قرآن مجید اور عید میلاد النبی

قرآن مجید اور عید میلاد النبی 
عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دن خوشی منانا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت پر عید منانا قرآن مجید سے ثابت ہے۔

ترجمہ: فرمادیجیی یہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہے ان پر خوشی منائیں وہ ان کے دَھن دولت سے بہتر ہے۔
(سورۃ یونس، پارہ:11، آیت نمبر 58)

معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ رحمت پر خوشی مناؤ تو اے مسلمانو! جو سارے عالمین کے لئے رحمت ہیں اُن کی آمد کے دن جشنِ ولادت پر کیوں خوشی نہ منائی جائے۔
القرآن:(ترجمہ) (حضرت عیسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی) ہم پر آسمان سے خوانِ نعمت اُتار وہ ہمارے لئے عید ہوجائے اگلوں اور
پچھلوں کی۔ (سورۃ المائدۃ، پارہ:6، آیت نمبر114)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ خوانِ نعمت اُترنے والا دن عید ہو تو جس دن نعمتوں کے سردار ا اس دنیائے فانی میں تشریف لائیں تو وہ دن عید کیسے نہ ہو۔
میلاد کے اصطلاحی معنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ کی خوشی میں آپ کے معجزات و کمالات بیان کرنا اورمجالس منعقد کرکے واقعہ میلاد بیان کرنا۔
حدیث کی مشہور کتاب مشکوٰۃ شریف میں صاحبِ مشکوٰۃ ص نے ایک باب باندھا جس کا نام بابِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم رکھا۔
عرب شریف میں آپ جائیں تو وہاں کے اسلامی کیلنڈر میں ماہِ ربیع الاول کے مہینے پر لکھا ہوا ہے ’’میلاد ی‘‘۔ یہ اب بھی موجود ہے آپ دیکھ سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں تذکرہ میلاد بیان فرماکر میلاد منایا۔ سرکارِ اعظم ا نے ہر پیر روزہ رکھ کر میلاد منایا، صحابہ کرام علیہم الرضوان نے ولادت کے واقعات بیان فرماکر میلاد منایا، اولیاء کرام میں امام شامی، امام محدّث ابنِ جوزی، حضرت شاہ عبد الحق محدّث دہلوی، حضرت شاہ عبد العزیز محدّث دہلوی رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے بھی میلاد منایا اور اُن کی کتابوں میں بھی ثبوت موجود ہیں۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور صحابہ کرام علیہم الرضوان قرآن مجید پڑھتے تھے مگر بغیر اعراب کا، قرآن مجید بالکل سادہ ہوتے تھے آجکل عمدہ سے عمدہ چھپائی ہوتی ہے، اُس وقت مسجدیں بالکل سادہ اور بغیر محراب کی ہوتی تھیں، مگر آج عالیشان اور محراب والی ہوتی ہیں، اُس وقت ہاتھوں کی انگلیوں پر ذکر اللہ ہوتا تھا، آجکل خوبصورت تسبیحوں کو استعمال کیا جاتا ہے الغرض کہ اسی طرح میلاد میں بھی آہستہ آہستہ رنگ آمیزیاں کرکے اس کو عالیشان کرکے منایا گیا جب وہ سب کام بدعت نہیں ہیں تو پھر یہ کیسے بدعت ہوسکتا ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا غم اور سوگ نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نبی زندہ ہیں رہا مسئلہ سوگ کا تو سوگ اسلام میں تین دن کا ہوتا ہے جو صحابہ کرام علیہم الرضوان نے منالیا میلاد منانا شرک کو بھی توڑتا ہے کیونکہ ہم ولادتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم مناتے ہیں اور خدا تعالیٰ پیدا ہونے سے پاک ہے اور جس کی ولادت منائی گئی وہ خدا نہیں اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے۔

Advertisements

قرآن مجید کی خصوصیات

قرآن مجید کی خصوصیات
تحریر : محمد اسلام الدین اشرفی بہرائچی
* قرآن کریم وہ مقدس کتاب ہے جو صاف لفظوں میں یہ دعوٰی کرتی ہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور خدا کا کلام ہوں۔
* قرآن عظیم وہ معظم کتاب ہے جس کو ایسی ہستی نے پیش کیا جس کے وجود باوجود سے کسی کو انکار نہیں اور جو تمام عیوب سے پاک ہے۔
* قرآن مجید وہ مقدس کتاب ہے جس نے انتہا درجہ کے تاریک زمانہ میں نازل ہو کر دنیا میں ظاہری اور باطنی روشنی پھیلائی اور علم و عدل تہذیب و تمدن کا علم بلند کیا۔
* قرآن وہ عظیم کتاب ہے جس نے نہایت شدت کے ساتھ صاف صاف الفاظ میں تمام معاصی کی تردید کی۔
*قرآن وہ پاک کتاب ہے جس نے صاف الفاظ میں تمام برائیوں کو بیان کیا۔
* قرآن وہ پاک کتاب ہے جو علوم شرائع کا سر چشمہ ہے۔
*قرآن مقدس وہ کتاب ہے جس کی مثل فصاحت و بلاغت میں کسی اعتبار سے کوئی نہیں بنا سکا۔
* قرآن وہ کتاب ہے جس نے ہر قسم کے مضامین کو تہذیب و متانت سے ادا کیا ہے۔
* قرآن پاک وہ کتاب ہے جو زمانہ نزول سے آج تک ہر طرح محفوظ ہے۔
*قرآن کریم وہ کتاب ہے جس کی زمانہء نزول سے آج تک کی صحیح تاریخ مدوٌن ہے ۔
* قرآن پاک وہ کتاب ہے کہ اسکے لکھنے والوں کی مسلسل سند قرآن کے زمانہ نزول سے آج تک موجود ہے ۔
* قرآن وہ کتاب ہے کہ اس سے قوانین فوجداری زراعت تجارت و عبادت و اعتقادات و معاملات وغیرہ کے متعلق لا تعداد مسائل نکالے گئے ہیں صرف امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تیرہ لاکھ مسائل نکالے ہیں۔
* قرآن وہ کتاب ہے جس سے ایک متبحر عالم اور ایک ان پرھ دونوں ہی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔
*قرآن ہی وہ کتاب ہے بار بار پڑھنے سے بھی جی نہیں اکتا بلکہ مذید چاشنی ملتی ہی جاتی ہے۔
*قرآن وہ کتاب ہے جس کے حاملوں کاتبوں اور قاریوں کی مسلسل تاریخ موجود ہے اور اسکی شرح و علوم متعلقہ کے حاملوں کی بھی صحیح سوانح حیات مسلسل موجود ہے جس کا علمائے مذاہب غیر کو بھی اعتراف ہے ۔
*قرآن وہ کتاب ہے جس کی تلاوت ہمیشہ چوبیس گھنٹہ دنیا میں جاری ہے اور جاری رہے گی۔
*قرآن وہ کتاب ہے جس پر عمل چوبیس گھنٹہ دنیا میں ہمیشہ سے جاری ہے اور تاقیامت جاری رہے گا۔
*قرآن وہ کتاب ہے جس کی حفاظت کا ذمہ خود رب کائنات نے لیا ہے ۔
* قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو تمام عالم میں شائع ہے لیکن ایک لفظ کا بھی اختلاف نہیں ہے۔
*قرآن وہ کتاب ہے جس نے پہلے پہل ملوکیت و ملوک پرستی کی تر دید کی ہے۔
* قرآن وہ کتاب ہے جس کی تعلیم فطرت انسانی اور عقل سلیم کے موافق ہے۔
*قرآن وہ کتاب ہے جس نے مساوات کو قائم کیا ۔
*قرآن وہ کتاب ہے جس نے توحید خالص کو شائع کیا۔
* قرآن وہ کتاب ہے جس نے سرمایہ داری کی مذمت کی۔
*قرآن وہ کتاب ہے جس نے مکمل قانون وراثت موافق عمل و فطرت پیش کیا۔
*قرآن وہ کتاب ہے جس نے عورتوں کے احترام و حقوق قائم کئے۔
*قرآن وہ کتاب ہے جس نے غلاموں کی آزادی کے لئے دروازہ کھولا۔
*قرآن وہ کتاب ہے جس نے تحقیق و تدقیق و انکشافات علمیہ کا دروازہ کھولا۔
*قرآن وہ کتاب ہے جس نے فرد اور جماعت دونوں کیلئے ترقی کی راہ کھولی اور مناسب ضوابط پیش کئے۔
*قرآن ایسی کتاب ہے جس کے منزل من اللہ ہونے میں کسی بھی فرقے کو شک و شبہ نہیں ہے۔
*قرآن وہ کتاب ہے جس کی تفسیر و تشریح خود صاحب کتاب نے کی اور صاحب کتاب کے شاگردوں نے قلمبند کیا۔
* قرآن وہ کتاب ہے جس کی شرح کی حفاظت و نصرت کے لئے صد ہا علوم ایجاد ہوئے۔

************

قرآ ن شریف کے غلط ترجمو ں کی نشا ند ھی

اللہ جل جلا لہ اور رسو ل ا کرم صل اللہ علیہ وسلم کی شان پاک میں گستاخیاں
قرآ ن شریف کے غلط ترجمو ں کی نشا ند ھی
مولا نا قا ری رضا ئے المصطفی

بسم اللہ الر حمن الر حیم ، نحمدہ ‘ و نصلی علی رسو لہ الکر یم ،
ھر طرح کی تعر یف ا س ذات کریم کی جس نے ایسا رؤف و رحیم رسول عطا فرما یا کہ جس کو سا ری ساری شب ھما ری مغفر ت کا سا ما ن کرنا مطلو ب اور ھمیں ھر آ ن آ را م و را حت میں دیکھنا محبو ب، پھر کروڑوں درود و سلام ھوں اُس رحمت للعا لمین پر کہ جس نے اپنے کرم سےہمیں قیا مت تک کےفتنوں سے بار بار آ گا ہ کیا – کبھی حضرت عثما ن بن طلحہ رضی اللہ تعا لی عنہ سے بیت اللہ کی چا بیا ں لینے دینے کے دوران فرما یا کے یہ چابیاں تیری اولاد میں تب تک رھیں گی کے جب تک ایک ظا لم جا بر حا کم اپنے ظلم کے سبب تیری ا ولا د سے نہ چھین لے تو کبھی یمن و شام کے لیے دعا فرما کر اور نجد کے لیے باوجود صحا بہ کے اصرار پر دعا نہ فرما کر ہمیں نجد یوں کے فتنو ں سے آ گاہ فرمایا اور فرمایا کہ نجد سے شیطا ن کے سینگ نکلیں گے اور فتنہ انگیز نجدیوں کی علا مت یہ بیان کی کہ وہ کفا ر کو چھو ڑ یں گے اور مسلما نو ں کو قتل کریں گے ( ہند کے نجدیوں کا بھی یہی حال رہا ، انگریز سے مخبری کرکے1857ء میں لاکھوں مسلمانوں کو پھانسی دلوائی 1947ء میں ہندؤں کا ساتھ دیا مسلمانوں سے غداری کی اور یہی حال ان نجدیوں کا افغانستان میں بھی ہے )
حضو ر صل اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے عین مطا بق عرب پر نجدیوں کے قبضے کے بعد لا کھوں عوام و علماء اھل سنت کو قتل (شھید) کرنا اور نہرو کو دعوت دے کر بلا نا ‘ پھر امن کا پیغمبر و رسول ا لسلام کا لقب دینا ‘ یھودی بنکوں میں سنکھوں روپیہ جمع کر کے مسلمانوں کے دشمن یھودیوں کی مدد کرنا حضو ر انور صل اللہ ءلیہ وسلم کے ارشادات کی تصد یق کرتا ھے –

انتقام
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان خداد پیش گوئیوں کے انتقام میں نجدیوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادوں ، صاحبزادیوں ، ازواج مطہرات جن پر ہمارے ماں باپ قربان اور تمام جلیل القدر صحابہ کے مزارات کو مسمار کیا ( تمام دنیائے اسلام کے احتجاج پر کسی کسی قبر کا نشان بنادیا ، باقی قبور کو سڑکوں وغیرہ میں تبدیل کیا پاکستان میں دیوبندی بھی ایسا ہی چاہتے ہیں ) اور انہی نجدیوں نے تاج کمپنی سے حضور علیہ السلام کے نناوے اسماء قرآن شریف کے آخر میں شائع ہونے بند کرائے اور اب حال ہی میں گستاخ رسول وہابیوں نے امام اہلسنت کے ترجمہ القرآن پر پابندی لگاکر ( کہ جہاں ملے اُسے پھاڑ دو یا جلادو کا حکم صادر کرکے ) اپنی آتش حسد سرد کرنے اور مسلمانوں کے دلوں میں آگ بھڑکانے کی کوشش کی اور جو ان گستاخوں کے دلوں میں ہے وہ اس سے بھی کہیں زیادہ جن نجدیوں کو مسجد نبوی سے متصل حضور انور کا روضہ گوارا نہ ہو اور آئے دن اس کو منتقل کرنے کے منصوبے بناتے ہیں ۔ پھر اہلسنت کا ترجمہ ان کی آنکھوں میں کیوں نہ خار کی طرح کھٹکے ؟ اُن کو وہی علماء پسند ہیں جو بتوں کی آیات انبیاء اور اولیاء پر چسپاں کریں اور وہی تراجم ان کو پسند ہیں جن میں خیانت کرکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت مجروح کی گئی ہو ۔
قارین فیصلہ کریں
اگلے صفحات میں آپ اسی طرح کے تراجم قرآن اور اعلٰی حضرت مولا نا احمد رضا خاں‌کے چند آیات کے ترجمہ کا مختصر تقابلی مطالعہ فرما کر فیصلہ کریں کہ کس کا ترجمہ ناقص اور کس کا درست ہے ۔
وما علینا الا البلاغ
اعلٰی حضرت رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ کے ترجمہ قرآن حکیم اور دیگراردو تراجم قرآن کا تقابلی مطالعہ
سیرت سرور کونین سمجھنے کے لئے
تم کو قرآن مقدس کو سمجھنا ہو گا

امام اہلسنت، مجدد ملت اعلٰی حضرت شاہ عبد المصطفٰے احمد رضا بریلوی رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ کا شجرہ نسب اس طرح ہے۔ عبد المصطفٰے احمد رضا خاں بن مولانا محمد نقی علی خاں ابن مولانا رضا علی خاں۔
آپ کی ولادت با سعادت بریلوی شریف کے محلہ جسولی میں 10شوال المکرم 1282 مطابق 14 جون 1856ء بروز ہفتہ بوقت ظہر ہوئی۔ آپ کا تاریخی نام المختار ہے۔ آپ نے اپنا سن ولادت اس آیت کریمہ سے نکالا۔
اولٰئک کتب فی قلوبھم الایمان ا ایدھم بروح منہ (پ 28، سورہ مجادلہ، آیت 22)
‘ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالٰی نے ایمان نقش فرما دیا اور اپنی طرف کی روحانیت سے ان کی مدد فرمائی‘۔
آپ کے والد ماجد حضرت مولانا محمد نقی علی خاں رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ اپنے وقت کے ممتاز عالم اور مصنف تھے۔
اعلٰی حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے تقریباً درسیات اپنے والد ماجد سے پڑھیں اور چودہ سال کی عمر میں ایک معرکتہ الآراء فتوٰی کا جواب تحریر کیا چنانچہ آپ کی اس استعداد اور خدا داد قابلیت کی بناء پر اس کم عمری میں آپ کو مفتی کا منصب عطا کر دیا گیا۔ اعلٰی حضرت نے استفتاء کے جوابات کے ساتھ ہی ساتھ تصنیف و تالیف کا کام بھی شروع کر دیا جس مسئلہ پر آپ نے قلم اٹھایا اپنے تبحر علمی کی بدولت اس کے ہر ہر پہلو پر نہایت عمدہ طریقے سے روشنی ڈالی اور ایسی واضح حجتیں اور براہین قائم فرمائیں کہ ہم عصر علماء و محدثین نے امام اہلسنت، مجددین و ملت کا خطاب دیا۔
یوں تو آپ کے علمی کارناموں کی تفصیل بڑی طویل ہے لیکن ان سب سے بڑا علمی کارنامہ ترجمہ قرآن مجید ہے۔ ترجمہ کیا ہے قرآن حکیم کی اردو میں ترجمانی ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ آپ کا یہ ترجمہ الہامی ترجمہ ہے، توکچھ غلط نہ ہو گا۔
ترجمہ میں فصاحت، بلاغت، انداز خطاب اور سیاق و سباق کا خیال
ایک زبان سے دوسری زبان میں لفظی ترجمہ کچھ مشکل نہیں بلکہ بہت ہی معمولی اور آسان کام ہے کسی بھی درخواست کا لفظی ترجمہ تو عرائض نویس بھی فورًا کر دیتے ہیں۔ مگر کسی زبان کی فصاحت و بلاغت، سلاست و معنویت، اس کے محاورات اور انداز خطاب کو سمجھنا۔ سیاق و سباق کو دیکھ کر کلمہ اور جملہ کی تر جمانی کرنا انتہا ئی دقت طلب کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کی تشریح رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کی۔ اس کی تفسیر آپ کے صحابہ نے بیان کی۔
ترجمہ میں مناسب معنی کا انتخاب
قرآن کریم کے دوسری زبانوں میں تراجم کے مطالعہ سے یہ بات واضع ہوتی ہے کہ کسی لفظ کا ترجمہ عموماً اس کے مشہور معنی کے مطابق کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ ہر زبان میں کسی بھی لفظ کے بہت سے معنی ہوتے ہیں۔ ان مختلف معانی سے کسی ایک مناسب معنی کا انتخاب مترجم کی ذمہ داری ہے۔ ورنہ لفظ کا ظاہری ترجمہ تو ایک مبتدی بھی کر سکتا ہے۔
بے احتیاطی کے نتائج
اعلٰی حضرت کا ترجمہ قرآن مجید دیکھنے کے بعد جب ہم دنیا بھر کے تراجم قرآن پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ حقیقت منکشف ہو کر سامنے آتی ہے کہ اکثر مترجمین قرآن کی نظر الفاظ قرآنی کی روح تک نہیں پہنچ سکی اور ان کے ترجمہ سے قرآن کریم کا مفہوم ہی بدل گیا ہے بلکہ بعض مقامات پر تو سہواً یا قصداً ترجمے میں ان سے تحریف بھی ہو گئی ہے۔ یا لفظ بلفظ ترجمہ کرنے کے سبب حرمت قرآن، عصمت انبیاء اور وقار انسانیت کو بھی ٹھیس پہنچی ہے اور اس سے بھی آگے بڑھ کر اللہ تعالٰی نے جن چیزوں کو حلال ٹھرایا ہے ان تراجم کی بدولت وہ حرام قرار پا گئی ہیں اور انہیں تراجم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ معاذ اللہ بعض امور کا علم اللہ رب العزت کو بھی نہیں ہوتا۔ اس قسم کا ترجمہ کر کے وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور مسلما نوں کیلئے بھی گمراہی کا راستہ کھول دیا اور یہودیوں، عیسائیوں اور ہندوؤں کے ہاتھوں میں (اس طرح کا ترجمہ کر کے ) اسلام کے خلاف اسلحہ دے دیا گیا۔ چنانچہ ستیارتھ پرکاش نامی کتاب اسلام پر طنز سے بھری ہوئی ہے کہ جو خدا اپنے بندوں کے مکر، فریب، دغا میں آ جائے اور خود بھی مکر، فریب، دغا کرتا ہو، ایسے خدا کو دور سے سلام وغیرہ وغیرہ۔
اعلٰی حضرت نے جملہ مستند و مروج تفاسیر کی روشنی میں قرآن حکیم کی ترجمانی فرمائی۔ جس آیت کی وضاحت مفسرین کرام کئی کئی صفحات میں فرمائیں مگر اعلٰی حضرت کو اللہ تعالٰی نے یہ خوبی عنایت فرمائی کہ وہی مفہوم ترجمہ کے ایک جملہ یا ایک لفظ میں ادا فرمایا۔ قلیل جملہ کثیر مطالب اسی کو کہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اعلٰی حضرت کے ترجمہ سے ہر پڑھنے والے کی نگاہ میں قرآن کریم کا احترام، انبیاء کی عظمت اور انسانیت کا وقار بلند ہوتا ہے۔
ذیل میں اعلٰی حضرت کے ترجمہ قرآن کریم اور دیگر تراجم قرآن کا ایک تقابلی مطالعہ پیش کیا جاتا ہے ۔
ولما یعلم اللہ الذین جاھدوامنکم ۔ (پارہ 4 سورۃ آل عمران آیت 142 )
ترجمہ : اور ابھی معلوم نہیں کئے اللہ نے جو لڑنے والے ہیں تم میں (شاہ عبدالقادر )
ترجمہ : حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ ( فتح محمد جالندھری دیوبندی )
ترجمہ : وہ ہنوز تمیز نساختہ است خُدا آں را کہ جہاد کردہ انداز شما ۔ ( شاہ ولی اللہ )
ترجمہ : حالانکہ ابھی اللہ نے ان لوگوں کو تم میں سے جانا ہی نہیں جنہوں نے جہاد کیا۔(عبدالماجد دریابادی دیوبندی )
ترجمہ : اور ابھی تک اللہ نے نہ تو اُن لوگوں کو جانچا جو تم میں سے جہاد کرنے والے ہیں ۔ (ڈپٹی نذیر احمد دیوبندی )
ترجمہ : حالانکہ ہنوزاللہ تعالٰی نے اُن لوگوں کو تو دیکھا ہی نہیں جنہوں نے تم میں سے جہاد کیا ہو ۔ ( تھانوی دیوبندی )
ترجمہ : اور ابھی تک معلوم نہیں کیا اللہ نے جو لڑنے والے ہیں تم میں ۔ ( دیوبندی محمود الحسن )
اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا ۔ ( سیدی اعلٰی حضرت)
کیا اللہ تعالٰی علیم و خبیر نہیں ؟
اللہ تعالٰی جو علیم و خبیر ہے، عالم الغیب و الشہادۃ ہے، علیم بزات الصدور ہے۔ ان مترجمین کے نزدیک اردو میں بے علم و بے خبر ہے آپ خود فصلہ کریں ترجمہ پڑھنے کے بعد علم الٰہی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ ایک طرف تو اللہ تعالٰی کی صفات کمالیہ ، دوسری طرف اس قدر بے خبری کہ مومنین میں سے کون لوگ جذبہ جہاد سے سرشار ہیں؟ اللہ کو اس کا علم نہیں۔ ابھی اس نے جانا ہی نہیں۔ گویا شان رسول کی تنقیص سے فارغ ہوئے تو شان الو ہیّت پر حرف گیری شروع کر دی۔
‘ اللہ نے نہیں جانا، شاہ رفیع الدّ ین صاحب کا خیال ہے۔ ‘ابھی معلوم نہیں کیا اللہ نے‘ شاہ عبدالقادر صاحب کی ایجاد ہے، ‘ ابھی تک معلوم نہیں کیا اللہ نے‘ محود الحسن صاحب فرماتے ہیں۔
بروز حشر خدا و رسول کی گرفت سے نہ بچ سکیں گے
ترجمہ لکھتے وقت کس قدر غیر حاضر تھے یہ مترجمین، کہ تفسیر کے مطالعہ کی زحمت ہی نہیں کی اور کس سادگی سے قلم چلا دیا۔ آج بھی ان حضرات کے معتقدین، مریدین، متبعین موجود ہیں۔ اگر ان تراجم پر ان کے پیرو کار مطمئن و خوش عقیدہ ہیں تو بروز حشر خدا اور رسول کی گرفت کے لئے تیار رہیں۔ ورنہ تفاسیر قرآن و ترجمہ اعلٰی حضرت کے مطابق آئندہ تمام ایڈیشن قرآن کریم کے درست کرا دیں، ورنہ ترجمہ پڑھنے والی نسل کی گمراہی کی ذمہ دار آپ ہوں گے۔
ویمکرون ویمکراللہ واللہ خیرالمٰاکرین۔ (پارہ 9 سورۃ الانفال آیت 30)
ترجمہ ::‌اور وہ بھی فریب کرتے تھے اور اللہ بھی فریب کرتا تھا اور اللہ کا فریب سب سے بہتر ہے ۔ ( شاہ عبدالقادر )
ترجمہ : اور مکر کرتے تھے وہ اور مکر کرتا تھا اللہ تعالٰی اور اللہ تعالٰی نیک مکر کرنے والوں کا ہے ۔ ( شاہ رفیع الدین )
ترجمہ : وایشاں بد سگالی می کردند و خدا بد سگالی می کرد ( یعنی بایشاں ) وخدا بہترین بد سگالی کنندگان است۔ ( شاہ ولی اللہ )
ترجمہ : اور وہ بھی داؤ کرتے تھے اور اللہ بھی داؤ کرتا تھا اور اللہ کا داؤ سب سے بہتر ہے ۔( محمود الحسن دیوبندی )
ترجمہ : اور حال یہ کہ کافر اپنا داؤ کر رہے تھے اور اللہ اپنا داؤ کررہا تھا اور اللہ سب داؤ کرنے والوں سے بہتر داؤ کرنے والا ہے ۔ ( ڈپٹی نذیر احمد )
ترجمہ : اور وہ تو اپنی تدبیر کر رہے تھے اور اللہ میاں اپنی تدبیر کر رہے تھے اور سب سے زیادہ مستحکم تدبیر والا اللہ ہے۔( تھانوی دیوبندی)
ترجمہ : اور وہ اپنا سا مکر کرتے تھے اور اللہ اپنی خفتہ تدبیر فرماتا تھا اور اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے بہتر ۔ ( سیدی اعلٰی حضرت )
اردو ترجمہ میں جو الفاظ استعمال ہوئے وہ الُو ہیّت کے کسی طرح لائق نہیں ۔ اللہ تعالٰی کی طرف مکر ، فریب ، بدسگالی کی نسبت اس کی شان میں حرف گیری کے مترادف ہے ، یہ بنیادی غلطی صرف اس وجہ سے ہے کہ اللہ اور رسول کے افعال مقدسہ کو اپنے افعال پر قیاس کیا ، اسی وجہ سے مترجمین نے ہنسی ، مزاق ٹھٹھا ،مکر،فریب ، علم سے بےخبر ، بدسگالی کو اس کی صفت ٹھہرایا ہے۔
اللہ تعالٰی ‘ میاں ‘ کی صفت سے پاک
اللہ پاک کی عزت افزائی کے لئے تھانوی صاحب نے میاں استعمال کیا ہے۔ ان تمام الفاظ کو سامنے رکھ کر الوہیت کا آپ تصور کریں تو رب تبارک و تعالٰی انسانوں سے عظیم تر انسان ابھر کر آپ کے سامنے ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی رسول کریم کی شان کے لائق کوئی تعریف کی جاتی ہے تو یہ چیخ اٹھتے ہیں کہ تم نے رسول کو اللہ سے ملا دیا اور خود موحّدوں کے امام نے میاں اللہ تعالٰی کو کہہ کر عام انسان کے برابر لا کھڑا کیا تو پھر بھی وہابی دیوبندی توحید میں بال برابر فرق نہیں آیا۔ مزکورہ آیت میں مکر کا ترجمہ اعلٰی حضرت نے تفاسیر کی روشنی میں کیا ہے ‘‘خفیہ تدبیر‘‘ اور لفظ مکر کو پہلے مقام پر ترجمہ میں کافروں کی طرف منسوب کر دیا۔ فافھم
ووجدک ضالا فھدیٰ ( پ 30، سورۃ والضحٰی، آیت7)
ترجمہ‌: اور پایا تجھ کو بھٹکتا پھر راہ دی۔ (شاہ عبدالقادر)
۔۔۔۔۔: اور پایا تجھ کو راہ بھولا ہوا پس راہ دکھائی۔ (شاہ رفیع الدین‌)
۔۔۔۔:دیافت تراراہ گم کردہ یعنی شریعت نمی دانستی پس راہ نمود۔( شاہ ولی اللہ‌)
۔۔۔۔: اور آپ کو بے خبر پایا سو رستہ بتایا۔ ( عبدالماجد دریا بادی دیوبندی‌)
۔۔۔: اور تم کو دیکھا کہ راہ حق کی تلاش میں بھٹکے بھٹکے پھر رہے ہو تو تم کو دین اسلام کا سیدھا راستہ دکھا دیا۔ ( دیوبندی ڈپٹی نزیر احمد)
۔۔۔۔: اور اللہ تعالٰی نے آپ کو ( شریعت سے) بے خبر پایا سو آپ کو شریعت کا راستہ بتلا دیا۔ ( اشرف علی دیوبندی تھانوی )
۔۔۔۔: اور تم کو بھٹکا ہوا پایا اور منزل مقصود تک پہنچایا۔ ( مقبول شیعہ )
۔۔۔۔: اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی۔ ( اعلٰی حضرت‌)
آیت مزکورہ مٰن لفط ضا لاً استعمال ہوا ہے۔ اس کے مشہور معنی گمراہی اور بھٹکنا ہیں۔ چنانچہ بعض اہل قلم نے مخاطب پر نوک قلم کے بجائے خنجر پیوست کر دیا۔ یہ نہ دیکھا کہ ترجمہ میں کس کو راہ گرم کردہ، بھٹکتا، بےخبر، راہ بھولا کہا جا رہا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی عصمت باقی رہتی ہے یا نہیں، اس کی کوئی پرواہ نہیں- کاش یہ مفسرین تفا سیر کا مطالعہ کرنے کے بعد ترجمہ کرتے یا کم از کم اس آیت کا سیاق و سباق ( اوّل و آخر‌) بغور دیکھ لیتے۔ انداز خطاب باری تعالٰی پر نظر ڈال لیتے۔
ایک طرف ما ودعک ربک وما قلٰی وللاٰ خرۃ خیر لک من الا ولٰی تمہیں تمہارے ربّ نے نہ چھوڑا اور نہ مکروہ جانا اور بے شک پچھلی تمہارے لئے پہلی سے بہتر ہے۔ الخ اس کے بعد ہی رسول ذیشان کی گمراہی کا ذکر کیسے آگیا۔ آپ خود غور کریں حضور علیہ الصلٰو ۃ والسلام اگر کسی لحظہ گمراہ ہوتے تو راہ پر کون ہوتا یا یوں کہئے کہ جو خود گمراہ ہو، بھٹکتا پھرا پو، راہ بھولا ہو، وہ ہادی کیسے ہو سکتا ہے ؟
اور خود قرآن مجید میں نفی ضلالت کی صراحت موجود ہے۔ ماضل صاحبکم وما غوٰی ( پ28، سورۃ نجم ، آیت2) آپ کے صاحب (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نہ گمراہ ہوئے اور نہ بے راہ چلے۔ جب ایک مقام پر ربّ کریم گمراہ اور بے رہی کی نفی فرما رہا ہے تو دوسرے مقام پر خود ہی کیسے گمراہ ارشاد فرمائے گا؟
انا فتحنا لک فتحا مبینا لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر ( پ 26، سورہ فتح، آیت 1)
ترجمہ :::: ہم نے فیصلہ کر دیا تیرے واسطے صریح فیصلہ تاکہ معاف کرے تجھ کو اللہ جو آگے ہوئے تیرے گناہ اور جو پیچھے رہے۔ (شاہ عبد القادر)
—-: تحقیق فتح دی ہم نے تجھ کو فتح ظاہر تو کہ بخشے واسطے تیرے خدا جو کچھ ہوا تھا پہلے گناہوں سے تیرے اور جو کچھ پیچھے ہوا- ( شاہ رفیع الدین)
—-: ہر آئینہ ما حکم کر دیم برائے توبفتح ظاہر عاقبت فتح آنست کہ بیا مرز ترا خدا آنچہ کہ سابق گزشت از گناہ تو و آنچہ پس ماند -( شاہ ولی اللہ )
—-:بے شک ہم نے آپ کو ایک کھلا فتح دی تاکہ اللہ آپ کی سب اگلی پچھلی خطائیں معاف کر دے– ( عبد الماجد دریا بادی دیوبندی)
—-: اے پیغمبر یہ حدیبیہ کی صلح کیا ہوئی در حقیقت ہم نے تمہاری کھلم کھلا فتح کرا دی تا کہ تم اس فتح کے شکریہ میں دین حق کی ترقی کےلئے اور زیادہ کوشش کرو اور خدا اس کے صلے میں تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دے– ( ڈپٹی نزیر احمد دیوبندی)
—-: بے شک ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی تا کہ اللہ تعالٰی آپ کی سب اگلی پچھلی خطائیں معاف فرما دے– ( تھانوی دیوبندی )
—-:اے محمد ہم نے تم کو فتح دی- فتح بھی صریح و صاف تا کہ خدا تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے- ( فتح محمد جالندھری یہی ترجمہ محمود الحسن کا ہے‌)
—-: بے شک ہم نے تمہارے لئے روشن فتح دی تاکہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلے کے اور تمہارے پچھلوں کے- ( اعلٰی حضرت )
حضور معصوموں کے سردار ؟ یا گنہگار؟
عام تراجم سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی معصوم ماضی میں بھی گنہگار تھا- مستقبل میں بھی گناہ کرے گا- مگر فتح مبین کے صدقے میں اگلے پچھلے تمام گناہ معاف ہو گئے اور آئندہ گناہ رسول معاف ہوتے رہیں گے-
کاش یہ فتح مبین آپ کو نہ دی گئی ہوتی تا کہ آپ کے گناہوں پرسّتاری کا پردہ پڑا رہتا- اس معصوم رسول کے گنہگار ہونے کا صرف اللہ تعالٰی ہی جانتا- کھلم کھلا فتح کیا ملی کہ رسول معصوم کے تمام مخفی گناہ ترجمہ پڑھنے والوں کے سامنے آشکار ہو گئے اور معلوم ہوا کہ آئندہ بھی گناہ سرزد ہوتے رہیں گے- یہ دوسری بات ہے کہ ان گناہوں کی معافی کی پیشگی ضمانت ہو گئی ہے- ان مترجمین سے آپ دریافت کیجئے کہ اس آیت کی تفسیر میں جو تاویلات کی گئی ہے مفسرین نے جو معنی بیان کئے ہیں اس کے مطابق انہوں نے ترجمہ کیوں نہیں کیا- ترجمہ پڑھنے والوں کی گمراہی کا کون ذمہ دار ہے ؟ جب نبی معصوم گنہگار ہو تو لفظ عصمت کا اطلاق کس پر ہو گا ؟ عصمت انبیا ء کا تصّور اگر جزو ایمان ہے تو کیا گنہگار خطاکار نبی ہو سکتا ہے ؟ اقوال صحابہ مفسرین کی توجیہات سے ہٹ کر ترجمہ کرنے پر کس نے آپ کو مجبور کیا- ایک عربی یہودی یا نصرانی یا ہمارے یہاں جنہوں نے عربی زبان پڑھی ہے وہ بھی اس قسم کا ترجمہ کر سکتے ہیں تو آپ جو کہ عالم دین کہلاتے ہیں تفاسیر اور حدیث وفقہ کی تعلیم سے آراستہ ہیں- بغیر سوچے سمجھے لفظ بلفظ ترجمہ کردیں تو آپ میں اور ان میں کیا فرق ہو گا؟ افسوس کہ لفظ ذنب کی تفسیر میں امام ابوالّیث یا سلمٰی کی توجیہہ پڑھ لیتے تو اتنی فاش غلطی مترجمین سے نہ ہوتی- مگر یہ صاحبان جب تک رسول اللہ کی نقص جوئی نہ کر لیں ان کو اپنے علم پر اعتماد نہیں ہوتا- ڈپٹی نزیر احمد کا ترجمہ مطبوعہ تاج کمپنی نمبر پی 141 کے آخر میں مضامین قرآن مجید کی مکمل فہرست دی گئی ہے- اس فہرست کے حصہ دوم باب5 کا عنوان (سرخی) یہ ہے ،‘حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر جو خدا کی طرف سے عتاب ہوا یا آپ کی کسی بات پر گرفت ہوئی-‘ حوالے کے طور پر 9 آیات پیش کی گئی ہیں- اس سے آپ ان کی اللہ کے محبوب صلی اللہ ولیہ وسلم کی طرف سے دلی عداوت و بغض کا اندازہ کر سکتے ہیں-
لک میں ل سبب کے معنی ہیں
ظاہر ہے کہ اعلٰی حضرت کا جوش عقیدت جناب ختمی مرتبت کے لئے اپنے کمال پر ہے ، اُن کو بھی ترجمہ کے وقت یہ تشویش ہوئی ہوگی ، کہ عصمت رسول پر حرف نہ آئے ، اور قرآن کا ترجمہ بھی صحیح ہوجائے ، وہ عقیدت بھری نگاہ جو آستانہء رسول پر ہمہ وقت بچھی ہوئی ہے اس نے دیکھا کہ لک میں ل سبب کے معنٰی میں مستعمل ہوا ہے لہٰذا جب حضور کے سبب سے گناہ بخشے گئے تو وہ شخصیتیں اورہوئیں جن کے گناہ بخشے گئے ، اہل بصیرت کے لیے اشارہ کافی ہے معنویت سے بھرپور روشن فتح کے مطابق ترجمہ فرمادیا۔
فان یشاء اللہ تختم علٰی قلبک ( پ25، سورۃ شورٰی آیت24)
۔۔۔۔:: پس اگر خواہد خدا مہر نہد بر دل تو۔ ( شاہ ولی اللہ )
۔۔۔۔::اگر خدا چاہے تو اے محمد تمہارے دل پر مہر لگا دے۔ ( فتح مھًد جالندھری)
۔۔۔۔:: پس اگر چاہتا اللہ، مہر رکھ دیتا اوپر دل تیرے کے۔ ( شاہ رفیع الدین)
۔۔۔۔:: سو اگر اللہ چاہے مہر کر دے تیرے دل پر۔ ( شاہ عبدالقادر)
۔۔۔۔:: تو اگر اللہ چاہے تو آپ کے قلب پر مہر لگا دے۔ ( عبدالماجد دریا بادی دیوبندی )
۔۔۔۔::: سو خدا اگر چاہے تو آپ کے دل پر بند لگا دے۔ (سابقہ ترجمہ) ‘ دل پر مہر لگا دے‘۔ ( اشرف علی تھانوی دیوبندی)
۔۔۔۔:: اور اگر اللہ چاہے تو تمہارے دل پر اپنی رحمت و حفاظت کی مہر لگا دے۔ ( اعلٰی حضرت)
تمام تراجم سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ختم اللہ علٰٰی قلوبھم کے بعد مہر لگانے کی کوئی جگہ تھی تو یہی تھی۔ صرف ڈرا دھمکا کر چھوڑ دیا کس قدر بھیانک تصور ہے وہ ذات اطہر کہ جس کے سر مبارک پر اسرٰی کا تاج رکھا گیا۔ آج اس سے فرمایا جا رہا ہے کہ ہم چاہیں تو تمہارے دل پر مہر لگا دیں۔
مہر کی اقسام
مہر دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک تو وہ جو ختم اللہ علٰٰٰی قلوبھم میں استعمال ہوئی اور دوسری خاتم النبین کی۔ کاش تمام مترجمین تفاسیر کی روشنی میں ترجمہ کرتے تو ان کی نوک قلم سے رحمت عالم کا قلب مبارک محفوظ رہتا۔ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا قلب مبارک کہ جس پر اللہ تعالٰی کی رحمت اور انوار کی بارش ہو رہی ہے جس دل کو ہر شے سے محفوظ کیا گیا ہے اس آیت مبارک میں اس کی مزید توثیق ( وضاحت ) کر دی گئ-
ولئن اتبعت اھوا ئھم من بعد ماجائک من العلم انک اذا لمن الظلمین (پ2، سورۃ بقرہ، آیت 145)
۔۔۔۔:: اور کبھی چلا تو ان کی پسند پر بعد اس علم کے جو تجھ کو پہنچا تو تیرا کوئی نہیں اللہ کے ہاتھ سے حمایت کرنے والا نہ مدد گار ۔( شاہ عبدالقادر‌)
۔۔۔۔:: اور اگر پیروی کرے گا۔ تو خواہشوں ان کی پیچھے اس چیز سے کہ آتی تیرے پاس علم سے نہیں واسطے تیرے اللہ سے کوئی دوست اور نہ کوئی مددگار – ( شاہ رفیع الدین )
۔۔۔۔:: اگر پیروی کر دی آرزو ہائے باطل ایشاں راپس آنچہ آمدہ است بتواز دانش نہ باشد ترا برائے خلاص از عزاب خدا ہیچ دوستی ونہ یارے ہند – ( شاہ ولی اللہ )
۔۔۔۔:: اور اگر آپ بعد اس علم کے جو آپ کو پہینچ چکا ہے ان کی خواہشوں کی پیروی کرنے لگے تو آپ کیلئے اللہ کی گرفت کے مقابلے میں نہ کوئی یار ہو گا نہ مدد گار۔ ( عبدالماجد دریا بادی دیوبندی )
۔۔۔۔:: اور اے پیغمبر اگر تم اس کے بعد کہ تمہارے پاس علم یعنی قرآن آ چکا ہے ان کی خواہشوں پر چلے تو پھر تم کو خدا کے غضب سے بچانے والا نہ کوئی دوست اور نہ مدد گار۔ ( ڈپٹی نزیر دیوبندی و فتح محمد جالندھری‌)
۔۔۔۔:: اور اگر آپ اتباع کرنے لگیں ان کے غلط خیالات کا علم قطعی ثابت بالوجی آچکنے کے بعد تو آپ کا کوئی خدا سے بچانے والا نہ یار نکلے نہ مددگار۔ (تھانوی دیوبندی )
۔۔۔۔:: اور ( اسے سننے والے کے باشد‌) اگر تو ان کی خواہشوں پر چلا بعد اس کے کہ تجھ علم چکا تو اس وقت تو ضرور ستم گار ہو گا۔ ( اعلٰی حضرت )
ترجمہ تفسیر خازن کی روشنی میں
نبئ معصوم جن کی نسبت سے قرآنی صفحات بھرے ہیں۔ جن کو ٰطٰہ، ٰیس، مزمل، مدثر جیسے القاب وآداب دیئے گئے، اچانک اس قدر زجر و توبیح کے کلمات سے اللہ تعالٰی ان کو مخاطب کرے ؟ سیاق و سباق سے بھی کسی تہدید کا پتہ نہیں چلتا۔ لٰہذا مترجم کو چاہئے کہ کھوج لگائے نہ یہ کہ براہ راست کلمات کا ترجمہ کر دے جو بات ان کی عصمت کے خلاف ہے وہ کیسے امکانی طور پر ان کی طرف منسوب کی جا سکتی ہے۔
لٰہذا اعلٰی حضرت نےا س کی تحقیق فرمائی اور تفسیر خازن کی روشنی میں انہوں نے ترجمہ فرمایا کہ مخاطب ہر سامع ہے نہ کہ نبی ء معصوم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور اسی طرح کتب معانی و بیان میں بھی اس بات کی تصریح ہے۔
تراجم مزکورہ میں بعض مترجمین نے خاصی حاشیہ آرائی کی ہے مگر کسی مترجم کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ غور کرے کہ ڈانٹ ڈپٹ کے الفاظ حضور کی شان میں کہے جا رہے ہیں۔ جب کوئی وجہ نہیں تو مخا طبیت اللہ کے محبوب سے خاص نہیں بلکہ ہر سننے والے سے خطاب ہے۔
ما کنت تدری ما الکتب ولا الایمان ( پارہ 25 سورۃ شورٰی آیت 52 )
ترجمہ : تو نہ جانتا تھا کہ کیا ہے کتاب اور نہ ایمان۔ ( شاہ عبد القادر )
ترجمہ : تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے اور نہ ایمان ( فتح محمد جالندھری )
ترجمہ : نہ جانتا تھا تو کیا ہے کتاب اور نہ ایمان ( شاہ رفیع الدین )
ترجمہ : نمی دانستی کہ چیست کتاب ونمی دانستی کہ چیست ایمان ( شاہ ولی اللہ )
ترجمہ : تمہیں کچھ پتا نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے ۔ ( مودودی )
ترجمہ : آپ کو نہ یہ خبر تھی کتاب کیا چیز ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا چیز ہے ۔( عبدالماجد دریابادی دیوبندی )
ترجمہ : تم نہیں جانتے تھے کہ کتاب اللہ کی کیا چیز ہے اور نہ یہ جانتے تھے کہ ایمان کس کو کہتے ہیں ۔ ( ڈپٹی نذیر احمد دیوبندی )
ترجمہ : آپ کو یہ نہ خبر تھی کہ کتاب ( اللہ ) کیا چیز ہے اور نہ یہ خبر تھی کہ ایمان کا (انتہائی کمال ) کیا چیز ہے ۔ (اشرف علی تھانوی دیوبندی)
ترجمہ : اس سے پہلے نہ تم کتاب جانتے تھے نہ احکام شرع کی تفصیل ۔ (سیدی اعلٰیحضرت )
ظھور نبوت سے قبل حضور کے مومن ہونے کی نفی؟
لوح و قلم کو علم ہی نہیں بلکہ جن کو عالم ماکان و مایکون کا علم ہے، معاذ اللہ آیت مزکورہ کے نزول سے پہلے مومن بھی نہ تھے کیونکہ مترجمین کے تراجم کے مطابق ایمان سے بھی نا بلد (کورے) تھے۔ تو غیر مسلم ہوئے۔ موحد بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ بھی آپ کی بعث سے پہلے مومن ہوتا ہے ( بعد میں رسالت پر ایمان لانا شرط ہے ) تراجم مزکورہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کی خبر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو بعد میں ہوئی۔
اعلٰی حضرت کے ترجمے سے اس قسم کے تمام اعتراضات ختم ہو گئے کہ آپ احکام شرع کی تفصیل نہ جانتے تھے ایمان اور احکام شرع کی تفصیل میں جو فرق ہے وہی اعلٰی حضرت اور دیگر مترجمین کے ترجمہ میں فرق ہے۔
الرحمٰن ہ علم القرآن ہ خلق الانسان ہ علمہ البیان ہ
(پارہ 27 سورۃ الرحمٰن آیت 1 تا 4 )

ترجمہ :: رحمٰن نے سکھایا قرآن ، بنایا آدمی ، پھر سکھائی اس کو بات ( شاہ عبد القادر )
ترجمہ :: رحمٰن نے سکھایا قرآن ، پیدا کیا آدمی کو ، سکھایا اس کو بولنا۔ ( شاہ رفیع الدین )
ترجمہ :: خدا آموخت قرآن را ، آفرید آدمی راوآمو ختش سخن گفتن- ( شاہ ولی اللہ )
ترجمہ ::‌خدائے رحمٰن ہی نے قرآن کی تعلیم دی ، اس نے انسان کو پیدا کیا ۔ اس کو گویائی سکھائی -( عبد الماجد دریا بادی دیوبندی )
ترجمہ : جنوں اور آدمیوں پر خدائے رحمان کے جہاں اور بےشمار احسانات ہیں ازاں جملہ یہ کہ اسی نے قرآن پڑھایا اسی نے انسان کو پیدا کیا پھر اس کو بولنا سکھایا ۔( ڈپٹی نذیر احمد دیوبندی)
ترجمہ :‌رحمٰن نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا ، انسانیت کی جان محمد کو پیدا کیا ، ماکان و مایکون کا بیان انہیں سکھایا۔( اعلٰی حضرت )
مندرجہ بالا تراجم کو غور سے پڑھئے، پھر اعلٰی حضرت کے ترجمہ کا بغور مطالعہ فرمائیں-
آیت نمبر 2 میں لفظ علم آیا- جو متعدی بدومفعول ہے- تمام تراجم میں رحمٰن نے سکھایا قرآن- سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس کو قرآن سکھایا- اس سے کس کو انکارہو سکتا ہے- خود قرآن شاہد ہے علمک مالم تکن تعلم اللہ نے آپ کو ہر چیز کا علم دیا جو آپ نے جانتے تھے-
آیت نمبر3 کا ترجمہ ہے آدمی کو پیدا کیا وہ کون انسان ہے؟ مترجمین نے لفظ بلفظ ترجمہ کر دیا- بعض تراجم میں اپنی طرف سے بھی الفاظ استعمال کئے گئے پھر بھی لفظ انسان کی ترجمانی نہیں ہو سکی- اب آپ اس ذات گرامی کا تصور کریں جو اصل الاصول ہیں جن کی حقیقت ام الحقائق ہے- جن پر تخلیق کی اساس رکھی گئی- جو مبد خلق ہیں، روح کائنات، جان انسانیت ہیں- اعلٰی حضرت فرماتے ہیں انسانیت کی جان محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو پیدا کیا- الانسان سے جب حضور سرور کونین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شخصیت کا تعین ہو گیا تو ان کی شان کے لائق اللہ تعالٰی کی طرف سے تعلیم بھی ہونی چاہیئے- چنانچہ عام مترجمین کی روش سے ہٹ کر اعلٰی حضرت فرماتے ہیں، ماکان ومایکون کا بیان انہیں سکھایا
سوال—- اس جگہ گستاخ رسول ذہنوں میں ضرور سوال ابھرتا ہے کہ یہاں‘ ماکان و ما یکون کا بیان سکھانا‘ کہاں سے آ گیا- یہاں تو مراد ‘ بولنا سکھانا‘ ہے- یا یہ کہئے کہ قرآن کا علم دوسری آیت ظاہر کر رہی ہے تو اس چوتھی آیت مین اس کا ‘ بیان سکھابا ‘ مراد ہے-
جواب—- تو جواب اس کا یہ ہے کہ ماکان و مایکون ( جو کچھ ہوا اور جو کچھ قیامت تک ہو گا‌) کا علم لوح محفوظ میں اور لوح محفوظ قرآن شریف کے ایک جز میں اور قرآن کا بیان ( جس میں ماکان وما یکون کا بیان بھی شامل ہے‌) سکھایا- یہ تفسیری ترجمہ ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی شاعر نے کہا کہ،
مگس کا باغ میں جانے نہ دینا—- کہ ناحق خون پروانوں کا ہو گا
مکھی کو باغ میں نہ جانے دو کہ یہ پھولوں کا رس چوس کر شہد و موم کا سبب بنے اور موم سے موم بتی اور موم بتی جب جلے گی تو پروانے جل کر قربان ہوں گے- اب بتائیے اعلٰی حضرت نے ترجمہ ( ماکان وما یکون کا بیان سکھایا) کیسا کیا‌؟
میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ مذکورہ چار آیات کا ترجمہ متعدد بار پڑھیں- یقینًا آپ کے ایمان میں بے پناہ نکھار پیدا ہو گا اور عشق رسول میں آپ پر یقینًا ایک وجدانی کیفیت طاری ہو گی-
لا اقسم بھذا البلد ( پ30، سورۃ بلد، آیت 1)
ترجمہ) قسم کھاتا ہوں اس شہر کی اور تجھ کو قید نہ رہے اس شہر میں۔ ( شاہ عبدالقادر )
ترجمہ) قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی اور تو داخل ہونے والا ہے بیچ اس شہر کے۔ ( شاہ رفیع الدین)
ترجمہ) قسم می خورم بایں شہر ۔ ( اشرف علی تھانوی دیوبندی)
ترجمہ) میں قسم کھاتا ہوں اس شہر مکہ کی۔ ( عبدالماجد دریا بادی دیوبندی)
ترجمہ) میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی۔ ( محمود الحسن)
ترجمہ) ہم اس شہر مکہ کی قسم کھاتے ہیں۔ ( ڈپٹی نذیر احمد دیوبندی)
ترجمہ) قسم کھاتا ہوں اس شہر کی۔ ( مودودی وہابی)
ترجمہ) مجھے اس شہر کی قسم کہ اے محبوب تم اس شہر میں تشریف فرما ہو۔ (اعلٰی حضرت )
اللہ تعالٰی کھانے پینے سے پاک ہے
انسان قسم کھاتا ہے۔ اردو اور فارسی میں قسم کھائی جاتی ہے۔ اللہ تعالٰی کھانے پینے سے بے نیاز ہے مترجمین کرام نے اپنے محاورہ کا اللہ کو کیوں پابند کیا۔ کیا اس لئے کہ اس بےنیاز نے کچھ کھایا نہیں تو کم سے کم ہی کھائے۔ ایسی بھی کیا بے نیازی کہ کچھ نہیں کھایا، یا اس باریک مسئلہ کی طرف عام مترجمین کی توجہ نہیں۔ اعلٰی حضرت نے کس خوش اسلوبی سے ترجمہ فرما دیا۔ مجھے اس شہر کی قسم۔
ایاک نعبد و ایا ک نستعین (پ1، سورۃ فاتحہ، آیت4) ترجمہ) ترامی پر ستم واز تومدمی طلہم (شاہ ولی اللہ )
ترجمہ)ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ ( فتح محمد جالندھری)
ترجمہ) تجھ ہی کو عبادت کرتے ہیں ہم اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ہم۔ ( شاہ رفیع الدین محمود الحسن دیوبندی)
ترجمہ) ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور آپ ہی سے درخواست اعانت کرتے ہیں۔ ( اشرف علی تھانوی دیوبندی)
ترجمہ) ہم تجھی کو پوجیں اور تجھی سے مدد چاہیں۔ ( اعلٰی حضرت )
دعاء
سورہ فاتحہ، سورۃ الدعا ہے۔۔۔۔ دعا کے دوران دعائیہ کلمات کہے جاتے ہیں۔ خبر نہیں دی جاتی۔ جب کہ تمام تراجم میں خبر کا مفہوم ہے دعا کا نہیں اور ظاہر ہے عبادت کرتے ہیں۔ مدد چاہتے ہیں۔ دعائیہ کلمات نہیں ہیں یہ کلمات خبر کے ہیں جب کہ اعلٰی حضرت نے دعائیہ کلمات سے ترجمہ کیا ہے-
یا ایھا النبی (پارہ 10 سورہ انفال آیت 64 )
ترجمہ : اے نبی ( شاہ عبدالقادر )
ترجمہ : اے نبی ( عبد الماجد دریا بادی دیوبندی )
ترجمہ : اے پیغامبر ( شاہ ولی اللہ)
ترجمہ : اے پیغمبر ( ڈپٹی نذیر احمد دیوبندی )
ترجمہ : اے نبی ( شاہ رفیع الدین )
ترجمہ : اے نبی ( اشرف علی تھانوی دیوبندی )
ترجمہ : اے غیب کی خبریں بتانے والے ( اعلٰی حضرت )
قرآن کریم میں لفظ رسول اور نبی متعدد مقامات پر آیا ہے ، مترجم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا ترجمہ کرے ، رسول کا ترجمہ پیغمبر تو ظاہر ہے مگر نبی کا ترجمہ پیغمبر نامکمل ہے ، اعلٰی حضرت لفظ نبی کا ترجمہ اس اسلوب سے کیا ہے کہ لفظ کی معنویت اور حقیقت آشکار ہوکے سامنے آگئی ، مگر افسوس بعض لوگوں کو اس ترجمہ بہت صدمہ ہوا ہے کہ ان کی تنگ نظری اور بد عقیدگی کا جواب ترجمہ اعلٰی حضرت سے ظاہر ہوگیا۔
مفردات امام راغب میں ہے
والنبوۃ سفارۃ بین اللہ و بین ذوی العقول من عبادہ لا زاحۃ علتھم فی امر معادھم و معاشھم والنبی لکونہ منبا بما تسکن الیہ العقول الزکیۃ و ھو یصح ان یکون فعیلا، بمعنی فاعل لقو لہ بناء عبادی الخ۔
( نبوت اللہ تعالٰی اور اس کے ذوی العقول بندوں کے درمیان سفارت کو کہتے ہیں تاکہ ان کی تمام آخرت اور دنیا کی معاشی بیماریوں کو دور کیا جائے اور نبی خبر دیا ہوا ہوتا ہے ایسی باتوں کا جن پر صرف عقل سلیم اطمینان کرتی ہے اور یہ لفظ اسم فاعل بھی صحیح ہے اس لئے کہ بناء کا حکم آیا ہے۔)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ( شاہ عبد القادر )
ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں‌ساتھ نام اللہ بخشش کرنے والے مہربان کے ( شاہ رفیع الدین )
ترجمہ :‌ شروع اللہ نہایت رحم کرنے والے کے نام سے ( عبد الماجد دریا بادی دیوبندی )
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑے مہربان نہایت رحم والے ہیں ( اشرف علی تھانوی دیوبندی )
ترجمہ : اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ( اعلٰی حضرت )
تمام اردو تراجم ملاحظہ کیجیے ۔۔۔۔۔ سب نے اسی طرح ترجمہ کیا ہے شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے یا شروع ساتھ نام اللہ کے ۔ چنانچہ مترجم کا قول خود اپنی زبان سے غلط ہوگیا ، کیونکہ شروع کرتا ہوں سے ترجمہ شروع کیا ہے اللہ کے نام سے شروع نہیں کیا ، اس پر طرّہ یہ کہ جناب اشرف تھانوی صاحب نے آخر میں ہیں بڑھادیا ان کے تلامذہ یا معتقدین بتائیں کہ ہیں کس لفظ کا ترجمہ ہے ۔ فافھم
وما اھل بہ لغیر اللہ (پ 2 سورہ بقرہ ‘ آیت 173)
ترجمہ : اور جس پر نام پکارا اللہ کے سوا کا– (شاہ عبد القادر )
ترجمہ : اور جس جانور پر نام پکارہ جائے اللہ کے سوا کسی اور کا– (محمود الحسن )
ترجمہ : اور جو کچھ پکارا جاوے اوپر اس کے واسطے غیر اللہ کے – ( شاہ رفیع الدین)
ترجمہ : وا آنچہ نام غیر خدا بوقت ذبح او یادکردہ شود-(شاہ ولی اللہ)
ترجمہ : اور جو جانور غیر اللہ کے لئے نا مزد کر دیا گیا ھو-(عبد الماجد دریا بادی دیو بندی )
ترجمہ : اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام کر دیا ھے – ( اشرف علی تھانوی دیو بندی )
ترجمہ : اور وہ جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا ھو- (اعلٰی حضرت )
کسی پر غیر خدا کا نام حرام نھیں ورنہ ھر چیز حرام ھو گی –
جانور کبھی شادی کے لئے نا مزد ہوتا ھے کبھی عقیقہ،ولیمہ،قربانی، اور ایصال ثواب کے لئے مثلا گیارھویں شریف ، با رھویں شریف تو گویا ہر جانور جو ان مذکورہ ناموں پر نا مزد کیا گیا ہے وہ مترجمین کے نزدیک حرام ھے – اعلٰی حضرت نے حدیث و فقہ و تفسیر کے مطا بق ترجمہ کیا ‘‘جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا ھو‘‘ – اس ترجمہ سے وما اھل بہ لغیر اللہ کا مسئلہ واضح ھو گیا –
قران کریم کا تفسیری ترجمہ نہ کہ لفظی ترجمہ
اگر قران کریم کا لفظی ترجمہ کر دیا جائے تو اس سے بے شمار خرابیاں پیدا ہوں گی – کھیں شان الوہیت میں بے ادبی ہو گی تو کہیں شان انبیاء میں اور کہیں اسلام کا بنیادی عقیدہ مجروح ہوگا ۔ چنانچہ آپ مندرجہ بالا تراجم پر غور کریں تو تمام مترجمین نے قرآنی لفظ کے اعتبار سے براہ راست اردو میں ترجمہ کیا ہے مگر اس کے با وجود تراجم کانوں پر گراں ہیں اور اسلامی عقیدے کی رو سے مذ ہبی عقیدت کو سخت صدمہ پہنچ رہا ہے ۔
کیا آپ پسند کریں گے ؟
کہ کوئی کہے ‘ اللہ ان سے ٹھٹھا کرتا ہے ، اللہ ان سے ہنسی کرتا ہے، اللہ ان سے دل لگی کرتا ہے ، اللہ انھیں بنا رہا ہے ، اللہ ان کی ہنسی اڑاتا ہے،-
آیت کر یمہ اللہ یستھزئ بھم ( پ 1 ، سورہ بقرہ، آیت ؛ 15 ) کا اکثر مترجمین نے یھی ترجمہ کیا ہے۔ ان میں مشھو ر ڈپٹی نذیر احمد صاحب دیو بندی ، شیخ محمود الحسن صاحب و فتح محمد جا لند ھری و عبد الماجد دیو بندی دریا بادی ، مرزا حیرت دہلوی ( غیر مقلّد) و نواب و حیدالزّمان، سر سیّد احمد صاحب علی گڑھی ( نیچری) ، حضرت شاہ رفیع الدین صاحب وغیرہ ھیں۔
اسی طرح ایک مشہور آیت ہے، ثم استوی علی العرش پ 8، سورہ الاعراف، آیت: 54- لفظ استوٰی قرآن کریم میں متعدد مقامات پرآیا ہے- اکثر مترجمین نے اس کا ترجمہ کیا ہے، پھر قائم ہوا تخت پر، (عاشق الٰہی) پھر قرار پکڑا اوپر عرش کے، (شاہ رفیع الدین ) پھر اللہ عرش بریں پر جا برا جا، ( ڈپٹی نذیر احمد )‘ پھر بیٹھا تخت پر‘ ( شاہ عبدالقادر ) ‘ پھر تخت پر چڑھا‘ ( نواب وحید الزّمان غیر مقلّد ) ‘ پھر عرش پر دراز ہو گیا‘ ( وجدی صاحب و محمد یوسف صاحب کا کوری )-
اسی طرح آیت فاینما تو لوا فثم وجہ اللہ پ1، سورہ بقرہ، آیت:115میں وجہ اللہ کا ترجمہ اکثر مترجمین نے کیا ہے۔ اللہ کا منہ، اللہ کا رخ- چنانچہ شاہ رفیع الدین صاحب نے ترجمہ فرمایا ہے، ‘ پس جدھر کو منہ کرو پس وہیں ہے منہ اللہ کا۔ اللہ کا چہرہ ہے۔ ( نواب و حید الزمان غیر مقلد و محمد یوسف صاحب ) ‘ ادھر اللہ ہی کا رخ ہے‘ ( شیخ محمود الحسن و عاشق الٰہی دیوبندی صاحبان، ومولانا اشرف علی صاحب تھانوی دیوبندی ) ‘ ادھر اللہ کا سامنا ہے ‘ ( ڈپٹی نذیر احمد و مرزا حیرت غیر مقلّد دہلوی و سیّد عرفان علی شیعہ ) مذکورہ بالا تمام تراجم پڑھنے کے بعد اعلٰی حضرت، عظیم البرکت کا ترجمہ دیکھئے کہ ہر سہ آیات میں سے کسی آیت کا انہوں نے اردو میں ترجمہ نہیں کیا۔ اس لئے کہ قرآنی الفاظ ‘ استوٰی ‘ – استھزا‘ – ‘ وجہ اللہ‘- کا ترجمہ کرنے کیلئے اردو میں ایسا کوئی لفظ نہیں کہ لفظی ترجمہ کر کے مترجم شرعی گرفت سے اپنے کو محفوظ کر سکے- لٰہذا اعلٰی حضرت نے بلفظہ ترجمہ فرمایا ہے-1: ‘ اللہ ان سے استہزا فرماتا ہے‘ ( جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے )- 2: پھر عرش پر استوار فرمایا‘ ( جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے ) 3: ‘ تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اللہ ہے‘ ( خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ ہے )- اس سے یہ معلوم ہوا کہ قرآن کریم کا لفظی ترجمہ کرنا ہر موقع پر تقریباً نا ممکن ہے- ان مواقع پر ترجمہ کا حل یہ ہے کہ تفسیری ترجمہ کیا جائے تا کہ مطلب بھی ادا ہو جائے اور ترجمہ میں کسی قسم کا سقم باقی نہ رہے۔ اعلٰی حضرت کے ایمان افروز ترجمہ کہ خوبیوں کو دیکھ کر یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ تمام تراجم قرآن میں ایک معیاری ترجمہ ہے جو ترجمہ کی غلطیوں سے مبرّا ہے۔ ( دیگر مترجمین نے خالق کو مخلوق کے درجے میں لا کھڑا کیا )۔
دغا با زی ، فریب ،دھوکہ، اللہ کی شان کے لائق نہیں
انٌ للمنافقین یخا دعون اللہ وھو خا دعھم (پ 5، سورہ نسآء،آیت : 142 )
منافقیں دغا بازی کرتے ھیں اللہ سے اور اللہ بھی ان کو دغا دے گا ۔ ( ترجمہ عاشق الٰہی میر ٹھی ، شاہ عبد القادر صاحب، مولانا محمود الحسن صاحب)
اور اللہ فریب دینے والا ھے ان کو -(شاہ رفیع الدین صاحب)
خدا ان ھی کو دھوکہ دے رھا ھے۔ ( ڈپٹی نذیر احمد صاحب )
اللہ انھیں کو دھوکہ میں ڈالنے والا ھے۔ ( فتح محمد صا حب جا لندھری )
وہ ان کو فریب دے رہا ہے۔ ( نواب وحید الزّمان غیر مقلّد و مرزا حیرت غیر مقلّد دہلوی و سیٌد عرفان علی شیعہ )
دغا بازی، فریب، دھوکہ، کسی طرح اللہ کی شان نھیں ھے۔
lعلٰی حضرت نے تفسیری ترجمہ فرمایا،
بے شک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا چاھتے ھیں اور وھی ان کو غا فل کرکے مارے گا۔

تفا سیر قرآن کے مطالعے بعد اندازہ ھوتا ھے کہ اس ترجمہ میں آیت کا مکمل مفہوم نہایت محتاط طریقہ پر بیان کیا گیا ھے۔ یہ لفظی ترجمہ نہیں بلکہ تفسیری ترجمہ ہے۔
قل اللہ اسرع مکرًا (پارہ 11 سورہ یونس آیت 21)
کہہ دو اللہ سب سے جلد بناسکتا ہے حیلہ ( شاہ عبدالقادر ، فتح محمد جالندھری دیوبندی ، محمودالحسن صاحب دیوبندی ، عاشق الٰہی دیوبندی میرٹھی)
کہہ دو اللہ بہت جلد کرنے والا ہے مکر ۔ (شاہ رفیع الدین )
اللہ چالوں میں ان سے بھی بڑا ہوا ہے ( عبدالماجد دریا بادی دیوبندی )
کہہ دے اللہ کی چال بہت تیز ہے ( نواب وحید الزّمان غیرمقلّد )
صفت مکر (اردومیں ) اللہ تعالٰی کی شان کے لائق نہیں ۔
ان آیات کے ترجمہ میں اللہ تعالٰی کے لئے مکر کرنے والا، چال چلنے والا، حیلہ کرنے والا کہاگیا ہے ، حالانکہ یہ کلمات کسی طرح اللہ کے شان کے لائق نہیں ،
اعلٰٰی حضرت نے لفظی ترجمہ فرمایا ہے۔ پھر بھی کس قدر پاکیزہ زبان استعمال کی ہے- فرماتے ہیں
تم فرمادو اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے جلد ہوتی ہے

نسوا اللہ فنسیھم (پ 10 ، سورہ توبہ،آیت 67،)
یہ لوگ اللہ کو بھول گئے اور اللہ نے ان کو بھلا دیا۔( فتح محمد دیو بندی جا لندھری ڈپٹی نذیر احمد دیوبندی)
وہ اللہ کو بھول گئے اللہ ان کو بھول گیا۔ ( شاہ عبد القادر صا حب ، شاہ رفیع الدین صاحب ، شیخ محمود الحسن دیو بندی )
اللہ تعالٰٰی کے لئے بھلا دینا،بھول جانے کے لفظ کا استعمال اپنے مفہوم اور معنٰی کے اعتبار سے کسی طرح درست نہیں ہے ، کیونکہ بھول سے علم کی نفی ہوتی ہے اور اللہ تعالٰی ہمیشہ عالم الغیب و الشہادۃ ہے۔ مترجمین کرام نے اس آیت کا لفظی ترجمہ کیا ہے جس کا نتیجہ ہر پڑھنے والے پر ظاہر ہے ۔ اعلٰی حضرت نے تفسیری ترجمہ فرمایا ہے ۔ فرماتے ہیں،وہ اللہ کو چھوڑ بیٹھے تو اللہ نے انہیں چھوڑ دیا‘-
یہ چند مثالیں تقابلی مطالعہ کی قارئین کے سامنے پیش کی گئیں۔ اس کے علاوہ بھی سینکڑوں مثالیں ہیں۔ اس مختصر سے مطالعہ کے بعد آپ نے ترجمہ کی اہمیت کو محسوس کر لیا ہو گا۔ اعلٰی حضرت فاضل بریلی بسا اوقات کسی ایک آیت کے ترجمہ کے لئے تمام مشہور تفاسیر قرآن کا مطالعہ کر کے مناسب و موزوں ترین ترجمہ کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ لفظ استہزا، استوی اور وجہ اللہ کا کوئی موزوں ترجمہ اردو میں نہیں کرسکے، اس لئے مجبوراً وہی لفظ ترجمہ میں بھی برقرار رکھے۔ یہ تقابلی مطالعہ صرف اس لئے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے کہ آپ ترجمہ قرآن کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔ ورنہ غیر مناسب لفظی ترجمہ کی وجہ سے آپ کا ایمان خطرہ میں پڑ سکتا ہے یا کم از کم نیکی برباد گناہ لازم کا امکان تو بہت زیادہ ہے۔
( رضاء المصطفٰے اعظمی خطیب نیو میمن مسجد و مہتمم المجد داحمد رضا اکیڈمی کراچی )

علوم قرآن اور ملت اسلامیہ

علوم قرآن اور ملت اسلامیہ

مدیر “معارف رضا”   پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری   کے قلم سے

                        قارئین کرام!

            آیاتِ ربانی و ارشاداتِ حضرت رسولِ گرامی صلی اللہ علیہ وسلم اس ملتِ اسلامیہ کو قرآن مجید کے ساتھ مضبوط وابستگی کا درس دے رہے ہیں، یہ ملتِ اسلامیہ نہ گمراہ ہوگی، نہ مغلوب جب تک اس کتاب اللہ اور صاحبِ کتاب کے دامن کو تھامے رہے گی اور الحمدللہ اس ملتِ اسلامیہ کا وہ سنہرا زمانہ تاریخ میں محفوظ ہے کہ ہند سے لے کر یورپ کے آخری کنارے اسپین تک اسی قرآن و حدیث کے پیروکاروں کی حکومت تھی اور لگ بھگ ایک ہزار برس تک مسلمان مدبر (سائنسدان) پوری دنیا پر چھائے رہے، یہ سب ان کی قرآن مجید سے وابستگی کا نتیجہ تھی۔ جیسے جیسے مسلمانوں نے قرآن مجید کا دامن چھوڑا، علوم و فنون کے دروازے بھی بند ہوتے چلے گئے اور نوبت یہاں تک آپہنچی کہ دنیاوی علوم جو دنیا کی ہزاروں جامعات میں پڑھائے جاتے ہیں وہ سب کے سب غیرمسلموں کی لکھی ہوئی کتابوں کی روشنی میں پڑھائے جاتے ہیں، ان کتابوں میں شاید چند کتابیں مسلمانوں سائنسدانوں کی لکھی ہوئی ہوں گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسلمانوں نے علم حاصل کرنا چھوڑ دیا یا بہت ہی قلیل تعداد دنیاوی علوم حاصل کررہی ہے یا پھر مسلمانوں نے تدبر اور تفکر جیسے اعلیٰ وصف کو ترک کردیا، آیئے اس کا ایک سرسری جائزہ لیتے ہیں۔

            اللہ تعالیٰ کا قرآنِ مجید و فرقانِ حمید میں ارشاد ہے:

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآَنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (النساء:82)

            تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں اور اگر وہ غیر اللہ کے پاس سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت سے اختلاف پاتے۔

            ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

            أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآَنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا  (ص: 29)

            یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقلمند نصیحت مانیں۔

            نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی نے آخری خطبہ (حج) عام میں لگ بھگ ایک لاکھ چوبیس ہزار اصحاب کے سامنے خطاب میں ارشاد فرمایا:

            اولھما کتاب اللہ فیہ الھدی والنور فخذوا بکتاب اللہ واسمتسکوا بہ فحث علی کتاب اللہ ورغب فیہ

            پہلی چیز کتاب اللہ ہے، اس میں ہدایت اور نور ہے تو خدا کی کتاب کو پکڑے رہو اور اسی سے دلیل لیا کرو۔ لوگوں کو کتاب اللہ کی طرف رغبت دلا۔

            ایک مقام پر یوں بھی ارشاد فرمایا:

            لوگو! کتاب اللہ کو پکڑے رہو، جب تک اس کتاب اللہ کو پکڑے رہو گے، گمراہ نہ ہوگے۔

            حضرت امام عبد الرحمن السیوطی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد گرامی ہے:

            کائنات میں کوئی ایسی چیز نہیں جس کا استخراج اور استنباط آپ قرآن کریم سے نہ کرسکیں لیکن یہ علوم و معارف اس پرآشکار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے فہم عطا فرمایا ہے۔

            نبی کریم نے ظاہری دنیا سے پردہ فرماتے وقت ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زیادہ صحابہ کرام کا گروہ رہتی دنیا تک کی تعلیم و تربیت کے لئے اپنے پیچھے چھوڑا۔ یہ سب کے سب ہدایت کے نور تھے۔ کیوں؟ اس لئے کہ یہ سب پورے قرآن مجید کے عامل اور حضور کی تمام احادیث کے مکمل پیروکار تھے۔ چنانچہ تمام صحابہ کرام عملاً سرچشمہ ہدایت تھے اور انہوں نے یہ نور اپنی next generation تابعین میں پورا پورا منتقل کیا اور تابعین کے گروہ نے تبع تابعین میں یہ قرآن و حدیث کا ذخیرہ منتقل کیا اور یہ سلسلہ صدیوں چلتا رہا۔ احقر یہاں سیاسی، مولی معاملات پر بحث نہیں کرے گا مگر اس بات کی نشاندہی ضرور کرے گا کہ لگ بھگ قرآن مجید کے نزول کے ایک ہزار برس تک مسلمانوں میں قرآن مجید سے تفکر و تدبیر کا رشتہ قائم رہا اور جب تک یہ سلسلہ قائم رہا۔ مسلمان دنیاوی علوم پر بھی دنیا میں غالب رہے اور نئی نئی ایجادات کا سلسلہ جاری رہا ہے لیکن جب غیر مسلموں نے دنیاوی علوم میں مسلمانوں کا مقابلہ شروع کیا تو مسلمانوں نے نہ جانے کیوں ہتھیار ڈالنا شروع کردیئے اور آہستہ آہستہ غیر مسلم سائنسدان غالب ہوتے چلے گئے اور اب حال یہ ہے کہ آج ہم صحابہ کرام کے دور کے مقابلہ میں کم از کم 2000 گنا تعداد میں زیادہ ہیں مگر قرآن مجید کی روشنی میں دنیاوی علوم و فنون کا مقابلہ کرنے والے شاید دورِ حاضر میں ایک بھی جید مسلمان سائنسدان نہیں ہے۔ افسوس کہ قرآن مجید بار بار نشاندہی فرماتا ہے:

مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ (الانعام:38)

ہم نے اس کتاب میں کچھ اٹھا نہ رکھا۔

We have left out nothing in the Book.

وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ  (النحل:89)

اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے۔

And we have sent down this Quran on You in which, everything (knowledge) is clearly explained.

وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ (الانعام:59)

اور نہ کوئی تر اور نہ خشک جو ایک روشن کتاب میں لکھا نہ ہو۔

And nor anything wet or nor dry which is not written in a luminous book.

            قارئین کرام! آیئے تاریخ کے صفحات کو الٹتے ہیں، دیکھئے کیا شاندار ماضی ہے ہمارے مسلمان سائنسدانوں کا۔۔۔

مسلمان سائنسدانوں کی خدمات کا انتہائی سرسری جائزہ:

1۔         ابو اسحاق ابراہیم بن جندب (م 157ھ/ 776ء)

            دور بین کا موجد

2۔         جابر بن حیان (م 198ھ/ 817ء)

            علمِ کیمیا کا بانی اور کئی مرکبات کا موجد

3۔         عبد المالک اصمعی (م 213ھ/ 831ء)

            علمِ حیوانات، نباتیات کی ابتدائی 5 کتابوں کا مصنف

4۔         حکیم یحییٰ منصور (م 214ھ/ 832ء)

            دنیا کی پہلی observatory کا صدر اور فلکیاتی جدول کا بانی/ موجد

5۔         محمد بن موسیٰ خوارزمی (م 232ھ/ 850ء)

            الجبرا کا موجد اور الجبرا و حساب کی کتابوں کامصنف

6۔         احمد بن موسیٰ شاکر (م 240ھ/ 850ء)

            پہلا Mechanical Eng. اور اس موضوع پر پہلی کتاب کا مصنف

7۔         ابو عباس احمد محمد کثیر (م 243ھ/ 861ء)

            زمین کا صحیح محیط Circumferences معلوم کرنے والا پہلا سائنسدان

8۔         ابو یوسف یعقوب بن اسحاق کندی (م 254ھ/ 873ء)

            پہلا مسلم فلسفی

9۔         محمد ذکریا رازی (م 308ھ…. 932ء)

            طب کا امام، میزانِ طبعی اور الکحل کا خالق

10۔       حکیم ابو نصر محمد بن فارابی (م 338ھ/ 961ء)

            علمِ نفسیات کا عظیم ماہر

11۔       ابو علی حسن ابن الہیثم (م 410ھ/ 1021ء)

            کیمرہ کا موجد، آنکھ کی پتلی کا محقق، انعطاف نور کے نظریہ کا ماہر

12۔       احمد بن محمد علی مکویہ (م 421ھ/ 1032ء)

            نباتیات، حیوانات کا ماہر، دماغی ارتقاءکی دریافت کرنے والا

13۔       شیخ حسین عبد اللہ بن علی سینا (م 428ھ/ 1039ء)

            علمِ طبیعیات، علم الامراض، الادویہ کے فنون کا موجد، سب سے زیادہ کتابوں کا مصنف

14۔       ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی (م 439ھ/ 1049ء)

            پہلا جغرافیہ داں، ماہر آثارِ قدیمہ و ارضیات، دھاتوں کی کثافت کا موجد، برصغیر کا پہلا مورخ

15۔       امام محمد غزالی (م 505ھ/ 1111ء)

            جدید فلسفہ اخلاق کا موجد، نفسیات اور فلسفہ کا عظیم محقق

16۔       امام احمد رضا خاں بریلوی (م 1340ھ/ 1921ء)

تمام ہی تمام دنیاوی علوم و فنون کا ماہر، خاص کر ہیئت، حساب، ٹگنومیٹری، فلسفہ، ارضیات، فلکیات، اقتصادیات، معاشیات، عمرانیات، سیاسیات وغیرہا۔

            دورِ حاضر کے مسلمانوں کا قرآن کریم سے جو رشتہ کمزور ہوگیا تو اس کو ان اشعار میں آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے:

درسِ قرآن نہ اگر ہم نے بھلایا ہوتا                             یہ زمانہ نہ زمانے نہ دکھایا ہوتا

ہم نے قرآن کو مسلک جو بنایا ہوتا                           قوم کے خفیہ نصیبوں کو جگایا ہوتا

چاٹ لیں تم نے کتب فلسفہ و منطق کی                     ہاتھ بھولے سے بھی قرآں کو لگایا ہوتا

لائی ہر ڈاک، تِرے واسطے لندن سے کتاب                   گھر سے ہمسائے کے قرآن بھی منگایا ہوتا

وہ جو انجیل یہاں تجھ کو سنانے آئے                         تُونے قرآن وہاں جاکے سنایا ہوتا

قوم کے درد کا درماں ہے تو ہے قرآن                            مفلسی میں کوئی ساماں ہے تو ہے قرآن

            قارئین کرام! راقم نے یہاں چند قرآنی آیات عنوانات کے تحت درج کی ہیں تاکہ ہم اس بات کا احساس کرلیں کہ ہماری یہ کتابِ مبین ہمیں ہر علم کےبارے میں ہدایت فراہم کررہی ہے۔ آیئے چند آیات اور ان کا ترجمہ ملاحظہ کریں۔

القرآن:    كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آَيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (ص: 29)

            یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقلمند نصیحت مانیں۔

We have sent down a Book to you that is blessed, so prudent men may ponder over its verses and therebye be reminded.

القرآن:   إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآَيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ O الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ O  (اٰلِ عمران: 190-191)

            بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لئے۔ جو لوگ اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں، اے رب ہمارے تُونے یہ بیکار نہ بنایا۔

In the Creation of Heavens and Earth and the atternation between night and day light, there are signs for prudent persons who remember Allah while standing, sitting and lying on their sides, and mediate on the creation of Heaven and Earth (by saying) Our Lord, You have not created this in vain. Glory be to You, shield us from tormont of fire.

القرآن:   وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ   (الانعام: 59)

            اور اسی کے پاس ہیں کنجیاں غیب کی، انہیں وہی جانتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ خشکی اور تری میں ہے اور جو پتا گرتا ہے وہ اسے جانتا ہے اور کوئی دانہ نہیں زمین کی اندھیریوں میں اور نہ کوئی تر اور نہ خشک جو ایک روشن کتاب میں لکھا نہ ہو۔

He holds the keys to the Unseen, Only He knows them! He known whatever exists on the land and at sea; No leaf drops down unless He knows it, And there is no grain in the darkness of the Earth, and nor anything wet and nor dry which is not written in luminous Books.

پیدائشِ کائنات

القرآن:   الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ  (الفرقان: 95)

            جس نے آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استویٰ فرمایا (جیسا اس کی شان کے لائق ہے)

He is the one who created Heaven and the Earth as wel as whatever lies in between them, in six days.

علمِ ارضیات

القرآن:   وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا O  أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءَهَا وَمَرْعَاهَا O وَالْجِبَالَ أَرْسَاهَا O (النزعت:30-32)

            اور اس کے بعد زمین پھیلائی۔ اس میں سے اس کا پانی اور پارہ نکالا۔ اور پہاڑوں کو لبھایا۔

And after that He spread out the Earth. He brought forth there from its water and its pasture. And set firmly the mountains.

علمِ نباتات

القرآن: وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَهَّاجًا O وَأَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَاءً ثَجَّاجًا O لِنُخْرِجَ بِهِ حَبًّا وَنَبَاتًاO (النباء:13-15)

            اور ان میں ایک نہایت چمکتا چراغ رکھا اور پھر بدلیوں سے زور کا پانی اتارا کہ اس سے پیدا فرمائیں اناج اور سبزہ۔

And set a bleezing lamp (Source of Energy and light) there. And send down torrentail rains through (heavy and dark) clouds. So We may (crops out) produce grain and vegitation.

القرآن:  وَاللَّهُ أَنْبَتَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا O  ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا O  (نوح:17-18)

اور اللہ نے نہیں سبزے کی طرح زمین سے اگایا۔ پھر تمہیں اس میں لے جائے گا اور دوبارہ نکالے گا۔

Allah makes you grow out of the Earth like Plants. Later He will return you to it and bring you forth once more.

علمِ حیوانات

القرآن:   وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً نُسْقِيكُمْ مِمَّا فِي بُطُونِهِ مِنْ بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِلشَّارِبِينَ

 (النحل: 66)

            اور بے شک تمہارے لئے چوپایوں میں نگاہ حاصل ہونے کی جگہ ہے۔ ہم تمہیں پلاتے اس چیز میں سے جو ان کے پیٹ میں ہے گوبر اور خون کے بیچ میں سے خالص دودھ گلے سے سہل اترتا پینے والوں کے لئے۔

You have a lesson livestock (Cattle) [Have you think over it] How we let you drinks of milk that comes from (extracted or sringed from) bellies in between the cud (dung) and blood pure refreshing milk easy to swallow for those whodrink it.

چاند سورج کی حرکات

القرآن:    وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى ط۔۔۔ (الرعد:2، الزمر: 5)

            وَقَدَّرَ مَنَازِلَ   (یونس:5)

            سورج اور چاند کو مسخر کیا، ہر ایک، ایک پڑائے ہوئے وعدے تک چلتا ہے۔

            اور اس کی کے لئے منزلیں ٹھہرائیں۔

Made the moon and sun sbservient. Each one runs (move in an orbit) to a term stated [completing their movements or rotation in their orbits in fixed time daily, yearly].

سکونتِ آسمان و زمین

القرآن:  إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا وَلَئِنْ زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ  ۔۔۔ (فاطر:41)

            بے شک اللہ روکے ہوئے آسمانوں اور زمین کو کہ جنبش نہ کریں اور اگر وہ ہٹ جائیں تو انہیں کون روکے اللہ کے سوا۔

Allah has definitely withhold the heavens and the Earth, Lest they move. If either should slip or move out of place (static position) no one else would hold on to them beside him Allah.

پیدائشِ انسان

القرآن:   فَإِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ تُرَابٍ  (الحج:5)   ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔    Sticky cloy, ringing cloy

القرآن: خلقکم من طین  (الانعام:2)     تمہیں (باریک) مٹی سے پیدا کیا۔    dust/soil, mud clay sond.

القرآن: خلقنھم من طین الاذب (الصفت:11)

چپکتی مٹی سے بنایا۔  We first created you from black smelling mud, extract of clay.

            قارئین کرام! آپ نے ملاحظہ کیا۔ ہماری یہ کتاب قرآن مجید صرف نماز، روزے کے مسائل تک محدود نہیں بلکہ اس کائنات کے اندر موجود تمام اصول و ضوابط کی نشاندہی کرتی ہے، اب اسے آگے بڑھانا ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ ان آیات کے اصول پر تفکر اور تدبر کرے اور اپنے سائنسی علوم کو آگے بڑھانے کے لئے صرف اور صرف قرآن و حدیث کے اصول کو حقیقی اور صحیح جانے اور دنیا کو ایک دفعہ پھر بتائے کہ وہی اصولِ صحیحہ تسلیم کیا جائے گا جو قرآنی اصول کے مطابق ہوگا اگر ہم دورِ حاضر میں کسی مسلمان سائنسدان کو قرآن و حدیث کا عالم نہ پاسکیں تو ماضی قریب میں نظر میں دوڑائیں تو آپ کو 100 سال قبل صرف اور صرف امام احمد رضا قادری برکاتی محدث بریلوی نظر آئیں گے جو ایک طرف مجدد، مجتہد و فقیہہ ہیں تو دوسری طرف طرف ایک عظیم سائنسدان جو سائنس کے کسی ایک علم پر نہیں بلکہ سائنس کے تمام علوم مثلاً علم ہیئت، فلکیات، حساب، الجبرا، ٹگنومیٹری، علمِ نجوم، علمِ کیمیا، ارضیات، حجریات، وغیرہ۔۔ اسی طرح سوشل سائنس کے علوم، سیاسیات، عمرانیات، فلسفہ، نفسیات، اقتصادیات، معاشیات، غرض یہ کہ تمام ہی تمام علوم و فنون جو ان کے دور کے تھے۔ سب پر نہ صرف عبور رکھتے تھے بلکہ ان پر کتابیں اور مقالات یادگار چھوڑے ہیں جن کی تعداد 250 سے زیادہ ہے اور یہ رسائل اردو، فارسی اور عربی تینوں زبانوں میں تحریر کئے گئے ہیں۔ احقر پوری ملتِ اسلامیہ کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہے کہ ہم مسلمان بالعموم اور دور جدید کے علوم پڑھے ہوئے مسلمان بالخصوص اپنے فرقہ وارانہ معاملات کو ایک طرف رکھیں اور سب کے سب متحد ہوکر مل جل کر قرآن کریم کی ان آیات بینات پر خاص کر غور و فکر کریں جو ہمیں جدید علوم کی طرف رہنمائی کریں اور ہم مغرب اور غیرمسلموں کی تھیوری اور قوانین کے بجائے قرآن و حدیث کی اصول کی روشنی میں قوانین وضع کریں اور ان کو آگے بڑھائیں اور جو قوانین دورِ حاضر کی سائنسی علوم کے قرآن و حدیث سے متضاد ہیں، ان کا حل ہم قرآنی اصول سے مہیا کریں۔

            قرآن کریم کی ان آیات و بینات کی تفصیل سمجھنے کے لئے جس کا تعلق دورِ جدید کی سائنسی علوم سے امام احمد رضا کی کتب اور مقالات تفصیل سے پڑھنے کی ضرورت ہے کیونکہ امام احمد رضا نے دورِ جدید کے علوم سے متعلق اتنا کچھ لکھ دیا ہے کہ اگر ہم مسلمان ان کی تعلیمات کو مطالعہ کریں تو ہم دورِ حاضر کی جدید علوم کی دور میں اپنا انفرادی مقام حاصل کرسکتے ہیں۔ یاد رکھئے ترقی اس بات کا نام نہیں کہ آپ دوسروں کی ٹکنالوجی کو اپنے ملک میں لے آئیں اور اس سے Product حاصل کریں یوں تو ہم نے ان کی تعلیمات کو 100 فیصد قبول کرلیا۔ ترقی کی دوڑ میں ہم اس وقت شامل سمجھے جائیں گے جب ہم اپنی تھیوری اور اپنی ٹکنا لوجی دوسروں کے سامنے پیش کریں ۔ہم مسلمانوں نے تو بالکل ہتھیار ڈال دئیے ہیں جو کچھ باہر کتابوں میں پڑھایا جاتاہے جوکچھ سکھایا جاتا ہے ہم من و عن اسے قبول کرلیتے ہیں اور جب وہ تھیوری غلط ہوجاتی ہے تو ہم بھی اس کو ٹھکرادیتے ہیں صرف ایک مثال دے رہاہوں ۔ مثلاً

            آج سے چند سال پہلے تک دور حاضر کے سائنسدانوں کی تحقیق یہ سامنے آئی کہ ماں کے دودھ کے بجائے پاڈر کا دودھ بچے کو پلائیں تو اس سے بچے کی نشوونما تیزہوگی اور عورت کی صحت پر کوئی اثر نہ پڑے گا اور دودھ پلانے سے عورت کا جسم بے ڈھنگا ہوجاتا ہے اس کی صحت بھی خراب ہوجاتی ہے اس کو ہمارے ملک میں بھی شدت کے ساتھ مشتہر کیا گیا T.V پر اشتہار اس قسم کے آنے لگے کہ ماں نے اپنے بچوں کو دودھ پلانا چھوڑ دیا۔ جب اس پر عمل درآمد کیا گیا تو عورتوں کو کثرت سے سینہ کا کینسر ہونے لگا اب سائنسدانوں نے اپنی تھیوری بدلی اور دوبارہ اس طرف آگئے کہ ماں کا دودھ بچے کے لئے انتہائی مفید ہے اور دوسال تک ماں بچے کو دودھ پلائے ۔ ہمارے کسی مسلم ملک کے کسی مسلمان سائنسدان نے قرآن وحدیث کی روشنی میں دنیا کو یہ باور نہ کردیا کہ نہیں جب ہمارا قرآن بچے کی پرورش کے لئے ماں کے دودھ کو لازم قرار دے رہا ہے اور دوسال تک پلانے کی اجازت دے رہا ہے تو پھر کیونکر بچے یا ماں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے لیکن افسوس کہ مسلمانوں کے مغرب زدہ طبقہ نے مغرب کو معاذ اللہ خدا مان لیا ہے جو وہ کہتا ہے ہم اسی کو حق تسلیم کرتے ہیں۔

            قارئین کرام! ملت اسلامیہ اس وقت تباہی کے بالکل آخری کنارے پر پہنچ گئی ہے ہم مسلمان دنیا کی دہشت گرد قوم قراد دیئے جاچکے ہیں ، دنیا کی ترقی میں بحیثیت ملت قوم مسلمانوں کا 5 فیصد حصہ بھی نظر نہیں آتا۔ 65اسلامی ملکوں کے باوجود دنیا کے علوم فنون میں ہماری 65 تھیوریز بھی رائج نہیں ہیں سوچئے اس کا حل کیا ہے؟ اس کا حل صرف اور صرف یہ ہے کہ فرقہ وارانہ باتوں کو ایک کونے میں ڈالیں قرآن کے دامن کو مضبوطی سے تھامیں اور اس قرآن کی مکمل تعلیم جامعات میں دی جائے خاص کر ان آیات بینات کی جو علوم وفنون کے اصول سے تعلق رکھتی ہیں امام احمدرضا کی کتب اور رسائل کو جلد از جلد عام کیا جائے اور ان سے استفادہ کیا جائے اور ملت اسلامیہ اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگادے ان شاءاللہ کامیابی ہمارے قدم چومے گی ۔

طریقہ احمد مرسل پہ مجھکو استقامت دے

میرے سینے میں یارب حکمت قرآن عطافرما

قرآن مجید کی سات منزلیں

کل منزلیں:

قرآن مجید کی سات منزلیں ہیں جنکی ترتیب درج ذیل ہے:

1۔ سورۃ فاتحہ سے سورۃ النساء تک (3 سورتوں کی پہلی منزل)

2۔ سورۃ مائدہ سے سورۃ توبہ تک (5 سورتوں کی دوسری منزل)

3۔ سورۃ یونس سے سورۃ النحل تک (7 سورتوں کی تیسری منزل)

4۔ سورۃ بنی اسرائیل سے سورۃ فرقان تک (9 سورتوں کی چوتھی منزل)

5۔ سورۃ شعراء سے سورۃ یٰسین تک (11 سورتوں کی پانچویں منزل)

6۔ سورۃ الصّٰفت سے سورۃ حجرات تک (13 سورتوں کی چھٹی منزل)

7۔ سورۃ ق سے سورۃ الناس تک (66 سورتوں کی ساتویں منزل)