوبندیوں‌کے عقائد بھی وہی ہیں‌جو وہابیوں کے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ وہابی اپنے آپ کو اہل حدیث‌کہتے ہیں‌اور آئمہ اربعہ میں سے کسی کی تقلید نہیں کرتے اور دیوبندی تقلید تو کرتے ہیں لیکن وہابیوں‌کے عقائد کو حق مانتے ہیں‌اس لئے فرقوں سے ممتاز کرنے کے لئے مسلک اعلٰی حضرت کا استعمال مناسب سمجھا ، اس کا سب سے بڑا فائدہ کہ اب جو مسلک اعلٰی حضرت کا ماننے والا سمجھا جائے گا اس کے بارے میں‌خود بخود یہ تصدیق ہوجائے گی کہ یہ علم غیب ، حاضر و ناظر ، استعانت ، شفاعت وغیرہ کا قائل ہے اور معمولات اہلسنت عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، قیام ، صلوۃ وسلام کو بھی باعث ثواب سمجھتا ہے اگر کوئی یہ کہے کہ نہیں‌فقط اپنے آپ کو سنی کہنا کافی ہے تو میں‌یہ کہوں گا اگر کوئی شخص اپنے آپ کو سنی کہے آپ اسے کیا سمجھیں گے یہ کونسا سنی ہے ؟ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی تقلید کرتے ہوئے وہابی عقائد کو حق ماننے والا یا پھر یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہنے والا۔ ظاہر ہے صرف سنی کہنے سے کوئی شخص پہچانا نہ جائے گا مگر کوئی اپنے آپ کو بریلوی سنی کہے تو فورا سمجھ میں آجائے گا کہ یہ حنفی بھی ہے اور سچا سنی ہے ، یا پھر اپنے آپ کو کوئی مسلک اعلٰی حضرت کا ماننے والا کہے تو بھی اس مسلمان کے عقائد و نظریات کی پوری نشاندہی ہوجاتی ہے ، اہل ایمان کو ہر دور میں‌شناخت کی ضرورت محسوس ہوئی ہے دیکھیے مکہ کی وادیوں میں‌جب اسلام کی دعوت عام ہوئی تو اس وقت ہر صاحب ایمان کو مسلمان کہا جاتا تھا اور جب بھی کوئی کہتا میں مسلمان ہوں‌تو اس شخص کے بارے میں فورا یہ سمجھ آجاتا کہ یہ اہل سنت سے تعلق رکھتا ہے یعنی خدا کی وحدانیت کی گواہی دیتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو تسلیم کرتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرتا ہے لیکن ایک صدی بھی نہ گزری تھی کہ اہل ایمان کو اپنی شناخت کے لئے ایک لفظ کے استعمال کی ضرورت محسوس ہوئی اور وہ لفظ سنی ہے وجہ یہ تھی کہ ایک فرقہ پیدا ہوا جس سے معاذاللہ  حضرت سیدنا صدیق اکبر ، حضرت سیدنا عمر فاروق ، حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہم پر لعن طعن کرنا شروع کردیا اور اس میں حد سے تجاوز کرگیا ، لیکن وہ لوگ بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے اس لئے اس دور میں‌اہل سنت نے اپنے آپ کو سنی مسلمان کہا ، صرف مسلمان اگر کوئی اپنے آپ کو کہتا تو اس کے بارے میں‌سوال پیدا ہوتا کہ یہ کون سا مسلمان ہے ؟‌حضرت سیدنا صدیق اکبر ، حضرت سیدنا عمر فاروق ، حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہم کو ماننے والا مسلمان ہے یا ان پر لعن طعن کرنے والا ، لیکن اگر کوئی اپنے آپ کو سنی مسلمان کہتا تو اس کے بارے میں یہ سمجھ آجاتا کہ یہ خلفاء کو ماننے والا مسلمان ہے ، اس طرح خلفاء پر لعن طعن کرنے والے رافضیوں کے مقابلہ میں اہل سنت کی ایک الگ شناخت ہوگئی سنی مسلمان ۔
 اس سلسلے میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حنفی ، شافعی ، مالکی حنبلی یہ چار مسلک تو پہلے سے موجود ہیں پھر یہ پانچواں‌مسلک مسلک اعلٰی حضرت کیوں کہا جاتا ہے تو انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ مسلک اعلٰی حضرت یہ کوئی پانچواں مسلک نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہی ہے کہ یہ چاروں مسلک حنفی ، شافعی ، مالکی اور حنبلی حق ہیں اور کسی ایک کی تقلید واجب ہے اور یہی امر اعلٰی حضرت امام احمد رضا کی کتب سے ثابت ہے اس لئے اگر کوئی شافعی یا حنبلی بھی اپنے آپ کو مسلک اعلٰی حضرت سے منسوب کرتا ہے تو اس کا یہی مطلب ہے کہ وہ فروعیات میں اپنے امام کی تقلید کے ساتھ ساتھ عقائد و معمولات اہل سنت کا بھی قائل ہے ۔ رہا یہ سوال کہ مخا لفین اس سے یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں‌کہ یہ پانچواں‌مسلک ہے تو ہم سارے وہابیوں ، دیوبندیوں کو چیلنچ کرتے ہیں کہ وہ ثابت کریں کہ امام احمد رضا نے کسی عقیدہ کی تائید قرآن و سنت کی دلیل کے بغیر کی ہے ، کسی بھی موضوع آپ ان کی کتاب اٹھا کر دیکھ لیجیے ہر عقیدہ کے ثبوت میں‌انہوں نے قرآنی آیات ، احادیث مبارکہ اور پھر اپنے مئوقف کی تائید میں‌علماء امت کے اقوال پیش کیے ہیں‌، حق کو سمجھنے کے لئے شرط یہ ہے کہ تعصب سے بالاتر ہوکر امام احمد رضا قدس سرہ کی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے ، مطالعہ کے دوران آپ واضح محسوس کریں‌گے کہ اعلٰی حضرت وہی کہہ رہے ہیں جو چودہ سو سالہ دور میں‌علماء‌و فقہاء کہتے رہے ہیں ۔ اب بھی اگر کسی کو اطمینان نہ ہوا ہو  اور وہ مسلک کے لفظ کو اعلٰی حضرت کی طرف منسوب کرنے پر معترض ہو اور یہی سمجھتا ہو کہ یہ ایک نیا مسلک ہے تو وہابی ، دیوبندی سنبھل جائیں‌اور میرے ایک سوال کا جواب دیں‌کہ مولوی محمد اکرم جو کہ دیوبندیوں‌کے معتمد مئورخ‌ہیں ، انہوں نے موج کوثر میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے عقائد و نظریات کا تذکرہ کرتے ہوئے باربار مسلک ولی اللہ کا لفظ استعمال کیا تو کیا چاروں مسلک سے علیحدہ یہ مسلک ولی اللہ کوئی پانچواں‌اور نیا مسلک ہے ؟‌جو آپ کا جواب ہوگا وہی ہمارا بھی۔