لیلۃ القدر کے فضائل و اعمال

لیلۃ القدر کے فضائل و اعمال


اللہ تبارک و تعالٰی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:۔
انا انزلنہ فی لیلۃ القدر ہ وما ادرک ما لیلۃ القدر ہ لیلۃ القدر ہ خیر من الف شھر ہ تنزل الملئکۃ والروح فیھا باذن ربھم من کل امر ہ سلم ھی حتی مطلع الفجر ہ
بیشک ہم نے اسے شب قدر میں اتارا اور تم نے جانا کیا شب قدر ؟ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر، اس میں فرشتے اور جبرئیل اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کیلئے وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک۔
حضرات ! شب قدر کس قدر اہم اور برکت والی رات ہے کہ اس کی شان مبارکہ میں پوری ایک سورت نازل فرمائی گئی اور قرآن جیسی اہم اور مقدس کتاب بھی اسی رات میں اتاری گئی، اور اس رات کی عبادت کو ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے بھی افضل قرار دیا گیا، ایک ہزار مہینے کے تراسی سال چار ماہ ہوتے ہیں اب اندازہ لگائیے کہ جس نے زندگی میں صرف ایک بار اگر شب قدر کی سعادت حاصل کر لی تو گویا اس نے تراسی سال چار ماہ سے بھی زیادہ عرصہ کی عبادت کی۔ اور اس زیادتی کا علم تو اللہ اور اس کے رسول ہی کو ہے۔
سبحان اللہ ! یہ ہے اس رات کی عظمت و رفعت کا مقام، لٰہذا ہم سب مسلمانوں کو چاہئیے کہ اس رات کی اہمیت کو سمجھے، اور اس رات کو غفلت میں نہ گزاریں بلکہ اس رات کو عبادت، توبہ اور استغفار کی خوب خوب کثرت کریں۔

شان نزول واقعہ کی روشنی میں

اس سورہ مبارکہ کا شان نزول بیان کرتے ہوئے بعض مفسرین کرام نے ایک نہایت ہی ایمان افروز حدیث بیان کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سامنے بنی اسرائیل کے ایک ولی اور عابد شب زندہ دار حضرت شمعون رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ (تفسیر روح البیان میں شمسون آیا ہے) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت شمعون نے ہزار ماہ اس طرح عبادت کی کہ رات کو قیام اور دن کو روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالٰی کی راہ میں کفار کے ساتھ جہاد کرتے تھے، حضرات صحابہ کرام نے جب ان کی عبادت و ریاضت کا یہ حال سنا تو انہیں حضرت شمعون پر بڑا رشم آیا اور ماہِ نبوت آقائے رحمت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا، یارسول اللہ ! ہمیں تو بہت تھوڑی عمر ملی ہے، اس میں بھی کچھ حصہ نیند میں گزر جاتا ہے، تو کچھ طلب معاش میں، تو کچھ کھانے پکانے اور دیگر امور دنیوی میں صرف ہو جاتا ہے، لٰہذا ہم تو حضرت شمعون کی طرح عبادت کر ہی نہیں سکتے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگ بنی اسرائیل سے عبادت میں بڑھ ہی نہیں سکتے ہیں ! اور نہ ان کا ہم مقابلہ کر سکتے ہیں !
چنانچہ اُمت کے غمخوار آقائے دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم یہ سن کر غمگین ہوئے، مگر اللہ کو اپنے محبوب کا غم کیونکر پسند ہو چنانچہ اسی وقت سدرہ کے مکین جبرئیل امین علیہ السلام حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا، اے پیارے حبیب (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) آپ رنجیدہ نہ ہوں، آپ کی اُمت کو اللہ نے ہر سال میں ایک ایسی رات عنایت فرما دی کہ اگر وہ اس رات میں میری عبادت کریں گے تو حضرت شمعون کے ہزار ماہ کی عبادت سے بھی بڑھ جائیں گے۔ (فیضان سنت صفحہ 1206)

لیلۃ القدر کی وجہ تسمیہ

لیلۃ القدر کو لیلۃ القدر اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں بندوں کی قضاء و قدر مقدر ہوتی ہے، اللہ تعالٰی فرماتا ہے، “فیھا یفرق کل امر حکیم“ اس میں ہرا مرحکیم کا فرق لکھا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی اس سال کا رزق، نارش، حیات اور موت (یعنی زندہ رکھنا اور مارنا) وغیرہ اسی رات میں آنے والے سال کیلئے مقدر فرما کر ملائکہ مد برات الامور کے سپرد فرما دیتا ہے، رزق، نباتات اور بارش کا دفتر حضرت میکائیل علیہ السلام کو، جنگیں، ہوائیں، زلزلے، صواعق اوع خسف (دھنسبا) کا دفتر جبرئیل علیہ السلام کو، اعمال کا دفتر اسرافیل علیہ السلام کو اور مصائب کا عزرائیل علیہ السلام کو سپرد کیا جاتا ہے۔ (تفسیر روح البیان، جلد 15 صفحہ 482 )

لیلۃ القدر حدیث کی روشنی میں


(1) حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بار جب ماہِ رمضان شریف آیا تو تاجدار مدینہ، سرور قلب و سینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس ایک مہینہ آیا ہے جس میں ایک رات ایسی بھی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا گویا تمام کی تمام بھلائی سے محروم رہ گیا اور اس کی بھلائی سے محروم نہیں رہتا مگر وہ شخص جو حقیقۃً محروم ہی ہے۔ (ابن ماجہ)

(2) ایک طویل حدیث میں حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے روایت کیا ہے کہ، سرکار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جب شب قدر آتی ہے تو اللہ عزوجل کے حکم سے حضرت جبرئیل علیہ السلام ایک سبزہ جھنڈا ئے فرشتوں کی بہت بڑی فوج کے ساتھ زمین پر نزول فرماتے ہیں اور اس سبز جھنڈے کو کعبہ معظّمہ پر لہرا دیتے ہیں، حضرت جبرئیل علیہ السلام کے سو بازو ہیں جن میں سے دو بازو صرف اسی رات کھولتے ہیں وہ بازو مشرق و مغرب میں پھیل جاتے ہیں، پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کو حکم دیتے ہیں کہ جو کوئی مسلمان آج رات قیام میں نماز یا ذکر اللہ میں مشغول ہے اس سے سلام و مصافحہ کرو، نیز ان کی دعاؤں پر آمین بھی کہو، چنانچہ صبح تک یہی سلسلہ رہتا ہے صبح ہونے پر حضرت جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کو پھر واپس چلنے کا حکم صادر فرماتے ہیں، فرشتے عرض کرتے ہیں اے جبرئیل علیہ السلام ! اللہ نے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی اُمت کی حاجات کے بارے میں کیا کیا ؟ حضرت جبرئیل علیہ السلام فرماتے ہیں اللہ نے ان لوگوں پر خصوصی نظر کرم فرمائی اور چار قسم کے لوگوں کے علاوہ تمام لوگوں کو معاف فرما دیا، صحابہ کرام نے عرض کیا، یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ! وہ چار قسم کے لوگ کون سے ہیں ؟ ارشاد فرمایا
(1) شراب کا عادی
(2) والدین کے نافرمان
(3) قطع رحم کرنے والے (یعنی رشتہ داروں سے رشتہ توڑنے والے)
(4) جو آپس میں بغض و کینہ رکھتے ہیں، اور آپس میں قطع تعلق کرتے ہیں۔

(3) رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جس نے شب قدر میں تین مرتبہ پورا کلمہ پڑھا یعنی لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) پڑھا تو پہلی مرتبہ پڑھنے سے اللہ تعالٰی مغفرت فرما دیتا ہے اور دوسری مرتبہ پڑھنے سے اللہ تعالٰی جہنم سے آزاد فرما دیتا ہے، اور تیسری مرتبہ پڑھنے سے داخل جنت فرما دیتا ہے۔ (فیضان سنت بحوالہ درۃ الناصحین)

(4) رسول مکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کو زندہ رکھے گا تو اللہ تعالٰی اس کے لئے ستائیس ہزار سال کا ثواب لکھتا ہے، اور اللہ تعالٰی اس کیلئے جنت میں گھر بناتا ہے جن کی تعداد اللہ تعالٰی ہی جانتا ہے۔ (فیضان سنت بحوالہ فضائل الشہور والایام)

(5) رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے شب قدر کو پایا تو اللہ تعالٰی اس پر دوزخ کی آگ حرام فرما دے گا اور اللہ تعالٰی اس کی تمام حاجتوں کو پورا فرمائے گا۔ (فیضان سنت بحوالہ فضائل الشہور ولایام)

(6) مولائے کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں، جو کوئی شب قدر میں سورہء قدر سات بار پڑھتا ہے اللہ اسے ہر بلا سے محفوظ فرما دیتا ہے، اور ستر ہزار فرشتے اس کیلئے جنت کی دعاء کرتے ہیں اور جو کوئی (جب کبھی) جمعہ کے روز نماز جمعہ سے قبل تین بار پڑھتا ہے اللہ اس روز کے تمام نماز پڑھنے والوں کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھتا ہے۔ (فیضان سنت بحوالہ نزہۃ المجالس)

(7) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتی ہیں، میں نے اپنے سرتاج صاحب معراج صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا، یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اگر مجھے شب قدر کا علم ہو جائے تو کیا پڑھوں ؟ سرکار مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، اس طرح دعاء مانگو اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی یعنی اے اللہ بیشک تو معاف فرمانے والا ہے اور معافی دینے کو پسند بھی کرتا ہے لٰہذا مجھے بھی معاف فرما دے۔ (مشکوٰۃ شریف، تفسیر روح البیان جلد 15)

اس رات کے نوافل کا مرتبہ

جو کوئی شب قدر میں چار رکعت اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ تکاثر ایک بار اور سورہء اخلاص گیارہ بار پڑھے تو اللہ اس کو سکرات موت میں آسانی فرما دے گا، نیز عذاب قبر سے بھی محفوظ فرما دےگا، اور نور کے چار ایسے ستون عطا فرمائے گا کہ ہر ستون میں ایک ہزار محل ہوں گے۔ (فیضان سنت بحوالہ نزہۃ المجالس)

اس رات میں جو کوئی بیس رکعتیں اس ترتیب سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد اکیس بار سورہء اخلاص پڑھے، وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا گویا ابھی ابھی پیدا ہوا ہے، نیز ہر حرف کے عوض جو اس نماز میں پڑھا ہے اس کیلئے جنّت میں ایک شہر بنایا جائے گا، اور اس شہر میں اس قدر حوریں ہوں گی کہ ان کا شمار صرف اللہ عزوجل ہی کو معلوم ہے۔ (فیضان سنت بحوالہ تذکرۃ الواعظین)

جو کوئی اسلامی بھائی یا بہن شب قدر میں دو رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سات مرتبہ سورہء اخلاص پڑھے اور سلام پھیرنے کے بعد ستر مرتبہ “استغفراللہ واتوب الیہ“ پڑھے تو اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے اللہ تعالٰی اس کو اور اس کے والدین کو بخش دیتا ہے، اور اللہ تعالٰی فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ جنت میں اس کیلئے باغ لگائیں اور اس کے لئے مکانات بنائیں اور نہریں جاری کردیں وہ دنیا سے نہیں جاتا جب تک یہ سب کچھ دیکھ نہیں لیتا۔ (فیضان سنت بحوالہ درۃ الناصحین)

لیلۃ القدر کی رات کون سی ہے ؟


(1) ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ اصحاب رسول میں سے چند افراد کو خواب کی حالت میں شب قدر آخری سات راتوں میں دکھائی دی، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے خیال میں تمہارے خواب آخری سات راتوں میں متفق ہوگئے ہیں بنا بریں اس کا تلاش کرنے والا اس آخری سات ساتوں میں ڈھونڈے۔ (بخاری شریف، باب نمبر 1253، حدیث نمبر 1878 )

(2) ابو سلمہ روایت کرتے ہیں ابو سعید جو میرے دوست تھے میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا ہم نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ درمیان عشرہ میں اعتکاف کیا، آپ بیس کی صبح کو باہر نکلے اور ہم سے خطاب کیا فرمایا کہ مجھے شب قدر دکھائی گئی، پھر میں اسے بھول گیا یا بھلا دیا گیا، چنانچہ اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ (بخاری شریف حدیث نمبر 1880 )

(3) ابن عباس روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو اور وہ ان راتوں میں ہے جب تقریباً سات یا پانچ راتیں باقی رہ جائیں۔ (بخاری شریف، حدیث نمبر 1885 )

(4) عبادہ بن صامت روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے تاکہ ہمیں شب قدر کے بارے میں بتائیں، لیکن فلاں آپس میں جھگڑ پڑے اس لئے اس کا علم مجھ سے اٹھا لیا شاید اس میں تمہاری بھلائی ہو، اس لئے اسے آخری عشرے کی نویں ساتویں اور پانچویں راتوں میں ڈھونڈو۔ (بخاری شریف، حدیث نمبر 1887 )

(5) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، لیلۃ القدر کو رمضان شریف کے آخری دس دنوں میں تلاش کرو، اور وہ اکیسویں، تیسیوں، پچیسویں، ستائیسویں، انتیسویں اور آخری رات ہے۔ (ترمذی شریف، باب نمبر 536)

حدیث بالا کی روشنی میں اس رات کی تعین کے سلسلے میں علمائے کرام کا بے حد اختلاف پایا جاتا ہے۔ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول یہ ہے کہ رمضان المبارک کی ستائیسویں شب، شب قدر ہے۔ حضرت سیدنا امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک مضبوط قول یہ ہے کہ اکیسویں شب رمضان المبارک کو شب قدر ہونی چاہئیے۔ امام مالک اور امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالٰی عنہما کے نزدیک شب قدر رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ہوتی ہے، مگر اس کیلئے کوئی ایک رات مخصوص نہیں ہر سال ان طاق راتوں میں گھومتی رہتی ہے، یعنی کبھی تو اکیسویں شب لیلۃ القدر ہو جاتی ہے، تو کبھی تئیس، کبھی پچیسویں شب، تو کبھی ستائیسویں شب۔ اور کبھی کبھی انتیسویں شب بھی شب قدر ہو جایا کرتی ہے۔ (فیضان سنت)

بہرحال اگرچہ بزرگان دین اور مفسرین و محدثین کا شب قدر کے تعین میں اختلاف ہے تا جمہور علماء کی رائے یہی ہے کہ ہر سال شب قدر ماہ رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کو ہی ہوتی ہے۔ اور اسی شب کے قائل حضور پیرانِ پیر، روشن ضمیر، شیخ عبدالقادر غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی ہیں۔
تفسیر عزیزیہ میں حضرت شیخ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں، کہ شب قدر رمضان شریف کی ستائیسویں رات ہی کو ہوتی ہے، اور اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ لیلۃ القدر کا لفظ نو حروف پر مشتمل ہے اور یہ کلمہ سورہء قدر میں تین مرتبہ استعمال کیا گیا ہے اس طرح تین کو نو سے ضرب دینے سے حاصلِ ضرب ستائیس آتا ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شب قدر ستائیسویں کی شب ہے۔ (تفسیر عزیزیہ)

لیلۃ القدر پوشیدہ کیوں ؟

اللہ رب العزت کی سنّت کریمہ ہے کہ اس نے بعض اہم ترین معاملات کو اپنی مشیت سے بندوں پر پوشیدہ رکھا ہے مثال کے طور پر خوشنودی کو نیکیوں میں، اپنی ناراضگی کو گناہوں میں، اپنے اولیاء کو اپنے بندوں میں اور صلاۃ وسطی کو پانچ نمازوں میں پوشیدہ رکھا ہے۔ جس کا مطلب یہی ہے کہ بندہ کسی بھی نیکی کو غیر اہم سمجھ کر نہ چھوڑے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالٰی کس نیکی پر راضی ہو جائے اسی طرح بندہ کسی گناہ کو چھوٹا سمجھ کر نہ کر بیٹھے پتہ نہیں اللہ تعالٰی کس گناہ پر ناراض ہو جائے، اسی طرح انسان کو چاہئیے کہ وہ ہر انسان کی تعظیم بجا لائے، کیا پتہ اللہ کا ولی کون ہے ؟؟ ہو سکتا ہے کہ جس کو ہم عام آدمی سمجھ رہے ہیں وہی اللہ کا ولی ہو، اس لئے اللہ نے ایک بہت بڑی حکمت کے تحت کچھ چیزوں کو پوشیدہ رکھا۔
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

چنانچہ اسی طرح بیشمار مصلحت کے پیشِ نظر لیلۃ القدر کو بھی پوشیدہ رکھا گیا ہے، تاکہ اللہ کے نیک بندے اس کی تلاش میں سارا سال ہی لگے رہیں اور اس طرح وہ نیکیاں کمانے میں کوشاں رہیں، گویا شب قدر کو مخفی رکھ کر اپنے بندوں کو ہر رات میں کچھ نہ کچھ عبادت کرنے کی ترغیب عطا فرمائی گئی ہے، اگر شب قدر کسی ایک رات میں مخصوص فرما کر صراحۃً اس کا علم ہمیں عطا فرما دیا جاتا تو پھر اس بات کا مکمل طور پر امکان ہے کہ ہم سال کی دیگر راتوں کے معاملے میں غافل ہو جاتے، صرف ہم اسی ایک رات کا اہتمام کرتے۔ مگر اب چونکہ اسے مخفی رکھا گیا ہے۔ اس لئے عقلمند وہی ہے جو تمام سال اس عظیم الشان رات کی جستجو میں رہے کہ نہ جانے کون سی رات شب قدر ہو۔ اس طرح سے وہ شب قدر بھی پالے گا اور نیکیاں بھی بہت حاصل کرلے گا۔

خلاصہ

حدیث و قرآن کی روشنی میں ہم سب کو معلوم ہو گیا کہ شب قدر کی اہمیت اور اس کی برکت و عظمت کا مقام کتنا بلند و بالا ہے۔ اس لئے ہم سب مسلمانوں کو چاہئیے کہ اس عظیم رات کو غفلت میں نہ کھوئیں، بلکہ زیادہ سے زیادہ عبادت کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، رو رو کر دعائیں کریں، گریہ زاری کریں، تفسیر روح البیان میں لکھا ہے کہ اس گریہ زاری سے فرشتے بھی تمہاری زیارت کیلئے بیتاب ہوتے ہیں، اور حدیث قدسی ہے اللہ فرماتا ہے، لاین المذنبین احب الی من زجل المسبحین یعنی مجھے گنہگاروں کے رونے کی آواز تسبیح کہنے والوں کی آواز سے زیادہ پسند ہے۔ اس لئے فرشتے آپس میں کہتے ہیں کہ زمین پر جاکر ان لوگوں کو دیکھیں جن کے رونے کی آواز اللہ تعالٰی کو محبوب ہے، ذرا ہم بھی ان کے رونے کی آواز اپنے کانوں سے سن لیں کہ ہماری تسبیح پڑھنے کی آواز سے ان کی آواز اللہ تعالٰی کو زیادہ پسند ہے تو کیوں اور کیسے !
علامہ صاحب روح البیان فرماتے ہیں کہ دراصل رونے کی آواز کو اللہ تعالٰی اس لئے پسند کرتا ہے کہ تسبیح پڑھنے والوں کے کمال کا اپنا اظہار ہے اور گنہگار کے رونے میں رب العالمین کی غفار کا اظہار ہے۔ (روح البیان ج15 ص489 )
اپنے ماں باپ سے اپنی گستاخی کی معافی کرائیں، کسی مسلمان بھائی کو آپ سے کسی موقعہ پر تکلیف پہنچی ہو تو اس سے بھی معافی مانگیں، اس طرح سے ایک دوسرے مسلمان بھائی آپس میں ایک دوسرے سے گلے ملکر وقتاً فوقتاً جو آپسی اختلاف ہو جاتے ہیں جن کی وجہ سے ایک دوسرے کو تکلیف ہوتی ہے اس سے معافی مانگیں اس کے بعد اس رات میں عبادت کریں تو انشاءاللہ عزوجل ضرور آپ کی عبادت قبول ہوگی اور اللہ تعالٰی رحم کرنے والا ہے اپنے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے صدقے میں ہم سب پر رحم و کرم فرمائے گا اور ہماری اور آپ سب کے گناہوں کو بخش دے گا اور اس رات کی برکتوں سے مالا مال فرمائے گا۔ آمین ثم آمی

Advertisements

روزے کے اسرار اور باطنی شرائط

روزے کے اسرار اور باطنی شرائط


روزے کے تین درجات ہیں:۔
(1) عام لوگوں کا روزہ ۔
(2) خاص لوگوں کا روزہ ۔
(3) خاص الخاص لوگوں کا روزہ۔
عام لوگوں کا روزہ دل کو تمام بڑے خیالات اور دنیوی افکار بلکہ اللہ تعالٰی کے سوا ہر چیز سے کلیتاً خالی کر دینا ہے، اس صورت میں جب اللہ تعالٰی اور قیامت کے سوا کوئی دوسری فکر آئے گی تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ دنیوی فکر سے اگر دین کا قصد نہ ہو تو بھی یہی حکم ہے، کیونکہ دین کی فکر زار آخرت سے ہے دنیا سے نہیں، حتٰی کہ اہل دل حضرات نے کہا ہے کہ جو شخص دن کے وقت یہ بات سوچے کہ رات کو کس چیز کے ساتھ افطار کرے گا اس کے ذمہ گناہ لکھ دیا جاتا ہے، کیونکہ یہ اللہ تعالٰی پر کامل اعتماد اور اس کے رزق موعود پر مکمل یقین نہ ہونے کی علامت ہے۔ یہ درجہ انبیاء کرام، صدیقین اور مقربین کا ہے۔ اس کی تفصیل میں زیادہ گفتگو نہیں کی جائے گی، البتہ اس کی عملی تحقیق بیان کریں گے یعنی یہ روزہ اس وقت حاصل ہوتا ہے کہ آدمی اپنی مکمل توجہ اللہ تعالٰی کی طرف کر دے اور غیر خدا سے پھیر دے، اللہ تعالٰی کے اس ارشاد گرامی کو لباس بنانے لے “قل اللہ ثم ذرھم فی خوضھم یلعبون“ آپ فرما دیجئے اللہ تعالٰی ہے، پھر انہیں چھوڑ دیں اپنی بیہودگیوں میں کھیلتے رہیں۔

خاص لوگوں کا روزہ اولیاء کرام کا روزہ ہے، اور یہ اپنے اعضاء کو گناہوں سے بچانا ہے، یہ روزہ چھ باتوں سے مکمل ہوتا ہے۔

(1) ان چیزوں کو دیکھنے سے نظر کو روکنا جو بُری اور مکروہ ہیں۔ نیز وہ چیزیں جو دل کو اللہ تعالٰی کے ذکر سے روکتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں ۔ النطرۃ سھم مسموم من سھام ابلیس لعنۃ اللہ فمن ترکھا خوفا من اللہ نظر زہر میں بجھا ہوا ایک شیطانی تیر ہے اللہ اس پر لعنت بھیجے، پس جس شخص نے اسے (غیر محرم کو دیکھنا) چھوڑ دیا اسے اللہ تعالٰی ایسا ایمان عطا فرماتا ہے جس کی شیرنی وہ اپنے دل میں پاتا ہے۔

حضرت جابر، حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے اور وہ رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا خمس یفطر ان الصائم الکذب والغیبۃ والنمیمۃ والیمین الکاذبۃ والنظر بشھودۃ پانچ چیزیں روزہ دار کے روزے کو توڑ دیتی ہیں۔ جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، چغلی کھانا، جھوٹی قسم کھانا اور شہوت کے ساتھ کسی کو دیکھنا۔

(2) زبان کو بیہودہ گفتگو، جھوٹ، غیبت، چغلی، فحش کلامی، ظلم و زیادتی، جھگڑے، دکھاوے اور خاموشی خاموشی اختیار کرنے سے محفوظ رکھنا اور اسے اللہ تعالٰی کے ذکر اور تلاوتِ قرآن مجید میں مشغول رکھنا، یہ زبان کا روزہ ہے۔ حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا غیبت روزے کو توڑ دیتی ہے، یہ بات ان سے حضرت بشیر بن حارث نے نقل کی ہے۔ حضرت لیث، حضرت مجاہد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ دو باتیں روزے کو توڑ دیتی ہیں۔ (1) غیبت اور (2) چغلی۔

نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا انما الصوم جنۃ فاذا کان احدکم صائما فلا یرفث ولا یجھل وان امروء قاتلہ او شاتما فلیقل انی صائم انی صائم بیشک روزہ ڈھال ہے، پس جب م میں سے کوئی روزہ دار ہو تو نہ وہ بے حیائی کی بات کرے اور نہ جہالت کی اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا گالی گلوچ کرے تو کہہ دے کہ میں روزے دار ہوں۔

ایک حدیث شریف میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں دو عورتوں نے روزہ رکھا، تو ان کے آخر میں انہیں بھوک اور پیاس نے ستایا حتٰی کہ قریب تھا وہ اپنے روزے کو ضائع کر دیں، انہوں نے کسی کو رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیج کر روزہ توڑنے کی اجازت طلب کی آپ نے ان کی طرف ایک پیالہ بھیجا اور فرمایا کہ ان سے کہو جو کچھ کھایا تھا اس میں قے کر دیں، تو ان میں سے ایک نے تازہ خون اور تازہ گوشت کی قے کی اور دوسرے نے بھی اس جیسی قے کی، حتٰی کہ دونوں نے پیالہ بھر دیا لوگوں کو اس پر تعجب ہوا تو نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ان دونوں نے اس چیز سے روزہ رکھا جسے اللہ تعالٰی نے حلال کیا اور جسے اللہ تعالٰی نے حرام کیا اس سے روزہ توڑ دیا، ان دونوں نے ایک دوسرے کے پاس بیٹھ کر لوگوں کی غیبت کی تو یہ لوگوں کا گوشت ہے جو انہوں نے (غیبت کی صورت میں) کھایا۔

(3) ہر مکروہ بات کو سننے سے کانوں کو روکنا، کیونکہ جو بات کہنا حرام ہے، اس کی طرف کان لگانا بھی حرام ہے۔ اسی لئے اللہ تعالٰی نے غور سے سننے والے اور حرام مال کھانے والے کو برابر قرار دیا، اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا، سماعن للکذب اکالون للسحت وہ جھوٹ کو سننے والے اور خوب حرام کھانے والے ہیں۔
اور ارشاد خداوندی ہے ولا ینھاھم الرابنیون والاحبار عن قولھم الاثم واکلھم السحت ان کے علماء اور درویش ان کو گناہ کی بات اور حرام کھانے سے کیوں نہیں روکتے۔
تو غیبت سن کو خاموشی اختیار کرنا حرام ہے، اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا، انکم اذا مثلھم بیشک تم اس وقت ان کی مثل ہوگے۔
اسی لئے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، المعتاب والمستمع شریکان فی الاثم غیبت کرنے والا اور اسے قصداً سننے والا دونوں گناہوں میں شریک ہیں۔

(4) باقی اعضاء یعنی ہاتھ اور پاؤں وغیرہ کو بھی گناہوں سے نیز مکروہ امور سے بچانا اور افطار کے وقت پیٹ کو شبہے والے اشیاء سے بچانا اگر وہ حلال چیز سے روزہ رکھے اور حرام سے افطار کرے تو روزے کا کیا مطلب ہوگا ؟؟
ایسے روزے دار کی مثال اس شخص جیسی ہے جو محل بناتا ہے اور شہر کو گرا دیتا ہے کیونکہ حلال کھانا زیادہ ہونے کی وجہ سے نقصان دیتا ہے، اپنی کسی نوع کی وجہ سے نہیں اور روزے کا مقصد کھانے کو کم کرنا ہے اور زیادہ دوائی کو اس کے نقصان کے باعث چھوڑ کر زہر کھانے والا بیوقوف ہوتا ہے اور حرام بھی ایک زہر ہے جو دین کو ہلاک کرتا ہے اور حلال چیز دوا ہے جو تھوڑی ہو تو نافع ہے اور زیادہ ہو تو نقصان دیتی ہے، اور روزے کا مقصد اس حلال غذا کو کم کرنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، کم من صائم لیس لہ من صومہ الا الجوع والعطش کتنے ہی روزہ دار ہیں جن کو اپنے روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
کہا گیا ہے کہ اس سے مُراد وہ شخص ہے جو حرام کی طرف نظر کرتا ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مُراد وہ شخص ہے جو حلال کھانے سے رکتا ہے اور غیبت کے ذریعے لوگوں کے گوشت سے روزہ توڑ دیتا ہے۔ کیونکہ غیبت حرام ہے اور یہ قول بھی ہے کہ وہ شخص مراد ہے جو اپنے اعضاء کو گناہوں سے محفوظ نہیں رکھتا۔

(6) افطار کے وقت حلال کھانا بھی زیادہ نہ کھائے اس طرح کہ پیٹ بھر لے اللہ تعالٰی کے ہاں اس پیٹ سے بُرا برتن کوئی نہیں جو حلال رزق سے بھر جائے روزے سے اللہ تعالٰی کے دشمن پر غلبہ پانے اور شہوت کو توڑنے کا فائدہ کیسے حاصل ہوگا جب وہ دن کے وقت کچھ رہ گیا اس کی کسر افطاری کے وقت نکالے۔
اور بعض اوقات اس کے پاس طرح طرح کے کھانے جمع ہو جاتے ہیں حتٰی کہ یہ عادت بن گئی ہے کہ رمضان المبارک کیلئے کھانے جمع کئے جاتے ہیں اور اس وقت وہ کھانے کھائے جاتے ہیں جو دوسرے مہینوں میں نہیں کھائے جاتے ہیں اور یہ بات معلوم ہے کہ روزے کا مقصد پیٹ کو خالی رکھنا اور خواہش کو توڑنا ہے، تا کہ نفس کو تقوٰی پر قوّت حاصل ہو، اور جب صبح سے شام تک معدے کو ٹالتا رہا حتٰی کہ خواہش جوش میں آئی اور رغبت مضبوط ہو گئی، پھر اسے لذیذ کھانے دے کر سیر کیا گیا اور اس کی قوّت زیادہ ہوگی اور وہ خواہشات ابھریں جو عام عادت پر رہنے کی صورت میں پیدا نہ ہوتی پس روزہ کی روح اور رام تو یہ ہے کہ ان قوتوں کو کمزور کیا جائے جو بُرائیوں کی طرف لوٹنے کو کم کرنے سے ہی حاصل ہوتا ہے یعنی ہر رات اتنا کھانا ہی کھائے جو روزہ نہ رکھنے کی صورت میں کھاتا ہے، اور اگر دن اور رات کا کھانا جمع کرکے کھائے تو روزے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بلکہ مستحب یہ ہے کہ دن کے وقت زیادہ نہ سوئے تاکہ اسے بھوک اور پیاس کا احساس ہو، اور اعضاء کی کمزوری محسوس ہو اس وقت اس کا دل صاف ہو جائے گا اور ہر رات اسی قدر کمزوری پیدا ہوگی تو اس پر تہجد اور وظائف پڑھنا آسان ہو جائے گا اور ممکن ہے شیطان اس کے دل کے قریب تر آئے اور وہ آسمانی بادشاہت کا نظارہ کرے اور لیلۃ القدر اسی رات کو کہتے ہیں جس میں ملکوت سے کئی چیز اس پر منکشف ہو، اور اللہ تعالٰی کے اس ارشاد گرامی کا یہی مطلب ہے فرمایا، انا انزلناہ فی لیلۃ القدر بیشک ہم نے اس (قرآن پاک) کو لیلۃ القدر میں اتارا، اور جو آدمی اپنے دل اور اپنے سینے کے درمیان کھانے کی رکاوٹ ڈال دے، وہ اس سے پردے میں رہتا ہے اور جس نے اپنے معدے کو خالی رکھا تو صرف یہ بات بھی پردہ اٹھنے کیلئے کافی نہیں جب تک وہ اپنی توجہ غیر خدا سے ہٹا نہ دے یہی سارا معاملہ ہے اور اس تمام معاملے کی بنیاد کم کھانا ہے۔

(6) افطار کے بعد اس کا دل خوف اور امید کے درمیان معلق اور مترددر ہے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کا روزہ قبول ہوا، اور وہ مقربین میں سے ہے یا رَد کر دیا گیا اور وہ ان لوگوں میں سے ہے جن پر اللہ تعالٰی ناراض ہے اسے ہر عبادت سے فراغت کے بعد اسی طرح ہونا چاہئیے۔ حضرت حسن بن ابو الحسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے مروی ہے آپ ایک جماعت کے اس سے گزرے اور وہ لوگ ہنس رہے تھے، انہوں نے فرمایا اللہ تعالٰی نے رمضان المبارک کے مہینے کو لوگوں کیلئے مقابلے کا میدان بنایا ہے، وہ اس کی عبادت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں، ایک جماعت آگے بڑھ گئی اور کامیاب ہوئی اور دوسرا گروہ پیھے رہ گیا، اور اس نے نقصان اٹھایا تو اس شخص پربہت زیادہ تعجب ہے جو اس دن ہنستا اور کھیلتا ہے، جس میں سبقت کرنے والے کامیاب اور پیچھے رہنے والے ناکام ہوئے۔
سنو !!! اللہ تعالٰی کی قسم ! اگر پردہ اٹھ جائے تو نیکی کرنے والے اپنی نیکی میں اور بُرائی کرنے والے اپنی بُرائی میں مشغول ہوں یعنی مقبول کی خوشی اسے کھیل سے روک دے اور مردود کا افسوس اس پر ہنسی کا دروازہ بند کردے، حضرت احنف بن قیس رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے منقول ہے ان سے کہا گیا کہ آپ بہت بوڑھے ہیں اور روزہ آپ کو کمزور کر دے گا، انہوں نے فرمایا میں اسے ایک طویل سفر کا سامان بناتا ہوں اور اللہ تعالٰی کی اطاعت پر صبر کرنا، اس کے عذاب پر صبر کرنے سے زیادہ آسان ہے، تو روزے میں باطنی امور یہ ہیں۔

سوال :۔ جو شخص پیٹ اور شرمگاہ کی شہوت سے رکنے پر اکتفا کرے اور ان امور کو نظر انداز کردے تو فقہاء فرماتے ہیں اس کا روزہ صحیح ہے اس کا کیا مطلب ہے ؟
جان لوکہ ظاہری فقہائے کرام ظاہری شروط کو نہایت کمزور دلائل سے ثابت کرتے ہیں یعنی وہ دلائل ہماری ذکر کردہ باطنی شرائط کے مقابلے میں کمزور ہیں۔ خصوصاً غیبت اور اس جیسی دوسری باتیں فقہاء نے ظاہر ان تکلیفات کا ذکر کرتے ہیں جو عام غافل اور دنیا کی طرف متوجہ ہونے والے لوگوں کیلئے آسان بات کو سمجھتے ہیں کہ روزے کا مقصد اللہ کے اخلاق سے متصف ہونا ہے اور وہ بے نیازی ہے اور جس قدر ممکن ہو شہوات سے ب کر فرشتوں کی اقتدا کرے کیونکہ وہ شہوات سے پاک ہیں اور انسان کا رتبہ جانوروں کے رتبہ سے بلند ہے کیونکہ وہ نور عقل کے ذریعے شہوات کو ختم کر سکتا ہے اور فرشتوں کے رتبہ سے (عام انسانوں کا رتبہ) کم ہے کیونکہ اس پر شہوت کا غلبہ ہے اور اسے مجاہدے میں مبتلا کیا گیا۔ لٰہذا جب وہ شہوات میں بڑھتا ہے تو سب سے نچلے گڑھے میں گرتا ہے اور جانوروں کی درجے میں چلا جاتا ہے اور جب شہوات کا قلع قمع ہوتا ہے تو وہ اعلٰی علیین میں چلا جاتا ہے اور ملائکہ کی دنیا سے جا ملتا ہے اور فرشتے اللہ تعالٰی کے مقرب ہیں اور جو شخص فرشتوں کی اقتدا کرتا اور ان کے اخلاق سے مشابہت رکھتا ہے وہ بھی ان کی طرف اللہ تعالٰی کا مقرب بن جاتا ہے۔ کیونکہ قریب کی مشابہت اختیار کرنے والا بھی قریب ہوتا ہے اور وہاں مکان کا قرب نہیں بلکہ صفات کا قرب ہوتا ہے۔
جب عقلمندوں کے اور اہل دل کے نزدیک روزے کا مقصد اور راز یہ ہے تو ایک کھانے کو موخر کرکے دونوں کو شام کے وقت اکٹھا کرلے۔ نیز دن بھر شہوات میں غرق رہنے کا کیا فائدہ ہے، اگر اسی کا کوئی فائدہ ہے تو نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کا کیا مطلب ہوگا آپ نے فرمایا:۔
کم من صائم لیسلہ من صومہ الا الجوع والعطش
کتنے ہی روزے دار ہیں جن کو اپنے روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
اس لئے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ دانا آدمی کا سونا اور افطار کرنا کیسا اچھا ہے وہ کیسے بیوقوف آدمی کے روضے اور بیداری کو بُرا نہ جانے، البتہ یقین اور تقوٰی والوں کا ایک ذرہ دھوکے میں مبتلا لوگوں کی پہاڑوں کے برابر عبادت سے افضل اور راجح ہے۔ اسی لئے بعض علماء کرام نے فرمایا کہ کتنے ہی روزے دار روزے کے بغیر اور کتنے ہی بے روزہ، روزہ دار ہوتے ہیں، روزہ نہ رکھنے کے باوجود روزہ دار وہ شخص ہے جو اپنے اعضاء کو کھلی چھٹی دیتا ہے۔
روزے کے مفہوم اور اس کی حکمت کو سمجھنے سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جو شخص کھانے اور جماع سے رکے اور گناہوں میں ملوث ہونے کے باعث روزہ توڑ دے، وہ اس شخص کی طرح ہے جو وضو میں اپنے کسی عضو پر تین بار مسح کرے، اس نے ظاہر میں تعداد کو پورا کیا لیکن مقصود یعنی اعضاء کو دھونا جو کھانے کے ذریعہ روزہ دار نہیں لیکن ناپسندیدہ افعال سے اعضاء کو روکنے کی وجہ سے روزہ دار ہے وہ اس آدمی کی طرح ہے جو اپنے اعضاء کو ایک ایک بار دھوتا ہے تو اس کی نماز انشاءاللہ قبول ہوگی کیونکہ اس نے اصل کو پکا کیا اگرچہ زائد کو چھوڑ دیا اور جو آدمی دونوں کو جمع کرے وہ اس آدمی جیسا ہے جو ہر عضو کو تین تین بار دھوتا ہے، اس نے اصل اور زائد دونوں کو جمع کیا اور یہی کمال ہے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ان الصوم امائۃ فلیحفظ احدکم امانتہ بیشک روزہ امانت ہے تو تم میں سے ایک کو چاہئے کہ وہ اپنی امانت کی حفاظت کرے۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے قرآن پاک کی یہ آیت تلاوت فرمائی ان اللہ یامرکم ان ودوا الامانات الی اھلھا بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے مالکوں کی طرف لوٹا دو۔
تلاوت کے بعد آپ نے اپنا ہاتھ مبارک اپنے کان اور آنکھ پر رکھ کر فرمایا، سماعت و بصارت بھی امانت ہے اور اگر یہ روزے کی امانتوں میں سے نہ ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم یہ بات نہ فرماتے کہ اسے کہنا چاہئے کہ میں روزے سے ہوں۔ (بخاری)
دوسری حدیث میں گزر چکا ہے یعنی میرے پاس میری زبان امانت ہے تاکہ میں اس کی حفاظت کروں تو میں کس طرح تجھے جواب دینے کے لئے اسے کھلا چھوڑ دوں۔
اب یہ بات ظاہر ہو گئی کہ ہر عبادت کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، چھلکا بھی ہے اور مغز بھی اور اس کے چھلکوں کے کئی درجات ہیں اور ہردرجے کے کئی طبقے ہیں اب تجھے اختیار ہے کہ تو مغز کو چھوڑ کر چھلکے پر قناعت کرے یا عقلمندوں کی جماعت میں شامل ہو۔

نوٹ :۔ اس مضمون کی تفصیل اور اس کے تمام حوالے، علامہ غزالی کی تصنیف “احیاء العلوم“ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ میں نے یہاں بقدر ضرورت ایک خلاصہ پیش کر دیا ہے۔ نثار احمد مصباح

پانچویں شب قدر

پانچویں شب قدر


انتیسویں شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورہء فاتحہ کے سروہء قدر ایک ایک بار۔ سورہء اخلاص تین تین مرتبہ پڑھے بعد سلام کے سورہء الم نشرح ستر مرتبہ پڑھے۔
یہ نماز واسطے کامل ایمان کے بہت افضل ہے۔
انشاءاللہ تعالٰی، اللہ تبارک و تعالٰی اس نماز کے پڑھنے والے کو دنیا سے مکمل ایمان کے ساتھ اٹھائے گا۔

ماہِ رمضان کی انتیسویں شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے ہر رکعت میں بعد سورہء فاتحہ کے سورہء قدر ایک ایک بار۔ سورہء اخلاص پانچ پانچ مرتبہ پڑھے۔ بعد سلام کے دورد شریف ایک سو دفعہ پڑھے۔
انشاءاللہ تعالٰی اس نماز کے پڑھنے والے کو دربارِ خداوندی سے بخشش اور مغفرت عطا کی جائے گی

چوتھی شبِ قدر

چوتھی شبِ قدر


ستائیسویں (27) شب قدر کو بارہ رکعت نماز تین سلام سے پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورہء فاتحہ کے سورہء قدر ایک ایک مرتبہ، سورہ اخلاص پندرہ پندرہ مرتبہ پڑھنی ہے۔ بعد سلام کے ستر مرتبہ استغفار پڑھے۔ اللہ تعالٰی اس نماز کے پڑھنے والے کو نبیوں کی عبادت کا ثواب عطا فرمائے گا۔ انشاءاللہ العظیم

ستائیسویں شب کو دو رکعت نماز پڑھے۔ ہر رکعت میں سورہء فاتحہ کے بعد سورہء قدر تین تین دفعہ۔ سورہء اخلاص ستائیس مرتبہ پڑھ کر گناہوں کی مغفرت طلب کرے۔ انشاءاللہ تعالٰی اس کے تمام پچھلے گناہ اللہ پاک معاف فرمائے گا۔

ستائیسویں شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھنی ہے۔ ہر رکعت میں بعد سورہء فاتحہ کے سورہء تکاثر ایک ایک بار۔ سورہء اخلاص تین تین بار پڑھے۔ اس نماز کے پڑھنے والے پر سے اللہ پاک موت کی سختی آسان کرے گا۔ انشاءاللہ تعالٰی اس پر سے عذابِ قبر بھی معاف ہو جائے گا۔

ستائیسویں شب کو دو رکعت نماز پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورہء فاتحہ کے سورہء اخلاص سات سات مرتبہ پڑھے۔ بعد سلام کے ستر دفعہ یہ تسبیح معظّم پڑھنی ہے۔

اَستَغفِرُاللہَ العَظِیمَ الَّذِی لاَاِلٰہَ اِلاَّ ھُوَ الحَیُّ القَیُّومُ وَاَتُوبُ اِلَیہِ

انشاءاللہ تعالٰی اس نماز کو پڑھنے والے اپنے مصلّٰے سے نہ اٹھیں گے کہ اللہ پاک اس کو اور اس کے والدین کے گناہ معاف فرما کر مغفرت فرمائے گا اور اللہ تعالٰی فرشتوں کو حکم دے گا کہ اس کے لئے جنّت آراستہ کرو اور فرمایا کہ وہ جب تک تمام بہشتی نعمتیں اپنی آنکھ سے نہ دیکھ لے گا۔ اس وقت تک موت نہ آئے گی۔ واسطے مغفرت یہ نماز بہت ہی افضل ہے۔

ستائیس شب کو دو رکعت نماز پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورہ فاتحہ کے سورہ ء الم نشرح ایک ایک بار۔ سورہء اخلاص تین تین مرتبہ پڑھے۔ بعدسلام ستائیس مرتبہ سورہء قدر پڑھے۔
انشاءاللہ العظیم واسطے ثواب بیشمار عبادت کے یہ نماز بہت افضل ہے۔

ستتائیسویں شب کو چار رکعت نماز پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورہء فاتحہ کے سورہء قدر تین تین دفعہ ۔ سورہ اخلاص پچاس پچاس مرتبہ پڑھے۔ بعد سلام سجدہ میں سر رکھ کر ایک مرتبہ یہ کلمات پڑھے:۔

سُبحَان اللہِ وَالحَمدُِللہِ وَلاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَاللہُ اَکبَر ط

اس کے بعد جو حاجت دنیاوی یا دینوی طلب کرے۔ وہ انشاءاللہ تعالٰی درگاہِ باری تعالٰی میں قبول ہوگی

تیسری شبِ قدر

تیسری شبِ قدر


ماہِ رمضان کی پچیس (25) تاریخ کی شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے۔ بعد سورہء فاتحہ کے سورہء قدر ایک ایک بار۔ سورہء اخلاص پانچ پانچ مرتبہ ہر رکعت میں پڑھنی ہے۔ بعد سلام کے کلمہء طیب ایک سو دفعہ پڑھنا ہے۔ درگاہِ رب العزت سے انشاءاللہ تعالٰی بیشمار عبادت کا ثواب عطا ہوگا۔

پچیسویں شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورہء فاتحہ کے سورہء قدر تین تین مرتبہ ۔ سورہ اخلاص تین مرتبہ پڑھے۔ بعد سلام کے ستر دفعہ استغفار پڑھے۔ یہ نماز بخشش گناہ کے لئے بہت افضل ہے۔

پچیسویں (25) شب کو دو رکعت نماز پڑھنی ہے ہر رکعت میں بعد سورہء فاتحہ کے سورہء قدر ایک ایک مرتبہ۔ سورہء اخلاص پندرہ پندرہ مرتبہ پڑھے۔ بعد سلام کے ستر دفعہ کلمہء شہادت پڑھنا ہے۔
یہ نماز واسطے نجات عذابِ قبر بہت افضل ہے

دوسری شبِ قدر

دوسری شبِ قدر


ماہِ مبارک کی تیئسویں (23) شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے۔ اور ہر رکعت میں بعد سورہء فاتحہ کے سورہء قدر ایک ایک بار۔ سورہء اخلاص تین تین بار پڑھے۔
انشاءاللہ تعالٰی واسطے مغفرت گناہ کے یہ نماز بہت افضل ہے۔

تیئسویں(23) شبِ قدر کو آٹھ رکعت نماز چار سلام سے پڑھنی ہے۔ ہر رکعت میں بعد سورہء فاتحہ کے سورہء قدر ایک ایک دفعہ سورہء اخلاص ایک ایک بار پڑھے۔ بعد سلام کے سر مرتبہ کلمہء تمجید پڑھے اور اللہ تعالٰی سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرے۔ اللہ تعالٰی اس کے گناہ معاف فرما کر انشاءاللہ تعالٰی مغفرت فرمائے گا

پہلی شبِ قدر

پہلی شبِ قدر

حضور انور سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ میری اُمت میں سے جو مرد یا عورت یہ خواہش کرے کہ میری قبر نور کی روشنی سے منور ہو تو اسے چاہئیے کہ ماہِ رمضان المبارک کی شب قدروں میں کثرت کے ساتھ عبادتِ الٰہی بجا لائے کہ ان مبارک اور متبرک راتوں کی عبادت سے اللہ پاک اس کے نامہء اعمال سے برائیاں مٹاکر نیکیوں کا ثواب عطا فرمائے۔

شبِ قدر کی عبادت ستر ہزار شب کی عبادتوں سے افضل ہے۔

اکیسویں (21) شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورہء فاتحہ کے سورہء قدر ایک ایک بار۔ سورہء اخلاص ایک ایک مرتبہ پڑھے۔ بعدِ سلام کے ستر مرتبہ درود پاک پڑھے۔ انشاءاللہ تعالٰی اس نماز کے پڑھنے والے کے حق میں فرشتے دعائے مغفرت کریں گے۔

اکیسویں شب کو دو رکعت نماز پڑھے۔ ہر رکعت میں سورہء فاتحہ کے بعد سورہء قدر ایک ایک بار۔ سورہء اخلاص تین تین مرتبہ پڑھنی ہے بعد سلام کے نماز ختم کرکے ستر مرتبہ استغفار پڑھے۔ انشاءاللہ تعالٰی اس نماز اور شبِ قدر کی برکت سے اللہ پاک اس کی بخشش فرمائے گ