زئے عزت و اعتلائے محمد

نعت شریف
زئے عزت و اعتلائے محمدﷺ
کہ ہے عرش حق زیر پائے محمدﷺ
مکان عرش ان کا فلک فرش ان کا
ملک خادمان سرائے محمدﷺ
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمدﷺ
عجب کیا اگر رحم فرمائے ہم پر
خدائے محمد برائے محمدﷺ
محمد برائے جناب الٰہی
جناب الٰہی برائے محمدﷺ
بسی عطر محبوبی کبریا سے
عبائے محمد قبائے محمدﷺ
بہم عہد باندھے ہیں وصل ابد کا
رضائے خدا اور رضائے محمدﷺ
دم نزع جاری ہو میری زباں پر
محمد محمد خدائے محمدﷺ
عصائے کلیم اژدہائے غضب تھا
گروں کا سہارا عصائے محمدﷺ
میں قربان کیا پیاری پیاری ہے نسبت
یہ آن خدا وہ خدائے محمدﷺ
محمد کا دم خاص بہر خدا ہے
سوائے محمد برائے محمدﷺ
خدا ان کو کس پیار سے دیکھتا ہے
جو آنکھیں ہیں محو لقائے محمدﷺ
جلو میں اجابت خواصی میں رحمت
بڑھی کس تزک سے دعائے محمدﷺ
اجابت نے جھک کر گلے سے لگایا
بڑھی ناز سے جب دعائے محمد ﷺ
اجابت کا سہرا عنایت کا جوڑا
دلہن بن کے نکلی دعائے محمدﷺ
رضا# پل سے اب وجد کرتے گزریئے
کہ ہے رب سلم صدائے محمدﷺ

Advertisements

طوبے ميں جو سب سے اونچي نازک سيدھي نکلي شاخ

نعت  شريف
طوبے ميں جو سب سے اونچي نازک سيدھي نکلي شاخ
مانگوں نعت نبي لکھنے کو روح قدس سے ايسي شاخ
مولي گلبن رحمت زہرا سبطين اس کي کلياں پھول
صديق و فاروق و عثمان وحيدر ہر ايک اس کي شاخ
شاخ قامت شہ ميں زلف و چشم و رخسار و لب ہيں
سنبل نرگس گل پنکھڑياں قدرت کي کيا پھولي شاخ
اپنے ان باغوں کا صدقہ وہ رحمت کا پاني دے
جس سے نخل دل ميں ہو پيدا پيارے تيري ولا کي شاخ
ياد رخ ميں آہيں کرکے بن ميں ميں رويا آئي بہار
جھوميں نسيميں نيساں برسا کلياں چٹکيں مہکي شاخ
ظاہر و باطن اول آخر زيب و فروع و زين اصول
باغ رسالت ميں ہے تو ہي گل غنچہ جڑ پتي شاخ
آل احمد خذبيدي يا سيد حمزہ کن مددي
وقت خزان عمر رضا ہو برگ ہدي سے نہ عاري شاخ

جو بنوں پر ہے بہار چمن آرائي دوست

نعت  شريف
جو بنوں پر ہے بہار چمن آرائي دوست
خلد کا نام نہ لے بلبل شيدائي دوست
تھک کے بيٹھے تو در دل پہ تمنائي دوست
کون سے گھر کا اجالا نہيں زيبائي دوست
عرصہ حشر کجا موقف محمود کجا
ساز ہنگاموں سے رکھتي نہيں يکتائي دوست
مہر کس منہ سے جلودارئ جاناں کرتا
سايہ کے نام سے بيزار ہے يکتائي دوست
مرنے والوں کو يہاں ملتي ہے عمر جاويد
زندہ چھوڑے گي کسي کو نہ مسيحائي دوست
ان کو يکتا کيا اور خلق بنائي يعني
انجمن کرکے تماشا کريں تنہائي دوست
کعبہ و عرش ميں کہرام ہے ناکامي کا
آہ کس بزم ميں ہے جلوہ يکتائي دوست
حسن بے پردہ کے پردے نے مٹا رکھا ہے
ڈھونڈنے جائيں کہاں جلوہ ہرجائي دوست
شوق روکے نہ رکے پاؤں اٹھائے نہ اٹھے
کيسي مشکل ميں ہيں الله تمنائي دوست
شرم سے جھکتي ہے محراب کہ ساجد ہيں حضور
سجدہ کرواتي ہے کعبہ سے جبيں سائي دوست
تاج والوں کا يہاں خاک پہ ماتھا ديکھا
سارے داراؤں کي دار ہوئي دارائي دوست
طور پر کوئي‘ کوئي چرخ پہ يہ عرش سے پار
سارے بالاؤں پہ بالا رہي بالائي دوست
انت فيہم نے عدو کو بھي ليا دامن ميں
عيش جاويد مبارک تجھے شيدائي دوست
رنج اعداء کا رضا چارہ ہي کيا ہے کہ انہيں
آپ گستاخ رکھے علم و شکيبائي دوست

پھر اٹھا ولولہ ياد مغيلان عرب

نعت  شريف
پھر اٹھا ولولہ ياد مغيلان عرب
پھر کھنچا دامن دل سوئے بيابان عرب
باغ فردوس کو جاتے ہيں ہزاران عرب
ہائے صحرائے عرب ہائے بيابان عرب
ميٹھي باتيں تري دين عجم ايمان عرب
نمکيں حسن ترا جان عجم شان عرب
اب تو ہے گريہ خوں گوہر دامان عرب
جس ميں دو لعل تھے زہرا کے وہ تھي کان عرب
دل وہي دل ہے جو آنکھوں سے ہو حيران عرب
آنکھيں وہ آنکھيں ہيں جو دل سے ہو قربان عرب
ہائے کس وقت لگي پھانس الم کي دل ميں
کہ بہت دور رہے وہ خار مغيلان عرب
فصل گل لاکھ نہ ہو وصل کي رکھ آس ہزار
پھولتے پھلتے ہيں بے فصل گلستان عرب
صدقے ہونے کو چلے آتے ہيں لاکھوں گلزار
کچھ عجب رنگ سے پھولا ہے گلستان عرب
عندليبي پہ جھگڑتے ہيں کٹے مرتے ہيں
گل و بلبل کو لڑاتا ہے گلستان عرب
صدقے رحمت کے کہاں پھول کہاں خار کا کام
خود ہے دامن کش بلبل گل خندان عرب
شادي حشر ميں صدقے ميں چھٹيں گے قيدي
عرش پر دھوم سے ہے دعوت مہمان عرب
چرچے ہوتے ہي يہ کمھلائے ہوئے پھولوں ميں
کيوں يہ دن ديکھتے پاتے جو بيابان عرب
تيرے بے دام کے بندے ہيں رئيسان عجم !
تيرے بے دام کے بندي ہيں ہزاران عرب
ہشت خلد آئيں وہاں کسب لطافت کو رضا
چار دن برسے جہاں ابر بہاران عرب

تاب مرات سحر گرد بيابان عرب

نعت  شريف
تاب مرات سحر گرد بيابان عرب
غازہءروئے قمر دود چراغان عرب
الله الله بہار چمنستان عرب
پاک ہيں لوث خزاں سے گل و ريحان عرب
جوشش ابر سے خون گل فردوس گرے
چھيڑ دے رگ کو اگر خار بيابان عرب
تشنہ نہر جناں ہر عربي و عجمي
لب ہر نہر جناں تشنہ نيسان عرب
طوق غم آپ ہوائے پر قمري سے گرے
اگر آزاد کرے سرو خرامان عرب
مہر ميزاں ميں چھپا ہوتو حمل ميں چمکے
ڈالے اک بوند شب دے ميں جو باران عرب
عرش سے مژدہء بلقيس شفاعت لايا
طائر سدرہ نشيں مرغ سليمان عرب
حسن يوسف پہ کٹيں مصر ميں انگشت زناں
سر کٹاتے ہيں تيرے نام پہ مردان عرب
کوچہ کوچہ ميں مہکتي ہے يہاں بوئے قميص
يوسفستان ہے ہر ايک گوشہء کنعان عرب
بزم قدسي ميں ہے ياد لب جاں بخش حضور
عالم نور ميں ہے چشمہ حيوان عرب
پائے جبريل نے سرکار سے کيا کيا القاب
خسرو خيل ملک خادم سلطان عرب
بلبل و نيلپر و کبک بنو پروانو!
مہ و خورشيد پہ ہنستے ہيں چراغان عرب
حور سے کيا کہيں موسٰی سے مگر عرض کريں
کہ ہو خود حسن ازل طالب جانان عرب
کرم نعت کے نزديک تو کچھ دور نہيں
کہ رضائے عجمي ہو سگ حسان عرب

نعمتيں بانٹتا جس سمت وہ ذيشان گيا

نعت  شريف
نعمتيں بانٹتا جس سمت وہ ذيشان گيا
ساتھ ہي منشئ رحمت کا قلمدان گيا
لے خبر جلد کہ غيروں کي طرف دھيان گيا
ميرے مولٰی ميرے آقا ترے قربان گيا
آہ وہ آنکھ کہ ناکام تمنا ہي رہي
ہائے وہ دل جو ترے در سے پر ارمان گيا
دل ہے وہ دل جو تيري ياد سے معمور رہا
سر ہے وہ سر جو ترے قدموں پہ قربان گيا
انہيں جانا انہيں مانا نہ رکھا غير سے کام
للہ الحمد ميں دنيا سے مسلمان گيا
اور تم پر مرے آقا کي عنايت نہ سہي
نجديو کلمہ پڑھانے کا بھي احسان گيا
آج لے ان کي پناہ آج مدد مانگ ان سے
پھر نہ مانيں گے قيامت ميں اگر مان گيا
اف رہ منکر يہ بڑھا جوش تعصب آخر
بھيڑ ميں ہاتھ سے کم بخت کے ايمان گيا
جان و دل ہوش و خرد سب تو مدينے پہنچے
تم نہيں چلتے رضا سارا تو سامان گيا

بندہ ملنے کو قريب حضرت قادر گيا

نعت  شريف
بندہ ملنے کو قريب حضرت قادر گيا
لمعہ باطن ميں گمنے جلوہ  ظاہر گيا
تيري مرضي پاگيا سورج پھرا  الٹے  قدم
تيري انگلي اٹھ گئي مہ کاکليجا چر گيا
بڑھ چلي تيري ضياء اندھير عالم سے گھٹا
کھل گيا گيسو ترا رحمت کا بادل گھر گيا
بندھ گئي تيري ہوا ساوہ ميں خاک اڑنے لگي
بڑھ چلي تيري ضيا آتش پہ پاني پھر گيا
تيري رحمت سے صفي الله کا بيڑا پار تھا
تيرے صدقہ سے نجي الله کا بجرا تر گيا
تيري آمد تھي کہ بيت الله مجرے کو جھکا
تيري ہيبت تھي کہ ہر بت تھر تھرا کر گر گيا
مومن ان کا کيا ہوا الله اس کا ہوگيا
کافر ان سے کيا پھرا الله ہي سے پھر گيا
وہ کہ اس در کا ہوا خلق خدا اس کي ہوئي
وہ کہ اس در سے پھر الله اس سے پھر گيا
مجھ کو ديوانہ بتاتے ہو ميں وہ ہشيار ہوں
پاؤں جب طوف حرم ميں تھک گئے سر پھر گيا
رحمت للعالمين آفت ميں ہوں کيسي کروں
ميرے مولٰی ميں تو اس دل سے بلا ميں گھر گيا
ميں ترے ہاتھوں کے صدقے کيسي کنکرياں تھي وہ
جن سے اتنے کافروں کا دفعتاً منہ پھر گيا
کيوں جناب بوہريرہ تھا وہ کيسا جام شير
جس سے ستر صاحبوں کا دودھ سے منہ پھر گيا
واسطہ پيارے کا ايسا ہو کہ جو سني مرے
يوں نہ فرمائيں ترے شاہد کہ وہ فاجر گيا
عرش پہ دھوميں مچيں وہ مومن صالح ملا
فرش سے ماتم اٹھے وہ طيب و طاہر گيا
الله الله يہ علو خاص عبديت رضا
بندہ ملنے کو قريب حضرت قادر گيا
ٹھوکريں کھاتے پھرو گے ان کے در پر پڑ رہو
قافلہ تو اے رضا اول گيا آخر گيا