کپڑے موڑ کر نماز پڑھنے کا حکم

سوال: آج کل ہمارے نوجوانوں میں یہ بیماری پھیلتی جارہی ہے، خصوصا وہ نوجوان جو پینٹ شرٹ میں ملبوس ہوتے ہیں، وہ مسجد میں داخل ہوتے ہی اپنی پینٹ کے پائنچوں کو موڑ لیتے ہیں اور بہت زیادہ موڑتے ہیں اور بعض لوگ شلوار کو نیفے کی طرف گھرستے ہیں یا موڑتے ہیں۔ اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
جواب: ہم جب نماز کا ارادہ کرتے ہیں تو گویا ہم اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہورہے ہیں جو سارے حاکموں کا حاکم ہے۔ اس کی بارگاہ سے بڑھ کر کوئی بارگاہ نہیں۔ لہذا اس کی بارگاہ میںانتہائی ادب کے ساتھ حاضر ہونا چاہئے۔ نہایت ہی سلیقے کے ساتھ اچھا لباس پہن کر حاضر ہوں۔ اس مثال کو یوں سمجھ لیجئے کہ آپ ہم کسی دنیاوی افسر کی خدمت میں جاتے ہیں توپہلے اپنا حلیہ اچھا کرتے ہیں پھر اپنا لباس درست کرتے ہیں، آستیں چڑھی ہوئی ہوتی ہیں تو اسے سیدھی کرلیتے ہیں۔ شلوار کا پائنچا اگر اوپر نیچے ہو تو اسے درست کرتے ہیں تو جب دنیاوی دربار کا اس قدر احترام ہے تو جو بارگاہ تمام بارگاہوں سے افضل و اعلیٰ ہے اس بارگاہ کا احترام کس قدر ہونا چاہئے۔ اب شلوار کو نیفے کی طرف سے یا پینٹ کے پائنچے کو نیچے سے موڑنے کی مذمت میں احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔
حدیث= عن ابن عباس امر النبی ﷺ ان یسجد علی سبعۃ اعضاء ولا یکف شعراء ولا ثوبا الجبھۃ، والیدین، والرکبتین، والرجلین (بخاری شریف، باب السجود علی سبعۃ اعظم، کتاب الاذان، حدیث 809، ص 155، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان)
ترجمہ= حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی پاک صاحب لولاکﷺ نے سات اعضاء پر سجدہ کرنے اور بالوں اور کپڑے کو نہ موڑنے کا حکم دیا ہے (وہ سات اعضاء یہ ہیں) پیشانی، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پائوں۔
شارح بخاری علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمہ اس حدیث شریف کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ شریعت کی اصطلاح میں کپڑے کا موڑنا (فولڈ کرنا) اور سجدہ میں جاتے وقت اپنے کپڑے کو اوپر کی طرف کھینچنا ہے۔ یہ فعل کپڑے کاٹخنوں کے نیچے رہنے سے زیادہ قبیح و نقصان دہ ہے کیونکہ پہلی صورت میں یعنی کپڑا بغیر تکبر کی نیت کے ٹخنے سے نیچے رکھنے میں نماز مکروہ تنزیہی (برا) ہے یا خلاف اولیٰ ہوگی اور کف ثوب کی صورت میں خواہ نیفے یا پائنچے کی طرف سے موڑے (مکروہ تحریمی ہے) اور اسی طرح آدھی کلائی سے زیادہ آستین وغیرہ موڑنے یا دامن سمیٹ کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ (نماز کو دوبارہ لوٹانا ہے)
(بحوالہ: عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، جلد 6، ص 90)
علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمہ کی شرح سے دو باتیں سامنے آئیں کہ اگر شلوار، ازار یا پینٹ بغیر تکبر کی نیت سے ٹخنوں سے نیچے ہو تو مکروہ تنزیہی یعنی برا فعل ہے جبکہ شلوار ازار یا پینٹ کو اوپر یا نیچے سے موڑنا (فولڈ کرنا) مکروہ تحریمی ہے یعنی نماز لوٹانی ہوگی۔ عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اگر ہمارے سامنے دو مصیبتیں ہوں، ایک چھوٹی اور ایک بڑی تو چھوٹی مصیبت اپنا لینی چاہئے لہذا ازار یا پینٹ بڑی ہے تو مکروہ تحریمی سے بچنے کے لئے فولڈ نہ کریں۔ کوشش کریں کہ شلوار، ازار یا پینٹ جب بھی سلوائیں ٹخنوں کی اوپر ہی سلوائیں، بالفرض یہ بات علم میں نہ تھی تو اب جس قدر ہوسکے ، اوپر کرلیں، باوجود اوپر کرنے کے بھی ٹخنوں تک آجاتی ہے تو اب اوپر یا نیچے سے فولڈ نہ کریں۔ اسی حالت میں نماز پڑھ لیں۔
در مختار میں ہے اور اس کے تحت علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ کف ثوب مکروہ تحریمی ہے یعنی کپڑے کا موڑنا اگرچہ کپڑے کو مٹی سے بچانے کی نیت سے ہو، جیسے آستین دامن موڑنا اگر ایسی حالت میںنماز میں داخل ہوا کہ اس کی آستین یا اس کا دامن موڑا ہوا تھا جب بھی مکروہ تحریمی ہے اور اس قول سے اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ یہ موڑنا (فولڈ) کرنا حالت نماز کے ساتھ ہی مخصوص نہیں، خواہ نماز شروع کرنے سے پہلے یا دوران نماز ہو سب صورتوں میں مکروہ تحریمی ہے (در مختار، جلد اول، ص 598)
کپڑا ٹخنے سے اوپر رکھنے کا حکم
حدیث= عن عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم من جرثوبہ خیلاء لم ینظر اﷲ الیہ یوم القیمۃ فقال ابوکر ان احد شقی ثوبی یسترخی الا ان اتعاھدذلک منہ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم انک لست تصنع ذلک خیلاء (بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی، باب قول النبی لو کنت متخذا خلیلا،حدیث 3665، ص 667، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)
ترجمہ: حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا جو ازراہ تکبر و غرور کپڑا گھسیٹ کر چلے، قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے کہا یا رسول اﷲﷺ میرے کپڑے کا ایک کونہ لٹک جاتا ہے مگر یہ کہ میں اس کی دیکھ بھال کرتا ہوں۔رسول اﷲﷺ نے فرمایا (اے ابوبکر) تم یہ تکبر و غرور سے نہیں کرتے۔
اس حدیث شریف سے واضح ہوگیا کہ کپڑے ٹخنے سے نیچے لٹکانے کی دو صورتیںہیں۔
1۔ تکبر کے ساتھ
2۔ بغیر تکبر کے
پہلی صورت تکبر کے ساتھ شلوار ٹخنوں کے نیچے لٹکانا حرام اور مکروہ تحریمی ہے۔ دوسری صورت میں بغیر تکبر کی نیت سے شلوار ٹخنوں سے نیچے رکھنا مکروہ تنزیہی ہے۔
سوال: شلوار کو ٹخنوں سے نیچے رکھناہی تو تکبر ہے؟
جواب: یہ بات درست نہیں ہے۔ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے۔ موجودہ دورمیں ہر دوسرے آدمی کی شلوار ٹخنوں سے نیچے ہوتی ہے تو کیا سب کو متکبر (تکبر کرنے والوں میں) شمار کیا جائے گا۔ ایسا کہنا زیادتی ہے کیونکہ صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کو رسول پاکﷺ کی جانب اجازت سے کامل جانا کہ اے ابوبکر رضی اﷲ عنہ! تم تکبراً نیچے کرنے والے نہیں ہو، ثابت کرتا ہے کہ اس میں نیت کا بڑا عمل دخل ہے۔
سوال: لوگوں کی کافی تعداد مسجد میں داخل ہوتے ہی اپنی شلوار اوپر سے اور پینٹ نیچے سے فولڈ کرلیتی ہے اور مسجد سے باہر نکلتے ہی فورا اپنی شلوار اور پینٹ درست کرلیتی ہے؟
جواب: یہ سب لاعلمی کی وجہ سے ہے۔ ایک بات ذہن نشین رکھیں کہ شلوار یا پینٹ کو ٹخنوں سے اوپر رکھنے کا حکم ہروقت ہے۔ صرف نماز کے لئے خاص نہیں ہے۔مذکورہ حدیث میں کہیں یہ نہیں حکم دیا گیا کہ نماز کے وقت یہ اہتمام کرو بلکہ ہر وقت اس کی احتیاط ضروری ہے۔

Advertisements

نماز کے فرائض

نماز کے فرائض
نماز کے سات فرائض ہيں۔
۔1۔  تکبير تحريمہ جو دراصل نماز کي شرائط ميں سے ہے مگر نماز کے افعال سے بہت زيادہ تعلق ہونے کي وجہ سے اسے نماز کے فرائض ميں بھي شمار کيا جاتا ہے۔
تکبير تحريمہ کہنے کے وقت نماز کي کوئي بھي شرط نہ پائي گئي تو نماز نہ ہوگي۔
اگر مقتدي نے لفظ  (اللہ)  امام کے ساتھ کہا ليکن  (اکبر)  کو امام سے پہلے ختم کر ليا تو نماز نہ ہوئي۔  اگر مقتدي امام کو رکوع کي حالت ميں پائے تو مقتدي کو چاہيے کہ تکبير تحريمہ قيام کي حالت ميں کہے اور پھر دوسري تکبير کہتے ہوئے رکوع ميں جائے۔ اگر پہلي رکعت کا  رکوع مل جائے تو تکبير اولي کي فضيلت مل جاتي ہے۔
۔2۔ قيام يعني سيدھا کھڑا ہونا نماز ميں فرض ہے۔ قيام اتني دير تک ہے جتني دير تک قرات کي جائے۔ قيام اس وقت ساقط ہوگاجب کوئي کھڑا نہ ہوسکے يا سجدہ کرنے پر قادر نہ ہو يا اس سے مرض ميں زيادتي ہوتي ہو يا ناقابل برداشت تکليف ہوتي ہو۔
معمولي بخار يا قابل برداشت تکليف کے باعث قيام چھوڑنا جائز نہيں، اسکي اہميت اس قدر ہے کہ اگر مريض عصا يا خادم يا ديوار سے ٹيک لگا کر کھڑا ہو سکتا ہو تو فرض ہے کہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے ۔ اگر کچھ دير کھڑا ہوسکتا ہو اگرچہ اتنا ہي کہ کھڑا ہو کر اللہ  اکبر  کہہ لے تو فرض ہے کہ کھڑا ہو کر اتنا کہہ لے پھر بيٹھ کر نماز ادا کرے۔
۔3۔  قرات يعني تمام حروف کا مخارج سے ادا کرنا تاکہ ہر حرف دوسرے حروف سے ممتاز ہوجائے نيز ايسے پڑھنا کہ اسے خود سن سکے، فرض ہے۔ محض لب ہلانا تلاوت کے ليے کافي نہيں۔ پڑھنے کي تعريف يہ ہے کہ کم از کم اتني آواز سے پڑھے کہ خود سنے۔  اگر ايسے پڑھے  کہ خود نہ سن سکے جبکہ سننے سے مانع کوئي سبب مثلا شور و غيرہ نہ ہو تو نماز نہ ہوگي۔
فرض نماز کي پہلي دو رکعتوں ميں اور وتر و نوافل کي ہر رکعت ميں مطلقا ايک آيت پڑھنا فرض ہے۔ امام کي قرات مقتديوں کے ليے کافي ہے لہذا مقتدي کو کسي نماز ميں قرات جائز نہيں خواہ وہ سري نماز ہو (يعني  ظہر  و  عصر)  يا جہري نماز (فجر،  مغرب،  عشاء)
۔4۔  رکوع بھي فرض ہے۔ اسکا ادني درجہ يہ ہے کہ اتنا جھکا جائے کہ ہاتھ بڑھائيں تو گھٹنوں تک پہنچ جائيں اور اعلي يہ ہے کہ کمر سيدھي ہو نيز سر اور پيٹھ يکساں اونچے ہوں۔
۔5۔ سجود يعني ہر رکعت ميں دوبار سجدہ کرنا فرض ہے۔ پيشاني اور ناک کي ہڈي کا زمين پرجمنا سجدہ کي حقيقت ہے اور ہر پاؤں کي ايک انگلي کا پيٹ لگنا شرط۔ اگر کسي نے اس طرح سجدہ کيا کہ دونوں پاؤں زمين سے اٹھے رہے تو نماز نہ ہوئي بلکہ اگر صرف انگلي کي نوک زمين سے لگي جب بھي نماز نہ ہوئي۔
۔6۔  قعدہ اخيرہ يعني تمام رکعتيں پڑھ کر اتني دير بيٹھنا کہ پوري تشہد پڑھ لي جائے، فرض ہے۔ اگر سجدہ سہو کيا تو اسکے بعد بقدر تشھد بيٹھنا فرض ہے۔
۔7۔ خروج بصنعہ يعني آخري قعدہ کے بعد سلام پھيرنا فرض ہے۔قيام و رکوع و سجود اور قعدہ اخيرہ ميں ترتيب بھي فرض ہے۔ نيز جو چيز يں فرض ہيں ان ميں امام کي پيروي مقتدي پر فرض ہے۔

نماز پڑھنے کا مسنون طريقہ

نماز پڑھنے کا مسنون طريقہ
با وضو قبلہ کي طرف منہ کر کے اس طرح کھڑے ہوں کہ دونوں پاؤں کے درميان چار انگل کا فاصلہ رہے پھر اپنے ہاتھ کانوں تک اس طرح اٹھائيں کہ درميان ميں چار انگل کا فاصلہ رہے پھر اپنے ہاتھ کانوں تک اس طرح اٹھائيں کہ انگوٹھے کانوں کي لو سے چھو جائيں اور انگلياں نہ ملي ہوئي ہوں نہ خوب کھلي ہوئي بلکہ اپني اصل حالت پر ہوں اور ہتھيلياں قبلہ رخ ہوں پھر نيت کر کے اللہ اکبر کہتے ہوئے ہاتھ ناف کے نيچے لا کر اس طرح باندھ ليں کہ داياں ہاتھ بائيں ہاتھ کي پشت پر اور درمياني تين انگلياں کلائي کي پشت پر ہوں پھر انگوٹھے اور چھوٹي انگلي سے حلقہ بنا کر بائيں کلائي کو پکڑ ليں اور ثناء پڑھيں
سبحانک اللھم وبحمدک وتبارک اسمک و تعالي جدک ولا الہ غيرک
ترجمہ ( پاک ہے تو اے اللہ ! اور ميں تيري حمد کرتا ہوں، تيرا نام برکت والا ہے اور تيري عظمت بلند ہے اور تيرے سوا کوئي معبود نہيں)
پھر تعوذ اور تسميہ پڑھ کر سورہ فاتحہ پڑھيں
اعو ذ با للہ من الشيطن الرحيم
بسم اللہ الرحمن الرحيم
(ميں پناہ مانگتا ہوں اللہ کي ،  سيطان مردود سے)
(اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحمت والا ہے)
الحمد للہ رب العلمين
الرحمن الرحيم  ملک يوم الدين   اياک
نعبد واياک نستعين  اھدنا الصراط
المستقيم  صراط الذين انعمت عليم
غير المغضوب عليھم ولا الضالين?  آمين
(سب خوبياں اللہ کو جو مالک سارے جہان والوں کا، بہت مہربان رحمت والا، روز جزا کا مالک، ہم تجھي کو پوجيں اور تجھي سے مدد چاہيں، ہم کو سيدھا راستہ چلا، راستہ ان کا جن پر تو نے احسان کيا، نہ ان کا جن پر غضب ہوا، اور نہ بہکے ہوؤں کا) (کنز الايمان از اعلي حضرت امام اح-مد رضا محدث بريلوي رحمتہ اللہ عليہ)
سورہ فاتحہ کے بعد آہستہ سے آمين کہيں ، اسکے بعد کوئي سورت يا تين آيات باتين آيات کے برابر کوئي آيت پڑھيں
قل ھو اللہ احد  اللہ الصمد
لم يلد  ولم يولد  ولم يکن لہ کفوا  احد
(تم فرماؤ! وہ اللہ ہے وہ ايک ہے، اللہ بے نياز ہے، نہ اس کي کوئي اولاد اور نہ وہ کسي سے پيدا ہوا، اور نہ اس کے جوڑ کا کوئي)  (کنز الايمان)
پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے رکوع ميں جائيں اور گھٹنوں کو انگلياں کھول کر مضبوطي سے پکڑليں اور اتنا جھکيں کہ سر اور کمر ايک سطح پر رہے? رکوع ميں نظر دونوں پاؤں کي پشت پر رہے جبکہ قيام کے دوران نگاہ سجدے کي جگہ رکھني چاہيے
رکوع ميں کم سے کم تين بار يہ پڑھيں
سبحان ربي العظيم
(پاک ہے ميرا پروردگار عظمت والا)  پھر تسميع کہتے ہوئے کھڑے ہوجائيں
سمع اللہ لمن حمد
(اللہ نے اس کي سن لي جس نے اس کي تعريف کي ) پھر تحميد کہيں
ربنا لک الحمد(اے ہمارے مالک! سب تعريف تيرے ہي ليے ہے)
پھر تکبير کہتے ہوئے يوں سجدہ ميں جائيں کہ پہلے گھٹنے اور پھر دونوں ہاتھ زمين پر رکھيں ، پھر ناک اور پھر پيشاني زمين پر جمائيں اور چہر ہ دونوں ہاتھوں کے درميان رکھيں
اس بات کا خيال رہے کہ سجدے کے دوران ناک کي ہڈي زمين پر صحيح لگي ہوئي ہو، نظر ناک کے سرے پر رہے، دونوں پاؤں کي تمام انگلياں زمين پر قبلہ رخ لگي ہوں اور دونوں ہتھيلياں زمين پر قبلہ رخ بچھي ہوں نيز دونوں بازو کروٹوں سے اور پيٹ رانوں سے اور رانيں پنڈليوں سے جدا رہيں? سجدے ميں کم اس کم تين باريہ تسبيح پڑھيں
سبحان ربي الاعلي
(پاک ہے ميرا پروردگار بہت بلند)
سجدے سے اٹھتے ہوئے تکبير کہيں اور باياں پاؤں بچھا کر اس پر بيٹھيں اور داياں پاؤں کھڑا کر کے اسکي انگلياں قبلہ رخ کر ليں اس دوران ہتھيلياں رانوں پر بچھا کر گھٹنوں کے پاس اس طرح رکھيں کہ انگلياں قبلہ رخ رہيں پھر تکبير کہتے ہوئے اسي طرح دوسرا سجدہ کريں? پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے اس طرح کھڑے ہوں کہ پہلے سر اٹھائيں پھر ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھ کر پنجوں کے بل کھڑے ہو جائيں
اب صرف بسم اللہ الرحمن الرحيم  پڑھ کر قرات شروع کرديں پھر اسي طرح رکوع اور سجدے کر کے داياں پاؤں کھڑا کر کے بائيں پاؤں پر بيٹھ جائيں اور تشھد پڑھيں
التحيات للہ والصلوت والطيبت
السلام عليک ايھا النبي و رحمتہ اللہ و برکاتہ
السلام علينا  و علي عباد اللہ الصلحين
اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا
عبدہ  و رسولہ
(تمام قولي عبادتيں اور تمام فعلي عبادتيں اور تمام مالي عبادتيں اللہ ہي کے ليے ہيں، سلام ہو آپ پر اے نبي  اور اللہ کي رحمتيں اور برکتيں? ہم پر اور اللہ کے نيک بندوں پر سلام?ميں گواہي ديتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئي معبود نہيں اور گواہي ديتا  ہوں کہ محمد  اسکے بندے اور رسول ہيں)
تشھد پڑھتے وقت جب (اشھد ان لا)  کے قريب پہنچيں تو دائيں ہاتھ کي پيچ کي انگلي اور انگوٹھے کو ملا کر حلقہ بنائيں اور چھوٹي انگلي اور اسکے ساتھ والي انگلي کو ہتھيلي سے  ملاديں اور لفظ  (لا)  پر شہادت کي انگلي اٹھائيں اور (الا) پر نيچے کر ليں اورپھر سب انگلياں فورا سيدھي کرليں?  قعدہ کے دوران نطر اپني گود کي طرف رکھيں
اگر فرض نماز ہو اور دو سے زيادہ رکعتيں پڑھني ہوں تو تشھد کے بعد کھڑے ہو جائيں اور اگلي رکعتوں کے قيام ميں سورہ  کے بعد چھوٹي سورہ نہ ملائيں? آخري قعدہ ميں تشھد کے بعد درود شريف پڑھيں
اللھم صل علي محمد
وعلي ال محمد کما صليت علي ابراہيم و علي
ال ابراہيم انک حميد مجيد?  اللھم بارک
علي محمد و علي ال محمد کما بارکت علي
ابراہيم وعلي ال ابراہيم انک حميد مجيد
(اے اللہ! درود بھيج ہمارے سردار حضرت محمد ? پر اور انکي آل پر جس طرح تو نے درود بھيجا سيدنا ابراہيم عليہ السلام پر اور انکي آل پر، بيشک تو سراہا ہو ابزرگ ہے? اے اللہ !  برکت نازل کر ہمارے سردار حضرت محمد  پر اور انکي آل پر جس طرح  تو نے برکت نازل کي سيدنا ابراہيم عليہ السلام پر اور انکي آل پر ، بيشک تو سراہا ہوا  بزرگ ہے)
پھر يہ دعا  يا کوئي اور دعائے ماثورہ پڑھ ليں
اللھم رب اجعلني مقيم الصلوہ  ومن
ذريتي ربنا و تقبل دعاء  اللھم ربنا اغفرلي ولوالدي وللمومنين يوم يقوم الحساب
(اے اللہ اے ميرے رب!  مجھے نماز قائم کرنے والا رکھ اور کچھ ميري اولاد کو، اے ہمارے رب! اور ہماري دعا سن لے اے اللہ اے ہمارے رب ! مجھے بخش دے اور ميرے ماں باپ کو اور سب مسلمانوں کو جس دن حساب قائم ہوگا)
پھر پہلے دائيں کندھے کي طرف منہ کر کے سلام کہيں اور پھر بائيں طرف بھي
السلام عليکم و رحمتہ اللہ
(تم پر سلامتي ہو اور اللہ کي رحمت)
نماز کے بعد دونوں ہاتھ سينے کے مقابل اٹھا کر اللہ تعالي سے اخلاص  و  عاجزي سے دعا مانگيں اور دعا کے بعد اپنے ہاتھ چہرے پر پھيرليں? دعاؤں کے ليے فقير کي کتاب (مسنون دعائيں)  ملاحظہ فرمائيں
#اگرجماعت سے نماز پڑھيں تو پہلي رکعت کے قيام ميں صرف ثناء پڑھيں اور خاموش کھڑے رہيں يونہي ديگر رکعتوں کے قيام ميں بھي مقتدي کو قرات نہيں کرني چاہيے?  رکوع سے اٹھتے وقت سمع اللہ لمن حمدہ  صرف امام کہے اور مقتدي تحميد کہے

کن اوقات ميں نماز منع ہے؟

کن اوقات ميں نماز منع ہے؟
جن اوقات ميں نماز پڑھنا مکروہ ہے ان ميں طلوع آفتاب سے بيس منٹ بعد تک، غروب آفتاب سے بيس منٹ قبل سے غروب تک اور ضحوہ کبري يعني نصف  النہار شرعي سے نصف النہار حقيقي يعني زوال تک کا وقت شامل ہيں
ان اوقات ميں کوئي نماز يا سجدہ تلاوت جائز نہيں، ان اوقات کے علاوہ ہر وقت قضا نمازيں اور نوافل پڑھے جاسکتے ہيں، البتہ صبح صادق سے طلوع آفتاب تک ، اور نماز عصر سے آفتاب غروب ہونے تک کوئي نفل نماز ، اور امام کے خطبہ جمعہ کے ليے کھڑے ہونے سے لے کر فرض جمعہ ختم ہونے تک نفل اور سنت دونوں جائز نہيں

نماز کي شرائط

نماز کي شرائط
نماز کي چھ شرائط ہيں
 طہارت ، ستر عورت، استقبالہ قبلہ، وقت ، نيت، تحريمہ ۔
 نماز کي پہلي شرط طہارت ہے يعني نمازي کا جسم اور لباس پاک ہونا چاہيے نيز جس جگہ نماز پڑھي جائے وہ بھي نجاست سے پاک ہوني ضروري ہے، طہارت کے ليے اگر حاجت ہو تو غسل کيا جائے ورنہ وضو کرنا ضروري ہے، وضو، غسل، تيمم اور کپڑے پاک کرنے سے متعلق ضروري مسائل پہلے بيا ن کي جاچکے ہيں۔
 نماز کي دوسري شرط ستر عورت ہے يعني بدن کا وہ حصہ جس کا چھپانا فرض ہے اسے چھپايا جائے ، مرد کے ليے ناف کے نيچے سے گھٹنو ں کے نيچ ے تک کا حصہ ستر عورت ہے جبکہ عورت کے ليے دونوں ہتھيليوں، پاؤں کے تلووں اور چہرے کے سوا سارا بدن عورت يعني چھپانے کي چيز ہے، نماز کے علاوہ عورت کو نامحرموں سے چہرے کا پردہ کرنا بھي لازم ہے۔
اتنا باريک لباس جس سے بدن کي رنگت جھلکتي ہو يا ايسا باريک دوپٹہ جس سے بالوں کي سياہي چمکے، ستر کے ليے کافي نہيں يعني ايسے لباس ميں نماز نہيں ہوتي بلکہ ايسا لباس نماز کے علاوہ بھي حرام ہے۔
 نماز کي تيسري شرط استقبال قبلہ يعني کعبہ شريف کي طرف منہ کرنا ہے، نمازي کا منہ اور سينہ قبلہ کي طرف ہونا چاہيے۔
 چوتھي شرط نماز کا وقت ہے، فجر کي نماز کا وقت صبح صادق سے لے کر سورج کي کرن چمکنے تک ہے يعني سورج طلوع ہونے سے پہلے نماز فجر مکمل کرليني چاہيے، ظہر کي نماز کا وقت سورج ڈھلنے سے اس وقت تک ہے جب ہر چيز کا سايہ اصل سائے سے دو گنا ہوجائے ، اصلي سايہ وہ ہے جو سورج کے خط نصف النہار پر پہنچنے کے وقت ہوتا ہے۔
عصر کي نماز کا وقت ظہر کا وقت ختم ہونے سے لے کر سورج غروب ہونے تک ہے،غروب آفتاب سے قبل بيس منٹ کا وقت مکروہ ہوتا ہے اس سے پہلے نماز عصر پڑھ ليني چاہيے اگر کسي وجہ سے عصر نہ پڑھي ہو تو اس مکروہ وقت ميں پڑھ ليني چاہيے۔
مغرب کا وقت غروب آفتاب سے شفق غروب ہونے تک ہے جبکہ عشاء کا وقت شفق غروب ہونے سے لے کر طلوع فجر تک ہے البتہ نصف شب سے زائد تاخير مکروہ ہے۔
 نماز کي پانچويں شرط نيت ہے، نيت دل کے پکے ارادے کو کہتے ہيں اسکا ادني درجہ يہ ہے کہ اگر اس وقت کوئي پوچھے کہ کون سي نماز پڑھ رہے ہو تو فورا بتا دے، اگر سوچ کر بتائے گا تو نماز نہ ہوگي، زبان سے نيت کہہ لينا مستحب ہے اور اس کے ليے کسي زبان کي قيد نہيں، بہتر ہے کہ تکبير اولي کہتے وقت نيت موجود رہے۔
  نماز کي چھٹي شرط تکبر تحريمہ ہے يعني  اللہ اکبر  کہہ کر نماز شروع کي جائے? لفظ  (اللہ)    کو   (آللہ)   يا   (اکبر)   کو   (اکبار)  کہا تو نماز نہ ہوگي بلکہ اگر انکے فاسد معاني سمجھ کر جان بوجھ کر ايسا کہے تو کافر ہے۔

نمازوں کي رکعات

نمازوں  کي رکعات
 فجر کي نماز کي چار رکعات ہيں، پہلے دو سنت (موکدہ) اور پھر دو فرض۔
  ظہر کي نماز کي بارہ رکعات ہيں جن کي ترتيب يوں ہے، پہلے چار سنت (موکدہ) ، پھر چار فرض، پھر دو سنت (موکدہ)  اور پھر دو نفل۔
  عصر کي نماز کي آٹھ رکعات ہيں، پہلے چار سنت (غير موکدہ)  پھر چار فرض۔
 مغرب کي نماز کي سات رکعات ہيں، پہلے تين فرض پھر دو سنت (موکدہ) اور پھر دو نفل۔
  عشاء کي نماز کي سترہ رکعات ہيں جن کي ترتيب يہ ہے،  چار سنت (غير موکدہ) ، چار فرض، دو سنت (موکدہ)، دو نفل ، تين وتر (واجب) اور دو نفل۔
 جمعہ کي نماز کي چودہ رکعات ہيں جن کي ترتيب يہ ہے ، چار سنت (موکدہ) ، دو فرض ، چار سنت (موکدہ) ، دو سنت (موکدہ) اور دو نفل۔
سنتيں بعض موکدہ ہيں کہ شريعت ميں اس پر تاکيد آئي، بلا عذر ايک بار بھي ترک کر ے تو مستحق ملامت ہے اور ترک کي عادت کرے تو فاسق ، مردود الشھادہ اور مستحق نار ہے، اور بعض ائمہ نے فرمايا کہ وہ گمراہ ٹھرايا جائے گااور گناہگار ہے اگر چہ اس کا گناہ واجب کے ترک سے کم ہے، سنت کو ترک کرنے کي عادت بنا لينا حرام کے قريب ہے اور ايسے شخص کے متعلق انديشہ ہے کہ معاذ اللہ شفاعت سے محروم ہوجائے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمايا، (جو سنت کو ترک کرے گا اسے ميري شفاعت نہ ملے گي)۔

اللہ والوں کي نماز

اللہ والوں کي نماز
 نماز اس شخص کي طرح پڑھني چاہيے جسے يقين ہو کہ يہ اس کي زندگي کي آخري نمازہے حضرت خاتم بلخي رحمتہ اللہ عليہ سے کسي نے پوچھا، آپ نماز کيسے پڑھتے ہيں؟ آپ نے فرمايا، (جب نماز کا وقت ہوتاہے تو اچھي طرح وضو کر کے جائے نماز پر اطمينان سے کھڑا ہوجاتا ہوں ار و يہ تصور کرتا ہوں کہ کعبہ ميرے سامنے ہے، جنت ميرے دائيں طرف اور دوزخ ميرے بائيں طرف ہے اور ميں پل صراط پر کھڑا ہوں، اور ميں سمجھتا ہوں کہ موت کا فرشتہ ميرے سر پرہے اور يہ ميري زندگي کي آخري نماز ہے؟
پھر ميں نہايت عاجزي سے اللہ اکبر کہتا ہوں، معاني کو ذہن ميں رکھ کر تلاوت کرتا ہوں اور نہايت خشو ع و خضوع سے نماز ادا کرتا ہوں پھر اللہ تعالي کي رحمت سے اس کے قبول ہونےکي اميد رکھتا ہوں اور اپنے اعمال کے ناقص ہونے کي وجہ سے اس کے ٹھکراديے جانے کا خوف کرتا ہوں)  اللہ اکبر!
يہ ہے اللہ والوں کي نماز! باري تعالي ہميں اولياء کرام کے نقش قدم پر چلنے کي توفيق عطا فرمائے آمين