لیلۃ القدر کے فضائل و اعمال

لیلۃ القدر کے فضائل و اعمال


اللہ تبارک و تعالٰی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:۔
انا انزلنہ فی لیلۃ القدر ہ وما ادرک ما لیلۃ القدر ہ لیلۃ القدر ہ خیر من الف شھر ہ تنزل الملئکۃ والروح فیھا باذن ربھم من کل امر ہ سلم ھی حتی مطلع الفجر ہ
بیشک ہم نے اسے شب قدر میں اتارا اور تم نے جانا کیا شب قدر ؟ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر، اس میں فرشتے اور جبرئیل اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کیلئے وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک۔
حضرات ! شب قدر کس قدر اہم اور برکت والی رات ہے کہ اس کی شان مبارکہ میں پوری ایک سورت نازل فرمائی گئی اور قرآن جیسی اہم اور مقدس کتاب بھی اسی رات میں اتاری گئی، اور اس رات کی عبادت کو ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے بھی افضل قرار دیا گیا، ایک ہزار مہینے کے تراسی سال چار ماہ ہوتے ہیں اب اندازہ لگائیے کہ جس نے زندگی میں صرف ایک بار اگر شب قدر کی سعادت حاصل کر لی تو گویا اس نے تراسی سال چار ماہ سے بھی زیادہ عرصہ کی عبادت کی۔ اور اس زیادتی کا علم تو اللہ اور اس کے رسول ہی کو ہے۔
سبحان اللہ ! یہ ہے اس رات کی عظمت و رفعت کا مقام، لٰہذا ہم سب مسلمانوں کو چاہئیے کہ اس رات کی اہمیت کو سمجھے، اور اس رات کو غفلت میں نہ گزاریں بلکہ اس رات کو عبادت، توبہ اور استغفار کی خوب خوب کثرت کریں۔

شان نزول واقعہ کی روشنی میں

اس سورہ مبارکہ کا شان نزول بیان کرتے ہوئے بعض مفسرین کرام نے ایک نہایت ہی ایمان افروز حدیث بیان کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سامنے بنی اسرائیل کے ایک ولی اور عابد شب زندہ دار حضرت شمعون رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ (تفسیر روح البیان میں شمسون آیا ہے) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت شمعون نے ہزار ماہ اس طرح عبادت کی کہ رات کو قیام اور دن کو روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالٰی کی راہ میں کفار کے ساتھ جہاد کرتے تھے، حضرات صحابہ کرام نے جب ان کی عبادت و ریاضت کا یہ حال سنا تو انہیں حضرت شمعون پر بڑا رشم آیا اور ماہِ نبوت آقائے رحمت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا، یارسول اللہ ! ہمیں تو بہت تھوڑی عمر ملی ہے، اس میں بھی کچھ حصہ نیند میں گزر جاتا ہے، تو کچھ طلب معاش میں، تو کچھ کھانے پکانے اور دیگر امور دنیوی میں صرف ہو جاتا ہے، لٰہذا ہم تو حضرت شمعون کی طرح عبادت کر ہی نہیں سکتے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگ بنی اسرائیل سے عبادت میں بڑھ ہی نہیں سکتے ہیں ! اور نہ ان کا ہم مقابلہ کر سکتے ہیں !
چنانچہ اُمت کے غمخوار آقائے دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم یہ سن کر غمگین ہوئے، مگر اللہ کو اپنے محبوب کا غم کیونکر پسند ہو چنانچہ اسی وقت سدرہ کے مکین جبرئیل امین علیہ السلام حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا، اے پیارے حبیب (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) آپ رنجیدہ نہ ہوں، آپ کی اُمت کو اللہ نے ہر سال میں ایک ایسی رات عنایت فرما دی کہ اگر وہ اس رات میں میری عبادت کریں گے تو حضرت شمعون کے ہزار ماہ کی عبادت سے بھی بڑھ جائیں گے۔ (فیضان سنت صفحہ 1206)

لیلۃ القدر کی وجہ تسمیہ

لیلۃ القدر کو لیلۃ القدر اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں بندوں کی قضاء و قدر مقدر ہوتی ہے، اللہ تعالٰی فرماتا ہے، “فیھا یفرق کل امر حکیم“ اس میں ہرا مرحکیم کا فرق لکھا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی اس سال کا رزق، نارش، حیات اور موت (یعنی زندہ رکھنا اور مارنا) وغیرہ اسی رات میں آنے والے سال کیلئے مقدر فرما کر ملائکہ مد برات الامور کے سپرد فرما دیتا ہے، رزق، نباتات اور بارش کا دفتر حضرت میکائیل علیہ السلام کو، جنگیں، ہوائیں، زلزلے، صواعق اوع خسف (دھنسبا) کا دفتر جبرئیل علیہ السلام کو، اعمال کا دفتر اسرافیل علیہ السلام کو اور مصائب کا عزرائیل علیہ السلام کو سپرد کیا جاتا ہے۔ (تفسیر روح البیان، جلد 15 صفحہ 482 )

لیلۃ القدر حدیث کی روشنی میں


(1) حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بار جب ماہِ رمضان شریف آیا تو تاجدار مدینہ، سرور قلب و سینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس ایک مہینہ آیا ہے جس میں ایک رات ایسی بھی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا گویا تمام کی تمام بھلائی سے محروم رہ گیا اور اس کی بھلائی سے محروم نہیں رہتا مگر وہ شخص جو حقیقۃً محروم ہی ہے۔ (ابن ماجہ)

(2) ایک طویل حدیث میں حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے روایت کیا ہے کہ، سرکار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جب شب قدر آتی ہے تو اللہ عزوجل کے حکم سے حضرت جبرئیل علیہ السلام ایک سبزہ جھنڈا ئے فرشتوں کی بہت بڑی فوج کے ساتھ زمین پر نزول فرماتے ہیں اور اس سبز جھنڈے کو کعبہ معظّمہ پر لہرا دیتے ہیں، حضرت جبرئیل علیہ السلام کے سو بازو ہیں جن میں سے دو بازو صرف اسی رات کھولتے ہیں وہ بازو مشرق و مغرب میں پھیل جاتے ہیں، پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کو حکم دیتے ہیں کہ جو کوئی مسلمان آج رات قیام میں نماز یا ذکر اللہ میں مشغول ہے اس سے سلام و مصافحہ کرو، نیز ان کی دعاؤں پر آمین بھی کہو، چنانچہ صبح تک یہی سلسلہ رہتا ہے صبح ہونے پر حضرت جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کو پھر واپس چلنے کا حکم صادر فرماتے ہیں، فرشتے عرض کرتے ہیں اے جبرئیل علیہ السلام ! اللہ نے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی اُمت کی حاجات کے بارے میں کیا کیا ؟ حضرت جبرئیل علیہ السلام فرماتے ہیں اللہ نے ان لوگوں پر خصوصی نظر کرم فرمائی اور چار قسم کے لوگوں کے علاوہ تمام لوگوں کو معاف فرما دیا، صحابہ کرام نے عرض کیا، یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ! وہ چار قسم کے لوگ کون سے ہیں ؟ ارشاد فرمایا
(1) شراب کا عادی
(2) والدین کے نافرمان
(3) قطع رحم کرنے والے (یعنی رشتہ داروں سے رشتہ توڑنے والے)
(4) جو آپس میں بغض و کینہ رکھتے ہیں، اور آپس میں قطع تعلق کرتے ہیں۔

(3) رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جس نے شب قدر میں تین مرتبہ پورا کلمہ پڑھا یعنی لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) پڑھا تو پہلی مرتبہ پڑھنے سے اللہ تعالٰی مغفرت فرما دیتا ہے اور دوسری مرتبہ پڑھنے سے اللہ تعالٰی جہنم سے آزاد فرما دیتا ہے، اور تیسری مرتبہ پڑھنے سے داخل جنت فرما دیتا ہے۔ (فیضان سنت بحوالہ درۃ الناصحین)

(4) رسول مکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کو زندہ رکھے گا تو اللہ تعالٰی اس کے لئے ستائیس ہزار سال کا ثواب لکھتا ہے، اور اللہ تعالٰی اس کیلئے جنت میں گھر بناتا ہے جن کی تعداد اللہ تعالٰی ہی جانتا ہے۔ (فیضان سنت بحوالہ فضائل الشہور والایام)

(5) رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے شب قدر کو پایا تو اللہ تعالٰی اس پر دوزخ کی آگ حرام فرما دے گا اور اللہ تعالٰی اس کی تمام حاجتوں کو پورا فرمائے گا۔ (فیضان سنت بحوالہ فضائل الشہور ولایام)

(6) مولائے کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں، جو کوئی شب قدر میں سورہء قدر سات بار پڑھتا ہے اللہ اسے ہر بلا سے محفوظ فرما دیتا ہے، اور ستر ہزار فرشتے اس کیلئے جنت کی دعاء کرتے ہیں اور جو کوئی (جب کبھی) جمعہ کے روز نماز جمعہ سے قبل تین بار پڑھتا ہے اللہ اس روز کے تمام نماز پڑھنے والوں کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھتا ہے۔ (فیضان سنت بحوالہ نزہۃ المجالس)

(7) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتی ہیں، میں نے اپنے سرتاج صاحب معراج صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا، یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اگر مجھے شب قدر کا علم ہو جائے تو کیا پڑھوں ؟ سرکار مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، اس طرح دعاء مانگو اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی یعنی اے اللہ بیشک تو معاف فرمانے والا ہے اور معافی دینے کو پسند بھی کرتا ہے لٰہذا مجھے بھی معاف فرما دے۔ (مشکوٰۃ شریف، تفسیر روح البیان جلد 15)

اس رات کے نوافل کا مرتبہ

جو کوئی شب قدر میں چار رکعت اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ تکاثر ایک بار اور سورہء اخلاص گیارہ بار پڑھے تو اللہ اس کو سکرات موت میں آسانی فرما دے گا، نیز عذاب قبر سے بھی محفوظ فرما دےگا، اور نور کے چار ایسے ستون عطا فرمائے گا کہ ہر ستون میں ایک ہزار محل ہوں گے۔ (فیضان سنت بحوالہ نزہۃ المجالس)

اس رات میں جو کوئی بیس رکعتیں اس ترتیب سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد اکیس بار سورہء اخلاص پڑھے، وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا گویا ابھی ابھی پیدا ہوا ہے، نیز ہر حرف کے عوض جو اس نماز میں پڑھا ہے اس کیلئے جنّت میں ایک شہر بنایا جائے گا، اور اس شہر میں اس قدر حوریں ہوں گی کہ ان کا شمار صرف اللہ عزوجل ہی کو معلوم ہے۔ (فیضان سنت بحوالہ تذکرۃ الواعظین)

جو کوئی اسلامی بھائی یا بہن شب قدر میں دو رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سات مرتبہ سورہء اخلاص پڑھے اور سلام پھیرنے کے بعد ستر مرتبہ “استغفراللہ واتوب الیہ“ پڑھے تو اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے اللہ تعالٰی اس کو اور اس کے والدین کو بخش دیتا ہے، اور اللہ تعالٰی فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ جنت میں اس کیلئے باغ لگائیں اور اس کے لئے مکانات بنائیں اور نہریں جاری کردیں وہ دنیا سے نہیں جاتا جب تک یہ سب کچھ دیکھ نہیں لیتا۔ (فیضان سنت بحوالہ درۃ الناصحین)

لیلۃ القدر کی رات کون سی ہے ؟


(1) ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ اصحاب رسول میں سے چند افراد کو خواب کی حالت میں شب قدر آخری سات راتوں میں دکھائی دی، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے خیال میں تمہارے خواب آخری سات راتوں میں متفق ہوگئے ہیں بنا بریں اس کا تلاش کرنے والا اس آخری سات ساتوں میں ڈھونڈے۔ (بخاری شریف، باب نمبر 1253، حدیث نمبر 1878 )

(2) ابو سلمہ روایت کرتے ہیں ابو سعید جو میرے دوست تھے میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا ہم نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ درمیان عشرہ میں اعتکاف کیا، آپ بیس کی صبح کو باہر نکلے اور ہم سے خطاب کیا فرمایا کہ مجھے شب قدر دکھائی گئی، پھر میں اسے بھول گیا یا بھلا دیا گیا، چنانچہ اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ (بخاری شریف حدیث نمبر 1880 )

(3) ابن عباس روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو اور وہ ان راتوں میں ہے جب تقریباً سات یا پانچ راتیں باقی رہ جائیں۔ (بخاری شریف، حدیث نمبر 1885 )

(4) عبادہ بن صامت روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے تاکہ ہمیں شب قدر کے بارے میں بتائیں، لیکن فلاں آپس میں جھگڑ پڑے اس لئے اس کا علم مجھ سے اٹھا لیا شاید اس میں تمہاری بھلائی ہو، اس لئے اسے آخری عشرے کی نویں ساتویں اور پانچویں راتوں میں ڈھونڈو۔ (بخاری شریف، حدیث نمبر 1887 )

(5) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، لیلۃ القدر کو رمضان شریف کے آخری دس دنوں میں تلاش کرو، اور وہ اکیسویں، تیسیوں، پچیسویں، ستائیسویں، انتیسویں اور آخری رات ہے۔ (ترمذی شریف، باب نمبر 536)

حدیث بالا کی روشنی میں اس رات کی تعین کے سلسلے میں علمائے کرام کا بے حد اختلاف پایا جاتا ہے۔ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول یہ ہے کہ رمضان المبارک کی ستائیسویں شب، شب قدر ہے۔ حضرت سیدنا امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک مضبوط قول یہ ہے کہ اکیسویں شب رمضان المبارک کو شب قدر ہونی چاہئیے۔ امام مالک اور امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالٰی عنہما کے نزدیک شب قدر رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ہوتی ہے، مگر اس کیلئے کوئی ایک رات مخصوص نہیں ہر سال ان طاق راتوں میں گھومتی رہتی ہے، یعنی کبھی تو اکیسویں شب لیلۃ القدر ہو جاتی ہے، تو کبھی تئیس، کبھی پچیسویں شب، تو کبھی ستائیسویں شب۔ اور کبھی کبھی انتیسویں شب بھی شب قدر ہو جایا کرتی ہے۔ (فیضان سنت)

بہرحال اگرچہ بزرگان دین اور مفسرین و محدثین کا شب قدر کے تعین میں اختلاف ہے تا جمہور علماء کی رائے یہی ہے کہ ہر سال شب قدر ماہ رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کو ہی ہوتی ہے۔ اور اسی شب کے قائل حضور پیرانِ پیر، روشن ضمیر، شیخ عبدالقادر غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی ہیں۔
تفسیر عزیزیہ میں حضرت شیخ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں، کہ شب قدر رمضان شریف کی ستائیسویں رات ہی کو ہوتی ہے، اور اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ لیلۃ القدر کا لفظ نو حروف پر مشتمل ہے اور یہ کلمہ سورہء قدر میں تین مرتبہ استعمال کیا گیا ہے اس طرح تین کو نو سے ضرب دینے سے حاصلِ ضرب ستائیس آتا ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شب قدر ستائیسویں کی شب ہے۔ (تفسیر عزیزیہ)

لیلۃ القدر پوشیدہ کیوں ؟

اللہ رب العزت کی سنّت کریمہ ہے کہ اس نے بعض اہم ترین معاملات کو اپنی مشیت سے بندوں پر پوشیدہ رکھا ہے مثال کے طور پر خوشنودی کو نیکیوں میں، اپنی ناراضگی کو گناہوں میں، اپنے اولیاء کو اپنے بندوں میں اور صلاۃ وسطی کو پانچ نمازوں میں پوشیدہ رکھا ہے۔ جس کا مطلب یہی ہے کہ بندہ کسی بھی نیکی کو غیر اہم سمجھ کر نہ چھوڑے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالٰی کس نیکی پر راضی ہو جائے اسی طرح بندہ کسی گناہ کو چھوٹا سمجھ کر نہ کر بیٹھے پتہ نہیں اللہ تعالٰی کس گناہ پر ناراض ہو جائے، اسی طرح انسان کو چاہئیے کہ وہ ہر انسان کی تعظیم بجا لائے، کیا پتہ اللہ کا ولی کون ہے ؟؟ ہو سکتا ہے کہ جس کو ہم عام آدمی سمجھ رہے ہیں وہی اللہ کا ولی ہو، اس لئے اللہ نے ایک بہت بڑی حکمت کے تحت کچھ چیزوں کو پوشیدہ رکھا۔
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

چنانچہ اسی طرح بیشمار مصلحت کے پیشِ نظر لیلۃ القدر کو بھی پوشیدہ رکھا گیا ہے، تاکہ اللہ کے نیک بندے اس کی تلاش میں سارا سال ہی لگے رہیں اور اس طرح وہ نیکیاں کمانے میں کوشاں رہیں، گویا شب قدر کو مخفی رکھ کر اپنے بندوں کو ہر رات میں کچھ نہ کچھ عبادت کرنے کی ترغیب عطا فرمائی گئی ہے، اگر شب قدر کسی ایک رات میں مخصوص فرما کر صراحۃً اس کا علم ہمیں عطا فرما دیا جاتا تو پھر اس بات کا مکمل طور پر امکان ہے کہ ہم سال کی دیگر راتوں کے معاملے میں غافل ہو جاتے، صرف ہم اسی ایک رات کا اہتمام کرتے۔ مگر اب چونکہ اسے مخفی رکھا گیا ہے۔ اس لئے عقلمند وہی ہے جو تمام سال اس عظیم الشان رات کی جستجو میں رہے کہ نہ جانے کون سی رات شب قدر ہو۔ اس طرح سے وہ شب قدر بھی پالے گا اور نیکیاں بھی بہت حاصل کرلے گا۔

خلاصہ

حدیث و قرآن کی روشنی میں ہم سب کو معلوم ہو گیا کہ شب قدر کی اہمیت اور اس کی برکت و عظمت کا مقام کتنا بلند و بالا ہے۔ اس لئے ہم سب مسلمانوں کو چاہئیے کہ اس عظیم رات کو غفلت میں نہ کھوئیں، بلکہ زیادہ سے زیادہ عبادت کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، رو رو کر دعائیں کریں، گریہ زاری کریں، تفسیر روح البیان میں لکھا ہے کہ اس گریہ زاری سے فرشتے بھی تمہاری زیارت کیلئے بیتاب ہوتے ہیں، اور حدیث قدسی ہے اللہ فرماتا ہے، لاین المذنبین احب الی من زجل المسبحین یعنی مجھے گنہگاروں کے رونے کی آواز تسبیح کہنے والوں کی آواز سے زیادہ پسند ہے۔ اس لئے فرشتے آپس میں کہتے ہیں کہ زمین پر جاکر ان لوگوں کو دیکھیں جن کے رونے کی آواز اللہ تعالٰی کو محبوب ہے، ذرا ہم بھی ان کے رونے کی آواز اپنے کانوں سے سن لیں کہ ہماری تسبیح پڑھنے کی آواز سے ان کی آواز اللہ تعالٰی کو زیادہ پسند ہے تو کیوں اور کیسے !
علامہ صاحب روح البیان فرماتے ہیں کہ دراصل رونے کی آواز کو اللہ تعالٰی اس لئے پسند کرتا ہے کہ تسبیح پڑھنے والوں کے کمال کا اپنا اظہار ہے اور گنہگار کے رونے میں رب العالمین کی غفار کا اظہار ہے۔ (روح البیان ج15 ص489 )
اپنے ماں باپ سے اپنی گستاخی کی معافی کرائیں، کسی مسلمان بھائی کو آپ سے کسی موقعہ پر تکلیف پہنچی ہو تو اس سے بھی معافی مانگیں، اس طرح سے ایک دوسرے مسلمان بھائی آپس میں ایک دوسرے سے گلے ملکر وقتاً فوقتاً جو آپسی اختلاف ہو جاتے ہیں جن کی وجہ سے ایک دوسرے کو تکلیف ہوتی ہے اس سے معافی مانگیں اس کے بعد اس رات میں عبادت کریں تو انشاءاللہ عزوجل ضرور آپ کی عبادت قبول ہوگی اور اللہ تعالٰی رحم کرنے والا ہے اپنے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے صدقے میں ہم سب پر رحم و کرم فرمائے گا اور ہماری اور آپ سب کے گناہوں کو بخش دے گا اور اس رات کی برکتوں سے مالا مال فرمائے گا۔ آمین ثم آمی

Advertisements

روزے کے اسرار اور باطنی شرائط

روزے کے اسرار اور باطنی شرائط


روزے کے تین درجات ہیں:۔
(1) عام لوگوں کا روزہ ۔
(2) خاص لوگوں کا روزہ ۔
(3) خاص الخاص لوگوں کا روزہ۔
عام لوگوں کا روزہ دل کو تمام بڑے خیالات اور دنیوی افکار بلکہ اللہ تعالٰی کے سوا ہر چیز سے کلیتاً خالی کر دینا ہے، اس صورت میں جب اللہ تعالٰی اور قیامت کے سوا کوئی دوسری فکر آئے گی تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ دنیوی فکر سے اگر دین کا قصد نہ ہو تو بھی یہی حکم ہے، کیونکہ دین کی فکر زار آخرت سے ہے دنیا سے نہیں، حتٰی کہ اہل دل حضرات نے کہا ہے کہ جو شخص دن کے وقت یہ بات سوچے کہ رات کو کس چیز کے ساتھ افطار کرے گا اس کے ذمہ گناہ لکھ دیا جاتا ہے، کیونکہ یہ اللہ تعالٰی پر کامل اعتماد اور اس کے رزق موعود پر مکمل یقین نہ ہونے کی علامت ہے۔ یہ درجہ انبیاء کرام، صدیقین اور مقربین کا ہے۔ اس کی تفصیل میں زیادہ گفتگو نہیں کی جائے گی، البتہ اس کی عملی تحقیق بیان کریں گے یعنی یہ روزہ اس وقت حاصل ہوتا ہے کہ آدمی اپنی مکمل توجہ اللہ تعالٰی کی طرف کر دے اور غیر خدا سے پھیر دے، اللہ تعالٰی کے اس ارشاد گرامی کو لباس بنانے لے “قل اللہ ثم ذرھم فی خوضھم یلعبون“ آپ فرما دیجئے اللہ تعالٰی ہے، پھر انہیں چھوڑ دیں اپنی بیہودگیوں میں کھیلتے رہیں۔

خاص لوگوں کا روزہ اولیاء کرام کا روزہ ہے، اور یہ اپنے اعضاء کو گناہوں سے بچانا ہے، یہ روزہ چھ باتوں سے مکمل ہوتا ہے۔

(1) ان چیزوں کو دیکھنے سے نظر کو روکنا جو بُری اور مکروہ ہیں۔ نیز وہ چیزیں جو دل کو اللہ تعالٰی کے ذکر سے روکتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں ۔ النطرۃ سھم مسموم من سھام ابلیس لعنۃ اللہ فمن ترکھا خوفا من اللہ نظر زہر میں بجھا ہوا ایک شیطانی تیر ہے اللہ اس پر لعنت بھیجے، پس جس شخص نے اسے (غیر محرم کو دیکھنا) چھوڑ دیا اسے اللہ تعالٰی ایسا ایمان عطا فرماتا ہے جس کی شیرنی وہ اپنے دل میں پاتا ہے۔

حضرت جابر، حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے اور وہ رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا خمس یفطر ان الصائم الکذب والغیبۃ والنمیمۃ والیمین الکاذبۃ والنظر بشھودۃ پانچ چیزیں روزہ دار کے روزے کو توڑ دیتی ہیں۔ جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، چغلی کھانا، جھوٹی قسم کھانا اور شہوت کے ساتھ کسی کو دیکھنا۔

(2) زبان کو بیہودہ گفتگو، جھوٹ، غیبت، چغلی، فحش کلامی، ظلم و زیادتی، جھگڑے، دکھاوے اور خاموشی خاموشی اختیار کرنے سے محفوظ رکھنا اور اسے اللہ تعالٰی کے ذکر اور تلاوتِ قرآن مجید میں مشغول رکھنا، یہ زبان کا روزہ ہے۔ حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا غیبت روزے کو توڑ دیتی ہے، یہ بات ان سے حضرت بشیر بن حارث نے نقل کی ہے۔ حضرت لیث، حضرت مجاہد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ دو باتیں روزے کو توڑ دیتی ہیں۔ (1) غیبت اور (2) چغلی۔

نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا انما الصوم جنۃ فاذا کان احدکم صائما فلا یرفث ولا یجھل وان امروء قاتلہ او شاتما فلیقل انی صائم انی صائم بیشک روزہ ڈھال ہے، پس جب م میں سے کوئی روزہ دار ہو تو نہ وہ بے حیائی کی بات کرے اور نہ جہالت کی اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا گالی گلوچ کرے تو کہہ دے کہ میں روزے دار ہوں۔

ایک حدیث شریف میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں دو عورتوں نے روزہ رکھا، تو ان کے آخر میں انہیں بھوک اور پیاس نے ستایا حتٰی کہ قریب تھا وہ اپنے روزے کو ضائع کر دیں، انہوں نے کسی کو رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیج کر روزہ توڑنے کی اجازت طلب کی آپ نے ان کی طرف ایک پیالہ بھیجا اور فرمایا کہ ان سے کہو جو کچھ کھایا تھا اس میں قے کر دیں، تو ان میں سے ایک نے تازہ خون اور تازہ گوشت کی قے کی اور دوسرے نے بھی اس جیسی قے کی، حتٰی کہ دونوں نے پیالہ بھر دیا لوگوں کو اس پر تعجب ہوا تو نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ان دونوں نے اس چیز سے روزہ رکھا جسے اللہ تعالٰی نے حلال کیا اور جسے اللہ تعالٰی نے حرام کیا اس سے روزہ توڑ دیا، ان دونوں نے ایک دوسرے کے پاس بیٹھ کر لوگوں کی غیبت کی تو یہ لوگوں کا گوشت ہے جو انہوں نے (غیبت کی صورت میں) کھایا۔

(3) ہر مکروہ بات کو سننے سے کانوں کو روکنا، کیونکہ جو بات کہنا حرام ہے، اس کی طرف کان لگانا بھی حرام ہے۔ اسی لئے اللہ تعالٰی نے غور سے سننے والے اور حرام مال کھانے والے کو برابر قرار دیا، اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا، سماعن للکذب اکالون للسحت وہ جھوٹ کو سننے والے اور خوب حرام کھانے والے ہیں۔
اور ارشاد خداوندی ہے ولا ینھاھم الرابنیون والاحبار عن قولھم الاثم واکلھم السحت ان کے علماء اور درویش ان کو گناہ کی بات اور حرام کھانے سے کیوں نہیں روکتے۔
تو غیبت سن کو خاموشی اختیار کرنا حرام ہے، اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا، انکم اذا مثلھم بیشک تم اس وقت ان کی مثل ہوگے۔
اسی لئے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، المعتاب والمستمع شریکان فی الاثم غیبت کرنے والا اور اسے قصداً سننے والا دونوں گناہوں میں شریک ہیں۔

(4) باقی اعضاء یعنی ہاتھ اور پاؤں وغیرہ کو بھی گناہوں سے نیز مکروہ امور سے بچانا اور افطار کے وقت پیٹ کو شبہے والے اشیاء سے بچانا اگر وہ حلال چیز سے روزہ رکھے اور حرام سے افطار کرے تو روزے کا کیا مطلب ہوگا ؟؟
ایسے روزے دار کی مثال اس شخص جیسی ہے جو محل بناتا ہے اور شہر کو گرا دیتا ہے کیونکہ حلال کھانا زیادہ ہونے کی وجہ سے نقصان دیتا ہے، اپنی کسی نوع کی وجہ سے نہیں اور روزے کا مقصد کھانے کو کم کرنا ہے اور زیادہ دوائی کو اس کے نقصان کے باعث چھوڑ کر زہر کھانے والا بیوقوف ہوتا ہے اور حرام بھی ایک زہر ہے جو دین کو ہلاک کرتا ہے اور حلال چیز دوا ہے جو تھوڑی ہو تو نافع ہے اور زیادہ ہو تو نقصان دیتی ہے، اور روزے کا مقصد اس حلال غذا کو کم کرنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، کم من صائم لیس لہ من صومہ الا الجوع والعطش کتنے ہی روزہ دار ہیں جن کو اپنے روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
کہا گیا ہے کہ اس سے مُراد وہ شخص ہے جو حرام کی طرف نظر کرتا ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مُراد وہ شخص ہے جو حلال کھانے سے رکتا ہے اور غیبت کے ذریعے لوگوں کے گوشت سے روزہ توڑ دیتا ہے۔ کیونکہ غیبت حرام ہے اور یہ قول بھی ہے کہ وہ شخص مراد ہے جو اپنے اعضاء کو گناہوں سے محفوظ نہیں رکھتا۔

(6) افطار کے وقت حلال کھانا بھی زیادہ نہ کھائے اس طرح کہ پیٹ بھر لے اللہ تعالٰی کے ہاں اس پیٹ سے بُرا برتن کوئی نہیں جو حلال رزق سے بھر جائے روزے سے اللہ تعالٰی کے دشمن پر غلبہ پانے اور شہوت کو توڑنے کا فائدہ کیسے حاصل ہوگا جب وہ دن کے وقت کچھ رہ گیا اس کی کسر افطاری کے وقت نکالے۔
اور بعض اوقات اس کے پاس طرح طرح کے کھانے جمع ہو جاتے ہیں حتٰی کہ یہ عادت بن گئی ہے کہ رمضان المبارک کیلئے کھانے جمع کئے جاتے ہیں اور اس وقت وہ کھانے کھائے جاتے ہیں جو دوسرے مہینوں میں نہیں کھائے جاتے ہیں اور یہ بات معلوم ہے کہ روزے کا مقصد پیٹ کو خالی رکھنا اور خواہش کو توڑنا ہے، تا کہ نفس کو تقوٰی پر قوّت حاصل ہو، اور جب صبح سے شام تک معدے کو ٹالتا رہا حتٰی کہ خواہش جوش میں آئی اور رغبت مضبوط ہو گئی، پھر اسے لذیذ کھانے دے کر سیر کیا گیا اور اس کی قوّت زیادہ ہوگی اور وہ خواہشات ابھریں جو عام عادت پر رہنے کی صورت میں پیدا نہ ہوتی پس روزہ کی روح اور رام تو یہ ہے کہ ان قوتوں کو کمزور کیا جائے جو بُرائیوں کی طرف لوٹنے کو کم کرنے سے ہی حاصل ہوتا ہے یعنی ہر رات اتنا کھانا ہی کھائے جو روزہ نہ رکھنے کی صورت میں کھاتا ہے، اور اگر دن اور رات کا کھانا جمع کرکے کھائے تو روزے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بلکہ مستحب یہ ہے کہ دن کے وقت زیادہ نہ سوئے تاکہ اسے بھوک اور پیاس کا احساس ہو، اور اعضاء کی کمزوری محسوس ہو اس وقت اس کا دل صاف ہو جائے گا اور ہر رات اسی قدر کمزوری پیدا ہوگی تو اس پر تہجد اور وظائف پڑھنا آسان ہو جائے گا اور ممکن ہے شیطان اس کے دل کے قریب تر آئے اور وہ آسمانی بادشاہت کا نظارہ کرے اور لیلۃ القدر اسی رات کو کہتے ہیں جس میں ملکوت سے کئی چیز اس پر منکشف ہو، اور اللہ تعالٰی کے اس ارشاد گرامی کا یہی مطلب ہے فرمایا، انا انزلناہ فی لیلۃ القدر بیشک ہم نے اس (قرآن پاک) کو لیلۃ القدر میں اتارا، اور جو آدمی اپنے دل اور اپنے سینے کے درمیان کھانے کی رکاوٹ ڈال دے، وہ اس سے پردے میں رہتا ہے اور جس نے اپنے معدے کو خالی رکھا تو صرف یہ بات بھی پردہ اٹھنے کیلئے کافی نہیں جب تک وہ اپنی توجہ غیر خدا سے ہٹا نہ دے یہی سارا معاملہ ہے اور اس تمام معاملے کی بنیاد کم کھانا ہے۔

(6) افطار کے بعد اس کا دل خوف اور امید کے درمیان معلق اور مترددر ہے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کا روزہ قبول ہوا، اور وہ مقربین میں سے ہے یا رَد کر دیا گیا اور وہ ان لوگوں میں سے ہے جن پر اللہ تعالٰی ناراض ہے اسے ہر عبادت سے فراغت کے بعد اسی طرح ہونا چاہئیے۔ حضرت حسن بن ابو الحسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے مروی ہے آپ ایک جماعت کے اس سے گزرے اور وہ لوگ ہنس رہے تھے، انہوں نے فرمایا اللہ تعالٰی نے رمضان المبارک کے مہینے کو لوگوں کیلئے مقابلے کا میدان بنایا ہے، وہ اس کی عبادت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں، ایک جماعت آگے بڑھ گئی اور کامیاب ہوئی اور دوسرا گروہ پیھے رہ گیا، اور اس نے نقصان اٹھایا تو اس شخص پربہت زیادہ تعجب ہے جو اس دن ہنستا اور کھیلتا ہے، جس میں سبقت کرنے والے کامیاب اور پیچھے رہنے والے ناکام ہوئے۔
سنو !!! اللہ تعالٰی کی قسم ! اگر پردہ اٹھ جائے تو نیکی کرنے والے اپنی نیکی میں اور بُرائی کرنے والے اپنی بُرائی میں مشغول ہوں یعنی مقبول کی خوشی اسے کھیل سے روک دے اور مردود کا افسوس اس پر ہنسی کا دروازہ بند کردے، حضرت احنف بن قیس رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے منقول ہے ان سے کہا گیا کہ آپ بہت بوڑھے ہیں اور روزہ آپ کو کمزور کر دے گا، انہوں نے فرمایا میں اسے ایک طویل سفر کا سامان بناتا ہوں اور اللہ تعالٰی کی اطاعت پر صبر کرنا، اس کے عذاب پر صبر کرنے سے زیادہ آسان ہے، تو روزے میں باطنی امور یہ ہیں۔

سوال :۔ جو شخص پیٹ اور شرمگاہ کی شہوت سے رکنے پر اکتفا کرے اور ان امور کو نظر انداز کردے تو فقہاء فرماتے ہیں اس کا روزہ صحیح ہے اس کا کیا مطلب ہے ؟
جان لوکہ ظاہری فقہائے کرام ظاہری شروط کو نہایت کمزور دلائل سے ثابت کرتے ہیں یعنی وہ دلائل ہماری ذکر کردہ باطنی شرائط کے مقابلے میں کمزور ہیں۔ خصوصاً غیبت اور اس جیسی دوسری باتیں فقہاء نے ظاہر ان تکلیفات کا ذکر کرتے ہیں جو عام غافل اور دنیا کی طرف متوجہ ہونے والے لوگوں کیلئے آسان بات کو سمجھتے ہیں کہ روزے کا مقصد اللہ کے اخلاق سے متصف ہونا ہے اور وہ بے نیازی ہے اور جس قدر ممکن ہو شہوات سے ب کر فرشتوں کی اقتدا کرے کیونکہ وہ شہوات سے پاک ہیں اور انسان کا رتبہ جانوروں کے رتبہ سے بلند ہے کیونکہ وہ نور عقل کے ذریعے شہوات کو ختم کر سکتا ہے اور فرشتوں کے رتبہ سے (عام انسانوں کا رتبہ) کم ہے کیونکہ اس پر شہوت کا غلبہ ہے اور اسے مجاہدے میں مبتلا کیا گیا۔ لٰہذا جب وہ شہوات میں بڑھتا ہے تو سب سے نچلے گڑھے میں گرتا ہے اور جانوروں کی درجے میں چلا جاتا ہے اور جب شہوات کا قلع قمع ہوتا ہے تو وہ اعلٰی علیین میں چلا جاتا ہے اور ملائکہ کی دنیا سے جا ملتا ہے اور فرشتے اللہ تعالٰی کے مقرب ہیں اور جو شخص فرشتوں کی اقتدا کرتا اور ان کے اخلاق سے مشابہت رکھتا ہے وہ بھی ان کی طرف اللہ تعالٰی کا مقرب بن جاتا ہے۔ کیونکہ قریب کی مشابہت اختیار کرنے والا بھی قریب ہوتا ہے اور وہاں مکان کا قرب نہیں بلکہ صفات کا قرب ہوتا ہے۔
جب عقلمندوں کے اور اہل دل کے نزدیک روزے کا مقصد اور راز یہ ہے تو ایک کھانے کو موخر کرکے دونوں کو شام کے وقت اکٹھا کرلے۔ نیز دن بھر شہوات میں غرق رہنے کا کیا فائدہ ہے، اگر اسی کا کوئی فائدہ ہے تو نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کا کیا مطلب ہوگا آپ نے فرمایا:۔
کم من صائم لیسلہ من صومہ الا الجوع والعطش
کتنے ہی روزے دار ہیں جن کو اپنے روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
اس لئے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ دانا آدمی کا سونا اور افطار کرنا کیسا اچھا ہے وہ کیسے بیوقوف آدمی کے روضے اور بیداری کو بُرا نہ جانے، البتہ یقین اور تقوٰی والوں کا ایک ذرہ دھوکے میں مبتلا لوگوں کی پہاڑوں کے برابر عبادت سے افضل اور راجح ہے۔ اسی لئے بعض علماء کرام نے فرمایا کہ کتنے ہی روزے دار روزے کے بغیر اور کتنے ہی بے روزہ، روزہ دار ہوتے ہیں، روزہ نہ رکھنے کے باوجود روزہ دار وہ شخص ہے جو اپنے اعضاء کو کھلی چھٹی دیتا ہے۔
روزے کے مفہوم اور اس کی حکمت کو سمجھنے سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جو شخص کھانے اور جماع سے رکے اور گناہوں میں ملوث ہونے کے باعث روزہ توڑ دے، وہ اس شخص کی طرح ہے جو وضو میں اپنے کسی عضو پر تین بار مسح کرے، اس نے ظاہر میں تعداد کو پورا کیا لیکن مقصود یعنی اعضاء کو دھونا جو کھانے کے ذریعہ روزہ دار نہیں لیکن ناپسندیدہ افعال سے اعضاء کو روکنے کی وجہ سے روزہ دار ہے وہ اس آدمی کی طرح ہے جو اپنے اعضاء کو ایک ایک بار دھوتا ہے تو اس کی نماز انشاءاللہ قبول ہوگی کیونکہ اس نے اصل کو پکا کیا اگرچہ زائد کو چھوڑ دیا اور جو آدمی دونوں کو جمع کرے وہ اس آدمی جیسا ہے جو ہر عضو کو تین تین بار دھوتا ہے، اس نے اصل اور زائد دونوں کو جمع کیا اور یہی کمال ہے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ان الصوم امائۃ فلیحفظ احدکم امانتہ بیشک روزہ امانت ہے تو تم میں سے ایک کو چاہئے کہ وہ اپنی امانت کی حفاظت کرے۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے قرآن پاک کی یہ آیت تلاوت فرمائی ان اللہ یامرکم ان ودوا الامانات الی اھلھا بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے مالکوں کی طرف لوٹا دو۔
تلاوت کے بعد آپ نے اپنا ہاتھ مبارک اپنے کان اور آنکھ پر رکھ کر فرمایا، سماعت و بصارت بھی امانت ہے اور اگر یہ روزے کی امانتوں میں سے نہ ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم یہ بات نہ فرماتے کہ اسے کہنا چاہئے کہ میں روزے سے ہوں۔ (بخاری)
دوسری حدیث میں گزر چکا ہے یعنی میرے پاس میری زبان امانت ہے تاکہ میں اس کی حفاظت کروں تو میں کس طرح تجھے جواب دینے کے لئے اسے کھلا چھوڑ دوں۔
اب یہ بات ظاہر ہو گئی کہ ہر عبادت کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، چھلکا بھی ہے اور مغز بھی اور اس کے چھلکوں کے کئی درجات ہیں اور ہردرجے کے کئی طبقے ہیں اب تجھے اختیار ہے کہ تو مغز کو چھوڑ کر چھلکے پر قناعت کرے یا عقلمندوں کی جماعت میں شامل ہو۔

نوٹ :۔ اس مضمون کی تفصیل اور اس کے تمام حوالے، علامہ غزالی کی تصنیف “احیاء العلوم“ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ میں نے یہاں بقدر ضرورت ایک خلاصہ پیش کر دیا ہے۔ نثار احمد مصباح

پانچویں شب قدر

پانچویں شب قدر


انتیسویں شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورہء فاتحہ کے سروہء قدر ایک ایک بار۔ سورہء اخلاص تین تین مرتبہ پڑھے بعد سلام کے سورہء الم نشرح ستر مرتبہ پڑھے۔
یہ نماز واسطے کامل ایمان کے بہت افضل ہے۔
انشاءاللہ تعالٰی، اللہ تبارک و تعالٰی اس نماز کے پڑھنے والے کو دنیا سے مکمل ایمان کے ساتھ اٹھائے گا۔

ماہِ رمضان کی انتیسویں شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے ہر رکعت میں بعد سورہء فاتحہ کے سورہء قدر ایک ایک بار۔ سورہء اخلاص پانچ پانچ مرتبہ پڑھے۔ بعد سلام کے دورد شریف ایک سو دفعہ پڑھے۔
انشاءاللہ تعالٰی اس نماز کے پڑھنے والے کو دربارِ خداوندی سے بخشش اور مغفرت عطا کی جائے گی

چوتھی شبِ قدر

چوتھی شبِ قدر


ستائیسویں (27) شب قدر کو بارہ رکعت نماز تین سلام سے پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورہء فاتحہ کے سورہء قدر ایک ایک مرتبہ، سورہ اخلاص پندرہ پندرہ مرتبہ پڑھنی ہے۔ بعد سلام کے ستر مرتبہ استغفار پڑھے۔ اللہ تعالٰی اس نماز کے پڑھنے والے کو نبیوں کی عبادت کا ثواب عطا فرمائے گا۔ انشاءاللہ العظیم

ستائیسویں شب کو دو رکعت نماز پڑھے۔ ہر رکعت میں سورہء فاتحہ کے بعد سورہء قدر تین تین دفعہ۔ سورہء اخلاص ستائیس مرتبہ پڑھ کر گناہوں کی مغفرت طلب کرے۔ انشاءاللہ تعالٰی اس کے تمام پچھلے گناہ اللہ پاک معاف فرمائے گا۔

ستائیسویں شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھنی ہے۔ ہر رکعت میں بعد سورہء فاتحہ کے سورہء تکاثر ایک ایک بار۔ سورہء اخلاص تین تین بار پڑھے۔ اس نماز کے پڑھنے والے پر سے اللہ پاک موت کی سختی آسان کرے گا۔ انشاءاللہ تعالٰی اس پر سے عذابِ قبر بھی معاف ہو جائے گا۔

ستائیسویں شب کو دو رکعت نماز پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورہء فاتحہ کے سورہء اخلاص سات سات مرتبہ پڑھے۔ بعد سلام کے ستر دفعہ یہ تسبیح معظّم پڑھنی ہے۔

اَستَغفِرُاللہَ العَظِیمَ الَّذِی لاَاِلٰہَ اِلاَّ ھُوَ الحَیُّ القَیُّومُ وَاَتُوبُ اِلَیہِ

انشاءاللہ تعالٰی اس نماز کو پڑھنے والے اپنے مصلّٰے سے نہ اٹھیں گے کہ اللہ پاک اس کو اور اس کے والدین کے گناہ معاف فرما کر مغفرت فرمائے گا اور اللہ تعالٰی فرشتوں کو حکم دے گا کہ اس کے لئے جنّت آراستہ کرو اور فرمایا کہ وہ جب تک تمام بہشتی نعمتیں اپنی آنکھ سے نہ دیکھ لے گا۔ اس وقت تک موت نہ آئے گی۔ واسطے مغفرت یہ نماز بہت ہی افضل ہے۔

ستائیس شب کو دو رکعت نماز پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورہ فاتحہ کے سورہ ء الم نشرح ایک ایک بار۔ سورہء اخلاص تین تین مرتبہ پڑھے۔ بعدسلام ستائیس مرتبہ سورہء قدر پڑھے۔
انشاءاللہ العظیم واسطے ثواب بیشمار عبادت کے یہ نماز بہت افضل ہے۔

ستتائیسویں شب کو چار رکعت نماز پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورہء فاتحہ کے سورہء قدر تین تین دفعہ ۔ سورہ اخلاص پچاس پچاس مرتبہ پڑھے۔ بعد سلام سجدہ میں سر رکھ کر ایک مرتبہ یہ کلمات پڑھے:۔

سُبحَان اللہِ وَالحَمدُِللہِ وَلاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَاللہُ اَکبَر ط

اس کے بعد جو حاجت دنیاوی یا دینوی طلب کرے۔ وہ انشاءاللہ تعالٰی درگاہِ باری تعالٰی میں قبول ہوگی

تیسری شبِ قدر

تیسری شبِ قدر


ماہِ رمضان کی پچیس (25) تاریخ کی شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے۔ بعد سورہء فاتحہ کے سورہء قدر ایک ایک بار۔ سورہء اخلاص پانچ پانچ مرتبہ ہر رکعت میں پڑھنی ہے۔ بعد سلام کے کلمہء طیب ایک سو دفعہ پڑھنا ہے۔ درگاہِ رب العزت سے انشاءاللہ تعالٰی بیشمار عبادت کا ثواب عطا ہوگا۔

پچیسویں شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورہء فاتحہ کے سورہء قدر تین تین مرتبہ ۔ سورہ اخلاص تین مرتبہ پڑھے۔ بعد سلام کے ستر دفعہ استغفار پڑھے۔ یہ نماز بخشش گناہ کے لئے بہت افضل ہے۔

پچیسویں (25) شب کو دو رکعت نماز پڑھنی ہے ہر رکعت میں بعد سورہء فاتحہ کے سورہء قدر ایک ایک مرتبہ۔ سورہء اخلاص پندرہ پندرہ مرتبہ پڑھے۔ بعد سلام کے ستر دفعہ کلمہء شہادت پڑھنا ہے۔
یہ نماز واسطے نجات عذابِ قبر بہت افضل ہے

دوسری شبِ قدر

دوسری شبِ قدر


ماہِ مبارک کی تیئسویں (23) شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے۔ اور ہر رکعت میں بعد سورہء فاتحہ کے سورہء قدر ایک ایک بار۔ سورہء اخلاص تین تین بار پڑھے۔
انشاءاللہ تعالٰی واسطے مغفرت گناہ کے یہ نماز بہت افضل ہے۔

تیئسویں(23) شبِ قدر کو آٹھ رکعت نماز چار سلام سے پڑھنی ہے۔ ہر رکعت میں بعد سورہء فاتحہ کے سورہء قدر ایک ایک دفعہ سورہء اخلاص ایک ایک بار پڑھے۔ بعد سلام کے سر مرتبہ کلمہء تمجید پڑھے اور اللہ تعالٰی سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرے۔ اللہ تعالٰی اس کے گناہ معاف فرما کر انشاءاللہ تعالٰی مغفرت فرمائے گا

پہلی شبِ قدر

پہلی شبِ قدر

حضور انور سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ میری اُمت میں سے جو مرد یا عورت یہ خواہش کرے کہ میری قبر نور کی روشنی سے منور ہو تو اسے چاہئیے کہ ماہِ رمضان المبارک کی شب قدروں میں کثرت کے ساتھ عبادتِ الٰہی بجا لائے کہ ان مبارک اور متبرک راتوں کی عبادت سے اللہ پاک اس کے نامہء اعمال سے برائیاں مٹاکر نیکیوں کا ثواب عطا فرمائے۔

شبِ قدر کی عبادت ستر ہزار شب کی عبادتوں سے افضل ہے۔

اکیسویں (21) شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورہء فاتحہ کے سورہء قدر ایک ایک بار۔ سورہء اخلاص ایک ایک مرتبہ پڑھے۔ بعدِ سلام کے ستر مرتبہ درود پاک پڑھے۔ انشاءاللہ تعالٰی اس نماز کے پڑھنے والے کے حق میں فرشتے دعائے مغفرت کریں گے۔

اکیسویں شب کو دو رکعت نماز پڑھے۔ ہر رکعت میں سورہء فاتحہ کے بعد سورہء قدر ایک ایک بار۔ سورہء اخلاص تین تین مرتبہ پڑھنی ہے بعد سلام کے نماز ختم کرکے ستر مرتبہ استغفار پڑھے۔ انشاءاللہ تعالٰی اس نماز اور شبِ قدر کی برکت سے اللہ پاک اس کی بخشش فرمائے گ

غزوہ بدر معرکہ حق و باطل

حق، باطل کے ساتھ کسی مرحلے اور کسی سطح پر بھی سمجھوتے کا روادار نہیں۔ اگر مسلمان اپنے عظیم مشن کو پس پشت ڈال کر باطل کے عقائد ونظریات کے ساتھ سمجھوتہ کرلیتے اور ظالم استحصالی طاقتوں کے عقائد باطلہ کے لئے اپنے دل میں نرم گوشہ بیدار کرکے عافیت کی درمیانی راہ اختیار کرلیتے اور اپنے عقائد ونظریات سے اپنی فکری اور روحانی وابستگی کو کمزور کرلیتے تو معرکہ بدر کبھی برپا نہ ہوتا۔ مشرکین مکہ کی تلواریں کبھی بے نیام نہ ہوتیں، کفر اپنے پورے مادی وسائل کے ساتھ جذبہ شہادت سے سرشارمسلمانوں کے جذبہ ایمانی کو للکارنے اور ان کے خلاف صف آراء ہونے کی ضروت ہی محسوس نہ کرتا۔ لیکن ہادی برحق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بطال کے ساتھ کسی سمجھوتے کے امکانات کو رد کرتے ہوئے بے سروسامانی کے عالم میں کفر کے ساتھ ٹکر لینے کا عزم کرلیا۔ یہ نبوت کا پندرھواں سال تھا، تاریخ اسلام کا فیصلہ کن مرحلہ، حق اور باطل کی کھلی جنگ، جنگوں کے ایک طویل سلسلے کی تمہید، اسلامی تشخص کی پہلی عسکری توجیہہ، اپنے نصب العین کی سچائی پر غیر متزلزل یقین کی علامت اور اپنے وسیع تر تناظر میں دو قومی نظریہ کی حقانیت نہ صرف آزمائش کی کسوٹی پر پورااترتی ہے بلکہ فکری اور نظریاتی حوالے سے فرد کی عملی تربیت کا احساس بھی عمل کی بھٹی سے گذار کر کندن بنا اور پھر یہ کندن فرد کے کردار میں ڈھل کر معاشرے میں خیر کی قوتوں اور نیکی کے رویوں کے فروغ کا ضامن قرار پایا۔ غزوہ بدر کو دیگر غزوات پر کئی اعتبار سے فوقیت حاصل ہے۔ اسے کفر و اسلام کا پہلا معرکہ ہونے شرف حاصل ہے۔ خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ بدر کو ایک فیصلہ کن معرکہ قرار دیا اور قرآن مجید نے اسے یوم الفرقان سے تعبیر کرکے اس کی اہمیت پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ فرمایا ’’جو ہم نے اپنے( برگزیدہ) بندے پر ( حق وباطل کے درمیان) فیصلے کے دن نازل فرمائی وہ دن (جب بدر میں مومنوں اور کافروں کے) دونوں لشکر باہم متصادم ہوئے تھے،، (الانفال8:41) بلاشبہ یوم بدر احقاق حق اور ابطال باطل کا دن تھا، جس دن حق کو واضح اور دوٹوک فتح حاصل ہوئی اور کفرکے مقدر میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ذلت آمیز شکست لکھ دی گئی۔ مشرکین کا تکبر وغرور خاک میں مل گیا، کبرونخوت کی دستار پاؤں تلے کچلی گئی۔ جھوٹے تعصبات کی دھجیاں فضائے بسیط میں بکھر گئیں۔ حق کی راہ میں مزاحم ہونے والی دیوار اپنے ہی قدموں پر بوس ہوگئی۔ حق کا پرچم بلند ہوا اور بلند ہی ہوتا چلا گیا۔ جھوٹی انا کا سر جھکا اور جھکتا ہی چلا گیا روشنی کی تلاش کا سفر اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا تھا۔ عقیدہ توحید، انسان کی کتاب روز وشب کے ہر باب کا عنوان بن رہا تھا اور مطلع انسانیت پر ایک نئی صبح طلوع ہو رہی تھی۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ ’’اور اللہ چاہتا تھا کہ اپنے کام سے حق کو حق ثابت فرما دے اور (دشمنوں کے بڑے مسلح لشکر پر مسلمانوں کو فتح یابی کی صورت میں) کافروں کی (قوت وشان وشوکت) کی جڑ کاٹ دے،، (الانفعال8:7) یاسیت کی چادر تار تار ہوئی۔ افق دیدہ ودل پر رجائیت کا سورج اپنی رعنائیاں اور توانائیاں بکھیرنے لگا حق کا شفاف اور بے داغ چہرہ مزید نکھر کر آنے والے روشن دنوں کے اجلے پن میں اضافہ کرنے لگا۔

اسباب جنگ:

 

ہر عمل (Action) کا ایک رد عمل (Reaction) ہوتا ہے۔ عمل جتنا شدید ہوگا ردعمل بھی اتنا ہی شدید ہوگا۔ جتنا کسی چیز کو دبایا جاتا ہے قانون فطرت ہے کہ وہ چیز اتنا ہی ابھر کرسامنے آتی ہے اور پھر ہر عمل کے چند ایک محرکات ہوتے ہیں۔ کچھ محرکات اور اسباب ظاہری ہوتے ہیں اور کچھ خفیہ۔ جنگ ہی کو لے لیجئے اس کے کچھ اسباب فوری نوعیت کے ہوں گے کچھ کا دورانیہ ایک طویل عرصے پر محیط ہوگا۔ اصل وجوہ کچھ اور ہوتی ہیں۔ ایک عرصہ سے پس پردہ بہت سے عوامل کار فرما ہوتے ہیں فوری وجہ تو ایک بہانہ بنتی ہے۔ غزوہ بدر بھی کسی فوری اور اضطراری سوچ کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ حق وباطل کے اس معرکہ کی وجوہات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعلان نبوت سے ہجرت مدینہ تک ان گنت واقعات کے دامن میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اگرچہ چند واقعات کو اس معرکہ کی فوری وجوہات میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تصادم اسی روز ناگزیر ہو گیا تھا جس دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کفر وشرک کی آگ میں جلتے ہوئے سماج میں اعلائے کلمۃ الحق کا پرچم بلند کیا تھا۔ جس روز حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پتھر کے بتوں کی پرستش کو ترک کرکے خدائے وحدہ لاشریک کی بارگاہ میں سربسجود ہونے کی دعوت دی تھی۔ فاران کی چوٹیوں پر آفتاب ہدایت کے طلوع ہونے کے ساتھ ہی اندھیروں نے اپنی بقا کی جنگ کے لئے صف بندی کا آغاز کر دیا تھا۔ اسلام اور پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف سازشوں اور شرانگیزیوں کا سلسلہ آسل میں غزوہ بدر کا دیباچہ تھا۔ ہجرت مدینہ کے بعد جب مسلمان منظم ہونے لگے اور کفار کا یہ خدشہ کہ مسلمان ایک قوت بن کر ابھرے تو ان کا اقتدار ہی نہیں پورا نظام خطرے میں پڑ جائے گا۔ حقیقت میں تبدیل ہونے لگا تو مشرکین مکہ کے لئے مسلمانان مدینہ کے ساتھ مسلح تصاد کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا۔ تاریخ شاہد عادل ہے کہ اعلان نبوت کے ساتھ ہی اسلام کے خلاف اعلان جنگ ہوگیا تھا۔ گو اس تصاد م کا موقع پندرہ سال بعد آیا لیکن ایک عرصے سے کفار ومشرکین نفرت کا لاوا اپنے سینوں میں وحشت وبربریت کی تصویر بنے ہوئے تھے۔ اس وحشت وبربریت کا مظاہرہ کیاجاتا، کبھی مسلمانوں کو انگاروں پر لٹا کر ہوتا اور کبھی انہیں تپتی ریت پر گھسیٹنے کے غیر انسانی فعل کی صورت اسکا اظہار ہوتا۔ کبھی سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قتل کی سازش کرکے قریش اپنے خبیث باطن کا مظاہر ہ کرتے اور کبھی گھاٹی شعب ابی طالب میں خاندان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معاشرتی بائیکاٹ کرکے انتقام کی آگ کو سرد کرتے۔ لیکن یہ آگ سرد ہونے کی بجائے بھڑکتی رہی سینوں میں نفرت کا لاوا کھولتا رہا۔ ہم غزوہ بدر کے تمام ممکنہ اسباب کا جائزہ لیں گے۔ غزوہ بدر کے پس منظر میں جن اسباب کا ذکر کیا جائے گا ان کا بھی ایک پس منظر (Background) ہے، ہم پس منظر اور پیش منظر دونوں کا جائزہ لے کر اس فیصلہ کن معرکے کی حیققی وجوہات تلاش کرنے کی سعی کریں گے۔
کفار کی اسلام دشمنی

 

جس دن اعلان نبوت کے ساتھ داعی حق نے کفار ومشرکین کو دعوت حق دی تھی اسلام دشمنی کاآغاز بھی اسی روز ہوگیا تھا۔ آواز حق پر کفارکان دھرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ نئے اجالوں کو کتاب زندگی کا عنوان بنانے کی ہمت ان میں نہ تھی۔ وہ جہالت کی ردائے تار تار سے چمٹے ہوئے تھے۔ مشرکین نظام باطل کے حصار سے نکلنے پر قطعاً رضامند نہ تھے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے عقائد باطلہ کو بے نقاب کرکے توحید کا نعرہ بلند کیا اور بت پرستی کے خلاف دعوتی جدوجہد کا آغاز کیا تو کفار مکہ کے ساتھ روایات کہنہ کا علم اٹھائے پورا عالم عرب اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ مکروہ سازشوں کا ایک ایسا جال بنایا گیا جس سے نکلنے کا تصور وہی عظیم لوگ کرسکتے ہیں جنہیں اپنے نصب العین کی سچائی پر غیر متزلزل یقین ہو اور ابتلا وآزمائش کے کسی مرحلے پر بھی ان کی جبین شکن آلود نہ ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت ہر آزمائش پر پورا اترنے والی انہی نفوس قدسیہ پر مشتمل تھی۔ جنہوں نے قد م قدم پر ایثار وقربانی کی لازوال مثالیں قائم کرکے قیامت تک راہ حق کے سفر پر نکلنے والے مسافروں کو اپنے نقوش پاک کی روشنی عطا کی۔ وہ کون سا حربہ تھا جو مسلمانوں کے خلاف نہ آزمایا گیا۔ فتنہ وفساد کی آگ بھڑکا کر مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا۔ اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے اہل باطل اپنی عسکری طاقت مجتمع کرنے میں مصروف ہوگئے۔ تیرہ سالہ مکی دور اس امر پر گواہ ہے کہ کفار اسلام دشمنی میں اندھے ہو چکے تھے۔ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قتل کے منصوبے بننے لگے، شب ہجرت بھی مفسدین اس نیت سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مکان کا محاصرہ کئے ہوئے تھے وہ کسی صورت میں بھی یہ برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں تھے کہ اسلامی تحریک اپنے قدم جما سکے۔ اس لئے انہوں نے حبشہ کی جانب ہجرت کرنے والے صحابہ رضی اللہ عنہم کا پیچھا کیا اور نجاشی سے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا کہ یہ مہاجرین ہمارے مجرم ہیں انہیں ہمارے حوالے کر دیجئے۔ وہ کب برداشت کرسکتے تھے کہ مسلمان حبشہ میں جا کر سکھ کا سانس لیں یا مدینہ منورہ میں امن وسکون کے ساتھ اپنے مشن کی تکمیل کے لئے اپنی دعوتی مہم کا آغاز کریں۔
تجارتی قافلے اور جنگی بجٹ میں اضافہ

 

اہل مکہ کا سب سے بڑا ذریعہ معاش تجارت تھا۔ بڑے بڑے تجارتی قافلے گرد وپیش کی منڈیوں میں رواں دواں رہتے۔ مدینہ مین مسلمانوں کو مرکزی حیثیت ہو جانے کا انہیں بڑا قلق تھا چنانچہ مشرکین مکہ کے سردار عوام الناس کو خصوصاً نوجوانوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکاتے رہتے تھے۔ اسلام، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے پیروکاروں کے خلاف یہ نفرت جنون اور دیوانگی کی حد تک پہنچ چکی تھی۔ کفار مکہ اسلام دشمنی میں بوکھلائے ہوتے تھے۔ کفار نے تجارت کے نفع میں سے ایک مخصوص حصہ لازمی طور پر جنگی تیاریوں کے لئے مختص کرنا شروع کر دیا۔ دشمن کے تجارتی قافلوں کی ناکہ بندی پر معترض ہونے والے کیوں نہیں سوچتے کہ اس تجارت سے ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لئے ہتھیاروں کی فراہمی پر خرچ ہو رہا تھا۔ دشمن کی عسکری قوت پر کاری ضرب لگانے کے لئے دشمن کی اقتصادی ناکہ بندی کے حق سے آخر مسلمان ہی کیوں دستبردار رہتے۔ کیا انہیں اپنے دفاع میں کوئی قدم اٹھانے کا کوئی حق حاصل نہ تھا۔ مستشرقین اور معترضین یہ بھی کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہجرت مدینہ سے قبل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہید کرنے کی سازش کی گئی اور شب ہجرت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کاشانہ مبارک کو برہنہ تلواروں نے اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا۔ کیا یہ محاصرہ مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ نہ تھا۔؟ مسلمان اس وقت دفاعی پوزیشن میں تھے۔ مشرقین کی علمی خیانت کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ وہ جارحیت پسندوں کی سازشوں کی مذمت کرنے کی بجائے ان مظلومین پر طعن وتشنیع کے تیر برسانے شروع کر دیتے ہیں۔
گشتی دستوں کی نقل وحرکت

 

کفار کی جنگی تیاریوں کے پیش نظر مسلمانان مدینہ بھی چوکنے تھے اور مدینہ منورہ پر کفار کے متوقع حملہ کا جواب دینے کے لئے دفاعی تیاریوں میں مصروف تھے۔ اپنے دفاع سے غفلت بہت ہی ناخوشگوار صورتحال پیدا کرسکتی تھی۔ سپہ سالار مدینہ حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو دفاعی حکمت عملی اپنائی ماہرین جنگ اس پر انگشت بدنداں ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روایتی انداز اپنانے کی بجائے نئے زاویہ نگاہ سے دفاع مدینہ کے جملہ پہلوؤں کا جائزہ لیا اور نگران گشتی دستوں کی تشکیل کرکے دشمن کی نقل و وحرکت خصوصاً اس کی اقتصادی ناکہ بندی پر اپنی توجہ مرکوز کی اور بہت جلد اس کے حوصلہ نتائج بھی حاصل ہونا شروع ہوگئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کے داخلی استحکام اور کسی بیرونی حملہ کے امکانات کے پیش نظر مسلمانوں، یثرب کے عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جسے میثاق مدینہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ غزوہ بدر سے قبل نگران گشتی دستوں کی تواتر سے روانگی کا پتہ چلتا ہے ان میں سے صرف ایک مہم میں کفار سے مڈ بھیڑ ہوئی جس کے سربراہ حضرت عبداللہ بن حجش رضی اللہ عنہ تھے۔ (سیرۃ ابن ہشام، 1 : 601)
ایک مشرک کا قتل

 

رجب 2ھ میں حضرت عبداللہ بن حجش رضی اللہ عنہ کو آٹھ آدمیوں کے ہمران دشمن کی نقل وحرکت معلوم کرنے کی غرض سے مکہ اور طائف کے درمیان گھات لگا کر بیٹھنے کے لئے روانہ کیا گیا۔ مقام نخلہ پر مشرکین کے ایک قافلے کے ساتھ تصادم کے نتیجے میں ایک مشرک عمرو بن حضرمی مارا گیا۔ دو آدمی قیدی بنالئے گئے اور قافلے کے سامان پر قبضہ کر لیاگیا جب اس واقعہ کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخت ناراض ہوئے کیونکہ اس دستے کو لڑائی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا چنانچہ اس گشتی دستے کے اراکین سخت تشویش میں مبتلا رہے کہ معلوم نہیں ان کے خلا ف کیا کارروائی کی جاتی ہے۔
مشرکین کا معاندانہ پروپیگنڈہ

 

مشرکین مکہ خصوصا! ایک عرصہ سے مسلمانوں کے خلاف سرد جنگ شروع کئے ہوئے تھے ان کی پروپیگنڈہ مشنری ہمیشہ سرگرم عمل رہتی، کردار کشی کا ہر حربہ آزمایاگیا۔ دروغ گوئی کی انتہا کر دی گئی۔ کفار کی اشتعال انگیز کارروائیوں سے ایک جنگی جنون سا پیدا ہو چکا تھا۔ ابن حضرمی کا قتل حرمت والے مہینے میں ہوا تھا اس لئے مشرکین نے اس واقعہ کو مسلمانوں کے خلاف خوب اچھالا کہ مسلمانوں نے حرمت والے مہینوں کو بھی حلال کر لیا ہے۔ عرب قبائل کے لئے حرمت والے مہینوں کا احترام ایک جذباتی مسئلہ تھا۔ ان کے مخالفانہ پروپیگنڈے کا مقصد یہ تھا کہ رائے عامہ کو مسلمانوں کے خلاف اس قدر بھڑکا دیا جائے کہ جب وہ حملہ آور ہوں تو مدینہ شہر کے اندر سے بھی لوگ ان کے ساتھ آملیں نیز مدینہ پر حملہ کرنے کے فعل کو کوئی قابل مذمت قرار دینے والا بھی نہ ہو۔ (سیرت ابن ہشام، 1:204)
اللہ کا فیصلہ

 

مجاہدین اسلام سے حرمت والے مہینے میں کاروائی محض غلط فہمی کی بنا پر ہوئی۔ کیونکہ وہ درست اندازہ نہ لگا سکے کہ آیا حرمت والے مہینے کا آغاز ہو چکا ہے یا نہیں۔ بہرحال دشمنان اسلام نے اس واقعہ کو خوب خوب اچھالا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پروپیگنڈے کا جواب ان الفاظ میں دیا۔ ’’لوگ آپ سے حرمت والے مہینے میں جنگ کا حکم دریافت کرتے ہیں، فرما دیں اس میں جنگ بڑا گناہ ہے اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس سے کفرکرنا اور مسجد حرام (خانہ کعبہ) سے روکنا اور وہاں کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک (اس سے بھی) بڑا گناہ ہے اور یہ فتنہ انگیزی قتل وخون سے بھی بڑھ کر ہے،، (البقرہ، 2 : 217) اس آیت کریمہ کے نزول سے گشتی پارٹی کے اراکین کا ذہنی بوجھ کم ہوا۔ عالم کفراسلام پر وار کرنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتا اور سلام کی تصویر مسخ کرکے دنیا کو گمراہ کرنے کا آرزو مند ہے۔
سرد جنگ میں سرگرمی

 

مشرکین مکہ سرد جنگ میں سرگرمی سے مصروف عمل تھے۔ پروپیگنڈے کے محاذ پر جھوٹ کے پلندے اور بہتان تراشیوں کے انبار تخلیق ہو رہے تھے، سرد جنگ ہمیشہ گرم جنگ کا پیش خیمہ ہوتی ہے، آثار وقرائن بتا رہے تھے کہ کفار مکہ کا جنگی جنون گل کھلا کر رہے گا۔ حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں اپنی آمد کے فوراً بعد داخلی امن اور سیاسی استحکام کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی مشرکین مکہ سے الجھنا نہیں چاہتے تھے لیکن مذکورہ آیت کے نازل ہونے کے بعد مسلمانوں کو ایک نیا اعتماد ملا۔ باطل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے للکارنے کا شعور عطا ہوا اور ان کے حوصلوں، ولولوں اور امنگوں کو نیا بانکپن ودیعت ہوا۔ اس پس منظر میں مکہ اور مدینہ کے درمیان جاری سرد جنگ میں گرما گرمی کے آثار پیدا ہونے لگے خصوصاً نوجوانوں کا جوش وخروش دیدنی تھا۔ جذبہ شہادت سینوں میں مچلنے لگا، سر اٹھا کر چلنے کی روایت دلنواز کو مفاہیم کے نئے پیراہن پہنائے گئے اگرچہ مشرکین مکہ کو یہ احساس ہو چلا تھا کہ اب مسلمان ہمیں للکارنے اور ہمارے مد مقابل صف آراء ہونے کی پوزیشن میں ہیں لیکن وہ انتقام کی جس آگ میں جل رہے تھے اس نے ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو مفلوج کر رکھا تھا۔
دشمن کی اقتصادی ناکہ بندی

 

عربوں کی معیشت کا زیادہ تردارومدار شام کے ساتھ تجارت پر تھا اس لئے مکہ ایک تجارتی مرکز کے طورپر مشہور تھا۔ یہ تجارت عربوں کی اقتصادیات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی تھی۔ یہاںاس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ ہجرت مدینہ نہ محض ایک اتفاقی حادثہ تھا اور نہ مکہ سے فرار کی ہی کوئی کوشش تھی بلکہ یہ طویل المیعاد منصوبہ بندی کا ایک حصہ تھا، مکہ اور شام کے درمیان تجارتی شاہراہ پر مسلمانوں کے قبضہ کے بعد دشمن کی اقتصادی ناکہ بندی کرنا نسبتاً آسان ہوگیا تھا۔ حالات پر ریاست مدینہ کی گرفت مضبوط سے مضبوط ترہونے لگی۔ قریش کے قافلوں سے تعرض کے ایک نئے سلسلے کا آغاز ہوا جس کے مثبت نتائج بھی برآمد ہونے گے۔
اہل مدینہ کو مسلمانوں سے الگ تھلگ کرنے کی کوشش

 

ادھر میثاق مدینہ کے ذریعہ جن میں مسلمانوں کے علاوہ یہود ونصاریٰ بھی شامل تھے کا تعاون داخلی استحکام کے لئے بہت ضروری تھا تاکہ مدینہ منورہ کے دفاع کو نہ صرف مضبوط بنایا جائے بلکہ اپنی عسکری قوت کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر مخالف عناصر کو دشمن کا ساتھ دینے سے باز رکھا جا سکے۔ یہ حکمت وفراست مثبت نتائج بھی پیدا کر رہی تھی اور ریاست مدینہ کی حالات پر گرفت بھی بتدریج مضبوط ہو رہی تھی اور ساتھ ساتھ مدینہ کی سماجی اور اقتصادی زندگی میں بھی انہیں پذیرائی نصیب ہو رہی تھی، کفار مکہ کو یہی بات کھٹکتی تھی چنانچہ انہوں نے مدینہ منورہ کے مشرکوں، منافقوں اور یہودیوں وغیرہ کو دھمکی آمیز خط لکھنا اور انہیں مسلمانوں کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا۔ ان اشتعال انگیز کارروائیوں کے پس منظر میں مسلمان کمال حکمت سے آہستہ آہستہ تمام معاملات کواپنے ہاتھ میں لے رہے تھے کفار مکہ کی دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا اور وہ مسلمانوں کے خلاف جنگی جنون کو ہوا دے رہے تھے۔
کرز بن جابر کی چور ی اور سینہ زوری

 

دشمن اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا تھا۔ مکہ کی ایک اور اہم شخصیت کرز بن جابر نے مدینہ کی چراگاہ پر حملہ کر دیا اور مویشیوں کو اپنے ساتھ بھگا لے گیا۔ اس اشتعال انگیز کارروائی کا ایک مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو ڈرایا دھمکایا جائے کہ ہم تمہارے گھر میں آکر بھی کاروائی کرنے کی پوزیشن میں ہیں اور کسی وقت بھی مدینہ پر حملہ آور ہو کر مسلمانوں کوتباہ وبرباد کرسکتے ہیں۔
قافلہ ابوسفیان کا تعاقب

 

جیسا کہ پہلے ذکر کیا کہ اہل مکہ تجارت پیشہ لوگ تھے اور شام کے ساتھ ان کے تجارتی مراسم مدتوں سے قائم تھے۔ تجارتی قافلے مکہ اور شام کے درمیان رواں دواں رہتے، عموماً ان تجارتی قافلوں کی حفاظت کا بھی انتظام کیا جاتا۔، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع موصول ہوئی کہ ابو سفیان بن حرب ایک بہت بڑا قافلہ لے کر ملک شام کی طرف جا رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو سو مجاہدین لے کر دشمن کی اقتصادی ناکہ بندی کیلئے نکلے لیکن قافلہ جا چکا تھا۔ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو شمال کی جانب روانہ کیا گیا تاکہ وہ قافلے کی واپسی پر نظر رکھیں۔ یہ اصحاب رسول مقام ’’الحورا،، میں ٹھہر گئے جب ابو سفیان ایک ہزار اونٹوں کے قافلے کے ساتھ واپس آیا تو اس کی نگرانی پر مامور صحابہ رضی اللہ عنہ نے اس کی اطلاع فوراً مدینہ منورہ میں دی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 313 صحابہ کو لے کر 12 رمضان المبارک 2ھ کو دشمن کی رسد کاٹنے کی غرض سے مدینہ منورہ سے نکلے۔
ابوسفیان کا واویلا

 

ابوسفیان کے جاسوسوں نے اسے اطلاع دی کہ مسلمان قافلہ پر حملہ آور ہونے والے ہیں اس نے فوراً مکہ میں سرداران قریش کو اس امر کی اطلاع دی اور فوری مدد چاہی۔ راویات میں ہے کہ ابوسفیان کے ایلچی ضمضم بن عمرو غفاری نے اپنی قمیض اور بعض روایات کے مطابق اپنی چادر پھاڑ دی۔ اونٹ کاکجاوہ الٹ دیا اور قریش کو پکارا کہ ابوسفیان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کے نرغے میں ہے۔ تمہارا سامان تجارت بھی ان کے ہاتھ میں جانے والا ہے اے اہل قریش ابوسفیان کی مدد کے لئے پہنچو۔ کفار مکہ جو پہلے ہی مسلمانوں پر ادھار کھائے بیٹھے تھے مشتعل ہوگئے۔ انہوں نے ہنگامی بنیادوں پر لشکر ترتیب دیا جس میں تمام قبائل کے جنگجو افراد کو شامل کیاگیا اور اموال حاصل کئے گئے تاکہ جنگی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ مسلمانوں کے خلاف منظم ہونے والے اس لشکر میں ابولہب کے سوا تمام سردار شریک ہوئے۔ ان جنگی تیاریوں کے ساتھ ساتھ زعمائے قریش نے یہ بھی محسوس کیا کہ کہیں لشکر کی روانگی کے بعد مکہ کے دفاع کو کمزور جان کر بنوبکر مکہ پر حملہ نہ کر دیں۔ لیکن عین اس موقع پر سراقہ بن مالک ادھر آنکلا، اسلام دشمنی نے دونوں فریقوں کو متحد کر دیا اور وہ آپس کی دشمنی بھول گئے۔ سراقہ بن مالک نے قریش کو یقین دلایا کہ ہم اس موقع پر کوئی شرارت نہیں کریں گے۔ آپ اطمینان سے مسلمانوں کے ساتھ دودوہاتھ کریں۔ یہ یقین دہانی حاصل کرنے کے بعد قریش کی جنگی تیاریوں کو آخری شکل دی جانے لگی اور ان کا جوش وخروش جنون کی آخری حدوں کو چھونے لگا۔ حسن، رقابت اور انتقام کی آگ چاروں طرف روشن تھی۔ باطل مادی وسائل کی کثرت پر اتر رہا تھا۔ مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا زور و شور سے جاری تھا۔ یہ واویلا اس لئے مچایا جا رہا تھا کہ قافلہ تجارت کے ساتھ جس جس کے مالی مفادات وابستہ تھے یا جو قبائل مسلمانوں سے نفرت کرتے تھے ان قبائل اور خاندانوں کا کوئی فرد اس لشکر میں شامل ہونے سے نہ رہ جائے اور سب مل کر اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے قدم سے قدم ملا کر ایک ساتھ بڑھیں۔ (البدایہ والنہایہ، 3 : 257)
چند ایمان افروز واقعات

 

انسانی تاریخ گوا ہ ہے کہ روزمرہ زندگی میں ایسے محیرالعقول واقعات بھی رونما ہوئے ہیں عقل جن کی توجیہ کرنے سے قاصر رہتی ہے، سوچ جن کے بارے میں سوچ سوچ کر ماؤف ہو جاتی ہے اور سائنس انہیں اتفاقات کا نام دیکر اپنا دامن چھڑا لیتی ہے لیکن روحانی دنیا میں یہ بظاہر خلاف عقل واقعات کسی استعجاب اور حیرت کا باعث نہیں بنتے کیونکہ اللہ کی ربوبیت اور الوہیت کو اپنے ایمان وایقان کی بنیاد بنانے والے اپنی ہرسوچ کو مشیت ایزدی کے تابع کر دیتے ہیں وہ اس کائنات رنگ و بوکے اس خالق کی پرستش کرتے ہیں جس کے اذن سے ہوائیں سفر کرتی ہیں اور جس کے حکم سے بنجر زمینوں کو شاداب ساعتوں کا لمس عطا ہوتا ہے جو ہر ذی روح کی ایک ایک سانس کا مالک ہے جو حیی بھی ہے اور قیوم بھی، جو علیم بھی ہے اور خبیر بھی، جو جبار بھی ہے اور قہار بھی اور جو رحیم بھی ہے اور کریم بھی۔ یہی احساس انہیں ایمان کی دولت سے نوازتا ہے اور وہ ان محیرالعقول واقعات کو کرشمہ خداوندی سمجھ کر من وعن قبول کر لیتے ہیں اور یہی ایمان کی معراج ہے۔ غزوہ بدرمیں اللہ کی مدد اور نصرت کو آسمانوں سے اترے ہوئے اہل ایمان نے ہی نہیں دیکھا بلکہ مشرکین مکہ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن بھی اس تائیدغیبی کے عینی شاہد ہیں۔
پرسکون نیند

 

انسان کا ذہن اگر منتشرہو یا اس پر حالات کا دباؤ ہو تو وہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے اور اس کی نیند ختم ہو جاتی ہے، میدان جنگ میں جہاں جان کے لالے پڑے ہوں، موتر سامنے رقص کر رہی ہو تو خوف کی لہر خون میں سرایت کر جاتی ہے اور بہادر سے بہادر انسان کا پتہ بھی پانی ہونے لگتا ہے اور اس کی راتوں کی نیند حرام ہو جاتی ہے لیکن چشم فلک نے دیکھا کہ میدان بدر میں اسلامی لشکر کے سپہ سالار اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جاگ رہے ہیں اور اپنے مالک کے حضور گڑگڑا کر التجائیں کر رہے ہیں، فتح وکامرانی کی دعائیں مانگ رہے ہیں لیکن وہ اسلامی لشکر جس نے صبح باطل کے ایوانوں میں زلزلہ بپا کرنا ہے جس نے مشرکین مکہ کے گھمنڈ کو خاک میں ملانا ہے اور جس نے باب حریت کا نیا عنوان رقم کرنا ہے نیند کے گہرے سمندر میں ڈوبا ہوا ہے، یہ نہیں کہ انہیں حالات کی نزاکت کا اندازہ نہیں وہ تو مدینے کے دفاع میں پوری پوری رات پہرہ دیتے رہے ہیں، یہ بھی نہیں کہ وہ خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں یہ بھی نہیں کہ ان کے پاس اتنی افرادی قوت ہے یا وسائل جنگ کی اتنی فراوانی ہے کہ وہ دشمن کو خاطر میں ہی نہیں لاتے، البتہ اتنا ضرور ہے کہ انہیں ایمان کی دولت نصیب ہے، تائید خداوندی پر مکمل بھروسہ ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور جسے چاہتا ہے زندگی عطا کرتا ہے، عزت، ذلت سب اسی کے ہاتھ میں ہے، یہ طمانیت، یہ وقار اور یہ سکون ایمان کی عطا ہے، یہ میٹھی نیند عطیہ خداوندی ہے، اللہ نے اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم ساتھیوں پر پُرسکون نیند اتار دی ہے، جاگنے کی کوشش کے باوجود لشکریوں کی آنکھیں بند ہونے لگتی ہیں لیکن دوسری طرف دشمن اضطراب وبے چینی کی کیفیت سے دوچار ہے، جب حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عمار بن یاسر دشمن کی نقل وحرکت کی خبریں لے کر واپس آتے ہیں تو بیان کرتے ہیں کہ کفار تو ڈرکے مارے کسی گھوڑے کو بھی ہنہنانے نہیں دیتے، حضرت زبیر فرماتے ہیں کہ کفار میری نیند کا یہ حال تھا کہ اٹھنے کی کوشش کرتا لیکن نیند کے باعث پھر سو جاتا، حضرت سعد بن ابی وقاص کا کہنا ہے کہ وہ بھی نیند میں بے ہوش تھے اٹھنے کے لئے کروٹ بدلتے تو دوسری طرف گر جاتے، اس کیفیت کو قرآن مجید نے یوں بیان کیا ہے۔ ’’جب اس نے اپنی طرف سے (تمہیں) راحت وسکون (فراہم کرنے) کے لئے تم پر غنودگی طاری فرما دی اور تم پر آسمان سے پانی اتارا تاکہ اس کے ذریعے تمہیں (ظاہری وباطنی) طہارت عطا فرما دے اور تم سے شیطان (کے باطل وسوسوں ) کی نجاست کو دور کر دے اور تمہارے دلوں کو (قوت قین ) سے مضبوط کر دے اور اس سے تمہارے قدم (خوب) جما دے۔ (الانفال،8 : 11)نتیجہ اس خدائی مدد کا یہ نکلا کہ مسان جب صبح نماز کے لئے اٹھے تو تازہ دم تھے چاک وچوبند اور پوری طرح بیدار، لیکن ساری رات سونے جاگنے کی کیفیت میں رہنے والا لشکر کفار صبح ہوئی تو شام کی طرح شاخ وقت پر مرجھایا ہوا تھا۔
شیطانی وساوس کا علاج:

 

میدان بدر میں شیطان لشکر کفار کا نمائندہ بن کر پوری طرح متحرک تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ تاریخ کے اس فیصلہ کن موڑ پر اگر مشرکین مکہ شکست کھا گئے تو پھر اسلام کی آفاقی تعلیمات کے فروغ کو دنیا کی کوئی طاقت نہ روک سکے گی اور پوری ندیا پر توحید کا پرچم لہرانے لگا اس لئے وہ مجاہدین کے دلوں میں وسوسے ڈالنے لگا اور انہیں ورغلانے کے لئے طرح طرح کی ترغیبیں دینے لگا اور شکوک وشبہات پیدا کر کے ان کے ایمان کو متزلزل کرنے لگا کیونکہ کفار نے پہلے پہنچ کر پانیوں پر قبضہ کر لیا تھا اور مسلمانوں کو ہر مرحلے پر دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا شیطان نے موقع غنیمت جانا اور بعض مسلمانوں کے دلوں میں وسوسہ پیدا کر دیا کہ ساری سہولتیں اور مراعات دشمنان دین کو حاصل ہے اور ہم مسلمان پانی کو بھی ترس رہے ہیں، اللہ تعالی نے بغیر ظاہری آثار کے بارش کر دی جس کے نتیجے میں پانی کی قلت دور ہو گئی اور جنگی نقطہ نظر سے خاصا فائدہ ہوا کہ کفار کی طرف والی زمین دلدل میں تبدیل ہو گئی لہذا ان کے لئے جم کر لڑنا مشکل ہو گیا، مسلمان اور نچائی پر تھے اس طرف کی ریت جم گئی اور اونٹوں کے پاؤں جو پہلے ریت میں دھنس جاتے تھے اب زمین پر اچھی طرح جمنے لگے، قدرت خداوندی کہ ابلیس کی ہر چال ناکام ہو گئی اور مسلمان ایمان کی دولت سے مالامال دشمن پر تابڑ توڑ حملے کرنے لگے۔
عاتکہ کا خواب:

 

کفر اور استحصال پر مبنی نظام کی حفاظت کرنے والے جابر اور قہار ٹولے کو اطمینان قلب کی دولت کبھی نصیب نہیں ہوتی، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امین اور صادق کہہ کر پکارنے والے اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان کے دشمن بن گئے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس فرسودہ اور بیہودہ نظام حیات کو للکارا تھا جس کی زنجیروں میں عالم عرب ہی نہیں کم وبیش دنیا کا ہر خطہ جکڑا ہوا تھا۔ ضمیر کی خلش اس نظام خبیثہ کے علمبرداروں کو ہمیشہ بے چین ومضطرب رکھتی ہے یہ حق کو حق اور روشنی کو روشنی جان کر بھی اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں، مصلحتوں کی زنجیروں میں بندھے ہوئے مفادات کے یہ قیدی خود فریبی کے حصار سے باہر آنے کی جرات ہی نہیں کر سکتے، جزیر ۃ العرب کے کفار ومشرکین حتی کہ اہل کتاب بھی اپنے گرد کھچے ہوئے تحفظات کے ان گنت دائروں کو عبور کرنے کی ہمت نہ کر سکے، البتہ ضمیر کی یہ خلش، ان کے ذہنی کرب میں مختلف انداز میں ظہور پذیر ہوتی رہی، کبھی خوابوں کی صورت میں اور کبھی انجانے خوف کی شکل میں، دشمنان اسلام پر نفسیاتی دباؤ بڑھ رہا تھا، غزوہ بدر سے پہلے ابوسفیان کے تجارتی قافلہ کو لاحق ہونے والے خطرات کے حوالے سے خوب افواہیں پھیلائی گئیں اور اہل مکہ کو خصوصاً نوجوانوں کے جذبات مشتعل کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ رکھا گیا لیکن یہ خبر مکہ پہنچنے سے تین دن قبل عاتکہ نے حضرت عباس بن عبدالمطلب کو بلا کر رازداری سے اپنا خواب بتایا اور کہا کہ قوم قریش پر آفت آنے کا خوف محسوس کر رہی ہوں۔ اس نے اپنے بھائی کو بتایا کہ میں نے خواب میں ایک شتر سوار کو دیکھا کہ وہ وادی بطحا میں آ کر پکارتا ہے۔ ’’اے دھوکے بازو! تین دن کے اندر اپنی قلت گاہوں کی طرف دوڑ کر آؤ،، (البدایہ والنہایہ، 3 : 256۔ 257) عاتکہ نے اپنا بیان جاری کرتے ہوئے کہا بھائی! میں نے اس اونٹ کو کعبے کی چھت پر دیکھا۔ اس نے یہی نعرہ لگایا، میں نے اسے جبل ابی قبیس پر دیکھا۔ وہاں بھی شتر سوار نے یہ الفاظ دہرائے اور ایک چٹان نیچے لڑھکا دی، جو نیچے آ کر پھٹی تو اس کے ٹکڑے ہر گھر تک پہنچے، حضرت عباس بن عبدالمطلب نے کہا کہ بہن واقعی یہ ایک عجیب وغریب خواب ہے ہمیں کسی سے بھی اس کا ذکر نہیں کرنا چاہئے، لیکن عباس بن عبدالمطلب کو راستے میں ان کا ایک دوست ولید مل گیا انہوں نے اس سے عاتکہ کے خواب کا ذکر کیا، ولید نے اپنے باپ کو خواب کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور ہوتے ہوتے یہ تفصیلات عمائدین مکہ کے کانوں تک بھی پہنچ گئیں شام کو ابوجہل نے حضرت عباس کو مخاطب کر کے طنزاً کہا۔ ’’اے عبدالمطلب کی اولاد ! تم اس پر مطمئن نہیں ہوئے کہ تمہارے اندر ایک نبی پیدا ہو اور اب تمہاری عورتوں نے بھی نبوت کا دعوی کرنا شروع کر دیا ہے۔،، ابوجہل مردود نے دھمکی دی کہ ہم تین دن تک انتظار کریں گے اگر اس خواب کی سچائی ظاہر نہ ہوئی تو ہم ہر جگہ منادی کر دیں گے کہ تمہارا گھرانہ سب سے جھوٹا گھرانہ ہے۔ جب حضرت عباس رضی اللہ عنہ گھر لوٹے تو گھر کی خواتین نے ابوجہل کی ہرزہ سرائی کے حوالے سے انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ ’’اس سے قبل جب ابوجہل مردوں پر الزام لگاتا رہا اور تم لوگ برداشت کرتے رہے اب اس کا رخ تمہاری عورتوں کی طرف ہو گیا ہے تم میں ذرا بھی غیرت وحمیت کا مادہ نہیں رہا کہ اس لعین کی بہتان تراشیوں کا منہ توڑ جواب دے سکو،، حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ گفتگو سن کر میں نے اگلے دن ابوجہل سے بدلہ لینے کا فیصلہ کر لیا۔ میں مسجد حرام میں داخل ہوا تو ابوجہل باہر کی طرف بھاگا جا رہا تھا۔ ادھر ضمضم اہل مکہ کو پکارا رہا تھا کہ مسلمان تمہارے تجارتی قافلے پر حملہ کرنے والے ہیں، ابوسفیان کے ایلچی کی پکار پر اہل مکہ کا جنگی جنون اپنی انتہا کو پہنچ گیا اور ابوجہل مشتعل ہو کر مسلمانوں پر کاری ضرب لگانے کے لئے مختلف قبائل کی قوت منظم کر رہا تھا اسے اب وہ آخری شکل دینے کے لئے کمربستہ ہو گیا حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کے بعد اس موضوع پر مزید گفتگو نہ ہو سکی البتہ لوگ عاتکہ کے خواب سے اچھے خاصے پریشان دکھائی دیتے تھے۔
غزوہ بدر میں ابلیس کی سرگرمیاں

 

ابلیسی قوتیں سفرانقلاب کے سپاہیوں کی راہ میں ہمیشہ رکاوٹیں کھڑا کرتی رہی ہیں باطل کی پشت پناہی پر ہمیشہ شیطانی سوچ کار فرما ہوتی ہے، غزوہ بدر میں بھی ابلیس لعین ہاتھ پر ہاتھ دہرے بیٹھا نہیں رہا، ایک طرف تو یہ کفارومشرکین کو مشتعل کر کے آمادہ جنگ کرتا رہا تو دوسری طرف مجاہدین اسلام کے دلوں میں بھی وسوسے ڈال کر قصر ایمان ویقین کی بنیادوں کو متزلزل کرنے کی سعی رائیگاں میں مصروف رہا، جب قریش بے سروسامانی کے عالم میں نکلے ہوئے مسلمانوں کی جائے پناہ ثابت ہونے والی سرزمین پر شب خون مارنے کی تیاریاں کر رہے تھے تو اس وقت قریش کے رؤسا نے سوچا کہ بنی کنانہ سے ان کی دشمنی چل رہی ہے لیکن ہماری عدم موجودگی میں وہ مکہ پر حملہ نہ کر دیں لیکن ابلیس، جو ہر قیمت پر چاہتا تھا کہ کفار مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوں اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا ابلیسی کا رنامہ سرانجام دیں سراقہ بن مالک کی شکل میں نمودار ہوا اور اس نے اکابرین قریش کو پوری تسلی دی کہ میں ضامن ہوں آپ کی عدم موجودگی میں بنو کنانہ مکہ پر حملہ نہیں کریں گے بلکہ وہ تو تمہاری مدد کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں اس طرح بنوکنانہ کی طرف سے یہ اطمینان ہو جانے کے بعد کہ وہ ہمارے بعد کوئی شرارت نہیں کریں گے قریش کی جنگی تیاریوں میں مزید تیزی آ گئی۔ میدان کارزار میں اللہ تعالی نے فرشتوں کے ذریعے اپنی مدد ونصرت اتار دی اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا اور یوم بدر کو یوم الفرقان کے نام سے تعبیر کیا، ابلیس لعین مشرکین مکہ کی مدد میں مشغول تھا جب فرشتوں کو قطار اندر قطار اترتے دیکھا تو اس نے ایک زور دار چیخ ماری اور بھاگ کھڑا ہوا۔ جب حارث بن ہشام نے اسے بھاگتے ہوئے دیکھا تو پکڑ کر کہا کہ اے سراقہ! ہمیں جنگ میں اکیلا چھوڑ کر اب کہاں بھاگ رہے ہو، حارث نے اسے اصلی سراقہ سمجھا تھا حالانکہ یہ سراقہ کے روپ میں ابلیس لعین تھا، ابلیس نے حارث کو ایک زور دار مُکہ رسید کیا اور سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ نکلا، بھاگتے ہوئے وہ مردود کہہ رہا تھا جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا۔ ’’بیشک میں تم سے بیزار ہوں یقیناً میں وہ (کچھ) دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھتے بے شک میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔،،(الانفال، 8 : 48)
غزوہ بدر کے اثرات ونتائج

 

غزوہ بدر کی جغرافیائی، سیاسی، معاشی، تہذیبی، ثقافتی اور تمدنی زندگی ہی میں انقلاب آفریں تبدیلیوں کا باعث نہیں بنا بلکہ اس نے تاریخ انسانی کے سفر ارتقاء کو مختلف حوالوں اور مختلف جہتوں سے نہ صرف یکسر بدل کے رکھ دیا بلکہ تعلیمات اسلامی نے علمی، فکری اور اعتقادی دنیا کو ابہام وتشکیک کی گرد سے پاک کرکے عدل وانصاف کی حکمرانی کے شعور کو پختہ کیا اگر خدانخواستہ اس جنگ میں فرزندان توحید کو شکست ہو جاتی اور باطل حق پر غالب آ جاتا تو میدان بدر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دعاؤں میں جس خدشے کی طرف اشارہ فرمایا تھا کہ پھر روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ ہوگا اور یہ کہ تیرا دین قائم نہ ہوسکے گا۔ وہ ظاہر ہو جاتا تو آج کرہ ارض پر نہ انسانی حقوق کا نام لینے والاکوئی ہوتا اور نہ جمہوری معاشروں کی تشکیل کا تصور ہی ذہنوں میں جنم لیتا نہ امن عالم کے خواب کی تعبیر ملتی اور نہ انسان کے پاؤں میں خود ساختہ خداؤں کی غلامی کی صدیوں سے پڑی زنجیریں ہی کٹ سکتیں۔
اہل مکہ پر مسلمانوں کی فتح کے اثرات

 

غزوہ بدر میں مسلمانوں کی شاندار اور باوقار فتح کے اثرات فوری طور پر اہل مکہ پر مرتب ہوئے اور قدرتی طور پر ایسا ہونا بھی چاہیے تھا اس عبرتناک شکست نے مشرکین مکہ کے غرور کو خاک میں ملا دیا، ان کا پندارِ آرزو ٹوٹا تو یہ اپنی ہی نظروں میں ذلیل و رسوا ہوگئے۔ اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف جنگی جنون کو انتہا تک لے جانے والے کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے۔ قریش کی عسکری اور سیاسی شہرت کا خاتمہ ہوگیا۔ مکہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہید کرنے کی سازش کرنے والے چودہ میں سے گیارہ سردار مارے گئے۔ باقی تین سرداروں نے اسلام قبول کرلیا۔ اس شرمناک شکست سے دوچار ہونے کے باوجود انہوں نے کوئی سبق حاصل نہ کیا۔ ان کی آتش انتقام ٹھنڈی نہ ہوسکی۔ کچھ عرصہ تو قریش جنگ میں کام آنے والوں کے فراق میں غم سے نڈھال رہے اور ماتم کی ممانعت کے باوجود صف ماتم بچھی رہی۔ ذرا سنبھلے تواس شکست کا بدلہ لینے کے لئے پرپرزے نکالنے لگے اور اپنی بکھری ہوئی قوت کو جمع کرنے لگے۔ احساس شکست سے ان کے جنگی جنون میں اضافہ ہوگیا۔ یہ اپنے زخم چاٹتے اور اسلام کے خلاف ازسرنو صف بندی کرنے لگے۔ قریش کے روسا کے مختلف اجلاس ہوئے جن میں فیصلہ کیاگیا کہ شکست کا داغ دھونے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر بھرپور تیاری کی جائے تاکہ اسلام پر فیصلہ کن ضرب لگائی جا سکے۔ شکست خودرہ قریش نے اپنا غصہ مکہ میں مقیم مسلمانوں پر نکالنا شروع کر دیا اور ان کا سانس لینا تک دو بھر کر دیا۔ اسلام کے دامن رحمت میں آنے والے نئے مسلمان اپنے ایمان کو خفیہ رکھنے پر مجبور تھے کہ کسی وقت بھی قریش کا غیظ وغضب بن کر ٹوٹ سکتا ہے۔ غزوہ بدر میں شکست سے قریش کی تجارتی سرگرمیاں بھی خاصی متاثر ہوئیں لیکن وہ بدستور بغض وعناد کی آگ میں جلتے رہے، امن وآشتی اور صلح کے الفاظ ان کی لغت میں تھے ہی نہیں۔
اہل مدینہ کے لئے مژدہ جانفزا

 

غزوہ بدر میں مسلمانوں کی کامیابی وکامرانی کا مژدہ جانفزا شہر خنک کے باسیوں کے لئے خوشگوار موسموں اور شاداب ساعتوں کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ ریاست مدینہ کو داخلی طور پر ہی نہیں خارجی طور پر بھی استحکام ملا۔ بے سروسامانی کے عالم میں ابلیسی طاقتوں سے ٹکرا جانے والے اہل ایمان کو ایک نئے حوصلے اور ایک نئے ولولے سے نوازا گیا۔ اعتماد کی روشنی ان کے چہروں پر نئے دنوں کا منظر نامہ تحریر کرنے لگی۔ غزوہ بدر حق وباطل کی معرکہ آرائی میں ایک فیصلہ کن موڑ تھا مسلمانوں کو کفار پر نفسیاتی برتری بھی حاصل ہوئی اور انہیں اپنی ثقافتی اکائی کے تحفظ کے لئے نئے اقدامات کے بار ے میں عزم وعمل کے نئے دروازوں پر دستک دینے کا ہنر بھی عطا ہوا۔ مدینہ منورہ کے آسمان سے خوف وہراس کے بادل چھٹ گئے۔ مدینہ منورہ کی غیرمسلم قوتیں اب کھلم کھلا اسلام دشمنی کا مظاہرہ نہیں کرسکتی تھیں۔ منافقین مکہ کی امیدوں پر اوس پڑ گئی۔ عبداللہ بن ابی کی سرکردگی میں بظاہر جو چند ایک لوگوں نے اسلام قبول کرلینے ہی میں اپنی عافیت سمجھی۔ درپردہ سازشوں میں مصروف ہوگئے۔ مسلمانوں کی جاسوسی کرکے اسلام دشمن قوتوں سے رابطے استوار کرنے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہید کرکے منصوبے بنانے لگے۔ غزوہ بدر میں فتح کے بعد مسلمانوں کو معاشی، عسکری اور سیاسی حوالے سے بے پناہ فوائد حاصل ہوئے اور وہ تمکنت اور وقار کے ساتھ نئے مسلم معاشرے کی تعمیر میں مصروف ہوگئے۔
دنیائے یہود میں رد عمل

 

مدینہ اور مدینہ کے مضافات میں آباد یہود قبائل نے غزوہ بدر میں مسلمانوں کی عظیم فتح کی خبر پر حیرت، خوف اور نفرت کے ملے جلے جذبات کا اظہار کیا۔ وہ کیسے گوارا کر سکتے تھے کہ مدینہ کی نوزائیدہ مملکت کو سیاسی، معاشی اور عسکری حوالے سے استحکام نصیب ہو۔ انہوں نے قدرتی طور پر غزوہ بدر کے انجام پر منفی ردعمل ظاہر کیا۔ تاہم جن کے دلوں میں حرف حق کی تلاش کی ذرا سی بھی جستجو تھی اور اپنی کتب میں نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کے بارات میں درج تمام نشانیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے انہوں نے بخوشی اسلام قبول کر لیا تاہم اس حوالے سے کسی نے بھی ان کے ساتھ کو ئی تعرض نہ رکھا کیونکہ مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق دین میں کوئی جبر نہیں۔ چنانچہ یہود پر بھی کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالاگیا یہی وجہ تھی کہ یہودیوں کی بڑی تعداد اپنے سابقہ دین پر قائم رہی۔ اسلام قبول کرنے والے یہودیوں میں کچھ نے تو دل کی گہرائیوں سے اسلام کو اپنی روح کا حصہ بنایا اور چند ایک ایک نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی جڑیں کاٹنے کا گھناؤنا کاروبار شروع کر دیا۔ میثاق مدینہ کے مطابق یہود اس بات کے پابند تھے کہ وہ مدینہ منورہ پر حملہ کی صورت میں مسلمانوں کے ساتھ مل کر شہر رسول کا دفاع کریں گے۔ لیکن یہودیوں نے اس معاہدے کی خلاف ورزی شروع کر دی۔ کعب بن اشرف تو کھلی دشمنی پر اتر آیا۔ کفار کی شکست پر افسوس کا اظہار کیا۔ یہودی درپردہ ہی نہیں اعلانیہ طور پر مشرکین مکہ کو امداد کی پیش کش کرنے لگے کہ وہ آئیں اور اپنی شکست کا بدلہ لیں۔ ہم ہر طرح سے معاونت کریں گے۔ روز بروز ان کی سرکشی میں اضافہ ہونے لگا۔ ان کا یہ باغیانہ رویہ مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف تھا۔
مسلمانوں کی فتح کا دیگر قبائل پر اثر

 

عرب کے دیگر قبائل نے بھی مسلمانوں کی فتح کی خبرکو خوش دلی سے قبول نہیں کیا وہ بھی ان گنت تحفظات کا شکار ہوگئے۔ بعض قبائل کی گذر اوقات ہی لوٹ مار پر ہوتی تھی۔ تجارتی قافلے بھی ان کی دستبرد سے محفوظ نہ تھے انہیں یہ خدشہ لاحق تھا کہ اگر مسلمانوں کی حکومت کو استحکام ملا اور یہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہوگئی تو یہ سب سے پہلے اللہ کی حاکمیت اور اس کے قانون کی بالادستی کے لئے اقدامات کرے گی۔ انہیں یہ بھی ڈر تھا کہ اسلامی حکومت ترجیحی بنیادوں پر امن وامان قائم کرکے لاقانونیت اور دہشت گردی کا خاتمہ کرے گی اس طرح ان کی لوٹ مار کی راہیں مسدود ہوجائیں گی۔ مذہبی ہی نہیں سیاسی اور معاشی لحاظ سے بھی جزیرہ نمائے عرب میں فوقیت حاصل تھی یہ لوگ بنیادی طور پر تاجر پیشہ تھے دیگر قبائل کے مفادات ان سے وابستہ تھے اس لئے قریش کی عسکری، سیاسی اور نفسیاتی شکست ان کے لئے بھی سوہان روح بن گئی۔ غزوہ بدر میں ذلت آمیز شکست سے قریش کی سیاسی، مذہبی اور معاشی قیادت کے بت پر کاری ضرب پڑی اور معاشرے پر قریش کی گرفت اتنی مضبوط نہ رہی جتنی پہلے تھی۔ ان کی مذہبی حیثیت بھی متاثر ہوئی لیکن قبائل مذہبی حیثیت کو اتنی اہمیت نہیں دیتے تھے ان کا سارا زور مالی مفادات پر تھا۔ اس لئے ان کی وفاداریاں بھی اپنے مفادات کے مطابق تبدیل ہوتی رہتی تھیں۔

:::: کِتَا بُ الصَّوم ::: روزہ ::::

:::: کِتَا بُ الصَّوم ::: روزہ ::::

بہتر رزلٹ میں دیکھنے کے لیے یہاں کلک کیجئے

1

ترجمہ :: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب ماہ ِ رمضان شروع ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیںاور ایک اور روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیںاور شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیے جاتے ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ۔(بخاری و مسلم )
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ ::
کشادہ شدن درہائے آسمان کنایت ست از پیاپے فرستادن رحمت و صعود اعمال بے مائع واجابت دعا۔ وکشادہ شدن درہائے بہشت از بذل توفیق و حسن قبول ۔ و بستہ شدن درہائے دوزخ از تنزیہہ نفوس روزہ داران از آلودگی فواحش و تخلص از بوا عث معاصی و قمع شہوات و درزنجیر کردن شیاطین از بستہ شدن طرف معاصی وو سادس ( اشعہ اللمعات جلد دوم صفحہ 72 )
یعنی :: آسمان کے دروازے کھول دیے جانے کا مطلب ہے پے در پے رحمت کا بھیجا جانا اور بغیر کسی رکاوٹ کے بارگاہ ِا لہٰی میں اعمال کا پہنچنا اور دعا کا قبول ہونا اور جنت کے دروازے کھول دیے جانے کا معنی ہے نیک اعمال کی توفیق اور حسن ِ قبول عطا فرمانا ۔اور دوزخ کے دروازے بند کیے جانے کا مطلب ہے روزہ داروں کے نفوس کو ممنوعات شرعیہ کی آلودگی سے پاک کرنا اور گناہوں پر ابھارنے والی چیزوں سے نجات پانا اور دل سے لذتوں کے حصول کی خواہشات کا توڑنا اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیے جانے کا معنی ہی ہے بُرے خیالات کے راستوں کا بند ہوجانا۔
2
۰ ترجمہ :: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی امید سے روزے رکھے گا تو اس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رمضان کی راتوں میں قیام یعنی عبادت کرے گا و اس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے اور ایمان کے ساتھ ثواب حاصل کرنے کی غرض سے شب قدر میں قیام کرے گا و اس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے ( بخاری ۔ مسلم )
3
۰ ترجمہ :: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب ماہ ِ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین و سرکش جن قید کرلیے جاتے ہیںاور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں(پھر رمضان بھر)ان میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتااور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی دروازہ بن نہیں کیا جاتا اور منادی پکارتا ہے کہ اے خیر کے طلب کرنے متوجہ ہوجا اور اے برائی کا ارادہ رکھنے والے ! برائی سے باز رہ ،اور اللہ بہت سے لوگوں کو دوزخ سے آزاد کرتا ہے اور ہر رات ایسا ہی ہوتا ہے ۔
( ترمذی ۔ ابن ماجہ )
4
۰ ترجمہ :: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان آیا یہ برکت کا مہینہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے تم پر فرض کیے ہیں ،اس میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیںاور سرکش شیاطین کو طوق پہنائے جاتے ہیں اور اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو اس کی برکتوں سے محروم رہا وہ بے شک محروم رہا ۔( احمد ۔نسائی ۔مشکوٰۃ)
5
۰ ترجمہ ::حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے آخر میں و عظ فرمایا ۔اے لوگو ! تمہارے پاس عظمت والا برکت والا مہینہ آنے والا ہے ، وہ مہینہ جس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس کے روزے اللہ تعالیٰ فرض کیے اور اس کی رات میں قیام کرنا (نماز پڑھنا )قطوع یعنی نفل قراردیا ہے جو اس میں نیکی کا کوئی کام یعنی نفل عبادت کرے تو ایسا ہے جیسے اور مہینوں میں فرض ادا کیا اور جس نے ایک فرض ادا کیا تو ایسا ہے جیسے اور دنوں میں ستر فرض ادا کیے یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے ، اور یہ غم خوری کا مہینہ ہے ،اور اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھا یا جاتا ہے جو اس میں روزہ دار کو افطار کرائے اس کے گناہوں کے لیے مغفرت ہے اور اس کی گردن دوزخ سے آزاد کردی جائے گی اور اس میں افطار کرانے والے کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا روزہ رکھنے والے کو ملے گا بغیر اس کے کہ اُس کے ثواب میں کچھ کمی واقع ہو ، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں کا ہر شخص وہ چیز نہیں پاتا جس سے روزہ افطار کرائے ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا یہ ثواب اس شخص کو بھی دے گا جو ایک گھونٹ دودھ یا ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے افطار کرائے اور جس نے روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا ا س کو اللہ تعالیٰ میرے حوض کوثر سے سیراب کریگا کبھی پیا سا نہ ہوگا ،یہاں تک کہ جنت میں داخل ہوجائے گا یہ وہ مہینہ ہے کہ جس کا ابتدائی حصہ رحمت ہے اورا س کا درمیانی حصہ مغفرت ہے اور اس کا آخری حصہ جہنم سے آزادی ہے ۔اور جو اپنے غلام پر اس مہینے میں تخفیف کرے یعنی کام لینے میں کمی کردے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا اور جہنم سے آزاد فرمائے گا (بیہقی )
6
۰ ترجمہ:: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کی اخیر رات میں اس امت کی مغفرت ہوتی ہے ، عرض کیا گیا کیا وہ شب قدر ہے ؟ فرمایا نہیں ، لیکن کام کرنے والوں کو اس وقت مزدوری پوری دی جاتی ہے ، جب وہ کام پورا کرلے ۔(احمد )
7
۰ ترجمہ :: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو روزہ کی حالت میں قے آجائے اس پر قضا واجب نہیں ۔ اور جو قصدََا قے کرے اس پر قضا واجب ہے ۰ ( ترمذی ۔ ابودائود )
8
۰ ترجمہ :: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص (روزہ رکھ کر ) بری بات کہنا اور اس پر عمل کرنا ترک نہ کرے تو خدائے تعالیٰ کو اس کی پرواہ نہیں کہ اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے ۔ (بخاری )
اس حدیث کے تحت حضر ت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ::
ایں کنایت از عدم یعنی مقصود از ایجاب صوم و شرعیت آں ہمیں گرسنگی و تشنگی نیست بلکہ کسر شہوت و اطفائے نائرہ نفسانیت است تا نفس ازا مارگی بر آید و مطمئنہ کردد۔
یعنی مطلب یہ کہ روزہ قبول نہ ہوگا اس لیے کہ روزہ کے مشروع اور واجب کرنے کا مقصد یہی ہے بھوک اور پیاس نہیں بلکہ لذتوں کی خواہشات کا توڑنا اور خود غرضی کی آگ کو بجھانا مقصود ہے تاکہ نفس خواہشات کی جانب راغب ہونے کے بجائے حکم الہٰی پر چلنے والا ہوجائے ۔( اشعۃ اللمعات جلد دوم صفحہ 85 )
9
۰ ترجمہ :: حضرت سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ نے کہا حضور ﷺ نے فرمایا جس شخص کے پاس ایسی سواری ہے جو آرام سے منزل تک پہنچادے تو اس کو چاہیے کہ روزہ رکھے جہاں بھی رمضان آجائے ۔ (ابودائود )
10
۰ ترجمہ :: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے (شرعی )مسافرسے آدھی نماز معاف فرمادی (یعنی مسافر چار رکعت والی فرض نماز دو پڑھے ) اور مسافر ،دودھ پلانے والی ، اور حاملہ عورت سے روزہ معاف کردیا ( یعنی لوگوں کو اجازت ہے کہ اس وقت روزہ نہ رکھیں بعد میں قضا کرلیں ۔(ابودائود ۔ترمذی )
حضر ت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ ::
افطار مرمرضع و حبلی را بر تقدیر ے است کہ اگر زیاں کند بچہ را یا نفس ایشاں را ۔
(اشعۃ اللمعات جلد دوم صفحہ 94 )
یعنی دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت صرف اس صورت میں ہے کہ بچہ کو یا خود اس کو روزہ سے نقصان پہنچے ورنہ رخصت نہیں ہے۔
11
۰ ترجمہ :: حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے رمضان کا روزہ رکھا پھرا س کے بعد چھ روزے شوال کے رکھے تو اس نے گویا ہمیشہ روزہ رکھا ۔ (مسلم )
12
۰ ترجمہ :: حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول ِ کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے خدائے تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ عرفہ کے دن کو روزہ ایک سال اگلے اور ایک سال پچھلے کا گناہ دور کردے گا ۔ (مسلم )
واضح ہو کہ عرفہ کا روزہ میدان عرفات میں منع ہے (بہار شریعت )
13
۰ ترجمہ :: حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے فرما یا کہ چار چیزیں ہیں جنہیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں چھوڑتے تھے ، عاشوہ کا روزہ ، ذی الحجہ کے روزے (ایک سے نو تک )، ہر مہینے کے تین روزے ، دو رکعتیں فجرکے فرض سے پہلے ۔ (نسائی )
14
۰ ترجمہ ::حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے ابو ذر ! جب (کسی ) مہینہ میں تین دن رکھتا ہو تو تیرہ ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو (روزہ ) رکھو۔(ترمذی ۔ نسائی )
انتباہ ::
1 یکم شوال اور 10,11,12 ذی الحجہ کو روزہ رکھنا مکروہ تحریمی اور ناجائز ہے ۔
(طحطاوی صفحہ 387 ، درمختار ، ردالمحتاج جلد 2 صفحہ 86 )
2احتلام ہوجانے یا ہمبستری کرنے کے بعد غسل نہ کیا اور اسی حالت میں پورا دن گزاردیا تو وہ نمازوں کے چھوڑ دینے کے سبب سخت گناہگار ہوگا مگر روزہ ادا ہوجائے گا ۔ بحرالرائق جلد دوم صفحہ 273 میں ہے :: لواصبح جنبا لا یضرہ کذانی فی المحیط اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری صفحہ 187 میں ہے :: من اصبح جنبا اوا حتلم فی النھار لم یضرہ کذانی محیط السوخسی
3 مریض کو مرض بڑھ جانے یا دیر سے اچھا ہونے یا تندرست کو بیمار ہوجانے کا گمان غالب ہو تو روزہ توڑنے کی اجازت ہے غالب گمان کی تین صورتیں ہیں ۔ اس کی ظاہر نشانی پائی جاتی ہے، یا اس شخص کا ذاتی تجربہ ہے یا کسی سنی مسلمان طبیب حاذق مستور الحال یعنی غیر فاسق نے اس کی خبر دی ہو ۔ اگر نہ کوئی علامت ہو، نہ تجربہ ، نہ اس قسم کے طبیب نے اسے بتایا بلکہ کسی کافر یا فاسق یا بد مذہب ڈاکٹر یا طبیب کے کہنے سے روزہ توڑ دیا تو کفارہ لازم آئے گا ۔ ( ردالمختار جلد دوم صفحہ 120 ۔بہار شریعت )
4 جو شخص رمضان میں بلا عذر اعلانیہ قصدََا کھائے تو سلطان اسلام اسے قتل کردے (شامی ۔بہار شریعت )
5معتکف کے سوا دوسروں کو مسجدوں میں روزہ افطار کرنا کھانا پینا جائز نہیں ۔(درالمختار ۔فتاویٰ رضویہ ) لہذا دوسرے لوگ اگر مسجد میں افطار کرنا چاہتے ہیں تو اعتکاف کی نیت کرکے مسجد میں جائیں کچھ ذکر یا درود شریف پڑھنے کے بعد کھا پی سکتے ہیں مگر اس صورت میں بھی مسجد کا احترام ضروری ہے ۔ آج کل اکثر مقامات پر افطار کے وقت مسجدوں کی بڑی بے حرمتی کی جاتی ہے ، جو ناجائز اور حرام ہے امام اور متولیان مسجد کو اس امر پر توجہ دینا ضروری ہے ورنہ قیامت کے دن ان سے سخت باز پرس ہوگی۔

بہتر رزلٹ میں دیکھنے کے لیے یہاں کلک کیجئے

از افادات :: مولانا جلال الدین امجدی

والسلام :: سلیمان سبحانی نور مدینہ نیٹ ورک ٹیم