ناپاک کپڑے پاک کرنے کا طريقہ

ناپاک کپڑے پاک کرنے کا طريقہ
ناپاک کپڑے پاک کرنے کا طريقہ يہ ہے کہ انہيں اچھي طرح دھو کر پوري قوت سے نچوڑا جائے يہانتک کہ مزيد قوت لگانے پر کوئي قطرہ نہ ٹپکے، پھر ہاتھ دھو کر کپڑے دھوئيں اور کپڑے دھو کر انہيں پوري طاقت سے نچوڑيں کہ مزيد نچوڑنے پر کوئي قطرہ نہ ٹپکے، اب کپڑے پاک ہوگئے ، اب کپڑے پاک ہوگئے، اگر کسي نے پوري قوت سے کپڑا نچوڑ ليا مگر کوئي دوسرا جو طاقت ميں زيادہ ہے، اسے نچوڑے تو چند بوند پاني مزيد ٹپک جائے گا تو کپڑا پہلے کے حق ميں پاک اور اس دوسرے کے حق ميں ناپاک ہے۔
اس مسئلے ميں احتياط کرني چاہيے، ہر کوئي يا تو اپنا ناپاک کپڑا  خود پاک کرے يا پھر انہيں بہتے پاني ميں پاک کيا جائے، اسکا طريقہ يہ ہے کہ صابن يا واشنگ مشين سے کپڑے دھو کر انہيں کسي برتن ميں ڈال ديں اور پھر اتنا پاني ڈاليں کہ کپڑے پاني ميں مکمل ڈوب جائيں اور پاني برتن کے کناروں سے بہنے لگے، جب پاني بہہ رہا ہوتو اس بہتے پاني سے کپڑوں کو نکاليں، يہ بہتے پاني کي وجہ سے پاک ہوگئے،
ايسے نازک کپڑے جو نچوڑنے کے قابل نہيں ہيں اسي طرح چٹائي، قالين اور جوتا وغيرہ بھي اگر ناپاک ہوجائيں تو انہيں پاک کرنے کا طريقہ يہ ہے کہ انہيں  دھو کر لٹکا ديا جائے يہانتک کہ ان سے پاني ٹپکنا بند ہوجائے، پھر دوبارہ دھو کر لٹکا ديں، جب پاني ٹپکنا بند ہوجائے پھر تيسري بار دھو کر سکھاليں، يہ پاک ہوجائيں گے۔

تيمم کا طريقہ اور اہم مسائل

تيمم کا طريقہ اور اہم مسائل
تيمم ميں تين فرض ہيں
اول:  نيت کرنا کہ يہ تيمم وضو يا غسل يا دونوں کي پاکي کے ليے ہے،
دوم:  سارے منہ پر اسطرح ہاتھ پھيرنا کہ بال برابر جگہ بھي باقي نہ رہے،
سوم:  دونوں ہاتھوں کا کہنيوں سميت مسح کرنا کہ کوئي حصہ باقي نہ رہے۔
تيمم کا طريقہ يہ ہے کہ نيت کر کے بسم اللہ پڑھ کر دونوں ہاتھ زمين کي جنس سے تعلق رکھنے والي کسي چيز (مثلا مٹي، پتھر، ماربل يا ايسي چيز جس پر کافي گرد و غبار ہو)  پر ماريں اور اگر زيادہ مٹي لگ جائے تو ايک ہاتھ کے انگوٹھے کي جڑ کو دوسرے ہاتھ کے انگوٹھے کي جڑ پر ماريں، پھر دونوں ہاتھ سارے منہ پر اسطرح پھير ليں کہ کوئي جگہ باقي نہ رہے، ہونٹ کا وہ حصہ جو عادہ منہ بند ہونے کي حالت ميں دکھائي ديتا ہے اس پر بھي مسح کرنا ضروري ہے، اگر داڑھي ہو تو اسکا خلال بھي کريں، پھر دوبارہ مٹي يا پتھر پرہاتھ ماريں اور پہلے دائيں ہاتھ کا اسطرح مسح کريں کہ بائيں ہاتھ کے انگوٹھے کے علاوہ چار انگليوں کا پيٹ دائيں ہاتھ کي پشت پر رکھيں اور انگليوں کے سرے سے کہني تک لے جائيں اور پھر وہاں سے بائيں ہاتھ کي ہتھيلي سے دائيں ہاتھ کے پيٹ ،(يعني اندروني طرف)  پر پھيرتے ہوئے گٹے تک لائيں اور بائيں انگوٹھے کے پيٹ سے دائيں انگوٹھے کي پشت کا مسح کريں،
اس طرح دائيں ہاتھ سے بائيں ہاتھ کا مسح کريں مٹي يا پتھر پر ہاتھ مارتے وقت انگلياں کھلي ہوئي حالت ميں ہوں، اگر انگليوں کے درميان غبار پہنچ گيا تو انکا خلال کرنا سنت ہے اور اگر پتھر وغيرہ سے تيمم کيا جائے جس پر غبار نہ ہو تو انگليوں کا خلال فرض ہے،
تيمم کے وقت خواتين اس بات کي احتياط رکھيں کہ انگوٹھي ، چھلے، نتھ اور ديگر زيورات ہٹا کر جبکہ نيل پالش اتار کر جلد کے ہر حصہ پر ہاتھ پھيرنا ضروري ہے،
بيماري ميں اگر ٹھنڈا پاني نقصان کرتا ہے تو گرم پاني استعمال کرنا چاہيے اگر گرم پاني نہ ملے تو تيمم کيا جائے، يونہي اگر سرپر پاني ڈالنا نقصان کرتا ہے تو گلے سے نہائے اور گيلا ہاتھ پھير کر پورے سر کا مسح کرے،
اگر کسي عضو پر زخم کے باعث پٹي بندھي ہو يا پلاستر چڑھا ہو تو ہاتھ گيلا کر کے اس پٹي کے اوپر پھير ديا جائے اور باقي جسم کو پاني سے دھويا جائے، جب اتنا آرام ہو جائے کہ پٹي پر سے پاني بہانے ميں نقصان نہ ہو تو پاني بہائے ، پھر جب اتنا آرام ہوجائے کہ زخم والي جگہ مسح کرسکتا ہو تو فورا مسح کرے، پھر جب اتني صحت ہو جائے کہ عضو پر پاني بہاسکتا ہو تو بہائے، غرض يہ کہ اعلي پر جتني قدرت حاصل ہوتي جائے، ادني پر اکتفا جائز نہيں۔
اگر نماز کا وقت اتنا کم رہ گيا کہ وضو يا غسل کرنے کي صورت ميں نماز قضا ہو جائے گي تو تيمم کر کے نماز پڑھ ليني چاہيے البتہ وضو يا غسل کر کے اس نماز کو دہرانا ضروري ہے،
جس عذر کے باعث تيمم کيا گيا اگر وہ ختم ہوجائے يا جن چيزوں سے وضو ٹوٹتا ہے ان سے وضو کا اور جن باتوں سے غسل واجب ہوتا ہے ان سے غسل کا تيمم ٹوٹ جاتا ہے۔

تيمم کب کياجائے؟

تيمم کب کياجائے؟
جسے وضو يا غسل کي حاجت ہو مگر اسے پاني استعمال کرنے پر قدرت نہ ہو اسے تيمم کرنا چاہيے اس کي چند اہم صورتيں درج ہيں۔
چاروں طرف ايک ايک ميل تک پاني کا پتہ نہ ہو،
يا ايسي بيماري ہو کہ پاني کے باعث شديد بيمار ہونے يا دير ميں اچھا ہونے کا صحيح انديشہ ہو خواہ يہ اس نے خود آزمايا ہو يا کسي مستند اور غير فاسق طبيب نے بتايا ہو، يا اتني سخت سردي ہو کہ نہانے سے مرجانے يا بيمار ہوجانے کا قوي انديشہ ہو اور لحاف وغيرہ کوئي ايسي چيز اسکے پاس نہ ہو جس سے نہانے کے بعد سردي سے بچ سکے،
يا ٹرين يا بس سے اتر کر پاني استعمال کرنے ميں گاڑي چھوٹ جانے کا خدشہ ہو ، يا وضو ، غسل کرنے کي صورت ميں نماز عيدين نکل جانے کا گمان ہو۔

مسواک کا بيان

مسواک  کا بيان
آقا و مولي صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان عاليشان ہے، اگر يہ بات نہ ہوتي کہ ميري امت پر گراں ہوگا تو ميں ان کو حکم ديتا کہ وہ ہر نماز کے ساتھ مسواک کيا کريں۔ (بخاري)۔  حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمايا، مسواک لازم کر لو کيونکہ اس سے منہ کي صفائي ہوتي ہے اور رب تعالي بھي راضي ہوتاہے۔  (مسند احمد)
علماء فرماتے ہيں کہ مسواک کرنے کے ستر (70)  فائدے ہيں جن ميں سے ايک يہ ہے مرتے وقت کلمہ طيبہ نصيب ہوتا ےہ اور نزع کي تکليف آسان ہوجاتي ہے۔
مسواک کرنا وضو  کے ليے سنت ہے۔ مسواک نہ بہت نرم ہو نہ بہت سخت۔ بہتر ہے کہ پيلو، زيتون يا نيم وغيرہ لکڑي کي ہو۔
مسواک چھوٹي انگلي کے برابر موٹي اور زيادہ سے يادہ ايک بالشت لمبي ہو اور اتني چھوٹي بھي نہ ہو کہ مسواک کرنا دشوار ہو۔
 مسواک داہنے ہاتھ ميں اس طرح پکڑيں کہ چھوٹي انگلي مسواک کے نيچے اور بيچ کي تين انگلياں اوپر ار انگوٹھا مسواک کے نيچے ہو اور مٹھي بند نہ کي جائے، اس طرح مسواک کرنے والا بواسير کے مرض سے محفوظ رہتا ہے،
مسواک دانتوں کي چوڑائي ميں کرني چاہيے لمبائي ميں نہيں? پہلے اوپر کے دانت دائيں جانب اور پھر بائيں جانب سے صاف کريں پھر نيچے کے دانت پہلے دائيں اور پھر بائيں جانب سے صاف کريں، اوپر نيچے دائيں بائيں کم از کم تين تين مرتبہ مسواک کريں اور ہر بار مسواک دھوليں۔

وضو کن باتوں سے ٹوٹ جاتا ہے

وضو کن باتوں سے ٹوٹ جاتا ہے
مندرجہ ذيل چيزوں سے وضوٹوٹ جاتا ہے۔
پيشاب يا پاخانہ کے مقام سے کسي چيز کا نکلنا ، منہ پھر کر قے کرنا، خون يا پيپ يا زرد پاني کا نکل کر جسم پر بہہ جانا، کسي چيز سے سہارا لگا کر سو جانا، دکھتي آنکھ سے پاني کا بہنا، نماز ميں آواز سے ہنسنا، بے ہوشي يا جنون طاري ہونا۔

وضو کرنے کا طريقہ

وضو کرنے کا طريقہ
وضو شروع کرنے سے قبل حکم الہي کي تعميل اور ثواب پانے کي نيت کريں اور بسم اللہ پڑھ کر تين بار دونوں ہاتھ گٹوں تک دھوئيں پھر مسواک کريں( مسواک دائيں ہاتھ ميں اسطرح پکڑيں کہ چھوٹي انگلي مسواک کے نيچے، درميان کي تين انگلياں اوپر اور انگوٹھا مسواک کے سرے پر نيچے ہو) پہلے دائيں جانب اوپر کے دانتوں پر مسواک کريں پھر بائيں طرف اوپر کے دانت ، پھر دائيں طرف نيچے اور پھر بائيں طرف نيچے کے دانتوں پر مسواک کريں( مسواک دانتوں کي چوڑائي ميں کرني چاہيے)
پھر تين بار چلو ميں پاني لے کر اچھي طرح کلي کريں اور تين بار ناک ميں پاني چڑھائيں اور بائيں ہاتھ کي چھوٹي انگلي سے ناک صاف کريں? پھر تين باراس طرح منہ دھوئيں کہ پيشاني کے بالوں سے لے کر ٹھوڑي کے نيچے تک اور ايک کان سے دوسرے کان تک کوئي جگہ خشک نہ رہے( اگر داڑھي ہو تو اسکا خلال بھي کيا جائے)
پھر تين بار پہلے داياں اور پھر باياں ہاتھ کہني سميت دھوئيں، پھر دونوں ہاتھ ترکر کے پورے سر کا اس طرح مسح کريں کہ انگوٹھے اور کلمہ کي انگلي کے سوا ايک ہاتھ کي باقي تين انگليوں کے سرے دوسرے ہاتھ کي تين انگليوں کے سرے سے ملائيں اور پيشاني پر رکھ کر گدي تک اسطرح لے جائيں کہ ہتھيلياں سر سے جدا رہيں، وہاں سے ہتھيليوں سے مسح کرتے ہوئے واپس لائيں۔
پھر شہادت کے پيٹ سے کان کے اندروني حصہ کا مسح کريں اور انگوٹھے سے کان کي بيروني سطح اور انگليوں کي پشت سے گردن کا مسح کريں۔
پھر تين بار پہلے داياں پھر باياں پاؤں ٹخنوں سميت بائيں ہاتھ سے دھوئيں اور انگليوں کا خلال کريں( داہنے پاؤں ميں خلال چھوٹي انگلي سے شروع کر کے انگھوٹھے پر ختم کريں اور بائيں پاؤں ميں انگھوٹھے سے شروع کر کے چھوٹي انگلي پر ختم کريں)
وضو کے بعد کلمہ شہادت پڑھنے کي عادت بناليں کيونکہ حديث شريف ميں وضو کے بعد کلمہ شہادت پڑھنے والے کے ليے جنت کي بشارت آئي ہے۔

وضو کي سنتيں

وضو کي سنتيں
وضو کي سنتيں مندرجہ ذيل ہيں
حکم الہي کي تعميل اور ثواب حاصل کرنے کي نيت کرنا، پاک جگہ بيٹھ کر وضو کرنا، وضو شروع کرنے سے قبل بسم اللہ پڑھنا، دونوں ہاتھ گٹوں تک دھونا، مسواک کرنا، تين بار چلو بھر پاني سے کلي کرنا، تين بار ناک ميں ہڈي تک پاني چڑھانا، پاني دائيں ہاتھ سے چڑھانا، بائيں ہاتھ کي چھوٹي انگلي سے ناک صاف کرنا، ہاتھ پاؤں کي انگليوں کا خلال کرنا ، داڑھي کا خلال کرنا، پورے سر کا مسح کرنا، کانوں کا مسح کرنا، اعضاء دھونے کي ترتيب قائم رکھنا ، ہر دھونے والے عضو کو تين بار دھونا، اعضاء کو پے در پے اسطرح دھونا کہ پہلا عضو سوکھنے نہ پائے۔

وضو کے فرائض

وضو کے فرائض
 وضو کے چار فرائض ہيں ۔
نمبر 1  پورا منہ دھونا ( يعني پيشاني کے شروع سے لے کر ٹھوڑي  تک اور ايک کان سے دورے کان تک تمام جلد پر ايک مرتبہ پاني بہانا فرض ہے)
مونچھوں يا بھنوؤں کے بال اگر گھنے ہوں تو صرف ان بالوں کا دھونا فرض ہے اور اگر گھنے نہ ہوں تو جلد کا دھونا بھي فرض ہے، اسي طرح داڑھي کے بال اگر گھنے نہ ہو تو جلد کا دھونا فرض ہے، ہونٹوں کا وہ حصہ جو عادہ بند کرنے کے بعد ظاہر رہتا ہے اسکا دھونا بھي فرض ہے۔
نمبر 2  دونوں ہاتھ کہنيوں سميت دھونا ، کسي عضو کے دھونے کے يہ معني ہيں کہ اس عضو کے ہر حصے پر کم سے کم دو دو بوندپاني بہہ جائے، بھيگ جانے يا تيل کي طرح پاني چپڑ لينے يا ايک آدھ بوند بہہ جانے کو دھونا نہيں کہيں گے اور نہ ہي اس سے وضو يا غسل ادا ہوگا،  ہر قسم کے چھلے، نتھ، انگوٹھياں، چوڑياں وغيرہ اگر اتنے تنگ ہوں کہ انکے نيچے پاني نہ بہے تو انہيں اتار کر جلد کے ہر حصہ پر پاني پہنچانا ضروري ہے۔
نيل پالش لگي ہو تو اسے دور کيے بغير وضو يا غسل نہيں ہوگا، البتہ جس چيز کي آدمي کو عموما يا خصوصا ضرورت پڑتي رہتي ہے اور اسکي نگہداشت و احتياط ميں حرج ہو، ناخنوں کے اندر يا اوپر يا کسي اور دھونے کي جگہ اسکے لگے رہ جانے سے وضو ہو جائے گا اگر چہ وہ سخت چيز ہو اور اسکے نيچے پاني نہ پہنچے،  مثلا پکانے گوندھنے والوں کے ليے آٹا، رنگريز کے ليے رنگ کا جرم، عورتوں کے ليے مہندي، لکھنے والوں کے ليے روشنائي ، مزدور کے ليے گارا  مٹي اور عام لوگوں کے ليے پلکوں ميں سرمہ کا جرم يا بدن کا ميل وغيرہ۔
نمبر 3  چوتھائي سر کا مسح-   مسح کرنے کے ليے ہاتھ تر ہونا چاہيے خواہ تري اعضاء کے دھونے کے بعد رہ گئي ہو يا نئے پاني سے ہاتھ تر کر ليا ہو، کسي عضو کے مسح کے بعد جو ہاتھ ميں تري باقي رہ جائے گي وہ دوسرے عضو کے مسح کے ليے کافي نہ ہوگي۔
نمبر 4  دونوں پاؤں دھونا،  انگليوں کي کروٹيں، گھائياں ، گٹے ، تلوے اور ايڑياں سب کا دھونا فرض ہے،  اگر خلال کيے بغير انگليوں کے درميان پاني نہ بہتا ہو تو خلال بھي فرض ہے۔

طہارت کا بيان

طہارت کا بيان
 آقا و مولي صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد گرامي ہے، (جنت کي کنجي نمازہے اور نماز کي کنجي طہارت ہے)  (مسلم)  يہاں طہارت سے مراد يہ ہے کہ نماز کي جگہ اور نمازي کا لباس پاک ہو نيز اس کا جسم حدث اکبر اور حدث اصغر سے پاک ہو يعني نمازي پر غسل واجب نہ ہو اور وہ با وضو ہو۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا، (اس گھر ميں رحمت کے فرشتے نہيں آتے جہاں تصوير، کتا  يا حالت جنابت ميں کوئي شخص ہو)۔ (ابو داؤد)
اب پہلے يہ سمجھ ليجئے کہ غسل يا وضو کيسے پاني سے کيا جائے۔
فقہاء فرماتے ہيں کہ پاني بے رنگ، بے بو اور بے ذائقہ يعني قدرتي حالت ميں ہو نيز پاني استعمال شدہ نہ ہو? اگر بدن پر کوئي نجاست نہ لگي ہو تو جو پاني وضو يا غسل کرنے ميں بدن سے گرے وہ پاک ہے مگر اس سے وضو يا غسل جائز نہيں۔ اسي طرح اگر بے وضو شخص کا ہاتھ يا انگلي يا ناخن يا بدن کا وہ حصہ جو دھلا نہ ہو، يا جس پر غسل فرض ہے اسکے جسم کا بے دھلا حصہ پاني ميں پڑ جائے يا پاني سے چھو جائے تو وہ پاني مستعمل ہو گيا، اب اس سے وہ وضو يا غسل نہيں ہوسکتا۔ اس کا پينا اور اس سے آٹا گوندھنا مکروہ ہے البتہ اسے کپڑے دھونے کے ليے استعمال کيا جاسکتا ہے۔
مستعمل پاني کو وضو يا غسل کے ليے استعمال  کے قابل بنانے کا طريقہ يہ ہے کہ اچھا پاني اس سے زيادہ اس ميں ملاديں يا اس ميں اتنا پاني ڈاليں کہ برتن کے کناروں سے بہنے لگے، اب اس پاني سے وضوا يا غسل جائز ہے۔