امام اہلِ سنت بے گماں احمد رضا خاں ہے

امام اہلِ سنت بے گماں احمد رضا خاں ہے

مولانا حافظ پیر بخش صاحب حافظ بلوچ تونسوی

  

امام اہلسنّت بے گماں احمد رضا خاں ہے    

 کتاب اللہ کا سچ پاسباں احمد رضا خاں ہے

حدیثِ مصطفی کا ترجماں احمد رضا خاں ہے

چراغِ خطبۂ ہندوستاں احمد رضا خاں ہے

جو سچ پوچھو تو نعمانِ زماں احمد رضا خاں ہے

نبی کے عشق میں رنگا ہوا احمد رضا خاں ہے

     ہر اِک بے دین کی جاں پر قضا احمد رضا خاں ہے

نہیں کچھ شک کہ مقبولِ خدا احمد رضا خاں ہے 

  وحیدِ عصر قاضیِٔ جہاں احمد رضا خاں ہے

یقینا بلبلِ باغِ جناں احمد رضا خاں ہے

وہ جن کا علم و عرفاں اہلِ دنیا پر درخشاں ہے  

 وہ جن پر اہلسنّت کا ہر اِک انسان نازاں ہے

جو حامیٔ شریعت، ماحیٔ ہر رسمِ شیطاں ہے 

 جو گستاخِ محمد مصطفی پر تیغ براں ہے

وہ ہر تیرِ شریعت کی کماں احمد رضا خاں ہے

گلستانِ ثناءخوانیِٔ آقا میں وہ بلبل ہے 

 کلامِ معرفت کے باغ میں وہ بڑھ کے خودگل ہے

نہیں سُنِّی وہ جس کو ان کے مسلک میں تامل ہے   

یہ وہ مردِ خدا ہے جس پر بے دیں ہراساں ہے

ہر اِک دارا پر سکندر سماں احمد رضا خاں ہے

الا اے معترض پیداکنی گر نظرِ ایمانی  

بزرگانِ جہاں بر مسلکش بینی بآسانی

ولیکن خاطرت خالیست از نورِ مسلمانی  

تو اہلِ دل کو کیا جانے کہ قائل کذبِ یزداں ہے

مجدد وقت، یکتائے زماں احمد رضا خاں ہے

کہا اِک نے نبی مرکرکے مٹی میں مِلا آخر 

 کوئی بولا کہ قادر جھوٹ پر بھی ہے خدا آخر

نبی سے اِک نے شیطاں بڑھ کے عالم لکھ دیا آخر

یہی تھا دین یاروں کا کہ جو کفرِ نمایاں ہے

اسی خروار پر آتش فشاں احمد رضا خاں ہے

جدھر کو رخ کیا سکے بٹھاکر ہی رہے آخر

وہ شیطاں کے مقاصد کو مٹاکر کر ہی رہے آخر

مسلمانوں کو راہِ حق دکھاکر ہی رہے آخر

فقط حافظ نہیں عرب و عجم ان کا ثناخواں ہے

غزالیٔ زماں، غوثِ جہاں احمد رضا خاں ہے

(رضی اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین)

Advertisements

الاماں قہر ہے اے غوث وہ تيکھا تيرا

وصل چہارم
در منافحت اعداء و استعانت از آقا رضي اللہ عنہ

الاماں قہر ہے اے غوث وہ تيکھا تيرا
مر کے بھي چين سے سوتا نہيں مارا تيرا
بادلوں سے کہيں رکتي ہے کڑکتي بجلي
ڈھاليں چھنٹ جاتي ہيں اٹھتا ہے تيغا تيرا
عکس کا ديکھ کے منہ اور بپھر جاتا ہے
چار آئينہ کے بل کا نہيں نيزا تيرا
کوہ سر مکھ ہوتو اک دار ميں دو پر کالے
ہاتھ پڑتا ہي نہيں بھول کے اوچھا تيرا
اس پہ يہ قہر کہ اب چند مخالف تيرے
چاہتے ہيں کہ گھٹاديں کہيں پايہ تيرا
عقل ہوتي تو خدا سے نہ لڑائي ليتے
يہ گھٹائيں اسے منظور بڑھانا تيرا
ورفعنا لک ذکرک کا ہے سايہ تجھ پر
بول بولا ہے ترا ذکر ہے اونچا تيرا
مٹ گئے مٹتے ہيں مٹ جائينگے اعدا تيرے
نہ مٹا ہے نہ مٹے گا کبھي چرچا تيرا
تو گھٹائے سے کسي کے نہ گھٹا ہے نہ گھٹے
جب بڑھائے تجھے اللہ تعالي تيرا
سم قاتل ہے خدا کي قسم ان کا انکار
منکر فضل حضور آہ يہ لکھا تيرا
ميرے سياف کے خنجر سے تجھے باک نہيں
چير کر ديکھے کوئي آہ کليجا تيرا
!!!
ابن زہرا سے تيرے دل ميں ہيں يہ زہر بھرے
بل بے او منکر بے باک يہ زہرا تيرا
باز اشہب کي غلامي سے يہ آنکھيں پھرتي
ديکھ اڑ جائے گا ايمان کا طوطا تيرا
شاخ پر بيٹھ کے جڑ کاٹنے کي فکر ميں ہے
کہيں نيچا نہ دکھائے تجھے شجرا تيرا
حق سے بد ہو کے زمانہ کا بھلا بنتا ہے
ارے ميں خوب سمجھتا ہوں معما تيرا
سگ در قہر سے ديکھے تو بکھرتا ہے ابھي
بند بند بدن اے روبہ دنيا تيرا
غرض آقا سے کروں عرض کہ تيري ہے پناہ
بندہ مجبور ہے خاطر يہ ہے قبضہ تيرا
حکم نافذ ہے ترا خامہ ترا سيف تري
دم ميں جو چاہے کرے دور ہے شاہا تيرا
جس کو للکار دے آتا ہوتو الٹا پھر جائے
جس کو چمکار لے ہر پھر کے وہ تيرا تيرا
کنجياں دل کي خدا نے تجھے ديں ايسي کر
کہ يہ سينہ ہو محبت کا خزينہ تيرا
دل پہ کندہ ہو ترا نام کہ وہ دزدِ  رجيم
الٹے ہي پاؤں پھرے ديکھ کے طغرا تيرا
نزع ميں گور ميں ميزان پہ سر پل پہ کہيں
نہ چھٹے ہاتھ سے دامان معلي تيرا
دھوپ محشر کي وہ جانسوز قيامت ہے مگر
مطمئن ہوں کہ مرے سر پہ ہے پلا تيرا
بہجت اس سر کي ہو جو بہجتہ الاسرار ميں ہے
کہ فلک وار مريدوں پہ ہے سايا تيرا
اے رضا چيست غم از جملہ جہاں دشمن تست
کردہ ام مامن خود قبلہ حاجا تے را

تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شيدا تيرا

وصل سوم
در حسن مفاخرت از سرکار قادريت رضي الله تعالي عنہ

تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شيدا تيرا
تو ہے وہ غيث کہ ہر غيث ہے پياسا تيرا
سورج اگلوں کے چمکتے تھے چمک کر ڈوبے
افق نور پہ ہے مہر ہميشہ تيرا
مرغ سب بولتے ہيں بول کے چپ رہتے ہيں
ہاں اصيل ايک نواسنج رہے گا تيرا
جو ولي قبل تھے يا بعد ہوئے يا ہونگے
سب ادب رکھتے ہيں دل ميں ميرے آقا تيرا
بقسم کہتے ہيں شاہان صريفين و حريم
کہ ہوا ہے نہ ولي ہو کوئي ہمتا تيرا
تجھ سے اور دہر کے اقطاب سے نسبت کيسي
قطب خود کون ہے خادم ترا چيلا تيرا
سارے اقطاب جہاں کرتے ہيں کعبے کا طواف
کعبہ کرتا ہے طواف در والا تيرا
اور پروانے ہيں جو ہوتے ہيں کعبے پہ نثار
شمع اک تو ہے کہ پروانہ ہے کعبہ تيرا
شجر سر و سہي کس کے اوگارے تيرے
معرفت پھول سہي کس کا کھلايا تيرا
تو ہے تو شاہ براتي ہے يہ سارا گلزار
لائي ہے فصل سمن گوندہ کے سہرا تيرا
ڈالياں جھومتي ہيں رقص خوشي جوش پہ ہے
بلبليں جھولتي ہيں گاتي ہيں سہرا تيرا
گيت کليوں کے چٹک غزليں ہزاروں کي چہک
باغ کے سازوں ميں بجتا ہے ترانا تيرا
صف ہر شجرہ ميں ہوتي ہے سلامي تيري
شاخيں جھک جھک کے بجا لاتي ہيں مجرا تيرا
کس گلستاں کو نہيں فصل بہاري سے نياز
کون سے سلسلہ ميں فيض نہ آيا تيرا
نہيں کس چاند کي منزل ميں ترا جلوہ? نور
نہيں کس آئينہ کے گھر ميں اجالا تيرا
راج کس شہر ميں کرتے نہيں تيرے خدام
باج کس نہر سے ليتا نہيں دريا تيرا
مزرع چشت و بخارا و عراق و اجمير
کون سے کشت پہ برسا نہيں جھالا تيرا
اور محبوب ہيں ہاں پر سبھي يکساں تو نہيں
يوں تو محبوب ہے ہر چاہنے والا تيرا
اس کو سو فرد سراپا بفراغت اوڑھيں
تنگ ہوکر جو اترنے کو ہونيما تيرا
گردنيں جھک گئيں سر بچھ گئے دل ٹوٹ گئے
کشف ساق آج کہاں يہ تو قدم تھا تيرا
تاج فرق عرفا کس کے قدم کو کہئے
سر جسے باج ديں وہ پاؤں ہے کس کا تيرا
سکر کے جوش ميں ہيں وہ تجھے کيا جانيں
خضر کے ہوش سے پوچھے کوئي رتبہ تيرا
آدمي اپنے ہي احوال پہ کرتا ہے قياس
نشے والوں نے بھلا سکر نکالا تيرا
وہ تو چھوٹا ہے کہا چاہيں کہ ہيں زير حضيض
اور ہر اوج سے اونچا ہے ستارا تيرا
دل اعداء کو رضا تيز نمک کي دھن ہے
اک ذرا اور چھڑکتا رہے خامہ تيرا

واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا

وصل دوم
در منقبت آقائے اکرم حضور غوث اعظم رضی الله عنہ

واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا
سر بھلا کیا کوئی جانے کہ ہے کیسا تیرا
اولیا ملتے ہیں آنکھیں وہ ہے تلوا تیرا
کیا دبے جس پہ حمایت کا ہو پنجہ تیرا
شیر کو خطرے میں لاتا نہیں کتا تیرا
تو حسینی حسنی کیوں نہ محی الدین ہو
اے خضر مجمع بحرین ہے چشمہ تیرا
قسمیں دے دے کے کھلاتا ہے پلاتا ہے تجھے
پیارا الله ترا چاہنے والا تیرا
مصطفی کے تن بے سایہ کا سایہ دیکھا
جس نے دیکھا مری جاں جلوہٴ زیبا تیرا
ابن زہرا کو مبارک ہو عروس قدرت
قادری پائیں تصدق مرے دولہا تیرا
کیوں نہ قاسم ہو کہ تو ابن ابی القاسم ہے
کیوں نہ قادر ہو کہ مختار ہے بابا تیرا
نبی مینھ ‘ علوی فصل ‘ بتولی گلشن
حسنی پھول حسینی ہے مہکنا تیرا
نبوی ظل علوی برج بتولی منزل
حسنی چاند حسینی ہے اجالا تیرا
نبوی خور علوی کوہ بتولی معدن
حسنی لعل حسینی ہے تجلا تیرا
بحر و بر شہر و قری سہل و حزن دشت و چمن
کون سے چک پہ پہنچتا نہیں دعویٰ تیرا
حسن نیت ہو خطا پھر کبھی کرتا ہی نہیں
آزمایا ہے یگانہ ہے دوگانہ تیرا
عرض احوال کی پیاسوں میں کہاں تاب مگر
آنکھیں اے ابر کرم تکتی ہیں رستا تیرا
موت نزدیک گناہوں کی تہیں میل کے خول
آ برس جا کہ نہا دھولے یہ پیاسا تیرا
آب آمد وہ کہے اور میں تیمم برخاست
مشت خاک اپنی ہو اور نور کا اہلا تیرا
جان تو جاتے ہی جائیگی قیامت یہ ہے
کہ یہاں مرنے پہ ٹھہرا ہے نظارا تیرا
تجھ سے در در سے سگ اور سگ سے ہے مجھ کو نسبت
میری گردن میں بھی ہے دور کا ڈورا تیرا
اس نشانی کے جو سگ ہیں نہیں مارے جاتے
حشر تک میرے گلے میں رہے پٹا تیرا
میری قسمت کی قسم کھائیں سگان بغداد
ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا
تیری عزت کے نثار اے مرے غیرت والے
آہ صد آہ کہ یوں خوار ہو بردا تیرا
بد سہی‘ چور سہی‘ مجرم و ناکارہ سہی
اے وہ کیسا ہی سہی ہے تو کریما تیرا
مجھ کو رسوا بھی اگر کوئی کہے گا تو یوہیں
کہ وہی نا وہ رضا بندہ رسوا تیرا
ہیں رضا یوں نہ بلک تو نہیں جید تو نہ ہو
سید جید ہر دہر ہے مولا تیرا
فخر آقا میں رضا اور بھی اک نظم رفیع
چل لکھا لائیں ثنا خوانوں میں چہرا تیرا