انجیر

انجیر

مفسرین کا خیال ہے کہ زمین پر انسان کی آمد کے بعد اس کی افادیت کے لئے سب سے پہلا درخت جو معرض وجود میں آیا، وہ انجیر کا تھا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام نے اپنی سترپوشی کے لئے انجیر کے پتے استعمال کئے تھے۔ اس کے استعمال کی بہترین صورت اسے خشک کرکے کھانا ہے۔

قرآن مجید میں انجیر کے بارے میں ارشاد
قرآن مجید میں انجیر کا ذکر صرف ایک ہی جگہ آیا ہے مگر بھرپور ہے۔
والتین والزیتون ہ وطور سینین ہ وھذا البلد الامین ہ لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ہ (التین: 4-1)
ترجمہ: “قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی اور طورسینا کی اور اس دارالامن شہر کی کہ انسان کو ایک بہترین ترتیب سے تخلیق کیا گیا۔“
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت فرماتے ہیں کہ سفر کے دوران کی نمازوں میں نبی اکرم نور مجسم ایک رکعت میں سورہ التین ضرور تلاوت فرماتے تھے۔ تفسیری اشارات کے طور پر دیکھیں تو اللہ عزوجل نے انجیر کو اتنی اہمیت عطا فرمائی کہ اس کی قسم کھائی جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ اس کے فوائد کا کوئی شمار نہیں۔

انجیر کے بارے میں ارشادات نبوی
حضرت ابوالدرداء روایت فرماتے ہیں کہ نبی کی خدمت بابرکت میں کہیں سے انجیر سے بھرا ہوا تھال آیا۔ انہوں نے ہمیں فرمایا کہ “کھاؤ“۔ ہم نے اس میں سے کھایا اور پھر ارشاد فرمایا۔ “اگر کوئی کہے کہ کوئی پھل جنت سے زمین پر آ سکتا ہے تو میں کہوں گا کہ یہی وہ ہے کیونکہ بلاشبہ جنت کا میوہ ہے۔ اس میں سے کھاؤ کہ یہ بواسیر کو ختم کر دیتی ہے اور گنٹھیا (جوڑوں کا درد) میں مفید ہے۔
یہی حدیث حضرت ابوذر کے حوالہ سے کنزالاعمال میں مسند فردوس کے ذریعہ سے دوسری جگہ بیان کرتے ہوئے “تفطع البواسیر“ کی جگہ “یذہب بالبواسیر“ کی تبدیلی کی ہے۔
انجیر کو بطور پھل اللہ تعالٰی نے اہمیت دی اور نبی اکرم، رحمت دو عالم، سرور کائنات، نور مجسم اسے جنت سے آیا ہوا میوہ قرار دینے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ بواسیر کو ختم کر دیتی ہے۔ علمی لحاظ سے یہ ایک بڑا اعلان ہے جو عام طور پر علم طب میں فاضل اطباء بڑی مشکل سے کرتے ہیں مگر جوڑوں کے درد میں اس کو صرف مفید قرار دیا، اس لئے یہ امور انجیر سے فوائد حاصل کرنے کے سلسلے میں پوری توجہ اور اہمیت کے طلبگار ہیں۔

جالنیوس کا انجیر کے بارے میں قول
جالنیوس جس کو حکیم ہونے کے ناطے سائنسدان ہونے کے ناطے ہر کوئی جانتا ہے اور پوری دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ملے جو اس نام سے واقف نہ ہو۔ جالنیوس وہ نام جس نے طب میں اپنا لوہا جمایا اور ایک نہیں، دو نہیں بلکہ ہزاروں لاکھوں لاعلاج مریضوں کا علاج کیا اور اس وقت ایک چمکتا ہوا سورج بن کر پوری دنیا میں چمکا۔ جالنیوس کہتا ہے کہ “انجیر کے ساتھ جوز اور بادام ملا کر کھالئے جائیں تو یہ خطرناک زہروں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔“

انجیر کے بارے میں امام محمد بن احمد ذہبی کا قول
امام محمد بن احمد ذہبی فرماتے ہیں کہ انجیر میں تمام دوسرے پھلوں کی نسبت بہتر غذائیت موجود ہے۔ یہ پیاس کو بجھاتی ہے اور آنتوں کو نرم کرتی ہے۔ بلغم کو نکالتی ہے۔ پرانی بلغمی کھانسی میں مفید ہے۔ پیشاب آور ہے۔ آنتوں سے قولنج اور سدوں کو دور کرتی ہے اور اسے نہارمنہ کھانا عجیب و غریب فوائد کا باعث ہوتا ہے۔

انجیر میں پائے جانے والے کیمیائی اجزاء
انجیر میں موجود کیمیائی اجزاء کا تناسب یوں ہے:-
لحمیات 5. 1
نشاستہ 0 . 15
حدت کے حرارے 66
سوڈیم 6. 24
پوٹاشیم 88. 2
کیلشیم 05. 8
مگنیشیم 2. 26
فولاد 18. 1 تانبہ 07. 0
فاسفورس 26
گندھک 9. 22
کلورین 1. 7
ایک سو گرام خشک انجیر میں عام کیمیائی اجزاء کا یہ تناسب اسے ایک قابل اعتماد غذا بنا دیتا ہے۔ اس میں کھجور کی طرح سوڈیم کی مقدار کم اور پوٹاشیم زیادہ ہے۔ ایک سو گرام کے جلنے سے حرارت 66 حرارے حاصل ہوتے ہیں۔ حراروں کی یہ مقدار عام خیال کی نفی کرتی ہے کہ کھجور یا انجیر تاثیر کے لحاظ سے گرم ہوتے ہیں۔ وٹامن الف۔ ج کافی مقدار میں موجود ہیں اور ب مرکب معمولی مقدار میں ہوتے ہیں۔

بھارت کے طبی شعبہ کی انجیر پر تحقیات
بھارت کی حکومت کے طبی شعبہ کی تحقیقات کے مطابق یہ ملین ہے۔ مدرالبول ہے۔ اس لئے پرانی قبض، دمہ، کھانسی اور رنگ نکھارنے کے لئے مفید ہے۔ پرانی قبض کے لئے روزانہ پانچ دانے کھانے چاہئیں جبکہ موٹاپا کم کرنے کے لئے تین دانے بھی کافی ہیں۔ اطباء نے چیچک کے علاج میں بھی انجیر کا ذکر کیا ہے۔ چیچک یا دوسری متعدی بیماریوں میں انجیر چونکہ جسم کی قوت مدافعت بڑھاتی ہے اور سوزشوں کے ورم کو کرتی ہے۔ اس لئے سوزش خواہ کوئی بھی ہو، انجیر کے استعمال کا جواز موجود ہے۔

مذکارنی سے انجیر کے فوائد کا خلاصہ
مذکارنی نے انجیر کے فوائد کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ بھوک لگانے والی، سکون آور، دافع سوزش اور ورم، ملین، جسم کو ٹھنڈک پہنچانے والی اور مخرج بلغم ہے۔ انجیر کے دودھ میں غذا کو ہضم کرنے والے جوہر Papaine کی مانند ہوتے ہیں۔
یہ غذا میں موجود نشاستہ کو منٹوں میں ہضم کر دیتے ہیں۔ ان فوائد کے ساتھ ساتھ ان میں بڑی عمدہ غذائیت بھی موجود ہے۔
اس میں کوئی شک کی بات نہیں ہے کہ انجیر غذا کو مکمل طور پر ہضم کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ درد جسم کے کسی بھی حصہ میں ہوا سے ختم کرتی ہے۔ جھلیوں کی جلن کو رفع کرتی ہے اور پیٹ کو چھوٹا کرتی ہے۔ بھارتی ماہرین بھی متفق ہیں کہ انجیر پتھری کو مار سکتی ہے۔

دماغ پر انجیر کے اثرات
افسنتین جو کا آٹا اور انجیر ملا کر کھانے سے متعدد دماغی امراض میں فائدہ ہوتا ہے۔ انجیر میں کیونکہ فاسفورس بھی پایا جاتا ہے اور فاسفورس چونکہ دماغ کی غذا ہے، اس لئے انجیر دماغ کو طاقت دیتا ہے۔ ضعف دماغ میں بادام کے ساتھ انجیر ملا کر کھانے سے چند دنوں میں دماغ کی کمزوری ختم ہو جاتی ہے اور یہ کم خرچ اور بالانشین نسخہ ہے۔ انجیر کیونکہ ہر قسم کے درد کے لئے مفید اور مؤثر ہے۔ اس لئے درد سر میں انجیر کو کھانا مفید اور مؤثر ہے۔

انجیر کے دانتوں پر اثرات
کیلشیم کیونکہ دانتوں کی غذا ہے، کیلشیم انجیر میں پایا جاتا ہے۔ اس لئے انجیر کو چبا چبا کر کھانے سے دانت مضبوط اور طاقتور ہوتے ہیں۔

دمہ اور کھانسی میں انجیر کے فوائد
قدرت کی عطا کردہ اس خاص نعمت یعنی انجیر میں نشاستہ بھی موجود ہے اور نشاستہ چونکہ سینہ کی اور حلق کی کھڑکھڑاہٹ کو دور کرتا ہے۔ اس لئے میتھی کے بیج، انجیر اور پانی کا پکا کر خوب گاڑھا کر لیں۔ اس میں شہد ملا کر کھانے سے کھانسی کی شدت میں کمی آجاتی ہے۔ انجیر کیونکہ مخرج بلغم ہے، اس لئے یہ دمہ میں مفید پائی جاتی ہے۔ دمہ میں چونکہ بلغم گاڑا ہوتا ہے، اس لئے حال ہی میں کیمیا دانوں نے اس میں ایک جوہر Bromelain دریافت کیا ہے جو بلغم کو پتلا کرکے نکالتا ہے اور التہابی سوزش کم کرتا ہے۔

انجیر میں غذا کو ہضم کرنے کی خصوصیت
غذا کو ہضم کرنے والے جوہروں کی تینوں اقسام یعنی نشاستہ کو ہضم کرنے والے لحمیات کو ہضم کرنے والے اور چکنائی کو ہضم کرنے والے اجزاء عمدہ تناسب میں پائے جاتے ہیں۔ اس میں ان اجزاء کی موجودگی انجیر کو ہر طرح کی خوارک کو ہضم کرنے کے لئے بہترین مددگار بنا دیتی ہے۔

انجیر سے جگر اور پتہ کی سوزش کا کامیاب علاج
انجیر چونکہ محلل اورام ہے۔ اس لئے جگر کا ورم اور سوزش میں بہت کامیابی سے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ جگر اور پتہ کو تمام غلیظ مواد سے صاف کرتی ہے۔ انجیر میں چونکہ فولاد بھی پایا جاتا ہے، اس لئے یہ جگر جو طاقت دیتی ہے اور خون صالح پیدا کرتی ہے۔
ایک خاتون کو پتہ کی پرانی سوزش تھی۔ ایکسرے پر متعدد پتھریاں پائی گئیں۔ بطور ڈاکٹر سے آپریشن کا مشورہ دیا گیا۔ وہ درد سے مرنے کو تیار تھی مگر آپریشن کی دہشت کو برداشت کرنے کا حوصلہ نہ رکھتی تھی۔ اس مجبوری کے لئے کچھ کرنا ضروری ٹھہرا۔ چونکہ نبی اکرم نور مجسم نے کلونجی کو ہر مرض کی شفا قرار دیا ہے۔ اس لئے کاسنی اور کلونجی کا مرکب کھانے کو صبح نہار منہ چھ دانے انجیر کھانے کو کہا گیا۔ وہ دو ماہ کے اندر نہ صرف کہ پتھریاں نکل گئیں بلکہ سوزشیں جاتی رہیں۔ علامات کے ختم ہونے کے ایک ماہ بعد کے ایکسرے سے پتہ مکمل طور پر صحت مند پایا گیا۔

انجیر سے بواسیر کا شافی علاج
بواسیر کے تین اہم اسباب ہیں۔
1۔ پرانی قبض 2۔ تبخیر معدہ 3۔ اور کرسی نشینی (یعنی کرسی پر زیادہ دیر بیٹھنا) ان چیزوں سے مقعد کے آس پاس کی اندرونی اور بیرونی وریدوں میں خون کا ٹھہراؤ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ رگیں پھول کر مسوں کی صورت میں باہر نکل آتی ہیں اور پاخانہ کرتے وقت ان سے خون آتا ہے۔
ان تمام مسائل کا آسان حل انجیر ہے۔ انجیر پیٹ میں تبخیر ہونے ہی نہیں دیتی۔ انجیر قبض کو توڑ دیتی ہے۔ انجیر خون کی نالیوں سے سدے نکالتی ہے اور ان کی دیواروں کو صحت مند بناتی ہے۔
انجیر خون کی نالیوں میں جمی ہوئی غلاظتوں کو نکال سکتی ہے اور اس کی اسی افادیت کو حضور نبی کریم نے بواسیر میں پھولی ہوئی وریدوں کی اصلاح کے لئے استعمال فرمایا جو پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔

انجیر سے برص کا مکمل علاج
برص چونکہ بلغمی مرض ہے، اس لئے اس بیامری میں انجیر اندرونی اور بیرونی طور پر استعمال کی جاتی ہے۔
طب یونانی کے مشہور نسخہ سفوف برص کا خود عامل انجیر ہے۔ پوست انجیر کو عرق گلاب میں کھرل کرکے برص کے داغوں پر لگایا جاتا ہے اور آدھ چھٹانک انجیر اس کے ساتھ کھانے کو بھی دی جاتی ہے جس سے مرض ایک دو ماہ میں مکمل جاتا رہتا ہے۔

انجیر سے دائمی قبض سے نجات
قبض کا سبب چونکہ آنتوں کی خشکی ہے۔ انجیر کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ عمدہ ملین ہے۔ اس لئے پرانی سے پرانی قبض کو چند دنوں میں درست کر دیتا ہے۔ قبض کے لئے خشک انجیر 5 سے7 دانے رات کو سوتے وقت یا صبح کو نہار منہ اگر چبا چبا کر کھائے جائیں تو اس سے چند دن میں پرانی سے پرانی قبض سے نجات حاصل ہو جاتی ہے۔

انجیر اور آنتوں کا کینسر
(حیرت انگیز جدید تحقیق) ڈاکٹر سید خالد غزنوی کراچی نے اپنے مضمون طب نبوی اور جدید سائنس کے عنوان پر انجیر کے بارے میں لکھا ہے۔
جاپان میں انجیر سے حاصل ہونے والے جوہر برومی لین کو بڑی مقبولیت حاصل رہی اور انہوں نے سوزش کو رفع کرنے کے لئے (Kihotabs) تیارکیس ڈاکٹروں نے مطلع کیا کہ انہوں نے اسے آنتوں کے کینسر میں مفید پایا ہے۔ انجیر میں پائے جانے والے جوہر آنتوں کے سرطان کا علاج ہیں۔

انجیر سے پتھری کا اخراج
کرنل چوپڑا اعتراف کرتا ہے کہ انجیر گردوں سے پتھری اور ریت کو نکال سکتی ہے اور خوارک کو ہضم کرتی ہے۔ جب پیٹ خراب ہو تو وہ یوریٹ اور آکسی لیٹ پیدا کرتا ہے۔ جب یہ سمیات جسم سے باہر نکلتے ہیں تو جلن پیدا کرتے ہیں اور مکمل اخراج نہ ہو تو جوڑوں میں جم کر گنٹھیا کی بیماری پیدا کرتے ہیں اور گردوں میں پہنچتے ہیں تو وہاں پتھری بن جاتی ہیں۔ تاہم حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ انجیر قاطع بواسیر اور جوڑوں کے درد میں مفید ہے۔

انجیر اور گردوں کا فیل ہو جانا
گردوں کے فیل ہو جانے کے متعدد اسباب ہیں۔ اس میں مرض کی اندرونی صورت یہ ہوتی ہے کہ خون کی نالیوں میں تنگی کی وجہ سے گردوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ یہی کیفیت پیشاب میں کمی اور بلڈپریشر میں زیادتی کا باعث بن جاتی ہے۔ ان حالات میں اگر زندگی کو اتنی مہلت مل سکے کہ کچھ مدت انجیر کھائی جائے تو اللہ عزوجل کے فضل و کرم سے وہ بیماری جس میں گردے اگر تبدیل نہ ہوں تو موت یقینی ہے۔ شفایابی ہو جاتی ہے۔

انجیر اور جوڑوں کا درد
حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ کی یہ حدیث کے انجیر بواسیر کو قاطع اور جوڑوں کے درد میں فائدہ کرتی ہے۔ اس حدیث کی روشنی میں دیکھیں تو ڈاکٹر چوپڑا اس حدیث کی ہر طرح تصدیق کرتا ہے۔ نبی اکرم نے یہ ہرگز نہیں فرمایا کہ جوڑوں کی تکلیف کو بواسیر کی مانند ختم کر دیتی ہے بلکہ آپ نے جو لفظ فرمایا “ینفع“ یعنی نفع یا آرام دیتی ہے۔ جب تک انجیر استعمال میں رہے گی کیونکہ جوڑوں میں درد پیدا کرنے والی اور بھی بیماریاں ہیں۔
(الماخوذ : فیضان طب نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم)

پان گٹکے کی تباہ کاریاں

الحمدللہ رب العلٰمین والصلوٰۃ والسلام علٰی سیدالمرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم ط بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ط
پان گٹکے کی تباہ کاریاں
از شیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانیء دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوالبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ

افسوس! آج کل پان، گٹکا، خوشبودار سونف سپاری مین پوڑی اور سگریٹ نوشی وغیرہ عام ہے۔ اگر خدانخواستہ آپ ان میں سے کسی چیز کے عادی ہیں تو ڈاکٹر کے کہنے پر بصد ندامت چھوڑنا پڑ جائے اس سے قبل میٹھے محبوب کی امت کے ادنٰی غمخوار سگ مدینہ عفی عنہ کی درد بھری درخواست مان کر چھوڑ دیجئے۔
بعض اوقات اسلامی بھائی کو پان گٹکے سے منہ لال کئے ہوئے دیکھ کر دل جلتا ہے، اور جب کوئی آکر بتاتا ہے کہ میں نے پان، گٹکا یا سگریٹ کی عادت ترک کر دی ہے تو دل خوش ہوتا ہے۔ امت کی خیر خواہی کے جذبے کے تحت عرض ہے، بکثرت پان، گٹکا وغیرہ کھانے والے کا سب سے پہلے منہ متاثر ہوتا ہے۔ ایک اسلامی بھائی جنہوں نے گٹکا کھا کھا کر منہ لال کیا ہوا تھا ان سے میں نے (یعنی سگ مدینہ عفی عنہ نے) منہ کھولنے کو کہا تو بمشکل تھوڑا سا کھول پائے، زبان باہر نکلانے کی درخواست کی تو صحیح طرح سے نہ نکال سکے۔ پوچھا، منہ میں چھالا ہو گیا ہے ؟ بولے، جی ہاں۔ میں نے ان کو پان بند کر دینے کا مشورہ عرض کیا۔ الحمدللہ عزوجل انہوں نے مجھ غریب کی بات مان کر گٹکا کھانے کی عادت ترک کر دی۔ ہر پان یا گٹکا کھانے والا اپنے منہ کا اسی طرح ضرور امتحان لے۔ کیونکہ اس کا زیادہ استعمال منہ کے نرم گوشت کو سخت کر دیتا ہے جس کے سبب منہ پورا کھولنا اور زبان ہونٹوں کے باہر نکالنا دشوار ہو جاتا ہے، نیز چونے کا مسلسل استعمال منہ کی جلد کو پھاڑ کر چھالا بنا دیتا ہے اور یہی منہ کا السر ہے، ایسے شخص کو چھالیہ، گٹکا، مین پوڑی اور پان وغیرہ سے فوراً جان چھڑا لینی چاہئے ورنہ یہی السر آگے چل کر معاذاللہ عزوجل کینسر کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
پان گٹکا اور پیٹ کا کینسر
یہ بھی غور فرمائیے کہ جو چونا منہ کے گوشت کو کاٹ سکتا ہے وہ پیٹ کے اندر جاکر نہ جانے کیا کیا تباہی مچاتا ہو گا! چونا آنتوں اور معدے میں بھی بعض اوقات کٹ لگا دیتا ہے۔ فوری طور پر اس کا پتا نہیں چلتا۔ جب السر حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے تب کہیں معلوم ہوتا ہے۔ یہی السر آگے بڑھ کر پیٹ کے کینسر کا بھیانک روپ دھار سکتا ہے۔
پان یا گٹکا اور گلے کا کینسر
پان یا گٹکا کھانے والے کی پہلے پہل آواز میں خرابی پیدا ہوتی اور گلا بیمار ہو جاتا ہے، اگر وہ اس تکلیف کو تنبیہ (Notice) تصور کرکے پان یا گٹکا سے باز نہیں آتا تو بڑھتے بڑھتے معاذاللہ عزوجل گلے کے کینسر (Throat Cencer) تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے گلے کے کینسر کے مریضوں میں سے 60 فیصد سے لیکر 70 فیصد تعداد پان یا گٹکا کھانے والوں کی ہوتی ہے۔
یااللہ عزوجل ! ہم سب سے ہمیشہ کیلئے راضی ہو اور پان، گٹکے اور تمباکونوشی وغیرہ کی تباہ کاریوں سے بچائے۔
اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

چقندر

چقندر

شلجم کی مانند مشہور ترکاری ہے۔ یہ باہر اور اندر سے سرخ ہوتی ہے۔ اس کےپتے پالک کے پتوں سے مشابہ ہوتے ہیں۔ چقندر کا ذائقہ گاجر کے مانند شیریں ہوتا ہے۔ یہ بھارت، پاکستان، شمالی افریقہ اور یورپ میں کثرت سے سبزی کے طور پر کاشت کیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کی جنگلی قسم بھی ہے مگر ان کو خوارک اور علاج دونوں کیلئے بیکار سمجھا جاتا ہے۔
چقندر کی پھولی ہوئی جڑ اور پتے خوارک میں استعمال ہوتے ہیں۔ یہ سلاد کے طور پر پکایا جاتا ہے۔ اسے ابال کر کھاتے ہیں۔ گوشت کے ساتھ سالن کے طور پر پکایا جاتا ہے۔ اس کا اچار ڈالتے ہیں۔
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت چقندر کو جو کے آٹے کے ساتھ اس طرح پکاتی کہ وہ بوٹیاں لگنے لگتیں۔ یہ کھانا وہ جمعہ کے دن بناتی تھی۔ سارے مسلمانوں کو جمعہ کے دن کا انتظار ہوتا کیونکہ وہ نماز جمعہ کے بعد اس کھانے کو کھاتے۔ (بخاری)
حضرت ام المنذر رضی اللہ تعالٰی عنہا روایت فرماتی ہیں، میرے گھر رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور ان کے ہمراہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی تھے۔ میرے یہاں اس وقت کھجور کے خوشے لٹک رہے تھے۔ ان کی خدمت میں وہ پیش کئے گئے۔ وہ دونوں کھاتے رہے اور اس کے دوران رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا کہ تم اب مذید نہ کھاؤ کہ ابھی بیماری سے اٹھنے کی وجہ سے کمزور ہو۔ پھر میں نے ان کے لئے چقندر کا سالن اور جو کی روٹی پکائی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! علی رضی اللہ تعالٰی عنہ تم اس میں سے کھاؤ کہ یہ تمھارے لئے مفید ہے۔

چقندر سے جگر اور تلی کی بیماریوں کا علاج

چقندر کھانے سے جگر کا فعل بہتر ہوتا ہے اور تلی کی سوزش کو کم کرتا ہے۔ چقندر کے پانی کو شہد کے ساتھ پیا جائے تو بڑھتی ہوئی تلی کو کم کرتا ہے اور جگر میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرتا ہے۔ شہد اور چقندر کا پانی نہ صرف یرقان میں مفید ہے بلکہ صفرا کی نالیوں میں پتھری یا دوسرے اسباب سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کا علاج بھی ہے۔
محدثین کرام نے چقندر کے بارے میں جو مشاہدات رقم کئے ہیں، ان میں سےاکثر نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے مشاہدات کے برعکس ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لئے چقندر کے سالن کو اس وقت پسند فرمایا جب وہ بیماری سے اٹھے تھے۔ نقاہت محسوس کر رہے تھے۔ ایسے میں ان کو ایسی غذا دینی مقصود تھی جو آسانی سے ہضم ہو سکے اور ان کی کمزوری کو دفع کرے۔ اس غرض کے لئے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے چقندر کا سالن اگر پسند فرمایا تو یہ یقینی بات ہے کہ اس سالن میں کمزوری کو دور کرنے اور جلد ہضم ہو جانے کی صلاحیت موجود تھی۔
چقندر کی کیمیاوی ہئیت پر غور کریں تو اہم ترین بات جو سامنے آتی ہے، وہ اس میں شکر کی موجودگی ہے۔ عام طور پر یہ مقدار 24 فیصدی کے لگ بھگ ہوتی ہے۔ یہ عام بات ہے کہ لوگ بیماری کے دوران یا اس کے بعد کی کمزوری کے لئے گلوکوز دیتے ہیں۔ شکر اور نشاستہ کی قسم خواہ کوئی ہو، جسم کے اندر جا کر ایک مختصر سے عمل کے بعد گلوکوز میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس لئے چقندر کے دیگر اجزاء سے قطع نظر بھی کریں تو شکر کی موجودگی کمزوری کے لئے یقیناً فائدہ مند ہوگی۔ سبزی اور پھل جیسے بھی ہوں، ان میں ناقابل یضم مادہ کثیر مقدار میں ہوتا ہے جو قبض کو دور کرتا ہے۔

دردسر اور درد دانت اور آنکھوں کی سوزش کا علاج

چقندر کی جڑوں کا جوس نکال کر اگر اس کو ناک میں ٹپکایا جائے تو سر درد اور دانت درد دور کو فوراً دور کرتا ہے۔ اسے اگر اس کے اطارف میں لگایا جائے تو آنکھوں کی سوزش اور جلن میں مفید ہے۔ چقندر کے پانی کو روغن زیتون میں ملا کر جلے ہوئے مقام پر لگانا مفید ہے۔ سفید چقندر کا پانی جگر کی بیماریوں میں اچھے اثرات رکھتا ہے۔

چقندر کے بواسیر اور قبض پر اثرات

چقندر کے قتلوں کو پانی میں ابال کر اس پانی کی ایک پیالی صبح ناشتہ سے ایک گھنٹہ پہلے پینے سے پرانی قبض جاتی رہتی ہے اور بواسیر کی شدت میں کمی آ جاتی ہے۔ یورپ اور ایشیاء میں اکثر لوگ چقندر کے قتلوں کو ابال کر کھانے کے ساتھ سلاد کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

چقندر کے نسوانی اعضاء پر اثرات

سرخ چقندر کو نسوانی اعضاء کے لئے مقوی مانا گیا ہے۔ رحم کی کمزوری کے لئے بطور سبزی یا اس کا جوشاندہ ایک طویل عرصہ تک استعمال کرنا مفید ہے۔

امراض جلد میں چقندر کے فوائد

جلد کے زخموں، بفہ اور خشک خارش میں چقندر کے قتلوں کو پانی اور سرکہ میں ابال کر لگانا مفید ہے۔ اس مرکب کو دور چار مرتبہ لگانے سے سر کی خشکی غائب ہو جاتی ہے۔ سرکہ کی موجودگی کی وجہ سے زیرناف خارش میں بھی مفید ہے۔
چقندر ایک مفید اور مقوی غذا اور خارش کی متعدد قسموں کے لئے مقامی استعمال کی قابل اعتماد دوا ہے۔

چقندر کے دیگر فوائد

چقندر کے پتوں کا پانی نکال کر اس سے کلی کرنا اسے مسوڑھوں پر ملنے سے دانت کا درد جاتا رہتا ہے۔ بعض اطباء کا خیال ہے کہ ایسا کرنے کے بعد آئندہ درد نہیں ہوتا۔ سر کے بال کم ہوں تو چقندر کے پانی سے دھونا مفید ہے جبکہ نجم الغنی خاں اس میں بورہ ارضی ملا کر استسقاء اور ہاتھوں اور پیروں کے ورم پر لیپ کرنے کی تجویز کرتے اور فائدہ بیان کرتے ہیں۔
چقندر کے اجزاء دست آور ہیں جبکہ اس کا پانی دستوں کو بند کرتا ہے۔ سرخ قسم کو پکا کر کھانا کمزوری اور ضعف باہ میں مفید ہے۔ اس کو رائی اور سرکہ میں ڈال کر ہکانے کے بعد کھایا جائے تو یہ جگر اور تلی ست سدے نکال دیتا ہے۔ اسے کافی دنوں تک کھانے سے درد گردہ و مثانہ اور جوڑوں کے درد کو فائدہ ہوتا ہے۔
یہی ترکیب مرگی کی شدت کو کم کرنے میں مفید ہے۔ حکیم مفتی فضل الرحمٰن نے لکھا ہے کہ چقندر کے قتلے کاٹ کر ان کو پانی میں خوب ابالا جائے۔ اس پانی کے ساتھ نقرش یا گنٹھیا ولاے جوڑوں کو بار بار دھونے سے درد اور ورم جاتا ہے۔
اطباء نے لکھا ہے کہ چقندر کی اصلاح کے لئے سرکہ اور السی شامل کرنا مفید ہے کیونکہ اس طرح کرنے سے پیٹ میں نفخ نہیں پیدا ہوتا۔
(الماخوذ: فیضان طب نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وصحبہ وبارک وسلم)

کھجور کے 25 مدنی پھول

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الصلوٰۃ و السلام علیک یارسول اللہ

کھجور کے 25 مدنی پھول

امیر اہلسنت حضرت مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! احادیث مبارکہ میں سحری اور افطار میں کھجور کے استعمال کی کافی ترغیب موجود ہے۔ کھجور کھانا، اس کو بھگو کر اس کا پانی پینا، اس سے علاج تجویز کرنا یہ سب سنتیں ہیں۔ الغرض اس میں لاتعداد برکتیں اور بےشمار بیماریوں کا علاج ہے چنانچہ کھجور کے بارے میں 25 مدنی پھول پیش خدمت ہیں۔

مدینہ1: طبیبوں کے طبیب، اللہ عزوجل کے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے‘ عالی رتبہ “عجوہ“ (مدینہ منورہ کی سب سے عظیم کھجور کا نام) میں ہر بیماری سے شفا ہے۔ (مسلم) “ابو نعیم“ وغیرہ کی روایت کے مطابق روزانہ سات “عجوہ“ کھجور کھانے سے جذام (یعنی کوڑھ) میں فائدہ ہے۔

مدینہ2: میٹھے میٹھے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان جنت نشان ہے “عجوہ“ کھجور جنت سے ہے اس میں زہر سے شفاء ہے۔ (ابن النجار) بخاری شریف کی روایت کے مطابق جس نے نہار منہ “عجوہ“ کھجور کے سار دانے کھا لئے اس دن اسے جادو اور زہر بھی نقصان نہ دے سکیں گے۔

مدینہ3: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کھجور کھانے سے قولنج (یعنی بڑی انتڑی کا درد) نہیں ہوتا۔ (ابو نعیم)

مدینہ4: طبیبوں کے طبیب، اللہ عزوجل کے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان شفاء نشان ہے‘ نہار منہ کھجور کھاؤ اس سے پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں۔ (مسند فردوس)

مدینہ5: اللہ عزوجل کے محبوب دانائے غیوب منزہ عن العیوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عافیت نشان ہے “ میرے نزدیک جن عورتوں کو حیض میں کثرت سے خون آتا ہے ان کے لئے کھجور سے بہتر اور مریض کیلئے شہد سے بہتر کسی چیز میں شفاء نہیں۔“ (ابو نعیم، ابو الشیخ) (اس مرض میں عورت تازہ پکی ہوئی کھجور استعمال کرے، حدیث پاک میں مقدار بیان نہیں کی گئی اگر روزانہ سات دانے کھائے تو انشاءاللہ عزوجل فائدہ ہو جائے گا۔)

مدینہ6: جو فاقہ کی وجہ سے کمزور ہو گیا ہو اس کیلئے کھجور بہت مفید ہے کیونکہ یہ غذائیت سے بھرپور ہے۔ اس کے کھانے سے جلد توانائی بحال ہو جاتی ہے۔ لٰہذا افطار میں کھجور کھانے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔

مدینہ7: روزے میں فوراً برف کا ٹھنڈا پانی پی لینے سے گیس، تبخیر اور جگر کے ورم کا سخت خطرہ ہے۔ کھجور کھا کر ٹھنڈا پانی پینے سے نقصان کا خطرہ ٹل جاتا ہے، مگر سخت ٹھنڈا پانی پینا ہر وقت نقصان دہ ہے۔

مدینہ8: کھجور اور کھیرا، ککڑی، نیز کھجور اور تربوز ایک ساتھ کھانا سنت ہے۔ اس میں بھی حکمتوں کے مدنی پھول ہیں الحمدللہ عزوجل ہمارے عمل کیلئے تو اس کا سنت ہونا ہی کافی ہے اطباء کا کہنا ہے کہ اس سے جنسی و جسمانی کمزوری اور دبلاپن دور ہوتا ہے۔ مکھن کے ساتھ کھجور کھانا بھی سنت ہے، بیک وقت پرانی اور تازہ کھجوریں کھانا بھی سنت ہے۔ ابن ماجہ میں ہے، جب شیطان کسی کو ایسا کرتا دیکھتا ہے تو افسوس کرتا ہے کہ پرانی کے ساتھ نئی کھجور کھا کر آدمی تنومن (یعنی مضبوط جسم والا) ہو گیا۔

مدینہ9: کھجور کھانے سے پرانی قبض دور ہوتی ہے۔

مدینہ10: دمہ، دل، دہ، مثانہ، پتا اور آنتوں کے امراض میں کھجور مفید ہے۔ یہ بلغم خارج کرتی، منہ کی خشکی کو دور کرتی، قوت باہ بڑھاتی اور پیشاب آور ہے۔

مدینہ11: دل کی بیماری اور کالا موتیا کیلئے کھجور کو گھٹلی سمیت کوٹ کر کھانا مفید ہے۔

مدینہ12: کھجور کو بھگو کر اس کا پانی پی لینے سے جگر کی بیماریاں دور ہوتی ہیں۔ دست (جلاب) کی بیماری میں یہ پانی مفید ہے۔ (رات کو بگھو کر صبح اس کا پانی پئیں)

مدینہ13: کھجور کو دودھ میں ابال کر کھانا بہترین مقوی (یعنی طاقت دینے والی) غذاء ہے۔ یہ غذا بیماری کے بعد کی کمزوری دور کرنے کیلئے بےحد مفید ہے۔

مدینہ14: کھجور کھانے سے زخم جلدی بھرتا ہے۔

مدینہ15: کھجور یرقان ( پیلیا ) کیلئے بہترین دواء ہے۔

مدینہ16: سیدی محمد احمد ذھبی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں حاملہ کو کھجوریں کھلانے سے انشاءاللہ عزوجل لڑکا پیدا ہو گا جو کہ خوبصورت بردبار اور نرم مزاج ہو گا۔ (روزانہ سات کھجوریں کھلائیں)

مدینہ17: تازہ پکی ہوئی کھجوریں صفراء (یعنی “پت“ جسمیں قے کے ذریعے کڑوا پانی نکلتا ہے) اور تیزابیت کو ختم کرتی ہیں۔

مدینہ18: کھجور کی گھٹلیاں جلا کر اس کا منجن لگانے سے دانت چمکدار ہوتے ہیں اور منہ کی بدبو دور ہوتی ہے۔

مدینہ19: کھجور کی جلی ہوئی گھٹلیوں کی راکھ لگانے سے زخم کا خون بند ہوتا اور زخم بھر جاتا ہے۔

مدینہ20: کھجور کی گھٹلیوں کو آگ میں ڈال کر ناک سے دھونی لینا بواسیر کے مسوں کو خشک کرتا ہے۔

مدینہ21: کھجور کے درخت کی جڑوں یا پتوں کی راکھ سے منجن کرنا دانتوں کے درد کیلئے مفید ہے۔ جڑوں یا پتوں کو ابال کر اس سے کلیاں کرنا بھی دانتوں کے درد میں فائدہ مند ہے۔

مدینہ22: جس کو کھجور کھانے سے کسی قسم کا نقصان (Side Effect ) ہوتا ہو تو انار کا رس، یا خشخاش یا کالی مرچ کے ساتھ استعمال کرے انشاءاللہ عزوجل فائدہ ہوگا۔

مدینہ23: ادھ پکی اور پرانی کھجوریں بیک وقت کھانا نقصان دہ ہے اسی طرح کھجور اور انگور یا کشمش یا منقہ ملا کر کھانا، کھجور اور انجیر بیک وقت کھانا بیماری سے اٹھتے ہی کمزوری میں زیادہ کھجوریں کھانا، آنکھوں کی بیماری میں کھجوریں کھانا بھی مضر یعنی نقصان دہ ہے۔

مدینہ24: ایک وقت میں 5 تولہ سے زیادہ کھجوریں نہ کھائیں۔ پرانی کھجور کھاتے وقت کھول کر اندر سے دیکھ لینا سنت ہے۔ کیونکہ اس میں بعض اوقات سرسریاں (یعنی چھوٹے چھوٹے لال کیڑے) ہوتی ہیں۔ لٰہذا صاف کرکے کھائیں۔ بیچنے والے چمکانے کے لئے اکثر سرسوں کا تیل لگاتے ہیں۔ لٰہذا بہتر یہ ہے کہ کھجوروں کو چند منٹ کیلئے پانی میں بگھو دیں۔ تاکہ مکھیوں کی بیٹ اور میل کچیل چھوٹ جائے۔ پھر دھو کر استعمال فرمائیں۔ درخت کی پکی ہوئی کھجوریں زیادہ مفید ہوتی ہیں۔

مدینہ25: مدینہ منورہ کی کھجوروں کی گھٹلیاں پھینک دینا بےادبی ہے کسی ادب کی جگہ ڈال دیں یا دریا برد کر دیں، بلکہ ہو سکے ہو سروتے سے باریک ٹکڑے کرکے ڈبیہ میں ڈال کر جیب میں رکھ لیں اور چھالیہ کی جگہ استعمال کرکے اس کی برکتیں لوٹیں۔ مدینہ منورہ سے ہو کر آئی ہوئی ہر چیز ( خواہ وہ دنیا کے کسی بھی خطے کی ہو ) کا عشاق ادب کرتے ہیں۔

زیتون

زیتون

زیتون کا درخت تین میٹر کے قریب اونچا ہوتا ہے۔ چمکدار پتوں کے علاوہ اس میں بیر کی شکل کا ایک پھل لگتا ہے جس کا رنگ اودا اور جامنی ذائقہ بظاہر کسیلا اور چمکدار ہوتا ہے۔ مفسرین کی تحقیقات کے مطابق زیتون کا درخت تاریخ کا قدیم ترین پودا ہے۔ طوفان نوح کے اختتام پر پانی اترنے کے بعد زمین پر سب سے پہلی چیز نمایاں ہوئی، وہ زیتون کا درخت تھا۔ اس پس منظر کی بدولت زیتون کا درخت سیاست میں امن اور سلامتی کا نشان بن گیا ہے۔
زیتون کا پھل غذائیت سے بھرپور ہے مگر اپنے ذائقہ کی وجہ سے پھل کی صورت میں زیادہ مقبول نہیں۔ اس کے باوجود مشرق و سطٰی، اٹلی، یونان اور ترکی میں بہت لوگ یہ پھل خالص صورت میں اور یورپ میں اس کا اچار بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ یونان سے زیتون کا اچار سرکہ میں آتا ہے اور مغربی ممالک میں بڑی مقبولیت رکھتا ہے۔ یہ درخت یورپی ممالک، اٹلی، کیلیفورنیا اور آسٹریلیا اور دیگر یورپی ممالک سے درآمد ہوتا ہے۔
قرآن مجید نے زیتون اور اس کے تیل کا بار بار ذکر کرکے شہرت دوام عطا کر دی ہے۔
سورہ الانعام، سورہ النحل، سورہ النور، سورہ المومنون، سورہ التین، ان سورتوں میں اللہ تعالٰی نے زیتون کے درخت کو ایک مبارک یعنی برکت والا درخت قرار دیا۔ اس کے پھل کو اہمیت عطا فرمائی۔ پھر لوگوں کو متوجہ کیا کہ زیتون، کھجور، انار اور انگور میں فوائد کے خزانے بھرے پڑے ہیں۔ بشرطیکہ تم ان کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرو۔

حدیث پاک میں اس کی افادیت و اہمیت

حضرت اسیدالانصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، زیتون کے تیل کو کھاؤ اور اس سے جسم کی مالش کرو کہ یہ ایک مبارک درخت سے ہے۔ (ترمذی۔ ابن ماجہ۔ دارمی)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، “زیتون کا تیل کھاؤ اور اسے لگاؤ کیونکہ یہ پاک اور مبارک ہے۔“ (ابن ماجہ۔ حاکم)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم ذات الجنب کا علاج قسبط البحری اور زیتون کے تیل سے کریں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت فرماتے ہیں کہ تاجدار انبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ “زیتون کا تیل کھاؤ اور اسے لگاؤ کیونکہ اس میں ستر بیماریوں سے شفا ہے جن میں ایک کوڑھ بھی ہے۔“

زیتون کے تیل کو سر پر لگانے کا فائدہ
جو لوگ باقاعدگی سے یہ تیل سر پر لگاتے ہیں، نہ تو ان کے بال گرتے ہیں اور نہ ہی جلد سفید ہوتے ہیں۔ اس کی مالش سے داد اور بھوسی زائل ہو جاتے ہیں۔ کان میں پانی پڑا ہو تو زیتون کا تیل ڈالنے سے یہ پانی نکل جاتا ہے۔ اطباء نے لکھا ہے کہ اس کی سلائی باقاعدہ آنکھ میں لگانے سے آنکھ کی سرخی کٹ جاتی ہے اور موتیا بند کو کم کرنے میں مفید ہے۔

جسم پر مالش کے اثرات اور فوائد
زیتون کے تیل کی مالش کرنے سے اعضاء کو قوت حاصل ہوتی ہے۔ پھٹوں کا درد جاتا رہتا ہے۔ بعض طبیب اس کی مالش کو مرگی کے لئے بھی مفید قرار دیتے ہیں۔ وجع المفاصل اور عرق النساء کو دور کرتا ہے۔ چہرے کو بشاشت دیتا ہے۔ اسے مرہم میں شامل کرنے سے زخم بہت جلد بھرتے ہیں۔ ناسور کو مندمل کرنے میں کوئی دوائی زیتون سے بہتر نہیں۔

زیتون کے تیل سے قبض کا علاج
اکیس تولہ جو کے پانی میں روغن زیتون ملا کر پینے سے پرانی قبض جاتی رہے۔ تیل پینے سے معدہ اور آنتوں کے اکثر امراض جاتے رہتے ہیں۔ پیٹ کے کیڑے مارتا ہے۔ گردہ کی پتھری توڑ کر نکال سکتا ہے۔ استسقاء میں بھی مفید ہے۔ جسمانی کمزوری کو رفع کرتا اور پیشاب آور ہے۔

پتہ کی سوزش اور پتھری کا علاج
اطباء نے اسے مرارہ (پتہ) کی پتھری میں مفید قرار دیا ہے۔ پتہ کی سوزش اور پتھری کے مریضوں کو بنیادی طور پر چکنائی سے پرہیز کرایا جاتا ہے مگر روغن زیتون ان کے لئے بھی مفید ہے بلکہ پرانے اطباء نے مریضوں کو 2/1 1 پاؤ تک مریضوں کو روزانہ تیل پلا کر صفراوی نالیوں سے سرے نکالنے کا کام لیا ہے۔ بعض اوقات اسی عمل کے دوران پتھریاں بھی نکل جاتی ہیں۔

امراض تنفس اور زیتون کا تیل
نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ذات الجنب میں زیتون کا تیل ارشاد فرمایا۔ اس اصول کو سامنے رکھ کر سانس کی ہر بیماری کے مبتلا کو زیتون کا تیل ضرور دیا گیا۔ دمہ کے مریضوں کی بیماری میں جب کمی آ جائے تو آئندہ اس قسم کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لئے زیتون کے تیل سے بہتر دوا میسر نہ آ سکی۔
انفلوئنز اور زکام والوں کو باقاعدہ زیتون کا تیل پینے سے نہ ہی ان کو زکام لگتا ہے اور نہ ہی نمونیا ہوتا ہے۔ اگر ان کو کبھی انفلوئنزا ہو بھی جائے تو ان کا حملہ بڑا معمولی ہوتا ہے۔ زکام اور دمہ کے دوران اضافی فائدے کے لئے ابلے ہوئے پانی میں شہد بھی مفید ہے۔ (طب نبوی اور جدید سائنس)

تپ دق اور زیتون کا تیل

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی دونوں روایات میں ذات الجنب میں زیتون کا تیل تجویز ہوا۔ اس کے ساتھ ہی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روایت میں زیتون کا تیل جذام میں مفید ہے۔ علم الجراثیم اور علم الامراض کے اعتبار سے کوڑھ اور تپ دق کی توعیت ایک ہے۔ دونوں کے جراثیم Acid Fast ہوتے ہیں۔ اس لئے وہ ادویہ جو تپ دق پر مؤثر ہوتی ہیں، جذام میں بھی مفید ہیں اور اس کے برعکس بھی درست ہے۔ اس لئے تپ دق کے مریضوں کو اس نسخہ کے مطابق قسط اور زیتون دینے کا خیال پیدا ہوا۔ زیتون کے تیل کے سلسلہ میں معلومات کے دوران خان بہادر ڈاکٹر سعید احمد خان سے ملنے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر سعید صاحب پاکستان میں تپ دق کے علاج کے سبب سب سے بڑے سینی ٹوریم ڈاڈر ضلع مانسہرہ کے تیس سال سپرنٹنڈنٹ رہے ہیں۔ انھوں نے اس ضمن میں عجیب تجربہ سنایا۔
ایک مریض کو 1936ء میں دق ہو گئی۔ مدراس کے مدناپلی سینی ٹوریم میں اس کی پانچ پسلیاں نکال دی گئیں۔ اس کی حالت ابھی بہتر نہ ہوئی تھی تو معلوم ہوا کہ دق کا اثر آنتوں پر بھی ہو گیا ہے۔ اس زمانے کے علم کے مطابق lleocoecal Tuberculosis کا کوئی علاج نہ تھا۔ ڈاکٹروں نے اس مرحلہ پر اسے جواب دے دیا۔ مریض نے سارا دن رو رو کر مناجات کی۔ خواب میں اسے زیتون کا تیل، الٹراوائیلٹ، شعاعوں اور ایک دوائی کا اشارہ ہوا۔ دوائی تو وہ بھول گیا مگر روزانہ تین اونس تیل پینے لگا اور الٹراوائیلٹ شعاعیں لگوائیں۔
جس ہسپتال سے اسے علاج قرار دیا گیا تھا، اسی سے وہ تین ماہ بعد تندرست ہو کر فارغ ہوا۔ وہ مریض تادم تحریر پچاس سال کی عمر میں بھی سرخ و سفید 1991ء میں زندہ موجود تھا۔ اس مریض پر زیتون کے تیل کے اثرات کے مشاہدہ کے بعد ڈاکٹر سعید صاحب نے چالیس سال تک دق کے مریضوں کو علاج میں تیل ضرور دیا اور ان کا کوئی مریض ضائع نہ ہوا۔ ان مریضوں کو 25 گرام زیتون کا تیل روزانہ اور 8 گرام روزانہ قسط شیریں دی گئی۔ کمزوری کے لئے شہد، کھانسی کے لئے انجیر یا اس کا شربت اضافی طور پر دئیے گئے۔ ابتدائی درجہ کے مریض عام طور پر تین سے چاہ ماہ میں ٹھیک ہو گئے۔ علامات ختم ہونے اور خون کے نارمل ہونے کے بعد مریضوں کو زیتون کا تیل ایک سال تک پینے کی ہدایت کی گئی۔ چھ سال کے مشاہدوں میں کسی مریض کو دوبارہ تکلیف نہیں ہوتی۔ (طب نبوی اور جدید سائنس)

زیتون کے تیل سے پرانے زکام اور نکسیر کا علاج

ابن قیم نے زکام کے علاج میں قسط البحری کو مفید قرار دیا ہے۔ ذہبی کے مشاہدہ میں قسط کو سونگھنا بھی زکام میں مفید ہے جبکہ ایک روایت کے مطابق مرزنجوش سونگھنے سے زکام ٹھیک ہو جاتا ہے۔ پرانے زکام میں یا ان مریضوں کو جن کو بار بار زکام ہو جاتا ہے۔ زیتون کا تیل آئندہ کے لئے محفوظ کر دیتا ہے۔ بخاری اور ابن ماجہ میں خالد بن سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ والی روایت کے مطابق ایک چمچ کلونجی کو پیس کر بارہ چمچ زیتون کے تیل میں حل کرکے اس مرکب کو پانچ منٹ ابالنے کے بعد چھان لیا گیا۔ صبح شام ناک میں ڈالنے سے نہ صرف یہ کہ پرانا زکام ٹھیک ہوا بلکہ نکسیر میں بھی از حد مفید رہا۔

معدہ اور آنتوں کے سرطان کا علاج
جاپان کے بعض طبی جرائد نے آنتوں کے سرطان میں روغن زیتون کو مفید قرار دیا ہے مگر وہ اپنے اس بیان میں واضح نہ تھے۔ اس ضمن میں مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ میں طبی خدمت بجا لانے والے سینکڑوں ڈاکٹروں سے معلومات حاصل کی گئی۔ ان سب کا متفقہ جواب یہ تھا کہ انھوں نے زیتون کا تیل پینے والے کسی شخص کو بھی پیٹ کے سرطان میں مبتلا نہیں دیکھا۔ جاپانی ماہرین کا خیال ہے کہ لمبے عرصے تک زیتون کا تیل پینے سے معدہ اور آنتوں کے سرطان ٹھیک ہو سکتے ہیں۔

زیتون کا تیل بہتر ٹانک ہے

یہ طبیعت کو بحال اور چہرے کے رنگ کو نکھارتا ہے۔ پیٹ کے فعل کو اعتدال پر لاتا ہے۔ ذہبی کی تحقیقات کے مطابق بالوں اور جسم کو مضبوط کرکے بڑھاپے کے آثار کم کرتا ہے۔ کسی بھی چکنائی اور تیل کے پینے سے پیٹ خراب ہو سکتا ہے مگر زیتون کا تیل اس سے مستثنٰی ہے کیونکہ یہ تیل ہونے کے باوجود پیٹ کی بہت سی بیماریوں کے لئے مصلح ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ زیتون کا تیل غرباء کے لئے بہترین ٹانک ہے مگر زیتون کا وہ تیل جو سبز اور سنہری ہو، وہی مفید ہے۔ سیاہی مائل رنگ کا تیل مضر صحت ہے۔ صحیح تیل مقوی باہ، مقوی معدہ اور سینے کی بیماریوں سے تحفظ مہیا کرتا ہے۔ زیتون کا تیل آگ سے ہونے والے زخموں کے لئے اکسیر ہے۔
زیتون کے تیل میں نمک ملا کر اگر مسوڑھوں پر ملا جائے تو یہ ان کو تقویت دیتا ہے۔
ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس ایک مہمان آیا۔ انھوں نے رات کے کھانے میں اسے اونٹ کی سری اور زیتون کا تیل پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ “میں یہ تمھیں اس لئے کھلا رہا ہوں کہ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اس درخت کو مبارک درخر قرار دیا ہے۔“

زیتون کے تیل کے فوائد ایک نظر میں

* زیتون کا تیل زیادہ تر قروح معدہ میں 10 گرام پلاتے ہیں۔ خصوصاً سوتے وقت دودھ کے ساتھ ۔
* درد گردہ اور پتہ کی پتھری میں بےحد فائدہ بخش ہے۔
* حکماء کا قول ہے کہ زیتون سنگ مثانہ کو گلاتا، بلغم کو دور کرتا، پٹھوں کو مضبوط کرتا، تھکن کو دور کرتا اور منہ میں خوشبو پیدا کرتا ہے۔
* یہ نیک لوگوں کی غذا اور سر کا تیل بھی ہے۔
* یہ دونس 50 گرام کی مقدار میں ملین ہے جو متورم بواسیر، قروح معدہ، خونی بواسیر اور قبض میں ایک مفید دوا ہے۔
* تیل مقوی ہے اور امراض جلد میں شفا ہے۔
* پیٹ کی بیماریوں میں مفید ہے۔ تیل پرانا بھی ہو جائے تو مفید رہتا ہے۔
* آنکھ میں لگانے سے آنکھ کی سرخی کٹ جاتی ہے۔
* موتیا کو کم کرنے میں مفید ہے۔
* زہر خوانی میں اس کا تیل دودھ میں ملا کر پلانے سے آرام ہو جاتا ہے اور اجن بچ سکتی ہے۔
* اس کے تیل کی خصوصیت یہ ہے کہ اس پر چیونٹیاں نہیں آتیں اور جب اسے دئیے میں جلایا جائے تو یہ دیگر تیلیوں کی طرح دھواں نہیں دیتا۔
* دست آور ہے، آنتوں کے کیڑوں کو نکالتا ہے۔
* جلد میں نرمی اور ملائمت پیدا کرتا ہے۔
* بالوں کی سفیدی کو روکتا ہے۔
* ایگزیما اور چنبل میں قسط، سناہم وزن پیس کر روغن زیتون کا چار گنا میں پکا کر لگانا مفید ہے۔
* مسوڑھوں کا مضبوط بناتا ہے۔
* زیتون کا نمکین پانی آتش زدہ مقام پر آبلے نہیں آنے دیتا۔
* فالج اور اوجاع مفاصل میں بطور مالس استعمال سے فائدہ ہوتا ہے۔
* چنبل جیسے جلدی امراض، جلے ہوئے حصوں پر اور زخموں پر لگانے اور سخت جوڑوں کو نرم کرتا ہے۔
* رکٹس اور بچوں کے دق میں مالش سے کافی فائدہ ہوتا ہے۔
* بلا تکلیف صفراوی پتھریوں کو توڑتا ہے۔ کولیسٹرول جو صفراوی پتھریوں کا جزو اعظم ہے، اس کو روغن زیتون جسمانی حرارت 5۔98 پر تحلیل کرتا ہے اور چند دنوں میں پتے کی پتھری ایک ایسے رفیق محلول میں تبدیل ہو جاتی ہے جو اپنے مقررہ راستوں سے بآسانی گزر جاتی ہے۔ اس لئے درد جگر کے دورے ختم یو جاتے ہیں۔
الماخوذ: فیضان طب نبوی (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم)

نظر بد اور تعویذ ( سائنسی نقطہ نظر کے حوالے سے)

قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ،، لا رقیۃ الا من عین اوحمۃ ( مشکواۃ شریف صفحہ 390 لائن نمبر 14 ،، ابن ماجہ صفحہ 259 لائن نمبر 14 )
منتر ، تعویذ کی اجازت نہیں مگر نظر بد یا بچھو کے کانٹے پر

تعویذ کرنا !
عربی زبان کے اندر جھاڑ پھونک تعویذ ، منتر کرنے کو رقی ۃ کہتے ہیں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے خود دم کرنے کی اجازت دی ہے مشکواۃ شریف صفحہ 388 لائن نمبر 2 ، ابن ماجہ شریف صفحہ 259 لائن 20 پر حدیث مبارکہ ہے ۔
رخص فی الر قیۃ من الحمۃ والعین والنملۃ
حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دی دم کرنے کی ، تعویذ کرنے کی بچھو کاٹ لے ، نظر لگ جائے ، پہلو کے زخم ( پھینسیوں وغیرہ ) میں ۔
یہ بات تو ثابت ہے پھونک میں اثر ہوتا ہے یہاں رقیۃ کے دوسرے معنٰٰی تعویذ پر تھوڑی سے گفتگو کرنا ہے !
پادری لیڈر بیٹر فرماتے ہیں A Talisman or an amulet strongly charged with magnetism for a particular purpose. some one who possesses strong magnetic power may be for anvaluable help
ایک تعویذ یا منتر میں کوئی زبردست مقناطیسی شخصیت کسی خاص مقصد کے لئے مقناطیسی طاقت بھر دے بہت مفید ثابت ہوتا ہے ۔
آپ نے دیکھا ہو گا تعویذ لکھتے ہوئے کہ اس کے اندر ھندسے ہوتے ہیں ، وہ لکھ کر مریض کو دئیے جاتے ہیں جاؤ۔ یہ باندھ دینا یا لٹکا لینا ۔
حقیقت میں یہ مخصوص نمبرز ہیں جنکے لکھنے سے متعلقہ موکل فوراً پہنچ جاتے ہیں اور اللہ کی رضا سے وہاں سے مصیبت کو ہٹا دیتے ہیں جو انسان کو نظر نہیں آ رہی ہوتی ۔
وہی سسٹم ہو جو وائرلیس میں ہوتا ہے ۔ آپ مخصوص نمبر ملاتے ہیں فوراً متعلقہ بندے سے بات ہو جاتی ہے اسی طرح تعویذ کے اندر مخصوص بات کے لئے مخصوص نمبر ہوتے ہیں جو جہاں ہوتے ہیں وہ موکل ادھر پہنچ جاتے ہیں اور کام شروع کر دیتے ہیں ۔
یہ بات یاد رہے یہ موکل لکھنے والے کے قبضے میں ہوتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ ہر ایک کا لکھا ہوا تعویذ کام نہیں کرتا ۔
الفاظ اپنا اثر رکھتے ہیں ۔ پیرا سائیکا لوجی ( para psychology) کے ایک ماہر پروفیسر پیرل ماسٹر کے مطابق نام زندگی پر اس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں کہ الفاظ کا ترجمہ انسانی شخصیت کے نکھار یا بگاڑ کو ظاہر کرتا ہے ۔ انہوں نے لفظ رحیم اور پرویز کا موازنہ کیا تو لفظ رحیم سے سبز اور سفید روشنی نکلتی ہوئی محسوس ہوئی ۔ جبکہ لفظ پرویز میں سے black اور dark brown روشنی نکلتی ہوئی محسوس ہوئی ۔
یہ روشنی بدن سے نکلتی ہے ، ماہرین روحانیت spiritualists کے ہاں ہر حرف کا ایک خاص رنگ اور اس میں ایک خاص طاقت ہوتی ہے ، غیب بینوں ( Clairvoyants) نے حروف کو لکھ کر تیسری آنکھ سے دیکھا تو انہیں الف کا رنگ سرخ، ب کا نیلا ، د کا سبز اور س کا زرد نظر آیا ۔
پھر انکے اثرات کا جائزہ لیا تو بعض الفاظ کے پڑھنے سے بیماریاں جاتی رہیں الفاظ طاقت کا خزانہ ہیں حضرت عیسٰی علیہ السلام فرماتے ہیں !
My words are life to those that find them and health to all their flesh
میرے الفاظ میرے ماننے والوں کے لئے زندگی اور انکے اجسام کے لئے صحت ہیں ۔
اللہ پاک نے بھی تو ایک لفظ ہی کہا تھا ۔
By the Word of Lord were the heavens made
اللہ کے ایک لفظ سے آسمان پیدا ہوئے ۔
الہامی الفاظ Highly Energized ہوتے ہیں ۔
The master and the path کے مصنف لیڈ بیٹر فرماتے ہیں ۔
Each word as it is uttered makes a little form in etheric matter
ہر لفظ ایتھر میں ایک خاص شکل اختیار کر لیتا ہے ۔
Astrologist ڈاکٹر لیول پاؤل کہتے ہیں ۔
مسلمانوں کی الہامی کتاب الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک خاص انرجی کا پیٹرن ہے اس کی طاقت نہ صرف پڑھنے والے میں منتقل ہوتی ہے بلکہ قریب بیٹھنے والوں کو بھی گھیر لیتی ہے ۔
[size=36]نظر بد ![/size]
ہماری گفتگو دو الفاط پر تھی ۔ تعویذ اور نظر بد لگنا
ہم اکثر استعمال کرتے ہیں کہ فلاں بچے کو نظر لگ گئی ۔
حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔
العین حق ( ابن ماجہ صفحہ 258 )
واقعی نظر لگتی ہے ۔
وعن عائشہ قالت امر النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان یسترقی من العین ۔ ( بخاری ۔ مسلم ۔ مشکواۃ شریف صفحہ 388 ، لائن نمبر 3 )
حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ھم نظر بد کے لئے تعویذ کروائیں ۔
مخفی علوم میں سے ایک علم Parapsychology کے نام سے سامنے آتا ہے ۔
اس علم کے ماہرین فرماتے ہیں کہ ہر انسان کی آنکھ سے کچھ غیر مری شعاعیں ھمہ وقت نکلتی رہتی ہیں ان کی نوعیت مثبت اور منفی دونوں ہو سکتی ہیں یہ شعاعیں جلد میں موجود مسامات کے ذریعے انسانی جسم میں جذب ہو جاتی ہیں ۔
منفی شعاع ہو گی تو جسم کو نقصان پہنچائے گی ، مثبت ہو گی تو تعمیر جسم کا باعث بنے گی ۔
ڈاکٹر کر نگٹن کہتے ہیں کہ انسانی باڈی سے مثبت اور منفی لہروں کا خروج ہوتا ہے وہ اس لہر کو Aura کا نام دیتے ہیں اور فرماتے ہیں ۔
Aura Is an invisible magnetic radiation from the human body whch either attracts or repels.
ترجمہ ۔ اورا وہ غیر مری مقناطیسی روشنی ہے جو انسانی جسم سے خارج ہوتی ہے یہ یا تو دوسروں کو اپنی طرف کھینچتی ہے یا پرے دھکیلتی ہے ۔
منفی سوچ و کردار والے آدمی کی شعاعیں دوسرے جسم کو نقصان پہنچاتی ہیں ڈاکٹر نکلسن ڈیویز جو علم روحانیت میں ایک مستند حیثیت رکھتے ہیں وہ فرماتے ہیں نگاہیں جہاں جہاں پڑتی ہیں وہیں جمتی ہیں پھر ان کا اچھا یا برا اثر اعصاب دماغ اور ہارمونز پر پڑتا ہے ۔
نظر میں کتنا اثر ہوتا ہے اس کی ایک ایک مثال سنتے پڑھتے جائیں آپ کو یقین ہو جائے کہ نظر بڑا اثر رکھتی ہے ۔
ترقی کے ڈاکٹر ھلوک نور باقی Radiobiology Specialist ہیں اپنے موضوع
The situation of those in the heavens and on the earth at the resurrection
میں فرماتے ہیں کہ ایک خاص قسم کے کچھوے ہیں جو انڈے دینے کے بعد اکیّس دن ان کو گھورتے ہیں ان کی آنکھوں سے ایسی شعاعیں نکلتی ہیں جو انڈوں کو پکاتی ہیں اور بچے پیدا ہوتے ہیں ۔
کچھوے کی آنکھ میں اثر ہو سکتا ہے تو انسان کی آنکھ میں اثر نہیں ہو سکتا؟
ڈاکٹر الیگز ینڈر کانن ( Dr Alexander Canon ) اپنی کتاب The invisible Influence کے صفحہ 51، 52، پر فرماتے ہیں ۔
ناگ اپنے شکار پر اچانک حملہ نہیں کرتا بلکہ اس کے قریب آکر اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑتا ہے ۔ پھر سر کو اس انداز سے ھلاتا ہے کہ شکار ہپنا ٹائزڈ ہو کر رہ جاتا ہے ۔
یعنی سانپ کی آنکھوں سے ایسی شعاعوں کا خروج ہوتا ہے کہ شکار ایک دم جام ہو جاتا ہے ۔
ہر چیز سے لہریں نکلتی ہیں اسی طرح بندے سے بھی مقناطیسی لہروں کا خروج ہوتا ہے ۔
Like the earth man also has magnetic vibrations which produce different impressions in different cases.
ڈاکٹر الیگزینڈر فرماتے ہیں کہ
زمین کی طرح انسان کی ھستی بھی مقناطیسی لہریں خارج کرتی ہے جن کا اثر مختلف حالات میں مختلف ہوتا ہے ۔
اگر لہریں نیک آدمی سے نکلیں جس کے خیالات و اعمال پاک ہوں تو وہ دوسروں میں محبت پیدا کریں گے ۔
خلاصہ !
میرا اتنے سارے دلائل دینے کا مقصد صرف یہ تھا کہ آپ جان جائیں ہر شے سے لہریں یا شعاعیں نکلتی ہیں اور وہ بھی اثر رکھتی ہیں اسی طرح آدمی بھی کسی چیز کو دیکھے تو دوسرے جسم پر اثر ہوتا ہے برے آدمی کی نظر بد سے بچنے کے لئے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ تم تعویذ کرواؤ ۔
آج1414 سال بعد تحقیق ہوئی ہمارے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اتنی ساری تحقیق کو دو لفظوں میں بند کردیا ۔
نظر لگتی ہے بچنے کے لئے تعویذ کرواؤ ۔

کلونجی کے 17 مدنی ہھول

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اللہ
کلونجی کے 17 مدنی ہھول
از: مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ

مدینہ1: کالادانہ (کلونجی) میں موت کے سوا ہر بیماری کی شفاء ہے۔ ( مراۃ شرح مشکوٰۃ ص 217 )
مدینہ2: کلونجی شہد کے ساتھ کھانے سے ( گردے، مثانے کی ) پتھری نکل جاتی ہے۔
مدینہ3: کلونجی کو جلا کر کھانے سے بواسیر دور ہوتا ہے۔
مدینہ4: کلونجی کھانے سے پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں۔
مدینہ5: کلونجی کو تیل میں جوش دے کر سر میں تیل لگانے سے درد سر، نزلہ اور زکام میں فائدہ ہوتا ہے۔
مدینہ6: اگر خشکی کی وجہ سے جسم پر پپڑیاں سی بن گئی ہوں تو کلونجی کھانے سے ختم ہو جاتی ہیں۔
مدینہ7: کلونجی کو پانی میں جوش دے کر غرارے کرنے سے دانتوں کا درد دور ہوتا ہے۔
مدینہ8: پیشاب نہ آنے کی صورت میں کلونجی کے کھانے سے پیشاب کھل جاتا ہے۔
مدینہ9: کلونجی میں سرکہ ملا کر کھانے سے بلغمی ورم دور ہوتا ہے۔
مدینہ10: زیتون کے تیل میں کلونجی ڈال کر سونگھنے سے آنکھوں کا درد جاتا رہتا ہے۔
مدینہ11: کلونجی بلغمی بخار کیلئے مفید ہے۔
مدینہ12: کلونجی حیض کی رکاوٹ کو دور کرتی ہے۔
مدینہ13: کلونجی سرکہ میں ملا کر برص کوڑھ پر لگانے سے فائدہ ہوتا ہے۔
مدینہ14: کلونجی پیس کر مہندی میں ملا کر سر میں لگانے سے سر کے بال جھڑنا بند ہوتے ہیں۔
مدینہ15: کلونجی کا استعمال سینے کے درد اور کھانسی میں مفید ہے۔
مدینہ16: دماغ کی بیماری ہو تو کلونجی کے اکیس دانے کپڑے کی پوٹلی میں باندھ کر پانی میں ابالیں۔ پہلے دن سیدھے نتھنے میں دو قطرے اور الٹے نتھنے میں ایک قطرہ۔ دوسرے دن الٹے نتھنے میں دو قطرے اور سیدھے نتھنے میں ایک قطرہ ڈالیں۔ انشاءاللہ عزوجل تین دن میں شفاء حاصل ہو جائے گی۔
مدینہ17: ہر صبح چٹکی بھر کلونجی 12 قطرے اصلی شہد میں ملا کر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر شہادت کی انگلی سے چاٹیں تو انشاءاللہ عزوجل بہت سی بیماریاں ختم ہو جائیں گی۔
شوگر کا علاجبڑی الائچی کے اندر سے دانے نکال کر روازنہ صبح و شام پانچ پانچ دانے چبا لیا کریں۔ انشاءاللہ عزوجل شفاء حاصل ہو گی۔

شوگر کا علاج
بڑی الائچی کے اندر سے دانے نکال کر روزانہ صبح و شام پانچ پانچ دانے چپا لیا کریں۔ انشآءاللہ عزوجل شفاء حاصل ہو گی۔

پانی کے ذریعے علاج


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہ
الصلوٰۃ و السلام علیک یارسول اللہ

بقول اطباء پانی سے ان بیماریوں کا کامیاب علاج کیا گیا ہے (1) درد سر (2) بلڈ پریشر (3) لقوہ (4) بیہوشی (5) بلڈ کولیسٹرول (6) بلغم (7) کھانسی ( 8 ) دمہ (9) ٹی بی (10) مینن جائنٹس (11) جگر کے امراض (12) پیشاب کی بیماریاں (13) تیزابیت (14) گیس ٹربل (15) مروڑ (16) قبض (17) ذیا بیطس ( 18 ) بواسیر (19) آنکھ کے امراض (20) استحاضہ ( حیض کی بیماریاں ) (21) بچی دانی کا کینسر (22) ناک اور گلے کے امراض

پانی پینے کا طریقہ

بغیر منہ دھوئے اور کلی کئے نہار منہ 1250ml یعنی چار بڑے گلاس پانی ایک ساتھ پی جائیں۔ اب 45 منٹ تک کچھ بھی نہ کھائیں پئیں۔ ہاں اب منجن، کلی وغیرہ میں حرج نہیں۔ یہ علاج شروع کرنے کے بعد کھانا کھانے کے دو گھٹنے بعد ہی پانی پئیں اور سونے کے آدھے گھٹنے قبل کچھ نہ کھائیں۔ اگر ابتداً چار گلاس نہیں پی سکتے تو ایک یا دو گلاس سے شروع کریں۔ آہستہ آہستہ بڑھا کر چار گلاس کر دیں۔ مریض تندرست ہونے کے لئے اور غیر مریض تندرست رہنے کے لئے یہ طریق علاج اپنائیں۔
اطباء کے بقول اس علاج سے مندرجہ امراض بتائی ہوئی مدت میں ٹھیک ہو سکتے ہیں۔
مرض: قبض
مدت شفاء: دو دن
مرض: گیس کے امراض
مدت شفاء: دو دن
مرض: ہائی بلڈ پریشر
مدت شفاء: ایک ماہ
مرض: کینسر
مدت شفاء: ایک ماہ

نوٹ: چار بڑے گلاس پانی ایک ساتھ پی جانے سے کوئی نقصان  نہیں ہوتا۔ ہاں شکم سیری ہو جائے گی۔ اور انشاءاللہ عزوجل تقریباً پون گھنٹے کے بعد بھوک لگ جائے گی۔ ابتداً تین روز ہو سکتا ہے چند بار پیشاب آئے اس کے بعد انشاءاللہ عزوجل حسب معمول آئے گا۔
مدنی پھول: علاج کرنا بھی سنت ہے اور دوسروں کو علاج تجویز کرنا بھی سنت ہے۔
دعوت اسلامی کے سنتوں کی تربیت کے مدنی قافلے میں سفر کرکے اپنی پریشانی کے حل کے لئے دعا مانگئیے۔ انشاءاللہ عزوجل مایوسی نہیں ہو گی۔  

امنڈتی ہوئی اموات

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الصلوٰۃ و السلام علیک یارسول اللہ
امنڈتی ہوئی اموات

فالج، بلڈ پریشر، ہارٹ اٹیک، ایڑز، کینسر اور ہیپاٹائٹس B/C

بعض کا ابھی تک علاج دریافت نہیں ہو سکا۔ ۔ ۔ ؟ بلکہ اکثر کے حفاظتی ٹیکے اور ویکسین بھی نہیں ۔ ۔ ۔ ؟
 

اب کیا ہو گا ۔ ۔ ۔ ؟ مایوس نہ ہوں !

آئیے ! اللہ عزوجل کی عطا سے دو جہاں کے مالک و مختار ہم بے کسوں کے مددگار، حبیب پروردگار ( عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ) کی بارگاہ بے کس پناہ سے برسنے والی عطاؤں کو لوٹنے کے لئے اپنے دامن کو پھیلا کر “ مدنی ویکسین “ کے ذریعے ان موذی بیماریوں سے اپنے آپ کو محفوظ کر لیجئے ( یہ مریض مر رہا ہے تیرے ہاتھ میں شفا ہے۔ اے طبیب جلد آنا مدنی مدینے والے، صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم )

از: امیر اہلسنت محمد الیاس عطار قادری رضوی

الحدیث: سرکار نامدار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عظمت نشان ہے
جو شخص کسی مصیبت زدہ کو دیکھ کر یہ دعا پڑھے گا تو اس بلا اور مصیبت سے محفوظ رہے گا
اَلحَمدُللہِ عَافَانِی مِمَّا ابتَلاَکَ بِہ وَ فَضَلَنِی عَلٰی کَثِیرٍ مِّمَّن خَلَقَ تَفضِیلاً ہ

( ترمذی شریف جلد5 ص 272 راوی حضرت عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہما۔ ابن ماجہ جلد4 ص295 راوی حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ ) “ مطبوعہ بیروت “
جس طرح لوگ ڈاکٹروں کے بتائے ہوئے “ حفاظتی ٹیکے “ لگوا کر پورے یقین کے ساتھ اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں، اگر ہم بھی کامل یقین کے ساتھ اپنے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے کسی بھی مریض کو دیکھ کر اس “ دعا “ کو پڑھ لیں گے تو انشاءاللہ عزوجل ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس موذی بیماری سے محفوظ ہو جائیں گے ( اس دعا کو پڑھتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اتنی آواز سے نہ پڑھیں کہ مصیبت زدہ سن لے کیونکہ بلند آواز کے ساتھ پڑھنے سے ہو سکتا ہے اس کی دل شکنی ہو۔ )
امام اہلسنت، مجدد دین و ملت پروانہ ء شمع رسالت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن کا فرمان نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر کامل یقین اور روحانی مشاہدات
آپ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے بہت شدید بخار تھا، میرے منجھلے بھائی ( مولانا حسن رضا خان صاحب ) ایک طبیب کو لائے۔ ان دنوں بریلی میں مرض طاعون بشدت تھا۔ ان صاحب نے بغور دیکھ کر چند مرتبہ کہا “ یہ وہی ہے “ یعنی ( طاعون ) میں بالکل کلام نہ کر سکتا تھا اس لئے انہیں جواب نہ دے سکا، حالانکہ میں خوب جانتا تھا کہ یہ غلط کہہ رہے ہیں، نہ مجھے طاعون ہے اور نہ انشاءاللہ عزوجل العزیز کبھی ہو گا۔ اس لئے کہ میں نے طاعون زدہ کو دیکھ کو کئی مرتبہ وہ دعا پڑھ لی ہے، جسے حضور سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا “ جو شخص کسی بلا رسیدہ کو دیکھ کر یہ دعا پڑھ لے گا اس بلا سے محفوظ رھے گا۔“ جن جن امراض کے مریضوں، جن جن بلاؤں کے مبتلاؤں کو دیکھ کر میں نے اسے پڑھا۔ الحمدللہ عزوجل آج تک ان سب سے محفوظ ہوں۔ اور انشاءاللہ عزوجل ہمیشہ محفوظ رہوں گا۔ مجھے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد پر وہ اعتماد نہ تھا کہ طبیبوں کے کہنے سے ( معاذاللہ عزوجل ) کمزور ہوتا۔ یہ میں نے اس لئے بیان کیا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے دائم و باقی معجزات ہیں جو آج تک آنکھوں سے دیکھے جا رہے ہیں اور انشاءاللہ عزوجل قیامت تک اہل ایمان مشاہدہ کریں گے۔ میں اگر انہی واقعات کو بیان کروں جو میں نے خود اپنی ذات میں مشاہدہ کئے تو ایک دفتر درکار ہو۔ ( الملفوظ حصہ اول ص 19 )
دعوت اسلامی
کے سنتوں کی تربیت کے مدنی قافلے میں سفر کرکے اپنی پریشانی کے حل کے لئے دعا مانگئیے۔ انشاءاللہ عزوجل مایوسی نہیں ہو گی۔
طالب غم مدینہ و بقیع و مغفرت
محمد الیاس عطار قادری رضوی ( دامت برکاتہم العالیہ )