میلادالنبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہ

میلادالنبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
(اما اہلسنت امام احمد رضا خان قدس سرہ
کی ایک نفیس تقریر کا خلاصہ بالاضافہ)

نحمدہ و نصلی علٰی رسولہ الکریم وعلٰی آلہ و اصحابہ اجمعین ہ

حضور “ نعمۃاللہ “ ہیں، قرآن عظیم نے ان کا نام “نعمۃ اللہ “ رکھا۔ (اللہ کی نعمت عظمٰی)
“الذین بدلوا نعمۃاللہ کفرا“
جن لوگوں نے اللہ کی نعمت ، ناشکری سے بدل دی ۔
کی تفسیر میں حضرت سیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
“نعمۃاللہ“ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔ولہذا ان کی تشریف آوری کا تذکرہ امتثال امر الہی (تعمیل حکم خداوندی) ہے۔
قال اللہ تعالٰی:
وامابنعمۃ ربک فحدث ہ
“ اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔“
حضور اقدس کی تشریف آوری ، سب نعمتوں سے اعلٰی نعمت ہے یہی تشریف آوری ہے جس کے طفیل دنیا ، قبر، حشر،برزخ،آخرت، غرض ہر وقت، ہر جگہ، ہر آن، نعمت ظاہر وباطن سے ہمارا ایک ایک رونگٹا متمتع اور بہر مندہ ہے اور ہو گا۔
انشاءاللہ تعالٰی۔
اپنے رب کے حکم سے، اپنے رب کی نعمتوں کا چرچہ، مجلس میلاد میں ہوتا ہے۔ مجلس میلاد آخر وہی شے ہے جس کاحکم رب العزت دے رہا ہے۔
مجلس مبارک کی حقیقت، مجمع المسلمین کو
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری و فضائل جلیلہ وکمالات جمیلہ کا ذکر سناناہے۔(یہی اس کی حقیقت ہے) بند یا رقعہ باٹنا، یا طعام و شیرینی کی تقسیم، اس کا جزء حقیقت نہیں(کہ اس کے بغیر میلاد کا وجود ہی معدوم ہو) نہ ان میں کچھ جرم، اول دعوت الی الخیر ( خیر کی طرف بلانا) ہے اور دعوت الی الخیر بے شک خیر ہے۔
اللہ عزوجل فرماتاہے:
ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ۔
“ اس سے زیادہ کس کی بات اچھی ہو جو اللہ کی طرف بلائے۔“
صحیح مسلم شریف میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
من دعا الی ھدی کان لہ الاجر مثل اجور من تبعہ ولا ینقص ذلک من اجورھم شیئا۔
“ جو لوگوں کو کسی ہدایت کی طرف بلائے ، جتنے اس کا بلانا قبول کریں، ان سب کے برابر اسے ثواب ملے اور ان کے ثوابوں میں کچھ کمی نہ ہو۔“
اور اطعام طعام ( کھلانے پلانے کااہتمام و انتظام) یا تقسیم شیرینی ، بر وصلہ و احسان و صدقی ہے اور یہ سب شرعا محمود۔( کہ قرآن و حدیث میں جا بجا اس کی ترکیب و تاکید آئی۔)ان مجالس کے لئے صرف تم ہی نہیں ۔ ملائکہ بھی تداعی کرتے ہیں جہاں جلس ذکر شریف ہوتے دیکھہ، ایک دوسرے کع بلاتے ہیں کہ آؤ یہاں تمھارا مطلوب ہے۔ پھر وہاں سے آسمان تک چھا جاتے ہیں۔ تم دنیا کی مٹھائی بانٹتے ہو۔ ادھر سے رحمت کی شیرینی تقسیم ہوتی ہے۔ وہ بھی ایسی عام ( بلا روک ٹوک) کہ نا مستحق کو بھی حصہ دیتے ہیں۔ ( اور اس مین برغبت تمام شرکت کرنے والے مصداق بن جاتے ہیں اس حدیث کا )

ھم القوم لا یشقی بھم جلیسھم۔
“ ان لوگوں کے پاس بیٹھنے والا بھی بد بخت نہیں رہتا۔“
یہ مجلس آج سے نہیں ۔ آدم علیہ السلام نے خود کی اور کرتے رہے ۔ اور انکی اولاد میں برابر ہوتی رہی۔ کوئی دن ایسا نہ تھا کہ آدم علیہ السلام ، ذکر حضور نہ کرتے ہوں۔ اول روز سے آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو تعلیم ہی یہ فرمایا گیا کہ میرےذکر کے ساتھ، میرے حبیب و محبوب کا ذکر کیا کرو،
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
جس کے لئے عملی کاروائی یہ کی گئی کہ جب روح الہی آدم علیہ الصلوۃ و السلام کے پتلے میں داخل ہوی ہے ، آنکھ کھلتی ہے، نگاہ ساق عرژ پر ٹھرتی ہے، لکھا دیکھتے ہیں:
لا الہ الا اللہ ممد رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )
عرض کی : الہی یہ کون ہے ؟ جس کا نام تو نے اپنے نام اقدس کے ساتھ لکھا ہے؟ ارشاد ہوا: اے آدم! وہ تیری اولاد میں سب سے پچھلا پیغمبر ہے۔ وہ نہ ہوتا تو میں تجھے نا بناتا۔
لولا ممد ما خلقتک ولا ارضا ولا سماء۔
“اسی کے طفیل میں تجھے پیدا کیا اگر وہ نہ ہوتا، نہ تجھے پیدا کرتا اور نہ زمین و آسمان بناتا۔“
تو کنیت ابو محمد کر،
صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وبارک وسلم۔
آنکھ کھلتے ہی نام بتایا گیاپھر ہر وقت ملائکہ کی زبان سے ذکر اقدس سنایا گیا۔ وہ مبارک سبق عمر بھر یاد رکھا ۔ ہمیشہ ذکر وشرشا کرتے رہے ۔ جب وصال شریف قریب آیا، شیث علیہ الصلوۃوالسلام سے ارشاد فرمایا:
“ اے فرزند میرے بعد تو خلیفہ ہوگا۔ عماد تقوی( ستون پرہیزگاری) عروہ وثقیٰ ( دستی استوار و محکم ) کو نہ چھوڑنا۔ العروۃ الوثقی
محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، عروہ وثقی محمد ہیں۔ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ جب اللہ کو یاد کرے ، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کا ذکر ضرور کرنا کہ میں نے فرشتوں کو دیکھا کہ ہر گھڑی ان کی یاد میں مشغول ہیں۔“
اسی طور پر چرچا ان کا ہوتا رہا ۔ پہلی انجمن روز میثاق جمائی گئی ، اس میں حضور کا ذکر تشریف آوری ہوا ۔
اور قرآن کریم میں اس کا ذکر یوں فرمایا کہ:
واذ اخذ اللہ میثاق النبین لما اٰتیتیکم من کتاب و حکمۃ ثم جآ ءکم رسول مصدق لما معکم لتومن بہ التنصرنہ قال ء اقررتم واخذ تم علٰی ذلکم اصری قالوا اقررنا قال فاشھدوا قانا معکم من الشٰھدین ہ فمن تولی بعد ذلک فاو لئک ھم الفٰسقون ۔
“ اور عہد لیا اللہ نے نبیوں سے، کہ بے شک میں تمہیں کتاب و حکمت عطا فرماؤں، پر تشریف لائیں تمھارے پاس وہ رسول ، تصدیق فرمائیں ان باتوں کی جو تمھارے ساتھ ہیں تو تم ضرور ان پر ایمان لانا اور ضرور ضرور ان کی مدد کرنا۔( اور قبل اس کے کہ انبیاء کچھ عرض کرنے پائیں ) فرمایا کیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا ؟ عرض کی ہم نے اقرار کیا۔فرمایا تو آپس میں ایک دوسرے کے گواہ ہو جاؤ ۔ اور میں بھی تمھارے ساتھ گواہوں سے ہوں پھر جو کوئی اس اقرار کے بعد پھر جائے تو وہی لوگ بے حکم ہیں۔“
مجلس میثاق میں “رب العزت “ نے تشریف آوری حضور کا بیان فرمایا اور تمام انبیاء علیھم الصلوۃ والسلام نے سنا اور ( انقیاد ) وگرویدگی) و اطاعت ( و خدمت گزاری ) حضور کا قول دیا۔ ان کی نبوت ہی مشروط تھی ، حضور کے مطیع و امتی بننے پر ۔ ( اللہ اللہ! امتیوں پر فرض کرتے ہیں رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور رسولوں پر فرض کرتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گرویدگی فرماؤ۔ ) غرض صاف صاف جتا رہے ہیں کہ مقصود اصلی ایک وہی ہیں باقی تم سب تابع و طفیلی۔

مقصود ذات او ست دگر جملگی طفیل

تو سب سے پہلے حضور کا ذکر تشریف آوری کرنے والا اللہ ہے کہ فرمایا!
ثم جآءکم رسول۔
“پھر تمھارے پاس وہ رسول تشریف لائیں۔“
اور ذکر پاک کی سب میں پہلی (مجلس) یہی مجلس انبیاء ہے۔ علیہم الصلوۃوالسلام۔ جس میں پڑھنے والا اللہ اور سننے والا انبیاء اللہ۔
(صلوات اللہ تعالٰی علیہم اجمعین)
غرض اسی طرح ہر زمانے میں ، حضور علیہ السلام کا ذکر ولادت و تشریف آوری ہوتا رہا۔ ہر قرن میں انبیاء و مرسلین، آدم علیہ السلام سے لیکر ابراہیم و موسٰی و داؤد و سلیمان و زکریا علیہم السلام تک، تمام نبی و رسول، اپنے اپنے زمانے میں مجلس حضور ترتیب دیتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ سب میں پچھلا، ذکر شریف سنانے والا ، کنواری ستھری پاک بتول کا بیٹا، جسے اللہ نے بے باپ کے پیدا کیا ، نشانی سارے جہاں کے لئے، یعنی سیدنا عیسٰی علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لایا فرماتا ہوا!
مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد۔
“ میں بشارت دیتا ہوں ان رسول کی، جو عنقریب میرے بعد تشریف لانے والے ہیں جن کا نام پاک احمد ہے۔ ( صلی اللہ تعالٰی علیہ و علٰی آلہ و صحبہ وبارک وسلم )“
یہ ہی مجلس میلاد۔ جب زمانہ ولادت شریف کا قریب آیا۔ تمام ملک و ملکوت میں محفل میلاد تھی۔ عرش پر پر محفل میلاد، فرش پر محفل میلاد، ملائکہ میں مجلس میلاد ہو رہی تھی، خوشیاں مناتے حاضر آئے ہیں، سر جھکائے کھڑے ہیں، جبرئیل و میکائیل حاضر ہیں، علیہم الصلوۃ و السلام۔ اس دولہا کا انتظار ہو رہا ہے جس کے صدقے میں یہ ساری برات بنائی گئی۔ سبع سموات میں عرش و فرش پر دھوم ہے۔
ذرا انصاف کرو، تھوڑی سی مجازی قدرت والا، اپنی مراد کے حاصل ہونے پر جس کا مدت سے انتظآر ہو، اب وقت آیا ہے تو کیا خوشی کا سامان نہ کرے گا۔ وہ عظیم مقتدر، چھ ہزار برس ہیشتر، بلکہ لاکھوں برس سے، ولادت محبوب کے پیش خیمے تیار فرمارہا ہے۔ اب وقت آیا ہے کہ وہ مراد المرادین، ظہور فرامنے والے ہیں، یہ “قادر علی کل شیء“ ( جو ہر شے پر ودرت تامہ رکھتا ہے) کیا کچھ خوشی کا سامان مہیا نہ فرمائے گا۔
شیاطین کو اس وقت جلن تھی اور اب بھی جو شیطان ہیں جلتے ہیں اور ھمہشہ جلیں گے۔ غلام تو خوش ہو رہے ہیں کہ ان کے ہاتھوں ایسا دامن آیا کہ یہ گر رہے تھے اس نے بچا لیا۔ ایسا سنبھالنے والا ملا کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔
صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وبارک وسلم۔
ایک آدمی ایک کو بچا سکتا ہے۔ دو کو بچا سکتا ہے۔ کوئی قوی ہوگا زیادہ سے زیادہ دس بیس کو بچا دے گا ۔ اور اور یہاں کروڑوں اربوں پہسلنے والے ، اور بچانے والا وہی ایک۔
انا اخذکم بحجزکم عن النار ھلموا الی۔
“ میں تمھارا بند کمر پکڑے کھینچ رہا ہوں، ارے میری طرف آؤ۔ (صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وبارک وسلم)
یہ فرمان صرف صحابہ سے خاص نہیں۔ قسم اس کی جس نے انہیں “ رحمۃ للعلمین“ بنایا۔ آج وہ ایک ایک مسلمان کا بند کمر پکڑے اپنی طرف کھینچ رہے ہیں کہ دوزخ سے بچائیں۔ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلی وصحبہ وبارک وسلم۔
الحمد للہ کیسا حامی پایا۔ اربوں سے اربوں پراتب، گرنے والوں کو ان کا ایک اشارہ کفایت کر رہا ہے تو ایسے کا پیدا ہونے کا ابلیس اور اس کی ذریت کو جتنا غم ہو تھوڑا ہے۔ پہاڑوں میں ابلیس اور تمام مردہ ( مردود بارگاہ الٰہ) سرکش قید کر دئے گئے تھے۔ اسی کے پیرو اب بھی غم کرتے ہیں، خوشی کے نام سے مرتے ہیں۔
“ملائکۃ سبع سموات “ ( ساتوں آسمانوں کے فرشتے ) دھوم مچا رہے تھے ۔ عرش ذوق و شوق میں ہلتا تھا، ایک علم مشرق اور دوسرا مغرب، اور تیسرا بام کعبہ پر نصب کیا گیا اور بتایا گیا کہ ان کا دار السطنت ، انہیں کی قلمرو میں داخل ہے ( اور جب ) اس مراد کے ظاہر ہونے کی گھڑی آپہنچی کہ اول روز سے اس کی مھفل میلاد ، اس کے خیر مقدم کی مبارک باد ہورہی ہے،“ قادر علی کل شیء“
نے اس کی خوشی میں کیسے کچھ انتظام فرمائے ہوں گے۔
گھر گھر مسرت و شادمانی کی رسوم ، ہر طرف تہنیت و مبارکباد کی دھوم، نسیم بہار چلی، شاخ چاخ سے گلے ملی، گل فرط مسرت سے پھولے نہ سمائے ، کلیوں کی چٹک سے
“ صلوات اللہ تعالٰی و سلامۃ علیک یا رسول اللہ“ کی آوازیں آئیں۔ سحاب رحمت “ اللھم صل علی ھذا النبی الکریم “ کہتا گھر آیا ۔ بوندیاں شوق دیدار میں درود پڑھتی اتریں۔ بجلیوں نے سورہ نور ورد زبان کی اور جب وہ مبارک ساعت بالکل قریب آئی جبرئیل امین ایک پیالہ شربت جنت کا سیدتنا آمنہ رضی اللہ عنہا کے لئے حاضر ہوئے ۔ اس کے نوش فرمانے سے وہ دہشت زائل ہوگئی جو ایک آواز سننے سے پیدا ہوئی تھی، پھر ایک مرگ سپید کی شکل ن=بن کر ، اپنا پر، سیدتنا آمنہ رجی اللہ عنہا کے بطن مبارک سے مل کر عرض کرنے لگے:

اظھر یا سید المرسلین
اظھر یا خاتم النبین
اظھر یا اکرم الاولین و الاخرین

“ جلوہ فرمائیے اے تمام رسولوں کے سردار! جلوہ فرمائیے اے تمام انبیاء کت خاتم، جلوہ فرمائیے اے سب اگلوں پچھلوں سے زیادہ کریم۔“

یا اور الفاظ ان کے ہم معنی، مطلب یہ کہ دونوں جہاں کے دولہا! برات سج چکی اب جلوہ افروزی سرکار کا وقت ہے۔
فظھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کالبد المنیر۔
“ پس حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلوہ فرماہوئے جیسے چودھویں رات کا چاند۔“ ( انتھی)
اے انجمن والو ہوشیار، باادب با نصیب، بے ادب بے نصیب، دست بستہ کھڑے صلوۃ و سلام عرض کرو ۔ تمھارے حمایتی ، تمھارے والی، تمھارے یاور، تمھارے سرور، تمھارے آقا، تمھارے مولا، تمھارے سردار، تمھارے غم خوار، محبوب خدا احمد مجتبٰی محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کی سواری آچکی اور وہ جان مسیح ، جان بخش عالم تشریف لا چکے۔
تعظیم کو اٹھے ہیں ملک، تم بھی کھڑے ہو
پیدا ہوئے سلطان عرب، شاہ عجم آج

الصلوۃ و السلام علیک یا رسول اللہ الصلوۃ و السلام یا نبی اللہ الصلوۃ و السلام علیک یا حبیب اللہ الصلوۃ و السلام علیک یا خیر خلق اللہ الصلوۃ و السلام علیک وعلی اٰلک و صحبک و اولیاء امتک و علماء ملتک دائما ابدا سرمدا امین والحمد للہ رب العلمین۔
شمس و قمر سلام کو حاضر ہیں السلام جن و بشر سلام کو حاضر ہیں السلام
سب بحر و بر ، سلام کو حاضر ہیں السلام سنگ و شجر سلام کو حاضر ہیں السلام
سب خشک و تر ، سلام کو حاضر ہیں سب کروفر ، سلام کو حاضر ہیں السلام
شوریدہ سر سلام کو حاضر ہیں السلام خستہ جگر سلام کو حاضر ہیں السلام ۔

قرآن مجید اور عید میلاد النبی

قرآن مجید اور عید میلاد النبی 
عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دن خوشی منانا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت پر عید منانا قرآن مجید سے ثابت ہے۔

ترجمہ: فرمادیجیی یہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہے ان پر خوشی منائیں وہ ان کے دَھن دولت سے بہتر ہے۔
(سورۃ یونس، پارہ:11، آیت نمبر 58)

معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ رحمت پر خوشی مناؤ تو اے مسلمانو! جو سارے عالمین کے لئے رحمت ہیں اُن کی آمد کے دن جشنِ ولادت پر کیوں خوشی نہ منائی جائے۔
القرآن:(ترجمہ) (حضرت عیسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی) ہم پر آسمان سے خوانِ نعمت اُتار وہ ہمارے لئے عید ہوجائے اگلوں اور
پچھلوں کی۔ (سورۃ المائدۃ، پارہ:6، آیت نمبر114)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ خوانِ نعمت اُترنے والا دن عید ہو تو جس دن نعمتوں کے سردار ا اس دنیائے فانی میں تشریف لائیں تو وہ دن عید کیسے نہ ہو۔
میلاد کے اصطلاحی معنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ کی خوشی میں آپ کے معجزات و کمالات بیان کرنا اورمجالس منعقد کرکے واقعہ میلاد بیان کرنا۔
حدیث کی مشہور کتاب مشکوٰۃ شریف میں صاحبِ مشکوٰۃ ص نے ایک باب باندھا جس کا نام بابِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم رکھا۔
عرب شریف میں آپ جائیں تو وہاں کے اسلامی کیلنڈر میں ماہِ ربیع الاول کے مہینے پر لکھا ہوا ہے ’’میلاد ی‘‘۔ یہ اب بھی موجود ہے آپ دیکھ سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں تذکرہ میلاد بیان فرماکر میلاد منایا۔ سرکارِ اعظم ا نے ہر پیر روزہ رکھ کر میلاد منایا، صحابہ کرام علیہم الرضوان نے ولادت کے واقعات بیان فرماکر میلاد منایا، اولیاء کرام میں امام شامی، امام محدّث ابنِ جوزی، حضرت شاہ عبد الحق محدّث دہلوی، حضرت شاہ عبد العزیز محدّث دہلوی رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے بھی میلاد منایا اور اُن کی کتابوں میں بھی ثبوت موجود ہیں۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور صحابہ کرام علیہم الرضوان قرآن مجید پڑھتے تھے مگر بغیر اعراب کا، قرآن مجید بالکل سادہ ہوتے تھے آجکل عمدہ سے عمدہ چھپائی ہوتی ہے، اُس وقت مسجدیں بالکل سادہ اور بغیر محراب کی ہوتی تھیں، مگر آج عالیشان اور محراب والی ہوتی ہیں، اُس وقت ہاتھوں کی انگلیوں پر ذکر اللہ ہوتا تھا، آجکل خوبصورت تسبیحوں کو استعمال کیا جاتا ہے الغرض کہ اسی طرح میلاد میں بھی آہستہ آہستہ رنگ آمیزیاں کرکے اس کو عالیشان کرکے منایا گیا جب وہ سب کام بدعت نہیں ہیں تو پھر یہ کیسے بدعت ہوسکتا ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا غم اور سوگ نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نبی زندہ ہیں رہا مسئلہ سوگ کا تو سوگ اسلام میں تین دن کا ہوتا ہے جو صحابہ کرام علیہم الرضوان نے منالیا میلاد منانا شرک کو بھی توڑتا ہے کیونکہ ہم ولادتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم مناتے ہیں اور خدا تعالیٰ پیدا ہونے سے پاک ہے اور جس کی ولادت منائی گئی وہ خدا نہیں اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے۔

جشن میلاد النبی ناجائز کیوں ؟ اور جلوس اہلحدیث اور جشن دیوبند کا جواز کیوں ؟

جشن میلاد النبی ناجائز کیوں ؟ اور جلوس اہلحدیث اور جشن دیوبند کا جواز کیوں ؟

از: پاسبان مسلک رضا ، نباض قوم،
مولانا ابوداؤد محمد صادق قادری رضوی
امیر جماعت رضائے مصطفٰی پاکستان گوجرنوالہ
 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
 

وَاِن تعدو نِعمَۃَ اللّٰہ ِ لَا تَحصُو ھَا۔ 

اور اگر اللہ کی نعمتوں کو گنو تو شما ر نہ کرسکوگے ۔ پارہ نمبر 12 رکوع نمبر 17 

بے شک اللہ تعالیٰ کی نعمتیں لاتعداد اور بے حساب اور حد شمار سے باہر ہیں ، مگر ان سب نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت بلکہ تمام نعمتوں کی جان ، جان ِ جہان و جانِ ایمان حضور پر نور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکات ہے ، جن کے طفیل باقی سب نعمت و انعامات ہیں ، اعلیٰ حضرت مجددّ دین و ملت مولانا امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی  نے فرمایا :۔ 

وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے 

اس لئے اللہ تعالیٰ نے سب سے بڑھ کر ، سب سے زیادہ اور بہت ہی اہتمام و تاکید کے ساتھ آپ کی ذات بابرکات کے بھیجنے کا احسان ظاہر فرمایا ۔ لقد من اللہ علی المومنین اذ بعث فیھم رسولا من انفسھم ۔ بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا ، مسلمانوں پر کہ ان میں انہی سے ایک رسول بھیجا ۔ (پ 14 ، رکوع 8 ) چونکہ ایمانداروں پر سب سے بڑی نعمت کا سب سے بڑا احسان ظاہر فرمایا ہے ، اس لئے اہل ایمان اس کی سب سے بڑھ کر قدرو منزلت جانتے ہیں اور اس کا سب سے زیادہ شکر ادا کرتے ہیں اور جس ماہ یوم میں اس احسان و نور و نعمت کا ظہور ہوا ، اس میں اس کا بالخصوص چرچا و مظاہرہ کرتے ہیں، اس لئے کہ مولیٰ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جابجا اپنی نعمتوں کی تذکیر تشکر اور ذکر اذکار کا حکم فرمایا ہے ، خاص طور پر سورۃ الضحیٰ میں ارشاد ہوا ہے ۔ واما بنعمۃ ربک فحدث ۔ ( اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔پ 30 رکوع 18 ۔) پھر بطور خاص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے نعم اللہ ہونے کا بیان اور ناشکری و ناقدری کرنے والے بے دینوں کا رد فرمایا ۔ الم تر الی الذین بدلو انعمۃ اللہ کفراََ۔ ( کیا تم نے انہیں نہ دیکھا ، جنہوں نے اللہ کی نعمت نا شکری سے بدل دی ۔ پ 13 رکوع 17 ۔) بخاری شریف و دیگر تفاسیر میں سید المفسرین حضرت عبد اللہ ابن عباس و حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ :: کہ ناشکری کرنے والے کفار ہیں ۔ ومحمدنعمۃ اللّٰہ ۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی نعمت ہیں ( بخاری شریف جز ثالث صفحہ 6 ) جب اللہ کے فرمان اور قرآن سے ثابت ہوگیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے خاص نعمت ہیں جس پر اللہ نے اپنے خاص احسان کا ذکر فرمایا اور پھر نعمت کا چرچا کرنے کا بھی حکم دیا تو اب کون مسلمان و اہل ایمان ہے جو آپ کی ذات بابرکات ، نور کے ظہور اور دنیا میں جلوہ گری و تشریف آوری کی خوشی نہ منائے ، شکر ادا نہ کرے اور سب سے بڑی نعمت کا سب سے بڑھ کر چرچا و مظاہرہ پسند نہ کرے اور نعمت عظمٰی کے خصوصی شکرانہ اور چرچا و مظاہرہ کے لئے جشن عید میلا النبی صلی اللہ علیہ وسلم مولود شریف اور یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلوس مبارک پر برا منائے اور زبان طعن دراز کرے ۔ مفسر قرآن حضرت مفتی احمد یار خاں مرحوم نے کیا خوب فرمایا ہے :۔ 

حبیب حق ہیں خدا کی نعمت بنعمۃ ربک فحدث
یہ فرمان مولٰی پر عمل ہے جو بزم مولد سجارہے ہیں

رحمت کے خوشی :۔ 

قرآن ہی میں یہ بھی بیان ہے کہ ( تم فرماؤ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر چاہیے ، کہ خوشی کریں ، وہ ان کی سب دھن دولت سے بہتر ہے )۔ پ 11 رکوع 11 ۔جس طرح اوپر نعمت کا چرچا کرنے کا ذکر ہوا ہے ، اسی طرح یہاں فضل و رحمت پر خوشی منانے کا بیان ہے اور کون مسلمان نہیں جانتا کہ اللہ کا سب سے بڑا فضل اور سب سے بڑی رحمت بلکہ جانِ رحمت اور رحمۃ اللعالمین (پ17 رکوع 7 ) آپ کی ذاتِ بابرکات ہے یہاں فضل و رحمت سے اگر کوئی بھی چیز مراد لی جائے تو یقینا وہ بھی آپ ہی کا صدقہ وسیلہ اور طفیل ہے ، لہذا آپ بہر صورت بدرجہ اولیٰ فضل الہٰی و رحمت خداوندی اور نعمۃ اللہ ہونے کا مصداق کامل ہیں ، کیونکہ دونوں جہان میں آپ کا ہی سب فیضان ہے اور آپ کی خوشی منانا ، چرچا و مظاہرہ کرنا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شایان شان و فرمان خداوندی کے تحت و اس کے مطابق ہے ، نہ کہ معاذ اللہ اس کے مخالف و منکر اور شرک و بدعات ۔ 

خدا کا شکر نعمت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رفعت ہے
یہ دونوں کی اطاعت ہے قیام محفل مولد
حصول فیض و رحمت ہے نزول خیر و برکت ہے
حصول عشق حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہے قیام محفل مولد
نہ اس میں رفع سنت ہے نہ شرک و کفر بدعت ہے
یہ رد شرک و بدعت ہے قیام محفل مولد 

یوم ولادت کی اہمیت :۔ 

حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر شریف (سوموار) کا روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا : فیہ ولدت وفیہ انزل علیہ ۔ یعنی اسی دن میری پیدائش ہوئی اور اسی دن مجھ پر قرآن نازل کیا گیا۔ (مشکوۃ شریف صفحہ 179 ) اس فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور یوم نزول قرآن کی اہمیت اور اس دن کی یادگار منانا اور شکر نعمت کے طور پر روزہ رکھنا ثابت ہوا جیسے ہفتہ وار دنوں کے حساب سے یوم ولادت و یوم نزول قرآن کی یادگار اہمیت ہے ویسے ہی سالانہ تاریخ کے حساب سے بھی یوم ولادت و یوم نزول قرآن کی اہمیت و امت میں مقبولیت ہے ، جس طرح نزول قرآن کا دن پیر 27 رمضان المبارک کو سالانہ یادگار منائی جاتی ہے ، اسی طرح یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دن پیر 12 ربیع الاوّل میں ہونے کے باعث اہل اسلام میں ماہ ربیع الاوّل و 12 ربیع الاوّل کی سالانہ یادگار منائی جاتی ہے ۔ بلکہ امام احمد بن محمد قسطلانی شارح بخاری اور شیخ محقق علامہ عبد الحق محدّث دہلوی شارح مشکوٰۃ ( رحمۃ اللہ علیہما ) جیسے محدثین نے نقل فرمایا کہ امام احمد بن حنبل جیسے امام واکابر علماءامت نے تصریح کی ہے کہ شب میلاد شب قدر سے افضل ہے ۔ نیز فرمایا جب آدم علیہ السلام کی پیدائش کے دن جمعۃ المبارک میں مقبولیت کی ایک خاص ساعت ہے تو سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی میلاد کی ساعت کے متعلق تیرا کیا خیال ہے ۔( اس کی شان کا کیا عالم ہوگا)۔(زرقانی شرح مواہب جلد 1 صفحہ135.136 ۔ مدارج النبوت جلد 2 صفحہ 13 )  اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی کیا خوب ترجمانی کی ۔ 

جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام

لفظ عید کی تحقیق :۔ 

مذکورہ ارشادات کی روشنی میں مزید عرض ہے کہ بفرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم جمعۃ المبارک آدم علیہ السلام کی پیدائش کا دن بھی ہے اور عید کا دن بھی ہے بلکہ عند اللہ عید الاضحٰی اور عید الفطر سے بھی بڑا دن ہے ۔( مشکوٰۃ شریف صفحہ 123/140 ) ملخصاََ  لہذا جب سیدنا آدم علیہ السلام کی پیدائش کا دن عید کا دن بلکہ دونوں عیدوں سے بڑھ کر ہوسکتا ہے تو سیدنا سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کا یوم پیدائش عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کیوں نہیں ہوسکتا ؟ جب کہ سب کچھ آپ کا ہی فیضان ، آپ کے دم قدم کی بہار اور آپ ہی کے نور کا ظہور ہے ۔ 

ہے انہی کے دم قدم سے باغ عالم میں بہار
وہ نہ تھے عالم نہ تھا گروہ نہ ہوں عالم نہیں 

صحابہ کا فتویٰ :۔ 

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت الیوم اکملت لکم دینکم ۔ تلاوت فرمائی ۔ تو ایک یہودی نے کہا : اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید مناتے ۔ اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا :: یہ آیت نازل ہی اسی دن ہوئی جس دن دو عیدیں تھیں ۔(یوم جمعہ اور یوم عرفہ ) مشکوٰۃ شریف صفحہ 121 ۔۔ مرقات شرح مشکوۃ میں اس حدیث کے تحت طبرانی وغیرہ کے حوالہ سے بالکل یہی سوال و جواب حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے ، مقام غور ہے کہ دونوں جلیل القدر صحابہ نے یہ نہیں فرمایا ، کہ اسلام میں صرف عید الفطر اور عید الاضحی مقرر ہیں اور ہمارے لئے کوئی تیسری عید منانا بدعت و ممنوع ہے ۔ بلکہ یوم جمعہ کے علاوہ یوم عرفہ کوبھی عید قرار دے کر واضح فرمایا کہ واقعی جس دن اللہ کی طرف سے کوئی خاص نعمت عطا ہو خاص اس دن بطور یادگار عید منانا ، شکر نعمت اور خوشی کا اظہار کرنا جائز اور درست ہے علاوہ ازیں جلیل القدر محدث ملا علی قاری علیہ الرحمۃ الباری نے اس موقع پر یہ بھی نقل فرمایا کہ ہر خوشی کے دن کے لئے لفظ عید استعمال ہوتا ہے ، الغرض جب جمعہ کا عید ہونا ، عرفہ کا عید ہونا ، یوم نزول آیت کا عید ہونا ہر انعام و عطا کے دن کا عید ہونا اور ہر خوشی کے دن کا عید ہوناواضح و ظاہر ہوگیا تو اب ان سب سے بڑھ کر یوم عید میلا د النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عید ہونے میں کیا شبہ رہ گیا ۔ جو سب کی اصل و سب مخلوق سے افضل ہیں ۔ مگر : 

آنکھ والے تیرے جلووں کا نظارہ دیکھے
دیدہ ء کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے 

قرآن کی تائید : 

عیسٰی ابن مریم نے عرض کی : اے اللہ ! اے رب ہمارے ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار ۔ کہ وہ دن ہمارے لئے عید ہوجائے اگلوں او ر پچھلوں کی ۔(پارہ 7 آیت 114 سورہ المائدہ )
سبحان اللہ !! جب مائدہ اور من و سلویٰ جیسی نعمت کا دن عید کا دن قرار پایا ۔ تو سب سے بڑی نعمت یوم عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عید ہونے میں کیا شک رہا ؟

محدثین کا بیان : 

امام احمد بن محمد قسطلانی علامہ محمد بن عبد الباقی زرقانی اور شیخ محقق علامہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ دعائیہ بیان نقل فرمایا : فرحم اللہ امراءاتخذ لیالی شھر مولدہ المبارک اعیادہ ۔ اللہ اس شخص پر رحم فرمائے ، جو اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ماہ میلاد کی راتوں کو عیدوں کی طرح منائے ۔(زرقانی شرح المواہب جلد اول صفحہ 139 ۔ ماثبت من السنۃ صفحہ 60 ) دیکھئے ایسے جلیل القدر محدثین نے نہ صرف ایک دن بلکہ ماہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سب راتوں کو عید قرار دیا ہے اور عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ منانے والوں کے لئے دعائے رحمت بھی فرمائی ہے ، جس دن کی برکت سے ربیع الاول کی راتیں بھی عیدیں قرار پائیں ۔ 12 ربیع الاول کا وہ خاص دن کیونکر عید قرار نہ پائے گا ؟ بلکہ امام دادودی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ مکہ مکرمہ میں آپ کی ولادت کی جگہ مسجد حرام کے بعد سب سے افضل ہے اور اہل مکہ عیدین سے بڑھ کر وہاں محافل میلاد کا انعقاد کرتے تھے ، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس مبارک جگہ محفل میلاد میں حاضری اور مشاہدہ ءانوار کا ذکر فرمایا ۔( جواہر البحار جلد سوم صفحہ 1154 فیوض الحرمین صفحہ 27 )

مفسرین کا اعلان : ۔ 

امام ابن حجر مکی علیہ الرحمۃ نے امام فخر الدین رازی ( صاحب تفسیر کبیر) نے نقل فرمایا کہ جس شخص نے میلاد شریف کا انعقاد کیا اگرچہ عدم گنجائش کے باعث صرف نمک یا گندم یا ایسی ہی کسی چیز سے زیادہ تبرک کا اہتمام نہ کرسکا ۔ برکت ِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا شخص نہ محتاج ہوگا نہ اس کا ہاتھ خالی رہے گا ۔ (النعمۃ الکبرٰی صفحہ 9 ) مفسر قرآن علامہ اسماعیل حقی نے امام سیوطی امام سبکی ، امام بن حجر عسقلانی ، امام ابن حجر ، امام سخاوی ، علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہم جیسے اکابر علمائے امت سے میلاد شریف کی اہمیت نقل فرمائی اور لکھا ہے کہ میلاد شریف کا انعقاد آپ کی تعظیم کے لئے ہے ،اور اہل اسلام ہر جگہ ہمیشہ میلاد شریف کا اہتمام کرتے ہیں ۔( تفسیر روح البیان جلد 9 صفحہ 56 )۔ 

12 ربیع الاول پر اجما ع امت :۔ 

امام قسطلانی ، علا مہ زرقانی ، علامہ محمد بن عابدین شاکی کے بھتیجے علامہ احمد بن عبد الغنی دمشقی ، علامہ یوسف نہبانی اور شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہم نے تصریح فرمائی کہ امام المغازی محمد بن اسحاق وغیرہ علماءکی تحقیق ہے کہ یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم 12 ربیع الاول ہے ۔ علامہ ابن کثیر نے کہا یہی جمہور سے مشہور ہے اور علامہ ابن جوزی اور علامہ ابن جزار نے اس پر اجماع نقل کیا ہے ۔ اس لئےکہ سلف و خلف کا تمام شہروں میں 12 ربیع الاول کے عمل پر اتفاق ہے ۔ بالخصوص اہل مکہ اسی موقع پر جائے ولادت باسعادت پر جمع ہوتے اور اس کی زیارت کرتے ہیں ۔ ملخصاََ (زرقانی شرح مواہب جلد 1 صفحہ 132 ۔ جواہر البحار جلد 3 صفحہ 1147 ۔ماثبت من السنۃ صفحہ 57 ۔ مدارج النبوت صفحہ 14) 

واقعہءابولہب : ۔ 

جلیل القدر آئمہ محدثین نے نقل کیا ہے کہ ابولہب نے اپنی لونڈی ثوبیہ سے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشخبری سن کر اسے آزاد کردیا ، جس کے صلہ میں بروز پیر اس کے عذاب میں تخفیف ہوتی ہے اور انگلی سے پانی چوسنا میسر آتا ہے ، جب کافر کا یہ حال ہے تو عاشق صادق مومن کے لئے میلاد شریف کی کتنی برکات ہوں گی ؟ ( بخاری جلد 3 صفحہ 243 ، مع شرح زرقانی صفحہ 139 ماثبت بالسنہ صفحہ 60 )

دوسروں کی زبان سے :۔ 

( ہفت روزہ اہلحدیث) لاہور۔27 مارچ 1981 ء کی اشاعت میں رقمطراز ہے ۔: ملک میں حقیقی اسلامی تقریبات کی طرح یہ بھی (عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک اسلامی تقریب ہی شمارہوتی ہے اور اس امر واقعہ سے آپ بھی انکار نہیں کرسکتے کہ اب ہر برس ہی 12 ربیع الاول کو اس تقریب کے اجلال و احترام میں سرکاری طور پر ملک بھر میں تعطیل عام ہوتی ہے اور آپ اگر سرکاری ملازم ہیں تو اپنے منہ سے اس کو ہزار بار بدعت کہنے کے باوجود آ پ بھی یہ چھٹی مناتے ہیں اور آئندہ بھی یہ جب تک یہاں چلتی ہے آپ اپنی تمام تر (اہلحدیثیت ) کے باوجود یہ چھٹی مناتے رہیں گے ۔۔۔۔ خواہ کوئی ہزار منہ بنائے دس ہزار بار ناراض ہوکر بگڑے جب تک خدا تعالیٰ کو منظور ہوا یہاں اس تقریب کی کارفرمائی ایک امر واقعہ ہی ہے ۔ 

جلوس :۔ 

حکومت اگر اپنے زیراہتمام تقریب کو سادہ رکھے اور دوسروں کو بھی اس بات کی پرزور تلقین کرے تو اس کااثر یقینا خاطرخواہ ہوگا ۔ انشاءاللہ ۔ اس تقریب کے ضمن میں جتنے بھی جلوس نکلتے ہیں اگر ان کو حکومت کے اہتمام سے خاص کردیا جائے تو یہ کام ہرگز مشکل نہیں ہے ، ہر جگہ کے حکام بآسانی اس کام کو سرانجام دے سکتے ہیں ، اگر ہر شہر میں صرف ایک ہی جلوس نکلے اور اسے ہر ہر جگہ کے سرکاری حکام کنٹرول کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ مفاسد اچھل سکیں اور مصائب رونما ہوں ۔( اہلحدیث 16.1.81…27.3.81. )

تنظیم اہلحدیث :۔ 

جماعت اہلحدیث کے بالعموم اورحافظ عبد القادر روپڑی کے بالخصوص ترجمان ہفت روزہ (تنظیم اہلحدیث ) لاہور نے 17 مئی 1963 ء کی اشاعت میں لکھا ہے کہ مومن کی پانچ عیدیں ہیں ، جس دن گناہ سے محفوظ رہے ، جس دن خاتمہ بالخیر ہو ، جس دن پل سے سلامتی کے ساتھ گزرے ، جس دن جنت میں داخل ہو اور جب پردردگار کے دیدار سے بہر ہ یاب ہو ۔تنظیم اہلحدیث کا یہ بیان حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔(درۃ الناصحین صفحہ 263 ) مقام انصاف ہے کہ جب مومن کی اکھٹی پانچ عیدیں تکمیل دین کے خلاف نہیں تو جن کے صدقہ و وسیلہ سے ایمان قرآن اور خود رحمان ملا ، ان کے یوم میلاد کو عید کہہ دینے سے دین میں کونسا رخنہ پڑجائے گا ؟جبکہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ عید الفطر اور عید الاضحٰی کے مقابلے کے لئے ہے اور نہ ان کی شرعی حیثیت ختم کرنا مقصود ہے ، اہلحدیث مزید لکھا ہے کہ ( اگر عید کے نام پر ہی آپ کا یوم ولادت منانا ہے تو رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کی طرف دیکھیں کہ آپ نے یہ دن کیسے منایا تھا ؟ سنئے ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دن منایا پر اتنی ترمیم کے ساتھ کہ اسے تنہا عید میلاد نہیں رہنے دیا بلکہ عید میلاد اور عید بعث کہہ کر منایا اور منایا بھی روزہ رکھ کر اور سال بہ سال نہیں بلکہ ہر ہفتہ منایا ۔( ہفت روزہ اہلحدیث لاہور 27 مارچ 1981 ئ) 

سبحان اللہ ! اہلحدیث نے تو حد کردی کہ صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عید میلاد منانے ہی کی تصریح نہیں کی بلکہ ایک اور عید یعنی عید بعث منانے کا بھی اضافہ کردیا اور وہ بھی ہفتہ وار۔ ماہنامہ دارلعلوم دیوبند نومبر 1957 ء کی اشاعت میں ایک نعت شریف شائع ہوئی ہے کہ ؛ 

یہ آمد ، آمد اس محبوب کی ہے
کہ نور جاں ہے جس کا نام نامی
خوشی ہے عید میلاد النبی کی 
یہ اہل شوق کی خوشی انتظامی
کھڑے ہیں باادب صف بستہ قدسی
حضور  سرور ذات گرامی 

الحمد اللہ ! اس تمام تفصیل اور لاجواب و ناقابل تردید تحقیقی و الزامی حوالہ جات سے عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے اس نعمت کا چرچا کرنے شکر گزاری و خوشی کرنے محافل میلاد کے انعقاد و جلوس نکالنے کی روز روشن کی طرح تحقیق و تائید ہوگئی اور وہ بھی وہاں وہاں سے جہاں سے پہلے شرک و بدعت کی آوازیں سنائی دیتی تھیں ، ماشا ءاللہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عظمت و قوت عشق سے اپنی حقانیت کا لوہا منوالیا ، مگر ضروری ہے کہ میلاد شریف کے سب پروگرام بھی شریعت کے مطابق ہو ں اور منانے والے بھی شریعت و سنت کی پابندی کریں کیونکہ عشق رسالت کے ساتھ اتباع سنت بھی ضروری ہے ۔ 

مسئلہ بدعت :۔ 

مذکورہ تمام تفصیل و تحقیق کے بعد اب تو کسی بدعت و دت کا خطرہ نہیں ہونا چاہئے ، کیونکہ بدعت و ناجائز تو وہ کام ہوتا ہے جس کی دین میں کوئی اصل نہ ہو مگر عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل و بنیاد اور مرجع و مآخذ قرآن و حدیث ، صحابہ کرام ، جمہور اہل علم ، محدثین ، مفسرین بلکہ اجماع امت اور خود منکرین میلاد کے اقوال سے ثابت کرچکے ہیں ، لہذا اب تو اس کو بدعت تصور کرنا بھی بدعت و ناجائز اور محرومی و بے نصیبی کا باعث ہے ۔ 

میرے مولا کے میلاد کی دھوم ہے :: ہے وہ بد بخت جو آج محروم ہے

استفسار : 

اگر اب بھی کوئی میلاد شریف کا قائل نہ ہو ، تو پھر اسے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ سیرت کانفرنس ، سیرت کے اجلاس ، سالانہ تبلیغی اجتماعات ، اہلحدیث کانفرنسیں اور مدارس کے سالانہ پروگرام وغیرہ منعقد کرے ۔ورنہ وہ وجہ فرق بیان کرے کہ عید میلاد النبی صلی اللہ وسلم کیوں بدعت ہے اور باقی مذکورہ امور کس دلیل سے توحید و سنت کے مطابق ہیں اور ہمارے دلائل اور جلیل القدر محدثین و اکابر کے حوالہ جات کا کیا جواب ہے ؟ 

تم جو بھی کرو بدعت و ایجاد روا ہے :: اور ہم جو کریں محفل میلاد براہے منکرین میلاد کا کردار :۔

جو بچہ ہو پیدا تو خوشیاں منائیں
مٹھائی بٹے اور لڈو بھی آئیں
مبارک کی ہر سو آئیں صدائیں
مگر
محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا جب یوم میلاد آئے
تو بدعت کے فتوے انہیں یاد آئے صد سالہ جشن دیوبند کا بیان

صدائے باز گشت :۔ 

شاعر مشرق مفکر پاکستان علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے اپنے شہرہءآفاق کلام و اشعار میں :: 

زد یوبند حسین احمد ایں چہ بو العجی است  فرماکردیوبند و صدر دیوبند کی مشرک دوستی و کانگرس نوازی اور متحدہ قومیت سے ہمنوئی کو بہت عرصہ پہلے جس بوالعجی سے تعبیر فرمایا تھا، بمصداق تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے ۔ سے تعبیر فرمایا تھا ، اس بو العجی کی صدائے بازگشت اس وقت بھی سنی گئی ، جب صد سالہ جشن دیوبند میں مسز اندرا گاندھی وزیر اعظم بھارت کو شمع محفل دیکھ کر خود دیوبندی مکتب فکر کے نامور عالم و لیڈر مولوی احتشام الحق تھانوی (کراچی) کو بھی یہ کہنا پڑا کہ

بہ دیوبند مسز گاندھی ایں چہ بوالعجی است 

تفصیل : ۔

اس اجمال کی یہ ہے : کہ شان رسالت و جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت کے مرکز اور کانگرس کی حمایت و مسلم لیگ و پاکستان کی مخالفت کے گڑھ دارالعلوم دیوبند کا 21، 22، 23۔ مارچ 1980ء کو صد سالہ جشن منایا گیا اور اس موقع پر اندداگاندھی کی کانگریسی حکومت نے جشن دیوبند کا کامیاب بنانے کے لئے ریڈیو۔ ٹی وی۔ اخبارات۔ ریلوے وغیرہ تمام متعلقہ ذرائع سے ہر ممکن تعاون کیا۔ بھارتی محکمہ ڈاک و تارنے اس موقع پر 30 پیسے کا ایک یادگاری ٹکٹ جاری کیا: جس پر مدرسہ دیوبند کی تصویر شائع کی گئی۔ یہی نہیں بلکہ اندرادیوبندی نے”بنفس نفیس” جشن دیوبند کی تقریبات کا افتتاح کیا۔ اپنے دیدار و آواز و نسوانی اداؤں سے دیوبندی ماحول کو مسحور کیا: اور دیوبند کے اسٹیج پر تالیوں کی گونج میں اپنے خطاب سے جشن دیوبند کو مستفیض فرمایا: بانیءدیوبند کے نواسے اور مدرسہ دیوبند کے بزرگ ،مہتمم قاری محمد طیب صاحب نے اندرادیوی کو ‘عزت مآب وزیراعظم ہندوستان’ کہہ کر خیر مقدم کیا اور اسے بڑی بڑی ہستیوں میں شمار کیا: اور اندرادیوی نے اپنے خطاب میں بالخصوص کہا کہ’ ہماری آزادی اور قومی تحریکات سے دارالعلوم دیوبند کی وابستگی اٹوٹ رہی ہے’: علاوہ ازیں جشن دیوبند کے اسٹیج سے پنڈت نہروکی رہنمائی و متحدہ قومیت کے سلسلہ میں بھی دیوبند کے کردار کو اہتمام سے بیان کیا گیا : بھارت کے پہلے صدر راجند پرشاد کے حوالہ سے دیوبند کو ‘آزادی (ہند) کا ایک مضبوط ستون قرار دیا گیا۔ (ماہنامہ ‘رضائے مصطفٰے’ گوجرانوالہ جمادی الاخریٰ 1400ھ مطابق اپریل 1980 ء۔)

یادگار اخباری دستاویز :۔ 

نئی دہلی 21۔ مارچ (ریڈیو رپورٹ) اے آئی آر) دارالعلوم دیوبند کی صد سالہ تقریبات شروع ہو گئیں بھارت کی وزیر اعظم مسزاندراگاندھی نے تقریبات کا افتتاح کیا۔(روزنامہ مشرق۔ نوائے وقت لاہور 22، 23۔ مارچ 1980ء)

تقریر :۔ 

مسز اندراگاندھی نے کہا دارالعلوم دیوبند نے ہندوستان میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان روداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا اس نے دیگر اداروں کے ساتھ مل جل کر آزادی کی جدوجہد کوآگے بڑھایا۔ انھوں نے دارالعلوم کا موازنہ اپنی پارٹی کانگریس سے کیا (روزنامہ جنگ راولپنڈی 23 مارچ 

تصویر :۔ 

روزنامہ جنگ کراچی 3 اپریل کی ایک تصویر میں مولویوں کے جھرمٹ میں ایک ننگے منہ ننگے سر برہنہ بازو۔ عورت کو تقریر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اور تصویر کے نیچے لکھا ہے۔ ‘مسز اندراگاندھی دارالعلوم دیوبند کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر تقریر کر ہی ہیں۔’: 

روزنامہ ‘نوائے وقت’ لاہور۔9۔اپریل کی تصویر میں ایک مولوی کو اندراگاندھی کے ساتھ دکھایا گیا ہے اور تصویر کے نیچے لکھا ہے۔’مولانا راحت گل مسزاندراگاندھی سے ملاقات کرنے کے بعد واپس آ رہے ہیں۔’

دیگر شرکاء :۔

جشن دیوبند میں مسزاندراگاندھی کے علاوہ مسٹر راج نرائن، جگ جیون رام، مسٹر بھوگنا نے بھی شرکت کی۔(جنگ کراچی 11۔اپریل)

سنجے گاندھی کی دعوت :۔ 

اندراگاندھی کے بیٹے سنجے گاندھی نے کھانے کا وسیع انتظام کر رکھا تھا۔ سنجے گاندھی نے تقریبا پچاس ہزار افراد کو تین دن کھانا دیا۔ جو پلاسٹک کے لفافوں میں بند ہوتا تھا۔ بھارتی حکومت کے علاوہ وہاں کے غیر مسلم باشندوں ہندواؤں اور سکھوں نے بھی دارالعلوم کے ساتھ تعاون کیا۔ (روزنامہ امروز لاہور 9۔اپریل)

ہندواؤں کا شوق میزبانی :۔ 

کئی مندوبین (دیوبندی علماء) کو ہندو اصرار کرکے اپنے گھر لے گئے جہاں وہ چار دن ٹھہرے۔ (روزنامہ امروز لاہور27۔ مارچ 1980ء)

حکومتی دلچسپی :۔ 

اندراگاندھی اور سنجے گاندھی وغیرہ کی ذاتی دلچسپی کے علاوہ اندرا حکومت نے بھی جشن دیوبند کے سلسلہ میں خاصی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ اور اس جشن کے خاص انتظام و اہتمام کے لئے ملک و حکومت کی پوری مشیزی حرکت میں آ گئی اور بڑے بڑے سرکار حکام نے بہت پہلے سے اس کو ہر اعتبار سے کامیاب بامقصد اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے اپنےآرام و سکون کو قربان کر دیا۔ اور شب و روز اسی میں لگے رہے ریلوے، ڈاک، پریس، ٹی وی، ریڈیو اور پولیس کے حفاظتی عملہ نے منتظمین جشن کے ساتھ جس فراخدلی سے اشتراک و تعاون کیا ہے۔اس صدی میں کسی مذہبی جشن کے لئے ا سکی مثال دور دور تک نظر نہیں آتی۔(ماہنامہ فیض رسول براؤن بھارت۔مارچ 1980ء)

ڈیڑھ کروڑ :۔ 

جشن دیوبند کے مندوبین نے واپسی پر بتایا کہ جشن دیوبند کی تقریبات پر بھارتی حکومت نے ڈیڑھ کروڑ روپے خرچ کئے اور ساٹھ لاکھ روپے دارالعلوم نے اس مقصد کے لئے اکٹھے کئے۔ (روزنامہ امروز لاہور 27مارچ 1980ء)

30۔ لاکھ:۔

مرکزی حکومت نے قصبہ دیوبند ک نوک پلک درست کرنے کے لئے، 30 لاکھ روپیہ کی گرانٹ الگ مہیا کی۔ روٹری کلب نے ہسپتال کی صورت میں اپنی خدمات پیش کیں۔ جس میں دن رات ڈاکٹروں کا انتظام تھا۔ (روزنامہ جنگ راولپنڈی 3۔اپریل 1980ء)

کسٹم :۔ 

ہنگامی طور پر جلسہ کے گرد متعدد نئی سڑکوں کی تعمیر کی گئی اور بجلی کی ہائی پاور لائن مہیا کی گئی بھارتی کسٹم اور امیگریشن حکام کا رویہ بہت اچھا تھا۔ انھوں نے مندوبین کو کسی قسم کی تکلیف نہیں آنے دی۔ (روزنامہ امروز لاہور 9 اپریل 1980ء)

اخراجات جشن :۔ 

تقریبا جشن کے انتظامات وغیرہ پر 75 لاکھ سے زائد رقم خرچ کی گئی،: پنڈال پر چار لاکھ سے بھی زیادہ کی رقم خرچ ہوئی۔ کیمپوں پر ساڑھے چار لاکھ سے بھی زیادہ کی رقم خرچ ہوئی۔: بجلی کے انتظام پر 3 لاکھ سے بھی زیادہ روپیہ خرچ ہوا۔ (روزنامہ جنگ راولپنڈی 3۔اپریل مروز لاہور 9 ۔اپریل 1980ء)

 

اندرا سے استمداد :  

مفتی محمودنے اسٹیج پر مسز اندراگاندھی سے ملاقات کی اور ان سے دہلی جانے اور ویزے جاری کرنے کے لئے کہا۔ اس پر اندراگاندھی نے ہدایت جاری کی کہ اسے ویزے جاری کردئیے جائیں۔ چنانچہ بھارتی حکومت نے دیوبند میں ویزا آفس کھول دیا۔ (روزنامہ نوائے وقت لاہور 26مارچ1980ء)

دیوبند کے تبرکات:  

زائرین دیوبند و جشن دیوبند میں شرکت کے علاوہ واپسی پر وہاں سے بےشمار تحفے تحائف بھی ہمراہ لائے ہیں ان میں کھیلوں کا سامان ہاکیاں طور کرکٹ گیندوں کے علاوہ سیب، گنے، ناریل، کیلا، انناس، کپڑے، جوتے، چوڑیاں، چھتریاں اور دوسرا سینکڑوں قسم کا سامان شامل ہے۔ حد تو یہ ہے کہ چند ایک زائرین اپنے ہمراہ لکڑی کی بڑی بڑی پارٹیشنین بھی لاہور لائے ہیں۔ (روزنامہ مشرق۔ نوائے وقت 26 مارچ 1980ء)

تاثرات  

احتشام الحق تھانوی:  

کراچی 22 ۔مارچ مولونا احتشام الحق تھانوی نے کہا ہے کہ دارالعلوم دیوبند کا صدسالہ اجلاس جو مذہبی پیشوا اور علماءو مشائخ کا خالص مذہنی اور عالمی اجتماع ہے اس کا افتتاح ایک (غیر مسلم اور غیر محرم خاتون) کے ہاتھ سے کراکرنہ صرف مسلمانوں کی مذہبی رویاات کے خلاف ہے بلکہ ان برگزیدہ مذہنی شخصیتوں کے تقدس کے منافی بھی ہے جو اپنے اپنے حلقے اور علاقوں سے اسلام کی اتھارٹی اور ترجمان ہونے کی حقیقت سے اجتماع میں شریک ہوئے ہیں۔ ایشیاکی دینی درسگاہ کے اس خالص مذہبی صد سالہ اجلاس کو ملکی سیاست کے لئے استعمال کرنا ارباب دارالعلوم کی جانب سے مقدس مذہبی شخصیتوں کا بدترین استحصال اور اسلاف کے نام پر بدترین قسم کی استخوان فروشی ہے ہم ارباب دارالعلوم کے اس غیر شرعی اقدام پر اپنے دلی رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ اس شرمناک حرکت کی ذمہ داری دارالعلوم دیوبند کے مہتمم پر ہے۔ جنہوں نے دارالعلوم کی صد سالہ روشن تاریخ کے چہرے پر کلنک کا ٹیکہ لگا دیا ہے۔ (روزنامہ امن کراچی 24۔ مارچ 1980ء)

وقار انبالوی :

مولانا احتشام الحق صاحب کا یہ کہنا :  

(بہ دیوبند مسز اندرا ایں چہ بوالعجبی است)
کی وضاحت ہی کیا ہو سکتی ہے۔ یہ تو اب تاریخ دیوبند کا ایک ایسا موڑ بن گیا ہے کہ ماؤرخ ا سے کسی طرح نظر انداز کر ہی نہیں سکتا۔ اس کے دامن سے یہ داغ شاید ہی مٹ سکے۔ وقتی مصلحتوں نے علمی غیرت اور حمیت فقر کو گہنا دیا تھا۔ اس فقیر کو یا د ہے کہ متحدہ و قومیت کی تارنگ میں ایک مرتبہ بعض علماءسوامی سردہانند کو جامع مسجد دہلی کے منبر پر بٹھانے کا ارتکاب بھی کر چکے ہیں لیکن دو برس بعد اسی سردہانند نے مسلمانوں کو شدھی کرنے یا بھارت سے نکالنے کا نعرہ بھی لگایا تھا۔ (سرراہے نوائے وقت 29۔ مارچ 1980ء)

جشن دیوبند پر قہرخداوندی :  

دارلعلوم دیوبند کے اجلاس صد سالہ کے بعد سے (جس میں کچھ باتیں ایسی بھی ہوئیں جو یقینا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نظر عنایت سے محروم کرنے والی تھیں) ایک خانہ جنگی شروع ہوئی جو برابر جاری ہے اوراس عاجز کے نزدیک وہ خداوندی قہرو عذاب ہے۔ راقم سبطور ساٹھ سال سے اخبار اور رسائل کا مطالعہ کرتا رہا ہے ان میں وہ رسالے اور اخبارات بھی ہوتے ہیں جن میں سیاسی یا مذہبی مخالفین کے خلاف لکھا جاتا تھا اور خوب خبر لی جاتی تھی ۔ ۔ ۔۔۔۔۔ لیکن مجھے یاد نہیں کہ ان میں سے کسی کے اختلافی مضامین میں شرافت کو اتنا پامال اور رزالت و سفالت کا ایسا استعمال کیا گیا ہو جیسا کہ ہمارے دارالعلوم دیوبند سے نسبت رکھنے والے ان مجاہدین قلم نے کیا ہے۔ پھر ہماری انتہائی بدقسمتی کہ ان میں وہ حضرات بھی ہیں جو دارالعلوم کے سند یافتہ فضلاءبتلائے جاتے ہیں۔ (ماہنامہ الفرقان لکھنوءفروری 1981ءالاعتصام لاہور 20۔مارچ)

سیارہ ڈائجسٹ :  

اناری اسٹیشن پر ٹکٹیں خریدی گئیں تو پتہ چلا کہ حکومت بھارت نے (جشن دیوبند کے) شرکاءکو یکطرفہ کرایہ میں دو طرفہ سفر کی رعایت دی ہے۔ بعض لوگ کفار کی طرف سے اس رعایت یا مدد کو مسترد کرنے پر اصرار کر رہے تھے۔ مگر جب انہیں بتایا گیا کہ اسی کافر حکومت نے جشن دیوبند کی تقریبات کے انتظامات پر ایک کروڑسے زائد رقم لگائی ہے اور گیسٹ ہاؤس بھی بنوا دیا ہے۔ تو یہ اصحاب ندامت سے بغلیں جھانکنے لگے۔ دیوبند میں اندراگاندھی، جگ جیون رام، چرن سنگھ، جیسی معروف شخصیتیں آئی ہوئی تھیں۔ اور دیوبند تقریبات پر حکومت نے ایک کروڑ 20۔لاکھ روپے صرف کئے اور ہر طرح کی سہولتیں بہم پہنچائیں۔ دیوبند کی افتتاحی تقریب میں جب اندراگاندھی نے اپنی تقریر میں مسلمانوں کو ہندوستانی قومیت کے تصور ہم آہنگ کرکے مسلم قومیت کے تصور کی بیخ کنی کی تو وہاں موجود چوٹی کے علماءکو السام کے اس عظیم اور بنیادی فلسفہ کی تشریح اور تصحیح کی جراءت نہ ہوئی۔ حکیم الامت (اقبال) نے کانگریس کے علماءکی اسی ذہنی کیفیت کو بھانپ کر فرمایا تھا:  

عجم ہنوز نہ داند رموز دیں ورنہ
زدیوبند حسین احمد ایں چہ بوالعجبی است  

تلاوت و ترانہ کے بعد اسٹیج پر کچھ غیر معمولی حرکات کا احساس ہوا۔ اس لئے کہ شریمتی اندراگاندھی افتتاح اجلاس میں آرہی ہیں۔ اسٹیج پر موجودہ تمام عرب و فوددو رویہ ہو کر کھڑے ہو گئے۔ اندراگاندھی ان سب کے خوش آمدید کا مسکراہٹ سے جواب دیتے ہوئے آئیں۔ انہیں مہمان خصوصی کی کرسی پر جو صاحب صدر اور قاری محمد طیب کی کرسیوں کے درمیان تھی بٹھایا گیا (جبکہ دیگر بڑے بڑے علماءبغیر کرسی کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔ شریمتی کو دیکھنے کے لئے زبردست ہلچل مچی تمام حاضرین اور خصوصا پاکستانی شرکاءشریمتی کو دیکھنے کے لئے بے تاب تھے۔ شریمتی ایک مرصع اور سنہری کرسی پر لاکھوں لوگوں کے سامنے جلوہ گر تھیں۔ شریمتی نے سنہری رنگ کی ساڑھی پہنی ہوئی تھی اور ان کے ہاتھ میں ہلکے رنگ کا ایک بڑا سا پرس تھا۔ قاری محمد طیب صاحب کے خطبہءاستقبالیہ کے دوران مصر کے وزیر ادقاف عبداللہ سعود نے شریمتی اندراگاندھی سے ہاتھ ملایا۔ نیز شریمتی ارو مفتی محمود صاحب تھوڑی دیر اسٹیج پر کھڑے کھڑے باتیں کرتے رہے۔ (بعض شرکاء دیوبند کا کہنا ہے کہ اندراگاندھی بن بلائی آئی تھی) اگر یہ درست مان لیا جائے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسے مہمان خصوصی کی کرسی پر کیوں بٹھایا گیا تقریر کیوں کرائی گئی ؟ چرن سنگھ اور جگ جیون رام وغیرہ نے ایک مذہبی سٹیج پر کیوں تقاریر کیں؟ کیا یہ سب کچھ دارالعلوم دیوبند کے منتظمین کی خواہش کے خلاف ہوتا رہا ؟ دراصل ایک جھوٹ چھپانے کے لئے انسان کو سو اور جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ کاش! خدا علماءکو سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)

ایک پاکستانی ہفت روزہ میں مولانا عبدالقادر آزاد نے غلط اعداد و شمار بیان کئے ہیں۔ یہ بات انتہائی قابل افسوس ہے ان کے مطابق دس ہزار علماءکا وفد پاکستان سے گیا تھا۔ حالانکہ علماءو طلبہ ملا کر صرف ساڑھے آٹھ سو افراد ایک خصوصی ٹرین کے ذریعے دیوبند گئے تھے۔ اجتماع کی تعداد مولانا نے کم از کم ایک کروڑ بتائی ہے۔ حالانکہ خود منتظمین جلسہ کے بقول پنڈال تین لاکھ آدمیوں کی گنجائش کے لئے بنایا گیا تھا۔ کاش! ہم لوگ حقیقت پسند بن جائیں۔ اعداد و شمار کو بڑھا بڑھا کر بیان کرنا انتہائی افسوس ناک ہے۔ عرب و فود کیلئے طعام و قیام کا عالیشان انتظام تھا۔ ڈائینگ ہال اور اس طعام کا ٹھیکہ دہلی کے انٹر کانٹی نینسٹل ہوٹل کا تھا۔ عربوں کے لئے اس خصوصی انتظام نے مساوات اسلامی سادگی اور علماءربانی کے تقدس کے تصور کی دھجیاں اڑا دیں۔ ایسا لگتا تھا کہ کل انتظام کا 57 فیصد طوجھ عرب و فود کی دیکھ بھال اور اہتمام کی وجہ سے تھا۔ (ماہنامہ سیارہ ڈائجسٹ لاہور جون 1980آنکھوں دیکھا حال)

سیدہ اندرا گاندھی :روزنامہ اخبار الاعالم الاسلامی سعودی عرب نے لکھا کہ سعودی حکومت نے دارالعلوم دیوبند کو دس لاکھ روپے وظیفہ دیا۔ جبکہ سیدہ اندرا گاندھی نے جشن دیوبند کے افتتاحی اجلاس میں خطاب کیا۔ (14۔جمادی الاولیٰ 1400ھ)

غلام خان درمدح مشرک :  

روزنامہ جنگ راولپنڈی۔ یکم اپریل 1980ءکی اشاعت میں ایک باتصویر اخباری کانفرنس میں مولوی غلام خاں کا بیان شائع ہوا کہ جشن دیوبند کو کامیاب بنانے کے لئے بھارت کی حکومت نے بڑا تعاون کیا ہے۔ سوا کروڑ روپے خرچ کرکے اندراحکومت نے اس مقصد کےلئے سڑکیں بنوائیں، نیا اسٹیشن بنوایا ہم سے نصف کرایہ لیا اور دیوبند کی تصویر والی ٹکٹ جاری کی۔ وزیراعظم اندراگاندھی نے بھارت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیا ہے وہاں باہر سے کوئی چیز نہیں منگواتے اس کے مقابلے میں پاکستان اب بھی گندم تک باہر سے منگوا رہا ہے۔ پاکستان میں باہمی اختلافات اور نوکر شاہی نے ملک کو ترقی کی بجائے نقصان کی طرف گامزن کر رکھا ہے۔ (روزنامہ جنگ راولپنڈی)  

یاد رہے :۔  

کہ مولوی غلام خاں کا یہ آخری اخباری بیان تھا۔ جس میں اس موحد نے عید میلاد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی طرح صد سالہ جشن دیوبند کو بدعت قرار دینے اور دیگر تکلفات و فضول خرچی بالخصوص ایک دشمن السام و پاکستان بے پردہ و غیرمحرم کافرہ مشرکہ کی شمولیت کی پر زور مذمت کرنے کی بجائے الٹا جشن دیوبند کی کامیابی و اندراگاندھی کی کامیابی و احسانات کے ذکر و بیان کے لئے باقاعدہ پریس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ اور اندراحکومت کی توصیف اور اس کے بالمقابل پاکستان کی تنقیص کی گئی اور ساری عمر غیراللہ کی امداد استمداد کا انکار کرنے والوں نے اندراحکومت کے بڑے تعاون کو بڑے اہتمام سے بیان کیا۔ اور ساری عمر یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پکارنے والے صحیح العقیدہ سنی مسلمانوں کو خواہ مخواہ مشرک وبدعتی قرار دے کر مخالف کرنے والے آخر عمر میں کافرہ مشرکہ کی مدح کرنے لگے۔ جس پر قدرت خداوندی کے تحت آخری انجام بھی عجیب و غریب اور عبرتناک ہوا۔
چنانچہ  

محمد عارف رضوی ملتانی خطیب فیصل آباد کے ایک مطبوعہ اشتہار میں دوبئی سے مختار احمد صاحب کا ایک خط بدیں الفاظ شائع ہوا ہے۔ کہ میں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر لکھتا ہوں کہ (دوبئی میں) میں نے خود پہلے ان کی تقریر سنی جو انہوں نے یہاں کی۔ تقریبا دو گھنٹے تک آپ تقریر کرتے رہے۔ ہزاروں لوگ تقریر سننے آئے ہوئے تھے۔ مولانا غلام اللہ خاں صاحب نے خوب خوب سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کی پہلے میںخود بھی ان کا مداح تھا۔ پھر تقریر کرتے ہوئے انہیں دل پر درد پڑا۔ اور انہیں ہسپتال لایا گیا۔ وہ پلنگ سے اچھل کر چھت تک جاتے اور پھر زمین پر آ پڑتے۔ ڈاکٹر سب کمرہ چھوڑ کر بھاگ گئے۔ میں چھپ کر دیکھتا رہا اور کانپتا رہا۔ اسی کشمکش میں تقریبا ایک گھنٹہ گزرا پھر خاموشی ہو گئی۔ کوئی اندر جانے کو تیار نہ تھا۔ میں نے ڈاکٹر کو بلایا۔ جب کافی آدمی جمع ہو ئے، اکٹھے اندر گئے اور دیکھا کہ ان کا رنگ سیاہ پڑ چکا ہے زبان منہ سے باہر نکل کر لٹک رہی تھی اور آنکھیں باہر ابل آئی تھیں۔ مجبورا اسی طرح پیٹی میں بند کرکے پاکستان بھیج دیا گیا۔ میں تین چار دن بیمار رہا اور اٹھ اٹھ کر بھاگتا تھا۔ پھر توبہ استغفار پڑھی اور کچھ میں ٹھیک ہوا۔یہ تھی ان کی تقریر اور انجام۔ خدا کی لاٹھی بے آواز تھی کام کر گئی۔ (مختار احمد 19ستمبر 1980ءدوبئی)  

نوائے وقت کی تائید:  

روزنامہ نوائے وقت کے خصوصی نمائندہ کی رپورٹ سے بھی مختار احمد صاحب کے مذکورہ مکتوب کی تائید ہوتی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ جگہ جگہ لوگوں نے مولانا(غلام خان) کی میت کا آخری دیدار کرنے کی کوشش کی۔ لیکن انہیں کامیابی نہ ہوئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ حتیٰ کہ جبمولانا کی میت لحد میں اتاری جانے لگی۔ تو طبی وجوہ کی بناءپر اس وقت بھی خواہش مند سوگواروں کو مولانا کی میت کا آخری دیدار نہیں کریا گیا۔ (روزنامہ نوائے وقت لاہور۔ راولپنڈی 29 مئی 1980ء) ظاہر ہے کہ بقول مختار احمد دال میں کچھ کالا ہے ضرور تھا۔ ورنہ کیا وجہ تھی کہ بزعم خویش ساری عمر قرآن پاک کی تبلیغ کرنے والے اور شیخ القرآن کہلانے والے کا چہرہ بھی نہ دکھایا گیا۔ جب کہ بیرونی ممالک سے لائی جانے والی عام لوگوں کی میت کا بھی آخری دیدار کرایا جاتا ہے۔  

یہ ہے مسلمانوں کو مشرک بنانے اور اصلہ نسلی مشرکوں کی تعظیم و مدح سرائی کا عبرتناک انجام اور جشن دیوبند منانے اور جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر فتوے لگانے کی قدرتی گرفت و سزا۔  

والعیاذ باللہ

قادری محمد طیب :مہتمم دارالعلوم دیوبند بھی دیوبند سے بیدخلی کے باعث اسی کشمکش میں دنیا سے چل بسے جو جشن دیوبند کی نحوست و شامت کے باعث خانہ جنگی کی صورت میں پیدا ہوئی۔ حتیٰ کہ آخری وقت ان کا جنازہ بھی دارالعلوم میں سے نہ گزرنے دیا گیا۔ (روزنامہ جنگ 21۔ اگست 1983ء)  

اگر درخانہ کس است یک حرف بس است 

اندراگاندھی کا مرثیہ :بھارتی وزیراعظم آنجہانی مسز اندراگاندھی کے قتل پر جس طرح پاکستان میں موجود سابق قوم پرست علماءاور کانگریس کے سیاسی ذہن و فکر کے ترجمان وارثان منبرہ محراب نے تعزیت کی ہے وہ کوئی قابل فخر اور دینی حلقوں کیلئے عزت کا باعث نہیں ہے۔ قومی اخبارات میں خبر شائع ہوئی ہے کہ نظام العلماءپاکستان کے نامور رہنماؤں مولانا محمد شریف و ٹو مولانا زاہدالراشدی اور مولانا بشیر احمد شاد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ: اندراگاندھی نے اپنے اقتدار میں جمعیت علماءہند اور دارالعلوم دیوبند کی قومی خدمات کا ہمیشہ اعتراف کیا اور ہر طرح کی معاونت اور حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔ نیزا ن رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ اندرا نے جشن دیوبند میں اکابر دیوبند سے اپنے خاندانی تعلقات کا برملا اظہار کیا یہ پڑھ کر انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ سیکولرازم کے علمبراداران سابق کانگرسی علماءکو ابھی تک اندرا کے خاندانی تعلق پر کس قدر فخر ہے۔ کس قدر ستم کی بات ہے کہ ان مٹھی بھر لوگوں نے ابھی تک اپنے دل میں پاکستان کی محبت کی بجائے اندارگاندھی سے تعلق کو سجا رکھا ہے۔ اس لئے پاکستان کی تلخیاں اپنے دل سے نہیں نکال سکے۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ مولاناشبیر احمد عثمانی کو ان کے اپنے قول کے مطابق جس طرح فرزندان دیوبند کو اکثریت غلیظ گالیوں سے نوازتی تھی وہ فکر آج تک ان لوگوں کے سینوں میں عداوتِ پاکستان کا ایک تنا ور درخت بن چکی ہے ، ورنہ اس وقت پنڈت موتی لال نہرو ، پنڈت جواہر لال نہرو کا جناب سید احمد بریلوی اور جناب اسماعیل دہلوی سے فکری تعلق جوڑنے کی کیا ضرورت تھی ، دیوبند کے ان رہنماؤ ں نے یہ بیان دے کر آج بھی دو قومی نظریے کی نفی کی ہے ۔ تحریک پاکستان میں ہندواؤں کے ساتھ کانگریسی خیال کے علماءکے کردار کو نمایاں کرنا ہمارے لئے باعث ِ شرم ہے ۔ ( روزنامہ آفتاب لاہور 3 نومبر 1984 ء)

دیوبند بریلی کی راہ پر :۔  

ماہ جمادی الاخر 1409 ھ میں اہلسنت کی دیکھا دیکھی علمائے دیوبند نے بھی دھوم دھام سے نہ صرف یوم صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ منایا بلکہ عین یوم وصال 22 جمادی الاخر کو مختلف مقامات پر جلوس نکالا اور سرکاری طور پر نہ صرف یوم صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بلکہ ایام خلفائے راشدین منانے اور یوم صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پر تعطیل کرنے کا مطالبہ کیا ۔(تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ۔اخبار جنگ لاہور ۔ یکم فروری ۔ نوائے وقت 2.3 فروری مشرق لاہور 30 جنوری 1989 ء ) نیز ایک دیوبندی انجمن سیالکوٹ کی طرف سے 22 رجب کو یوم امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی سرکاری طور پر منانے اور اس دن تعطیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔( نوائے وقت 13 فروری 1989 ء)

انجمن سپاہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم بنام سپاہ صحابہ :۔  

رحیم یار خان اور صادق آباد میں بھی دیوبندی سپاہ صحابہ کے زیر اہتمام یوم صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پر بڑے اہتمام سے جلوس نکالا گیا چنانچہ انجمن سپاہ مصطفٰی رحیم یار خان نے دیوبندی علماءسے جواب طلبی کی کہ بتاؤ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جلوس ناجائز کیوں ؟ اور وصال صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا جلوس جائز کیوں ؟ اس پر انجمن سپاہ صحابہ کے دیوبندی علماءپر سناٹا چھاگیا۔ البتہ مولوی محمد یوسف دیوبندی نے ذرا ہمت کی اور انجمن سپاہ صحابہ کے مولوی حق نواز جھنگوی وغیرہ پر بدیں الفاظ فتویٰ عائد کیا کہ لوگوں نے ایک نئے انداز سے صحابہ کرام کے دن منانے شروع کردیئے ہیں کو کہ صریح بدعت اور شرعا ناپسندیدہ فعل ہے نہ ہی شریعت مقدسہ میں اس قسم کے جلوسوں کی اجازت ہے اور نہ ہی علماءدیوبند کا ان جلوسوں سے کوئی تعلق ہے ، اللہ تعالیٰ ان (حق نواز دیوبندی وغیرہ ) کو ہدایت دے کہ بدعات کے اختراع کی بجائے سنتوں کو زندہ کریں ۔( مولوی محمد یوسف دارالعلوم عثمانیہ ) چک نمبر پی 88 رحیم یار خان بتاریخ 24 جمادی الاخر 1409 ھ 

بمصداق مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیر ی 

مولوی محمد یوسف دیوبندی کے فتویٰ سے ثابت ہوگیا کہ دیوبندی وہابی مکتب فکر کی انجمن سپاہ صحابہ اور بالخصوص اس انجمن کے لیڈر مولوی حق نواز جھنگوی اور ان کے رفقاءگمراہ و بدعتی ہیں جنہوں نے صریح بدعت و شرعا ناپسندیدہ فعل اوربدعات کے اختراع کا ارتکاب کیا ہے ، بلکہ مولوی یوسف دیوبندی کے علاوہ باقی تمام علماءدیوبند۔ مولوی سرفراز گکھڑی، عنایت اللہ بخاری اور ضیاءالقاسمیٰ دیوبندی وغیرہ ہم بھی مولوی حق نواز دیوبندی کے شریک جرم ہیں۔ جنہوں نے سپاہ صحابہ کے بدعات کے مظاہرہ پر اپنی خاموشی سے کم از کم نیم رضا مندی کا ثبوت دیا۔ مذکورہ تمام ناقابل تردید حقائق و شواہد اور حوالہ جات سے فرزندان نجدودیوبند غیر مقلدین و دیوبندی علماءکا دور خامنافقانہ کردار واضح ہو گیا۔ کہ ان لوگوں کو محض شان رسالت و ولایت سے عداوت کے باعث میلادشریف اور عرس و گیارہویں شریف سے عنا دہے اور خود ساختہ جشن دیوبند و بدعات اہلحدیث سے انہیں کوئی تکلیف نہیں۔ 

نوٹ:

یوم صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح یک محرم 1421ھ کو دیوبندی انجمن سپاہ صحابہ نے ملک بھر میں یوم فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی منایا اور جلوس بھی نکالا۔

جشن غیر مقلدین بزعم خویش اہلحدیث: 

منکرین شان رسالت ق مخالفین جشن میلاد و جلوس مبارک کے فریق اول علماءدیوبند کے صد سالہ جشن دیوبند کی تفصیلات ملاحظہ فرمانے کے بعد فریق دوم غیر مقلدین کے جشن و جلوسوں اور دیگر بدعات کا بھی باحوالہ تاریخی بیان مطالعہ فرمائیں اور ان لوگوں کی شان رسالت دشمنی کا اندازہ لگائیں۔ ماہنامہ رضائے مصطفی گوجرانوالہ نے جشن غیر مقلدین کے موقع پر اسی وقت تازہ تازہ بعوان اسے کیا کہیئے تحریر کیا کہ: 

غیر مقلدین اہلحدیث کے شرک و بدعت پر مبنی اصولوں کے تحت روضہءنبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت کے لئے مدینہ منورہ کا شدرحال بھی شرک و معصیت ہے۔ عرس و میلاد و گیارہویں وغیرہ کیلئے وقت و دن کا تعین و اہتمام بھی بدعت وناجائز ہے۔ اور جشن عید میلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ آولہ وسلم کی عظیم الشان تقریب پر جلوس و جھنڈیوں وغیرہ کا اہتمام بھی اسراف و بدعت اور بے ثبوت ہے۔ مگر برعکس اس کے قائد اہلحدیث احسان الٰہی ظہیر کی قیادت میں جمعیت اہلحدیث نے 18۔ اپریل 1986ءبروز جمعۃ المبارک کا تعین کرکے موچی دروازہ لاہور میں کثیر اخراجات کے ساتھ جلسہءعام کا انعقاد کیا۔ مختلف علاقوں اور شہروں سے جھنڈوں کے ساتھ جلوسوں کی صورت میں موچی دروازہ لاہور پہنچنے کا اہتمام و انتظام کیا۔ اور موچی دروازہ لاہور کے سفر و شدرحال کے لئے اخبارات و اشتہارات میں مسلسل اعلان کیا گیا کہ: 

چلو چلو ، لاہور چلو موچی دروازہ لاہور چلو 

گویا جو موچی دروازے نہیں گیا وہ اہلحدیث نہیںرہا اور 18۔اپریل کو سب سے بڑی بدعت کا ارتکاب یوں کیا گیا کہ اہلحدیث مساجد میں نماز جمعہ کا ناغہ کرکے اور مساجد کو بے آباد کرکے موچی دروازہ میں نماز جمعہ کا اہتمام کیا۔(جنگ لاہور۔ 15اپریل 1986ء) 

ہے کوئی اہلحدیث: 

جو موچی دروازہ لاہور کی مذکورہ بدعات و اسراف اور اس پر مستزاد تالی و فوٹوبازی کا جواز و ثبوت قرآن و حدیث سے پیش کرے یا پھر ان سب بے ثبوت و غلط امور کی انجام دہی کے بعد روضہءنبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت، عرس و میلاد گیارہویں کی تقاریب اور جلوس میلاد و جھنڈیوں وغیرہ کے خلاف اپنی فتویٰ بازی واپس لینے کا اعلان کرے، ورنہ یہی سمجھا جائے گا کہ ان لوگوں کی طرف سے خود جشن منانا اور جشن میلاد و جلوس مبارک کے خلاف فتویٰ بازی کرنا محض شان رسالت سے دشمنی پر مبنی ہے۔ والعیاذباللہ تعالیٰ۔ 

جشن لاہور:۔ 

کے علاوہ مقلدین نے مختلف مقامات پر جلسہءعام کے نام پر جشن منانے کے علاوہ گوجرانوالہ میں بھی 19۔ مئی1986ءکو بالخصوص جلسہءعام کے جشن و جلوسوں کا بہت اہتمام کیا۔ اور جلسہءہذامیں فوٹوبازی پٹاخے بازی و تالی بجانے کے علاوہ وڈیو فلمیں بھی تیار کی گئیں۔ (روزنامہ نوائے وقت 10، 11۔ مئی 1986ء) 

غیر مقلدین :۔ 

کے ظہیر گروپ کے مذکورہ اعمال نامہ کے بعد ان کے میاں فضل حق و لکھوی گروپ کا اعمال نامہ بھی ملاحظہ ہو۔

8 ۔اگست 1986ءبروز جمعہ مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے مولانا معین الدین لکھوی اور جمعیت کے ناظم اعلیٰ میاں فضل حق ایک روز دورہ پر گوجرانوالہ پہنچے تو پل نہرا پر جناب پرمرکزی جمعیت اہلحدیث، مرکزی جمعیت شبان اہلحدیث اور جعیت رفقائے اسلام کے سینکڑوں کارکنوں کے علماءکی قیادت میں ان کا شاندار استقبال کیا اور انہیں جلوس کی شکل میں جامع مسجد مکرم ماڈل ٹاؤن لایا گیا راستہ میں شیرانوالہ باغ کے قریب خاکسار تحریک کے ایک دستہ نے سالار اکبر غلام مرتضٰے اور عنایت اللہ کی سربراہی میں ان رہنماؤں کو اکیس گولوں کی سلامی دی۔ شرکاءجلوس پاکستان کے قومی پرچم اور جمیعت اہلحدیث کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔ بعد نماز جمعہ جمعیت شبان اہلحدیث نے مسجد مکرم سے شریعت بل کی حمایت میں ایک جلوس نکالا۔ یہ جلوس سر کلر روڈ سے ہوتا ہوا جامعہ اشرفیہ میں پہنچ کر جلسہءعام میں شامل ہو گیا۔ (روزنامہ نوائے وقت جنگ مشرق لاہور۔9۔10 اگست 1986ء) 

منکرین جشن میلاد و جلوس مبارک کا مذکورہ اعمال نامہ اور تاریخی دستاویز بمصداق: داشتہ آیدسپیرا۔ اپنے پاس محفوظ و ذہن نشین رکھنے کے علاوہ ملاحظہ فرمائیں۔ کہ ان لوگوں کے ہاں اپنے لئے اور اپنے مولویوں اور لیڈروں کے لئے ہر طرح شان و شوکت، جشن و جلوس، گولوں کی سلامی اور جھنڈے وغیرہ تکلفات و رسومات سب کچھ ناجائزو روا ہے۔ مگر نجدی دیوبندی دھرم میں پابندی ہے۔ توصرف جشن میلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جشن و جلوس مبارک پر ہے ۔کوئی مفتیءنجدو دیوبند جو اپنی دو عملی و دوررنگی اور اس دوہرے معیار کی کوئی دلیل کتاب و سنت سے پیش کرے۔ جس کا منافقانہ طور پر بڑا پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ تف ہے ایسی نام نہاد مسلمانی توحید پرستی پر۔ 

نوٹ:۔ 

ہم نے اخباری بیانات و رپوٹنگ سے اہلحدیث کے جشن و جلوسوں کے جو حوالے دئیے ہیں۔ انہیں اہلحدیثیوں کے ترجمان ہفت روزہ الاسلام لاہور نے 25۔ اپریل اور 16 مئی 1686ءمیں اور ہفت روزہ اہلحدیث لاہور نے 8 ۔اور 15۔اگست کی اشاعت میں بھی نقل اور تسلیم کیا ہے۔ 

عید :۔ 

بلکہ الاسلام نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ موچی دروازہ کے تاریخی جلسہ کی تیاریاں تقریبا تین ہفتوں سے جاری تھیں۔ اور عید کے چاند کی طرح ہر تاریخ اس انتظار میں گزر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔بالآخر 18 ۔اپریل کا آفتاب ایک نیا ولولہ اور ایک نئی روشنی لے کر طلوع ہوا۔(الاسلام 25۔اپریل 1986ءص:4

منکرین میلاد: 

جلوس مبارک کی شان رسالت سے عداوت اور ازلی شقاوت و اندرونی خباثت کا بھی کوئی ٹھکانہ ہے کہ 18۔اپریل )کی انگریزی تاریخ) کوجلسہءاہلحدیث کے لئے تو ایسی تیاریاں اور سرگرمیاں کہ دن رات ایک کر دیا جائے۔ اور عید کے چاند کی طرح انتظار کیا جائے۔ اور 18 ۔اپریل یوم جلسہ کے آفتاب کے طلوع کو نئے ولولے اور نئی روشنی سے تعبیر کیا جائے۔ لیکن یوم عید میلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے موقع پر ان بزرگوں پر مردنی چھا جائے۔ لفظ عید کے استعمال سے لے کر ہر چیز کو بدعت و شرک کی عینک سے دیکھنا شروع کر دیں۔ اور 12۔ ربیع الاول کا آفتاب نئے ولولے اور نئی روشنی کی بجائے منکرین کی موت و تباہی کا پیغام لے کر طلوع ہو۔ افسوس ہے ایسی ہٹ دھرمی و کور چشمی پر۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔

اہلحدیث: 

کے ایک اور ترجمان ہفت روزہ ‘الاعتصام’ لاہور نے 23۔مئی 1986ءکی اشاعت میں لکھا ہے کہ:زہے ماہ رمضان و ایام اد کہ چوں صبح عیداست ہر شام اد 

انصاف پسند: 

حضرات غور کریں کہ اس ترجمان اہلحدیث نے کس وسیع القلبی کے ساتھ ماہ رمضان کی ہر شام کو صبح عید قرار دے کر عیدالفطر سے پہلے ہی ماہ رمضان میں پوری تیس عیدیں زائد بنا ڈالیں ہیں۔ اور یہاں انہیں اپنا یہ کلیہ یاد نہیں رہا کہ اسلام میں صرف دو عیدیں ہیں۔ لٰہذا کسی تیسری عید کی کوئی گنجائش نہیں۔ جس کلیہ کی آڑ میں عیدمیلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے خلاف خبث باطنی کا اظہار کیا جاتا ہے گویا اگر ضد و عناد ہے تو صرف حبیب خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی عید میلاد سے جس کی طفیل اول الاعتصادم رمضان کی ہر شام بھی صبح عید ہے۔ 

عید کا سماں: 

تھانہ کنگن پورموکل میں 2 ۔مئی کو عظیم الشان تاریخی جلسہ ہوا۔ رنگ برنگی جھنڈیوں اور اسٹیج کی سجاوٹ نے عید کا سماں بنا رکھا تھا۔ (اہلحدیث لاہور22 ۔جون 1985ء)
اہلحدیث کے بقول اگر ایک عام جلسہ و اسٹیج کو بال ثبوت رنگ برنگی جھنڈیوں سے سجانا جائز ہے۔اس میں کوئی بدعت و فضول خرچی نہیں، تو میلاد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جیسی خصوصی تقریب کے لئے محافل میلاد کا انعقاد و سجاوٹ کیسے ناجائز ہو سکتی ہے اور اگر ایک عام قسم کے جلسہ کو خوشی سے عید کا ساسماں بنایا جا سکتا ہے تواس سے بدرجہا بڑھ کر میلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تقریب کو نہایت خوشی کے باعث عیدمیلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیوں نہیں کہا جا سکتا؟ 

زنانہ جلوس: 

(تحریک نظام مصطفی کے دروان) گوجرانوالہ شہر میں خواتین کے تمام جلوس مدارس اہلحدیث سے نکلے (اہلحدیث لاہور 2 جنوری 1978ء) 30۔مارچ 1977ءکے روز مفتی محمود کی زیر صدارت قومی اتحاد کا فیصلہ تھا کہ آج خواتین کا جلوس نکالا جائے گا۔ سواتین بجے فاطمہ جناحروڈ سے جلوس کا آغاز ہوا۔ جلوس میں سب سے آگے بیگم ابوالاعلیٰ مودودی تھیں۔(ہفت روزہ ایشیا لاہور 3۔اپریل 1977ء) 

کیوں جی: 

قومی اتحاد سے وابستہ اہلحدثیو۔ دیوبندیو۔ مودودیو، اگر 1977ءمیں نظام مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے زنانہ جلوس بدعت و ناجائز نہیں تھے۔ (حالانکہ ان میں بے پردگی نعرہ بازی اور تالیاں سب کچھ تھا۔) تو بعد میں میلاد مصطفی کے مردانہ جلوس کیوں بدعت و ناجائز ہو گئے۔؟ حاجی حق حق نے کیسی حقیقت افروز بات فرمائی ہے کہ: 

تم جو بھی کرو بدعت ایجاد روا ہے
اور ہم جو کریں محفل میلاد برا ہے

12۔ربیع الاول: 

مسلک اہل حدیث کے ترجمان ہفت روزہ اہلحدیث نے بعنوان قدیم صحائف کی گواہی لکھا ہے کہ۔ ۔۔۔۔۔ بھارت میں ایک کتاب بعنوان کلکی اوتار اور محمد صاحب منظر عام پر آئی ہے۔ اس کے مصنف الٰہ آباد یونیورسٹی سنسکرت کے ریسرچ سکالر پنڈت دید پر شادادپار یہ ہیں۔ اور اس پر آٹھ ہندو پنڈتوں نے تصدیقی نوٹ لکھے ہیں۔ اس کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو۔
کلکی لوتار (عالم انسانیت کے آخری نجات دہندہ برگزید نبی) کو۔ فرشتوں کے ذریعے مہیا ہو گی۔ حسن وجاہت میں وہ بے مثال ہوں گے۔ ان کا جسم معطر ہوگا۔ وہ مہینے (ربیع الاول کی 12۔تاریخ کو پیدا ہوں گے۔ وہ شہسوار و شمشیرزن ہوں گے۔ 

یہ بیان کرنے کے بعد پنڈت دید پر شاداس نتیجہ پر پہنچے ہوں کہ موصوف آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سبحان اللہ:
غیر مسلموں کی زبانی ان کی پیشین گوئی کے مطابق اہلحدیث کی تصدیق سے شان مصطفوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا کتنا عمدہ بیان ہوا۔ جس میں یہ صرف تصریح بھی آ گئی کہ 12۔ربیع الاول ہی یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ 

تعجب ہے : 

کہ غیرمسلموں کی پیشین گوئی و اہلحدیث کی تصدیق کے مطابق تو یوم ولادت کی 12۔تاریخ ہو لیکن مسلمان کہلانے اور بعض اہلحدیث بننے والے خواہ مخواہ اس میں انتشار و افتراق کا موجب بنیں۔ مولد خیرالبریہ میں نواب صدیق حسن خان بھوپالی غیر مقلد نے لکھا ہے کہ شب ولادت مصطفی میں کوئی شک کسریٰ حرکت میں آیا۔ آتش فارس بجھ گئی (حضرت آمنہ) نے زمین کے مشارق و مغارب کو دیکھا نیز تین جھنڈے دیکھے ایک مشرق میں ایک مغرب میں اور ایک پشت کعبہ پر۔ جب حضرت ہمراہ نور کے پیدا ہوئے دیکھا تو آپ سجدے میں ہیں اور انگلی طرف آسمان کے۔ مذید تفصیل اس مستقل تصنیف شمامہ عنبریہ من مولد خیرالبریہ میں پڑھیں اور اہلحدیث بھی اس طرح میلاد مصطفی بیان کریں۔ خدا ہدایت دے۔

نہایت کار آمد یادگار تاریخی حوالے: 

23 مارچ 1987ءکا دن یوم قرار داد پاکستان کی مناسبت سے تو یادگار تھا ہی۔ مگر اس دن غیر مقلد وہابیوں کی جمعیت اہلحدیث کے جلسہءلاہور (فوارہ چوک قلعہ لچھن سنگھ) میں بم کے زبردست دھماکہ سے وہابیوں کے لیڈر احسان الٰہی ظہیر اور حبیب الرحمان یزدانی آف کا مونکی سمیت دن وہابیوں کی نہایت عبرتناک ہلاکت اور 100 کے قریب زخمی ہونے والوں کی یاد میں وہابیوں کی احتجاجی تحریک کے باعث بھی 23مارچ دوہری یادگار بن گیا ہے۔ اس تحریک کے دوران منکرین شان رسالت و عیدمیلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں نے اپنا وہابی مذہب اور بالخصوص شرک و بدعت کے سارے فتوے بالائے طاق رکھ کر ہر جائز و ناجائز اور اخلاقی و غیر اخلاقی طریقہ سے احتجاجی مظاہرے کئے۔ جو کسی بھی اخبار بین شخص سے مخفی نہیں۔ 

پہلی بات: 

تو یہی ہے کہ ان کا خاص 23۔مارچ کو یوم پاکستان کے مقررہ موقع ہر جلسہ کرنا ہی سراسر بدعت تھا اور اس جلسہ میں نہ صرف فوٹوسازی و کیمرہ بازی ہورہی تھی بلکہ باقاعدہ وڈیو فلم بھی بنوائی جارہی تھی ( جسے اب بھی وہابی موقع بموقع مختلف مقامات پر دکھاتے اور دیکھ دیکھ کر روتے ہیں ۔)جو سراسر حرام و بدعت فعل تھا اور اس شدید بدعت کا ارتکاب کرتے ہوئے وہابی مولوی بم کے دھماکہ سے موت کی آغوش میں پہنچ گئے اور عین میلاد شریف کو بدعت و شرک قرار دینے والے وہابیوں کے چوٹی کے مولوی اور لیڈر عین موت کے موقع پر نہ صرف اس صریح قباحت وشناخت میں خود ملوث ہوئے بلکہ وہابیوں کو اس گناہ میں مسلسل مبتلا رکھنے کے لئے اپنی شرک و بدعت کی یہ بدترین یادگار باقی چھوڑ گئے ، کہنے والے نے کیا خوب کہا ہے کہ : 

جب سرمحشر پوچھیں گے بلاکرسامنے
کیا جواب جرم دوگے تم خدا کے سامنے 

یاد رہے :

کہ فوٹو صرف بدعت و گناہ ہی نہیں بلکہ علماءاہلحدیث نے اسے شرک تک قرار دیا ہے ۔ چنانچہ جماعت اہلحدیث کے ترجمان ہفت روزہ الاعتصادم لاہور نے مفتیءاعظم سعودی عرب عبدالعزیز بن باز کا فتویٰ بدیں الفاظ شائع کیا ہے کہ فوٹو بنانا اورا س کی پسندیدگی باعث لعنت ہے۔۔۔۔۔۔۔ اس فعل بد اور کفار و مشرکین کے کردار ناہنجار میں سر موفرق نہیں۔ وہ (فوٹو باز) از سر نو شرک کا دروازہ کھول رہا ہے اور کفر کے ذرائع و وسائل کو رواج دے رہا ہے۔ ۔۔۔۔ جس طرح کسی جرم کا کرنا حرام ہے۔ اسی طرح اس کا حکم دینا اس پر رضا مندی بھی حرام ہے۔ ۔۔۔ اور جو کوئی باوجود قدرت انکار اور اظہار بیزاری کے گناہ دیکھ کر خاموش رہتا ہے تو وہ گناہ کے مرتکب فوٹو گرافر اورویڈیو فلم ساز (کے حکم میں ہے۔ ایسا شیطان اخرس (گونگا شیطان) برابر کا مجرم ہے۔(ہفت روزہ الاعتصادم لاہور 21۔28جولائی 1978ء) 

نیز لکھا ہے کہ بڑی بڑی بدعتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی جاندار کی تصویر بنائی جائے۔ (الاعتصادم 15۔مئی 1987ء) 

یہی نہیں: 

احسان الٰہی ظہیر کی زندگی میں شخصی طور پر ان کا نام لیکر ان کے متعلق بالخصوص اور دیگر فوٹوباز علماءاہلحدیث اور باتصویر کیسٹ بیچنے والےاہلحدیثوں کے متعلق بالعموم الاعتصادم نے لکھا ہے کہ علماءاہلحدیث کی تقاریر کے باتصویر کیسٹ دھڑا دھڑ، فروخت ہو رہے ہیں۔ ان جید علماءکے کیسٹوں پر فوٹو دیکھ کر دکھ ہوا کہ جس چیز کے قرآن و حدیث کی روشنی میں ہم لوگ قائل نہیں آج وہ چیز ہمارے علماءمیں رائج ہو رہی ہے۔ حالانکہ تقاریر کے کیسٹوں پر جید علماءکے فوٹو کا جواز نہیں بن سکتا۔ (الاعتصادم 15۔نومبر 1985ء) 

یزید و شمر سے بدتر : 

علماءاہل حدیث و دیوبند کے پیشوا مولوی اسماعیل دہلوی نے لکھا ہے کہ تصویر بنانے والے کو پیغمبر کے قاتل کا سا گناہ ہے تو (لٰہذا) وہ یزید اور شمر سے بھی بدتر ہے کہ انہوں نے پیغمبر کو نہیں مارا بلکہ پیغمبر کے نواسے کو اور امام وقت کو کہ پیغمبر کا نائب تھا۔ (ملخصا تقویۃ الایمان ص80) 

خدائی دعویٰ : 

تصویر بنانے والا (مصور و فوٹو گرافر) پردے میں خدائی کا دعویٰ کرتا ہے کہ جو چیزیں اللہ نے بنائی ہیں۔ ان کی مثل بنانے کا ارادہ کرتا ہے۔ بڑا بے ادب ہے۔ (تقویت الایمان ص 18

الاعتصادم و تقویۃ الایمان : 

کے مذکورہ فتاویٰ کی روشنی میں فوٹوبازی تصویر و فلم سازی اور اس شدیدوعیدو شرعی جرم کے مرتکب مولویوں کے متعلق تصریحات پڑھ کر اندازہ فرمائیں کہ میلاد مصطفی علیہ التحیۃ الشاءکو محض عداوت قلبی وخبث باطنی کے تحت بدعت و شرک قرار دینے والوں اور ان کے نام نہاد قائدین اہلحدیث کا اپنا نامہ اعمال کیا ہے ؟ وہ میلاد مبارک کے تو نام سے بھی الرجک ہیں۔ لیکن خود نہ صرف 23۔مارچ مناتے بلکہ فوٹو بازی کے باعث عین شرک و بدعت کی حالت میں ہم کے دھماکہ کے باعث دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں۔ جو یقینا سوءخاتمہ کی علامت ہے نہ کہ خاتمہ بالخیر کی۔ اور واللہ اعلم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان لوگوں کی اسی دو عملی و منافقت اور شان رسالت و ولایت اور میلاد و دشمنی کے باعث ہم کی صورت میں ان پر قہر الٰہی نازل ہوا ہو۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ۔ 

اعتراف میر : 

بہرحال ہم کے دھامکہ میں مرنے والوں کی یاد میں اپنی احتجاجی تحریک کے متعلق جمعیت اہلحدیث کے مرکز سیکرٹری جزل پروفیسر ساجد میر نے گوجرانوالہ کی ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم نے اپنی تحریک کے تحت جلسے کئے، جلوس نکالے، جب پھر بھی حکومت نے کوئی نوٹس نہ لیا، تو ہم نے احتجاج کاطریقہ تبدیل کرکے اسے علامتی بھوک ہڑتال کی طرف موڑ دیا۔ (روزنامہ جنگ لاہور12۔ جولائی 1987ء) 

دیکھ لیجئے : 

جشن عید میلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے جلسہ و جلوس اور اہلسنت کے دیگر معمولات و امور خیر کے ایک ایک پہلو پر شرک و بدعت کا فتویٰ لگانے اور ایک ایک چیز کا صریح ثبوت طلب کرنے والوں کی جب اپنی باری آئی تو ہم کے ایک ہی دھماکہ نے سارے مسلک کیکایا پلٹ کر رکھ دی۔ اب اپنے مرنے والوں کی یاد و احتجاج میں جلسے کریں، جلوس نکالیں، کفن پوش اور کفن پردوش جلوسوں کا اہتمام کریں، حتیٰ کہ بھوک ہڑتال بھی کریں، تو یہ سب کچھ جائز اور تقاضائے توحید و حدیث کے عین مطابق ہے۔ نہ کسی بات پر شرک و بدعت کے فتویٰ کا خطرہ ہے اور نہ ہی قرآن و حدیث سے اپنے جلسوں ، جلوسوں اور بھوک ہڑتال وغیرہ کا ثبوت پیش کرنے کی کوئی ضرورت ہے۔ کیوں؟ 

محض اس لئے کہ مرنے والے مولویوں اور لیڈروں سے محبت و تعلق ہے۔ اس لئے ان سے تعلق بلا خوف و خطر سب کچھ کرا رہا ہے۔ اور مختلف رنگ دکھا رہا ہے۔ مگر حبیب خدا محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و عظمت اور اخلاص و تعلق سے چونکہ دل خالی ہیں اس لئے آپ کے میلاد مبارک، محفل میلاد، جلوس میلاد، صلوٰۃو سلام، نعت پاک و نعرہ ءرسالت غرض یہ کہ محبوب کائنات کی محبت و خوشی اور عزت و شان کی ہر بات میں شرک بدعت اور حرام و گناہ کا خطرہ ہوا نظر آتا ہے۔ اسی لئے تو کہا گیا ہے کہ 

یہ جو بھی کریں بدعت ایجاد روا ہے
اور ہم جو کریں محفل میلاد برا ہے 

(اور اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ: 

وہ حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پیارا تو عمر بھر کرے فیض وجود ہی سر بسر
ارے تجھ کو کھائے تپ سفر تیرے دل میں کس سے بخار ہے 

اپنے مردوں کی یاد میں جلسوں ، جلوسوں اور ان کے ان نعروں کی بدعات کو تو سب وہابیوں نے مشرف بہ توحید کر لیا ہے کہ۔ علامہ تیرے خون سے انقلاب آئے گا۔!   جب تک سورج چاند رہے گا۔ یزدالیٰ تیرا نام رہے گا  (روزنامہ نوائے وقت لاہور۔ یکم اگست 1987ء) 

حالانکہ : 

یہ سب کچھ نجدی وہابی مذہب کی رو سے سراسر بدعت و بے ثبوت ہے۔ اور تیرا اور تیرے کے لفظ سے بصیغہءندا مردوں کو پکارنا۔ ان سے خطاب کرنا اہل قبور کے سماع و سننے کا نظریہ رکھنا وہابی توحید کے نقطہءنظر سے قطعا شرک ہے۔ مگر غیر مقلدوں کی نئی کایا پلٹ نے ان سب چیزوں کو سند جواز مہیا کر دی ہے۔ ورنہ ان جلوسوں نعروں اور مردوں کو پکارنے کا وہابی مذہب سے کوئی جوڑ اور واسطہ ہی نہیں۔ مگر شریعت شاید ان لوگوں کے نزدیک خالہ جی کا گھر ہے۔ کہ جہاں جو چاہیں، من مانی کریں اور ہیرا پھری کے کرتب دکھائیں۔ بہرحال بھوک ہڑتال کی بدعت کو تو تنظیم اہلحدیث بھی برداشت نہیں کر سکا۔ 

چنانچہ جماعت اہل حدیث کے خصوصی ترجمان ہفت روزہ تنظیم اہلحدیث نے واشگاف طور پر لکھا ہے کہ 23۔ مارچ کے ہم کے حادثے کے۔۔۔۔۔۔ سلسلے میں جو احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ان میں سے بعض مواقع پر شرپسندوں نے ان کار وائیوں کو دوسری طرف موڑ دیا تھا اور کچھ توڑ پھوڑ کی کاروائیاں ہوئیں۔ انہیں بھی جماعت کے سنجیدہ حلقوں نے پسند نہیں کیا تھا اور صدائے احتجاج بلند کرنے سے اتفاق رکھنے کے باوجود اس قسم کی کاروائیوں کی انہوں نے مذمت کی تھی۔ اسی طرح بھوک ہڑتال کا اقدام ہے۔ اگرچہ اسے بھی جمہوریت کی طرح مشرف بہ اسلام کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن ہم عرض کریں گے کہ پھر بھی اس میں مشابہت کفار کا پہلو پایا جاتا ہے بھوک ہڑتال کا بانی گاندھی تھا اور اب بھی یہ بالعموم انہی لوگوں کا حربہ ہے جو دین سے بے بہرہ یا دین سے بے تعلق ہیں۔ اس لئے اس کی تحسین مشکل ہے۔ ہم اپنے دوستوں اور بزرگوں سے عرض کریں گے کہ وہ اپنے جذبات کے اظہار میںان رویوں اور طریقوں سے اجتناب برتیں جو کافروں کے ایجاد کردہ ہیں یا بے دینوں کا شعار ہیں۔ (ہفت روزہ تنظیم اہلحدیث لاہور17۔ 24جولائی 1987ء) 

یہ ہے منکرین میلاد نام نہاد اہلحدیثوں کے کردار اور عمل اہلحدیث کا مظاہرہ۔ کہ خود جلوس نکالیں، جلوسوں میں شرپسندی اور توڑ پھوڑ کی کاروارئیاں کریں، جمہوریت کی بدعت کو مشرف بہ اسلام کرنے کی کوشش کریں حتیٰ کہ گاندھی کی پیروی میں بھوک ہڑتال کرکے بے دینوں کا شعار اپنائیں اور کفار کی مشابہت کریں تو انہیں کچھ فرق نہیں پڑتا۔ مگر میلاد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نام ہی سے دل جل جاتا ہے۔

صبح بہاراں

صبح بہاراں

از: حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری رضوی
 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
 

786

قفل مدینہ

الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اللہ

صبح بہاراں

مسلمانوں ! صبح بہاراں مبارک!

وہ برساتے انوار سرکار آئے۔ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

اس رسالے میں بی بی آمنہ (رضی اللہ تعالٰی عنہا) کے لاڈلے، اللہ عزوجل کے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت کے رقت انگیز بیان کے ساتھ ساتھ میلاد شریف منانے کے فضائل و ثمرات بھی پڑھئے اور “سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی آمد مرحبا“ کے فلک شگاف نعروں سے شیطان کا کلیجہ پھاڑ دیجئے۔

جھوم کر سارے پکارو مرحبا یا مصطفٰی 
چوم کر لب کہہ دو یارو مرحبا یا مصطفٰی

الحمدللہ رب العالمین و الصلوٰۃ و السلام علٰی سید المرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم ط
 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ط

درودشریف کی فضیلت

جس نے مجھ پر دس مرتبہ درودپاک پڑھا اللہ تعالٰی اس پر سو رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ (الترغیب والترھیب ج2 ص322)

صلوا علی الحبیب! صلی اللہ تعالٰی علٰی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

ماہ ربیع النور شریف تو کیا آتا ہے ہر طرف موسم بہار آ جاتی ہے۔ میٹھے میٹھے مکی مدنی مصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے دیوانوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ بوڑھا ہو یا جوان ہر حقیقی مسلمان گویا دل کی زبان سے بول اٹھتا ہے۔

نثار تیری چہل پہل پر ہزار عیدیں ربیع الاول
سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں

جب کائنات میں کفر و شرک اور وحشت و بربریت کا گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ بارہ ربیع النور شریف کو مکہ مکرمہ میں حضرت سیدتنا آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہما کے مکان رحمت نشان سے ایک ایسا نور چمکا جس نے سارے عالم کو جگمگ جگمگ کر دیا۔ سسکتی ہوئی انسانیت کی آنکھ جن کی طرف لگی ہوئی تھی وہ تاجدار رسالت، شہنشاہ نبوت، مخزن جودو سخاوت، پیکر عظمت و شرافت، محبوب رب العزت، محسن انسانیت عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم تمام عالمین کے لئے رحمت بن کر مادر گیتی پر جلوہ گر ہوئے۔

مبارک ہو کہ ختم المرسلین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے
جناب رحمۃ للعالمین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے

صبح بہاراں

خاتم المرسلین، رحمۃ للعٰلمین، شفیع المذنبین، انیس الغربین، سراج السالکین، محبوب رب العٰلمین، جناب صادق و امین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرار ہر قلب محزون و غمگین بن کر 12 ربیع النور شریف کو صبح صادق کے وقت جہاں میں تشریف لائے اور آکر بےسہاروں، غم کےماروں، دکھیاروں، دلفگاروں اور در در کی ٹھوکریں کھانے والے بےچاروں کی شام غریباں کو “صبح بھاراں“ بنا دیا۔

مسلمانو! صبح بہاراں مبارک
وہ برساتے انوار سرکار آئے

معجزات

12ربیع النور شریف کو اللہ عزوجل کے نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی دنیا میں جلوہ گری ہوتے ہی کفر و ظلمت کے بادل چھٹ گئے، شاہ ایران “کسرٰی“ کے محل پر زلزلہ آیا، چودہ گنگرے گر گئے۔ ایران کا جو آتش کدہ ایک ہزار سال سے شعلہ زن تھا وہ بجھ گیا، دریائے ساوہ خشک ہو گیا، کعبے کو وجد آ گیا اور بت سر کے بل گر پڑے۔

تیری آمد تھی کہ بیت اللہ مجرے کو جھکا
تیری ہیبت تھی کہ ہر بت تھرتھرا کر گر گیا

تاجدار رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم جہاں میں فضل و رحمت بن کر تشریف لائے اور یقیناً اللہ عزوجل کی رحمت کے نزول کا دن خوشی و مسرت کا دن ہوتا ہے۔ چنانچہ اللہ تبارک و تعالٰی ارشاد فرماتا ہے،

قل بفضل اللہ و برحمتہ فبذلک فلیفرحوا ط ھو خیر مما یجمعون ہ (پ11 یونس 57)
ترجمہ کنزالایمان: تم فرماؤ اللہ (عزوجل) ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہئیے کہ خوشی کریں۔ وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے۔

اللہ اکبر! رحمت خداوندی پر خوشی منانے کا قرآن کریم حکم دے رہا ہے۔ اور کیا ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر بھی کوئی اللہ عزوجل کی رحمت ہے ؟ دیکھئے مقدس قرآن میں صاف صاف اعلان ہے۔

وما ارسلنٰک الا رحمۃ للعٰلمین ہ (پ17 الانبیاء 107)
ترجمہء کنزالایمان: اور ہم نے تمھیں نہ بھیج مگر رحمت سارے جہان کیلئے۔

شب قدر سے بھی افضل رات

حضرت سیدنا شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں، “بے شک سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شب ولادت شب قدر سے بھی افضل ہے کیونکہ شب ولادت سرکار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے اس دنیا میں جلوہ گر ہونے کی رات ہے جبکہ لیلۃ القدر سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو عطا کردہ شب ہے اور جو رات ظہور ذات سرور کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے مشرف ہو وہ اس رات سے زیادہ شرف و عزت والی ہے جو ملائکہ کے نزول کی بناء پر مشرف ہے۔ (ماثبت بالسنۃ ص289 باب المدینہ کراچی)

عیدوں کی عید

الحمد للہ عزوجل 12ربیع النور مسلمانوں کے لئے عیدوں کی بھی عید ہے یقیناً آنسرور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم جہاں میں شاہ بحروبر بن کر جلوہ گر نہ ہوتے تو کوئی عید، عید ہوتی، نہ کوئی شب، شب براءت۔ بلکہ کون و مکان کی تمام تر رونق و شان اس جان جہان، رحمت عالمیان، سیاح لامکان، محبوب رحمٰن عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کی دھول کا صدقہ ہے۔

ابو لھب اور میلاد

جب ابو لھب مر گیا تو اس کے بعض گھر والوں نے اسے خواب میں برے حال میں دیکھا۔ پوچھا کیا گزری؟ بولا، تم سے جدا ہو کر مجھے کوئی خیر نصیب نہ ہوئی۔ ہاں مجھے کلمے کی انگلی سے پانی ملتا ہے کیونکہ (اس کے اشارہ سے) میں نے ثوبیہ لونڈی کو آزاد کیا تھا۔ (بخاری ج1 ص153 حدیث 5101)

مسلمان اور میلاد

اس روایت کے تحت سیدنا شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ رحمۃ القوی فرماتے ہیں، اس واقعہ میں میلاد شریف والوں کیلئے بڑی دلیل ہے جو تاجدار رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شب ولادت میں خوشیاں مناتے اور مال خرچ کرتے ہیں۔ (یعنی ابولھب جو کہ کافر تھا جب وہ تاجدار نبوت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خبر پاکر خوش ہونے اور اپنی لونڈی (ثوبیہ) کو دودھ پلانے کی خاطر آزاد کرنے پر بدلہ دیا گیا۔ تو اس مسلمان کا کیا حال ہوگا جو محبت اور خوشی سے بھرا ہوا ہے اور مال خرچ کر رہا ہے۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ محفل میلاد گانے باجوں سے اور آلات موسیقی سے پاک ہو۔) (مدارج النبوت ج2 ص34 ضیاءالقرآن)

جشن ولادت کی دھوم مچائیے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دھوم دھام سے عیدمیلاد منائیے کہ جب ابولھب جیسے کافر کو بھی اس کی ولادت کی خوشی کرنے پر فائدہ پہنچا تو ہم تو الحمدللہ عزوجل مسلمان ہیں۔ ابولھب نے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی نیت سے نہیں بلکہ صرف اپنے بھتیجے کی ولادت کی خوشی منائی پھر بھی اس کو بدلہ ملا تو ہم اگر اللہ عزوجل کی رضا کیلئے اپنے آقا و مولٰی محمد رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی منائیں گے تو کیونکر محروم رہیں گے۔

گھر آمنہ کے سیدابرار آ گیا
خوشیاں مناؤ غمزدو غمخوار آ گیا

میلاد منانے والوں سے سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوش ہوتے ہیں

ایک عالم صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں، الحمدللہ مجھے خواب میں تاجدار رسالت، شہنشاہ نبوت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہوئی، میں نے عرض کی، یارسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم! کیا آپ کو مسلمانوں کا ہر سال آپ کی ولادت مبارک کی خوشیاں منانا پسند آتا ہے؟ ارشاد فرمایا، “جو ہم سے خوش ہوتا ہے ہم بھی اس سے خوش ہوتے ہیں۔“ (تذکرۃ الواعظین، ص600 کوئٹہ)

ولادت کی خوشی میں جھنڈے

سیدتنا آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتی ہیں، میں نے دیکھا کہ تین جھنڈے نصب کئے گئے۔ ایک مشرق میں، دوسرا مغرب میں، تیسرا کعبے کی چھت پر اور حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہو گئی۔ ( خصائص کبرٰی ج اول ص82 )

روح الامیں نے گاڑا کعبے کی چھت پہ جھنڈا
تا عرش اڑا پھریرا صبح شب ولادت

جھنڈے کے ساتھ جلوس

رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے جب سوئے مدینہ ہجرت فرمائی اور مدینہ پاک کے قریب “موضع غمیم“ میں پہنچے تو بریدہ اسلمی، قبیلہ بنی سہم کے ستر سوار لے کر سرکار نامدار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو معاذاللہ عزوجل گرفتار کرنے آئے، مگر سرکار عالی وقار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ فیض آثار سے خود ہی محبت شاہ ابرار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں گرفتار ہو کر پورے قافلے سمیت مشرف بہ اسلام ہو گئے۔ اب عرض کی، یارسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں آپ کا داخلہ پرچم کے ساتھ ہونا چاہئیے۔ چنانچہ اپنا عمامہ سر سے اتار کر نیزے پر باندھ لیا اور سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے آگے آگے روانہ ہوئے۔ (وفاء الوفا ج اول ص 243 داراحیاء التراث العربی بیروت)

ایمان کی حفاظت کا نسخہ

شیخ السلام حضرت علامہ ابن حجر مکی علیہ رحمۃ اللہ القوی، “النعمۃ الکبرٰی“ ص24 پر نقل فرماتے ہیں، حضرت سیدنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ الھاوی نے فرمایا، “محفل میلاد مصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں ادب و تعظیم کے ساتھ حاضری دینے والے کا ایمان سلامت رہے گا۔ انشاءاللہ عزوجل۔“

صلوا علی الحبیب! صلی اللہ تعالٰی علٰی محمد، صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

جشن ولادت منانے والا خاندان

 مدینہ منورہ زادھا اللہ شرفا و تعظیما میں ابراہیم نامی ایک مدنی آق صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا دیوانہ رہا کرتا تھا۔ ہمیشہ حلال روزی کماتا اور اپنی آمدنی کا آدھا حصہ جشن ولادت منانے کے لئے علیٰحدہ جمع کرتا۔ ربیع النور شریف کی آمد ہوتی تو دھوم دھام سے مگر شریعت کے دائرے میں رہ کر جشن ولادت مناتا۔ اللہ عزوجل کے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ایصال ثواب کیلئے خوب لنگر کرتا اور اچھے اچھے کاموں میں اپنی رقم خرچ کرتا۔ اس کی زوجہء محترمہ بھی آق صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی بہت دیوانی تھی۔ اور ان کاموں میں مکمل تعاون کرتی۔ زوجہ کی وفات ہو گئی مگر اس کو معمولات میں فرق نہ آیا۔ ابراہیم دیوانے نے ایک دن اپنے نوجوان بیٹے کو وصیت کی، “پیارے بیٹے! آج رات میری وفات ہو جائے گی، میری تمام تر پونجی میں پچاس درہم اور انیس گز کپڑا ہے۔ کپڑا تجہیز و تکفین پر صرف کرنا اور رہی رقم تو اسے بھی ہو سکے تو نیک کام میں خرچ کر دینا۔“ اس کے بعد اس نے کلمہ طیبہ پڑھا اور اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ بیٹے نے حسب وصیت والد مرحوم کو سپرد خاک کر دیا۔ اب بچاس درہم نیک کام میں خرچ کرنے کے معاملے میں اس کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ کیا کرے۔ اسی فکر میں رات جب سویا تو خواب میں دیکھا کہ قیامت قائم اور ہر طرف نفسی نفسی کا عالم ہے، خوش نصیب لوگ سوئے جنت رواں دواں ہیں، جبکہ مجرموں کو گھسیٹ گھسیٹ کر جہنم کی طرف ہانکا جا رہا ہے اور یہ کھڑا تھر تھر کانپ رہا ہے کہ اس کے بارے میں نہ جانے کیا فیصلہ ہوتا ہے۔ اتنے میں غیب سے ندا آئی، “اس نوجوان کو جنت میں جانے دو۔“ چنانچہ وہ خوشی خوشی جنت میں داخل ہو گیا اور سیر کرنے لگا۔ ساتوں جنتوں کی سیر کرنے کے بعد جب آٹھویں جنت کی طرف بڑھا اور داروغہء جنت حضرت رضواننے فرمایا۔ “اس جنت میں صرف وہی داخل ہو سکتا ہے جس نے ماہ ربیع النور میں ولادت مصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ایام میں خوشی منائی ہو۔“ یہ سن کر وہ سمجھ گیا کہ میرے والدین مرحومین اسی میں ہونے چاہئیں۔ اتنے میں آواز آئی، “اس نوجوان کو اندر آنے دو، اس کے والدین اس سے ملنا چاہتے ہیں۔“ لٰہذا وہ اندر داخل ہوا۔ اس نے دیکھا کہ اس کی والدہء مرحومہ نہر کوثر کے قریب بیٹھی ہیں، ساتھ ہی ایک تخت بچھا ہے جس پر ایک بزرگ خاتون جلوہ افروز ہیں اور اس کے ارد گرد کرسیاں بچھی ہیں جن پر کچھ پروقار خواتین تشریف فرما ہیں۔ اس نے ایک فرشتے سے پوچھا، یہ خواتین کون ہیں ؟ اس نے بتایا،

“تخت پر شہزادیء کونین سیدتنا فاطمہ زہر رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں اور کرسیوں پر خدیجۃ الکبرٰی، عائشہ صدیقہ، سیدتنا مریم، سیدتنا آسیہ، سیدتنا سارہ، سیدتنا ہاجرہ، سیدتنا رابعہ اور سیدتنا زبیدہ (رضی اللہ تعالٰی عنہن) ہیں۔“ اسے بہت خوشی ہوئی، مذید آگے بڑھا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک بہت ہی عظیم تخت بچھا ہے اور اس پر سرکار عالم مدار، مدینے کے تجدار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیب پروردگار، شافع روز شمار جناب احمد مختار عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اپنا چاند سا چہرہ چمکاتے ہوئے رونق افروز ہیں۔ ارد گرد چار کرسیاں بچھی ہوئی ہیں ان پر خلفائے راشدین علیہم الرضوان تشریف فرما ہیں۔ دائیں طرف سونے کی کرسیوں پر انبیائے کرام علیہم السلام رونق افروز اور بائیں جانب شہدائے کرام جلوہ فرما ہیں۔ اتنے میں اس کے والد مرحوم ابراہیم بھی سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہی جھرمٹ میں نظر آ گئے۔ والد صاحب نے اپنے لخت جگر کو سینے لگا لیا۔ وہ بہت خوش ہوا اور سوال کیا، اباجان! آپ کو یہ عالیشان رتبہ کیوں کر حاصل ہوا؟ جواب دیا۔ الحمدللہ عزوجل! یہ جشن ولادت منانے کا صلہ ہے۔ اس کے بعد اس نوجوان کی آنکھ کھل گئی۔
صبح ہوتے ہی اس نے اپنا مکان اونے پونے داموں بیچا اور والد مرحوم کے بچے ہوئے پچاس درہم کے ساتھ اپنی ساری رقم ملا کر طعام کا اہتمام کیا اور علماء و صلحاء کی دعوت کی۔ اس کا دل دنیا سے اچاٹ ہو چکا تھا، چنانچہ مسجد میں رہنے لگا اور اپنی زندگی کے بقیہ تیس سال عبادت میں گزار دئیے۔ بعد وفات کسی نے اسے خواب میں دیکھ کر پوچھا، کیا گزری ؟ بولا، مجھے جشن ولادت منانے کی برکت سے جنت میں اپنے والد مرحوم کے پاس پہنچا دیا گیا ہے۔ (ملخص از تذکرہ الواعظین اردو ص321 مطبع ایجوکیشنل کراچی)
اللہ عزوجل کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔

بخش دے مجھ کو الٰہی (عزوجل)! بہر میلاد النبی ( صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم)
بامہء اعمال عصیاں سے میرا بھرپور ہے۔

جشن ولادت منانے کا ثواب

شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ رحمۃ القوی فرماتے ہیں، سرکار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی رات خوشی منانے والوں کی جزاء یہ ہے کہ اللہ تعالٰی انھیں فضل و کرم سے جنات النعیم میں داخل فرمائے گا۔ مسلمان ہمیشہ سے محفل میلاد منعقد کرتے آئے ہیں اور ولادت کی خوشی میں دعوتیں دیتے، کھانے پکواتے اور خوب صدقہ و خیرات دیتے آئے ہیں۔ خوب خوشی کا اظہار کرتے اور دل کھول کر خرچ کرتے ہیں نیز آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت کے ذکر کا اہتمام کرتے ہیں اور اپنے مکانوں کو سجاتے ہیں اور ان تمام افعال حسنہ کی برکت سے ان لوگوں پر اللہ عزوجل کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔“ (ماثبت بالسنۃ ص290 کراچی)

یہودیوں کو ایمان نصیب ہو گی

حضرت سیدنا عبدالواحد بن اسمٰعیل علیہ رحمۃ اللہ الجمیل فرماتے ہیں، مصر میں ایک عاشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم رہا کرتا تھا جو ربیع النور شریف میں اللہ عزوجل کے پیارے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا خوب جشن ولادت منایا کرتے تھا۔ ایک بار ربیع النور شریف کے مہینے میں ان کی پڑوسن یہودن نے اپنے شوہر سے پوچھا، ہمارا مسلمان پڑوسی اس مہینے میں ہر سال خصوصی دعوت وغیرہ کا اہتمام کیوں کرتا ہے ؟ یہودی نے بتایا کہ اس مہینے میں اس کے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی تھی لٰہذا یہ ان کو جشن ولادت مناتا ہے۔ اور مسلمان اس مہینے کی بہت تعظیم کیا کرتے ہیں۔ اس یہودن نے کہا، “واہ ! مسلمانوں کا طریقہ بھی کتنا پیارا ہے کہ یہ لوگ اپنے نبی (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کا ہر سال جشن ولادت مناتے ہیں۔ وہ یہودن رات جب سوئی تو اس کی سوئی ہوئی قسمت انگڑائی لے کر جاگ اٹھی، خواب میں کیا دیکھتی ہے کہ ایک نہایت ہی حسین و جمیل بزرگ تشریف لائے ہیں، ارد گرد لوگوں کا ہجوم ہے۔ اس نے آگے بڑھ کر ایک شخص سے دریافت کیا، یہ بزرگ کون ہیں ؟ اس نے بتایا، “یہ نبی آخرالزمان، رحمت عالمیان، محمد رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ آپ اس لئے تشریف لائے ہیں تاکہ تمھارے مسلمان پڑوسی کو جشن ولادت منانے پر خیروبرکت عطا فرمائیں اور ان سے ملاقات فرمائیں نیز اس پر اظہار مسرت کریں۔“ یہودن نے پھر پوچھا، کیا آپ کے نبی (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) میری بات کا جواب دیں گے ؟ اس نے جواب دیا، جی ہاں۔ اس پر یہودن نے سرکار عالی وقار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو پکارا۔ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں لبیک فرمایا۔ وہ بےحد متاثر ہوئی اور کہنے لگی، میں تو مسلمان نہیں ہوں۔ آپ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے پھر بھی مجھے لبیک کہہ کر جواب دیا۔ سرکار مدینہ، قرار قلب و سینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، اللہ عزوجل کی طرف سے مجھے بتا دیا گیا ہے کہ تو مسلمان ہونے والی ہے۔ اس پر وہ بےساختہ پکار اٹھی، بےشک آپ نبی کریم، صاحب خلق عظیم ہیں، جو آپکی نافرمانی کرے وہ ہلاک ہوا اور جو آپکی قدر و منزلت نہ جانے وہ خائب و خاسر ہوا۔ پھر اس نے کلمہ شہادت پڑھا۔

اب اس کی آنکھ کھل گئی اور وہ سچے دل سے مسلمان ہو گئی اور اس نے یہ طے کر لیا کہ صبح اٹھ کر ساری پونجی اللہ عزوجل کے پیارے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے جشن ولادت کی خوشی میں لٹا دوں گی اور خوب نیاز کروں گی۔ جب صبح اٹھی تو اس کا شوہر دعوت طعام کی تیاری میں مصروف تھا۔ اس نے حیرت سے پوچھا آپ یہ کیا کر رہے ہیں ؟ اس نے کہا، اس بات کی خوشی میں دعوت کا اہتمام کر رہا ہوں کہ تم مسلمان ہو چکی ہو۔ پوچھا، آپ کو کیسے معلوم ہوا ؟ اس نے بتایا، میں بھی رات حضور اکرم، نور مجسم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے دست حق پرست پر ایمان لا چکا ہوں۔ (تذکرۃ الواعظین ص98 کوئٹہ)  اللہ عزوجل کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔

آمد سرکار (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ظلمت ہوئی کافور ہے
کیا زمیں، کیا آسماں ہر سمت چھایا نور ہے

دعوت اسلامی اور جشن ولادت

الحمدللہ تبلیغ قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک، دعوت اسلامی کا جشن ولادت منانے کا اپنا ایک منفرد انداز ہے، دنیا کے بےشمار ممالک میں دعوت اسلامی کے زیر اہتمام عید میلادالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شب کو عظیم الشان اجتماع میلاد کا انعقاد ہوتا ہے۔ اور غالباً دنیا کا سب سے بڑا اجتماع میلاد باب المدینہ کراچی میں ہوتا ہے۔ اس کی برکتوں کے کیا کہنے! اس میں شرکت کرنے والے نہ جانے کتنے ہی خوش نصیبوں کی زندگیوں میں مدنی انقلاب برپا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں چار مدنی بہاریں ملاحظہ فرمائیے:

(1) گناہ کا علاج مل گیا

ایک عاشق رسول کا کچھ اس طرح بیان ہے، شب عیدمیلادالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم (1426ھ) کے اجتماع میلاد منعقدہ ککری گراؤنڈ باب المدینہ کراچی میں میرے ایک شناسا بے نمازی اور ماڈرن نوجوان نے شرکت کی، صبح بہاراں کے استقبال کے وقت درود و سلام کی گونج اور مرحبا یا مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی دھوم کے دوران ان کے دل کی دنیا زیر و زبر ہو گئی، نیکیوں کی طرف رغبت اور گناہوں سے نفرت کا جذبہ ملا، انھوں نے ہاتھوں ہاتھ نماز کی پابندی اور داڑھی سجانے کی نیت کی اور واقعی وہ نمازی اور باریش ہو گئے۔ نیز ان کے اندر ایک “برائی“ کی عادت تھی جس کا ذکر کرنا مناسب نہیں، اجتماع میلاد کی برکت سے الحمدللہ عزوجل وہ بھی دور ہو گئی۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہئے کہ اجتماع میلاد میں شرکت کی سعادت سے مریض عصیاں کو گناہوں کا علاج مل گیا!

مانگ لو مانگ لو ان کا غم مانگ لو، چشم رحمت نگاہ کرم مانگ لو
معصیت کی دوا لا جرم مانگ لو، مانگنے کا مزا آج کی رات ہے

صلوا علی الحبیب! صلی اللہ تعالٰی علٰی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

(2) دل کا میل دھو دیا

نارتھ کراچی کے ایک اسلامی بھائی کے تحریری بیان کو اپنے انداز میں عرض کرتا ہوں، ان کا بیان ہے، ماہ ربیع النور شریف کے ابتدائی دنوں میں بعض عاشقان رسول نے مجھ گناہوں میں ڈوبے ہوئے بےعمل انسان پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے ککری گراؤنڈ باب المدینہ کراچی میں منعقد ہونے والے دعوت اسلامی کے اجتماع میلاد میں شرکت کی دعوت دی۔ میری خوش قسمتی کہ میں نے حامی بھر لی، جب 12ویں شب آئی تو میں حسب وعدہ اجتماع میلاد میں جانے کیلئے مدنی قافلے والوں کے ساتھ بس میں سوار ہو گیا۔ ایک عاشق رسول نے ایک عدد چم چم نامی مٹھائی میں سے تقریباً تیس اسلامی بھائیوں میں توڑ توڑ کر ٹکڑیاں تقسیم کیں، تقسیم کرنے والے کا محبت بھرا انداز میرے دل کو بہت بھایا۔ آخر کار ہم اجتماع میلاد میں پہنچ گئے۔ میں نے زندگی میں پہلی بار ہی ایسے روح پرور مناظر دیکھے تھے، نعتوں، سلاموں اور مرحبا یا مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے پرکیف نعروں نے دل کا میل دھویا۔ الحمدللہ عزوجل میں ہاتھوں ہاتھ دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔ الحمدللہ عزوجل اب چہرے پر داڑھی مبارک کے انوار اور سر پر سبز سبز عمامہ شریف کی بہار ہے نیز تادم تحریر علاقائی مشاورت کے خادم (نگران) کی حیثیت سے سنتوں کی دھومیں مچانے کی سعادت میسر ہے۔

عطائے حبیب خدا مدنی ماحول
ہے فیضان غوث و رضا مدنی ماحول
یہاں سنتیں سیکھنے کو ملیں گی بہت
دلائے گا خوف خدا مدنی ماحول
یقیناً مقدر کا وہ ہے سکندر
جسے خیر سے مل گیا مدنی ماحول

صلوا علی الحبیب! صلی اللہ تعالٰی علٰی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

(3) نور کی بارش

عید میلادالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم (1417ھ) کو دوپہر کے وقت ہر سال کی طرح ظہر کی نماز کے بعد دعوت اسلامی کے حلقہ ناظم آباد باب المدینہ کراچی کا مدنی جلوس سرکار کی آمد مرحب کے نعرے لگاتا، اور مرحبا یا مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی دھومیں مچاتا سڑکوں سے گزر رہا تھا۔ جگہ جگہ جلوس روک کر شرکاء کو بٹھا کر نیکی کی دعوت پیش کی جا رہی تھی۔ درایں اثناء ایک مقام پر کم و بیش دس سالہ مدنی منے نے “نیکی کی دعوت“ پیش کی۔ جلوس پر سکوت طاری تھا۔ بیان ختم ہونے پر ایک شخص اٹھا اور پوچھتا ہوا نگران حلقہ کے پاس پہنچا، اس پر رقت طاری تھی، کہنے لگا، ‘میں نے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا کہ دوران بیان آپ کے ننھے منے مبلغ سمیت تمام شرکائے جلوس پر نور کی بارش ہو رہی تھی۔ معاف کیجئے میں غیر مسلم ہوں۔ مہربانی کرکے مجھے جھٹ داخل اسلام کر لیجئے۔ مرحبا کے نعروں سے فضا کا سینہ دہل گیا۔ عیدمیلادالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے مدنی جلوس کی عظمت اور دعوت اسلامی کی بابرکت بہار دیکھ کر شیطٰن سر پیٹ کر رہ گیا۔ داخل اسلام ہونے کے بعد وہ شخص یہ کہتا ہوا چل پڑا کہ انشاءاللہ عزوجل میں اپنے خاندان میں جاکر اسلام کی دعوت پیش کروں گا۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا، اور اس کی دعوت اسلام سے اس کی بیوی اور تین بچے نیز اس کے والد صاحب دین اسلام کے دامن میں آ گئے۔

عید میلاد النبی ہے ہر کوئی مسرور ہے
ہاں مگر شیطاں بمع رفقاء بڑا رنجور ہے

صلوا علی الحبیب! صلی اللہ تعالٰی علٰی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

(4) آج بھی جلوے عام ہیں

ایک عاشق رسول کا کچھ اس طرح کا بیان ہے، شب عیدمیلادالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو ککری گراؤنڈ باب المدینہ کراچی میں دعوت اسلامی کی طرف سے منعقد کردہ بڑی رات کے غالباً دنیا کے سب سے بڑے اجتماع میلاد میں ہم چند اسلامی بھائی حاضر ہوئے۔ برسبیل تذکرہ ایک اسلامی بھائی کہنے لگے، دعوت اسلامی کے اجتماع میلاد میں پہلے کافی سوز و رقت ہوا تھی اب وہ بات نہیں رہی۔ یہ سن کر دوسرا بولا، یار! آپ کی یہاں بھول ہو رہی ہے، اجتماع میلاد کی کیفیت تو وہی ہے مگر ہمارے دلوں کی کیفیت پہلے کی سی نہیں رہی ذکر رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کیسے بدل سکتا ہے! ہماری ذہنیت تبدیل ہو گئی ہے! اگر آج بھی ہم تنقید کی خشک وادیوں میں بھٹکنے کے بجائے بصد عقیدت تاجدار رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے حسین تصور میں ڈوب کر نعت شریف سنیں تو انشاءاللہ عزوجل کرم بالائے کرم ہو گا۔ پہلے اسلامی بھائی کا شیطانی وسوسوں پر مبنی ذمہ دارانہ اعتراض اگرچہ قدموں کو متزلزل کرکے، بوریت دلا کر اجتماع میلاد سے محروم کرکے واپس گھر پہنچانے والا تھا مگر دوسرے اسلامی بھائی کا جواب صد کروڑ مرحبا! کہ وہ نفس لوامہ کو جگانے والا شیطان کو بھگانے والا تھا چنانچہ وہ جواب بالصواب تاثیر کا تیر بن کر میرے جگر میں پیوست ہو گیا میں نے ہمت کی، قدم اٹھائے اور اجتماع میلاد کے وسط میں جا پہنچا اور عاشقان رسول کے اندر جم کر بیٹھ گیا اور نعتوں کے پرکیف نغموں میں کھو گیا۔ صبح صادق کا وقت قریب آیا، سب اسلامی بھائی صبح بہاراں لے استقبال کیلئے کھڑے ہو گئے، اجتماع پر ایک وجدانی کیفیت طاری تھی، ہر طرف مرحبا کی دھومیں مچی تھیں، شاہ خیرالانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ بےکس پناہ میں درود و سلام کے گلدستے پیش کئے جا رہے تھے، عاشقان رسول کی آنکھوں سے سیل اشک رواں تھے، ہر طرف سے آہوں اور سسکیوں کی آوازیں آ رہی تھیں، مجھ پر بھی عجیب کیف و مستی طاری تھی، میری گنہگار آنکھوں نے ہر طرف ہلکی ہلکی بندکیاں اور خوشگوار پھوار برستی دیکھی، گویا سارے کا سارا اجتماع باران رحمت میں نہا رہا تھا، میں سر کی آنکھیں بند کئے پیارے پیارے آق صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے حسین تصور میں گم دورد و سلام پڑھنے میں مشغول تھا۔ یکایک دل کی آنکھیں کھل گئیں، سچ کہتا ہوں، جس کا جشن ولادت منایا جا رہا تھا اسی شہنشاہ امم، نور مجسم، نبیءمحترم، رسول محتشم، حبیب رب اکرم، شاہ نبی آدم عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سراپا گنہگار و سزاوار ذم پر کرم بالائے کرم فرما دیا، اور مجھے اپنا جلوہء زیب دکھا دیا، الحمدللہ عزوجل دیدار مصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے کلیجہ ٹھنڈا ہو گیا۔ واقعی اس اسلامی بھائی نے بالکل سچ کہا تھا کہ دعوت اسلامی کے اجتماع میلاد تو حسب سابق سوز و رقت والا ہی ہے مگر ہماری اپنی کیفیت بدل گئی ہے اگر ہم متوجہ رہیں تو آج بھی ان کے جلوے عام ہیں،

آنکھ والا ترے جو بن کا تماشہ دیکھے
دیدہء کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے
کوئی آیا پا کے چلا گیا، کوئی عمر بھر بھی نہ پا سکا
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے، یہ بڑے نصیب کی بات ہے

صلوا علی الحبیب! صلی اللہ تعالٰی علٰی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

“مرحبا یا مصطفٰی“ کے بارہ حروف کی نسبت سے جشن ولادت کے 12 مدنی پھول

جشن ولادت کی خوشی میں مسجدوں، گھروں، دکانوں اور سواریوں پر نیز اپنے محلہ میں بھی سبز سبز پرچم لہرائیے، خوب چراغاں کیجئے۔ اپنے گھر پر کم از کم بارہ بلب تو ضرور روشن کیجئے۔ بارھویں رات کو دھوم دھام سے اجتماع ذکر و نعت کا انعقاد کیجئے اور صبح صادق کے وقت سبز سبز پرچم اٹھائے دورد و سلام پڑھتے ہوئے اشکبار آنکھوں کے ساتھ صبح بہاراں کا استقبال کیجئے۔ 12ربیع النور شریف کے دن ہو سکے تو روزہ رکھ لیجئے کہ ہمارے پیارے آقا مکی مدنی مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہر پیر کو روزہ رکھ کر اپنا یوم ولادت مناتے تھے جیسا کہ حضرت سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں، بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں پیر کے روزے کے بارے میں دریافت کیا گیا (کیونکہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ‌ پیر کو روزہ رکھتے تھے) تو ارشاد فرمایا، “اسی دن میری ولادت ہوئی اور اسی روز مجھ پر وحی نازل ہوئی۔“ (صحیح مسلم شریف ص591 حدیث‌198۔(1162) دارابن حزم بیروت)

شارح صحیح بخاری حضرت سیدنا امام قسطلانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں، “اور ولادت با سعادت کے ایام میں محفل میلاد کرنے کے خواص سے یہ امر مجرب (یعنی تجربہ شدہ) ہے کہ اس سال امن و امان رہتا ہے اور ہر مراد پانے میں جلدی آنے والی خوشخبری ہوتی ہے۔ اللہ عزوجل اس شخص پر رحمت نازل فرمائے جس نے ماہ ولادت کی راتوں کو عید بنا لیا۔ (مواہب لدنیہ ج1 ص27)

کعبۃ اللہ شریف کے نقشے (MODEL) میں معاذاللہ کہیں کہیں گڑیوں کا طواف دکھایا جاتا ہے۔ یہ گناہ ہے۔ زمانہء جاہلیت میں کعبۃ اللہ شریف میں تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے۔ ہمارے پیارے اور میٹھے میٹھے آق صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد کعبۃ المشرفہ کو بتوں سے پاک فرما دیا لٰہذا نقشے میں بھی بت (گڑیاں) نہیں ہونے چاہئیں۔ اس کی جگہ پلاسٹک کے پھول رکھے جا سکتے ہیں۔ (طواف کعبہ کے منظر کی تصویر جس میں چہرے واضح نظر نہیں آتے اس کو مسجد یا گھر وغیرہ میں لگانا جائز ہے۔ ہاں جس تصویر کو زمین پر رکھ کر کھڑے کھڑے دیکھنے سے چہرہ واضح نظر آئے اس کا آویزاں کرنا ناجائز و گناہ ہے)

ایسے “باب“ (GATE) لگانا جائز نہیں جن میں مور وغیرہ بنے ہوئے ہوں۔ جانداروں کی تصاویر کی مذمت میں دو احادیث مبارکہ پڑھئے اور خوف خداوندی سے لرزئیے:-
* (رحمت کے) فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس گھر میں کتا یا تصویر ہو۔ (صحیح بخاری ج2ص 409 حدیث 3322 دارالکتب بیروت)
* “ جو کوئی (جاندار کی) تصویر بنائے گا اللہ تعالٰی اس کو اس وقت تک عذاب دیتا رہے گا جب تک اس تصویر میں روح نہ پھونک دے اور وہ اس میں کبھی بھی روح نہ پھونک سکے گا۔ (صحیح البخاری، ج4ص422 حدیث 7042 دارالکتب العلمیہ بیروت)

جشن ولادت کی خوشی میں بعض جگہ گانے باجے بجائے جاتے ہیں ایسا کرنا شرعاً گناہ ہے۔ اس سلسلے میں دو روایات پیش خدمت ہیں۔

  • سرکار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، “مجھے ڈھول اور بانسری توڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔“ (فردوس الاخبار ج1 ص483 حدیث 1612 دارالکتاب بیروت)
  • حضرت ضحاک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے روایت ہے، گانا دل کو خراب اور رب تبارک و تعالٰی کو ناراض کرنے والا ہے۔ (تفسیرات احمدیہ ص 603 پشاور)

نعت پاک کی کیسیٹیں بےشک چلائیں مگر اس میں اذان و اقامت نماز کی رعایت اور مریضوں وغیرہ کی تکلیف کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ (عورت کی آواز میں نعت کی کیسیٹ نہ چلائیں)
شارع عام میں زمین پر اس طرح سجاوٹ کرنا، پرچم گاڑنا جس سے راستہ چلنے اور گاڑی چلانے والنے مسلمانوں کو تکلیف ہو، ناجائز ہے۔

چراغاں دیکھنے کیلئے عورتوں کا بےپردہ نکلنا حرام و شرمناک نیز باپردہ عورتوں کا بھی مروجہ انداز میں مردوں میں اختلاط انتہائی افسوس ناک ہے۔ نیز بجلی کی چوری بھی ناجائز ہے۔ لٰہذا اس سلسلے میں بجلی فراہم کرنے والے ادارہ سے رابطہ کر کے جائز ذرائع سے چراغاں کی ترکیب بنائیے۔

جلوس میلاد میں حتی الامکان باوضو رہئے، نماز باجماعت کی پابندی کا خیال رکھئے۔ شرعی مجبوری نہ ہونے کی صورت میں جلوس کے دوران بھی نماز باجماعت مسجد کے اندر ادا کرنا واجب ہے۔ عاشقان رسول نماز کی جماعت ترک کرنے والے نہیں ہوا کرتے۔

جلوس میلاد میں گھوڑا گاڑی اور اونٹ گاڑی سے اجتناب کیجئے کہ یہ پیشاب اور لید سے عاشقان رسول کے کپڑے وغیرہ پلید کر دیتے ہیں۔

جلوس میں “لنگر رسائل“ چلائیے یعنی مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالے اور مدنی پھولوں کے مختلف پمفلٹ خوب تقسیم کیجئے نیز پھل اور اناج وغیرہ بھی پھینکنے کے بجائے لوگوں کے ہاتھوں میں دیجئے۔ زمین پر گرنے بکھرنے اور قدموں تلے کچلنے سے ان کی بےحرمتی ہوتی ہے۔ اور اس طرح قصداً کھانے پینے کی چیزوں کو ضائع کرنا گناہ ہے۔

اشتعال انگیز نعرہ بازی پروقار جلوس میلاد کو سبوتاثر کر سکتی ہے۔ پرامن رہنے میں آپ کی اپنی بھلائی ہے۔

خدانخواستہ اگر کہیں ہلکا پھلکا پتھراؤ ہو بھی جائے تب بھی جذبات میں آ کر جوابی کاروائی پر نہ اتر آئیں کہ اس طرح آپ کا جلوس میلاد تتر بتر اور دشمن کی مراد بارآور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

غنچے چٹکے، پھول مہکے ہر طرف بہار آئی
ہو گئی صبح بہاراں عید میلادالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

صلوا علی الحبیب! صلی اللہ تعالٰی علٰی محمدصلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

جشن ولادت کے بارے میں مکتوب عطار

(مدنی التجاء ہے کہ ہر ہر جگہ ہر سال ماہ صفرالمظفر کے آخری ہفتہ وار اجتماع میں یاد دہانی کیلئے مکتوب عطار پڑھ کر سنا دیا جائے۔ اسلامی بہنیں اور اسلامی بھائی حسب حال ترمیم فرما لیں)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ط

سگ مدینہ محمد الیاس عطار قادری رضوی عفی عنہ کی جانب سے تمام عاشقان رسول اسلامی بھائیوں / اسلامی بہنوں کی خدمت میں جشن ولادت کی خوشی میں لہراتے ہوئے سرسبز پرچموں، جگمگاتے بلبلوں اور ننھے ننھے قمقموں کو چومتا ہوا جھومتا شہد سے بھی میٹھا مکی مدنی سلام،

اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الحمدللہ رب العٰلمین علٰی کل حال۔

تم بھی کرکے ان کا چرچا اپنے دل چمکاؤ
اونچے میں اونچا نبی کا جھنڈا گھر گھر میں لہراؤ

چاند رات کو ان الفاظ میں تین بار مساجد میں اعلان کروائیے: “تمام اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کو مبارک ہو کہ ربیع النور شریف کا چاند نظر آ گیا ہے۔“

ربیع النور امیدوں کی دنیا ساتھ لے آیا
دعاؤں کی قبولیت کو ہاتھوں ہاتھ لے آیا

مرد کا داڑھی منڈوانا یا ایک مٹھی سے گھٹانا دونوں حرام ہے۔ اسلامی بہن کا بےپردگی کرنا حرام ہے۔ اسلامی بھائی جشن ولادت کے احترام میں چاند رات تا 12ویں، داڑھی منڈوانا اور اسلامی بہنیں بے پردگی کرنا ترک کریں اور اسی کی برکت سے اسلامی بھائی ہمیشہ کیلئے ایک مٹھی داڑھی اور اسلامی بہنیں مستقل شرعی پردہ اور زہے قسمت مدنی برقع پہننے کی نیت کریں۔ (مرد کا داڑھی منڈوانا یا ایک مٹھی سے گھٹانا اور عورت کا بےپردگی کرنا حرام اور فوراً توبہ کرکے ان گناہوں سے باز آنا واجب ہے)

جھک گیا کعبہ سبھی بت منہ کے بل اوندھے گرے
دبدبہ آمد کا تھا اھلاً و سہلاً مرحبا

سنتوں اور نیکیوں پر استقامت پانے کا عظیم مدنی نسخہ یہ ہے کہ تمام عاشقان رسول اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں روزانہ فکر مدینہ کرتے ہوئے مدنی انعامات کے کارڈ پر کرکے ہر ماہ جمع کروانے کی نیت کریں، ہاتھ اٹھا کر کہئے! انشاءاللہ عزوجل۔

بدلیاں رحمت کی چھائین بوندیاں رحمت کی آئیں
اب مرادیں دل کی پائیں آمد شاہ عرب ہے

تمام عاشقان رسول بشمول نگران و ذمہ داران ربیع النور شریف میں خصوصیت کے ساتھ کم از کم تین روزہ مدنی قافلے میں سفر کی سعادت حاصل کریں۔ اور اسلامی بہنیں 30 دن تک روزانہ گھر کے اندر (صرف گھر والوں میں) درس فیضان سنت جاری کریں اور پھر آئندہ بھی روزانہ جاری رکھنے کی نیت فرمائیں۔

لوٹنے رحمتیں قافلے میں چلو
سیکھنے سنتیں قافلے میں چلو

اپنی مسجد، گھر، دکان، کارخانہ وغیرہ پر 12 عدد ورنہ کم از کم ایک عدد سبز سبز پرچم ربیع النور کی چاند رات سے لیکر سارا مہینہ لہرائیے۔ بسوں، ویگنوں، ٹرکوں، ٹرالوں، ٹیکسیوں، رکشوں، ریڑھوں، گھوڑا گاڑیوں وغیرہ پر ضرورتاً اپنے پلے سے پرچم خرید کر باندھ دیجئے۔ اپنی سائیکل، اسکوٹر، اور کار پر بھی لگائیے۔ انشاءاللہ عزوجل ہر طرف سبز سبز پرچموں کی بہاریں مسکراتی نظر آئیں گی۔ عموماً ٹرکوں کے پیچھے جانداروں کی بڑی بڑی تصویریں اور بےہودہ اشعار لکھے ہوتے ہیں۔ میری آرزو ہے کہ ٹرکوں، بسوں، ویگنوں، رکشوں، ٹیکسیوں، سوزوکیوں اور کاروں وغیرہ کے پیچھے نمایاں الفاظ میں تحریر ہو، مجھے دعوت اسلامی سے پیار ہے۔ مالکان بس اور ٹرانسپورٹ والوں سے ملکر مدنی ترکیبیں کیجئے اور سگ مدینہ عفی عنہ کے دل کی دعائیں لیجئے۔ ضروری احتیاط:

اگر جھنڈے پر نقش نعل پاک یا کوئی لکھائی ہو تو اس بات کا خیال رکھئے کہ نہ وہ لیرے لیرے ہو، نہ ہی زمین پر تشریف لائے۔ نیز جوں ہی ربیع النور شریف کا مہینہ تشریف لے جائے فوراً اتار لیجئے۔ اگر احتیاط نہیں کر پاتے اور بےادبی ہو جاتی ہے تو بغیر نقش و تحریر کے سادہ سبز پرچم لہرائیے۔ (سگ مدینہ عفی عنہ بھی حتی الامکان اپنے مکان بےنشان پر سادہ جھنڈے لگاتا ہے۔)

نبی کا جھنڈا لیکر نکلو دنیا پر چھا جاؤ
نبی کا جھنڈا امن کا جھندا گھر گھر میں لہراؤ

اپنے گھر 12 جھالروں (یعنی لڑیوں) یا کم از کم 12 بلبوں سے نیز اپنی مسجد و محلے میں بھی 12 دن تک خوب چراغاں کیجئے۔ (مگر ان کاموں کیلئے بجلی چوری کرنا حرام ہے۔ لٰہذا اس سلسلے میں بجلی فراہم کرنے والے ادارہ سے رابطہ کرکے جائز ذرائع کی ترکیب بنائیے) سارے علاقے کو سبز سبز پرچموں اور رنگ برنگے بلبوں سے سجا کر دلہن بنا دیجئے۔ مسجد اور گھر کی چھت پر چوک وغیرہ پر راہگیروں اور سواریوں کو تکلیف سے بچاتے ہوئے حقوق عامہ تلف کئے بغیر فضا میں معلق 12 میٹر یا حسب ضرورت سائز کے بڑے بڑے پرچم لہرائیے۔ بیچ سڑک پر پرچم مت گاڑئیے کہ اس سے ٹریفک کا نظام متاثر ہوتا ہے۔ نیز گلی وغیرہ کہیں بھی اس طرح کی سجاوٹ نہ کیجئے جس سے مسلمانوں کا راستہ تنگ ہو اور ان کی حق تلفی اور دل آزاری ہو۔

بیت اقصٰی، بام کعبہ، برمکان آمنہ
نصب پرچم ہو گیا اہلاً و سہلاً مرحبا

ہر اسلامی بھائی حسب توفیق زیادہ ورنہ کم از کم 12 روپے کے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسائل اور مدنی پھولوں کے مختلف پمفلٹ جلوس میلاد میں بانٹے اور اسلامی بہنیں بھی تقسیم کروائیں۔ اسی طرح سارا سال اجتماعات میں لنگر رسائل کا اہتمام فرما کر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائیں۔ شادی غمی کی تقاریب میں اور مرحوموں کے ایصال ثواب کی خاطر بھی “لنگر رسائل“ چلائیے اور دیگر مسلمانوں کو اس کی ترغیب دلائیے۔

بانٹ کر مدنی رسائل دین کو پھیلائیے
کر کے راضی حق کو حقدار جناں بن جائیے

سگ مدینہ کا تحریر کردہ پمفلٹ “جشن ولادت کے 12 مدنی پھول“ ممکن ہو تو 112 ورنہ کم از کم 12 عدد نیز ہو سکے تو رسالہ “صبح بہاراں“ 12 عدد مکتبۃ المدینہ سے ہدیۃً حاصل کرکے تقسیم کیجئے۔ خصوصاً ان تنظیموں کے سربرا ہوں تک پہنچائیے جو جشن ولادت کی دھومیں مچاتے ہیں۔ ربیع النور شریف کے دوران 1200 روپے اگر یہ نہ ہو سکے تو 112 روپے اور اگر یہ بھی نہ بن پڑے تو 12 روپے (یا بالغان و بالغات) کسی سنی عالم کو پیش کیجئے۔ اگر اپنی مسجد کے امام، مؤذن یا خدام میں بانٹ دیں تب بھی ٹھیک ہے بلکہ یہ خدمت ہر ماہ جاری رکھنے کی نیت کریں تو مدینہ مدینہ۔ جمعہ کے روز دیں تو بہتر کہ جمعہ کو ہر نیکی کا ستر گنا ثواب ملتا ہے۔ الحمدللہ عزوجل سنتوں بھرے بیان کا کیسیٹ سن کر کئی لوگوں کی اصلاح ہونے کی خبریں ہیں، آپ حضرات میں بھی کچھ نہ کچھ ایسے خوش نصیب ہوں گے جو بیان کا کیسیٹ سن کر مدنی ماحول سے وابستہ ہوئے ہوں گے۔ لٰہذا ایسی کیسیٹیں لوگوں تک پہنچانا دین کی عظیم خدمت اور بےانتہا ثواب کا باعث ہے تو جس سے بن پڑے ہفتہ میں ورنہ مہینے میں کم از کم 12 کیسیٹیں بیان کی ضرور فروخت کرے۔ مخیر اسلامی بھائی اگر مفت تقسیم کریں تو مدینہ مدینہ۔ جشن ولادت کی خوشی میں بیان کی کیسیٹیں خوب تقسیم فرمائیے اور تبلیغ دین میں حصہ لیجئے۔ شادیوں کے مواقع پر کارڈ کے ساتھ رسالہ اور ہو سکے تو بیان کا کیسیٹ بھی منسلک فرمائیے۔ عید کارڈز کا رواج ختم کرکے اس کی جگہ بھی یہی رائج کیجئے تاکہ جو رقم خرچ ہو اس سے دین کا بھی فائدہ ہو۔ مجھے لوگ قیمتی کارڈز بھجواتے ہیں اس سے دل خوش ہونے کے بجائے جلتا ہے۔ کاش! عید کارڈز پر خرچ ہونے والی رقم دین کے کام میں صرف کی جاتی! نیز اس پر لگی ہوئی افشاں (یعنی چمکدار پاؤڈر) سے سخت پریشانی ہوتی ہے۔

ان کے درپے پلنے والا اپنا آپ جواب
کوئی غریب نواز تو کوئی داتا لگتا ہے

بڑے شہر میں ہر علاقائی مشاورت کا نگران (قصبہ والے قصبہ میں) 12 دن تک روزانہ مختلف مساجد میں عظیم الشان سنتوں بھرے اجتماعات منعقد کرے (ذمہ دار اسلامی بہنیں گھروں میں اجتماعات فرمائیں) ربیع النور شریف کے دوران ہونے والے تمام اجتماعات میں جن سے ہو سکے وہ سبز پرچم ساتھ لایا کریں۔

لب پر نعت رسول اکرم ہاتھوں میں پرچم
دیوانہ سرکار کا کتنا پیارا لگتا ہے

گیارہ کی شام کو ورنہ 12ویں شب کو غسل کیجئے۔ ہو سکے تو اس عیدوں کی عید کی تعظیم کی نیت سے سفید لباس، عمامہ، سربند، ٹوپی، کتھئی چادر، مسواک، جیب کا رومال، چپل، تسبیح، عطر کی شیشی، ہاتھ کی گھڑی، قلم، قافلہ پیڈ وغیرہ اپنے استعمال کی ہر چیز ممکنہ صورت میں نئی لیجئے۔ (اسلامی بہنیں بھی اپنی ضرورت کی جو جو اشیاء ممکن ہوں وہ نئی لیں)

آئی نئی حکومت سکہ نیا چلے گا
عالم نے رنگ بدلہ صبح شب ولادت

12ویں شب اجتماع میلاد میں گزار کر بوقت صبح صادق اپنے ہاتھوں میں سبز سبز پرچم اٹھائے درود و سلام کے ہار لئے اشکبار آنکھوں سے “صبح بہاراں“ کا استقبال کیجئے۔ بعد نماز فجر سلام و عیدمبارک کہہ کر ایک دوسرے سے گرم جوشی کے ساتھ ملاقات فرمائیے اور سارا دن عید کی مبارکباد پیش کرتے اور عید ملتے رہئے۔

عید میلادالنبی (صلی اللہ علیہ وسلم) تو عید کی بھی عید ہے
آج تو ہے عید عیداں عید میلاد النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

ہمارے میٹھے میٹھے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہر پیر شریف کو روزہ رکھ کر اپنا یوم ولادت مناتے رہے۔ آپ بھی یاد مصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں 12 ربیع النور شریف کو روزہ رکھ کر سبز پرچم اٹھائے جلوس میلاد میں شریک ہوں۔ جہاں تک ممکن ہو باوضو رہئے۔ لب پر درود و سلام اور نعتوں کے نغمے سجائے، نعتوں اور درود و سلام کے پھول برساتے، نگاہیں جھکائے پروقار طریقے پر چلئے۔ اچھل کود مچا کر کسی کو تنقید کو موقع مت دیجئے۔

ربیع الاول اہلسنت تجھ پہ کیوں نہ ہوں قرباں
کہ تیری بارھویں تاریخ وہ جان قمر آیا

صلوا علی الحبیب! صلی اللہ تعالٰی علٰی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

جشن ولادت منانے کی نیتیں

بخاری شریف کی سب سے پہلی حدیث مبارک ہے، انماالاعمال بالنیات یعنی اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ (صحیح بخاری ج1ص5) یاد رکھئے! ہر نیک عمل میں ثواب آخرت کی نیت ہونا ضروری ہے ورنہ ثواب نہیں ملیگا۔ جشن ولادت منانے میں بھی ثواب کمانے کی نیت ضروری ہے۔ ثواب کی نیت کیلئے عمل کا شریعت کے مطابق اور زیور اخلاص سے مزین ہونا شرط ہے۔ اگر کسی نے دکھاوے اور واہ واہ کروانے کی خاطر جشن ولادت منایا، اس کیلئے بجلی کی چوری کی، بالجبر چندہ وصول کیا، بلا اجازت شرعی مسلمانوں کو ایذاء دی اور حقوق عامہ تلف کئے، اونچی آواز سے اور ایسے وقت لاؤڈ اسپیکر چلایا جس سے مریضوں، سونے والوں اور شیرخوار بچوں کو تکلیف ہو تو اب ثواب کی نیت بےکار ہے بلکہ گنہگار ہے۔ جس قدر اچھی اچھی نیتیں زیادہ ہوں گی اسی قدر ثواب بھی زیادہ ملے گا۔ چنانچہ 18 نیتیں پیش کی جاتی ہیں مگر یہ نامکمل ہیں، علم نیت رکھنے والا ثواب بڑھانے کی غرض سے مذید نیتوں کا اضافہ کر سکتا ہے۔ حسب حال یہ نیتیں کر لیجئے:

“ جشن میلادالنبی مرحبا “ کے اٹھارہ حروف کی نسبت سے جشن ولادت منانے کی 18 نیتیں

  1. حکم قرآنی واما بنعمۃ ربک فحدث ہ (ترجمہ کنزالایمان: اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔ (پ30 الضحٰی 11) پر عمل کرتے ہوئے اللہ عزوجل کی سب سے بڑی نعمت کا چرچا کروں گا۔
  2. رضائے رب العزت عزوجل پانے کیلئے جشن ولادت کی خوشی میں چراغاں کروں گا۔
  3. جبرئیل امین علیہ الصلوٰۃ والسلام نے شب ولادت جو تین جھنڈے گاڑے تھے اس کی پیروی میں جھنڈے لہراؤں گا۔
  4. سبزگنبد کی نسبت سے سبز پرچم لگاؤں گا۔
  5. دھوم دھام سے جشن ولادت منا کر کفار پر عظمت مصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا سکہ بٹھاؤں گا (گھر گھر چراغاں اور سبز جھنڈے دیکھ کر کفار یقیناً حیران ہوتے ہوں گے کہ مسلمانوں کو اپنے نبی کی ولادت سے والہانہ پیار ہے۔)
  6. جشن ولادت کی دھوم مچا کر شیطان کو پریشان کروں گا۔
  7. ظاہری سجاوٹ کے ساتھ ساتھ توبہ و استغفار کے ذریعے اپنا باطن بھی سجاؤں گا۔
  8. بارھویں رات کو اجتماع میلاد اور
  9. عید میلادالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے دن نکلنے والے جلوس میلاد میں شرکت کرکے خدا و مصطفٰی عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی سعادتیں اور
  10. علماء و
  11. صلحا کی زیارتیں اور
  12. عاشقان رسول کے قرب کی برکتیں حاصل کروں گا۔
  13. جلوس میلاد میں با عمامہ اور حتی الامکان
  14. باوضو رہوں گا اور
  15. جلوس کے دوران بھی مسجد کی نماز باجماعت ترک نہیں کروں گا
  16. حسب توفیق “لنگر رسائل“ کی ترکیب بناؤں گا (یعنی مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسائل و پمفلٹ نیز سنتوں بھرے بیانات کی کیسیٹیں اجتماع میلاد اور جلوس میلاد میں تقسیم کروں گا)
  17. انفرادی کوشش کرتے ہوئے کم از کم 12 اسلامی بھائیوں کو مدنی قافلے میں سفر کی دعوت دوں گا۔
  18. جلوس میلاد میں حتی الوسع سارا راستہ زبان و آنکھ کا قفل مدینہ لگائے، نعتوں کی سماعت اور درود و سلام کی کثرت کروں گا۔

یارب مصطفٰی عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم! ہمیں خوش دلی اور اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ جشن ولادت منانے کی توفیق مرحمت فرما اور جشن ولادت کے صدقے ہمیں جنت الفردوس میں بےحساب داخلہ عنایت کر۔

بخش دے ہم کو الٰہی! بہر میلادالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
نامہء اعمال عصیاں سے مرا بھر پور ہے

اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
والسلام مع الاکرام

عید میلاد النبی کی شرعی حیثیت

عید میلاد النبی ﷺ کی شرعی حیثیت

از: سید شاہ تراب الحق قادری رضوی
 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
 
سوال ۔ بعض لوگ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے اور محافل میلاد منعقد کرنے کو بدعت و حرام کہتے ہیں ۔ قرآن و سنت اور ائمہ دین کے اقوال کی روشنی میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت بیان فرمائیے۔ جواب۔ ماہ ربیع الاول میں بالعموم اور بارہ بارہ ربیع الاول کو بالخصوص آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کی خوشی میں پورے عالم اسلام میں محافل میلاد منعقد کی جاتی ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا میلاد منانا جائز و مستحب ہے اور اس کی اصل قرآن و سنت سے ثابت ہے۔

ارشاد باری تعالی ہوا ، ( اور انہیں اللہ کے دن یاد دلاؤ ) ۔ ( ابراہیم ، 5 ) امام المفسرین سیدنا عبد اللہ بن عباس ( رضی اللہ عنہما ) کے نزدیک ایام اللہ سے مراد وہ دن ہیں۔جن میں رب تعالی کی کسی نعمت کا نزول ہوا ہو ۔ ( ان ایام میں سب سے بڑی نعمت کے دن سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت و معراج کے دن ہیں ، ان کی یا د قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے)۔ (تفسیر خزائن العرفان)

بلاشبہ اللہ تعالی کی سب سے عظیم نعمت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدسہ ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہوا ، ( بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا)۔ (آل عمران ،164)

آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم تو وہ عظیم نعمت ہیں کہ جن کے ملنے پر رب تعالی نے خوشیاں منانے کا حکم بھی دیا ہے ۔ ارشاد ہوا ، ( اے حبیب ! ) تم فرماؤ ( یہ ) اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت ( سے ہے ) اور اسی چاہیے کہ خوشی کریں ، وہ ( خو شی منانا ) ان کے سب دھن و دولت سے بہتر ہے ) ۔ ( یونس ، 58 ) ایک اور مقام پر نعمت کا چرچا کرنے کا حکم بھی ارشاد فرما یا، (اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو)۔ (الضحی 11، کنز الایمان)

خلاصہ یہ ہے کہ عید میلاد منانا لوگوں کو اللہ تعالی کے دن یا د دلانا بھی ہے، اس کی نعمت عظمی کا چرچا کرنا بھی اور اس نعمت کے ملنے کی خوشی منانا بھی۔ اگر ایمان کی نظر سے قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ذکر میلاد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کی سنت بھی ہے ۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی۔

سورہ آل عمران کی آیت ( 81 ) ملاحظہ کیجیے ۔ رب ذوالجلا ل نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کی محفل میں اپنے حبیب لبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد اور فضائل کا ذکر فرمایا ۔ گویا یہ سب سے پہلی محفل میلاد تھی جسے اللہ تعالی نے منعقد فرمایا ۔ اور اس محفل کے شرکاء صرف انبیاء کرام علیہم السلام تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری اور فضائل کا ذکر قرآن کریم کی متعدد آیات کریمہ میں موجود ہے۔

رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ کی چند محافل کا ذکر ملاحظہ فرمائیے۔ آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مسجد نبوی میں منبر شریف پر اپنا ذکر ولادت فرمایا۔ (جامع ترمذی ج 2 ص 201) آپ نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے لیے منبر پر چادر بچھائی اور انہوں نے منبر پر بیٹھ کر نعت شریف پڑھی، پھر آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ (صحیح بخاری ج 1 ص 65) حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے غزوہ تبوک سے واپسی پر بارگاہ رسالت میں ذکر میلاد پر مبنی اشعار پیش کیے (اسد الغابہ ج 2 ص 129)

اسی طرح حضرات کعب بن زبیر ، سواد بن قارب ، عبد اللہ بن رواحہ ، کعب بن مالک و دیگر صحابہ کرام ( رضی اللہ عنہم ) کی نعتیں کتب احادیث و سیرت میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔ بعض لوگ یہ وسوسہ اندازی کرتے ہیں کہ اسلام میں صرف دو عید یں ہیں لہذا تیسری عید حرام ہے ۔ ( معاذ ا للہ ) اس نظریہ کے باطل ہونے کے متعلق قرآن کریم سے دلیل لیجئے ۔ ارشاد باری تعالی ہے ، ( عیسیٰ بن مریم نے عرض کی ، اے اللہ ! اے ہمارے رب ! ہم پر آسمان سے ایک ( کھانے کا ) خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلوں پچھلوں کی)۔ (المائدہ ، 114، کنزالایمان)

صدر الافاضل فرماتے ہیں ، ( یعنی ہم اس کے نزول کے دن کو عید بنائیں ، اسکی تعظیم کریں ، خوشیاں منائیں ، تیری عبادت کریں ، شکر بجا لا ئیں ۔ اس سے معلوم ہو ا کہ جس روز اللہ تعالی کی خاص رحمت نازل ہو ۔ اس دن کو عید بنانا اور خوشیاں بنانا ، عبادتیں کرنا اور شکر بجا لانا صالحین کا طریقہ ہے ۔ اور کچھ شک نہیں کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اللہ تعالی کی عظیم ترین نعمت اور بزرگ ترین رحمت ہے اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے دن عید منانا اور میلاد شریف پڑھ کر شکر الہی بجا لانا اور اظہار فرح اور سرور کرنا مستحسن و محمود اور اللہ کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے ) ۔ ( تفسیر خزائن العرفان )۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت (الیوم اکملت لکم دینکم ) تلاوت فرمائی تو ایک یہود ی نے کہا، اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید مناتے۔ اس پر آپ نے فرمایا ، یہ آیت جس دن نازل ہوئی اس دن دو عیدیں تھیں، عید جمعہ اور عید عرفہ۔ (ترمذی) پس قرآن و حدیث سے ثابت ہوگیا کہ جس دن کوئی خاص نعمت نازل ہو اس دن عید منانا جائز بلکہ اللہ تعالی کے مقرب نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کی سنت ہے۔ چونکہ عید الفطر اور عید الاضحی حضور ﷺ ہی کے صدقے میں ملی ہیں اس لیے آپ کا یوم میلاد بدرجہ اولی عید قرار پایا۔

عید میلاد پہ ہوں قربان ہماری عیدیں
کہ اسی عید کا صدقہ ہیں یہ ساری عیدیں

شیخ عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ اکابر محدثین کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ شب میلاد مصفطے صلی اللہ علیہ وسلم شب قدر سے افضل ہے، کیونکہ شب قدر میں قرآن نازل ہو اس لیے وہ ہزار مہنوں سے بہتر قرار پائی تو جس شب میں صاحب قرآن آیا وہ کیونکہ شب قدر سے افضل نہ ہو گی؟ (ماثبت بالستہ)

جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام

صحیح بخاری جلد دوم میں ہے کہ ابو لہب کے مرنے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اسے خ-واب میں بہت بری حالت میں دیکھا اور پوچھا ، مرنے کے بعد تیرا کیا حال رہا؟ ابو لہب نے کہا، تم سے جدا ہو کر میں نے کوئی راحت نہیں پائی سوائے اس کے کہ میں تھوڑا سا سیراب کیا جاتا ہوں کیونکہ میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پیدائش کی خوشی میں اپنی لونڈی ثویبہ کو آزاد کیا تھا۔ امام ابن جزری فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد کی خوشی کی وجہ سے ابو لہب جیسے کافر کا یہ حا ل ہے کہ اس کے عذاب میں کمی کردی جاتی ہے ۔ حالانکہ ا س کی مذمت میں قرآن نازل ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مومن امتی کا کیا حال ہوگا ۔ جو میلاد کی خوشی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے سبب مال خرچ کرتا ہے ۔ قسم ہے میری عمر کی ، اس کی جزا یہی ہے کہ اللہ تعالی اسے اپنے افضل و کرم سے جنت نعیم میں داخ-ل فرمادے ۔ ( مواہب الدنیہ ج 1 ص 27 ، مطبوعہ مصر )

اب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ خالق کائنات نے اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جشن عید میلاد کیسے منایا؟ سیرت حلبیہ ج 1 ص 78 اور خصائص کبری ج 1 ص 47 پر یہ روایت موجود ہے کہ (جس سال نور مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کو ودیعت ہوا وہ سال فتح و نصرت ، تر و تازگی اور خوشحالی کا سال کہلایا۔ اہل قریش اس سے قبل معاشی بد حالی اور قحط سالی میں مبتلا تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی برکت سے اس سال رب کریم نے ویران زمین کو شادابی اور ہریالی عطا فرمائی، سوکھے درخت پھلوں سے لدگئے اور اہل قریش خوشحال ہوگئے ) ۔ اہلسنت اسی مناسبت سے میلاد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی خوسی میں اپنی استطاعت کے مطابق کھانے، شیرینی اور پھل وغیرہ تقسیم کرتے ہیں ۔

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر شمع رسالت کے پروانے چراغاں بھی کرتے ہیں ۔ اس کی اصل مندرجہ ذیل احادیث مبارکہ ہیں۔ آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ، (میری والدہ ماجدہ نے میری پیدائش کے وقت دیکھا کہ ان سے ایسا نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے(۔ (مشکوہ)

حضرت آمنہ ( رضی اللہ عنہا ) فرماتی ہیں ، ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تو ساتھ ہی ایسا نور نکلا جس سے مشرق سے مغرب تک ساری کائنات روشن ہوگئی ) ۔ (طبقاب ابن سعد ج 1 ص 102، سیرت جلسہ ج 1 ص 91)

ہم تو عید میلاد صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی میں اپنے گھروں ا ور مساجد پر چراغاں کرتے ہیں ، خالق کائنات نے نہ صرف سا ر ی کائنات میں چراغاں کیا بلکہ آسمان کے ستاروں کو فانوس اور قمقمے بنا کر زمین کے قریب کردیا ۔ حضرت عثمان بن ابی العاص ( رضی اللہ عنہ ) کی والدہ فرماتی ہیں ، ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی میں خانہ کعبہ کے پاس تھی ، میں نے دیکھا کہ خانہ کعبہ نور سے روشن ہوگیا ۔ اور ستارے زمین کے اتنے قریب آگئے کہ مجھے یہ گمان ہوا کہ کہیں وہ مجھ پر گر نہ پڑیں ) ۔ ( سیرت حلبیہ ج 1 ص 94 ، خصائص کبری ج 1 ص 40 ، زرقانی علی المواہب 1 ص 114)

سیدتنا آمنہ ( رضی اللہ عنہا ) فرماتی ہیں ، ( میں نے تین جھندے بھی دیکھے ، ایک مشرق میں گاڑا گیا تھا ۔ دوسرا مغرب میں اور تیسرا جھنڈا خا نہ کعبہ کی چھت پر لہرارہا تھا ) ۔ ( سیرت حلبیہ ج 1 ص 109 ) یہ حدیث ( الو فابا حوال مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ) مےں محدث ابن جوزی نے بھی روایت کی ہے ۔ اس سے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جھنڈے لگانے کی اصل بھی ثابت ہوئی۔

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جلوس بھی نکالا جاتا ہے اور نعرئہ رسالت بلند کیے جاتے ہیں۔ اس کی اصل یہ حدیث پاک ہے کہ جب آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو اہلیان مدینہ نے جلوس کی صورت میں استقبال کیا۔ حدیث شریف میں ہے کہ مرد اور عورتیں گھروں کی چھتوں پر چرھ گئے اور بچے اور خدام گلیوں میں پھیل گئے، یہ سب با آواز بلند کہہ رہے تھے، یا محمد یا رسول اللہ ، یا محمد یا رسول اللہ ۔ (صلی اللہ علیہ وسلم) ۔(صحیح مسلم جلد دوم باب الھجرہ)
جشن عید میلا د النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت بیان کرنے کے بعد اب چند تاریخی حوالہ جات پیش خدمت ہیں ۔ جن سے ثا بت ہو جائے گا کہ محافل میلاد کا سلسلہ عالم اسلام میں ہمیشہ سے جاری ہے ۔

محدث ابن جوزی رحمہ اللہ (متوفی 597 ھ) فرماتے ہیں، (مکہ مکرمہ ، مدینہ طیبہ ، یمن ، مصر، شام اور تمام عالم اسلام کے لوگ مشرق سے مغرب تک ہمیشہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے موقع پر محافل میلاد کا انعقاد کرتے چلے آرہے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اہتمام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے تذکرے کا کیا جاتا ہے اور مسلمان ان محافل کے ذریعے اجر عظیم اور بڑی روحانی کامیابی پاتے ہیں)۔ (المیلاد النبوی ص 58)
امام ابن حجر شافعی ( رحمہ اللہ ) ۔ ( م 852 ھ ) فرماتے ہیں ، ( محافل میلاد و اذکار اکثر خیر ہی پر مشتمل ہوتی ہیں کیونکہ ان میں صدقات ذکر الہی اور بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں درود و سلام پیش کیا جاتا ہے)۔ (فتاوی حدیثیہ ص 129)

امام جلال الدین سیوطی ( رحمہ اللہ ) ۔ ( م 911 ھ ) فرماتے ہیں ، ( میرے نزدیک میلاد کے لیے اجتماع تلاوت قرآن ، حیات طیبہ کے واقعات اور میلاد کے وقت ظاہر ہونے والی علامات کا تذکرہ ان بدعات حسنہ میں سے ہے ۔ جن پر ثواب ملتا ہے ۔ کیونکہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اور آپ کی ولادت پر خوشی کا ا ظہا ر ہوتا ہے ) ۔ ( حسن المقصد فی عمل المولدنی الہاوی للفتاوی ج 1 ص 189)

امام قسطلانی شارح بخاری رحمہ اللہ (م 923ھ) فرماتے ہیں، (ربیع الاول میں تمام اہل اسلام ہمیشہ سے میلاد کی خوشی میں محافل منعقد کرتے رہے ہیں۔ محفل میلادکی یہ برکت مجرب ہے کہ اس کی وجہ سے سارا سال امن سے گزرتا ہے ۔ اور ہر مراد جلد پوری ہوتی ہے۔ اللہ تعالی اس شخص پر رحمتیں نازل فرمائے جس نے ماہ میلاد کی ہر رات کو عید بنا کر ایسے شخص پر شدت کی جس کے دل میں مرض و عناد ہے)۔ (مواہب الدنیہ ج 1 ص 27)

شاہ عبد الرحیم محدث دہلوی رحمہ اللہ ( والد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ ، م 1176 ھ ) فرماتے ہیں کہ میں ہر سال میلاد شریف کے دنوں میں کھانا پکوا کر لوگوں کو کھلایا کرتا تھا ۔ ایک سال قحط کی وجہ سے بھنے ہوئے چنوں کے سوا کچھ میسر نہ ہو ا ، میں نے وہی چنے تقسیم کرد یے ۔ رات کو خواب میں آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہو اتو دیکھا کہ وہی بھنے ہوئے چنے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھے ہوئے ہیں اور آپ بیحد خوش اور مسرور ہیں۔ (الدار الثمین ص 8)
ان دلائل و براہین سے ثابت ہوگیا کہ میلا د النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محافل منعقد کرنے اور میلاد کا جشن منانے کا سلسلہ امت مسلمہ میں صدیوں سے جاری ہے ۔ اور اسے بدعت و حرام کہنے والے دراصل خود بدعتی و گمراہ ہیں۔

عید میلادالنبی کا ثبوت قرآن و حدیث کی روشنی میں

عید میلادالنبی  کا ثبوت قرآن و حدیث کی روشنی میں

از: مفتی احمدالقادری مصباحی
 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
 

 ہر مسرت ہر خوشی کی جان عیدمیلادالنبی
عید کیا ہے عید کی بھی شان عیدمیلادالنبی
ساعت اعلٰی و اکرم عید میلادالنبی
لمحہء انوار پیہم عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم

دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے یہ عظیم خوشی کا دن ہے۔ اسی دن محسن انسانیت، خاتم پیغمبراں، رحمت دو جہاں، انیس بیکراں، چارہ ساز درد منداں، آقائے کائنات، فخر موجودات، نبیء اکرم، نور مجسم، سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم خاکدان گیتی پر جلوہ گر ہوئے۔  آپ کی بعثت اتنی عظیم نعمت ہے جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی نعمت اور بڑی سے بڑی حکومت بھی نہیں کر سکتی۔ آپ قاسم نعمت ہیں، ساری عطائیں آپ کے صدقے میں ملتی ہیں۔  حدیث پاک میں ہے:

انما انا قاسم واللہ یعطی۔ میں بانٹتا ہوں اور اللہ دینا ہے۔ (بخاری و مسلم)

اللہ تعالٰی نے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی بعثت پر اپنا احسان جتایا۔ ارشاد ہوتا ہے۔

لقد من اللہ علی المؤمنین اذ بعث فیھم رسولا۔
بےشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ انھیں میں سے ایک رسول بھیجا۔ (کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن، سورۃ3 آیت164)

انبیاء و مرسلین علیہم السلام کی ولادت کا دن سلامتی کا دن ہوتا ہے۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام فرماتے ہیں:

وہی سلامتی مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا۔ (سورۃ19 آیت33)

دوسری جگہ حضرت یحیٰی علیہ السلام کے لئے باری تعالٰی کا ارشاد ہے:

سلامتی ہے ان پر جس دن پیدا ہوئے۔ (قرآن کریم سورہ19 آیت15)

ہمارے سرکار تو امام الانبیاء و سیدالمرسلین اور ساری کائنات سے افضل نبی ہیں۔ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) پھر آپ کا یوم میلاد کیوں نہ سلامتی اور خوشی کا دن ہوگا۔ بلکہ پیر کے دن روزہ رکھ کر اپنی ولادت کی خوشی تو خود سرکار دو جہاں صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے منائی اور ان کی اتباع، صحابہءکرام ، تابعین، تبع تابعین، اولیائے کاملین رضوان اللہ علیہم اجمعین کرتے آئے اور آج تک اہل محبت کرتے آ رہے ہیں۔ حدیث پاک میں ہے:

نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پیر اور جمعرات کو خیال کرکے روزہ رکھتے تھے۔ (ترمذی شریف)

دوسرے حدیث میں ہے:

رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے پیر کے دن روزے کا سبب پوچھا گیا، فرمایا اسی میں میری ولادت ہوئی اور اسی میں مجھ پر وحی نازل ہوئی۔ (مسلم شریف)

نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کے وقت ابولہب کی لونڈی حضرت ثوبیہ (رضی اللہ تعالٰی عنہا) نے آکر ابولہب کو ولادت نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خبر دی۔ ابولہب سن کر اتنا خوش ہوا کہ انگلی سے اشارہ کرکے کہنے لگا، ثوبیہ! جا آج سے تو آزاد ہے۔  ابولہب جس کی مذمت میں پوری سورہ لہب نازل ہوئی ایسے بدبخت کافر کو میلاد نبی (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کے موقع پر خوشی منانے کا کیا فائدہ حاصل ہوا امام بخاری کی زبانی سنئیے:

جب ابولہب مرا تو اس کے گھر والوں (میں حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے اس کو خواب میں بہت برے حال میں دیکھا۔ پوچھا، کیا گزری ؟ ابولہب نے کہا تم سے علیحدہ ہو کر مجھے خیر نصیب نہیں ہوئی۔ ہاں مجھے (اس کلمے کی) انگلی سے پانی ملتا ہے جس سے میرے عذاب میں تخفیف ہو جاتی ہے کیوں کہ میں نے (اس انگلی کے اشارے سے) ثوبیہ کو آزاد کیا تھا۔

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ (958ھ متوفی 1052ھ) جو اکبر اور جہانگیر بادشاہ کے زمانے کے عظیم محقق ہیں، ارشاد فرماتے ہیں:
اس واقعہ میں میلادشریف کرنے والوں کے لئے روشن دلیل ہے جو سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شب ولادت خوشیاں مناتے اور مال خرچ کرتے ہیں۔ یعنی ابولہب جو کافر تھا، جب آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی اور لونڈی کے دودھ پلانے کی وجہ سے اس کو انعام دیا گیا تو اس مسلمان کا کیا حال ہوگا جو سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں محبت سے بھر پور ہو کر مال خرچ کرتا ہے اور میلاد شریف کرتا ہے۔ (مدارج النبوۃ دوم ص26)

نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالٰی کی طرف سے بہت بڑی رحمت بن کر دنیا میں تشریف لائے۔

وما ارسلناک الا رحمۃ للعلمین۔
اور ہم نے تمھیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لئے۔ (کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن سورۃ21، آیت107)

اور رحمت الٰہی پر خوشی منانے کا حکم تو قرآن مقدس نے ہمیں دیا ہے:

قل بفضل اللہ و برحمۃ فبذلک فلیفرحوا۔
تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اسی پر چاہئیے کہ خوشی کریں۔  ( کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن سورۃ10، آیت58 )

لٰہذا میلادالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے موقع پر جتنی بھی جائز خوشی و مسرت اور جشن منایا جائے قرآن و حدیث کے منشا کے عین مطابق ہے بدعت سیئہ ہرگز نہیں۔ بلکہ ایسا اچھا اور عمدہ طریقہ ہے جس پر ثواب کا وعدہ ہے۔ حدیث پاک میں ہے:

من سن فی الاسلام سنۃ حسنۃ فلہ اجرھا واجر من عمل بھامن بعدہ من غیران ینقص من اجورھم شئی۔
جو اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے گا تو اسے اس کا ثواب ملے گا اور ان کا ثواب بھی اسے ملے گا جو اس کے بعد اس نئے طریقے پر عمل کریں گے، اور ان عمل کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی بھی نہ ہو گی۔ (مسلم شریف)

جلوس محمدی کا مسئلہ

جلوس محمدی کا مسئلہ

از: اختر مصباحی
 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
 
پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت دو شنبہ کے روز ہوئی۔ دو شنبہ ہی کو آپ کی بعثت و ہجرت ہوئی اور وصال مبارک بھی دو شنبہ ہی کو ہوا۔ ابو قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں۔ دو شنبہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں ایک شخص نےرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا! اسی دن میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی۔ (صحیح مسلم) بارہ ربیع الاول کو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اس خاکدان عالم میں جلوہ گر ہوئے۔ سیرت نبوی کے سب سے قدیم و مستند تاریخ نگاہ محمد بن اسحٰق یسار (ولادت 85ھ۔ وصال 150ھ) نے یہی دن اور یہی تاریخ لکھی ہے۔ طبری و ابن خلدون جیسے مؤرخین نے بھی یہی لکھا ہے۔ سیرت کی مقبول کتاب الموھب اللدنیہ کے مؤلف علامہ احمد بن محمد قسطلانی (ولادت 851ھ۔ وصال 923ھ) یہی دن اور تاریخ لکھنے کے بعد مسلمانوں کے درمیان رائج ایک مستحسن طریقہ کا ذکر اس طرح کرتے ہیں۔

(ترجمہ) رسول کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت طیبہ کے مہینہ میں اہل اسلام محافل و تقریبات منعقد کرتے رہتے ہیں۔ دعوتوں کا اہتمام اور شب ولادت میں صدقات و خیرات ان کا معمول ہے۔ اظہار فرح و سرور کرتے ہیں۔ خوب نیکیاں کرتے ہیں۔ ولادت طیبہ کے احوال و واقعات پڑھتے پڑھاتے ہیں۔ جس سے ان پر بڑی برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ (المواہب)

حجاز مقدس، یمن، عراق، شام، مصر، لیبیا، ترکی، افغانستان، سمر قند و بخار اور دیگر بلاد اسلامیہ میں قدیم روایات کے طرز پر آج بھی محافل ذکر ولادت کا انعقاد ہوتا ہے۔ جن میں ولادت رسول، فضائل رسول، سیرت رسول، دعوت رسول، کا بیان ہوتا ہے۔ اور مسلمان ذوق و شوق کے ساتھ انھیں سنتے سناتے ہیں۔ اظہار مسرت اور اداء شکر نعمت کے لئے صدقات و خیرات کرتے ہیں۔ اور یہ ساری چیزیں کتاب و سنت کی روشنی میں نہ صرف جائز بلہ محمود و مستحسن ہیں۔ دین میں ان کی اصل اور حکم ہے۔ اور ہر دور کے لحاظ سے اہل اسلام یہ امور خیر انجام دیتے رہتے ہیں۔ جائز حدود کے اندر رہتے ہوئے شکل وہئیت کی تبدیلی سے اصل حکم پر کوئی اثر اور فرق واقع نہیں ہوتا۔

جس حادث و جدید چیز کا سنت و شریعت کے کسی حکم اور کسی اصل سے تصادم ہو اسے اصطلاح شریعت میں بدعت کہا جاتا ہے۔ یہ بدعت کبھی اعتقادی ہوتی ہے اور کبھی عملی ہوتی ہے۔ جیسے خاتمیت نبوت محمدی کے مسلمہ عقیدہ میں تاویل، افضلیت و خلافت ابو بکر و عمر کا انکار، خلق قرآن، اور قدم عالم کا نظریہ، تجسیم و تشبیہ و امکان کذب باری تعالٰی کا اعتقاد، علوم و صفات رسول علیہ السلام کی تنقیص، طریقت کے نام پر احکام شریعت کا استخفاف، غیراللہ کے لئے سجدہ تعظیمی کا جواز، تقریبات میں اسراف و تبذیر، فرائض و واجبات سے غفلت اور مباحات و مندوبات میں انہماک وغیرہ وغیرہ۔

مبادی و معتقدات اسلام نہایت جامع و کامل و مکمل ہیں۔ ان میں کسی ترمیم و تغیر اور حذف و اضافہ کی گنجائش نہیں۔ کتاب و سنت و کتب دینیہ میں اعتقادی و عملی احکام اسلام اجمالاً و تفصیلاً مسطور و مذکور ہیں۔ فقہ اسلامی کے اصول و ضوابط اور مسائل و جزئیات صدیوں پہلے مدون و مرتب ہو چکے ہیں۔ اور سارا عالم اسلام ان سے واقف اور ان پر عامل ہے۔ سنت و شریعت سے انحراف اور ان میں کسی قسم کی آمیزش بدعت ضلالت ہے۔ یہ وہ مسئلہ ہے جس میں اہل حق کا ذرا بھی اختتلاف اور ان کے درمیان کہیں بھی دو رائے نہیں۔ سنت رسول و سنت خلفاء راشدین کی اتباع کا یہی مطلب ہے اور سنت و شریعت کا یہی مطلوب و مقصود ہے۔ جسے ہر لمحہ پیش نظر رکھنا ہر مسلمان کے اوپر لازم ہے۔

عہدرسالت مآب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے بعد جو بھی نئی چیز عالم ظہور میں آئے اس کے صحیح یا غلط ہونے کا معیار یہ ہے کہ سنت و شریعت کی اصل اور ان کے دائرہ میں ہو اور کسی اصل و حکم کے معارض و متصادم نہ ہو تو جائز ہے ورنہ ناجائز ہے۔ بدعات و محدثات امور کے قبول و انکار کا یہی ضابطہ اور معیار علماء اسلام و محدثین کرام سے بتصریح ثابت ہے۔ اسی کے مطابق مسلمانان عالم کا عمل بھی ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں۔ جس چیز کو مسلمان بہتر سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی بہتر ہے۔

بدعت یعنی نئی چیز ناجائز وہی ہے جو سنت و شریعت کے حکم اور کسی اصل کے خلاف ہے۔ قدیم و مستند محدثین و فقہاء و علماء اسلام مثلاً علامہ ابن حجر عسقلانی، علامہ بدرالدین عینی، علامہ قسطلانی، امام نووی شافعی، شیخ عبدالحق محدث دہلوی، علامہ زرقانی، علامہ ابن عابدین شامی وغیرہ ہم نے یہی تحریر فرمایا ہے۔

علامہ جلال الدین سیوطی شافعی حدیث کل بدعۃ ضلالۃ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ (ترجمہ) اس سے ایسی نئی باتیں مراد ہیں جن کی صحت کی شہادت شریعت سے نہ مل سکے۔ (ص234۔ جلد2، حاشیہ سیوطی سنن نسائی)

خود مؤلف نیل الاوطار محمد بن علی شوکانی حضرت امام شافعی کا یہ قول نقل کرتے ہیں۔ (ترجمہ) نئی چیزیں دو طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو کتاب یا سنت یا اثر یا اجماع کے خلاف ہو۔ اور یہی بدعت ضلالت ہے۔ اور دوسری وہ جس کی ایجاد میں کوئی خیر ہو۔ اس کے بارے میں امت کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اور یہ بدعت مذمومہ نہیں ہے۔ (ص33۔ القول المفید)

بہت نئی چیزیں ایجاد مستحسن کے حکم میں ہیں۔ عہد رسالت و عہد رسالت و عہد صدیقی میں باجماعت نماز تراویح کا معمول نہیں تھا۔ عمر فاروق کے دور میں ہوا جسے دیکھ کر آپ نے فرمایا نعمت البدعۃ ھذہ یہ کتنی اچھی بدعت (نئی چیز) ہے۔ حضرت علی مرتضٰی کے حکم سے ابوالاسود دئلی نے عربی گرامر یعنی نحو کے قواعد وضع کئے۔ جس کا جاننا آج عربی و عجمی ہر ایک کے لئے ضروری ہے۔ حجاج بن یوسف ثقفی کے حکم سے قرآن حکیم پر اعراب (زیر، زبر، پیش) لگایا گیا۔ آج اس اعراب کے بغیر قرآن حکیم چھپنے چھپانے کا تصور بھی نہیں ہے۔

ایمان مجمل، ایمان مفصل، چھ کلمے اور ان کی ترتیب، قرآن میں رکوع کی نشاندہی، تیس پاروں میں اس کی طباعت، رحل پر رکھ کر اسے پڑھنا ان چیزوں کا عہدرسالت و عہد صحابہ میں کوئی ذکر بھی نہ تھا۔

احادیث نبوی کی سند، ان پر جرح و تعدیل، صحیح و حسن و ضعیف وغیرہ کی تقسیم، سب نئی چیزیں ہیں۔ اصول حدیث کے قواعد و ضوابط نئے ہیں۔ فقہ اسلامی کے اصول، اس کی تدوین سب نئی چیزیں ہیں۔ اسی طرح قرآن فہمی کے لئے وضع کردہ تفسیر بھی نیا فن ہے۔ یہ وہ چیزیں ہیں جس کا مذہب اور علوم اسلامیہ سے تعلق ہے۔ ان نئے علوم و فنون اور امور دنیاوی کا شمار مشکل ہے جن کے جائز ہونے پر ساری دنیا متفق ہے۔

ایک نئی چئز محفل ولادت نبوی کا انعقاد بھی ہے۔ جس کی اصل ذکررسول ہے۔ اور یہ اصل قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ قدیم و جدید علماء عرب کے علاوہ علماء ہند میں دہلی کے شاہ عبدالحق محدث دہلوی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی، شاہ ابو سعید مجددی دہلوی، شاہ ابوالخیر مجددی دہلوی وغیرہم اور سہار نپور کے حاجی امداد اللہ مہاجرمکی، مولانا فیض الحسن سہارنپوری، مولانا رحمت اللہ کیرانوی، مولانا عبدالسمیع بیدل سہارنپوری، حاجی عابد حسین قادری بانی مدرسہ اسلامی عربی دیوبند، (موجودہ دارلعلوم دیوبند) وغیرہم جس کے جواز و اتحسان کے قائل ہی نہیں بلکہ اس کے عامل بھی رہے ہیں۔ ان حضرات کی تحریرات و تصدیقات اس پر شاہد عدل ہیں۔ لیکن آج محافل میلاد کو بدعت کہا جا رہا ہے۔ اور سہارنپور کے جلوس محمدی کو بزورطاقت روکا جا رہا ہے۔

عہد رسالت و عہد صحابہ میں عصر حاضر جیسی عظیم الشان ومزین مساجد نہیں تھیں، عمارت اور نصاب تعلیم کے ساتھ دارالعلوم نہیں تھے۔ آج جیسے جلسہ و جلوس کا کوئی رواج نہیں تھا۔ سمینار اور کانفرنسیں نہیں ہوتی تھیں۔ مدارس سے تکمیل علوم کے بعد سند نہیں دی جاتی اور دستار بندی بھی نہیں ہوتی تھی۔ مگر ان میں سے کوئی چیز مسلمانوں کی نظر میں معیوب و مذموم نہیں، بدعت کہہ کر انھیں کوئی چھوڑنے کو تیار نہیں۔

1950ء کی دہائی میں جماعت اسلامی پاکستان نے تزک و احتشام کے ساتھ غلاف کعبہ تیار کراکے جلوس کی شکل میں شہر شہر گھمایا اور مکہ مکرمہ بھیجا۔ اخبارات میں خوب چرچا ہوا۔ کچھ لوگوں نے اعتراض کیا کہ یہ تو بدعت ہے۔ مولانا ابوالاعلٰی مودودی نے اس کا تحریری جواب دیا کہ بدعت نہیں ہے اس میں کوئی چیز مزاج شریعت کے خلاف نہیں ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جماعت اہل حدیث کے علماء اپنی مذہبی شناخت کے لئے سلفی اور اثری لکھتے ہیں۔ موجودہ ائمہ حرمین شریفین کے دورہء ہند و پاک کے وقت سلفی علماء پروپیگنڈہ کرکے دور دور سے نمازیوں کو شدر حال کراکے ان کے پیچھے نمازیں پڑھواتے ہیں۔ یہ بھی بدعت نہیں ہے۔ دہلی سے سہارنپور کے مشہور مدارس ختم بخاری کے جلسے کراتے ہیں۔ یہ بھی بدعت نہیں ہے۔ تبلیغی جماعت کے سہ روزہ و چالیس روزہ چلے اور گشت ہوتے ہیں۔ یہ بھی بدعت نہیں ہے۔ نماز عصر کے بعد بالالتزام تبلیغی نصاب و فضائل اعمال کا درس ہوتا ہے۔ یہ بھی بدعت نہیں ہے۔ دیوبند کا صد سالہ جشن منایا جاتا ہے۔ یہ بھی بدعت نہیں ہے۔ ندوہ کا پچاسی سالہ جشن منایا جاتا ہے۔ یہ بھی بدعت نہیں ہے۔

علماء دیوبند سیرۃ النبی کے جلسے اور کانفرنسیں کرتے ہیں۔ یہ بھی بدعت نہیں ہے۔ اپنے علماء پر سمینار کراتے ہیں۔ یہ بھی بدعت نہیں ہے۔ جمعیۃ العلماء ہند کے جلسے اور کانفرنسیں ہوتی ہیں۔ یہ بھی بدعت نہیں ہے۔ بھوپال (انڈیا) رائے ونڈ (پاکستان) ڈھاکہ (بنگلہ دیش) میں سالانہ تبلیغی اجماعات ہوتے ہیں۔ یہ بھی بدعت نہیں ہے۔ جمعیۃ العلماء کی قیادت میں کانپور میں ہر سال جلوس میلادالنبی نکلتا ہے۔ یہ بھی بدعت نہیں ہے۔ مشہور دیوبندی عالم مولانا عبدالعلیم فاروقی کی قیادت میں لکھنئو میں جلوس مدح صحابہ نکلتا ہے۔ یہ بھی بدعت نہیں ہے۔

اگر بدعت ہے تو بارہ ربیع الاول کا جلوس محمدی! کیونکہ اس سے ایک جماعت کی بالادستی اور انا مجروح ہوتی ہے اور میلاد النبی کی محفلیں بھی بدعت ہیں تو صرف اس لئے کہ اس کے مفادات کو ضرب پہنچتی ہے۔ کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا ؟

عید میلاد النبی عالمی تہوار

عید میلاد النبی عالمی تہوار

 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
 
اللہ تعالٰی ہمارا خالق مالک اور معبود حقیقی ہے، وہی ہمارا رب (پالنے والا‘ پروردگار) ہے۔ اس نے اپنی ذات و صفات اور اپنے اسماء و افعال (ناموں اور کاموں) میں کسی کو کسی طرح شریک نہیں کیا۔ ہمارے لئے یہی حکم ہے کہ ہم کسی کو کسی طرح بھی اللہ تعالٰی کا شریک یا اس کی مثل نہ ٹھہرائیں کیونکہ کوئی بھی ذاتی اور حقیقی طور پر خود سے کوئی کمال نہیں رکھتا، نہ ہی کوئی خود سے معرض وجود میں آیا بلکہ یہ تمام کائنات جو کچھ اس میں ہے وہ سب اللہ تعالٰی ہی کا (خلق) پیدا کیا ہوا ہے۔ اللہ نے اپنی مخلوق میں انسان کو عزت اور بزرگی عطا کی اور اسے شرف مخلوقات بنایا‘ اسے عقل و شعور عطا کیا۔ انسانوں میں سب ہر لحاظ سے یکسا نہیں، بعض کو بعض پر فضیلت و مرتبت حاصل ہے۔ اندھا اور نابینا اور جاہل اور عالم، سچا اور جھوٹا برابر نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ پاک اور پلید ہرگز برابر نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ مومن اور کافر برابر نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ محققین کے مطابق کائنات میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالٰی کے اسماء و افعال اور صفات و ذات کے مظاہرے کے طور پر ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ پاک کے نام زیادہ ہیں تو اس کے مظاہر بھی زیادہ ہیں افعال زیادہ ہے تو اس کے مظاہرہ بھی اس قدر ہیں اللہ کریم کی صفات بہت ہیں تو ان کے مظاہر بھی بہت ہیں مگر اللہ تعالٰی کی ذات ایک واحد (حقیقی) ہے تو اس کا مظہر کامل بھی ایک ہے اور وہ اس کا حبیب مقصود کائنات، جان کائنات (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) ہیں، جن کے لئے خود اللہ کریم کا ارشاد ہے کہ اگر اس ہستی کو نہ بناتا تو میں خود کو بھی ظاہر نہ کرتا اور کچھ بھی نہ بناتا۔ یعنی رسول اکرم (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نہ ہوتے تو کچھ بی نہ ہوتا۔ اس ارشاد ربانی سے یہ بات پوری طرح واضح ہوتی ہے کہ تمام کائنات دراصل حضور اکرم (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کا صدقہ و طفیل ہے۔ خود نبی پاک (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ میں اللہ کے نور سے ہوں اور باقی تمام مخلوق میرے نور سے ہے یعنی اگر اللہ کا نور نہ ہوتا، تو میں نہ ہوتا اور میں نہ ہوتا تو کچھ بھی نہ ہوتا۔ ہمارے نبی پاک آپ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی شان خالقیت ہی کی نہیں بلکہ اللہ کی ذات کی بھی سب سے بڑی اور کامل دلیل ہیں اسی لئے قرآن میں انھیں برہان ربی فرمایا گیا ہے۔ اہل علم بخوبی جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دلیل کی عمدگی اور پختگی اور درستی بلاشبہ دعوٰی کی درستی اور پختگی کی ضمانت ہوتی ہے اور دلیل کا نقص دعوٰی کے نقص کو ظاہر و ثابت کرتا ہے یوں ہم سمجھ سکتے ہیں کہ رسول پاک (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کو عطا کیا جانے والا ہر کمال دراصل اللہ تعالٰی کے کمالات کی دلیل و برہان ہے تاکہ دیکھنے سننے والے یہ جان لیں کہ جس کی مخلوق اور عبد مقدس کی یہ شان ہے خود اس رسول کریم (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کا ہر آنے والا لمحہ گزرے ہوئے لمحے سے بہتر ہو گا‘ اسی طرح اللہ پاک کی شان خالقیت کے صحیح اور کامل رسول کریم (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) ہی ہیں جب کے باقی کسی اور کے لئے یہ وعدہ مرکوز نہیں اور عام مخلوق کے لئے “ہر کمالے راز والے“ کی کہاوت مشہور ہے کہ ہر کمال کو زوال ہے یا ہر صاحب کمال کو زوال ہے اور ہمارے لئے یہ تعلیم ہے کہ ہم زوال نعمت سے بچاؤ اور تحفظ کی دعاء کیا کریں۔ ہمارے رسول کریم (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی خلقت تمام جہانوں بلکہ تمام کائنات سے پہلے ہوئی جس کے بارے میں صحیح احادیث مبارکہ کا ذخیرہ ہماری رہنمائی کرتا ہے اور نبی پاک کی ولادت تمام انبیاءکرام کے آخر میں ہوئی ہو وہ خلق کے لحاظ سے اور اول اور بعثت (ظہور) کے لحاظ سے آخر ہیں، رسول کریم (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت محرم یا حرمت والے دیگر مہینوں یا ماہ رمضان میں ہوئی۔ اور نہ ہی مختلف ادیان و اقوام کے نزدیک اہم ہفتے کے دیگر ایام میں ہوئی اس لئے کہ ہمارے نبی پاک (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کو ماہ ایام اور زمان و مکان سے شرف (بزرگی) نہیں ملا بلکہ جس کسی کو جو کوئی شرف اور فضیلت ہے وہ نبی پاک (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی وجہ سے ہے۔ رسول اکرم (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت ماہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو ہوئی۔ مشہور اسکالر مولانا کاثر نیازی اپنی تحریر میں نبی پاک (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت کے بارے میں لکھتے ہیں “اللہ تعالٰی کی طرف سے انسانوں کے لئے نصیحت، ان کے دلوں کے لئے شفاء اور ایمان والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہونے والی مقدس اور متبرک ہستی کو عالم لاہوت سے عالم ناسوت میں شریف آوری کوئی عام یا معمولی واقعہ نہیں بلکہ تاریخ انسانی کا عظیم ترین اور اہم ترین واقعہ ظہور پذیر ہوا وہ جمیع نوع انسانی کے لئے ایک یادگار دن ہے ۔ ۔ ۔ ۔ بہ نظر غائرد دیکھا جائے تو عیدمیلادالنبی (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) ہی تمام عیدوں کا مبداء ہے۔ آں حضور کا ظہور پرنور ہوا تو خلق خدا کو خدائے تبارک وتعالٰی کی ہستی کا شعور حاصل ہوا۔ توحید کا ادارک اور وحدانیت کا اقرار احکام خداوندی کی تعلیم عبادات کی تفہیم سب آں حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی ذات مقدس کی مرہون منت ہیں۔ رمضان شریف کی فضیلتیں آں حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی وجہ سے ہم پر ظاہر ہوئیں اور انہی فضیلتوں سے متمتع ہونے کے بعد ہم عیدالفطر کی مسرتوں کے مستحق ہوئے اسی طرح آں حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے ہی ہمیں حج اور قربانی کے طریقے سکھائے جو کی بناء پر ہمیں عیدالاضحٰی کی خوشیاں نصیب ہوئیں‘ پس یوم مبارک عیدین سعیدین کی تقریبات کا مبداء ہے وہ تو کہیں زیادہ مسرت و ابتہاج کا دن ہے اور وہ ہی تو ایسا دن ہے جسے ہم سب سے بڑی عید کا دن کہہ سکتے ہیں“ مولانا کی اس واضح اور بصیرت افروز تحریر میں یہ بھی ہے کہ “پس اگر ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ انعامات خداوندی کے نزول پر شکر واجب ہے تو یقیناً ان نعمتوں کو ہم تک پہچانے والے کی آمد پر بھی شکر لازم ہے بالخصوص اس وجہ سے کہ ان نعمتوں کا پہنچانے والا محض ایک قاصد یا پیام رساں نہیں بلکہ خود بھی مجسم رحمت ہے اور مجسم رحمت ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے لئے سب سے بڑی نعمت ہے ۔ ۔ ۔ ۔ لٰہذا اس افضل ترین نوع بشر کے یوم ولادت پر اظہار مسرت کرنا اور آں حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی مدح و توصیف بیان کرنا یقیناً ایک نہایت مستحسن عمل ہے۔“ رسول کریم (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کا یوم ولادت “پیر“ ہے اور ماہ ولادت “ربیع الاول“ ہے۔ شمسی و عیسوی تقویم کے حساب سے قطعی و یقینی طور پر کوئی تاریخ اب تک بیان نہیں کی گئی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہجری تقدیم ہی اسلام اور مسلمان میں رائج ہے عہد رسالت میں بھی اسی کو اختیار کیا گیا اور اسے قانونی اور سرکاری طور پر حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے عہد خلافت میں نافذالعمل قرار دیا گیا۔ اسلامی ممالک میں ہجری تقویم کے مطابق اسلامی تہوار منائے جاتے ہیں کیونکہ وہ تمام تہوار اسی تقویم سے وابستہ ہیں لیکن ہمارے نبی پاک (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت اس تقویم سے قیام و نفاذ سے پہلے کا واقعہ ہے اور رسول پاک (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) تمام جہانوں کے لئے رسول اور مجسم رحمت بن کر تشریف لائے اس لئے ان کا یوم میلاد ہر تقویم کے مطابق بھی اہم سمجھا جانا چاہئیے اور جس رسول کے بعثت عالم گیر و جہان گیر ہے اس کی آمد کا دن ہر زمان و مکان اور ملک و قوم کے لئے یادگار اور اہم ہے۔ جن ممالک میں ہجری تقویم مروج نہیں حالاں کہ وہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد مقیم ہے وہاں عیدمیلادالنبی (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی اہمیت اور عظمت مسلملہ ہے اور ان علاقوں میں کوئی ایک متفقہ تاریخ ضرور ایسی ہونی چاہئیے جو طے شدہ اور موجودہ دور تاریخ شمسی و عیسوی تقویم ہی حساب سے ہو سکتی ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول ہیں‘ اسلامی تاریخ کے مطابق ان کی ولادت دس محرم یعنی عاشورہ کو ہوئی لیکن دنیا بھر میں 25دسمبر کی تاریخ تحقیق سے ثابت نہ ہونے کے باوجود تمام ملکوں اور قوموں میں رائج ہے اور سبھی جانتے ہیں کہ کرسمس کا تہوار حضرت عیسٰی علیہ السلام کے یوم ولادت کے حوالے سے منایا جاتا ہے۔ جانے کیوں یہ گمان ہوتا ہے کہ نبیوں کے سرادر امام اور انسان کامل رسول پاک (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی تاریخ ولادت شمسی و عیسوی تقویم کے حساب سے طے کئے جانے میں نصارٰی و غیر مسلم ہی رکاوٹ ہیں شاید وہ نہیں چاہتے کہ مسلمانوں کا کوئی ایسا تہوار بھی ہو جسے دنیا بھر میں ایک ہی تاریخ اور دن میں یادگار بنا کر مسلمان اپنی وحدت اور اجتماعیت کا اظہار کر سکیں، انھیں یہ خدشہ و اندیشہ بھی ہو گا کہ یوں کرسمس کا تہوار اپنی شہرت و حیثیت قائم نہیں رکھ سکے گا۔ امریکا، افریکا اور یورپ وغیرہ میں صنعت کار تاجر اور احکام اپنے ملازمین اور وابستگان کو انعامات و تحائف وغیرہ کرسمس ہی کے موقع پر دیتے ہیں، یوں وہ اپنے مذہب کی تبلیغ بھی کرتے ہیں اور لوگوں کو تالیف قلبی بھی کرتے ہیں اور ان ممالک میں مقیم مقامی و مہاجر مسلمان بھی اسی طرز و طریق کو اپنائے ہوئے ہیں اور ایسے ممالک میں بسنے والے اکثر مسلمانوں کو جہری تقویم کا چند ایام کے سوا نہ علم ہوتا ہے اور نہ انھیں جستجو ہوتی ہے کہ وہ جہری تقویم سے بخوبی آگاہ ہوں۔ بارہ ربیع الاول کو جشن عیدمیلادالنبی (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) قوی سطح پر صرف اسلامی ممالک میں مقیم یا چند دوسرے ممالک میں منایا جاتا ہے۔ مصر، عراق، ایران، اردن، سوڈان، عرب امارات وغیرہ میں سرکاری طور پر بڑے اہتمام سے منایا جاتا ہے قومی عام تعطیل ہوتی ہے، مگر یورپ امریکا اور افریکا وغیرہ میں وہاں چھوٹی بستیوں میں مقیم اور مختلف ملازمت پیشہ مسلمان جہری تقویم کی ہر سال موسم و ایام میں تبدیلی کے باعث سرکاری مجبوریوں کی وجہ سے نہیں مناتے البتہ جہاں کئی بھی کوشش کی گئی ہے کسی قدر اہتمام ہوا ہے اور مسلم تنظیمیں بساط بھر کوشش کر رہی ہیں جب کہ یہ وہ عظیم اور اسلامی تہوار ہے جسے تمام مسلمانوں کو اپنی اجتماعیت کے ساتھ بھرپور طریقے سے منانا چاہئے اور اس موقع پر دین مصطفٰی (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کے پیغام کو عام کرنا اور پھیلانا چاہئیے۔ اسلامی ممالک میں ربیع الاول کے علاوہ اگر شمسی حساب سے بھی اس دن کو منایا جائے تو دنیا بھر میں وہ دن اہم اور یادگار ہو جائے گا۔ پاکستان میں جو کہ اسلامی جمہوریہ کہلاتا ہے، فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے دور حکومت میں یوم میلاد کی مختصر سی سرکاری تقریب ہوا کرتی تھی، اس کا بڑے پیمانے پر سرکاری اہتمام “ورزات مذہبی امور“ کے قیام کے بعد ہوا۔ اس سرکاری تقریب کے انعقاد و اہتمام کے لئے ایک قومی کمیٹی تشکیل دی گئی جس کا نام “قومی سیرت کمیٹی“ رکھا گیا، مولانا کوثر نیازی اس کے سربراہ ہوئے کیونکہ وہی اس وزارت کا قلم دان بھی رکھتے تھے۔ حضرت مولانا شار عارف اللہ قادری، خطیب اعظم حضرت مولانا شفیع اوکاڑوی اور احتشام تھانوی بھی اس کمیٹی کے بنیادی ارکان میں شامل تھے۔ عیدمیلادالنبی (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) منانے کے لئے کمیٹی کا نام “عیدمیلاد کمیٹی“ ہونا چاہئیے تھا، کیونکہ میلاد منایا جاتا ہے اور سیرت اپنائی جاتی ہے لیکن نہیں معلوم کہ اہل علم نے اس نام پر توجہ کیوں نہیں دی ؟ اس سرکاری کمیٹی نے بھی ایسی تحقیق پر توجہ نہیں دی کہ شمس تقویم کو ہی کافی سمجھا گیا لیکن یہ خیال نہیں کیا گیا کہ اس طرح یہ دن صرف اہل ایمان ہی کے لئے یادگار رہے گا اور وہی اس سے واقف رہیں گے۔ یہ گمان ہرگز نہ کیا جائے کہ بارہ ربیع الاول کو عیدمیلادالنبی (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) منانے کا سلسلہ روکنے یا ختم کرنے کا کوئی وہم یا خیال ہے ایسی سوچ بھی غلط اور ناممکن ہے تجویز صرف یہ ہے کہ جہاں جہاں ہجری تقویم رائج نہیں وہاں ارو ہر جگہ ایک متفقہ تاریخ ایسی بھی ہو جس میں سب شامل و شریک ہو سکیں اور وہ تاریخ فرضی یا مجوزہ نہ ہو بلکہ تحقیق کے مطابق قطعی اور یقینی ہو، اور اس سے آگہی کوئی بہت مشکل نہیں، شبلی نعمانی نے 20اپریل 571ء اور قاضی سلیمان منصور پوری نے 22اپریل 571ء بتائی ہے جب کہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ نے ڈاکٹر محمد حمیداللہ کی تحقیق کے مطابق 17 اپریل جون 569ء درج کی ہے اس کے علاوہ بعض سیرت نگاروں نے اگست بتایا۔ جامعہ ازہر کے کلیہ اصول کے سربراہ محمد ابراہیم عرجون نے 20 اگست 570ء اور علامہ محمد رضا مصری نے بھی یہی تاریخ لکھیں۔ اعلٰی حضرت مولانا شاہ احمدرضا بریلوی نے ماہ اپریل ہی کی تائید کی ہے، جدید سہولتوں اور آلات کی مدد سے صحیح تاریخ کی تحقیق یقیناً دشوار کام نہیں، اس شعبے میں ماہرین یہ کام سرانجام دینے پر مامور کیے جائیں تو وہ ضرور حقائق واضح کر دیں گے۔ احادیث نبوی سے یہ ثابت ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت کا دن (پیر دوشنبہ) ہے اور مستند و معتبر ہستیاں بارہ ربیع الاول پر متفق ہیں کچھ لوگ تاریخ ولادت پر اختلاف کو یوں بھی بڑھاتے ہیں کہ شاید وہ اس بہانے اہل ایمان جشن ولادت منانے سے روک سکیں۔ مگر ایسا ہونا نہ ممکن ہے قرآن و حدیث سے نعمت کے حصول پر اظہار کا حکم اور جواز ثابت ہے اور قرآن میں نبی کریم کی ولادت پر سلام کا واضح بیان ہے۔ نزول مائدہ کے دن کا عید ہونا قرآن سے ثابت ہے پھر جان کائنات کی آمد سے بڑھ کر کیا خوشی اور ان کی ذات سے بڑھ کر کیا نعمت ہو سکتی ہے ؟ حدیث کی مشہور کتاب ترمذی شریف میں پورا باب “عید میلاد النبی“ کے عنوان سے موجود ہے اور اس موضوع پر اکابر اہل علم کا تحقیقی سرمایہ کتابوں میں محفوظ ہے جس کے بعد کسی تردود کی گنجائش نہیں رہتی اور احادیث سے ثابت ہے کہ اپنے حبیب (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کا میلاد خود اللہ نے منایا۔ مسلم شریف حدیث کی نہایت اہم کتاب ہے اس میں روایت موجود ہے کہ بارہ ربیع الاول کو جب رسول اللہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) مکہ مکرمہ سے مدینے منورہ پہنچے تو اصحاب نبوی اور اہل مدینہ نے آمد مصطفٰی (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کا جسن منایا، پر چم لہرائے، یارسول اللہ یارسول اللہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کے نعرے لگائے اور خوشی میں جلوس نکالا، دف بجا کر بچیوں نے خوشی کے نغمے گائے اسی کی یاد میں ہر سال اہل ایمان آمد رسول کی یاد میں جلوس نکالتے ہیں۔ یہ جلوس اب برطانیہ امریکا اور افریکا کے ملکوں میں بھی نکالا جانے لگا ہے۔ رسول پاک کی والدہ محترمہ سیدہ آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے بیان کے مطابق ولادت رسول کے وقت فرشتوں نے پرچم لہرائے، ستارے مکان ولادت کی چھت پر سمٹ گئے اور فرشتوں اور حوروں نے فضا میں کھڑے ہو کر سلام کی صدائیں بلند کیں۔ فرشتے وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انھیں حکم دیا جاتا ہے۔ یوں ثابت ہوا کہ میلادشریف کے موقع پر چراغاں کرنا، پرچم لہرانا اور دورد و سلام کے زم زمے بلند کرنا اللہ تعالٰی کی سنت ہیں اس بیان کے ساتھ یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ بعض کتابوں میں یہ درج ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی اس دنیا میں رحلت کی تاریخ بھی بارہ ربیع الاول ہے یوں کچھ لوگ یہ تاثر عام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تاریخ وفات میں جشن منانا کوئی اچھا کام نہیں ہے۔ یقیناً یہ شرارت بھی غیر مسلموں کی ہے تاکہ مسلمان آپس میں الجھتے رہیں علاوہ ازیں یہود و نصارٰی بھی یہی دیکھتے ہیں کہ عیدمیلادالنبی (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کا جشن مناتے ہوئے مسلمان اپنی ایمانی عقیدت و محبت اور جوش و جذبے کا والہانہ اظہار کرتے ہیں وہ کسی اور تہوار میں دیکھنے سننے میں نہیں آتا وہ کب گوارہ کر سکتے ہیں کہ مسلمان کا ایمان جوش و جذبہ بڑھے اسی لئے وہ اپنے آلہ کار افراد کے ذریعے مسلمانوں میں باہمی اور رنجشوں میں الجھاتے ہیں۔ اس بارے میں مستند اور معتبر کتابوں سے تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کی تاریخ بارہ ربیع الاول ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ تاریخ وصال (2) ربیع الاول ہے محقیقین کا کہنا ہے کہ تحریر میں کسی ہندسے کو لکھنے کے بعد اسے باقی الفاظ یا اعداد سے جدا ظاہر کرنے کے لئے علامت کے طور پر ترچھا نشان لگایا جاتا ہے اسے کتابت یا کاتب کی غلطی سے ہندسی شمار کرکے 2 کو 12 پڑھ لیا گیا ورنہ گیارہ ہجری میں بارہ ربیع الاول کی تاریخ پیر کے دن کسی حساب سے بھی نہیں آتی اور احادیث سے ثابت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کا وصال پیر کے دن ہوا۔ علامہ شبلی نعمانی اور سلیمان ندوی نے بھی بہت ذمہ داری کے ساتھ اس تحقیق کو اپنی کتاب “سیرۃ النبی“ میں تحریر کیا۔ جناب اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں‘ اور تاریخ کی تحقیق نہیں ہوئی اور بارھویں (تاریخ) جو مشہور ہے وہ حساب درست نہیں ہوتا کیوں کہ اس سال ذی الحجہ کی نویں (تاریخ) جمعہ کو تھی اور یوم وصال دو شنبہ (پیر) ثابت ہے پس جمعہ کی نویں ذی الحجہ ہو کر بارہ ربیع الاول دو شنبہ کو کسی طرح نہیں ہو سکتی۔ (نشرالطیب، ص302، مطبوعہ انڈیا) وہ مذید لکھتے ہیں : “حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی تاریخ وصال ربیع الاول کی بارہ غلط مشہور ہے۔ نوین تاریخ کو حضور نے حج کیا اور وہ جمعہ کا دن تھا اور اسی سال وصال ہوا، اور دوشنبہ کوئی۔ یہ مقدمات سب متواتر اور قطعی ہیں اب اس کے بعد کوئی حساب ایسا نہیں ہو سکتا جس سے دو شنبہ کو بارہ ربیع الاول ہو، خدا معلوم یہ کہاں سے ہو گیا۔“ (افاضات یومیہ، ص210 حصہ ششم) جناب ابوالکلام سے مقالات “رسول رحمت“ میں بہت وثوق سے لکھا ہے کہ بارہ ربیع الاول 11 ہجری میں تاریخ وصال ہرگز بارہ نہیں۔ البدایہ والنہایہ کو بہت معتبر اور مستند کتاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی جلد دوم صفحہ 340 میں اور طنقات ابن سعد جلد دوم صفحہ 316 میں، علاوہ ازیں سیرۃ حلبیہ، وفاء الوفاء، روض الانف اور تاریخ الاسلام (ذہبی) میں بھی صراحت ہے کہ تاریخ وصال بارہ ربیع الاول نہیں ہے اور تفسیر مظہری جلد دوم کے صفحہ 110 میں بھی ہے کہ دو (2) ربیع الاول تاریخ وصال ہے بارہ نہیں۔ تابعین کے سرگروہ ابن شہات زہری، سلیمان بن طرخان اور سعد بن ابراہیم زہری جیسے افراد نے رسول کریم (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی وصال کی تاریخ دو (2) ربیع الاول بتائی ہے۔ اصحاب نبوی ہی سے تابعین نے علم حاصل کیا اور محفوظ کیا، ان کے بعد کسی غیر ثقہ شخص یا مؤرخ کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ اہل علم نے یہ بھی جواب دیا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے میلاد و وصال کا دن جمعہ ہے مگر شریعت میں تین دن سے زیادہ سوگ وفات کا نہیں ہے اور میلاد آدم کی خوشی میں جمعہ کا دن اہل ایمان کے لئے عید کا دن بتایا گیا، ہر ہفتے میں جمعہ کے دن اہل ایمان میلاد آدم کی خوشی میں عید مناتے ہیں اور کسی کو یہ گمان بھی نہیں گزرتا کہ یہی دن ان کے وصال کا بھی ہے اس لئے اس دن میلاد آدم خوشی منانا اچھا کام نہیں! جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ غیر مسلم اور دشمن عناصر ہرگز نہیں چاہتے کہ مسلمان شان و شوکت سے اپنے پیارے نبی (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کا میلاد منا کر اپنی ایمانی اخوت اور ملی خدمات کو اجاگر کریں اس لئے وہ بے بنیاد اور غیر حقیقی باتیں مسلمانوں کو لڑوانے اور اسلام تہواروں و تقریبات منانے سے روکنے کے لئے پھیلاتے ہیں۔ یہ حیققت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی آمد بلا شبہ اللہ کا احسان عظیم ہے اس احسان پر جس قدر ہدیہ تشکر پیش کیا جائے کم ہے اور کرم کی انتہا ہے کہ جو رحمت عالم (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم کرتا ہے اس سے والہانہ محبت کرتا ہے ان کی فرماں برداری اور پیروی کرتا ہے اس کی آمد کی خوشی مناتا ہے وہ نہ صرف دونوں جہان میں فوز فلاح، راحت و رحمت اور خیر و برکت پاتا ہے بلکہ خود کو اپنے محبوب کریم کا مقرب و محبوب بنا لیتا ہے۔ جشن میلاد منانا وہ سعادت ہے جو رضائے رب سے مشرف کرتی ہے، یہ سلسلہ ازل سے جاری ہے، تاابد جاری رہے گا۔

صدائیں درودوں کی آتی رہیں گے
جنھیں سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
خدا ہل ایمان کو آباد رکھے
محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کا میلاد ہوتا رہے گا

عاشقوں کی عید

عاشقوں کی عید

از: علامہ محمد اکمل عطاری قادری مدظلہ العالی
 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
 
اس مدنی رسالے میں دعوت اسلامی کے مروجہ طریقے کے عین مطابق عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے کا عقلی و نقلی دلائل کے ساتھ دلچسپ انداز میں ثبوت پیش کیا گیا ہے۔

عاشقو ! خوشیاں مناؤ آمد محبوب ہے
صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم

عاشقو ! خوشیاں مناؤ آمد محبوب ہے
صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم
راستہ دل کو بناؤ آمد محبوب ہے
صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم

آرہے ہیں باعث تخلیق عالم مومنو !
پلکیں راہوں میں بچھاؤ آمد محبوب ہے
صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم

سنّت رَبُ العُلٰی ہے جشن میلاد النبی
چپّے چپّے کو سجاؤ آمد محبوب ہے
صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم

نعمتیں کونین کی ہیں جس کا صدقہ بالیقیں
اس نبی کے گیت گاؤ آمد محبوب ہے
صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم

لینے آغوش کرم میں رَب کی رحمت چھا گئی
عاصیو! اب جھوم جاؤ آمد محبوب ہے
صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم

یاد آقا میں بہا کر دل سے اشک بے بہا
نار ، دوزخ کی بجھاؤ آمد محبوب ہے
صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم

خوش دلی سے خرچ کر کے مال و دولت چاہ میں
اپنی قسمت کو جگاؤ آمد محبوب ہے
صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم

محفلیں ذکر نبی کی جا بجا کر کے عطا
رابطہ حق سے ملاؤ آمد محبوب ہے
صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم ۔

( علامہ محمد اکمل عطار قادری عطاری )

 پہلے اسے پڑھئے !

پیارے اسلامی بھائیو !

عقل مند سائل یقیناً اسے ہی کہا جائے گا کہ جو سخی کا دریائے کرم جوش میں دیکھ کر دست سوال دراز کرنے میں دیر نہ کرے ، کیونکہ ایسے موقع پر کریم کی بارگاہ سے ان انعامات کی بارش ہوتی ہے کہ جن کا عام حالات میں انسان تصور بھی نہیں کر سکتا ۔

عاشقوں کی عید یعنی عید میلاد النبی صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم بھی ایسا ہی با برکت اور پر نور موقع ہے ، کہ جس کی آمد کی بناء پر تمام سخیوں کو سخاوت کی خیرات تقسیم فرمانے والے ربِ سرکار عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا دریائے سخاوت انتہائی جوش پر ہوتا ہے ، پس عقل مند و موقع شناس طالب کرم کو چاہئیے کہ جشن ولادت کا اہتمام کرنے کے ذریعے ‘‘ اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں دست سوال دراز کرنے اور بارگاہ الہٰی عزوجل سے دنیوی اور اخروی نعمتوں اور حتمی فلاح و کامرانی کا مستحق بننے میں دیر نہ کرے اور اس سعادت عظمٰی کے حصول میں رکاوٹ بننے والے شیطانی وسوسوں کو دل میں جگہ بھی نہ دے کیونکہ جہاں اس مبارک ترین موقع پر اللہ تعالٰی کی رحمت کرم نوازی کے بہانے تلاش کر رہی ہوتی ہے وہیں شیطان بھی اپنے ‘‘ رفقاء‘‘ سمیت ، امّت سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو اس نعمت سے مکمل طور پر فیض یاب ہونے سے محروم و نامراد کرنے کیلئے مصروف عمل ہوتا ہے۔

الحمدللہ! “ سگ عطار “ نے بھی دلچسپ انداز میں بزرگان دین کی اتباع میں، اللہ تعالٰی کی رحمت کے حصول اور بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں سرخروئی، امید شفاعت اور سادہ لوح اسلامی بھائیوں اور بہنوں کو شیطانی دسترس سے محفوظ رکھنے کیلئے چند سطریں تحریر کرنے کی سعادت حاصل کی ہے امید واثق ہے کہ اس انداز دلچسپ کو نگاہ پسندیدگی سے دیکھا جائے گا “ اس رسالے کی تکمیل صرف بزرگوں کا فیض ہے، ہاں اس میں موجود اغلاط سگ عطار کا کارنامہ ہے۔“

اس رسالے میں موجود کرادر ایک اعتبار سے حقیقت اور ایک حیثیت سے فرضی ہیں، بہرحال مقصود کا حاصل ہو جانا دونوں صورتوں میں سے کسی کو بھی تسلیم کرلینے پر، اللہ تعالٰی کی عطا سے متوقع ہے اس رسالے میں بارھویں شریف کے متعلق وسوسوں کا نہ صرف جواب دیا گیا بلکہ عید میلادالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم منانے کا طریقہ، اس کی فضیلت، رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے فضائل و کمالات و معجزات اور آپ کی ولادت و رضاعت کے واقعات کو بھی مستند کتب تاریخ سے نقل کرنے کا شرف حاصل کیا گیا ہے۔

اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ اس کوشش مختصر کو اپنی بارگاہ بےکس پناہ میں قبول و منظور فرمائے اور اسے امیر اہلسنت امیر دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوالبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ اور قبلہ سید عبدالقادر “ باپو شریف “ مدظلہ العالی سمیت تمام اہلسنت اور مشائخ عظام رضی اللہ تعالٰی عنہم کیلئے خصوصاً اور عوام اہلسنت کیلئے عموماً بلندیء درجات کا سبب بنائے۔

آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
(ترجمہ): اے اللہ عزوجل قبول فرما لے ( یہ دعا ) امانت دار نبی کی عظمت اور بزرگی کے وسیلے سے ان پر اللہ تعالٰی، رحمت اور سلامی نازل فرمائے)

طالب مدینہ و بقیع و مغفرت
محمد اکمل عطار قادری عطاری
3 صفرالمظفر 1420ھ

ایک نوجوان نماز فجر باجماعت ادا کرنے کے بعد سر جھکائے، نگاہیں نیچی کئے، انتہائی عقیدت و محبت کے ساتھ اپنے محسن اعظم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں درود و سلام کے نذرانے پیش کرتا ہوا، چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ہوا، مسجد سے گھر کی جانب رواں دواں تھا، ایک دینی ماحول سے وابستگی سے اللہ تعالٰی کی رحمت نے اسے مکمل طور پر اپنی آغوش میں لیا ہوا تھا، چنانچہ اس کے سر پر عمامہ شریف اور زلفیں، چہرے پر داڑھی شریف، بدن پر سفید لباس، سینے پر بائیں جانب جیب میں نمایاں طور پر مسواک شریف اور چہرے پر “ عبادت پر استقامت اور گناہوں سے مکمل طور پر پرہیز کی برکت سے “ نورانیت کی جلوہ گری تھی۔ اس سنتوں کے چلتے پھرتے نمونے پر نظر پڑتے ہی جاں نثاران مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم یعنی صحابہءکرام علیہم الرضوان کی “ اتباع سنت میں دیوانگی کی یاد “ تازہ ہو رہی تھی جب یہ متقی و باعمل نوجوان ایک باغ کے پاس سے گزرا تو باغ میں موجود پانچ چھ فیشن ایبل نوجوانوں کی نگاہ اس پڑ گئی اس شرم و حیاء کے پیکر کو دیکھ کر انھیں دل میں عجب سکون و اطمینان اترتا ہوا محسوس ہوا، گناہوں بھری زندگی پر ندامت محسوس ہونے لگی اور اللہ تعالٰی کے “ اس نوجوان کو اپنے انعامات کے لئے منتخب کر لینے پر “ رشک آنے لگا ان میں سے ایک نے اپنے دوستوں سے کہا “ یار دیکھو! اس کے چہرے پر کتنا نور ہے، داڑھی اس کے چہرے پر کتنی پیاری لگ رہی ہے۔“ دوسرا بولا “ ہاں واقعی بہت نورانی چہرہ ہے، بس یار یہ سب اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی فرمانبرداری کا انعام ہے، ہماری طرح تھوڑا ہے کہ سارا سارا دن الٹے سیدھے کام کرتے پھرتے ہیں۔ “ اس کے خاموش ہونے پر تیسرا بولا “ یار! اگر تم پسند کرو تو اس سے بارہ وفات ( پنجاب سائیڈ پر بارھویں شریف کے لئے عوام الناس میں اکثر یہی اصطلاح معروف ہے ) کے بارے میں کچھ پوچھیں، کل ہم سوچ ہی رہے تھے کہ کسی دیندار آدمی سے اس کے بارے میں کچھ پوچھیں گے۔ “ سب نے اس کی رائے پر رضا مندی کا اظہار کیا، چنانچہ ایک بولا “ ہاں یہ بالکل ٹھیک ہے ویسے بھی آج چھٹی کا دن ہے، اپنے پاس ٹائم بھی کافی ہے، اس سے معلوم کرتے ہیں اگر یہ کچھ وقت دے دے تو مزہ آ جائے۔“ یہ طے کرنے کے بعد وہ سب اس نوجوان کے قریب پہنچ گئے ان میں سے ایک نے جھجکتے ہوئے کہا “ بھائی صاحب! ہمیں آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔“ نوجوان نے آواز سن کر پلٹ کر ان کی جانب اپنی سرمگیں آنکھیں اٹھائیں، ان پر نگاہ پڑتے ہی اس کا دل غم کے گہرے سمندر میں غوطے کھانے لگا، اسے “ امت کے غم میں رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے رونے، راتوں کو جاگ جاگ کر اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں امت کے گناہگاروں کے لئے مغفرت کا سوال کرنے اور اس کے جواب میں امت کا بےمروتی اور احسان فراموشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس معصوم و غمخوار آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں نے منہ موڑ کر، ان کے دشمنوں کے طریقے اپنانے نے تڑپا دیا بہرحال اس نے دل کو سنبھالتے ہوئے اور سنت کے مطابق گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے، سب سے پہلے انھیں سلام کیا۔ سلام سنتے ہی وہ نوجوان شرمندہ ہو گئے، جھینپتے ہوئے فوراً جواب دیا، نوجوان نگاہیں نیچی کئے ملائمت سے گویا ہوا،

“ پیارے اسلامی بھائیو! الحمدللہ عزوجل، ہم مسلمان ہیں اور اللہ تعالٰی کے سب سے محبوب ترین نبی ( علیہ الصوٰۃ و السلام ) کی امت میں پیدا کئے گئے ہیں، چنانچہ ہمیں اپنی گفتگو کا آغاز بھی اپنے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور اسلامی طریقے کے مطابق کرنا چاہئیے۔ حضور پرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے “ سلام بات چیت کرنے سے پہلے ہے “ (ترمذی) وہ “ اصل میں ہمیں خیال نہ رہا تھا، آئیندہ ضرور خیال رکھیں گے “ ایک نوجوان نے مذید شرمندگی محسوس کرتے ہوئے جلدی سے کہا۔ “ چلیں آئندہ ضرور خیال رکھئے گا، انشاءاللہ عزوجل برکت ہوگی حکم فرمائیے میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں ؟“ نوجوان نے عذر قبول کرتے ہوئے حسب سابق شفقت سے کہا۔ ان میں سے ایک، سب کی طرف سے نمائندگی کرتے ہوئے بولا، “ وہ کل ہم سب بارہ وفات کے بارے میں آپس میں بحث کر رہے تھے اور اس کے متعلق بےشمار سوالات ہمارے ذہنوں میں موجود ہیں ہم چاہ رہے تھے کہ آپ ہمیں کچھ وقت دے کر اس کے بارے میں تفصیل سے بتائیں اور ہمارے سوالوں کے جواب دے کر ہمیں مطمئن کر دیں تو بہت مہربانی ہوگی، ویسے بھی آج چھٹی کا دن ہے، آپ کے پاس بھی کچھ نہ کچھ وقت ضرور ہو گا۔ “ ان کی درخواست سن کر، نوجوان کو دینی ماحول سے وابستہ رہتے ہوئے طویل عرصے تک سنتوں کی خدمت کرنے کے باعث، یہ نتیجہ اخذ کرنے میں دیر نہ لگی کہ ان نوجوانوں کا تعلق مسلمانوں کے اس گروہ سے ہے کہ جو گھروں میں دینی ماحول نہ ہونے کی بناء پر علوم دینیہ سے محروم رہتے ہیں اور پھر اس پیاس کو بجھانے کیلئے بعض اوقات ان لوگوں کے ہاتھ چڑھ جاتے ہیں کہ جن کا کام ہی یہ ہے کہ بھرپور کوشش کرکے کسی بھی طرح مسلمانوں کے دل سے عظمت مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نکال کر انھیں ذات نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اور دیگر بزرگان دین پر تنقید کا عادی بنا دیا جائے بلکہ ان کی سوچ کو اتنا ناپاک کر دیا جائے کہ وہ جب بھی اپنے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس پر غور کریں تو صرف اور صرف کوئی عیب یا کمی ڈھونڈنے کیلئے۔“ یہ خیال آتے ہی اس نے تہیہ کر لیا کہ انشاءاللہ عزوجل جتنا بھی ممکن ہو سکا وسوسوں کی کاٹ کرکے ان کے دلوں میں اپنے پیارے پیارے مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی عظمت اور بارھویں شریف کی محبت ہمیشہ ہمیشہ کیلئے راسخ کرنے کی کوشش کروں گا۔“ چنانچہ اس نے جواب دیتے ہوئے کہا،

“ پیارے اسلامی بھائیو! ویسے تو میری مصروفیات بہت زیادہ ہیں اور علمی دولت کی کثرت کا دعوٰی بھی نہیں کرتا، لیکن آپ کے جذبے کے پیش نظر کچھ نہ کچھ وقت ضرور نکالوں گا اور جتنا بھی ممکن ہو سکا آپ کے سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کروں گا، بہتر ہے کہ کہیں بیٹھ جائیں تاکہ اطمینان سے گفتگو ہو سکے “ وہ نوجوان مرضی کے عین مطابق نتیجہ نکلنے پر بہت خوش ہوئے بولے “ اندر باغ میں بیٹھتے ہیں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میں گفتگو کرنے کا بہت لطف آئے گا “ مشورے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے سب ایک درخت کے نیچے پہنچے اور پھر تمام نوجوان، باعمل نوجوان سے کچھ فاصلہ پر حلقے کی شکل میں بیٹھ گئے “ میرے خیال میں گفتگو شروع کرنے سے پہلے آپس میں تعارف نہ کروا لیا جائے ؟“ ان میں سے ایک نوجوان بولا “ ہاں کیوں نہیں، سب سے پہلے میں ہی اپنا تعارف کرواتا ہوں، میرا نام احمدرضا ہے اور حال ہی میں، میں نے کیمیکل انجینئرنگ میں ڈپلومہ کیا ہے۔“ باعمل نوجوان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ نوجوان یہ سن کر بہت حیران ہوئے، ان میں سے ایک گویا ہوا “ کیا آپ نے بھی دنیاوی تعلیم حاصل کی ہے ؟“

احمد رضا: جی ہاں، لیکن آپ یہ سن کر اتنے حیران کیوں ہو گئے ؟

نوجوان: اس لئے کہ ہمارا تو خیال تھا کہ جتنے بھی داڑھی عمامے والے ہوتے ہیں، سب کے سب دنیا سے بالکل الگ تھلگ رہتے ہیں، دنیاوی تعلیم سے نہ صرف نفرت رکھتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس کے حاصل کرنے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں، صرف اور صرف دینی کتابیں ہی پڑھتے ہیں۔

احمدرضا: نہیں یہ بالکل غلط خیال ہے اور دین داروں سے بدظن اور دور رکھنے کیلئے شیطان کی طرف سے مشہور کی ہوئی بات ہے کیونکہ نہ تو دین اسلام ہمیں اس سے منع فرماتا ہے اور نہ کوئی مدنی ماحول اس کا مخالف ہے ہاں اتنا ضرور ہے کہ یہ علوم، شریعت کے دائرے میں رہ کر سیکھے جائیں اور نیت کو اچھا رکھا جائے اور ان کی وجہ سے دین اسلام کی پاکیزہ تعلیم کو حقیر و معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے۔ چنانچہ ہم بھی دنیاوی علوم پڑھتے ہیں، لیکن ساتھ ساتھ دین اسلام سے متعلق ضروری معلومات حاصل کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔

نوجوان: واہ، یہ تو بہت اچھی بات ہے، اچھا ہوا کہ آج آپ سے ملاقات کی برکت سے یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا اچھا اب میں اپنا اور باقی دوستوں کا تعارف بھی کرادوں، میرا نام جاوید ہے، سب سے پہلے ٹونی ہے، پھر جانی ہے، پھر پرویز ہے، یہ شان ہے اور آخر میں ساگر ہے یہ نام سن کر احمدرضا کے چہرے پر افسردگی کے آثار نمایاں ہو گئے۔

جاوید: خیریت تو ہے آپ کچھ افسردہ دکھائی دینے لگے کیا ہماری کوئی بات ناگوار لگی ہے ؟

احمدرضا: غمگین ہونے کی وجہ انشاءاللہ عزوجل بعد میں عرض کروں گا، آپ ارشاد فرمائیے کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟

جاوید: میں ان سب کی طرف سے سوالات کرتا جاؤں گا آپ جوابات عنایت فرماتے جائیے۔

سوال: بارہ وفات کیا ہے ؟ اور اسے یہ نام کیوں دیا گیا ہے ؟

احمدرضا: دراصل اسے بارہ وفات کہنا ہی نہیں چاہئیے بلکہ اسے عید میلادالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم“، “بارھویں شریف“، “عیدوں کی عید“ یا “عاشقوں کی عید“ کہنا چاہئیے  کیونکہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو محبوب کبریا سیدالانبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم دنیا میں جلوہ افروز ہوئے تھے اس لئے اسے بارھویں شریف کہتے ہیں، اور چونکہ لغوی اعتبار سے عید وہ دن ہوتا ہے کہ جس میں کسی صاحب فضل یا کسی بڑے واقعے کی یادگار منائی جاتی ہو (مصباح اللغات) اور یقیناً ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت سے زیادہ صاحب فضل شخصیت اور آپ کی ولادت مبارکہ سے زیادہ اہم واقعہ اور کون سا ہو گا ؟ لٰہذا اسے “عید میلادالنبی“ یا “عیدوں کی عید“ یا “عاشقوں کی عید“ بھی کہہ دیتے ہیں-

سوال: تو پھر اسے بارہ وفات کیوں کہتے ہیں ؟

احمدرضا: بعض لوگوں کا خیال ہے کہ رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا وصال شریف بارہ ربیع الاول کو ہوا چنانچہ اس اعتبار سے اسے بارہ وفات کہہ دیتے ہیں لیکن صحیح یہی ہے کہ تایخ وصال “دو ربیع الاول“ ہے جیسا کہ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اپنی بخاری شریف کی شرح “فتح الباری“ میں طویل بحث کے بعد ثابت کیا ہے۔ چنانچہ ہمیں چاہئیے کہ خود بھی اسے بارہ وفات کہنے سے پرہیز کریں اور اس عظیم الشان خوشی کے موقع کا یہ نام رکھنے سے دوسروں کو بھی محبت و شفقت کے ساتھ روکیں۔ کم از کم اپنے گھر والوں کو تو اس بارے میں ضرور سمجھانا چاہئیے۔

سوال: اس دن مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئیے ؟

احمدرضا: صرف اس دن ہی نہیں بلکہ ربیع النور کی پہلی تاریخ سے لے کر بارہ تک ان بارہ دنوں میں جتنا اور جس طرح بھی ممکن ہو ہر امتی کو چاہئیے کہ نور مجسم فخر بنی آدم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی رضا و خوشنودی کیلئے خوشی کے اظہار کے مختلف طریقے اپنائے مثلاً آپس میں مبارک باد دیں اپنے گھر دکان گلی محلہ اور مسجد کو قمقموں اور جھنڈوں سے سجائیں، اپنی سائیکل یا موٹر سائیکل یا کار وغیرہ پر بھی جھنڈے لگائیں، مٹھائیاں تقسیم کریں، دودھ شربت پلائیں، کھانا کھلائیں، دوردپاک کی کثرت کریں، اجتماعات منعقد کریں جس میں مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے فضائل و کمالات و معجزات اور ولادت مبارکہ، کے واقعات بیان کئے جائیں، خوب خوب نعتیہ محافل قائم کریں، ہر قسم کے صغیرہ کبیرہ گناہ سے بچیں اور نیک امعال کی کثرت کی کوشش کریں اور خصوصاً بارہ تاریخ کو گھر کو خوب صاف ستھرا رکھیں، تازہ غسل کریں ہو سکے تو نئے کپڑے اور اگر استطاعت نہ ہو تو پرانے ہی مگر اچھی طرح دھو کر پہنیں، آنکھوں میں سرمہ لگائیں، خوب اچھی طرح عطر ملیں، طاقت اور قدرت ہو تو روزہ رکھیں اور اپنے علاقے میں نکلنے والے جلوس میں شرکت کرکے اللہ تعالٰی کی طرف سے نازل ہونے والی بےشمار رحمتوں اور برکتوں سے حصہ طلب فرمائیں۔

سوال: کیا یہ سب کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے ؟

احمدرضا:دراصل اللہ تعالٰی نے ہمیں قرآن پاک میں اپنی نعمتوں کو ظاہر کرنے اور ان پر اظہار خوشی کا حکم فرمایا ہےچنانچہ سورہ الضحٰی میں ارشاد فرمایا “واما بنعمۃ ربک فحدث۔ اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچہ کرو۔“ (پارہ 30 آیت11) اور سورہ یونس میں فرمان عالیشان ہے “قل بفضل اللہ وبرحمۃ فبذلک فلیفرحوا ط ھو خیر مما یجمعون ہ تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہئیے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے۔ ( پارہ11 آیت58 )

ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالٰی کی عطا کردہ نعمت کا چرچا کرنے اور اس پر خوشی منانے کا صراحۃ حکم موجود ہے“ اور اس میں کسی کو بھی ہرگز ہرگز شک و انکار نہیں ہو سکتا کہ سرور کونین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی دنیا میں آمد، اللہ تعالٰی کی عظیم نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے چنانچہ حکم قرآن کے مطابق اس نعمت کا بھی ہمیں خوب چرچا کرنا چاہئیے اور اس پر خوب خوب خوشیاں منانی چاہئیں اور اس اظہار خوشی کیلئے ہر وہ طریقہ اختیار کرنا جائز ہونا چاہئیے کہ جسے شریعت نے منع نہ کیا ہو اور میں نے ابھی جو طریقے عرض کئے وہ تمام کے تمام جائز ہیں، ان میں سے کوئی بھی چیز شرعی لحاظ سے حرام و ممنوع نہیں۔

سوال: ان آیات میں خوشی و مسرت کے اظہار کے لئے کسی خاص وقت کی قید نہیں لگائی گئی تو پھر ہم ولادت کی خوشی کیلئے ربیع الاول کے بارہ دنوں کو ہی کیوں منتخب کرتے ہیں ؟

احمدرضا: مخصوص دنوں کو قلبی مسرت کے اظہار کے لئے منتخب کرنا بھی قرآن پاک کے حکم اور رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے عین مطابق ہے کیونکہ اللہ تعالٰی نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا وذکرھم بایام اللہ اور انھیں اللہ عزوجل کے دن یاد دلا (پارہ 13 سورہ ابراہیم آیت5) اس آیت کریمہ کی تفسیر فرماتے ہوئے حضرت نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تفسیر خزائن العرفان میں ارشاد فرماتے ہیں “بعض مفسرین نے فرمایا کہ “ایام اللہ“ سے وہ دن مراد ہیں جن میں اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں پر انعام فرمای جیسا کہ بنی اسرائیل کے لئے من و سلوٰی اتارنے کا دن اور حضرت موسٰی علیہ السلام کے لئے دریا میں راستہ بنانے کا دن وغیرہ (خازن و مدارک و مفردات راغب) (پھر فرمایا) “ان ایام اللہ میں سب سے بڑی نعمت کے دن سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی “ولادت و معراج“ کے دن ہیں ان کی یادگار قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے۔“

اور دنوں کو عبادت وغیرہ کے ذریعے خاص کر لینا، سنت اسی طرح ہے کہ بخاری و مسلم شریف میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو عاشورہ (یعنی دن محرم) کا روزہ رکھتے پایا دریافت فرمایا “یہ کیا دن ہے کہ تم روزہ رکھتے ہو ؟“ عرض کی گئی “یہ عظمت والا دن ہے کہ اس میں موسٰی علیہ السلام اور ان کی قوم کو اللہ تعالٰی نے نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو ڈبو دیا، لٰہذا موسٰی علیہ السلام نے بطور شکر اس دن کا روزہ رکھا، چنانچہ ہم بھی روزہ رکھتے ہیں “ (یہ سن کر مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے) ارشاد فرمایا کہ موسٰی علیہ السلام کی موافقت کرنے میں بہ نسبت تمھارے، ہم زیادہ حق دار ہیں و قریب ہیں“ چنانچہ آپ نے خود بھی روزہ رکھا اور اس کا حکم بھی فرمای“ دیکھئے

اس حدیث پاک سے واضح ہو گیا کہ جس دن اللہ تعالٰی کے کسی انعام کا نزول ہوا، اسے عبادت کیلئے مخصوص کرنا حضرت موسٰی علیہ السلام کی اور آپ کی موافقت میں مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی اور آپ کے حکم کی تعمیل میں صحابہء کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کی بھی سنت مبارکہ ہے، چنانچہ ربیع النور شریف میں مولود مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے انعام کے حصول کے جواب میں مخلتف عبادات کا اختیار کرنا بھی یقیناً جائز اور باعث نزول رحمت ہے۔

سوال: جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ بعض لوگ 12 ربیع الاول کو یوم وفات مانتے ہیں تو احتیاط تو اس میں ہے کہ ہم اس دن خوشیاں نہ منائیں کیونکہ اگر وہ بات بالفرض درست ہے تو وفات نبی کے دن خوشی منانا تو بہت بری بات ہے ؟

احمد رضا: پیارے اسلامی بھائیو! دینی مسائل کے حل کیلئے اپنی عقل استعمال کرنے سے پہلے اللہ تعالٰی اور اس کے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں رجوع کرنا بےحد ضروری ہے کیونکہ کثیر مسائل ایسے ہیں کہ جن میں عقل کا فیصلہ کچھ اور ہوتا ہے جب کہ شریعت کا تقاضا اس کے مخالف نظر آتا ہے، ایسے موقع پر سعادت مندی یہی ہے کہ ہم اللہ تعالٰی اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے فرمان عالیشان پر “عقل کی آنکھیں بند کرکے“ عمل کریں اور اگر شیطان کسی قسم کا وسوسہ ڈالے تو اس سے فوراً یہ سوال کریں کہ بتا ہماری “عقل بڑی ہے یا اللہ تعالٰی اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا حکم ؟“ انشاءاللہ عزوجل شیطان فوراً بھاگ جائے گا اب اس مسئلے کے بارے میں عرض ہے کہ اگر بالفرض یہ یوم وفات نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم بھی ہوتا، تب بھی ہمارے لئے شرعی لحاظ سے اس میں خوشی منانا جائز اور غم منانا ناجائز ہے کیونکہ شرعی قاعدہ قانون یہ ہے کہ شوہر کی وفات کے علاوہ کسی اور کی موت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں صرف شوہر کی موت پر بیوی کو چار مہینے دس دن سوگ منانے کا حکم ہے چنانچہ بخاری و مسلم میں ام المومنین ام حبیبہ اور ام المومنین زینب بنت حجش رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا “جو عورت اللہ تعالٰی اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے تو اسے یہ حلال نہیں کہ کسی میت پر تین راتوں سے زیادہ سوگ کرے سوائے شوہر کے کہ اس پر چار مہینے دس دن سوگ کرے۔“ معلوم ہوا کہ شوہر کے علاوہ کسی کی بھی وفات پر تین دن سے زائد غم منانا جائز نہیں چنانچہ مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد، آپ کی وفات پر بھی غم منانا یا سوگ کی علامت اختیار کرنا جائز نہیں ہونا چاہئیے اس کے برعکس چونکہ نعمت کے اظہار اور اس پر خوشی منانے والی آیات میں وقت کی کوئی قید نہیں چنانچہ ان کی رو سے اس دن خوشی منانا بالکل جائز ہے۔

احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہاں ایک نکتہ بیان کر دینا بھی نفع سے خالی نہ ہو گا کہ اگر کسی ایک ہی دن پیدائش نبی بھی ہو اور وصال نبی بھی تو ہمیں انعام کے حصول پر خوشی منانے کی اجازت تو ملتی ہے، لیکن غم منانے کا حکم کہیں نظر نہیں آتا۔ مثلاً سیدکونین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا “بہترین دن کہ جس پر سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے اسی میں آدم علیہ السلام پیدا ہوئے، اسی میں (دنیا میں) اتارے گئے، اسی میں ان کی توبہ قبول ہوئی اسی میں آپ نے وفات پائی اور اسی میں قیامت قائم ہوگی۔ (ابوداؤد و ترمذی) اور ایک مقام پر ارشاد فرمایا کہ “جمعہ عید کا دن ہے اسے اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کے لئے عید کا دن بنایا ہے۔“ (ابن ماجہ)

اب آپ غور فرمائیں کہ جمعہ حالانکہ یوم وفات بھی ہے لیکن اس کے باوجود مدنی مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالٰی کے حکم سے اس دن کو ہمارے لئے عید کا دن قرار دیا ہے اور یقیناً عید کے دن خوشیاں منائی جاتی ہیں اور اس کے برعکس غم منانے کے بارے میں کوئی حکم موجود نہیں، نتیجہ یہ نکلا کہ “ہمارے لئے اس دن خوشی منانی جائز اور غم منانے کا عقلی طور پر بھی کوئی جواز نہیں کیونکہ شہہ دوسرا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا “اللہ تعالٰی نے زمین پر انبیاء علیہم السلام کے جسموں کا کھانا حرام کر دیا ہے لٰہذا اللہ عزوجل کے نبی (علیہم السلام) زندہ ہیں، روزی دیتے ہیں۔ (ابن ماجہ) اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ کل نفس ذائقۃ الموت ( ہرجان کو موت چکھنی ہے) ( پارہ 4 سورہ آل عمران آیت185 ) کے ضابطے کے تحت انبیاء علیہم السلام کچھ دیر کیلئے وفات پاتے ہیں اور پھر اللہ تعالٰی کے حکم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہو جاتے ہیں اعلٰی حضرت رضی اللہ تعالٰی علیہ ارشاد فرماتے ہیں،

انبیاء کو بھی اجل آنی ہے
مگر ایسی کہ فقط آنی ہے
پھر اسی آن کے بعد ان کی حیات
مثل سابق وہی جسمانی ہے (حدائق بخشش)

اور جب تمام انبیاء علیہم السلام سمیت ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ بھی ثابت ہو گئی تو بارھویں پر غم منانے کی کون سی علت باقی رہ جاتی ہے ؟

جاوید: واقعی آپ نے ان جوابات کی روشنی میں تو چاہے بارہ تاریخ کو یوم ولادت یو یا یوم وفات، بہر صورت خوشی منانی تو جائز ہو سکتی ہے لیکن اظہار کسی بھی صورت میں جائز نہیں، اچھا اب ایک اہم سوال ہے۔

سوال: ہم نے سنا ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، کل بدعۃ ضلالۃ یعنی ہر بدعت گمراہی ہے (ابو داؤد) اور بدعت ہر وہ کام ہے جو ہمارے رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے بعد پیدا ہوا اور آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا “کہ میری اور میرے خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑ لو (ترمذی۔ ابو داؤد) ان دونوں احادیث کی روشنی میں بارھویں شریف منانا، گمراہی اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی معلوم ہوتا ہے کیونکہ یہ نہ تو سرکار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں تھی اور نہ ہی یہ، آپ ( صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی یا صحابہء کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کی سنت ہے ؟

احمدرضا: دیکھیں یہاں دو چیزیں ہیں۔

  1. وہ عبادات و اعمال و افعال، جو ان دنوں میں، اظہار خوشی اور حصول برکت کیلئے اختیار کیے جاتے ہیں۔
     
  2. ان سب کو باقاعدہ اہتمام کے ساتھ ایک مخصوص دن اور مخصوص تاریخ میں اللہ تعالٰی اور اس کے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی رضا و خوشنودی کیلئے جمع کر دینا۔

اب ابتداءً پہلی چیز کو لیجئے یعنی وہ افعال جو ان دنوں میں اختیار کئے جاتے ہیں مثلاً

  1. رحمت کونین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے فضائل بیان کرنا۔
  2. آپ کی ولادت مبارکہ اور بچپن شریف کے واقعات ذکر کرنا۔
  3. آپ کے معجزات بیان کرنا۔
  4. نعتیہ محافل قائم کرنا۔
  5. ایصال ثواب کیلئے شربت و دودھ پلانا اور کھانا وغیرہ کھلانا۔
  6. قمقموں اور جھنڈوں وغیرہ سے گھر محلہ بازار و مسجد سجانا۔
  7. آپس میں مبارک باد و خوشخبری دینا۔
  8. عیدی تقسیم کرنا۔
  9. بوقت ولادت قیام کرنا۔
  10. روزہ رکھنا۔
  11. جلوس نکالنا۔

تو ان کے بارے میں عرض ہے کہ ان میں سے کوئی بھی ایسا فعل نہیں کہ جس کی اصل زمانہ نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں موجود نہ ہو یا اسے صحابہء کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کی سنت قرار نہ دیا جا سکتا ہو، چنانچہ پہلے میں اس کے بارے میں دلائل عرض کرتا ہوں لیکن یاد رکھئے کہ وقت کی قلت کے باعث یہ تمام دلائل انتہائی اختصار کے ساتھ پیش کروں گا۔

(1) رحمت کونین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے فضائل بیان کرنا :-

یہ عمل اللہ تعالٰی، اس کے پیارے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اور صحابہءکرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کی سنت مبارکہ ہے چنانچہ اللہ تعالٰی نے آپ ( صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کے فضائل بیان کرتے ہوئے قرآن پاک میں ارشاد ہے “یایھا الناس قد جاء کم برھان من ربکم“ اے لوگو! بے شک تمھارے پاس اللہ کی طرف سے واضح دلیل آئی۔“ (پارہ6، سورہ النساء، آیت 174) یہاں برھان سے مراد رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ دوسری جگہ ارشاد ہوا “وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین“ اور ہم نے تمھیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہاں کیلئے“ (پارہ17، سورۃ الانبیاء، آیت107) ایک اور مقام پر فرمان عالیشان ہے “ولو انھم اذ ظلموا انفسھم جآءوک فاستغفرواللہ واستغفراللہ الرسول لو جدواللہ توابا رحیماہ اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب ( صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) تمھارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ (عزوجل) سے معافی چاہیں اور “رسول ( صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) ان کی شفاعت فرمائے“ تو ضرور اللہ (عزوجل) کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔“ (پارہ5، سورۃالنساء، آیت64)

اور خود معلم معظم نے اپنے فضائل اس طرح بیان فرمائے “بے شک اللہ تعالٰی نے اولاد اسماعیل علیہ السلام میں سے کنانہ کو اور کنانہ میں سے قریش کو اور قریش میں سے بنی ہاشم کو اور بنی ہاشم میں سے مجھے چن لی“

(یاد رکھئے کہ عربوں کو چھ طبقات میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ (1) فصائل:- یہ فصیلہ کی جمع ہے، فصیلہ ایک کنبہ کو کہتے ہیں۔ (2) افخاذ:- یہ فخذ کی جمع ہے، چند کنبوں کے مجموعے کو “فخذ“ کہتے ہیں۔ (3) بطون:- یہ بطن کی جمع ہے، چند افخاذ کے مجموعے کا نام “بطن“ رکھا جاتا ہے۔ (4) عمائر:- یہ عمارۃ کی جمع ہے، چند بطون کا مجموعہ “عمارۃ“ کہلاتا ہے۔ (5) قبائل:- یہ قبیلہ کی جمع ہے، چند عمائر کے مجموعے کو “قبیلہ“ کہا جاتا ہے۔ (6) شعوب:- یہ شعب کی جمع ہے۔ چند قبائل کا مجموعہ “شعب“ کہلاتا ہے۔ اب رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی طرف نسبت کے اعتبار سے مثالوں کے ساتھ وضاحت یوں ہے کہ “عباس، فیصلہ ہے۔ ہاشم، فخذ ہے۔ قصی، بطن ہے۔ قریش، عمارہ ہے۔ کنانہ، قبیلہ ہے اور خزیمہ، شعب ہے۔ (مدارک۔ بتغیرم)(مسلم شریف) دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا “میں بروز قیامت اولاد آدم (علیہ السلام) کا سردار ہوں اور وہ پہلا شخص ہوں کہ جس کی قبر شق کی جائے گی اور میں پہلا شفاعت کرنے والا اور سب سے پہلے شفاعت قبول کیا جانے والا شخص ہوں“ (مسلم شریف) مزید ارشاد فرمایا “ میں بروز قیامت جنت کے دروازے پر پہنچوں گا اور دروازہ کھلواؤں گا تو خازن عرض کرے گا “ آپ کون ہیں ؟“ میں جواب دوں گا “محمد ( صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم)“ پس وہ مجھ سے عرض کرے گا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ آپ سے پہلے کسی کیلئے بھی یہ دروازہ نہ کھولوں۔“ (مسلم شریف)
اور یہ بھی فرمایا کہ “میرے والدین کبھی غیر شرعی طور پر مجتمع نہ ہوئے اللہ عزوجل مجھے ہمیشہ پاک پشتوں سے پاکیزہ ارحام کی طرف منتقل فرماتا رہا اور اس نے مجھے ہر قسم کی نجاست و غلاظت جہالت سے پاک و صاف رکھا۔“ (الوفاء)

اور اس کے، صحابہءکرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کی سنت ہونے پر دلیل، بخاری شریف کی یہ روایت ہے کہ “عطا بن یسار رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ملا اور ان سے کہا کہ مجھے یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے وہ اوصاف سنائیے جو تورات میں ہیں“ “فرمایا، ہاں کیوں نہیں خدا عزوجل کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی قرآن پاک میں بیان کردہ بعض صفات کا تذکرہ تورات میں بھی ہے چنانچہ تورات میں ہے “ اے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہم نے آپ کو حاضر و ناظر، خوشخبری سنانے والا اور ڈر سنانے والا بان کر بھیجا ہے اور آپ امی لوگوں کی پناہ گاہ ہیں، میرے بندے اور رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہیں میں نے آپ کا نام متوکل رکھا ہے آپ بداخلاق اور سخت نہیں ہیں اور نہ آپ بازاروں میں چیختے ہیں آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے بلکہ معاف کر دیتے ہیں اور درگزر فرماتے ہیں اور اللہ تعالٰی آپ کو وفات نہ دے گا جب تک کہ ملت کی گمراہی دور نہ ہو جائے اور وہ “لاالہ الا اللہ“ کہہ لے اللہ تعالٰی آپ کے ذریعے نابینا آنکھوں کو بصارت، بہرے کانوں کو سماعت اور بھٹکے ہوئے دلوں کو راستہ عطا فرمائے گا۔“
اور خاص بوقت ولادت ایک جن نے اللہ تعالٰی کی عطا سے ان الفاظ میں اشعار کی صورت میں رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے فضائل بیان کرنے کی سعادت حاصل کی۔ “ترجمہ: میں قسم کھاتا ہوں کہ کوئی عورت انسانوں میں نہ خود اتنی سعادت مند ہے اور نہ ہی کسی نے اتنے سعادت مند اور شریف بچے کو جنم دیا ہے جیسا کہ بنو زہرہ سے تعلق رکھنے والی قابل صد افتخار، امتیازی اوصاف کی مالکہ، قبائل کی ملامت و طعن سے پاک و صاد اور بزرگی و شرافت کی مالکہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے مقدس اور سعادت مند بچے کو جنم دیا ہے جو تمام مخلوق میں سب سے بہتر ہے اور احمد کے پیارے نام سے موسوم ہے پس یہ مولود کس قدر عزت والا اور بلند و بالا مقام والا ہے۔“ (الوفاء)

(2) ولادت مبارکہ اور بچپن شریف کے واقعات:-

یہ بھی سنت سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اور سنت اصحاب رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہے چنانچہ ابو امامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “میری والدہ نے (بوقت ولادت) یوں ملاحظہ فرمایا گویا کہ مجھ سے ایک عظیم نور نمودار ہوا ہے، جس کی نورانیت سے شام کے محلات روشن ہو گئے، (الوفاء) اور حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ فرمایا “اللہ عزوجل کے ہاں میری عزت و حرمت یہ ہے کہ میں ناف بریدہ پیدا ہوا اور کسی نے میری شرمگاہ کو نہ دیکھا۔ (الوفاء) اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ “اپنی والدہ بی بی شفاء رضی اللہ تعالٰی عنہا“ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے بتایا کہ “جس وقت حضرت آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرزند پیدا ہوا تو وہ ختنہ شدہ تھا، پھر اسے چھینک آئی تو اس پر میں نے کسی کہنے والے کی آواز سنی یرحمک اللہ (یعنی اللہ تعالٰی تجھ پر رحم کرے) پھر مشرق و مغرب کے درمیان ہر چیز روشن ہو گئی اور میں نے اس وقت شام کے محلات دیکھے میں ڈری اور مجھ پر لرزہ طاری ہو گیا اس کے بعد ایک نور داہنی جانب سے ظاہر ہوا کسی کہنے والے نے کہا “اسے کہاں لے گیا ؟“ دوسرے نے جواب دیا “مغرب کی جانب تمام مقامات متبرکہ میں لے گی“ پھر بائیں جانب سے ایک نور پیدا ہوا، اس پر بھی کسی کہنے والے نے کہا “اسے کہاں لے گیا؟“ دوسرے نے جواب دیا “مشرق کی جانب تمام مقامات متبرکہ میں لے گی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سامنے پیش کیا انھوں نے اسے اپنے سینے سے لگایا اور طہارت و برکت کی دعاء مانگی“ یہ بات میرے دل میں ہمیشہ جاگزیں رہی یہاں تک کہ رحمت دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم مبعوث ہوئے اور میں ایمان لے آئی اور اولین و سابقین میں سے ہوئی۔“ (مدارج نبوت)

اور ولادت کریمہ کے حالات بیان کرنا خود ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی والدہء محترمہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی بھی سنت ہے چنانچہ ارشاد فرماتی ہیں کہ “جس رات میں نے اپنے لخت جگر اور نور نظر کو جنم دیا، ایک عظیم نور دیکھا، جس کی بدولت شام کے محلات روشن ہو گئے حتٰی کہ میں نے ان کو دیکھ لی“ (الوفاء) اور ارشاد فرمایا “جب میں نے ان کو جنم دیا تو یہ زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے پھر ایک مٹھی مٹی لی اور سجدے کی طرف مائل ہو گئے، وقت ولادت آپ ناف بریدہ تھے میں نے پردہ کیلئے آپ پر ایک مضبوط کپڑا ڈال دیا، مگر کیا دیکھتی ہوں کہ وہ پھٹ چکا ہے اور آپ اپنا انگوٹھا چوس رہا رہے ہیں جس سے دودھ کا فوارہ پھوٹ رہا ہے۔“ (الوفاء)

اور اپنے بچپن کے حالات بیان فرماتے ہوئے مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا “ایک روز میں اپنے رضاعی (یعنی دودھ شریک) بھائیوں کے ساتھ ایک وادی میں تھا کہ اچانک میری نگاہ تین شخصوں پر پڑی، ان میں سے ایک کے ہاتھ میں چاندی کا لوٹا دوسرے کے ہاتھ میں زمرد (قیمتی پتھر) کا طشت تھا جو برف سے بھرا تھا پھر انھوں نے مجھے میرے ساتھیوں کے درمیان سے پکڑ لیا، میرے سب ساتھی ڈر کر اپنے محلہ کی جانب بھاگ گئے پھر ان میں سے ایک نے مجھے نرمی سے زمین پر لٹا دیا اور ایک نے میرے سینے کو جوڑوں کے پاس سے ناف تک چیرا، مجھے کسی قسم کا درد وغیرہ محسوس نہ ہوا پھر پیٹ کی رگوں کو نکالا اور برف سے اچھی طرح دھویا، پھر اپنی جگہ رکھ کر کھڑا ہو گیا، پھر دوسرے نے ہاتھ ڈال کر میرا دل نکالا، پھر اسے چیر کر اس میں سے ایک سیاہ نقطے کو نکال کر پھینک دیا اور کہا، “یہ شیطان کا حصہ تھا“ پھر اسے اس چیز سے بھر دیا جو ان کے پاس تھی اس کے بعد اپنے دائیں بائیں کچھ مانگنے کیلئے ارشاد کیا اور اسے ایک نور کی انگوٹھی دی گئی، جس کی نورانیت سے آنکھیں خیرہ ہوتی تھیں، اس نے انگوٹھی سے میرے دل پر مہر لگا دی اور میرا دل نبوت و حکمت کے نور سے لبریز ہو گیا، پھر دل کو اپنی جگہ پر رکھ دیا، میں اس مہر کی ٹھنڈک اب بھی اپنے جوڑوں اور رگوں میں پاتا ہوں، پھر انھوں نے سینے کے جوڑوں سے ناف تک ہاتھ پھیرا تو وہ شگاف مل گیا پھر مجھے آہستگی سے اٹھایا اور اپنے سینے سے لگایا اور میری دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور کہنے لگے “اے اللہ عزوجل کے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم! کچھ نہ پوچھئے، اگر آپ جانتے کہ آپ کیلئے کیا کچھ خیر وخوبی ہے تو آپ کی آنکھیں روشن ہو جاتی اور آپ خوش ہوتے“ اس کے بعد وہ، مجھے وہیں چھوڑ کر آسمان کی طرف پرواز کر گئے۔“ (مدارج النبوت)

(3) معجزات بیان کرنا:-

یہ بھی اللہ عزوجل، مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اور صحابہءکرام علیہم الرضوان کی سنت مبارکہ ہے چنانچہ معجزہء معراج کو قرآن پاک میں ان الفاظ سے بیان فرمایا گیا ہے “سبحان الذی اسرٰی بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصٰی لذی برکنا حولہ لنریہ من ایتنا ط
پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا مسجد حرام سے مسجد اقصی تک، جس کے اردگرد ہم نے برکت رکھی کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں“ (پارہ 15 سورہ بنی اسرائیل آیت1)

اور پیارے اسلامی بھائیو! ایک مقام پر کھڑے کھڑے ہزاروں میل دور کی چیزیں دیکھ لینا بھی ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے معجزات میں سے ہے۔ اپنے اسی معجزے کا ذکر کرتے ہوئے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا “جب مجھے (سفر معراج کی تفصیل ذکر کرتے کے بعد) قریش نے جھٹلایا (اور مجھ سے بیت المقدس کے بارے میں سوالات کئے) تو میں، حجر میں کھڑا ہو گیا (یعنی اس جگہ میں کہ جہاں سے پہلی مرتبہ میرے اوپر چڑھنے کی ابتداء ہوئی تھی) پس اللہ تعالٰی نے میرے لئے بیت المقدس کو ظاہر فرما دیا چنانچہ میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے اس کی علامات کے بارے میں قریش کو خبر دینا شروع ہو گی“ (بخاری و مسلم)

اور حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ شاہ مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے معجزے کا ذکر ان الفاظ میں ادا فرماتے رہے کہ (غزوہء خندق کے دن) میں اپنی زوجہ کے پاس آیا اور کہا تیرے پاس کچھ کھانے کو ہے ؟ کیوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے چہرہء انور پر سخت بھوک کے آثار دیکھے ہیں“ (یہ سن کر) میری زوجہ نے ایک تھیلا نکالا جس میں ایک صاع (ساڑھے چار سیر) کے قریب جو تھے اور ہمارے پاس فربہ ایک بکری کا بچہ بھی تھا، پس میں نے اسے ذبح کیا اور بیوی نے جو کا آٹا پیسا میں گوشت بان کر، دیگچی میں چڑھا کر، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور عرض کی “یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں نے ایک بکری کا بچہ ذبح کیا اور میری زوجہ نے جو کا آٹا پیسا ہے آپ چند صحابہ کو لے کر میرے گھر تشریف لے چلیں“ (یہ عرض سن کر) حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے باآواز بلند فرمایا “جابر نے کھانا تیار کیا ہے آؤ ان کے ہاں چلیں۔“ پھر مجھ سے فرمایا “میرے پہنچنے تک دیگچی کو چولہے سے نہ اتارنا اور گوندھے ہوئے آٹے کو یوں ہی رکھنا“ پھر آپ، ایک ہزار صحابہءکرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کے ساتھ تشریف لائے آپ نے آٹے اور دیگچی میں اپنا لعاب دہن اقدس ڈال دیا اور برکت کی دعاء فرمائی اور میری زوجہ سے فرمایا کہ روٹی پکاؤ اور کسی ایک عورت کو اپنے ساتھ ملا لو، اور دیگچی سے گوشت نکالتی رہو مگر اس میں جھانک کر نہ دیکھن“ خدا عزوجل کی قسم! ان ہزار آدمیوں نے شکم سیر ہو کر کھایا اور دیگچی میں بدستور گوشت، جوش مار رہا تھا اور آٹا بھی باقی تھا۔“ (بخاری و مسلم)

(4) نعتیہ محافل قائم کرنا:-

نعتیہ محافل کا قیام بھی سنت مبارکہ ہے اور اس کا قائم کرنا خود مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے چنانچہ “بخاری شریف“ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ مدنی مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم، حضرت حسان رضی اللہ تعالٰی عنہ کیلئے مسجد میں منبر رکھتے، جس پر وہ کھڑے ہو کر (اشعار کی صورت میں) رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے فخر کرنے میں (قریش پر) غالب ہوتے یا (قریش کی طرف سے معاذاللہ کی گئی ہجو کے جواب میں شان رسالت کا) دفاع کرتے اور رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے “اللہ تعالٰی حضرت جبرئیل کے ذریعے حسان کی مدد فرماتا ہے جب تک کہ یہ اللہ عزوجل کے رسول کی طرف سے فخر کرنے میں غالب ہوتے ہیں یا دفاع کرتے ہیں۔“

پیارے اسلامی بھائیو! یقیناً ان اشعار کو سننے کے لئے صحابہءکرام رضی اللہ تعالٰی عنہم بھی جلوہ افروز ہوتے ہوں گے، اگر آپ تھوڑا سا غور فرمائیں تو موجودہ نعتیہ محافل، اسی مدنی محفل کا عکس نظر آئیں گی۔“ اسی طرح “الوفاء باحوال المصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں مذکور ہے کہ جب سوادبن قارب (رضی اللہ تعالٰی عنہ) اسلام قبول کرنے کی غرض سے مدینہ منورہ میں بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوئے تو رحمت کونین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شان میں چند نعتیہ اشعار پڑھے جن کا ترجمہ یہ ہے “پس میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالٰی کے علاوہ کوئی رب عزوجل نہیں اور آپ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) “تمام غیبوں اور رازوں“ پر اللہ تعالٰی کے امین ہیں اور میں اس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ “اے باکرامت اور پاکیزہ اسلاف کی نسل کریم! آپ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) تمام رسولوں کے مقابلے میں اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں قریب ترین وسیلہ ہیں “لٰہذا“ اے سب رسولوں سے افضل و اکرم! جو احکام اللہ تعالٰی کی طرف سے آپ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوتے ہیں ہمیں ان کا حکم فرمائیے چاہے ان احکام کی شدتیں ہماری جوانی کو بڑھاپے ہی میں تبدیل کر دیں آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اس دن میرے شفیع ہو جائیے گا کہ جس دن آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ اور کوئی سفارش سوا بن قارب کو فائدہ نہ پہنچا سکے گی۔“ سودا بن قارب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جب یہ ایمان افروز قصیدہ پڑھا اور شرف اسلام سے مشرف ہوئے تو شہنشاہ دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا چہرہء انور خوشی سے چودھویں کے چاند کی طرح چمکنے لگا اور صحابہءکرام رضی اللہ تعالٰی عنہم بھی انتہائی فرحت و مسرت کا اظہار فرمانے لگے۔“

اس روایت سے بھی بخوبی معلوم ہوا کہ “اجتماعی طور پر نعتیہ اشعار سننا ہمارے مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے جانثار صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کی سنت ہے “حصول برکت کیلئے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ایک نعتیہ رباعی پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں آپ فرماتے ہیں۔

واجمل منک لم تر قط عینی
واکمل منک لم تلد النساء
خلقت مبرا من کل عیب
کانک قد خلقت کما تشاء

ترجمہ: یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم! آپ سے زیادہ حسین و جمیل میری آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ صاحب کمال کسی عورت نے جنا ہی نہیں، آپ ہر عیب سے پاک پیدا کئے گئے ہیں گویا کہ آپ ویسے ہی پیدا کئے گئے جیسے آپ چاہتے تھے۔“
جاوید (مع رفقاء): واہ سبحان اللہ عزوجل! کتنے پیارے اشعار ہیں دل خوش ہو گئے۔

احمدرضا: جی ہاں، بےشک۔ اس قسم کے اشعار بکثرت سننے چائیں الحمد للہ عزوجل! اس سے محبت رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں بےحد اضافہ ہوتا ہے“ اچھا چلیں اب اگلی چیز کے دلائل سنیں،

(5) شربت دودھ پلا کر یا کھانا کھلا کر ایصال ثواب کرنا:-

اس کی اصل بھی صحیح احادیث سے سے ثابت ہے چنانچہ ابوداؤد اور نسائی شریف میں ہے کہ، “حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کی “یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم! میری والدہ فوت ہو گئی ہیں (تو ان کے ایصال ثواب کے لئے) کونسا صدقہ افضل ہے ؟ رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا “پانی“ چنانچہ حضرت سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک کنواں کھدوایا اور فرمایا “ھذہ لام سعدیہ یہ سعد کی ماں کیلئے ہے۔“

پیارے اسلامی بھائیو! اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ کسی کے لئے ایصال ثواب اور اس کا کوئی نام رکھنا دونوں فعل جائز ہیں، چنانچہ بارھویں شریف میں کھانے یا شربت وغیرہ کا ثواب اپنے پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنا اور اس کا نام “بارھویں شریف کی نیاز“ وغیرہ رکھ دینا بالکل جائز ہے۔“

ضمناً عرض ہے کہ ہمارا بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں ایصال ثواب کرنا معاذاللہ عزوجل اس لئے ہرگز نہیں کہ جناب احمد مختار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو اس کی محتاجی و ضرورت ہے، بلکہ اسے تو آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ رحمت کے مستحق ہو جانے کیلئے ایک ذریعہ بنایا جاتا ہے، اس کو بالکل یوں ہی سمجھئے کہ جیسے کسی بادشاہ کی خدمت میں اس کی رعایا میں سے کوئی بہت ہی غریب آدمی، ایک حقیر سا تحفہ پیش کرے۔ اب یقیناً بادشاہ کو اس کے تحفے کی کوئی حاجت نہیں لیکن یہ بات یقینی ہے کہ بادشاہ اس کے جواب میں اپنی شان کے مطابق تحفہ ضرور عطا کرے گا۔

اور بہارشریعت میں درمختار، ردالمحتار اور فتاوٰی عالمگیری کے حوالے سے درج شدہ یہ مسئلہ یاد رکھنا بھی بےحد مفید رہے گا۔ مسئلہ:- “رہا ثواب پہنچانا کہ جو کچھ عبادت کی اس کا ثواب فلاں کو پہنچے، اس میں کسی عبادت کی تخصیص نہیں، ہر عبادت کا ثواب دوسرے کو پہنچایا جا سکتا ہے۔“ نماز، روزہ، زکوٰۃ، صدقہ، حج، تلاوت قرآن، ذکر، زیارت قبور، فرض و نفل، “ سب کا ثواب “زندہ یا مردہ“ کو پہنچا سکتے ہیں اور یہ نہ سمجھنا چاہئیے کہ “فرض کا ثواب پہنچا دیا تو اپنے پاس کیا رہ گیا ؟“ کیونکہ ثواب پہنچانے سے اپنے پاس سے کچھ نہیں جات۔“ اب اگلی چیز ہے،

(6) جھنڈوں وغیرہ سے اپنے گھر و گلی و محلہ و مسجد کو سجان:-

آمد مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر جھنڈے نصب کرنا اللہ عزوجل کی سنت کریمہ ہے، چنانچہ بی بی آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ولدت پاک کے واقعات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتی ہیں، “پھر میں نے دیکھا کہ پرندوں کی ایک ڈار میرے سامنے آئی، یہاں تک کہ میرا کمرا ان سے بھر گیا ان کی چونچیں زمرد کی اور ان کے بازو یاقوت کے تھے، پھر اللہ تعالٰی نے میری نگاہوں سے پردہ اٹھایا حتٰی کہ میں نے مشارق و مغارب کو دیکھ لیا اور میں نے دیکھا کہ “تین جھنڈے“ ہیں جن میں سے ایک مشرق میں، ایک مغرب میں اور ایک خانہء کعبہ کے اوپر نصب ہے۔“ (مدارج النبوت)

اسی طرح “الخصائص الکبرٰی“ میں نقل کردہ ایک روایت میں ہے کہ “سیدہ آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے پوچھا گیا کہ بوقت ولادت آپ نے کیا دیکھا ؟“ ارشاد فرمایا “جب مجھے درد شروع ہوا تو میں نے ایک گڑگڑاہٹ کی آواز سنی اور ایسی آوازیں جیسے کچھ لوگ باتیں کر رہے ہوں پھر میں نے یاقوت کی لکڑی (یعنی ایسی لکڑی جس پر یاقوت جڑے ہوئے تھے) میں کمخواب (ایک قسم کا ریشمی کپڑا جو زری کی تاروں کی آمیزش سے بنایا جاتا ہے) کا جھنڈا، زمین و آسمان کے درمیان نصب دیکھا“ اور اپنے محبوب کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی عالم میں جلوہ نمائی کے وقت پورے جہان کو سجا دینا بھی رب کائنات عزوجل کی سنت مبارکہ ہے چنانچہ حضرت عمرو بن قتیبہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد سے سنا کہ “جب حضرت آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے یہاں پیدائش کا وقت آیا تو اللہ تعالٰی نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تمام آسمانوں اور جنتوں کے دروازے کھول دو اور تمام فرشتے میرے سامنے حاضر ہو جائیں، چنانچہ فرشتے، ایک دوسرے کو بشارتیں دیتے ہوئے حاضر ہونے لگے، دنیا کے پہاڑ بلند ہو گئے اور سمندر چڑھ گئے اور ان کی مخلوقات نے ایک دوسرے کو بشارتیں دیں۔ سورج کو اس دن عظیم روشنی عطا کی گئی اور اس کے کنارے پر فضا میں ستر ہزار حوریں کھڑی کر دی گئیں جو رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی منتظر تھیں اور اس سال آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و تکریم کی خاطر، اللہ تعالٰی نے دنیا کی تمام عورتوں کیلئے نرینہ اولاد مقرر فرمائی اللہ تعالٰی نے حکم فرمایا کہ “کوئی درخت بغیر پھل کے نہ رہے اور جہاں بد امنی ہو وہاں امن ہو جائے۔“ جب ولادت مبارکہ ہوئی تو تمام دنیا نور سے بھر گئی، فرشتوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور ہر آسمان میں زبرجد (ایک خاص قسم کا زمرد) اور یاقوت کے ستون بنائے گئے جن سے “ آسمان روشن ہو گئے “ ان ستونوں کو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے شب معراج دیکھا تو عرض کی گئی کہ “یہ ستون آپ کی ولادت مبارکہ کی خوشی میں بنائے گئے تھے“ اور جس رات آپ کی ولادت مبارکہ ہوئی اللہ تعالٰی نے حوض کوثر کے کنارے مشک وغیرہ کے ستر ہزار درخت پیدا فرمائے اور ان کے پھلوں کو اہل جنت کی خوشبو قرار دیا۔ اور شب ولادت تمام آسمان والوں نے سلامتی کی دعائیں مانگیں۔“ (الخصائص الکبرٰی)

اسی طرح مدارج النبوت میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں “حدیثوں میں آیا ہے کہ شب میلاد مبارک کو عالم ملکوت (یعنی فرشتوں کی دنیا) میں نداء کی گئی کہ “سارے جہاں کو انوار قدس سے منور کر دو“ اور زمین و آسمان کے تمام فرشتے خوشی و مسرت میں جھوم اٹھے اور داروغہء جنت کو حکم ہوا کہ “فردوس اعلٰی کو کھول دے اور سارے جہان کو خوشبوؤں سے معطر کر دے“ (پھر فرماتے ہیں) مروی ہے اس رات کی صبح کو تمام بت اوندھے پائے گئے، شیاطین کا آسمان پر چڑھنا ممنوع قرار دیا گیا اور دنیا کے تمام بادشاہوں کے تخت الٹ دئیے گئے اور اس رات ہر گھر روشن و منور ہوا اور کوئی جگہ ایسی نہ تھی جو انوار سے جگمگا نہ رہی ہو اور کوئی جانور ایسا نہ تھا جس کو قوت گویائی نہ دی گئی اور اس نے بشارت نہ دی ہو، مشرق کے پرندوں نے مغرب کے پرندوں کو خوشخبریاں دیں۔“ سبحان اللہ (عزوجل) اب اس کے بعد ہے،

(7) آپس میں مبارک باد و خوشخبری دینا:-

سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی دنیا میں جلوہ گری کے وقت آپس میں مبارک باد دینا اور خوشخبریاں سنانا اور بشارتیں دینا فرشتوں کی سنت مبارکہ ہے۔ چنانچہ ابھی تھوڑی دیر پہلے پیش کردہ حضرت عمرو بن قتیبہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روایت کے ان الفاظ پر غور فرمائیے “جب حضرت آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے یہاں پیدائش کا وقت آیا تو اللہ تعالٰی نے حکم فرمایا کہ تمام فرشتے میرے سامنے حاضر ہو جائیں چنانچہ فرشتے ایک دوسرے کو “بشارتیں دیتے ہوئے حاضر ہونے لگے“ اور اسی روایت میں آگے ہے کہ “جب ولادت مبارکہ ہوئی تو تمام دنیا نور سے بھر گئی اور فرشتوں نے ایک دوسرے کو مبارک باد دی“ اور ابھی مدارج النبوت کی روایت میں بیان ہوا کہ “اور کوئی جانور ایسا نہ تھا جس کو قوت گویائی نہ دی گئی ہو اور اس نے بشارت نہ دی ہو، مشرق کے پرندوں نے مغرب کے پرندوں کو خوشخبریاں دی۔“

پیارے اسلامی بھائیو! پیش کردہ روایات کے ان حصوں پر غور کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکالنا کچھ زیادہ دشوار نہیں کہ “آمد مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر مبارکباد دینا اور آپس میں بشارت و خوشخبری سنانا، اللہ تعالٰی کو محبوب و مطلوب ہے کیونکہ فرشتوں اور جانوروں کی زبان پر ان کلمات کا جاری ہونا یقیناً اللہ عزوجل کی طرف سے کئے گئے الھام کی وجہ سے تھا۔“
اب باری ہے بوقت ولادت قیام کی۔

(8) بوقت ولادت قیام:-

کھڑے ہو کر استقبال محبوب باری تعالٰی کرنا، اللہ تعالٰی کے حکم سے فرشتوں کی سنت مبارکہ ہے چنانچہ مفتی احمد یار خاں نعیمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ، “جاءالحق“ میں تحریر فرماتے ہیں “مواہب لدنیہ اور مدارج النبوت وغیرہ میں ذکر ولادت میں ہے کہ شب ولادت ملائکہ نے آمنہ خاتون رضی اللہ تعالٰی عنہا کے دروازے پر کھڑے ہو کر صلوٰۃ و سلام عرض کیا، ہاں ازلی راندہ ہوا (یعنی ہمیشہ دھتکارا ہوا) شیطان، رنج و غم میں بھاگا بھاگا پھرا، اس سے معلوم ہوا کہ میلاد سنت ملائکہ بھی ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ بوقت پیدائش کھڑا ہونا ملائکہ کا کام ہے اور بھاگا بھاگا پھرنا، شیطان کا فعل۔ اب لوگوں کو اختیار ہے چاہیں تو میلاد پاک کے ذکر کے وقت ملائکہ کے فعل پر عمل کریں یا شیطان کے۔“

اور بی بی آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا وقت ولادت کے واقعات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتی ہیں “پھر میں نے نور کا ایک بلند مینار دیکھا اس کے بعد اپنے پاس بلند قامت والی عورتیں دیکھیں، جن کا قد عبد مناف کی لڑکیوں کی مانند، کھجور کے درختوں کی طرح تھا، میں نے ان کے آنے پر تعجب کیا۔ اس پر ان میں سے ایک نے کہا میں آسیہ، فرعون کی بیوی ہوں (آپ موسٰی علیہ السلام پر ایمان لے آئیں تھیں)۔ دوسری نے کہا میں “مریم بنت عمران ہوں اور یہ عورتیں حوریں ہیں۔“ پھر میرا حال بہت سخت ہو گیا اور ہر گھڑی عظیم سے عظیم تر آوازیں سنتی، جن سے خوف محسوس ہوتا۔ اسی حالت کے دوران میں نے دیکھا کہ زمین آسمان کے درمیان “بہت سے لوگ کھڑے ہیں“ جن کے ہاتھوں میں چاندی کے آفتاب ہیں۔“ (مدارج النبوت)

اور ما قبل روایت میں عرض کیا جا چکا ہے کہ “سورج کو اس دن عظیم روشنی دی گئی اور اس کے کنارے پر فضا میں “ستر حوریں کھڑی کر دی گئیں“ جو مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی منتظر تھیں“ اب اس کے بعد روزہ رکھنے کی دلیل پیش خدمت ہے۔

(9) روزہ رکھنا :-

بروز ولادت روزہ رکھنا محبوب کبریا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے چنانچہ مسلم شریف میں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے پیر کے دن کے روزے کا سبب دریافت کیا گیا (یعنی پوچھا گیا کہ آپ خاص طور پیر کے دن، روزہ رکھنے کا اہتمام کیوں فرماتے ہیں) تو آپ نے ارشاد فرمایا اسی میں میری ولادت ہوئی اور اسی میں مجھ پر وحی نازل ہوئی۔“

(10) عیدی تقسیم کرنا:-

یوم ولادت عیدی تقسیم کرنا ہمارے اللہ عزوجل کی سنت کریمہ ہے پہلے عیدی کا مطلب جان لیجئے کہ لغوی اعتبار سے “عید کے انعام“ کو عیدی کہتے ہیں اب اس پر بطور دلیل میں، آپ کو وہی روایت یاد دلاؤں گا کہ جو گھر وغیرہ کو سجانے کے بارے میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی تھی اور حضرت عمرو بن قتیبہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی تھی اس روایت کے یہ جملے یاد کیجئے،

(1) دنیا کے پہاڑ بلند ہو گئے (2) سورج کو اس دن عظیم روشنی عطا کی گئی (3) دنیا کی تمام عورتوں کیلئے نرینہ اولاد مقرر فرمائی (4) حکم فرمایا کہ کوئی درخت بغیر پھل کے نہ رہے (5) جہاں بدامنی ہے وہاں امن ہو جائے (6) تمام دنیا نور سے بھر گئی (7) آسمان روشن ہو گئے ( 8 ) حوض کوثر کے کنارے مشک و عنبر کے ستر ہزار درخت پیدا فرمائے اور ان کے پھلوں کو اہل جنت کی خوشبو قرار دیا۔“

اب دیکھتے جائیے کہ اللہ تعالٰی نے اپنے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خوشی میں بطور عیدی کیا کیا چیزیں تقسیم فرمائیں چنانچہ “پہاڑوں کو بلندی، سورج کی عظیم روشنی، عورتوں کو نرینہ اولاد درختوں، کو پھل، دنیا والوں کو امن و نور، آسمان کو روشنی اور اہل جنت کیلئے خوشبو کا تحفہ تقسیم ہوا۔

اور مدارج النبوت میں منقول روایت میں ہے “قریش کا یہ حال تھا کہ وہ شدید قحط اور عظیم تنگی میں مبتلا تھے چنانچہ تمام درخت خشک اور تمام جانور نحیف و لاغر ہو گئے تھے پھر (مولود پاک کی برکت سے) اللہ تعالٰی نے بارش بھیجی، جہاں بھر کو سر سبز و شاداب کیا، درختوں میں تازگی آ گئی، خوشی و مسرت کی ایسی لہر دوڑی کہ قریش نے اس سال کا نام سنۃ الفتح والا ابتہاج (یعنی روزی اور خوشی کا سال) رکھا۔“

اس روایت سے بارش، سرسبز و شادابی، درختوں میں تازگی اور خوشی و مسرت کی عیدی کی تقسیم کا ثبوت۔“ ملا۔

اور اب آخر میں جلوس نکالنے کی اصل بھی پیش خدمت ہے۔

(11) جلوس نکالنا :-

جلوس نکالنے کے بارے میں اصل، مدارج النبوت میں درج شدہ یہ روایت ہے کہ جس میں بیان کیا گیا ہے کہ جب مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہجرت فرما مدینہ منورہ کے گردونواح میں پہنچے تو بریدہ اسلمی (رضی اللہ تعالٰی عنہ) اپنے قبیلے کے ستر لوگوں کے ساتھ، انعام کے لالچ میں رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو گرفتار کرنے کیلئے حاضر ہوئے، لیکن کچھ گفتگو کے بعد آپ نے مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا “آپ کون ہیں ؟“ فرمایا “ میں محمد بن عبداللہ، اللہ کا رسول ہوں “ آپ نے جیسے ہی نام اقدس سنا تو دل کی کیفیات بدل گئیں اور اسلام قبول فرما لیا، آپ کے ساتھ، تمام ساتھیوں نے بھی اس سعادت کو حاصل کیا پھر آپ نے عرض کیا “یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم“ مدینہ میں داخل ہوتے ہی وقت آپ کے ساتھ ایک جھنڈا ہونا چاہئیے۔“ اس کے بعد آپ نے اپنے سر سے عمامہ اتارا اور اسے نیزے پر باندھ لیا اور (بحیثیت خادم) سیدالانبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے آگے آگے چلنے لگے۔“

پیارے اسلامی بھائیو! چشم تصور سے اس منظر کو دیکھئے کہ آگے آگے جھنڈے سمیت بریدہ اسلمی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں، پھر مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ اور آپ حضرات کے پیچھے ستر صحابہء کرام علیہم الرضوان ہیں“ اور اب ذرا موجودہ دور میں نکلنے والے جلوس کا تصور ذہن میں لیکر آئیں، آپ کو ان دونوں میں مشابہت کا محسوس کرنا، بےحد آسان معلوم ہو گا۔“

پیارے اسلامی بھائیو! اس تمام تفصیل سے آپ نے بخوبی جان لیا ہوگا کہ آج کل جس مروجہ طریقے سے بارھویں شریف کا انعقاد کیا جاتا ہے، اس کی کوئی نہ کوئی اصل، زمانہء گزشتہ میں ضرور موجود رہی ہے۔

اب رہی دوسری چیز کہ “باقاعدہ مخصوص دنوں میں اس کا اہتمام کرنا تو یہ حقیقت ہے کہ ولادت پاک پر جشن منانے کا باقاعدہ اہتمام نہ تو زمانہء نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں تھا اور نہ ہی صحابہءکرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کے درمیان رائج تھا بلکہ اس کی ابتداء بعد کے زمانے میں ہوئی جیسا کہ حضرت علامہ شاہ محمد مظہراللہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ “تحدیث نعمت“ میں فرماتے ہیں “بتلانا یہ ہے کہ عرس اور مولود کا ایسا مسئلہ نہیں جو اس زمانے کی پیداوار ہو بلکہ تقریباً آٹھ سو سال سے متقدمین، (یعنی پہلے زمانے کے لوگ) مولود شریف کے جواز (یعنی جائز ہونے) اور استحباب (یعنی پسندیدہ ہونے) پر متفق ہیں تو اس کی بدعت (بدعت سے مراد سیئہ ہے۔ تفصیل انشاءاللہ عزوجل آگے آ رہی ہے) و حرام کہنا ان ہزار ہا جلیل القدر حضرات پر طعن کرنا ہے جو گناہ عظیم ہے، اللہ تعالٰی مسلمانوں کو اس گناہ سے محفوظ رکھے، رہا یہ خدشہ کہ جب حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اور صحابہء رضی اللہ تعالٰی عنہم کے زمانے میں ایسی مجالس نہیں ہوتی تھیں تو پھر ایسی مجالس کی ترویج کیوں کی گئی ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے افعال کیلئے ضرورتیں مجبور کرتی ہیں، جس طرح قرآن کی عبارت پر اعراب نہ تھے، جب یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ عجمی لوگ (غیر عرب) اسے کیسے پڑھیں گے، تو اعراب لگائے گئے۔“ احادیث نہ لکھی جاتی تھیں (یعنی باقاعدہ اہتمام کے ساتھ کتابی شکل میں) بلکہ لکھنے کی ممانعت تھی لیکن جب یہ دیکھا کہ اب لوگوں کے حافظے ضعیف ہو گئے تو احادیث لکھی گئیں، اسی طرح بکثرت ایسی چیز پائیں گے جن کا وجود قرن اول (یعنی پہلے زمانے) میں نہ تھا، بعد میں بضرورت نکالی گئیں یہی حال اس کا سمجھئے، پہلے زمانے میں شوق تھا اور لوگ، علماء کی مجالس میں جا کر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے فضائل و مناقب اور آپ کی ولادت کے واقعات سن کر اپنے ایمان کو تازہ کرتے اور آپ کے ساتھ محبت کو ترقی دیتے تھے جو مولٰی تعالٰی کو مطلوب تھا، لیکن جب یہ دیکھا کہ مسلمانوں کے اس شوق میں کمی آ گئی، حالانکہ اس کی سخت ضرورت ہے تو اس کو دیکھتے ہوئے سب سے پہلے اس کارخیر کی ابتداء شہر موصل میں حضرت عمرو بن محمد رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کی جو کہ اکابر علماء میں سے تھے جیسا کہ ابوشامہ نے لکھا ہے، اس کے بعد بادشاہوں میں سے اول بادشاہ ابوسعید مظفر نے مولود شریف تخصیص و تعین کے ساتھ اس شان کے ساتھ کیا کہ اکابریں علماء و صوفیاء کرام اس محفل میں بلا نکیر (بغیر کسی انکار کے) شریک ہوتے تھے تو گویا تمام اکابرین کا جواز و استحباب پر اتفاق ہو گیا تھا۔

یہ بادشاہ ہر سال ربیع الاول شریف میں “تین لاکھ اشرفیاں“ (یعنی سونے کے سکے) لگا کر یہ محفل کیا کرتا تھا۔ اس کے زمانے میں ایک عالم حافظ ابوالخطاب بن وجیہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تھے، جن کے علم کی علامہ زرقانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اپنی تصانیف میں بڑی تعریف کی ہے، انھوں نے سلطان ابوسعید کیلئے بیان مولودشریف میں ایک کتاب “کتاب التنویر فی مولد سراج المنیر“ تصنیف کی، جس کو خود ہی سلطان کے سامنے پڑھا، سلطان بڑا خوش ہوا اور آپ کو ہزار اشرفی انعام میں دی، اس کے بعد تو دنیا کے تمام اطراف و بلاد (یعنی شہروں قصبوں) میں ماہ ربیع الاول میں مولود شریف کی محفلیں ہونے لگیں، جس کی برکت سے مولائے کریم کا فضل عمیم (یعنی کامل فضل) ظاہر ہونے لگا۔

پیارے اسلامی بھائیو! بیان کردہ تفصیل سے بخوبی معلوم ہو گیا کہ بارھویں شریف کا باقاعدہ اہتمام، زمانہ نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے کافی عرصہ بعد شروع ہوا لٰہذا اس اعتبار سے تسلیم کیا جائے گا کہ یہ بدعت ہے۔ لیکن اس کے بدعت ثابت ہوتے ہی اس پر حرام و گمراہی کا فتوی لگانا درست ہے یا نہیں ؟ اس کا درست فیصلہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب کہ پہلے ہم بدعت کے شرعی معنی، اس کی اقسام اور پھر اقسام میں سے ہر قسم کا حکم معلوم کریں اور پھر دیکھیں کہ موجودہ مروجہ بارھویں شریف کا انعقاد، بدعت کی کس قسم میں داخل ہے۔ چنانچہ اب میں آپ کی خدمت میں یہ تمام ضروری تفصیل بہت آسان الفاظ میں عرض کرتا ہوں، حسب سابق اسے بھی بغور سماعت فرمائیے، سب سے پہلے بدعت کے شرعی معنی حاضر خدمت ہیں۔

بدعت کے شرعی معنی :-

“ہر وہ چیز جو سیدالانبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے زمانہء مبارکہ کے بعد ایجاد ہوئی بدعت ہے، یہ عام ہے کہ وہ چیز دینی ہو یا دنیاوی، اس کا تعلق عقائد سے ہو یا اعمال سے۔“
دلیل :- اس تعریف پر دلیل رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان عالیشان ہے “کل محدثۃ بدعۃ“ یعنی ہر نئی ایجاد کی ہوئی چیز بدعت ہے۔ (احمد، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ)
یہ بھی خیال رکھئے گا کہ بدعت کہ تعریف میں “زمانہء نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی قید“ لگائی گئی ہے، چنانچہ صحابہءکرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کے زمانہء پاکیزہ میں ایجاد شدہ نئے کام کو بھی بدعت ہی کہا جائے گا جیسا کہ “بخاری شریف“ میں ہے کہ جب رمضان المبارک میں، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے لوگوں کو تراویح کی ادائیگی کیلئے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پیچھے جمع فرمایا، اور تشریف لاکر لوگوں کو جماعت سے نماز ادا کرتے دیکھا تو ارشاد فرمایا “نعم البدعۃ ھذہ“ یہ (بڑی جماعت) اچھی بدعت ہے۔“

چونکہ زمانہء سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں بیس رکعت تراویح “باقاعدہ جماعت کے ساتھ“ نہ ہوتی تھیں بلکہ آپ نے اپنے زمانہ خلافت میں اس کا انتظام فرمایا، لٰہذا اسے بدعت سے تعبیر فرمایا اور اس طرح دو مسئلے بخوبی ثابت ہو گئے،

  • صحابہءکرام علیہم الرضوان کے زمانہء مبارکہ میں نیا پیدا شدہ کام بھی بدعت ہی کہلائے گا اگرچہ عرفاً اسے سنت صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کہا جاتا ہے۔
  • ہر بدعت حرام و گمراہی نہیں، ورنہ معاذاللہ، ایک صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا حرام کام کرنا اور بقیہ صحابہءکرام علیھم الرضوان کا اس پر اتفاق کرکے گناہ میں تعاون کرنا ثابت ماننا پڑے گا حالانکہ یہ ناممکنات میں سے ہے۔ بدعت کی شرعی تعریف جاننے کے بعد اب اس کی اقسام کے بارے میں بھی سماعت فرمائیے کہ اس کی ابتداء دو قسمیں ہیں۔
  1. بدعت اعتقادی
  2. بدعت عملی

 (1) بدعت اعتقادی :-

اس سے مراد برے عقائد ہیں جو مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے بعد ایجاد ہوئے مثلاً یہ عقیدہ رکھنا کہ معاذاللہ، اللہ تعالٰی جھوٹ بول سکتا ہے یا ہمارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم خاتم النبیین نہیں بلکہ کوئی اور نبی اب بھی آ سکتا ہے یا بے عیب و بےمثال آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا ہم مثل ممکن ہے یا ہمارے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمارے بڑے بھائی کی طرح ہیں یا شیطان و ملک الموت علیہ السلام کا علم، سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے علم مبارک سے زیادہ ہے وغیرہ وغیرہ۔

دلیل:-

اس قسم کیلئے دلیل مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان عالیشان ہے “من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھورد۔“ جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی بات نئی ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ باطل و مردود ہے۔ (بخاری و مسلم) ہاں نئی بات سے مراد نئے عقیدے ہیں۔“

(2) بدعت عملی :-

وہ نیا کام جو مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے زمانہءپاک کے بعد پیدا ہوا، چاہے وہ کام دینی ہو یا دنیاوی“ پھر اس کی دو قسمیں ہیں (1) بدعت حسنہ (2) بدعت سیئہ

  1. بدعت حسنہ : ہر وہ نیا کام جو نہ تو خلاف سنت ہو اور نہ ہی کسی سنت کے مٹانے کا سبب بنے۔
  2. بدعت سیئہ: ہر وہ نیا کام جو کسی سنت کے خلاف ہو یا کسی سنت کے مٹانے کا سبب بن جائے۔

ان دو قسموں کی دلیل :

ان پر دلیل ہمارے مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان عالیشان ہے “جو اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے تو اس کیلئے اپنے عمل کا اور جو اس کے بعد اس پر عامل ہوں گے ان سب کے اعمال کا ثواب ہے بغیر اس کے کہ ان لوگوں کے اجر میں سے کچھ کمی ہو اور اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کرے تو اس پر اپنی بدعملی کا اور ان سب کی بد اعمالیوں کا گناہ ہے کہ جو اس کے بعد اس پر عامل ہوں گے، بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں سے کچھ کمی ہو (مسلم شریف)
اب آخر میں یاد رکھئے کہ بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ کی بھی مزید کچھ قسمیں ہیں چنانچہ بدعت حسنہ کی تین قسمیں ہیں (1) بدعت مباحہ (2) بدعت مستحبہ (3) بدعت واجبہ

اور بدعت سیئہ کی دو قسمیں ہیں

(1) بدعت مکروہہ (2) بدعت محرمہ

اب بالترتیب ان سب کی تعریفیں اور مثالیں بھی سماعت فرما لیں۔

بدعت مباحہ:

ہر وہ نیا کام جو شریعت میں منع نہ ہو اور بغیر کسی نیت خیر کے کیا جائے جیسے جائز طریقوں کے ساتھ پاکستان کا یوم آزادی منانا، نئے نئے کھانے مثلاً بریانی، کوفتے، زردہ وغیرہ۔

(2) بدعت مستحبہ:

ہر وہ نیا کام جو شریعت میں منع نہ ہو اور کسی نیت خیر کے ساتھ کیا جائے۔ مثلاً اسپیکر میں اذان دینا، بارھویں شریف اور بزرگان دین کے اعراس کی محافل قائم کرنا وغیرہ۔

(3) بدعت واجبہ :

ہر وہ نیا کام جو شریعت میں منع نہ ہو اور اس کے چھوڑنے سے دین میں حرج واقع ہو یا وہ نیا کام جو کسی فرض یا واجب کو پورا کرنے یا اسے تقویت دینے والا ہو جیسے قرآن مجید پر اعراب لگانا، علم صرف و نحو پڑھنا اور دینی مدارس قائم کرنا وغیرہ۔

(4) بدعت مکروھہ :

وہ نیا کام جو سنت کے مخالف ہو اب اگر کسی سنت غیر مؤکدہ (وہ سنت ہے کہ جس کے ترک کو شریعت ناپسند رکھے لیکن یہ ناپسندیدگی اس حد تک نہ ہو کہ ترک پر وعید عذاب بیان کی گئی ہو) کے مخالف ہو تو یہ بدعت مکروہ تنزیہی ہے (سنت غیر مؤکدہ کے مخالف عمل کو کہتے ہیں) اور اگر سنت مؤکدہ (وہ سنت کہ جسے سرکار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ کیا ہو البتہ بیان جواز کے لئے کبھی ترک بھی فرمایا ہو۔ یا وہ کہ اس کے کرنے کی تاکید فرمائی مگر جانب ترک بالکل بند نہ فرمائی) چھوٹی تو یہ بدعت اساءت (سنت مؤکدہ کے مخالف عمل کو کہتے ہیں) مثلاً سلام کے بجائے ہائے ہیلو سے کلام کی ابتداء کرنا، عادہً ننگے سر رہنا وغیرہ۔

(5) بدعت محرمہ :

وہ نیا کام جو کسی فرض یا واجب کے مخالف ہو جیسے داڑھی منڈانا یا ایک مٹھی سے چھوٹی رکھنا وغیرہ۔

ان سب پر دلیل :

ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ، مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں “بدعت یا تو واجب“ ہے جیسے علم نحو کو سیکھنا اور اصول فقہ کا جمع کرنا اور یا محرمہ ہے جیسے جبریہ مذہب (اس فرقہ کا اعتقاد ہے کہ انسان کو اپنے اعمال و افعال پر کوئی اختیار نہیں ہے) اور یا مستحب ہے جیسے مسافر خانوں اور مدرسوں کا ایجاد کرنا اور ہر وہ اچھی بات جو پہلے زمانے میں نہ تھی اور جیسے عام جماعت سے تراویح پڑھنا اور یا “مکروہہ“ ہے جیسے مسجدوں کو فخریہ زینت دینا یا مباحہ فجر کی نماز کے بعد مصافحہ کرنا اور عمدہ کھانوں اور مشروبات میں وسعت کرنا۔“

پیارے اسلامی بھائیو ! معلوم ہوتا ہے کہ اس تفصیل کی بناء پر سب کچھ ذہن میں گڈ مڈ ہو گیا ہے، چلیں میں آپ کے سامنے مختصر ان تقسیمات کا خلاصہ عرض کر دیتا ہوں۔

یاد رکھیں کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں۔

(1) بدعت اعتقادی (2) بدعت عملی

پھر بدعت عملی کی پانچ قسمیں ہیں

(1) بدعت مباحہ (2) بدعت مستحبہ (3) بدعت واجبہ (4) بدعت مکروہہ (5) بدعت محرمہ

“ اب خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے فرمان عالیشان “(کل بدعۃ ضلالۃ“) سے مراد یا تو “بدعت اعتقادی“ ہے اور یا پھر “بدعت مکروہہ“ اور “بدعت محرمہ“ اور اب جب کہ بدعت کی تمام اقسام اور ان کا حکم بالکل واضح ہو گیا تو یہ فیصلہ کرنا کچھ بھی دشوار نہ رہا کہ “بارھویں شریف“ کا انعقاد، بدعت مستحبہ ہونے کی وجہ سے سعادت مندی اور باعث اجر و ثواب ہے۔“

پیارے اسلامی بھائیو! ان تمام دلائل کے علاوہ ایک اور دلیل سے بھی بارھویں شریف کے جواز کو ثابت کرنا ممکن ہے اس کی تفصیل یہ کہ یہ ضابطہ ہمیشہ ذہن میں رکھئے کہ “کسی چیز کو جائز قرار دینے کے لئے دلیل درکار نہیں ہوتی بلکہ ناجائز ثابت کرنے کیلئے دلیل کا مطالبہ کیا جاتا ہے“ کیونکہ تمام چیزوں میں اصل یہ ہے کہ وہ مباح (جس چیز کا کرنا نہ کرنا برابر ہو یعنی نہ تو کرنے پر ثواب ہے اور نہ ہی چھوڑ دینے پر کوئی گناہ ہے) ہیں جیسا کہ “ردالمحتار“ میں ہے “المختار ان الاصل لاباحۃ عند الجمھور من الحنفیۃ والشافعیۃ جمھورا حناف و شوافع کے نزدیک مختار مذہب یہ ہے کہ (“ تمام چیزوں میں) اصل، مباح ہونا ہے“ چنانچہ اب اگر ہم کسی چیز کو ناجائز و حرام کہنا چاہیں تو پہلے ہمیں قرآن و حدیث سے اس کی ممانعت پر دلیل پیش کرنا لازم ہوگا، مثلاً اگر کوئی پوچھے کہ “ آپ شراب پینے، جوا کھیلنے، محرمات سے نکاح کرنے، مرادر کتے بلی حشرات الارض وغیرہ کھانے کا ناجائز و حرام کیوں کہتے ہیں ؟“ تو یقیناً یہی جواب دیا جائے گا کہ، “ان سب کو قرآن و حدیث میں منع کیا گیا ہے“

اب جو بدبخت معاذاللہ اپنے نبی علیہ السلام کی خوشی منانے کو ناجائز و حرام کہے تو ضابطے کے مطابق اس سے مطالبہ کیا جانا چاہئیے کہ “اچھا اگر واقعی ایسا ہے تو قرآن و حدیث سے اس کی ممانعت کی دلیل پیش کیجئے۔“ آپ دیکھیں گے کہ انشاءاللہ عزوجل قیامت تک ممانعت پر دلیل لانے سے عاجز رہے گا اورا س کا عاجز آ جانا ہی اس بات کی دلیل ہو گا کہ مولود مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا جشن منانا بالکل جائز و مستحن ہے۔ بلکہ ایسے لوگوں کو یہ ناپاک جملے زبان سے نکالنے سے ڈرنا چاہئیے کیونکہ ان کا یہ فعل اللہ عزوجل کی سخت گرفت کا باعث بن سکتا ہے انھیں چاہئیے کہ خوب ٹھنڈے دل کیساتھ ان آیات پر غور کریں اللہ تعالٰی کا فرمان عالیشان ہے یایھاالذین امنو لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم ولا تعتدوا ط ان اللہ لا یحب المعتدین ہ اے ایمان والو! حرام نہ ٹھہراؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ (عزوجل) نے تمھارے لئے حلال کیں اور حد سے نہ بڑھو، بےشک حد سے بڑھنے والے اللہ (تعالٰی) کو ناپسند ہیں ( پارہ7 سورۃ مائدہ آیت87 ) اور ارشاد فرمایا “قل ارءیتم ما انزل اللہ لکم من رزق فجعلتم منہ حراما و حلٰلا ط قل اللہ اذن لکم ام علی اللہ تفترون ہ تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو اللہ (عزوجل) نے تمھارے لئے رزق اتارا، اس میں تم نے اپنی طرف سے حرام و حلال ٹھہرالیا، تم فرماؤ کیا اللہ تعالٰی نے اس کی تمھیں اجازت دی یااللہ (عزوجل) پر جھوٹ باندھتے ہو (سورہ یونس پارہ 11 آیت 59)

تفسیر خزائن العرفان میں اسی آیت پاک کے تحت ہے “اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ کسی چیز کو اپنی طرف سے حلال یا حرام کرنا ممنوع اور اللہ تعالٰی پر “جھوٹ باندھنا“ ہے آج کل بےشمار لوگ اس میں مبتلا ہیں کہ ممنوعات کو حلال کہتے ہیں اور مباحات کو حرام۔ بعض سود، تصویروں، کھیل تماشوں، عورتوں کی بےپردگیوں، بھوک ہڑتال جو “خودکشی“ ہے، کو حلال ٹھہراتے ہیں اور بعض حلال کو حرام ٹھہرنے پر مصر ہیں جیسے محفل میلاد، فاتحہ، گیارھویں شریف وغیرہ اسی کو قرآن پاک میں اللہ تعالٰی پر افتراء کرنا بتایا۔“ اور انھیں یہ حدیث پاک بھی خوب اچھی طرح یاد رکھنی چاہئیے کہ “مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے گھی، پنیر اور پوستین کے بارے میں سوال کیا گیا (کہ ان کا استعمال ہمارے لئے جائز ہے یا نہیں)“ تو آپ نے ارشاد فرمایا “حلال وہ ہے جسے اللہ تعالٰی نے اپنی کتاب میں حلال کیا اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالٰی نے اپنی کتاب میں حرام کیا، اور جس چیز کے بارے میں خاموشی اختیار فرمائی تو وہ ان چیزوں میں سے ہے کہ جنھیں معاف فرمایا گیا ۔ (ترمذی)

اس تمام بحث و تفصیل کا نتیجہ بھی یہی نکلا کہ چونکہ بارھویں شریف کی ممانعت نہ تو قرآن سے ثابت ہے اور نہ حدیث سے چنانچہ یہ بالکل جائز و مستحب و باعث حصول برکات و بلندیء درجات ہے۔“

جاوید: اللہ تعالٰی کا بڑا شکر ہے کہ آپ کے دلائل سے ہمارے دلوں میں موجود تمام سوالوں کا جواب حاصل ہو گیا اور مجھ سمیت میرے ان تمام دوستوں میں سے کسی کو بھی میلاد شریف کے جائز ہونے کے بارے میں اب کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہیں۔

باقی دوست: جی ہاں بالکل، یہی بات ہے۔

جاوید: اگر آپ محسوس نہ فرمائیں تو چند مذید سوالات کے جوابات بھی عنایت فرما دیجئے، یہ ایسے سوالات ہیں کہ جو میلاد پاک کو جائز ماننے کے بعد بھی ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔

احمد رضا: ہاں ہاں ضرور پوچھئے، اگر مجھے معلوم ہوا تو انشاءاللہ عزوجل ان کے جوابات بھی ضرور عرض کرنے کی سعادت حاصل کروں گا۔

جاوید: بہت بہت شکریہ، اگلا سوال یہ ہے،

سوال: اس پر کیا دلیل ہے کہ میلاد رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر خوشیاں منانا، اللہ تعالٰی اور اس کے نبیء کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی رضا و خوشنودی کا سبب ہے ؟

احمدرضا: موقع میلادالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر اللہ تعالٰی کی خوشی کا اندازہ اس عبارت سے لگائیے کہ جسے شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے “ماثبت من السنۃ“ میں نقل فرمایا ہے، تحریر فرماتے ہیں، “ابو لہب نے اپنی لونڈی ثوبیہ کو اس صلے میں آزاد کر دیا تھا کہ اس نے (یعنی ثوبیہ) نے اسے سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کی خبر دی تھی تو ابولہب کے مرنے کے بعد کسی نے اسے خواب میں دیکھا، پوچھا کہ “کہو کیا حال ہے ؟“ بولا “آگ میں ہوں البتہ اتنا کرم ہے کہ ہر پیر کی رات مجھ پر تخفیف کر دی جاتی ہے اور اشارے سے بتایا کہ “اپنی دو انگلیوں سے پانی چوس لیتا ہوں“ اور یہ عنایت مجھ پر اس وجہ سے ہے کہ مجھے ثوبیہ نے بھتیجے (یعنی نبیء اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی پیدائش کی خبر دی تھی تو اس بشارت کی خوشی میں، میں نے اسے دو انگلیوں کے اشارے سے آزاد کر دیا تھا اور پھر اس نے اسے دودھ پلایا تھا۔“ (خواب والا واقعہ بخاری شریف میں بھی موجود ہے۔)

(عبدالحق دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ مذید تحریر فرماتے ہیں کہ) اس پر علامہ جزری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ جب ابولہب جیسے کافر کا یہ حال ہے کہ اس کو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کی رات خوش ہونے پر دوزخ میں بھی بدلہ دیا جا رہا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے ان لوگوں کے حال کا کیا پوچھنا جو آپ کی پیدائش کے بیان سے خوش ہوتے ہیں اور جس قدر بھی طاقت ہوتی ہے ان کی محبت میں خرچ کرتے ہیں، مجھے اپنی اپنی عمر کی قسم! کہ ان کی جزاء خدائے کریم کی طرف سے یہی ہو گی کہ ان کو اپنے فضل عمیم (یعنی فضل کامل) سے جنات نعیم (آرام و نعت کے باغات یعنی جنت) میں داخل فرمائے گا۔“

اور مدنی مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی و مسرت کیلئے یہ روایت سنئے کہ جسے علامہ شاہ محمد مظہراللہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے “تصرفات محمدیہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم)“ میں نقل فرمایا ہے کہ آپ لکھتے ہیں “علامہ زرقانی نے بحوالہ تنویر، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نقل کیا ہے کہ وہ (یعنی ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ) اپنے گھر میں اپنے اہل و عیال اور چند افراد قوم کو جمع کرکے ان کے سامنے ولادت کے واقعات و حالات بیان فرما رہے تھے اور حمدالٰہی عزوجل اور درود و سلام میں مصروف تھے کہ اچانک سرور دو جہاں، شفیع مجرماں صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اور آپ کا یہ حال ملاحظہ فرما کر نہایت خوش ہوئے اور فرمایا “حلت لکم شفاعتی“ تمھارے لئے میری شفاعت حلال ہو گئی (یعنی لازم ہو گئی)“ (مظہراللہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اس کے بعد فرماتے ہیں) سبحان اللہ عزوجل! وہ لوگ کیسے خوش قسمت ہیں جو رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ذکر کی مجالس منعقد کرکے اپنی بخشش کا سامان کرتے ہیں۔“

اور “انفاس العارفین“ میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ “ان کے والد حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ میں ہر سال بارھویں شریف کے میلاد شریف میں طعام اور شیرنی تقسیم کرتا تھا، مگر ایک سال کچھ تنگ دستی ہو گئی تو میں نے بھنے ہوئے چنوں پر ہی فاتحہ دے کر میلاد شریف میں تقسیم کر دئیے میں نے خواب میں رحمت کونین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی، دیکھا کہ وہی چنے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھے ہوئے ہیں اور آپ خوش ہو رہے ہیں۔“

اور پیارے اسلامی بھائیو! اگر عقلی طور پر بھی دیکھا جائے تو با آسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ فعل، اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو خوش کرنے والا ہے، وہ اس طرح کہ بارھویں شریف کو سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے نسبت ہے اور ہمارا اس پر خوب خوشیاں منانا اس بات کی علامت ہےکہ ہمیں اپنے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے عالم میں رونق افروز ہونے سے خوشی و مسرت حاصل ہوئی ہے اور یہ فطری تقاضا ہے کہ جس چیز کو ہم سے نسبت ہو اس پر کسی کا خوشی کا اظہار کرنا ہمیں خوش کر دیتا ہے بس اسی طرح مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے نسبت رکھنے والی بارھویں شریف پر خوشی منانا آپ کو خوش کر دیتا ہے اور چونکہ ہمارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اپنے رب عزوجل کے حبیب ہیں اور اللہ تعالٰی کی خوشی اپنے حبیب کی خوشی میں پوشیدہ ہےچنانچہ جب حبیب باری تعالٰی خوش ہو گئے تو باری تعالٰی بھی ضرور ضرور خوش ہو گا۔

جاوید: بالکل درست، اب ایک اور سوال۔

سوال: ان اعمال پر سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو خوش ہونا تو اس صورت میں ممکن ہے کہ جب آپ کو ان تمام کاموں کی خبر ہو، تو اس پر کیا دلیل ہے کہ آپ ہمارے تمام افعال و اعمال پر واقف ہیں ؟

احمدرضا‌ : !یقیناً ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم بخوبی جانتے ہیں کہ آپ کا کون امتی، کس طرح خوشی کا اظہار کر رہا ہے۔

اس پر دلیل وہ حدیث پاک ہے جسے اعلٰی حضرت رضی اللہ تعالٰی عنہ نے “احکام شریعت“ میں نقل فرمایا ہے کہ سرکار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ “ہر پیر اور جمعرات کو اللہ تعالٰی کے حضور اعمال پیش ہوتے ہیں اور انبیاءکرام علیھم الصلوٰۃ والسلام اور ماں باپ کے سامنے ہر جمعے کو، وہ نیکیوں پر خوش ہوتے ہیں اور ان کے چہروں کی صفائی اور تابش بڑھ جاتی ہے تو اللہ عزوجل سے ڈرو اور اپنے مردوں کو اپنے گناہوں سے رنج نہ پہنچاؤ۔ (ارواہ الامام الحکیم عن والد عبدالعزیز رضی اللہ تعالٰی عنہ)

بلکہ اچھی طرح یاد رکھئے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا اعمال امت پر واقف ہونا، فقط اعمال ناموں کے خدمت اقدس میں پیش کئے جانے پر موقوف نہیں، بلکہ اللہ تعالٰی کی عطا اور اس کے فضل و کرم سے آپ بذات خود براہ راست اپنی پوری امت کے اعمال کا مشاہدہ فرمانے پر قادر ہیں، کائنات کی کوئی بھی شے آپ پر مخفی نہیں۔

جاوید: بعد وفات آپ ہمیں کس طرح دیکھ سکتے ہیں ؟

احمدرضا: شاید آپ کو یاد نہیں رہا، ابھی کچھ دیر پہلے میں نے ایک حدیث پاک بیان کی تھی کہ “انبیاء علیھم السلام اپنی قبور میں زندہ ہیں “ (ابن ماجہ)

جاوید: اچھا اس پر کیا دلیل ہے کہ آپ اتنے طویل فاصلے سے ہمیں دیکھ سکتے ہیں ؟

احمدرضا: اس پر بےشمار دلیلیں موجود ہیں۔ تنگیء وقت کی بناء پر دو دلیلیں پیش کرتا ہوں۔

(1) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں۔ “رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوا تو آپ نے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی، پھر فارغ ہوئے تو سورج صاف ہو چکا تھا۔ لوگوں نے عرض کی “یارسول اللہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم)! ہم نے (حالت نماز میں) دیکھا کہ آپ نے اپنی اس جگہ میں کچھ لیا (یعنی دوران نماز ہاتھ آسمان کی طرف بڑھا کر کسی چیز کو پکڑنے کا ارادہ فرمایا) پھر دیکھا کہ آپ پیچھے ہٹے (یعنی ان دونوں افعال کی کیا وجہ تھی ؟) (رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیتے ہوئے ارشاد) فرمایا “میں نے “جنت“ ملاحظہ کی تو اس سے ایک خوشہ لینا چاہا، اگر لے لیتا تو تم رہتی دنیا تک کھاتے رہتے (کیونکہ جنت کی نعمتوں میں فنا نہیں ہے) اور میں نے آگ (یعنی دوزخ) دیکھی تو آج کی طرح گھبراہٹ والا منظر کبھی نہ دیکھا، میں نے اس میں عورتوں کی تعداد زیادہ دیکھی۔“ (مسلم شریف)

پیارے اسلامی بھائیو! یہ ایک طویل حدیث پاک ہے لیکن میں نے ضرورتاً کچھ مختصر کرکے بیان کی ہے اگر آپ غور فرمائیں تو اس سے معلوم ہوا کہ ہمارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو بینائی میں بےحد وسعت عطا کی گئی ہے چنانچہ چاہیں تو ساتوں آسمانوں کے اوپر اور کروڑوں میل دور واقع جنت کو دنیا میں کھڑے کھڑے نہ صرف ملاحظہ فرما لیں بلکہ ایسے قادر و مختار ہیں کہ اگر چاہیں تو ہاتھ بڑھا کر اس کی نعمتیں بھی حاصل کر سکتے ہیں اور جب یہ دونوں چیزیں آپ کے لئے صحیح حدیث سے ثابت ہیں تو پھر یہ اعتقاد رکھنا کہ آپ ہمیں مدینہ منورہ سے دیکھ سکتے ہیں۔ اور اللہ تعالٰی کی عطا کردہ نعمتوں کو اپنے غلاموں کو تقسیم فرما سکتے ہیں بالکل حق و درست ہے۔

(2) آپ نے ولادت شریف کے واقعات میں سنا کہ بوقت ولادت ایسا نور نکلا کہ جس کی برکت سے بی بی آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے ہزاروں میل دور شام کے محلات کو اپنی چشمان ظاہری سے ملاحظہ فرما لیا۔ تو جب نور سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے والدہء محترمہ کی نگاہوں میں اتنی وسعت پیدا ہو گئی تو پھر خود اس سراپا نور کی بصارت کا عالم کیا ہو گا، اس کا اندازہ کرنا کچھ زیادہ دشوار نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مولانا امجد علی خاں رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بہارشریعت (حصہ ششم) میں تحریر فرماتے ہیں “یقین جانو کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سچی حقیقی و دنیاوی جسمانی حیات سے ویسے ہی زندہ ہیں جیسے وفات شریف سے پہلے تھے، ان کی اور تمام انبیاء علیھم السلام کی موت صرف وعدہء خدا عزوجل کی تصدیق کو، ایک آن کے لئے تھی ان کا انتقال صرف نظر عوام سے چھپ جانا ہے، امام محمد ابن حاج مکی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ “مدخل“ اور امام احمد قسطلانی “مواہب الدنیہ“ میں اور ائمہ دین رحمۃ اللہ تعالٰی علیھم اجمعین فرماتے ہیں، “ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی حیات و وفات میں اس بات میں کچھ فرق نہیں کہ وہ اپنی امت کو دیکھ رہے ہیں اور ان کی حالتوں، ان کی نیتوں، ان کے ارادوں اور ان کے دلوں کے خیالوں کو پہنچانتے ہیں اور یہ سب حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر ایسا روشن ہے جس میں اصلاً (یعنی بالکل) پوشیدگی نہیں۔“

جاوید :- سبحان اللہ عزوجل یہ بات سن کر تو بہت ہی لذت و سرور حاصل ہوا۔ دل خوش ہو گیا۔ اچھا اب ایک اور سوال ہے۔

سوال:- بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس موقع پر اتنا خرچ کرنے سے بہتر ہے کہ یہی رقم غریبوں کو دے دی جائے، اس طرح نہ جانے کتنوں کا بھلا ہو جائے گا۔

احمدرضا: پیارے اسلامی بھائیو! یہ صرف اور صرف ہمیں اپنے نبیء کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خوشیاں منانے سے روکنے کی ایک ناکام کوشش ہے، آپ سے گذارش ہے کہ خود اس قسم کے جملے کہنے والوں کے گھر میں جب کوئی تقریب ہو رہی ہو تو یہی “مخلصانہ“ مشورہ انھیں بھی دے کر دیکھئے، کبھی بھی اپنی تقریب موقوف کرکے غریبوں کو پیسہ نہ دیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا بارھویں پر دل کھول کر خرچ کرنا دراصل اللہ تعالٰی عزوجل کے فضل و کرم اور انعامات کی بارشیں طلب کرنے کے لئے ہی ہوتا ہے۔ اور یہ بات سب جانتے ہی ہیں کہ جب بارش برستی ہے تو پھر ہر خاص و عام کو اس سے فیض پہنچتا ہے۔ مولود پاک کے صدقے نازل ہونے والی برکات سے بھرپور مدنی بارش کا حال اس روایت سے بخوبی جانا جا سکتا ہے کہ جسے امام احمد قسطلانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے “مواہب الدنیہ“ میں نقل فرمایا ہے کہ “طبرانی“ و “بیہقی“ وغیرہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے نقل کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں کہ “میں قبیلہ بنی سعد بن بکر کے ساتھ دودھ پلانے کے لئے کسی بچے کو لینے مکہء مکرمہ آئی یہ زمانہ شدید قحط سالی کا تھا آسمان سے زمین پر پانی کا ایک قطرہ نہ برستا تھا ہماری ایک مادہ گدھی تھی جو لاغری و کمزوری کی وجہ سے چل نہیں سکتی تھی ایک اونٹنی تھی جو دودھ کی ایک بوند نہ دیتی تھی میرے ساتھ میرا بچہ اور میرے شوہر تھے ہماری تنگی کا یہ عالم تھا کہ رات چین سے گزرتی تھی اور نہ دن آرام سے۔ جب ہمارے قبیلے کی عورتیں مکہ پہنچیں تو انھوں نے دودھ پلانے کے لئے تمام بچوں کو لے لیا، سوائے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے۔ کیونکہ جب وہ یہ سنتی تھیں کہ وہ یتیم ہیں تو ان کے یہاں جاتی ہی نہ تھیں۔ کوئی عورت ایسی نہ رہی جس نے کوئی بچہ نہ لے لیا ہو صرف میں ہی باقی تھی اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے سواء کسی کو نہ پاتی تھی۔ میں نے اپنے شوہر سے کہا “واللہ عزوجل! بغیر بچے لیے مکہء مکرمہ سے لوٹنا مجھے اچھا معلوم نہیں ہوتا، میں جاتی ہوں اور اس یتیم بچے کو لئے لیتی ہوں، میں اسی کو دودھ پلاؤں گی۔“ ا سکے بعد میں گئی، میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم دودھ سے زیادہ سفید اونی کپڑے میں لپٹے ہوئے ہیں اور آپ سے مشک و عنبر کی خوشبوئیں لپٹیں مار رہی ہیں، آپ کے نیچے سبز ریشم بچھا ہوا ہے اور آپ خراٹے (آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے خراٹے بہت بلند نہ ہوتے تھے بلکہ بہت آہستہ آہستہ خراٹے لیتے، جس سے کسی کو تکلیف نہ ہوتی تھی۔) لیتے ہوئے اپنی گدی شریف پر محو خراب ہیں، میں نے چاہا کہ آپ کو نیند سے بیدار کر دوں مگر آپ کے حسن و جمال پر فریفتہ ہو گئی، پھر میں نے آہستہ سے قریب ہو کر اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر اپنا ہاتھ آپ کے سینہء مبارکہ پر رکھا تو آپ نے تبسم فرما کر اپنی چشم مبارک کھول دی (ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شان ہے ورنہ ایسے موقع پر بچے عموماً روتے ہیں) میری طرف نظر کرم اٹھائی تو آپ کے چشمان مبارک سے ایک نور نکلا جو آسمان تک پرواز کر گیا میں نے آپ کی دونوں چشمان مبارک کے درمیان بوسہ دیا اور اپنی گود میں بٹھا لیا تا کہ دودھ پلاؤں، میں نے داہنا پستان آپ کے دہن مبارک میں دیا آپ نے دودھ نوش فرمایا پھر میں نے چاہا کہ اپنا بایاں دہن مبارک میں دوں تو آپ نے نہ لیا اور نہ پی، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ “حق تعالٰی نے آپ کو ابتدائی حالت میں ہی عدالت و انصاف ملحوظ رکھنے کا الھام فرما دیا تھا اور آپ جانتے تھے کہ ایک ہی پستان میں دودھ آپ کا ہے کیونکہ حلیمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا اپنا بیٹا بھی ہے۔“

حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ “اس کے بعد آپ کا یہی حال رہا کہ ایک پستان کو اپنے رضاعی (یعنی دودھ شریک) بھائی کیلئے چھوڑ دیا کرتے تھے، پھر آپ کو لے کر اپنے شوہر کے پاس آئی، وہ بھی آپ کے حسن و جمال مبارک پر عاشق ہو گئے اور سجدہ شکر ادا کیا، وہ اپنی اونٹنی کے پاس گئے دیکھا تو اس کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے حالانکہ پہلے ان میں ایک قطرہ بھی نہ تھا، انھوں نے دودھ دوہا، ہم سب نے سیر ہو کر پیا، اور خیرو برکت کے ساتھ اس رات چین کی نیند سوئے۔ اس سے پہلے بھوک و پریشانی میں نیند نہیں آتی تھی۔ میرے شوہر نے کہا “اے حلیمہ! بشارت و خوشخبری ہو کہ تم نے اس ذات گرامی کو لے لیا، تم نہیں دیکھتیں کہ ہمیں کتنی خیرو برکت حاصل ہوئی ہے یہ سب اس ذات مبارک کے طفیل ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ ہمیشہ اور زیادہ خیرو برکت رہے گی۔“

اس کے بعد سیدہ آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے مجھے رخصت کیا، میں اپنی مادہ گدھی پر آپ کو گود میں لے کر سوار ہوئی میری گدھی خوب چست و چالاک ہو گئی اور اپنی گردن اوپر تان کر چلنے لگی جب ہم کعبہ کے سامنے پہنچے تو اس نے تین سجدے کئے اور اپنے سر کو آسمان کی طرف اٹھا کر چلائی۔ پھر قبیلے کے جانوروں کے آگے آگے دوڑنے لگی، لوگ اس کی تیز رفتاری پر تعجب کرنے لگے، عورتوں نے مجھ سے کہا، “اے بنت ذویب! کیا یہ وہی جانور ہے جس پر سوار ہو کر ہمارے ساتھ آئی تھیں جو تمھارے بوجھ کو اٹھا نہیں سکتا تھا اور سیدھا چل تک نہ سکتا تھا ؟“ میں نے جواب دیا “واللہ عزوجل یہ وہی جانور ہے لیکن اللہ تعالٰی نے اس فرزند کی برکت سے اسے قوی و طاقت ور کر دیا ہے“ اس پر انھوں نے کہا “واللہ عزوجل! اس کی بڑی شان ہے۔“ میں نے اپنی گدھی کو جواب دیتے سنا کہ “ہاں ! خدا عزوجل کی قسم، میری بڑی شان ہے میں مردہ تھی مجھے زندگی عطا فرمائی، میں لاغر و کمزور تھی مجھے قوت و توانائی بخشی۔ اے بنی سعد کی عورتو! تم پر تعجب ہے کہ تم غفلت میں ہو اور تم نہیں جانتیں کہ میری پشت پر کون ہے ؟ میری پشت پر سیدالمرسلین، خیرالاولین والآخرین اور حبیب رب العلمین (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) ہیں “میں بکریوں کے جس ریوڑ کے پاس سے گزرتی، بکریاں سامنے آکر کہتیں “اے حلیمہ! تم جانتی ہو کہ تمھارا دودھ پینے والا کون ہے ؟ یہ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم آسمان و زمین کے رب عزوجل کے رسول (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) اور تمام بنی آدم میں افضل ہیں۔“ ہم جس منزل پر قیام کرتے حق تعالٰی اسے سرسبز شاداب فرما دیتا باوجود کہ وہ قحط سالی کا زمانہ تھا اور جب ہم بنی سعد میں پہنچ گئے تو کوئی اس سے زیادہ خشک اور ویران نہ تھا لیکن جب میری بکریاں چراگاہ میں جاتیں تو شام کو خوب شکم سیر، تروتازہ اور دودھ سے بھری ہوئی لوٹتیں۔ تو ہم ان کا دودھ نکالتے خود بھی سیر ہو کر پیتے اور دوسروں کو بھی پلاتے ہماری قوم کے لوگ اپنے چرواہوں کو کہتے کہ “تم اپنی بکریوں کو ان چراگاہوں میں کیوں نہیں چراتے جس چراگاہ میں بنت ابی ذویب (یعنی حلیمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا) کی بکریاں چرتی ہیں۔“ حالانکہ وہ نہ جانتے تھے کہ ہمارے گھر میں یہ خیرو برکت کہاں سے آئی ہے، یہ برکت و افروانی، غیبی چراگاہ“ اور “کسی اور چارہ سے“ تھی۔ اس کے بعد قو کے دیگر چرواہوں نے ہمارے چرواہوں کے ساتھ بکریاں چرانی شروع کر دیں یہاں تک کہ حق تعالٰی نے ان کے اموال اور ان کی بکریوں میں بھی خیرو برکت پیدا فرما دی اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے تمام قبیلے میں خیرو برکت پھیل گئی۔“

پیارے اسلامی بھائیو! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ خدمت کی سعادت تو سیدہ حلیمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حاصل کی تھی لیکن جب اس کے بدلے میں بارش کرم برسی تو ہر ایک نے خوب خوب اس سے اپنا اپنا حصہ حاصل کیا، اسی طرح جب ہم بھی مولود پاک کی خوشیاں منا کر اللہ تعالٰی کی رحمت کے دروازے پر مدنی دستک دیتے ہیں تو اس کا دریائے کرم جوش میں آتا ہے اور پھر ہر ایک کو اس کے اخلاص و جذبے کے مطابق حصہء رحمت و برکت عطا کر دیا جاتا ہے۔ بلکہ امام جوزی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تو ارشاد فرماتے ہیں کہ “میلاد شریف کی یہ تاثیر ہے کہ اس کی برکت سے سال بھر امن رہتا ہے۔“ (روح الییان)

جاوید: الحمدللہ عزوجل! یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا بس اب آخری سوال وہ یہ کہ :-

سوال: یہ بتائیے کہ بعض لوگوں کی یہ بات کہاں تک درست ہے کہ اگر بارھویں شریف کو جائز مان بھی لیا جائے تو چونکہ ا سکی وجہ سے عوام الناس کثیر غلطیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں لٰہذا اس سلسلے کو بند کر دینا چاہئیے۔ مثلاً بہت سے لوگ ان دنوں میں بلند آواز سے گانا لگا لیتے ہیں، کہیں زبردستی چندہ کیا جاتا ہے، کسی مقام پر جانوروں اور خیالی بزرگوں کی بڑی بڑی تصاویر آویزاں کر دی جاتی ہیں، کہیں ہندؤوں کی رسم کے مطابق ایک دوسرے پر رنگ پھینکا جاتا ہے، کہیں جلوسوں میں سیٹیاں اور تالیاں بج رہی ہوتی ہیں، کہیں دوران جلوس ڈھول کی تھاپ پر نوجوان محو رقص ہوتے ہیں بعض اوقات کھانا، تھیلیوں میں بھر کر پھینکا جاتا ہے، جس کی بناء پر رزق کی بےحرمتی ہوتی ہے اور اس کے علاوہ عورتوں اور مردوں کا اختلاط بھی دیکھا گیا ہے ؟“

احمدرضا: پیارے اسلامی بھائیو! اگر صرف عوام الناس کے برے عمل کی وجہ سے عبادات و معاملات کو ترک کر دے جانے کا ضابطہ بنا دیا جائے تو پھر تو ہمارے تمام کاروبار زندگی رک جائیں گے کیونکہ آج کل کونسا ایسا دینی یا دنیاوی کام ہے کہ جس کی ادائیگی کے وقت عوام الناس اغلاط میں مبتلا نہ ہوتے ہوں ؟ جیسا کہ شادی کرنا سنت مبارکہ ہے لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ شادی تو جائز ہے لیکن اس کی وجہ سے چونکہ کثیر گناہ ہوتے ہیں مثلاً تصویریں کھنچی جاتی ہیں، عورتوں مردوں کا اختلاط ہوتا ہے، رقص و سرور کی محافل قائم کی جاتی ہیں، دولہا کو مہندی لگائی جاتی ہے، اور لگانے والی بھی نامحرم ہوتی ہے، دولہا کو سونا پہنایا جاتا ہے، گانوں کی صورت میں ایک دوسرے کو فحش گالیاں دی جاتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ چنانچہ اب شادی کا سلسلہ بند ہو جانا چاہئیے کیا خیال ہے آپ اس کی بات مان لیں گے ؟

جاوید: بالکل نہیں۔

احمدرضا: تو پھر آپ ایسے شخص کو کیا جواب دیں گے ؟

جاوید: یقیناً یہی کہیں گے کہ شادی جائز ہے چنانچہ اسے ترک نہ کیا جائے بلکہ لوگوں کو حرام کام سے روکنے کی کوشش کریں۔

احمدرضا: شاباش، میری بھی یہی عرض ہے کہ بارھویں شریف محبوب کبریا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سے بابرکت اور بابرکت بنانے والی ہے لٰہذا اسے ترک نہ کیا جائے بلکہ خطاؤں میں مبتلا اسلامی بھائیوں کو شفقت سے سمجھایا جائے، اللہ تعالٰی کی ذات پاک سے امید ہے کہ ہمارے محبت بھرے انداز سے سمجھانے کی برکت سے ایک دن تمام اسلامی بھائی بھی عین شریعت کے مطابق بارھویں شریف منانے میں کامیاب ہو جائیں گے

شاید آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ میرا تعلق سنتوں کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک “دعوت اسلامی“ سے ہے جس کے امیر ایک بہت بڑے عاشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اور اللہ تعالٰی کی بارگاہ کے ایک مقبول ولی ہیں ان کا نام محمد الیاس قادری مدظلہ العالی ہے۔

دعوت اسلامی کے روحانی اور بابرکت ماحول سے باقاعدہ وابستگی سے پہلے ہمیں بھی اس کا کچھ شعور حاصل نہ تھا چنانچہ جیسا ذہن میں آتا الٹے سیدھے طریقوں سے خوشی کا اظہار کر لیا کرتے تھے، لیکن الحمدللہ عزوجل! جب امیر اہلسنت امیر دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس قادری مدظلہ العالی کی صحبت و تربیت میں آنے کی سعادت حاصل ہوئی تو آپ کی حکمت اور دانائی نے ہمارے ذہنوں میں ان دنوں کو عین اسلامی طریقے کے مطابق گزارنے کا انقلابی شعور بیدار کر دیا، چنانچہ آپ بھی اس مرتبہ بارھویں شریف، دعوت اسلامی کے پاکیزہ ماحول کے ساتھ منا کر دیکھیں، انشاءاللہ عزوجل، بہت ہی زیادہ سرور و اطمینان محسوس کریں گے کیونکہ ہمارے ماحول میں کوئی عمل خلاف شرع نہیں کیا جاتا جیسے ہی ربیع الاول شروع ہوتا ہے ہم اپنے گھروں گلیوں محلوں گاڑیوں اور دکانوں کو قمقوں اور جھنڈوں وغیرہ سے سجانا شروع کر دیتے ہیں، ساتھ ساتھ ہی چوک اجتماعات اور نعتیہ محافل کے ذریعے اسلامی دوسرے بھائیوں کو بھی اسکی ترغیب دیتے ہیں۔ ہمارے امیر اہلسنت امیر دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم عالیہ، بارھویں شریف منانے کا خصوصی اہتمام فرماتے ہیں چنانچہ اس “عاشقوں کی عید“ پر حتی الامکان ہر چیز نئی خریدنے کی کوشش فرماتے ہیں مثلاً لباس، چادر، رومال، عمامہ، ٹوپی، سربند، تسبیح، پین، مسواک، گھڑی، جوتی، یہاں تک کہ بنیان و ازاربند تک نیا لیتے ہیں۔ اور اپنے بیانات اور تحریروں کے ذریعے بھی اسلامی بھائیوں کو بارھویں شریف خوب دھوم دھام کے ساتھ منانے کی ترغیب ارشاد فرماتے رہتے ہیں۔

بارہ ربیع الاول کی رات، اجتماع منعقد کیا جاتا ہے، جس میں اصلاحی انداز میں ولادت کے واقعات اور فضائل و کمالات سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم بیان کئے جاتے ہیں، پھر نعت خوانی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو سحری تک جاری رہتا ہے اجتماع گاہ میں ہی کثیر سحری کا انتظام کیا جاتا ہے۔ تمام شرکاء اسلامی بھائی سحری کرتے ہیں اور بارھویں شریف سنت کے مطابق روزہ رکھ کر مناتے ہیں۔ دن میں عموماً ظہر کی نماز کے بعد جلوس نکالے جاتے ہیں۔ ہمارے جلوس انتہائی پر امن اور منکرات سے پاک و صاف ہوتے ہیں۔ ماحول سے وابستہ اسلامی بھائی سنت کے مطابق سفید لباس میں ملبوس نظر آتے ہیں، سر پر عمامہء مقدسہ کا تاج اور ہاتھوں میں سبز سبز جھنڈے ہوتے ہیں، درود و سلام اور نعتیں پڑھتے ہوئے جس مقام سے گزرنا ہو انتہائی منظم طریقے سے گزرتے ہیں۔ اس نظم و ضبط اور شرعی تقاضوں کی رعایت کی برکت سے “ساتھ چلنے والے ماحول سے غیر وابستہ اسلامی بھائی“ بھی غلطیوں اور گناہوں سے بچ جاتے ہیں، دیکھا گیا ہے کہ[ بعض اوقات ہمارے جلوس کی نورانیت کو دیکھ کر لوگوں کی آنکھوں سے بےاختیار آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔

امیر اہلسنت مدظلہ العالی بھی ہر سال باقاعدگی کے ساتھ جلوس میں شرکت فرماتے ہیں۔ آپ کا جلوس بارہ تاریخ کو ظہر کی نماز کے بعد شہید مسجد کھارادر (کراچی) سے روانہ ہوتا ہے، “بلا مبالغہ پاکستان بھر میں باعمل اسلامی بھائیوں کا یہ سب سے بڑا جلوس ہوتا ہے“، اس کا اختتام دعوت اسلامی کے عالمی مرکز فیضان مدینہ پر ہوتا ہے۔

جاوید: سبحان اللہ عزوجل! آپ کے ماحول میں جس انداز سے مولود پاک کی خوشیاں منائی جاتی ہیں مجھے تو یہ بہت ہی پسند آیا ہے اور میں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ انشاءاللہ تعالٰی اس مرتبہ بارھویں شریف خوب دھوم دھام سے مناؤں گا اور دعوت اسلامی کے ماحول کے ساتھ مناؤں گا۔“
باقی دوست: انشاءاللہ تعالٰی! “ہم سب بھی اس مرتبہ ماحول کے ساتھ ہی میلاد پاک منائیں گے۔“
احمدرض: صرف بارھویں کے موقع پر نہیں بلکہ ہمارا اور آپ کا محبت اور اپنائیت کا یہ تعلق تو اب تاحیات قائم رہنا چاہئیے۔

جاوید: بےشک بےشک یہ تو ہمارے لئے بہت بڑی سعادت ہو گی، کہ آپ جیسے نیک لوگ اگر ہم پر نگاہ شفقت فرماتے رہیں گے تو انشاءاللہ عزوجل، ہم گناہ گاروں کا بھی بیڑہ پار ہو جائے گا۔ یقین کیجئے آپ سے ملاقات سے پہلے بارھویں شریف سے متعلق عجیب عجیب خیالات اور وسوسے دل میں موجود تھے، لیکن آپ کے اپنا قیمتی وقت دینے کی برکت سے الحمدللہ عزوجل، اب ہمارے دلوں میں نہ صرف بارھویں شریف منانے کا جذبہ بیدار ہو چکا ہے بلکہ اپنے پیارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی جتنی محبت آج ہمارے دلوں میں پیدا ہوئی ہے، بری صحبت کی نحوست کی بناء پر اللہ تعالٰی نے اس سے پہلے ہمیں محروم فرمایا ہوا تھا، بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ اگر پہلی والی حالت ہی میں ہمیں موت آ جاتی، تو ہمارا انجام بہت برا ہونا تھا، اللہ تعالٰی آپ کو بہت بہت جزائے خیر عطا فرمائے کہ آپ نے ہمیں تباہی سے بچا لیا۔

جانی:- یہ ساری نحوست اسی شیطان کی ہے جو ہمارے محلے میں رہتا ہے، اسی خبیث نے ہمارے دلوں میں یہ وسوسے پیدا کیے تھے اور وہی ہمیں نبیء پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی گستاخی پر ابھارا کرتا تھا، اب اگر وہ میرے پاس آیا تو اس کے دانت توڑ دوں گا۔

احمدرضا: ماشاءاللہ عزوجل! گستاخان رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے متعلق ایسے ہی جذبات ہونے چاہئیں کیونکہ یہ ایمان کامل کی واضح نشانی ہے۔ جیسا کہ سرکار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ “جو کسی سے اللہ تعالٰی کیلئے محبت رکھے، اللہ تعالٰی ہی کیلئے دشمنی رکھے، اللہ تعالٰی کے لئے دے اور اللہ تعالٰی ہی کیلئے منع کرے تو اس نے اپنا ایمان کامل کر لیا۔“ (مشکوٰۃ)

لیکن اگر اس قسم کے دشمنان رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو جلا جلا کر مارا جائے تو اس کا مزہ کچھ اور ہی ہے، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ نہ صرف ہم خود، اللہ تعالٰی اور اس کے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی رضا کی خاطر، خوب خوب خوشیاں منائیں بلکہ انتہائی جوش و جذبہ کے ساتھ اپنے پورے محلے بلکہ پورے شہر کے ہر ہر مسلمان بھائی کے ذہن میں اس کا شعور بیدار کریں، جب ازلی بدبخت و محروم، جشن سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی یہ دھوم دھام دیکھیں گے تو انشاءاللہ تعالٰی خود ہی سڑ سڑ کر ہلاک ہو جائیں گے۔
 

“حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائش مولا کی دھوم
مثل فارس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے

انشاءاللہ عزوجل

جاوید: آپ سے جدا ہونے کو دل تو نہیں چاہ رہا، لیکن آپ کی یقیناً دوسری بھی مصروفیات ہوں گی آپ پہلے ہی ہمیں بہت زیادہ وقت دے چکے ہیں۔ مگر اس سے پہلے کے ہم جدا ہوں میں آپ کی خدمت میں ایک سوال اور ایک درخواست پیش کرنا چاہتا ہوں، امید ہے کہ جہاں اتنی شفقت فرمائی ہے، مذید بھی فرمائیں گے۔

احمدرضا: (مسکراتے ہوئے) ارشاد فرمائیں۔

جاوید: سوال تو یہ ہے کہ آپ تعارف کے وقت غمگین کیوں ہو گئے تھے ؟ اور درخواست ہے کہ جاتے جاتے ہمیں کوئی نصیحت ضرور ارشاد فرمائیں۔

احمدرضا: بات دراصل یہ تھی کہ جب آپ نے سب کا تعارف کروایا تو مجھے پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی چند احادیث مبارکہ یاد آ گئیں تھی جن کی بناء پر دل غمگین ہو گیا تھا۔

جاوید: ہمیں بھی سنائیے وہ کون سی احادیث تھیں ؟

احمدرضا: آپ لوگ ناراض تو نہیں ہو جائیں گے ؟

جاوید: ارے، یہ آپ کیا فرما رہے ہیں، ناراض ہو کر ہمیں ہلاک ہونا ہے ؟

احمدرضا: اچھا تو سنئیے وہ احادیث یہ تھیں

  1. ابوداؤد میں ہے کہ مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انبیاء (علیھم السلام) کے نام پر نام رکھو۔
     
  2. دیلمی میں رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے کہ “اچھوں کے نام پر نام رکھو۔“
     
  3. مسند امام احمد میں ہے کہ شاہ مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا “قیامت کے دن تم کو تمھارے نام اور تمھارے باپوں کے نام سے پکارا جائے گا لٰہذا اچھے نام رکھو۔“
     
  4. اور بخاری و مسلم میں آپ کا فرمان عالیشان ہے کہ “میرے نام پر نام رکھو۔“
    اب غمگین ہونے کی وجہ یہ تھی کہ آپ میں سے کسی کا نام بھی ان احادیث کے معیار پر پورا نہیں اترتا سب کے سب غیر اسلامی نام ہیں۔

(اسلامی ناموں کے سلسلے میں مکمل رہنمائی کیلئے اعلٰی حضرت رضی اللہ تعالٰی عنہ کی تصنیف النور و الضیاء فی احکام بض الاسماء کا ضرور ضرور مطالعہ فرمائیے) مثلاً پرویز، ایک بہت بڑے گستاخ رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا نام تھا، یہ وہ بدبخت تھا کہ جب سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے دعوت اسلام پر مشتمل مکتوب مبارک اس کے پاس پہنچا تو اس نے ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے نام مبارک کو غصے میں چاک کرنے کی ناپاک جسارت کی تھی۔

جاوید: دراصل اس میں ہمارا قصور نہیں ہے، ہم نے جن گھرانوں میں آنکھ کھولی ہے، ان میں اسی قسم کے نام رکھ کر فخر کیا جاتا ہے۔ بہرحال آپ نے نشاندہی فرمائی ہے تو واقعی میں تو شرم محسوس کر رہا ہوں، اب آپ ارشاد فرمائی، ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟ آپ جیسا فرمائیں گے، ہم ویسے ہی کریں گے۔

احمدرضا: پیارے پیارے اور اچھے اچھے اسلامی بھائیو! ترمذی شریف میں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا فرمان عالی شان ہے کہ “سرکار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم برے ناموں کو بدل دیتے تھے“ چنانچہ آپ سب بھی اپنا اپنا نام بدل دیں۔

جاوید: تو اس سلسلے میں بھی آپ ہی ہماری رہنمائی فرمائیے۔

احمدرضا: میں نے اپنے امیر اہلسنت مدظلہ العالی کو اس سنت پر بھی بڑی استقامت کے ساتھ عامل پایا ہے، آپ جب بھی اس قسم کے نام ملاحظہ فرماتے ہیں تو شفقت و حکمت کے ساتھ تبدیل فرما دیتے ہیں چنانچہ میرا مدنی مشورہ ہے کہ آپ سب اس اتوار کو میرے ساتھ فیضان مدینہ چلئے (دعوت اسلامی کا عالمی مرکز جو سبزی منڈی کراچی میں واقع ہے) حضرت صاحب، کراچی میں موجود ہونے کی صورت میں، ہر اتوار کو عشاء کے بعد عام ملاقات فرماتے ہیں، ان کی خدمت میں درخواست کریں گے، انشاءاللہ عزوجل، آپ سب کیلئے وہ پیارے پیارے مدنی نام تجویز فرما دیں گے، بزرگوں سے نام رکھوانے میں بڑی برکت ہوتی ہے۔

جاوید: چلیں یہ ٹھیک ہے، اس طرح ایک، اللہ تعالٰی کے ولی کی زیارت بھی ہو جائے گی اچھا اب وہ نصیحت والی درخواست ؟

احمدرضا: نصیحت والا معاملہ بھی حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کرنا مناسب ہے، کیونکہ ان کی زبان حق ترجمان سے نکلنے والے الفاظ پراخلاص پر عمل پیرا ہونے کی برکت سے، انشاءاللہ عزوجل دنیا و آخرت میں فلاح و کامرانی حاصل کرنا کچھ بھی دشوار نہ رہے گا۔ ہاں میں، آپ سب کی خدمت میں اتنی درخواست ضرور کروں گا کہ آپ ہر ہفتے کے دن (اسی طرح دعوت اسلامی کے ہفتہ وار اجتماع تقریباً ملک بھر تمام چھوٹے بڑوں شہروں میں منعقد ہوتے ہیں) مغرب کی نماز کے بعد، دعوت اسلامی کے عالمی مرکز فیضان مدینہ (کراچی) میں منعقد ہونے والے ہفتہ وار اجتماع میں ضرور ضرور شرکت فرمائیے بلکہ اسے اپنے اوپر لازم کر لیجئے، انشاءاللہ عزوجل کچھ عرصہ پابندی سے شرکت فرمانے کے بعد آپ خود اس بات کو اچھی طرح جان لیں گے کہ ایمان کی حفاظت اور آخرت میں کامیابی کے سلسلے میں جن جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ ماحول کی برکت سے باآسانی حاصل ہو سکتی ہیں اسی عالمی مرکز فیضان مدینہ میں ہر اتوار کو اسلامی بہنوں کا اجتماع بھی منعقد ہوتا ہے، چنانچہ اگر ممکن ہو تو اپنے گھر کی اسلامی بہنوں کو بھی شرکت کی دعوت دیدیجئے گا۔ اور ہاں اگر ایمان کی حفاظت کے ساتھ ساتھ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو کثیر علم دین حاصل ہو جائے، بےشمار صغیرہ کبیرہ گناہوں سے محفوظ ہو جائیں، اللہ تعالٰی کی جانب سے عبادات و نیک اعمال پر استقامت کی دولت عطا کر دی جائے، پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی بےشمار سنتیں سیکھ کر ان پر عمل پیرا ہونے کی سعادت بھی مل جائے اور “انبیاء علیہم السلام اور صحابہءکرام رضی اللہ تعالٰی عنھم کی سنت کی مطابق سنتیں سیکھانے کی توفیق رفیق بھی آپ کی قسمت میں لکھ دی جائے۔ تو دعوت اسلامی کے سنتوں کی تربیت کے لئے “اندرون اور بیرون ملک“ روانہ ہونے والے مدنی قافلوں میں بھی شرکت کو نہایت ضروری و لازم تصور کیجئے۔ الحمدللہ عزوجل! دعوت اسلامی کے قافلے تین دن، بارہ دن، تیس دن اور سال بھر کیلئے مختلف مقامات پر جاکر مدنی انقلاب برپا کر رہے ہیں، آپ بھی کم از کم ہر ماہ میں 3دن، مذید موقع ملے تو 12دن، سال میں کم از کم 30دن اور پوری عمر میں یکمشت 12ماہ کیلئے کسی مدنی قافلے کے ساتھ سفر کرنے کی سعادت ضرور حاصل کیجئے۔ بلکہ میرا مدنی مشورہ ہے کہ اس بارہ ربیع النور شریف کے مبارک مہینے میں کسی مدنی قافلے میں شرکت کرکے اس کا ثواب بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں پیش کرنے کی سعادت کے حصول کی کوشش کیجئے۔ انشاءاللہ عزوجل! اس مبارک طریقے کی برکت سے بارھویں شریف کی برکات سے مکمل طور پر فیض یاب ہونے میں بےحد مدد ملے گی۔

جاوید: (مع رفقاء) سبحان اللہ عزوجل! آپ نے جن فوائد کا ذکر فرمایا ہے ان کی حصول کیلئے ہم پختہ ارادہ کرتے ہیں کہ نہ صرف اجتماع میں پابندی سے شرکت کریں گے بلکہ اس بار بارھویں شریف کے مہینے میں دعوت اسلامی کے سنتوں کی تربیت کیلئے روانہ ہونے والے مدنی قافلے میں بھی شرکت ہونے کی سعادت حاصل کریں گے اور انشاءاللہ عزوجل آج کے بعد ہمارا جینا مرنا صرف اور صرف دعوت اسلامی کے ماحول کے ساتھ ہو گا۔

“عید میلادالنبی پر ہر گھڑی لاکھوں سلام“

عید میلادالنبی پر ہر گھڑی لاکھوں سلام
ہم غریبوں کی خوشی پر ہر گھڑی لاکھوں سلام

جو منت ہے خوشی سے عید میلادالنبی
یاخدا اس امتی پر ہر گھڑی لاکھوں سلام

ہر برس جس نے سجایا کوچہ و بازار کو
اس کی پوری زندگی پر ہر گھڑی لاکھوں سلام

جس کے صدقے رب نے بخشی عید میلادالنبی
اس رسول ہاشمی پر ہر گھڑی لاکھوں سلام

جس گھڑی پیدا ہوئے رحمۃ للعٰلمین
یاخدا ہوں اس گھڑی پر ہر گھڑی لاکھوں سلام

بعث تسکین جں ہے بعث چین و سکوں
محفل ذکر نبی پر ہر گھڑی لاکھوں سلام

کاش اگلے سال بھی یونہی سبھی مل کر کہیں
جن و دل کی روشنی پر ہر گھڑی لاکھوں سلام

انشاءاللہ ایک دن چل کر مدینے بھی عطار
ہم پڑھیں گے اس خوشی پر ہر گھڑی لاکھوں سلام

(علامہ محمد اکمل عطاری قادری عطاری)