عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن

عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ

  

عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن

یاخدا جلد کہیں آئے بہارِ دامن

بہ چلی آنکھ بھی اشکوں کی طرح دامن پر

کہ نہیں تارِ نظر جز دو سہ تارِ دامن

اشک برساؤں چلے کوچۂ جاناں سے نسیم

یاخدا جلد کہیں نکلے بخارِ دامن

دل شدوں کا یہ ہوا دامنِ اطہر پہ ہجوم

بیدل آباد ہوا نام دیارِ دامن

مشک سا زلف شہ و نور فشاں روئے حضور

اللہ اللہ حلبِ جیب و تتارِ دامن

تجھ سے اے گل میں ستم دیدۂ دشتِ حرماں

خلش دل کو کہوں یا غمِ خارِ دامن

عکس افگن ہے ہلالِ لبِ شہ جیب نہیں

مہرِ عارض کی شعاعیں ہیں نہ تارِ دامن

اشک کہتے ہیں یہ شیدائی کی آنکھیں دھوکر

اے ادب گردِ نظر ہو نہ غبارِ دامن

اے رضا آہ وہ بلبل کہ نظر میں جس کی

جلوۂ جیبِ گل آئے نہ بہارِ دامن

Advertisements

نعت کيا ھے؟

نعت کيا ھے؟

سيد رياض حيسن شاہ
ادارہ تعليما ت اسلاميہ پاکستان
بسم اللہ الرحمن الر حيم

رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت سر مايہ اہل ايمان ھےاور محبت ميں اظہا ر عقيدت،يادمحبوب،بيان حسن،مبالغہ وصف،مدحتِ خُلق،تحسين ِسيرت اور تذکار حُليہ فطری امر ھے۔ يہی وجہ ھے کہ رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت ميں جتنی وسعت ھے،اس سے کہيں بڑھ کر ان کی چا ہنے والوں کی کثرت ھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چاہنے والے جس قدر مطلع موجود پر پھيلے ھوئے ھيں،اس سے بڑھ کر کا ئنات ميں ان کی عقيدتوں اور محبتوں کا نور بکھراھو ا ھے۔جس قدر حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و مودّت،عقيدت و تعلق ،رابطہ و عشق موجود ھے۔اس سے کہيں زيادہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حُسن و حقيقت کی تعر يف کی ضرورت ھے۔رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و نعت اپنی جگہ عظمت مآب ھے ليکن يہ اس ليے بھی ضروری ھے کہ اس کے بغير انسا نيت کی ضرورتيں پو ری نہيں ھو تيں اور شا يد محبت اور اظہا ر محبت کی انہی معنوی حقيقتوں کی نشا ن دہی رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد ميں فر ما ئی:
لا يو من احد کم حتٰی اکون احب اليہ من والدہ و ولد والناس اجمعين۔
(تم ميں سے کسی ايک کا بھی ايمان مکمل نہيں ھو سکتا جب تک کہ وہ اپنے ماں
باپ،اپنی اولاد اور سب سے بڑھ کر مجھ سے محبت کر نے والا نہ ھو)۔
عربی زبان ميں بيان حسن ،اظہا ر عقيدت،اعتراف ِحق وغيرہ کے ليے جو الفا ظ استعمال کيے جا تے ھيں وہ عموما ً تعر يف،مد ح،ثنا،تحميد،تو صيف،شکر اور نعت ھيں۔ان ميں سے ھر ايک معنوی اعتبا ر سے ايک دوسر ے کا مترادف بھی استعمال ھو تا ھے اور صنعت کے اعتبار سے متضاد بھی لا يا جا سکتا ھے۔ بذات خود حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح ميں يہ تمام ما دۓ مختلف مقا مات پر استعمال کئے گئے ھيں ليکن کثرت کے سا تھ جو اصطلاح مدح پيغمبر عليہ الصلٰوۃ والسلام ميں استعمال ھو ئی ھے،وہ نعت ھے۔۔۔۔۔۔عربی ادب ميں اگر چہ رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد حيہ شہ پاروں کے ليے مد يح و نشيد ايسے الفا ظ استعمال ھو ئے ھيں ليکن” نعت ” سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نثری يا شعری تعر يف لی گئی ھے ۔ رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت ميں يہ صحابہ ھی سے مر وی ھے کہ:
“يقول نا عتہ، لم ار قبلہ ولا بعدہ”
نعت کيا ھے؟اور اس کا لغو ی معنٰی کيا ھے؟ اور اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفس ِ خود کن کن معنوں ميں استعمال کيا ھے؟۔۔۔۔۔يہ وہ سوالات ھيں جن کا جواب حاصل کرنے کے بعد کسی حد تک نعت گوئی اور نعت فہمی کی ذمہ داری پو ری کی جا سکتی ھے۔
“تاج العروس”ميں علامہ زبيدی حنفی لکھتے ھيں کہ”نعت”کا ما دہ ن،ع اور ت ھے۔يہ لفظ جب باب”فتح يفتع”سے آئے تواس کا معنٰی وصف ھو تا ھے اور باب” تقبل يتقبل “سے آئےتو اس کا مطلب کسی کی تعر يف ميں مبا لغہ کر نا ھو تا ھے۔ابن کثير کہتے ھيں کہ نعت کا تعلق بنيادی طور پر بيان حسن سے ھو تا ھے اور اس لحا ظ سے”وصف”اورنعت ميں يہ فرق ھو تا ھے کہ وصف ميں”حسن و قبح”دونوں بيان کيے جا سکتے ھيں جبکہ نعت صرف اور صرف “حسن”ھی کے بيان کے ليے آتی ھے۔
“ثعلب”نے نعت اور وصف ميں يہ فرق بھی لکھا ھے کہ نعت صرف ذي جسم کی ھو سکتی ھے اور تو صيف کے ليے مشخصات ضروری نہيں۔ يہی وجہ ھے کہ کہا جا تا ھے کہ”اللہ يو صف ولا ينعت”(اللہ کی تو صيف ھو تی ھے ليکن نعت نہيں)۔اس ليے کہ نعت ميں تشخصات ضروری ھو تے ھيں۔اظہری نے” نعت ” کا معنی “العتيق السباق”بھی لکھا ھے۔اس لحا ظ سے نعت صرف اس ذات کی ھو سکے گی جو اللہ کی ذات کے بعد سب سے زيا دہ قديم اور اوصاف و کما لات ميں سب سے آگے ھو اور ظاھر ھے کہ وہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ھی ھيں۔”لسان العرب”ميں ابن منظورنے” نعت “کا معنی کسی ذات کا اپنی جنس کی ديگرانواع سے افضل ھونا لکھا۔”صحاح”ميں جو ھر ی نے لکھا کہ نعت جس وقت باب”کرم يَکرم” سے آئے تو معنی اس کا چہرے کا حسين ھو نا ھو تا ھے۔اسی سے”نعيت”اسم علم بھی استعمال ھو تا ھے۔
ابن ماجہ ميں حضرت زيد بن ارقم رضی اللہ تعا لی عنہ سے ايک روايت نقل کی گئی ھے جس ميں رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود لفظ ” نعت” کو خواص بتا نے کے معنوں ميں استعمال فر ما يا۔حد يث کے الفا ظ ھيں:
” نعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من ذات الجنب ورساً و قسطاً و زيتا يلد بھ”
حليہ اور اوصاف بيان کرنے کے معنوں ميں جامع ترمذی ميں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ابو بکرہ نے روايت نقل کی جس ميں لفظ نعت استعمال کيا گيا۔خلا صہ روايت يہ ھے کہ راوی کہتے ھيں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے ماں باپ کا حال و حليہ ھم سے بيان کيا۔حد يث کے الفاظ يہ ھيں:” نعت لنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو يھ”۔۔۔۔وصف بيان کرنے کےليے لفظ نعت کااستعمال سنن نسائی کی ايک حديث ميںملا حظہ کہا جا سکتا ھے:
“قا ل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الشہرھٰکذاوھٰکذاوصفق محمد بن عبيد بيد يھ ينعتھا ثلا ثاً۔”

مسندامام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ ميں يہ لفظ تقر يباًپند رہ مقامات پراستعمال ھو ا ھے اور نعت کے قريباًسارے ھی معنوی مترادفات اور متضا دات لائے گئے ھيں۔البتہ ايک آدھ روايت ايسی بھی نقل کی گئی ھے جس ميں بيان حسن کے ساتھ سا تھ بيان قبح کا مفہوم بھی لفظ نعت کے اند ر سمويا معلوم ھو تا ھے۔مسند امام رحمتہ اللہ کے الفاظ “فجات علی العنت المکروہ” ھيں۔رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و کمالات اور حال حليہ کے ليے لفظ نعت غالباً سب سے پہلے حضرت علی المر تضٰی کرم اللہ وجہہ نے استعمال فر مايا۔اور اسے امام تر مذی رحمتہ اللہ نے شمائل ميں ان الفاظ کے سا تھ نقل کيا:”ويقول ناعتہ لم ارقبلہ ولا بعد ہ مثلہ”اسی طرح سنن رارمی رحمتہ اللہ نے”کيف تجد نعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی التورة”لکھ کر لفظ نعت کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ خاص قرار ديا۔سنن ابی داؤد ميں ابواب الديات اور الصيح البخا ری ميں ابواب انبيا ميں علی التر تيب “انہ ليس با لنعت اورلقيت عيسٰی ،موسٰی لنعتہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ميں لفظ نعت بيان احوال اور حليہ وغيرہ کے معنوں ميں استعمال ھوا۔اسی طرح يہ لفظ امام مسلم رحمتہ اللہ نے اپنی جامع ميں(باب الا يمان)ميں، نعت اليہ رجل منھم،کی صورت ميں نقل کيا۔ بعض صوفيا کے اقوال سے مترشح ھو تا ھے کہ نعت کا معنی شان بھی آتا ھے۔طبرانی کی ايک روايت ميں نعت کا معنی سفا رش کرنا بھی لا يا گيا ھے۔عر بی کی طر ح فا رسی زبان ميں نعت کا لفظ اپنے عمومی مفہوم وصف بيانی اورخصو صی معنوں يعنی ثنائے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے ليے استعمال ھوا ھے ۔ اردو ميں اگر چہ معنی وصف گوئی وغيرہ ھو تا ھے ليکن اب صرف اورصرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف وکمالات کے تذکرے کے سا تھ خاص ھو گيا ھے۔
لُغت اورآثار وروايات کی مدد سے نعت کے جو مفا ہيم و مطالب حاصل ھو ئے،ان کی تر تيب يہ ھے:
ا : اوصاف بيان کرنا
ب: احوال بيان کرنا
ج: حُليہ واضح کرنا
د: تعريف ميں مبا لغہ کرنا
ہ: سفارش کرنا
و: نقل کرنا يا نقل اتارنا
ز: جوھر سا منے لا نا
خ: کسی جنس کا اپنی انواع پر فضيلت ثا بت کرنا
ط: خواص منکشف کرنا
ی: عمدہ صفات رکھنا
ک: کسی شے کا قديم الا صل ھونا
ل: دوڑ ميں آگے بڑھ جانا
م: صفت کو موصوف کے سا تھ ملانا
ن: ايک خاص نشان رکھنا
س: اور ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و تحميد بجا لانا
نعت کے مذکورہ صدر لغوی معا نی و مطا لب کی روشنی ميں اصطلا حی نعت کا مو ضوع آسا نی سے متعين کيا جا سکتا ھے۔ نعت کا مدار چونکہ رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مسعود ھے،اس اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے لے کر صفات تک،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے افکار سے لے کر اعمال تک زندگی کاکوئی ايسا پہلو نھيں جو نعت کا مو ضوع نہ بن سکتا ھو۔
اخلاق ، سيرت ،معجزات،غزوات، خطبات، عبادات، مناکحات ، معاملات ، معمولات
عادات،تعليمات،سب تک نعت کا دامن پھيلا ھو ا ھے۔ نعت کا تعلق چونکہ نثر اور شعر دونوں سے ھے،اس ليے رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم کا نعتيہ ورثہ بھی ازحد بسيط ھے۔ حضرت ابو ھر يرہ رضی اللہ عنہ کی حديث دانی،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی فقہی معر کہ آرائياں،حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی سنجيدہ
تا ريخ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متين فيصلے،حضرت علی المر تضٰی رضی اللہ عنہ کا علمی تہور،حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قرآنی،حضرت ابوذرہ رضی اللہ عنہ کی سياسی سوچ،حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی سپاہيانہ
تا ريخ،حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کا تحذيبی با نکپن ،حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی پر شوق شا عری ،حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے کفر سوز رجز،حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی خطيبانہ آن بان،دراصل رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت ھی کی صورتيں ھيں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا يہ نعتيہ شوق ھی تھا کہ رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے لمحہ لمحہ کو انہوں نے شعر و ادب ميں محفوظ کر ليا اور يہی ان کا ورثہ ھے جو قوموں کے عر وج کا سبب بنا اور بجا طور پر انسا نيت نے اس سے جلا پا ئی اور قيا مت تک يہ سلسلہ انسا نيت کی تقد ير بد لتا رھے گا ۔
نعت کے ضمن ميں اس کا ايک اہم ما دہ بحث شر يعت مطہرہ کے سا تھ اس کا تعلق ھے۔ احکام شر يعت کی روشنی ميں اس موضوع پر بھی دو طر ح گفتگو کی جا سکتی ھے۔ ايک تو ايمان کے سا تھ اس کے تعلق کی بحث ھے اور دوسرا جذبہ ايثار و اطا عت اور عمل کے ساتھ اس کا تعلق ھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کر نا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درودوسلام پڑھنا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سيرت کی جستجو کرنا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ميلا نات اپنا نا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حيات سعيد کو سمجھنا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کريمانہ کو سننا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ايک ايک عمل کو محفوظ کر نا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علمی اور دينی سرمايہ کو اگلی نسلوں کی طرف منتقل کرنا تقاضا ئے شر يعت ھے،اور يہ سب کچھ نعت کا موضوع ھے۔اس لحا ظ سے نعت کہنا،نعت سننا،نعت پڑھنا،نعت پسند کرناشر يعت مطہرہ کا اولين مقصود ھے اور قرآن مجيد نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ايک انمٹ اور لا زوال نقش ھے۔ نثر کے ميدان ميں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لا ئق،بلند صفت اور عظيم صحا بہ رضی اللہ عنہ نے بلا شبہ يہ منشا ئے شر يعت پو را کيا ھے۔ البتہ شعر ی نعت کے ميدان ميں محبتوں،عقيدتوں اور کفيتوں کی بھر مار ھے۔ تلميحات،استعا رات اور تشبيہات کے آئنيے ميں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خوب خوب تعر يف کی کو شش کی گئی ھے ليکن آپ کی سيرت و صورت،حسن و جمال،رنگ وادا،دعوت و تعليم،صدق وامانت،تحذيب و صفات،سيا ست و معا ش،معجزات وآيات،عدالت و نجابت،حرب وضرب،و قا ئع و سرايا،اما نت و ديا نت،جودوسخا،فضل و عنا يت اور علم و حلم کو تا ريخی ضرورتوں کت تحت دامن نعت ميں سمونے کی بھر پو ر کو شش نہيں۔ ضرورت جوں کی توں مو جود ھے کہ “شا ہنا مہ اسلام “کی طرز پر نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی يہ گراں بہا دولت شعر و ادب کے دامن ميں محفوظ کی جا ئے۔
نعت کا دوسرا تعلق جذبہ اثياروعمل سے ھے۔ رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم کے حُليہ اقدس،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظا ھر و با طن اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت وادا کو رب کريم نے انسا نيت کے ليے واجب الا طاعت قرار ديا،گويا حصور صلی اللہ علیہ وسلم کی حيات مسعود کے مختلف پہلو جس وقت کلام ميں سجيں تو يہ قو لی نعت کی صورت بنتی ھے اور جس وقت رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن پکڑنے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو عمل ميں محفوظ کر ليں تو يہ عملی نعت کی صورت بنتی ھے اور بلا شبہ انسا نوں کی يہ اشد ذمہ داری ھے کہ وہ نعت کی اس قسم کی طرف بھی تو جہ ديں اس ليے کہ ان کی اصل ذمہ داری يہی ھے۔جہاں تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و ثنا کا تعلق ھے تو وہ کو شش کی جا سکتی ھے،نعت گوئی کا حق ادا نہيں کيا جا سکتا اور بلا شبہ يہ کو شش بھی پر وانہ نجات ملنے کے مترادف ھے۔بقول غالب ھر نعت گو کو يہ کہنا ھی پڑتا ھے :
غالب ثنائے خواجہ بہ يزداں گز ا شتيم
کاں ذات پاک مر تبہ دانٍ محمد صلی اللہ علیہ وسلم است
لُغت اور تا ريخ کے اعتبار سے نعت کا مفہوم اگر چہ بحر ِبے کراں ھے ليکن عربی،فارسی،ہندی،اُردو،پنجابی،پشتواور بنگالی بے شمار زبانوں کے ادب ميں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و ثنا جو موزوں صورت ميں ھو ‘نعت کہلاتی ھے اور اہل فن کے نزديک اس نو عيت کی ايک نعت ايک مشکل صنف ھے۔
مولانا الشا ہ احمد رضا خان بريلوی رحمتہ اللہ نے ايک مر تبہ ارشاد فر مايا:
“حقيقتہً نعت لکھنا بہت مشکل کام ھے جس کو لوگ آسان سمجھتے ھيں ۔ اس ميں تلوار کی دھار پر چلنا ھے۔اگر شا عر بڑھتا ھے تو الُوہيت ميں پہنچ جاتا ھے اور کمی کرتا ھے تو تنقيص ھو تی ھے۔البتہ حمد آسان ھے کہ اس ميں راستہ صاف ھے جتنا چاھے بڑھ سکتا ھے۔ غرض حمد ميں اس جانب اصلا ً کو ئی حد نہيں اور نعت شريف ميں دونوں جانب ہخت حد بند ی ھے۔”
اہل ادب کے نزديک نعت کا مفہوم کچھ بھی کيوں نہ ھو اور اس کے ليے بحروں کے چناؤ ميں کو ئی بھی طريقہ استعمال کيا جائے۔۔۔۔۔۔اصل ذوق،اہل محبت اور اہل عشق کے ہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تصور،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور پھر ان کی محبت ميں رونا،رُلانا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و ستائش کرنا، آپ کی زيارت کے ليے بے تاب ھونا،دل کی تاروں پر زبان کی ھم آہنگی کے سا تھ صلٰوۃ وسلام پڑھنا،ان کے حکم پر تن من دھن وارنا،ان کے ادب ميں حفظِ قول و عمل بجا لانا سب نعت ھے اور اس لحاظ سے ھر مسلمان نعت گو ھے،نعت پسند ھے،نعت خواں ھے اور نعت گر ھے۔ کتاب و سنت کا تقا ضا يہی ھے کہ دنیا کا ھر
انسان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت ميں ڈھل جائے۔
*******

جو بنوں پر ہے بہار چمن آرائي دوست

نعت  شريف
جو بنوں پر ہے بہار چمن آرائي دوست
خلد کا نام نہ لے بلبل شيدائي دوست
تھک کے بيٹھے تو در دل پہ تمنائي دوست
کون سے گھر کا اجالا نہيں زيبائي دوست
عرصہ حشر کجا موقف محمود کجا
ساز ہنگاموں سے رکھتي نہيں يکتائي دوست
مہر کس منہ سے جلودارئ جاناں کرتا
سايہ کے نام سے بيزار ہے يکتائي دوست
مرنے والوں کو يہاں ملتي ہے عمر جاويد
زندہ چھوڑے گي کسي کو نہ مسيحائي دوست
ان کو يکتا کيا اور خلق بنائي يعني
انجمن کرکے تماشا کريں تنہائي دوست
کعبہ و عرش ميں کہرام ہے ناکامي کا
آہ کس بزم ميں ہے جلوہ يکتائي دوست
حسن بے پردہ کے پردے نے مٹا رکھا ہے
ڈھونڈنے جائيں کہاں جلوہ ہرجائي دوست
شوق روکے نہ رکے پاؤں اٹھائے نہ اٹھے
کيسي مشکل ميں ہيں الله تمنائي دوست
شرم سے جھکتي ہے محراب کہ ساجد ہيں حضور
سجدہ کرواتي ہے کعبہ سے جبيں سائي دوست
تاج والوں کا يہاں خاک پہ ماتھا ديکھا
سارے داراؤں کي دار ہوئي دارائي دوست
طور پر کوئي‘ کوئي چرخ پہ يہ عرش سے پار
سارے بالاؤں پہ بالا رہي بالائي دوست
انت فيہم نے عدو کو بھي ليا دامن ميں
عيش جاويد مبارک تجھے شيدائي دوست
رنج اعداء کا رضا چارہ ہي کيا ہے کہ انہيں
آپ گستاخ رکھے علم و شکيبائي دوست

پھر اٹھا ولولہ ياد مغيلان عرب

نعت  شريف
پھر اٹھا ولولہ ياد مغيلان عرب
پھر کھنچا دامن دل سوئے بيابان عرب
باغ فردوس کو جاتے ہيں ہزاران عرب
ہائے صحرائے عرب ہائے بيابان عرب
ميٹھي باتيں تري دين عجم ايمان عرب
نمکيں حسن ترا جان عجم شان عرب
اب تو ہے گريہ خوں گوہر دامان عرب
جس ميں دو لعل تھے زہرا کے وہ تھي کان عرب
دل وہي دل ہے جو آنکھوں سے ہو حيران عرب
آنکھيں وہ آنکھيں ہيں جو دل سے ہو قربان عرب
ہائے کس وقت لگي پھانس الم کي دل ميں
کہ بہت دور رہے وہ خار مغيلان عرب
فصل گل لاکھ نہ ہو وصل کي رکھ آس ہزار
پھولتے پھلتے ہيں بے فصل گلستان عرب
صدقے ہونے کو چلے آتے ہيں لاکھوں گلزار
کچھ عجب رنگ سے پھولا ہے گلستان عرب
عندليبي پہ جھگڑتے ہيں کٹے مرتے ہيں
گل و بلبل کو لڑاتا ہے گلستان عرب
صدقے رحمت کے کہاں پھول کہاں خار کا کام
خود ہے دامن کش بلبل گل خندان عرب
شادي حشر ميں صدقے ميں چھٹيں گے قيدي
عرش پر دھوم سے ہے دعوت مہمان عرب
چرچے ہوتے ہي يہ کمھلائے ہوئے پھولوں ميں
کيوں يہ دن ديکھتے پاتے جو بيابان عرب
تيرے بے دام کے بندے ہيں رئيسان عجم !
تيرے بے دام کے بندي ہيں ہزاران عرب
ہشت خلد آئيں وہاں کسب لطافت کو رضا
چار دن برسے جہاں ابر بہاران عرب

تاب مرات سحر گرد بيابان عرب

نعت  شريف
تاب مرات سحر گرد بيابان عرب
غازہءروئے قمر دود چراغان عرب
الله الله بہار چمنستان عرب
پاک ہيں لوث خزاں سے گل و ريحان عرب
جوشش ابر سے خون گل فردوس گرے
چھيڑ دے رگ کو اگر خار بيابان عرب
تشنہ نہر جناں ہر عربي و عجمي
لب ہر نہر جناں تشنہ نيسان عرب
طوق غم آپ ہوائے پر قمري سے گرے
اگر آزاد کرے سرو خرامان عرب
مہر ميزاں ميں چھپا ہوتو حمل ميں چمکے
ڈالے اک بوند شب دے ميں جو باران عرب
عرش سے مژدہء بلقيس شفاعت لايا
طائر سدرہ نشيں مرغ سليمان عرب
حسن يوسف پہ کٹيں مصر ميں انگشت زناں
سر کٹاتے ہيں تيرے نام پہ مردان عرب
کوچہ کوچہ ميں مہکتي ہے يہاں بوئے قميص
يوسفستان ہے ہر ايک گوشہء کنعان عرب
بزم قدسي ميں ہے ياد لب جاں بخش حضور
عالم نور ميں ہے چشمہ حيوان عرب
پائے جبريل نے سرکار سے کيا کيا القاب
خسرو خيل ملک خادم سلطان عرب
بلبل و نيلپر و کبک بنو پروانو!
مہ و خورشيد پہ ہنستے ہيں چراغان عرب
حور سے کيا کہيں موسٰی سے مگر عرض کريں
کہ ہو خود حسن ازل طالب جانان عرب
کرم نعت کے نزديک تو کچھ دور نہيں
کہ رضائے عجمي ہو سگ حسان عرب

نعمتيں بانٹتا جس سمت وہ ذيشان گيا

نعت  شريف
نعمتيں بانٹتا جس سمت وہ ذيشان گيا
ساتھ ہي منشئ رحمت کا قلمدان گيا
لے خبر جلد کہ غيروں کي طرف دھيان گيا
ميرے مولٰی ميرے آقا ترے قربان گيا
آہ وہ آنکھ کہ ناکام تمنا ہي رہي
ہائے وہ دل جو ترے در سے پر ارمان گيا
دل ہے وہ دل جو تيري ياد سے معمور رہا
سر ہے وہ سر جو ترے قدموں پہ قربان گيا
انہيں جانا انہيں مانا نہ رکھا غير سے کام
للہ الحمد ميں دنيا سے مسلمان گيا
اور تم پر مرے آقا کي عنايت نہ سہي
نجديو کلمہ پڑھانے کا بھي احسان گيا
آج لے ان کي پناہ آج مدد مانگ ان سے
پھر نہ مانيں گے قيامت ميں اگر مان گيا
اف رہ منکر يہ بڑھا جوش تعصب آخر
بھيڑ ميں ہاتھ سے کم بخت کے ايمان گيا
جان و دل ہوش و خرد سب تو مدينے پہنچے
تم نہيں چلتے رضا سارا تو سامان گيا

بندہ ملنے کو قريب حضرت قادر گيا

نعت  شريف
بندہ ملنے کو قريب حضرت قادر گيا
لمعہ باطن ميں گمنے جلوہ  ظاہر گيا
تيري مرضي پاگيا سورج پھرا  الٹے  قدم
تيري انگلي اٹھ گئي مہ کاکليجا چر گيا
بڑھ چلي تيري ضياء اندھير عالم سے گھٹا
کھل گيا گيسو ترا رحمت کا بادل گھر گيا
بندھ گئي تيري ہوا ساوہ ميں خاک اڑنے لگي
بڑھ چلي تيري ضيا آتش پہ پاني پھر گيا
تيري رحمت سے صفي الله کا بيڑا پار تھا
تيرے صدقہ سے نجي الله کا بجرا تر گيا
تيري آمد تھي کہ بيت الله مجرے کو جھکا
تيري ہيبت تھي کہ ہر بت تھر تھرا کر گر گيا
مومن ان کا کيا ہوا الله اس کا ہوگيا
کافر ان سے کيا پھرا الله ہي سے پھر گيا
وہ کہ اس در کا ہوا خلق خدا اس کي ہوئي
وہ کہ اس در سے پھر الله اس سے پھر گيا
مجھ کو ديوانہ بتاتے ہو ميں وہ ہشيار ہوں
پاؤں جب طوف حرم ميں تھک گئے سر پھر گيا
رحمت للعالمين آفت ميں ہوں کيسي کروں
ميرے مولٰی ميں تو اس دل سے بلا ميں گھر گيا
ميں ترے ہاتھوں کے صدقے کيسي کنکرياں تھي وہ
جن سے اتنے کافروں کا دفعتاً منہ پھر گيا
کيوں جناب بوہريرہ تھا وہ کيسا جام شير
جس سے ستر صاحبوں کا دودھ سے منہ پھر گيا
واسطہ پيارے کا ايسا ہو کہ جو سني مرے
يوں نہ فرمائيں ترے شاہد کہ وہ فاجر گيا
عرش پہ دھوميں مچيں وہ مومن صالح ملا
فرش سے ماتم اٹھے وہ طيب و طاہر گيا
الله الله يہ علو خاص عبديت رضا
بندہ ملنے کو قريب حضرت قادر گيا
ٹھوکريں کھاتے پھرو گے ان کے در پر پڑ رہو
قافلہ تو اے رضا اول گيا آخر گيا

معروضہ 1296 بعدواپسي زيارت مطہرہ بار اول

نعت  شريف
معروضہ 1296  بعدواپسي زيارت مطہرہ بار اول
خراب حال کيا دل کو پر ملال کيا
تمہارے کوچہ سے رخصت کيا نہال کيا
نہ روئے گل ابھي ديکھا نہ بوئے گل سونگھي
قضا نے لاکے قفس ميں شکستہ بال کيا
وہ دل کہ خوں شدہ ارماں تھے جس ميں مل ڈالا
فغاں کہ گور شہيداں کو پائمال کيا
يہ رائے کيا تھي وہاں سے پلٹنے کي اے نفس
ستمگر الٹي چھڑي سے ہميں حلال کيا
يہ کب کي مجھ سے عداوت تھي تجھ کو اے ظالم
چھڑا کے سنگ در پاک سرو بال کيا
چمن سے پھينک ديا آشيانہ بلبل
اجاڑا خانہ بے کس بڑا کمال کيا
ترا ستم زدہ آنکھوں نے کيا بگاڑا تھا
يہ کيا سمائي کہ دور ان سے وہ جمال کيا
حضور ان کے خيال وطن مٹانا تھا
ہم آپ مٹ گئے اچھا فراغ بال کيا
نہ گھر کا رکھا نہ اس در کا ہائے ناکامي
ہماري بے بسي پر بھي نہ کچھ خيال کيا
جو دل نے مر کے جلايا تھا منتوں کا چراغ
ستم کہ عرض رہ صرصر زوال کيا
مدينہ چھوڑ کے ويرانہ ہند کا چھايا
يہ کيسا ہائے حواسوں نے اختلال کيا
تو جس کے واسطے چھوڑ آيا طيبہ سا محبوب
بتا تو اس ستم آرا نے کيا نہال کيا
ابھي ابھي تو چمن ميں تھے چہچہے ناگاہ
يہ درد کيسا اٹھا جس نے جي نڈھال کيا
الٰہی سن لے رضا جيتے جي کہ مولٰی نے
سگان کوچہ ميں چہرا مرا بحال کيا

ْشور مہ نو سن کر تجھ تک ميں دواں آيا

نعت  شريف
ْشور مہ نو سن کر تجھ تک ميں دواں آيا

ساقي ميں ترے صدقے ميں مے دے رمضاں آيا
اس گل کے سوا ہر گل باگوش گراں آيا
ديکھے ہي گي اے بلبل جب وقت فغاں آيا
جب بام تجلي پر وہ نير جاں آيا
سر تھا جو گرا جھک کر دل تھا جو تپاں آيا
جنت کو حرم سمجھا آتے تو يہاں آيا
اب تک کے ہر ايک کا منہ کہتا ہوں کہاں آيا
طيبہ کے سوا سب باغ پامال فنا ہونگے
ديکھو گے چمن والو جب عہد خزاں آيا
سر اور وہ سنگ در آنکھ اور وہ بزم نور
ظالم کو وطن کا دھيان آيا تو کہاں آيا
کچھ نعت کے طبقے کا عالم ہي نرالا ہے
سکتہ ميں پڑي ہے عقل چکر ميں گماں آيا
جلتي تھي زميں کيسي تھي دھوپ کڑي کيسي
لو وہ قد بے سايہ اب سايہ کناں آيا
طيبہ سے ہم آتے ہيں کہئے تو جناں والو!
کيا ديکھ کے جيتا ہے جوواں سے يہاں آيا
لے طوق الم سے اب آزاد ہو اے قمري
چٹھي لئے بخشش کي وہ سرو رواں آيا
نامہ سے رضا کے اب مٹ جاؤ  برے کامو
ديکھو مرے پلہ پر وہ اچھے مياں آيا 
بدکار رضاخوش ہو بد کام بھلے ہونگے
وہ اچھے مياں پيارا اچھوں کا مياں آيا

نہ آسمان کو يوں سر کشيدہ ہونا تھا

نعت  شريف
نہ آسمان کو يوں سر کشيدہ ہونا تھا
حضور خاک مدينہ خميدہ ہونا تھا
حضور ان کے خلاف ادب تھي بيتابي
کنار خار مدينہ دميدہ ہونا تھا
نظارہ خاک  مدينہ کا اور تيري آنکھ
نہ اس قدر بھي قمر شوخ ديدہ ہونا تھا
کنار خاک مدينہ ميں راحتيں ملتيں
دل حزيں تجھے اشک چکيدہ ہونا تھا
پناہ دامن دشت حرم ميں چين آتا
نہ صبر دل کو غزال رميدہ ہونا تھا
يہ کيسے کھلتا کہ ان کے سوا شفيع نہيں
عبث نہ اوروں کے آگے تپيدہ ہونا تھا
ہلال کيسے نہ بنتا کہ ماہ کامل کو
سلام ابروئے شہ ميں خميدہ ہونا تھا
لاملئن جہنم تھا وعدہ ازلي
نہ منکروں کا عبث بد عقيدہ ہونا تھا
نسيم کيوں نہ شميم ان کي طيبہ سے لاتي
کہ صبح گل کو گريباں دريدہ ہونا تھا
ٹپکتا رنگ جنوں عشق شہ ميں ہر گل سے
رگ بہار کو نشتر رسيدہ ہونا تھا
بجا تھا عرش پہ خاک مزار پاک کو ناز
کہ تجھ ساعرش نشيں آفريدہ ہونا تھا
گزرتے جان سے اک شور يا حبيب کے ساتھ
فغاں کو نالہ? حلق بريدہ ہونا تھا
مرے کريم گنہ زہر ہے مگر آخر
کوئي تو شہد شفاعت چشيدہ ہونا تھا
جو سنگ در پہ جبيں سائيوں سے تھا مٹنا
تو ميري جان شرار جہيدہ ہونا تھا
تري قبا کے نہ کيوں نيچے نيچے دامن ہوں
کہ خاکساروں سے ياں کب کشيدہ ہونا تھا
رضا جو دل کو بنانا تھا جلوہ گاہ حبيب
تو پيارے قيد خودي سے رہيدہ ہونا تھا