اے شیخِ حرم برسرِ منبر تِری یہ شعلہ بیانی

 اپنی بات

اے شیخِ حرم برسرِ منبر تِری یہ شعلہ بیانی
صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری کے قلم سے
 
قارئین کرام!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
ان ہمارے پیارے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں امام کعبہ، شیخ القرآن الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس بن عبد العزیز صاحب رونق افروز ہیں جو حکومتِ پاکستان کی دعوت پر تشریف لائے ہوئے ہیں اور تادمِ تحریر یہاں کے مختلف دینی اداروں کے پروگراموں میں شریک ہوچکے ہیں نیز اعلیٰ حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کرچکے ہیں۔ وہ جہاں جاتے ہیں مسلمانانِ پاکستان ان کا والہانہ استقبال کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہئے کہ مسلمانانِ برصغیر ایشیائے کوچک اپنے آقا و مولیٰ، تاجدارِ حرم، شہنشاہِ عرب و عجم سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان سے منسوب ہر شے سے والہانہ محبت کرتے ہیں اور حریمین شریفین کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کرنا سعادت سمجھتے ہیں کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ارشاد فرماکر:
لَآ اُقْسِمُ بِھٰذَا الْبَلَدِ O وَاَنْتَ حِلٌّ م بِھٰذَا الْبَلَدِ O  (البلد 90: 1 تا 2)
(مجھے اس شہر کی قسم کہ اے محبوب تم اس شہر میں تشریف فرما ہو)
روئے زمین کے تمام مسلمانوں کو حریمین شریفین سے محبت اور اس کے احترام کی تعلیم دی ہے۔ لہٰذا امامِ کعبہ (کسے باشد) سے مسلمانوں کا اظہارِ محبت و عقیدت ایک فطری عمل ہے۔ اس میں امامِ کعبہ کی دستارِ فضیلت اور جبہ مبارکہ کے اندر ملفوف شخصیت کی ذاتی حیثیت کا دخل نہ ہونے کے برابر ہے۔ بلکہ ان کا والہانہ استقبال کرنے والے ہزاروں مسلمانوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ اس قدر قیمتی، خوبصورت، لباس اور عباء سے مزین اس شخصیت کانام کیا ہے؟ سعودی حکومت سے حرم شریف میں امامت و خطابت کے عوض ان کو کس قدر بھاری رقم بطورِ تنخواہ ملتی ہے؟ اس عظیم منصب پر فائز ذاتِ گرامی کا طرزِ زندگی درویشانہ ہے یا شاہانہ؟ اور رنگ و نسل، مسلک و مشرب کے اعتبار سے ان کی پہچان کیا ہے؟ وہ تو صرف یہ جانتے ہیں کہ ہمارے آقا و مولیٰ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے ولادت کے متبرک شہر مکۃ المکرمہ سے ان کا تعلق ہے اور بس! اسی لیے پاکستان میں ہمارے محترم مہمانانِ گرامی نے اپنی اس والہانہ محبت کا بھی خوب فائدہ اٹھایا۔ حکومت اور عوام نے ان کا والہانہ استقبال کرکے صاحبِ اسلام اور مرکزِ اسلام سے اپنی پُرخلوص عقیدت و محبت کا اظہار کیا ہے۔ چنانچہ وہ جہاں جہاں بھی تشریف لے گئے، وہاں انہوں نے مسلمانانِ پاکستان کو پند و نصائح سے نوازا۔ جن امور کی طرف انہوں نے توجہ دلائی، ان سے کوئی مسلمان اختلاف نہیں کرسکتا۔ مثلا:
1۔مسلمانوں کو اپنی اصلاح و فلاح کے لیے قرآن مجید سے روشنی حاصل کرنی ہوگی۔
2۔امّہ کے اتحاد و اتفاق اور اسلامی دنیا کے مسائل کے حل کے لے اجتماعی کوششیں کرنی ہوں گی۔
3۔گروہی اور فرقہ وارانہ اختلافات سے گریز وقت کا تقاضہ ہے۔ سب مسلمان بھائی بھائی ہیں۔
4۔ایمان و عقیدہ میں پختگی اور احکاماتِ اسلامی پر پابندی سے عمل کرتے ہوئے ہم مسلمانوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کرنی ہوگی۔
(واضح ہو کہ آج سے تقریباً سو سال قبل امام احمد رضا محدثِ بریلوی علیہ الرحمۃ اس نکتہ کی طرف نہایت شدّ و مد کے ساتھ مسلم سائنسدانوں، اسکالرز، محققین اور علمائے وقت کی توجہ دلاچکے ہیں۔ یہاں تفصیل کی گنجائش نہیں ہے۔ آج سو سال بعد سرزمینِ حرمینِ شریف سے یہ اسی کی بازگشت ہے۔)
5۔جدید بین الاقوامی حالات کے تناظر میں حکمت و بصیرت کے ساتھ اسلام کی تبلیغ و اشاعت کی ضرورت ہے تاکہ اسلام کے خلاف مغرب کی غلط فہمیاں دور ہوں۔
6۔اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔
7۔”لال مسجد”والے معاشرہ کی اصلاح اور کفار و مشرکین سے جہاد کے لیے شرعاً مکلف نہیں۔ وہ صدر پرویش مشرف کے انتباہ پر لال پیلے نہ ہوں۔ یہ حکومت وقت کا کام ہے، انہیں ہی کرنے دیں۔
8۔اسلام امن و سلامتی کا پیامبر ہے۔ دہشت گرد مسلمان نہیں ہیں۔
یہ تو وہ امور ہیں جن میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے کہ جس سے کسی کو کوئی اختلاف کی گنجائش ہو لیکن شیخ حرم کی صدرِ مملکت جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کے بعد کچھ ایسے امور بھی امامِ حرم کے حوالے سے اخبارات کی شہ سرخیوں کی زینت بنے جن کو پڑھ کر پاکستانی عوام انگشت بدنداں رہ گئے کہ امامِ کعبہ نے پاکستان کے اندرونی سیاسی امور اور معاملات پر اظہارِ خیال کرنا اور فتویٰ دینا شروع کردیا۔ امام کعبہ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ صدر پرویز مشرف کی حفاظت فرمائے اور انہیں حاسدوں کے شر سے محفوظ رکھے۔ اخبارات میں اس قسم کے ان کے دیگر ارشادات بھی شہ سرخی بنے۔ انہوں نے فتویٰ دیا کہ ”حکومتِ وقت اور صدرِ مملکت کی اطاعت سب پر لازم ہے۔”وغیرہ وغیرہ۔ امامِ حرم کے اس قسم کے سیاسی بیانات اور فتووں نے جہاں صدر پرویز کے حامی حلقوں کو نہال کردیا، وہاں ان کے مخالفین خاص طور پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری صاحب کی حمایت میں مہم چلانے والی سیاسی پارٹیوں اور ان کے حامیوں کو شدید تعجب اور غم و غصہ میں مبتلاء کردیا۔ بلکہ انہی کے ہم مسلک و ہم عقیدہ معروف کالم نگار جناب عطاء الحق قاسمی نے جو اس سے قبل امامِ حرم کا نہایت ادب و احترام کے ساتھ نام لے رہے تھے، اس پر فوری ردِّ عمل ظاہر کرتے ہوئے تحریر کیا کہ ”شیخِ حرم نے صدر پرویز کے خلاف سیاسی تحریک چلانے والے عوام اور سیاسی رہنماؤں کو حاسد قرار دیا ہے اور آمریت کے حق میں دعا دی ہے۔”ملک کے ایک اور بڑے کالم نگار نے شیخِ حرم کے بیانات کو ایک ”سرکاری ملازم”کے افکار قرار دیا ہے۔ (واضح ہو کہ شیخ حرم موصوف حکومت سعودیہ کے ایک تنخواہ دار ملازم ہیں۔)
بہرحال! شیخِ حرم کے اس قسم کے بیانات سے بہت سے لوگوں کے دل افسردہ اور آنکھیں نمناک ہیں اور مہمان ”مردِ حق”کے لیے ہمارے ملک میں جو احترام و محبت کی فضاء بنی تھی، اب وہ مکدر ہوتی نظر آرہی ہے۔ علامہ اقبال نے سچ فرمایا:
سینہ افلاک سے اٹھتی ہے آہِ سوزناک
مردِ حق ہوتا ہے جب مرعوبِ سلطان و امیر
عوام نے شیخِ حرم محترم کا جو والہانہ استقبال کیا وہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ وہ ایک مقدس سرزمین کہ جہاں پیدائشِ مولیٰ کی دھوم ہے، کے منسوب کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جگہ جگہ جمع ہوئے۔ انہیں اس سے غرض نہیں تھی کہ جو صاحب شیخ حرم کی مقدس عباء میں تشریف لائے ہیں، ان کے ذاتی کوائف کیا ہیں۔ لیکن ہمارے ملک کے پڑھے لکھے طبقے کے افراد اور الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کے احباب بشمول کالم نگار حضرات کو تو ان تمام باتوں کا علم ہے۔ پھر وہ اس بات کو کیوں نہ سمجھ سکے کہ ہمارے مہمان محترم
وہ آئے نہیں بلائے گئے ہیں
مدرسہ جامعہ اشرفیہ، لاہور کے ساٹھ سالہ جشنِ تاسیس کا اسٹیج ہو یا ایوانِ صدر کی ضیافت گاہ، یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کی بساط گاہ تھی ورنہ آپ سوچیں کہ جن شیخِ حرم کے نزدیک سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا جشنِ ولادت منانا اور اس کے لیے تعینِ تاریخ و وقت و جگہ دونوں حرام ہوں وہ تعینِ تاریخ و وقت اور جگہ کے ساتھ اس جشن ساٹھ سالہ میں شرکت کی حرام دعوت کو قبول فرمارہے ہیں   ع
ناطقاں سربگریباں ہے اسے کیا کہیے؟
قارئین کرام! جب مدرسہ اشرفیہ (لاہور) کی بات چل نکلی ہے تو یہ بھی وضاحت کردی جائے کہ ان حضرات اور ”لال مسجد”والوں کے اگرچہ پیرانِ کرائم ایک ہی ہیں لیکن ان کے رنگ علیحدہ ہیں۔ ”لال مسجد”والے بات بات پر کبھی لال کبھی پیلے کبھی دونوں ہوتے رہتے ہیں لیکن ”اشرفیہ”والے چونکہ نہایت سادہ لوح اور مخلص قسم کے ”صلح کلی”ہیں اس لئے سفید رنگ کو پسند کرتے ہیں لیکن چونکہ ملک کے ”سفید و سیاہ کے مالک”اشرفیہ سے روز تاسیس سے ان کے گہرے روابط و مراسم رہے ہیں اس لیے کبھی یہ سیاہ عمامے اور جبے بھی استعمال کرلیتے ہیں۔ البتہ کبھی یہ سیاسی جبہ و عمامہ کے اوپر نظر آتی ہے اور کبھی اندر سے جھلکتی ہے۔ غرض کہ یہ باعمل حضرات آج کی دو عملی کے دور میں نہایت سختی سے حالی پانی پتی کی اس ہدایت پر عمل پیرا ہیں  ع
چلو تم ادھر کو، ہوا ہو جدھر کی!
قارئین کرام! آپ کو یاد ہوگا کہ چند ماہ قبل وفاقی وزیر مذہبی امور کے حوالے سے یہ خبریں اخبارات میں آئی تھیں کہ موصوف نے اسلام آباد کی ”لال مسجد”کے معاملات کے حوالے سے ”امامِ کعبہ”سے فتویٰ حاصل کرلیا ہے۔ امام صاحب جلد دوبارہ بطورِ مہمانِ حکومت پاکستان تشریف لائیں گے تو اس موضوع پر اظہارِ خیال فرمائیں گے۔ تو ظاہر ہے کہ ان کی آمد کا مقصد حکومتِ وقت کو سیاسی فائدہ پہنچانا ہی تھا۔
اب رہا اس کا رونا کہ انہوں نے ہمارے ملک میں آمریت کی تائید کی ہے، یہ امر فضولی ہے۔ تاریخِ نجد و حجاز پر نظر رکھنے والے تمام ذی شعور حضرات جانتے ہیں کہ سعودی مملکت کی بنیاد دو خانوادوں کے معاہدے اور شراکتِ عمل سے وجود میں آئی۔ آلِ سعود اور آلِ شیخ (شیخ محمد بن عبد الوہاب کا خاندان)۔ آلِ سعود حکومت کا سیاسی نظام چلانے کے ذمہ دار ہیں جب کہ آلِ شیخ مذہبی امور کی انجام دہی پر مامور ہیں۔ ان لوگوں نے حجاز مقدس کو تاراج کیا، وہاں کے مسلمانوں پر کفر و شرک کے فتوے لگائے اور عوام تو عوام، علماء کو تہہِ تیغ کیا۔ جب نجد و حجاز میں ایک نئی مملکت کی بنیاد رکھی گئی تو اسلام کے شیدائی اور مجاہد ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کے لیے یہ سنہری موقع تھا کہ وہاں خلافتِ راشدہ کے نمونے کی جمہوری حکومت قائم کی جاتی (جیسا کہ اس وقت کے صوبہئ نجد کے حکمران ملک عبد العزیز نے پوری مسلم امہ سے وعدہ فرمایا تھا جس کا تحریری ثبوت ہندوستان کی خلافت کمیٹی اور حجاز مقدس کے آثارِ مقدسہ بچاؤ کمیٹی کے ارکان علامہ سید سلمان ندوی اور مولانا محمد علی جوہر کے پاس تھا اور ”تاریخِ نجد و حجاز”مصنفہ مفتی عبد القیوم ہزاروی میں شائع ہوچکا ہے۔) لیکن دنیا نے دیکھا کہ حریمین شریفین کی مقدس سرزمین پر ہزاروں معصوم اور بے گناہ مسلمانوں کا خون بہانے اور صحابہئ کرام اور صالحین ِ امت کے تمام مزارات کو تاراج کرنے کے بعد وہاں ”جلالۃ ملک”(آلِ شیخ) کی شہنشاہیت قائم کی گئی۔ گستاخی معاف! یہ شیخانِ حرم اسی شہنشاہیت کے سائے میں پلے بڑھے ہیں۔ یہ جمعۃ المبارکہ کا خطبہ بھی اپنے الفاظ میں نہیں دے سکتے بلکہ شہنشاہِ وقت کی طرف سے تحریرشدہ خطبہ پڑھنے کے مکلف ہیں۔ تو ملوکیت کے سائے میں پروردہ شیخانِ حرم سے آمریت کے خلاف فتویٰ کی توقع ایسا ہی ہے جیسے خار زار زمین پر کوئی نسترین و نسترن، چمپا، چنبیلی اور گلاب کے چمنستان کھلنے کی امید لگائے۔
پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کے نمائندے ہمارے ملک میں آزادی صحافت، آزادی تحریر و تقریر، غیرجانبدار اور آزاد عدالتی نظام جس میں انسان کے بنیادی حقوق کی ضمانت ہو، کی آئے دن رٹ لگاتے ہیں، ٹی۔وی پر مذاکرات منعقد ہورہے ہیں، حقوقِ انسانی کی انجمنیں اور سیاسی پارٹیاں اور اکیدیمیات سیمینار منعقد کررہی ہیں۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ جب ہمارے محترم مہمان شیخ حرم نے پریس کانفرنس منعقد کی تو کسی صحافی نے ان سے ان کے ملک کے سیاسی، معاشی اور عدالتی نظام مذہبی و مسلکی تعصب پر مبنی اور شخصی آزادی اور اظہارِ رائے پر قدغن لگانے والے جبر و ظلم کا مذہبی پولیس (متوّہ) نظام کے متعلق کوئی سوال نہیں کیا۔ حالآنکہ حال ہی میں اخبارات میں عالمی حقوق انسانی کی انجمن کے حوالے سے ایک خبر شائع ہوئی ہے کہ سعودی عرب کی مذہبی پولیس سے سنگین قسم کی حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیاں مشاہدے میں آئی ہیں۔ اس پولیس کو کسی بھی شہری کے گھر میں گھسنے اور موقع پر معاشرتی جرم پر سزا دینے کے وسیع اختیارات ہیں۔ مذہبی پولیس جس کا جا و بے جا استعمال کرتی رہتی ہے اور ان کے تشدد سے کئی اموات بھی واقع ہوچکی۔ اس سلسلہ میں حقوقِ انسانی کی انجمن نے حکومت سعودیہ پر زور دیا ہے کہ وہ مذہبی پولیس کے اختیارات کو کم کرے اور گھروں میں گھس کر تشدد کرنے، لوگوں کو تشدد کرکے ہلاک کرنے والے پولیس اہلکار کے خلاف مقدمہ قائم کرکے تادیبی کاروائی کرے۔ تفصیلات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مذہبی پولیس مذہبی و مسلکی تعصب اور سعودی اور غیر سعودی کے حوالے سے بھی لوگوں کو تشدد کا نشانہ بناتی ہے اور اس کے خلاف کسی بھی عدالت میں سنوائی نہیں ہوتی۔ ضرورت تھی کہ شیخِ حرم سے درج ذیل سوالات پوچھے جاتے:
1)کیا اسلام کے سیاسی نظام میں ملوکیت اور شخصی نظامِ حکومت کی گنجائش ہے؟
2)کیا ملک کے افرادی، پیداواری اور معاشی وسائل پر شخصِ واحد، یا اس کے خاندان، یا ایک مخصوص گروپ کا قبضہ اور اس میں اپنا من مانا تصرف اسلامی شریعت کی رو سے جائز ہے؟
3)کیا سعودی عرب کے نظامِ عدل کے تحت اور وہاں کے قانون کے تحت عام شہری کے حقوق و مراعات وہی ہیں جو وہاں کے شاہی خاندان کو حاصل ہیں؟
4)کیا خلفائے راشدین کی طرح ”جلالۃ الملک”اعلیٰ عدالت یا پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہیں یا انہیں اس کے برعکس مکمل تحفظ حاصل ہے؟
5)کیا وہاں کی اعلیٰ عدالتیں ملک کے آئین کی تشریح کرنے کی مجاز ہیں؟
6)کیا معاشی استحصال اور حقوقِ انسانی کی خلاف ورزی کے معاملے میں ”جلالۃ الملک”سمیت ہر شخص عدالت کی نظر میں برابر ہے اور اس سے جواب طلبی ہوسکتی ہے؟
7)شیخِ حرم محترم نے مسلمانانِ پاکستان کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بین المسلمین اتحاد کو فروغ دینے کا مشورہ دیا ہے جو ایک اچھی بات ہے۔ مملکت سعودیہ میں بھی مختلف مسالک کے افراد آباد ہیں، مثلاً اہلِ سنت، شیعہ، وہابی، پھر مذہب کے حوالے سے حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی وغیرہ۔ کیا شیخِ حرم کے ملک میں تمام مذاہب و مسالک والوں کو اپنے اپنے فقہ اور عقیدوں کے مطابق زندگی گذارنے کی کھلی آزادی حاصل ہے؟
8)اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر یہ بتایا جائے کہ ایک ہی مسلک و مذہب کے امام کی اقتداء میں دوسرے مسلک و مذہب والوں کو نماز پڑھنے کے لیے مجبور کیا جانا اور انکار یا نمازِ باجماعت (ثانی) کے اہتمام پر مذہبی پولیس والے اس کو گرفتار کرکے پابندِ سلاسل کیوں کرتے ہیں؟ اور قاضی فوری طور پر انہیں قید و بند کی سزا کیوں سنادیتا ہے؟ کیا شخصی آزادی سلب کرنے کی یہ بدترین مثال نہیں ہے؟
9)شیخ حرمِ محترم آپ نے قیامِ پاکستان کے دوران جہاں جہاں تقریریں کی ہیں آپ نے بڑے زوردار الفاظ میں پاکستان میں موجود تمام فرقوں کو اتحاد و اتفاق سے رہنے کی تلقین کی ہے اور تمام فرقوں کو مسلمان تسلیم کرتے ہوئے انہیں عالمی سطح پر ملی یکجہتی کا مظاہرہ کرکے معاشیات اور سائنسی میدان میں ترقی کرنے کا نیک مشورہ دیا ہے، ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ لیکن دیکھا گیا ہے اور اس پر کثیر شہادتیں پیش کی جاسکتی ہے کہ آپ کے ملک میں ”وہابی”عقیدے کے علاوہ تمام دیگر مسالک کے لوگوں کو بلاتکلف مشرک قرار دیا جاتا ہے اور انہیں اپنے مسلک اور عقیدے کی تبلیغ کی آزادی تو بڑی بات ہے اپنے عقیدہ کے اظہار کی بھی آزادی نہیں۔ چنانچہ اپنے مسلک اور عقیدہ کے اعتبار سے عبادات اور اپنی مذہبی رسوم ادا کرنے والوں (بالخصوص اہلِ سنت وجماعت کے افراد) کو آپ کی مذہبی پولیس والے گرفتار کرکے نہ صرف یہ کہ تشدد کا نشانہ بناتے ہیں بلکہ جبر اور ظلم کرکے اسے اپنا عقیدہ اور مسلک چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں ورنہ اسے جیل کی نہایت تنگ و تاریک کوٹھری میں بند کرکے اس کے مرنے کا انتظار کرتے ہیں اور آپ کی مذہبی پولیس کے اس ظلم کے خلاف آپ کے ملک کی کسی عدالت میں اپیل بھی نہیں ہوسکتی۔ اور اگر اتفاق سے وہ شخص غیر سعودی ہے یعنی اس کا تعلق برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش سے ہے تو خواہ کتنی ہی بڑی علمی اور روحانی شخصیت کیوں نہ ہو، آپ کی حکومت اسے جیل کی سزا بھگتنے کے بعد اس کا خروج کرادیتی ہے خواہ وہ حج وعمرہ کا زمانہ ہی کیوں نہ ہو، وہ شخص احرام کی حالت ہی میں کیوں نہ ہو، آپ کی مذہبی پولیس والے اس پر بالکل ترس نہیں کھاتے۔ ناگفتہ بہ ظلم اور تشدد کے علاوہ ایک مسلمان کی حیثیت سے حج و عمرہ ادا کرنے کا اس کا جو بنیادی حق ہے، اس سے آپ اسے محروم کردیتے ہیں، تو آپ کے قول و فعل میں یہ تضاد کیوں ہے؟
9)جس بات کی تلقین آپ پاکستان کے مسلمانوں کو کررہے ہیں آپ اس کا مظاہرہ اپنے ملک میں کیوں نہیں کرتے کیوں کہ بطورِ امامِ حرم آپ کی تقرری بھی اسی مذہبی نظام کا ایک حصہ ہے جس کے ماتحت مذہبی پولیس آتی ہے۔ اس لیے اگر آپ کی یہ باتیں حقیقت اور صداقت پر مبنی ہیں تو آپ نے اپنے مذہبی اور سیاسی نظام کی اصلاح کی کوشش کیوں نہ کیں اور اگر آپ نے کی لیکن آپ کی سنوائی نہ ہوئی تو آپ ایسے ظالمانہ اور جابرانہ نظام کا حصہ بن کر اسلام کی کون سی خدمت انجام دے رہے ہیں؟
10)کیا آپ کے ملک کے نظامِ تعلیم میں دوسرے مسالک و مذاہب کی تعلیم کی گنجائش ہے یا سب کو وہابیت کا ہی نصاب پڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے؟
11)اگر آپ کی نظر میں مسلمانوں کے تمام فرقہ برابر ہیں اور آپ سب کو امّہ کا حصہ سمجھتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں آپ کی حکومت مساجد اور دینی مدارس کی تعمیر کے لیے جو مالی اعانت فرماتی ہے، وہ صرف اہلِ حدیث، دیوبندی اور جماعتِ اسلامی کے فرقوں کے لیے کیوں ہے؟ اہلِ سنت و جماعت کے افراد سے یہ امتیازی سلوک کیا آپ کے قول و فعل کا کھلا تضاد نہیں؟
درج بالا سطور کے لکھنے کا مقصد صحافی برادری اور میڈیا کی توجہ اس طرف مبذول کرانا مقصود ہے کہ آپ سب سے زیادہ آزادیئ اظہارِ رائے، آزادیئ صحافت، میڈیا کی آزادی، اطلاعات کی بہم رسانی سب کا بنیادی حق ہے اور حقوقِ انسانی کے تحفظ کا نعرہ بلند کرتے ہیں اور عدلیہ کی مقننہ سے آزادی کے حق میں آواز اٹھاتے ہیں اور بجا طور پر یہ سب کرتے ہیں۔ لیکن دیکھا گیا ہے کہ جب شیخانِ حرم یا آلِ شیخ کے خانوادے کی کوئی شخصیت پاکستان بطور مہمان آتی ہے تو میڈیا کے حضرات ان خادمانِ حرمین شریفین سے اس قسم کے سوالات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ وہ ان سے یہ سوال کیوں نہیں پوچھتے کہ آپ کے ملک اور اس کے آئین کو تو اسلام کے دورِ اول والے خلافتِ راشدہ کے عادلانہ، رفاہی، فلاحی، سیاسی، معاشی، معاشرتی اور عدالتی نظام کا نمونہ (Model) ہونا چاہیے تھا۔ لیکن گذشتہ سو سال سے آپ کے ملک میں ملوکیت، جبر و استیصال اور قبائلی، مذہبی، مسلکی و طبقاتی امتیازات پر مبنی سیاسی و معاشرتی نظام قائم ہے۔ کیا وجہ ہے کہ آپ دنیا بھر کے مسلمانوں کو یکجہتی اور اسلامی شریعت کے نظام کے تحت زندگی بسر کرنے کی تلقین کرتے ہیں لیکن خود اپنے ملک میں اور اپنے اوپر اس نظام کو جاری و ساری نہیں کرتے؟
امام حرم اور شیخِ حرم ہونا ایک بہت بڑا منصب ہے، دنیا کے کروڑوں مسلمان ان سے مذہبی اور سیاسی طور پر رہنمائی کی توقع رکھتے ہیں۔ اس لیے اس منصب پر فائز شخصیات پر بھی لازم ہے کہ سچائی، دیانتداری، نیک نیتی اور اسلام کے نظامِ عدل و احسان سے واقفیت اور اللہ سبحانہ، و تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرم و محتشمؐ سے محبت کا جو کم سے کم معیار ہے اس پر پوری اتریں۔ جو لوگ ان تقاضوں کو پورا نہیں کرتے وہ بلاشبہ امانت کے ضائع کرنے والوں میں سے ہیں۔ قیامت کے دن رسوائی ان کا مقدر ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شیخانِ حرم کی مجلس میں میڈیا کے سارے ہی فرد وہابی بن جاتے ہیں یا پھر وہاں بلائے ہی وہابی جاتے ہیں؟ بہرحال قوم کو اس سے دلچسپی نہیں کہ ایک صحافی کا مذہب و مسلک کیا ہے بلکہ وہ تو اس چیز سے دلچسپی رکھتی ہے کہ ایک صحافی یا میڈیا مین کی دیانت ہی اس کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ ان کا یہ دعویٰ کہ ہم وہی لکھتے، چھاپتے اور وہ خبریں پیش کرتے ہیں جو سچ ہے، دلیل کا طالب ہے۔ کم از کم شیخِ حرم محترم محمد عبد الرحمن السدیس کے حالیہ دورہ پاکستان کے حوالے سے ان کا یہ دعویٰ تشنہ دلیل ہے:
چو پردہ دار بشمشیر می زندہمہ را
کسی مقیمِ حریمِ حرم نخواہد ماند
Advertisements

وہابی کا وضو بھی شرعا وضو نہیں

 

وہابی کا وضو بھی شرعا وضو نہیں

فقہ محمدی کلاں جلد 1 صفحہ 49 میں درج ہے
اور اسی طرح جائز ہے مسح کرنا صرف پگڑی پر بغیر سر کے ۔

وہابی اگر غسل کرتا ہے پلید پانی سے ، کپڑے پہنتا ہے تو منی سے لبریز ، جس سے بدن اور کپڑے دونوں پلید پھر وہابی کو اگر وضو کی ضرورت پڑے تو جوہڑ کے پلید پانی سے یا کتا بلی کنویں میں مرا ہوا ہو تو اس پانی سے وضو بناتا ہے وثیابک فطھر والرجز فاھجر کا انکار کرکے وضو بناتا ہے اگر پاک پانی سے بھی وضو کرے وہ بھی ناقص یعنی وامسحو بروء سکم کی تحریف کرکے پگڑی پر مسح کرکے جان چھڑاتا ہے اور صراحۃ قرآن کریم کی مخالفت کرتا ہے ۔ پلید پانی کے استعمال سے تو وضو ہوسکتا ہی نہیں پلید پانی سے جراءت بھی کرتا ہے تو ناکام رہتا ہے ، پاک پانی سے اگر وضو کرتا ہے تو سر کے مسح کا منکر ہے یا پانی کی پلیدی کی وجہ سے س پر ہاتھ پھیرنا پسند نہیں‌کرتا ۔

قرآنی فیصلہ
سر کا مسح ازروئے قرآن فرمان خداوندی وامسحو بروءسکم فرض‌ہے تاویل کی کوئی گنجائش ہی نہیں‌ وضو میں ایک فرض کو بھی ترک کردیا تو وضو کالعدم ہے جیسا کہ نماز میں ایک فرض کے ترک سے نماز نماز ہی نہیں‌ عمدا چھوڑے تو ایمان سے گیا ایسے ہی وہابی وضو میں‌عمدا سر کے مسح کو چھوڑتا ہے بلکہ پگڑی پر کرتا ہے تو منکر قرآن کریم ہے دشمن خداوندکریم ہے باغی ہے جب وضو ہی نہیں تو نماز کیسے درست ہوئی ۔
او اہلحدیث کے مدعیو !
کیا مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں فرمایا ہے کہ قرآن مجید کو بھی اپنی مرضی سے بدل لیا کرو ۔
توبو الی اللہ ۔

 

وہابیوں کے بدن اور برتن شرعا پلید ہیں

وہابیوں کے بدن اور برتن شرعا پلید ہیں


1۔عرف الجادی صفحہ 10 میں لکھا ہے
منی ہر چند پاک است ۔
یعنی منی ہر صورت میں پاک ہے ۔
وہابی مذہب میں منی خواہ ذکر سے نکلے یا فرج سے دخول سے یا بغیر دخول کے احتلام سے نکلے یا مشت زنی سے ہر صورت پاک ہے ۔
2۔ فقہ محمدی کلاں صفحہ 41 میں لکھا ہے
لیکن صحیح قول یہی ہے کہ منی پاک ہے ( اسی صفحہ پر لکھاہے ) کہ دونوں کی منی پاک ہے ( یعنی مرد اور عورت کی )
3۔ فتاوٰی نذیریہ جلد 1 صفحہ 197 میں ہے
بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ منی پاک ہے ۔

سبحان اللہ ! وہابیوں کا بدن اور کپڑے منی سے گچ وضو یا غسل کتے خنزیر اور گندگی وغیرہ کا معرق پانی ہو ٹٹی بھرے جوتے اور دبر محض مٹی سے صاف ہو وہابی اس ہیئہ کذائیہ میں دربار خداوندی میں پیش ہونا پسند کرتا ہے ایسے لطف سے تو بھنگی ، ہندو ، عیسائی اور یہودی بھی محروم ہیں ۔
4۔ الروضۃ الندیۃ صفحہ 13 میں ہے (ترجمہ )
حق بات یہ ہے کہ منی کا اصل پاکیزہ ہے ۔

مسلمانوں کو چاہیے کہ وہابیوں کے لباس وغیرہ سے بھی پرہیز کریں کیونکہ منی سے لبریز ہوتے ہیں اسی لئے وہابی لوگ اپنی مسجدیں مسلمانوں سے علیحدہ بنالیتے ہیں کہ کوئی مسلمان یہ اعتراض نہ کرے کہ وہابیوں نے ہماری مسجد پلید کردی کیونکہ پہلے مسلمانوں کا یہ وطیرہ تھا کہ ان کی مسجد میں جب کوئی وہابی آگھستا تو فرش اکھاڑ دیتے کہ اس کی نجاست اینٹوں میں‌ بھی سرائت کرگئی ہے ۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہابیوں کے نزدیک منی پاک ہے بدن اور کپڑے اس سے نجاست غلیظہ کے حامل ہوتے ہیں تر ہاتھ منی کے مرطوب کپڑوں کو لگاکر اس سے کھانا کھائے گا تو وہابی کا کھانا بھی پلید لہذا مسلمانوں کو وہابیوں کے برتاؤ سے پرہیز کرنا فرض ہے ۔ جس مذہب میں منی پاک ہے بھلا ان کی عبادت اور نمازوں‌کا کیا حال ہوگا تم خود اندازہ لگاؤ ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
لا تقبل الصلوۃ الا بطھور پاک ہونے کے بغیر نماز قبول نہیں اب خود سوچو کہ وہابیوں کا نماز پڑھنا صحیح ہے یا غلط۔

منی کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری فیصلہ

مسند امام احمد حنبل 6-235 میں ہے
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے کہ ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے کو جب بھی منی لگتی تو کپڑا دھوتے پھر نماز کے لیے تشریف لے جاتے آپ کے کپڑے میں دھلے ہوئے کپڑے میں تری کا نشان میں خود دیکھتی ۔

قرآنی فیصلہ

الم نخلقکم من ماء مھین ۔ کیا ہم نے تمہیں‌ذلیل پانی سے پیدا نہیں فرمایا ۔
اللہ تعالٰی نے منی کو ماء مھین یعنی گندا پانی فرمایا ہے تم کہیں تمام قرآن کریم میں دکھاؤ کہ اللہ تعالٰی نے ماء طھورا فرمایا ہو ، ورنہ ہم سمجھیں گے تم منکر قرآن ہو پھر اللہ تعالٰی نے فرمایا کلو من طیبت ما رزقنکم تم کھاؤ جو ہم نے تمہیں پاک رزق دیا ہے ۔ قرآن کریم سے بھی ثابت ہوا کہ پاک چیز کو اللہ تعالٰی نے کھانے کا بھی ارشاد فرمایا ہے ، وہابیوں کے نزدیک منی پاک ہے تو کھاتے کیوں نہیں ۔۔ مرو مکھن جمع کرو اور کھاکر لطف اٹھاؤ اگر منی نہ کھاؤتو پھر بھی تم قرآن کریم کے منکر ہو کیونکہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے جو تمہیں ہم نے پاک رزق دیا ہے کھالو ۔ تو تمہارا منی کو نہ کھانا یہ بھی منی کے پلید ہونے کی دلیل ہے ۔ پھر فرمایا یسئلونک ماذا احل لھم قل احل لکم الطیبت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے سوال کرتے ہیں ان کے لئے کونسی چیز حلال ہے آپ فرمائیے پاک چیزیں تمہارے لیے حلال ہیں ، اس آیۃ کریمۃ سے بھی ثابت ہوا کہ اللہ تعالٰی کی طرف سے پاک چیزیں‌ حلال ہیں ۔
مسلمانوں‌!‌بلا شک محلے کی منی اکھٹی کرکے محلے کے کسی وہابی کو عطا کردیں محلہ دار وہابی کو یہی نعمت کافی رہے گی ۔ پھر فرمایا ماخرج من السبلین جو دونوں‌راستوں سے نکلے مفسد وضو ہے ، جس چیز کے نکلنے سے پاکیزگی دور ہوجاتی ہے وہ خود پاک کیسے ہوسکتی ہے اور سنئیے
سورۃ السجدہ آیت 8
پھر ہم نے انسان کی نسل کو مخلوط گندے پانی سے پیدا کیا ۔
اس آیۃ کریمۃ میں بھی منی کو گندا پانی کہا گیا ۔

انسانی تطھیر قرآن کریم میں

سورۃ مائدہ آیت 6
اللہ تعالٰی کا ارادہ تمہیں تنگ کرنے کا نہیں اور لیکن اللہ تعالٰی کا ارادہ ہے کہ تمہیں پاک رکھے اور تم پر اپنی نعمت پوری کرے تاکہ تم شکر کرو۔
کیوں وہابیوں !‌
اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے کہ میرا ارادہ ایمانداروں کو پاک رکھنے کا ہے اور تم پاک رہو گے تو تم پر اس کا انعام پورا ہو گا ورنہ تم نعمت خداوندی سے محروم رہ جاؤگے جب وہابیوں نے نجاست کو پسند کیا تو قرب خداوندی سے محروم رہ گئے کیونکہ خداوند کریم کو طہارت پسند ہے جس فرقے کو نجاست پسند ہے ان میں ایک بھی اللہ والا نہیں بن سکتا تو وہابی کا جیسا کہ باطن عداوۃ مصطفے سلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پلید ہے ایسے ہی وہابی فرقے کا ظاہر بھی پاخانے اور منی سے پلید ہے ویحسبون انھم یحسنون صنعااور انہیں یقین یہ ہے کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں ۔
(4)سورہ المدثر۔آیت 5 والرجز فاھجر یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم پلیدی کو ترک کیجیے
اللہ تعالی فرماتا ہے پلیدی کو ترک کرو اور تم پسند کرتے ہو خود سوچو کہ تم کس دھڑے میں ہو بقانون خداوندی تم نے نجاست کو ترک نہیں کیا بلکہ پسند کیا تو ازروئے قرآن کریم تم نجاست پسند منکر قرآن ثابت ہوئے اللہ رب العزت نے کفار و مشرکین و منافقین کو پلید فرمایا اور ایسے پلید لوگوں سے اجتناب کا حکم دیا۔


نجس لوگوں سے مسلمانوں کو اجتناب کا حکم خداوندی

(5)سورۃ التوبۃ آیت 95۔ فاعرضوا عنھم انھم رجس وما واھم جھنم جزاءبما کانوا یکسبون
مسلمانو! کفار و منافقین سے اعراض کرو کیونکہ وہ پلید ہیں اور ان کے اعمال کا بدلہ جہنم ہے
چونکہ وہابی فرقہ بھی نجس ٹٹی اور منی کو پاک سمجھتا ہے نجاست پسند فرقہ ہے لہذا مسلمانوں کو اس فرقہ وہابیہ سے پرہیز کرنا اسلامی فریضہ ہے ۔

پلیدی اللہ تعالی نے بے ایمانوں کے لئے پسند فرمائی ہے

(6) الانعام۔آیت 125۔کذالک یجعل اللہ الرجس علی الذین لا یومنون
اسی طرح اللہ تعالی بے ایمان لوگوں کے لئے پلیدی تیار رکھتا ہے
اس آیت کریمہ سے ثابت ہوا کہ نجاست، ٹٹی، منی، بجو، گوہ، بیوی کا دودھ، خنزیراور کتا وغیرہ اللہ تعالی نے بے ایمانوں کے لئے مقرر فرمایا ہے ایماندار ہر پلیدی اور نجاست سے پرہیز کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالی پرہیزگاروں کو پسند فرماتا ہے اور دوست بناتا ہے نجاست کھانے پینے والوں کو نہ پسند فرماتا ہے نہ ہی دوست بناتا ہے اسی لئے وہابیوں سے نہ آج تک کوئی ولی اللہ ہوا اور نہ ہے اور نہ ہی ہو سکتا ہے اور نہ ممکن ہے جب تک توبہ نہ کریں غیر مقلد وہابی نے جب گوہ، بجو،کچھوا،گھونگھرا،اور بیوی کا دودھ خنزیر اور کتے اور ٹٹیوں کے معرق پانی سے بھرے ہوئے گلاس اپنے دسترخوان پر چنے تو ہندو،سکھ، بھنگی اور چمار نے بھی اپنی تیار کردہ مٹھائی وہابی کے پاس نذرانہ کردی تو وہابی نے شکریے سے اسے بھی شرف قبولیت بخشا اور جواز کا فتوی صادر فرما کر خود بھی تناول فرمایا اور اپنی امت وہابیہ کو بھی خوب سیر کرایا تو اللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی جو وہابی کے عین موافق طابق النعل بالنعل ہے سنئیے
سورۃ التوبۃآیت 125۔واما الذین فی قلوبھم مرض فزادتھم رجسا الی رجسھم وما توا وھم کافرون
اور لیکن جن لوگوں کو قلبی مرض ہے اللہ تعالی ایسے لوگوں کو پلیدی ہی پلیدی زیادہ انعام فرماتا ہے اور وہ کفر کی حالت میں ہی مر جاتے ہیں
اس آیۃ کریمہ سے ثابت ہوا کہ وہابیوں کے دلوں رب العزت، مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم،اولیاءاللہ اور مومنین کے حق میں گستاخی، بد عقیدگی اور کمزوری کی بیماری نے دائم المریضی اختیار کر لی تو اس کا علاج گوہ، کچھوے، اور بجو کی خوراک اور پینے کے لئے خنزیر، کتے، اور ٹٹی اور اپنی بیوی کا دودھ بطور عرق مقرر کیا ہوا ہے تو اللہ تعالی کا یہ نجس چیزوں کا چناؤ صرف وہابی فرقہ کے لئے ہی ہے باقی مسلمان ان پسندیدہ وہابیہ کو حرام اور نجس یقین کرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالی نے ان چیزوں کو مسلمانوں کے لئے حرام فرمایا ہے۔

غیر مقلّدین اہل حدیث کا امام ابنِ تیمیہ کون تھا ؟

غیر مقلّدین اہل حدیث کا امام ابنِ تیمیہ کون تھا ؟
ابنِ تیمیہ کون تھا ؟

ابنِ تیمیہ 661ھ میں پیدا ہوا اور 728 ھ میں مرا ابنِ تیمیہ وہ شخص تھا جس کو غیر مقلد ین اہل حدیث وہابی حضرات اپنا امام تسلیم کرتے ہیں مگر وہ گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے اس نے بہت سے مسائل میں علماءحق کی مخالفت کی ہے یہاں تک کہ اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لئے مدینہ طیبہ کے سفر کو گناہ قرار دیا ہے اسکا عقیدہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی مرتبہ نہیں ۔ اور یہ بھی اسکا عقیدہ ہے کہ خدا ئے تعالیٰ کی ذات میں تغیّر و تبدل ہوتا ہے ۔
1)….اس امت کے امام شیخ احمد صاوی مالکی علیہ الرحمہ اپنی تفسیر صاوی جلد اول کے صفحہ نمبر 96پر تحریر فرماتے ہیں کہ ابنِ تیمیہ حنبلی کہلاتا تھا حالانکہ اس مذہب کے اماموں نے بھی اس کا رد کیا ہے یہاں تک علماءنے فرمایا کہ وہ گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے ۔
۲)…. علامہ شہاب الدین بن حجر مکّی شافعی علیہ الرحمہ اپنی فتاوٰی حدیثیہ کے صفحہ نمبر 116پر ابنِ تیمیہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ ابنِ تیمیہ کہتا ہے کہ جہنم فنا ہوجائے گی اور یہ بھی کہتا ہے کہ انبیاءکرام علیہم اسلام معصوم نہیں ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی مرتبہ نہیں ہے ان کو وسیلہ نہ بنایا جائے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی نیت سے سفر کرنا گناہ ہے ایسے کفر میں نماز کی قصر جائز نہیں جو شخص ایسا کریگا وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے محروم رہیگا ۔
۳)….آٹھویں صدی ہجری کے عظیم اند لسی مورخ ابو عبداللہ بن بطوطہ اپنے سفر نامہ میں ابنِ تیمیہ کا ذکر اس طرح کرتے ہیں ۔
گو ابنِ تیمیہ کو بہت سے فنون میں قدرت تکلم تھی لیکن دماغ میں کسی قدر فتور آگیا تھا ۔
(رحلّہ ابنِ بطوطہ مطبع دار بیروت ص 95و مطبع خیریہ ص 68)(ترجمہ :رئیس احمد جعفری ندوی ص 126مطبوعہ ادارہ درس اسلام )
دماغ میں خرابی اورفتور کی وجہ سے جب اپنی تیمیہ نے بہت سے مسائل میں اجماعِ امّت کی مخالفت کی یہاں تک کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت علی اللہ عنہ کو بھی اعتراض کا نشانہ بنایا تو اہلسنّت و جماعت حنفی ، شافعی مالکی اور حنبلی ہر مذہب کے علماءنے ابنِ تیمیہ کا رد کیا اور اسے گمراہ گر قرار دیا ۔لیکن غیر مقلّدین نام نہاد وہابی اہل حدیث کہ جن کہ دلوں میں کھوٹ اور کجی پائی جاتی ہے انھوں نے دماغی خلل رکھنے والے ابنِ تیمیہ کی پیروی کرلی اور اسے اپنا امام پیشوا بنا لیا ۔
اہل حدیث مذہب والوں نے نیک اور قد آور شخصیات ائمہ اربعہ کو امام نہ مانا اور ان کی تقلید یعنی پیروی کو حرام لکھا تو ان کو سزا ملی کہ ابنِ تیمیہ جیسا ذلیل ان لوگوں کا امام بنا اور انہوں نے اسے تسلیم بھی کیا ۔

جماعت المسلمین نامی فرقے کے عقائد و نظریات

جماعت المسلمین نامی فرقے کے عقائد و نظریات
فرقہ مسعود یہ یعنی جماعت المسلمین نامی نام نہاد انتہا پسند ،ضالّ اور مفصّل فرقوں کی فہرست میں ایک جدید اضافہ ہے اسکے فرقے کا بانی ،امیر اور امام مسعود احمد BSC ہے جو اس فرقے کی تشکیل سے قبل غیر مقلّدین نام نہاد اہل حدیث کی مختلف فرقہ وارا نہ جماعتوں کیساتھ وابستہ رہنے کی وجہ سے کفر و شرک کے دلدل میں بری طرح پَھنسا ہوا تھا یہ اعتراف خود مولوی مسعود احمد نے اپنی کتاب خلاصہ تلاشِ حق کے صفحہ نمبر ۴ پر کیا ہے ۔
مولوی مسعود احمد اہل حدیث فرقے میں مقبولیت حاصل کرنے کے بعد 1385 میں جماعت المسلمین کا قیام عمل میں لایا یہ فرقہ مسعود یہ جو کہ جماعت المسلمین کا قیام عمل میں لایا یہ فرقہ مسعود یہ جو کہ جماعت المسلمین کے نام سے کام کررہا ہے یہ اہل حدیث سے ملتا جلتا ہے اسکے عقائد غیر مقلّدانہ ہیں ۔

فرقہ مسعود یہ کے باطل عقائد ::
عقیدہ :جماعت المسلمین فرقہ صحیح ہے باقی تمام لوگ بے دین و گمراہ ہیں یہ جماعت المسلمین فرقے کا عقیدہ ہے ۔
عقیدہ :
امام ابو حنیفہ ، امام شافعی ،امام ابن حنبل ، امام مالک علیہم الرضوان ان کی تقلید حرام ہے ۔
عقیدہ :مولوی مسعو د احمد نے اپنی کتاب تاریخ الاسلام والمسلمین کے صفحہ نمبر639پر صرف دس ازواجِ مطہرات کو شامل کیا جبکہ تین ازواج مطہرات کا ذکر مناسب نہ سمجھا ۔
اس طرح اولاد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عنوان قائم کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف ایک صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا ذکر ملتا ہے ۔باقی سب (معاذ اللہ )جھوٹ ہے ۔مولوی مسعود نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک صاحبزادہ لکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کُنیت ابو القاسم کا مذاق اڑا یا
۔
عقیدہ :مولوی مسعود احمد نے اپنی کتاب خلاصہ تلاشِ حق کے صفحہ نمبر 197پر ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کم فہم سُو ءظن اور گناہ میں مبتلا لکھا ہے ۔
عقیدہ :مولوی مسعود احمد نے اپنی کتاب تاریخ الا سلام والمسلمین کے صفحہ نمبر 641پر صحابہ کرام علیہم الرضوان کو جھوٹا اور گنا ہگار لکھا ہے ۔
عقیدہ :مولوی مسعود احمد نے اپنی کتاب خلاصہ تلاش حق کے صفحہ نمبر 54پر حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے خلاف بات کی ہے کیونکہ رفع ید ین نہ کرنے والی حدیث انہی سے روایت ہے ۔
عقیدہ :مولوی مسعود احمد نے اپنی کتاب خلاصہ تلاشِ حق کے صفحہ نمبر 181/177پر لکھتا ہے کہ جو امام مقتدیوں کو اپنے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنے کا موقع نہ دے وہ بد عتی ہے ۔
آگے اپنی کتاب بد عت حسنہ کی شرعی حیثیت نامی کتاب کے صفحہ نمبر 9پر لکھتا ہے کہ بدعت کفر ہے سب سے بد تر کام تو کفر اور شرک کے کام ہیں لہٰذا بدعت کفر اور شرک سے کسی طرح کم نہیں ۔
عقیدہ :
مولوی مسعود احمد صلوٰۃ تراویح اور صلوٰۃ تہجد دونوں کو ایک ہی نماز قرار دیتے ہیں اسکا ذکر انہوں نے اپنی کتاب منہا ج المسلمین ص219،ص283اور تاریخِ الا سلام والمسلمین کے ص 115پر کیا ہے کہ قیام رمضان دراصل قیام اللیل یا تہجد ہی ہے قیام رمضان کو گھر میں پڑھنا افضل ہے ۔
(بحوالہ :منہاج المسلمین ص 283)
اس کے علاوہ بھی بہت سی بکواس اور کفریات فرقہ مسعود یہ کے ہیں جماعت المسلمین کے لوگ اب بھی ان کتابوں کو مانتے ہیں اور یہی عقیدہ رکھتے ہیں لیکن آپ کے سامنے میٹھے میٹھے بول بولیں گے تاکہ لوگ ان کے قریب آئیں اور یہ لوگوں کو گمراہ کر سکیں ۔
فرقہ مسعودیہ المعروف جماعت المسلمین کی ہر جھوٹی بڑی کتابوں میں پمفلٹ میں پوسٹروں میں یہ عبارت لکھی ہوئی ہوتی ہے
۔
جماعت المسلمین کی دعوت
ہمارا حاکم…….. ….صرف اللہ…….. ….غیراللہ نہیں
ہمارا امام ….صرف ایک ….یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ….امتّی نہیں
ہمارا دین ….صرف ایک……..یعنی اسلام ….فرقہ وارانہ نام نہیں
ہمارا نام …. ….صرف ایک…………یعنی مسلم ……..فرقہ وارانہ نہیں
ہماری محبت کی بنیاد ….صرف ایک ……..یعنی اللہ تعالیٰ ….دنیاوی تعلقات نہیں
ہمارے فخر کا سبب ……..صرف ایک ……..یعنی ایمان ……..وطن و زبان نہیں

اس خوبصورت دعوت کی آڑ میں سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کیا جاتا ہے کیا ہر مسلمان کا یہ ایمان عقیدہ نہیں سامنے یہ عقائد پیش کر تے ہیں اور اندر کتابوں میں کفریات کی بھر مار ہوتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس فرقے کے شر سے بچائے آمین

‌غیر مقلدین کا نجس عقیدہ

غیر مقلدین کا نجس عقیدہ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات مبارک کو طاہر و مطہر عالم اسلام کے جملہ علماء کرام مانتے ہیں ، لیکن غیر مقلدین وہابی کی نجاست بھری ذہنیت ملاحظہ ہو ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بول مبارک ناپاک اور نجس ہے۔

جس حدیث شریف میں آیا ہے کہ ایک صحابیہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بول مبارک پانی سمجھ کر نوش کرلیا جب اس کو پتہ چلا تو سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے پیٹ میں کبھی درد نہیں ہوگا ، اس حدیث کو صحیح حدیث تسلیم کرلینے کے باوجود امام الوہابیہ عبد اللہ روپڑی اپنے فتاوٰی میں لکھتا ہے :
اس روایت سے آپ کے پیشاب کا پاک ہونا ثابت نہیں ہوتا کیونکہ غلطی سے پیاگیا ہے رہا آپ کا یہ فرمان کہ تیرے پیٹ میں درد نہیں ہوگا۔ یہ علاج ہے بعض نجس چیز بھی علاج بن جاتی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے چونکہ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی وجہ سے ہوئی تھی اس لئے اس نجس چیز کو اس کے لیے شفا بنادیا۔
بہر حال اس فعل کو طہارت کی دلیل بنانا غلط ہے ۔
( فتاوٰی اہلحدیث مطبوعہ سرگودھا جلد اول صفحہ 251 مصنف عبد اللہ روپڑی )

موج پہ آگئے

جس ذات کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپاکوں کو پاک کیا جس کی گواہی قرآن مجید نے دی ویز کیھم اور وہ انہیں پاک ستھرا کرتے ہیں ۔ ( یہ وہابی موجی ہیں )‌ کہ ان کے بول و براز مبارک کو ناپاک اور نجس کہا لیکن موج میں آگئے تو کہہ دیا کہ گھوڑوں ، اونٹوں ، بیلوں ، بھینسوں ، بھیڑوں وغیرہ جانوروں کے پیشاب اور منی وغیرہ پاک بلکہ ان کے مذہب پلید کے مطالعہ کیا جائے تو سراپا پلید ہی پلید ہے ۔ اگر کسی کو اعتبار نہیں تو پڑھ لے ۔ ان کی غذاؤں کے چند نمونے ::::
جانوروں کی منی

کتے اور خنزیر کے سوا تمام جانوروں کی منی پاک ہے ۔ ( فقہ محمدیہ صفحہ 41 )

پاک منی کھانا جائز ::
(مرد اور عورت ) دونوں کی منی پاک ہے اور جب کہ منی پاک تو آیا اس کا کھانا بھی جائز ہے یا نہیں اس میں دو قول ہیں یعنی بعض منی کھانا جائز سمجھتے ہیں ۔ ( فقہ محمدیہ جلد 1 صفحہ 41 مصنف مولوی ابو الحسن )

آپ یہ باتیں دیکھ کر حیران نہ ہوں ، غیر مقلدین کی شریعت ہی انوکھی ہے ۔
بجو کھانا جائز ہے ۔ بجو صید است ( عرف الجادی صفحہ 235 )

انسانوں اور جانوروں سب کی منی پاک ہے ۔ منی ہر چند پاک است (عرف الجادی صفحہ 10 ۔ فقہ محمدی صفحہ 41 )
کچھوا حلال ہے ۔ ( فتاوٰی ثنائیہ جلد 2 صفحہ 133 )
گوہ حلال ہے ۔( فتاوٰی ستاری صفحہ 436 )
داڑھی والے مرد کے لیے عورت کا دودھ پینا جائز ہے ۔ ( روضۃ النبویہ صفحہ 236 )

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسی غلیظ غذاؤں کو حلال سمجھتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بول مبارک کو نجس کہتے ہوئے شرماتے بھی نہیں ہیں

وہابی اور حدیث

وہابی اور حدیث :

غیر مقلدوں کا اصلی نام وہابی ہے، لقب نجدی کیونکہ ان کا مورث اعلٰی محمد ابن عبدالوہاب ہے جو نجد کا رہنے والا تھا، اگر انہیں مورث اعلٰی کی طرف نسبت کیا جاوے تو وہابی کہا جاتا ہے اور اگر جائے پیدائش کی طرف نسبت دے جائے تو نجدی جیسے مرزا غلام احمد قادیانی کی امت کو مرزائی بھی کہتے ہیں اور قادیانی بھی پہلی نسبت مورث کی طرف ہے، دوسری نسبت جائے پیدائش کی طرف اسی جماعت کی پیشن گوئی خود حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کی تھی کہ نجد کے متعلق ارشاد فرمایا تھا۔
ھناک الزلازل والفتن ویخرج منھا قرن الشیطان۔
“ نجد میں زلزلے اور فتنے میں ہوں گے، اور وہاں سے ایک شیطانی فرقہ نکلے گا۔“
غرض کہ اس جماعت کا بانی محمد ابن عبد الوہاب نجدی ہے اور اس کا ہندوستان میں پرورش کرنے والا اسماعیل دہلوی ہے، اس فرقہ کے حالات ہماری کتاب جاءالحق حصہ اول میں ملاحظہ فرماؤ یہ لوگ عام مسلمانوں کو مشرک اور صرف اپنی جماعت کو موحد کہتے ہیں، مقلدوں کے جانی دشمن اور ائمہ اربعہ حضرت امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک، امما احمد بن حنبل رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین کی شان اقدس میں تبرے کرتے ہیں۔
یہ لوگ اپنے آپ کو اہل حدیث یا عامل بالحدیث کہتے ہیں، یہ لوگ پہلے تو اپنے کو فخریہ طور پر وہابی کہتے تھے، چنانچہ ان کی بہت کتب کے نام تحفہ وہابیہ وغیرہ ہیں، مگر اب وہابی کے نام سے چڑتے ہیں، ان کے عقائد و اعمال نہایت ہی گندے اسلام اور مسلمانوں کے دامن پر بدنما داغ ہیں، ہم یہاں اہل حدیث نام پر مختصر تبصرہ کرتے ہیں، تا کہ معلوم ہو کہ ان کا نام بھی درست نہیں، مسلمانوں سے امید انصاف ہے اور اللہ تعالٰی اور اس کے
محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے امید قبول ہے۔
خیال رہے کہ دنیا کا کوئی شخص اہل حدیث یا عامل بالحدیث ہو سکتا ہی نہیں، کسی کا اہل حدیث یا عامل الحدیث ہونا ایسا ہی ناممکن ہے، جیسے دو تقیضین یا دو ضدیں کا جمع ہونا غیر ممکن کیونکہ حدیث کے لغوی معنی ہیں بات، گفتگو یا کلام رب فرماتا ہے۔

فبای حدیث بعدہ یومنون۔
“ قرآن کے بعد کونسی بار پر ایمان لائیں گے۔“
اللہ نزل احسن الحدیث ۔
“ اللہ تعالٰی نے سب سے اچھا کلام نازل فرمایا۔“
ومن الناس من یشتری لھو الحدیث لیضل عن سبیل اللہ
“ بعض لوگ وہ ہیں، جو کھیل کی باتیں و ناول، قصے خریدتے ہیں، تاکہ اللہ کی راہ سے بہکا دیں۔“
اس
تیسری آیت میں ناول قصے کہانیوں کو حدیث فرمایا گیا۔
اصطلاح شریعت میں حدیث اس کلام و عبارت کا نام ہے، جس میں
حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اقوال یا اعمال اسی طرح صحابہ کرام کے اقوال و اعمال بیان کئے جاویں، اس عامل بالحدیث فرقے سے سوال ہے کہ تم کونسی حدیث پر عامل ہو، لغویپر یا اصطلاحی پر ہو اگر لغوی حدیث ہو تو چاہئے کہ ہر ناول گو قصہ خوان اہل حدیث ہو کہ وہ حدیث یعنی باتیں کرتا ہے ہر سچی جھوٹی بات پر عمل کرتا ہے، اگر اصطلاحی حدیث پر عامل ہو تو پھر سوال یہ ہو گا کہ ہر حدیث پر عامل ہو یا بعض پر دوسری بات غلط ہے کیونکہ حضور کے کسی نہ کسی فرمان پر ہر شخص ہی عامل ہے۔ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ سچ نجات دیتا ہے جھوٹ ہلاک کرتا ہے، ہر مشرک و کافر اس کا قائل ہے، وہ سب ہی اہل حدیث ہو گئے، تم حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی مسلمانوں کو اہل حدیث کیوں نہیں مانتے یہ تو ہزارہا حدیثوں پر عمل کرتے ہیں، اگر حدیث کے معنی ہیں حضور کی ساری حدیثوں پر عمل کرنے والے تو یہ نہ ممکن ہے کیونکہ حضور کی بعض حدیثیں منسوخ ہیں، بعض حدیثوں میں حضور کے وہ خصوصی اعمال شریف ہیں جو حضور کے لئے مباح یا فرض تھے، ہمارے لئے حرام ہے جیسے منبر پر نماز پڑھنا اونٹ پر طواف فرمایا، حضرت حسین سیدالشہداء خاتم آل عبار رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لئے سجدہ دراز فرمایا، حضرت امامہ بنت ابی العاص کو کندھے پر لے کر نماز پڑھنا، نو بیویاں نکاح میں رکھنا، بغیر مہر نکاح ہونا ازواج میں عدل و مہر واجب نہ ہونا۔ بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کلمہ یوں پڑھتے تھے،
لاالہ الا اللہ وانی رسول للہ۔ الخ
“ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔“
یہ حضرات اسی حدیث پر عمل کرکے اس طرح کلمہ کا ورد نہیں کر سکتے، غرضکہ حدیث میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ایسے اقوال و اعمال بھی ذکر ہیں جو حضور کے لئے کمال ہیں، ہمارے لئے کفر۔
اسی طرح
حضور علیہ السلام کے وہ افعال کریمہ جو نسیان یا اجتہادی خطاء سے سرزد ہوئے حدیث میں مذکور ہیں، عامل الحدیث صاحبان کو چاہیئے کہ ان پر بھی عمل کیا کریں۔ ہر حدیث پر جو عامل ہوئے بہرحال کوئی شخص ہر حدیث پر عمل نہیں کر سکتا، جو اس معنی سے اپنے کو اہل حدیث یا عامل بالحدیث کہے، وہ غلب کہتا ہے جب ہی نام جھوٹ ہے، تو اللہ کے فضل سے کام بھی سارے کھوٹے ہی ہوں گے، اسی لئے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین
“ لازم پکڑو میری اور خلفاءراشدین کی سنت کو۔“
یہ نہ فرمایا کہ میری حدیث کو لازم پکڑو، کیونکہ ہر حدیث لائق عمل نہیں ہر سنت لائق عمل ہے، حضور کے وہ اعمال طیبہ جو منسوخ بھی نہ ہوئے ہوں، حضور سے خاص بھی نہ ہوں خطاء انسیاناً بھی درزد نہ ہوں، بلکہ امت کے لئے لائق عمل ہوں، انہیں سنت کہا جاتا ہے، لٰہذا ہمارا نام اہل سنت بالکل حق و درست ہے، کہ ہم بفضلہ تعالٰی
حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ہر سنت پر عامل ہیں، مگر وہابیوں کا نام اہل حدیث بالکل غلط ہے کہ ہر حدیث پر عمل نا ممکن۔
اب حدیثوں کی یہ چھانٹ کہ کون سی حدیث منسوخ ہے کون حکم کون حدیث
حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خصائص میں سے ہے، کون سب کی اتباع کے لئے کون فعل شریف اقتداء کے لئے یے، کون نہیں کس فرمان کا کیا منشاء ہے، کس حدیث سے کہا مسئلہ صراحۃً ثابت ہے اور کون مسئلہ اشارۃً کون دلالۃً کون اقتضاء یہ سب کچھ امام مجتہد ہی بتا سکتے ہیں، ہم جیسے عوام وہاں تک نہیں پہنچ سکتے، جیسے قرآن عمل کرانا حدیث کا کام ہے، ایسے ہی حدیث پر عمل کرانا امام مجتہد کا کام یوں سمجھو کہ حدیث شریف رب تک پہنچنے کا راستہ ہے اور امام مجتہد اس راستہ کا نور جیسے بغیر روشنی راہ طے نہیں ہوتا، بغیر امام و مجتہد حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنا نا ممکن ہے، اسی لئے علماء فرماتے ہیں۔
القراٰن والحدیث یضلان الا بالمجتھد۔
“ بغیر مجتہد قرآن و حدیث گمراہی کا باعث ہیں۔“
رب تعالٰی قرآن کریم کے متعلق فرماتا ہے۔

یضل نہ کثیرا و یھدی نہ کثیرا ۔
“ اللہ تعالٰی قرآن کے ذریعے بہت کو ہدایت کرتا ہے اور بہت کو گمراہ کر دیتا ہے۔“
چکڑالوی اسی لئے گمراہ ہیں کہ وہ قرآن شریف بغیر حدیث کے نور کے سمجھنا چاہتے ہیں، براہ راست رب تک پہنچنا چاہتے ہیں، وہابی غیر مقلد اسی لئے راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں کہ یہ حدیث کو بغیر علم کی روشنی اور بغیر مجتہد کے نور کے سمجھنا چاہتے ہیں، مقلدین اہل سنت کا انشاءاللہ بیڑا پار ہے، کہ ان کے پاس کتاب اللہ بھی ہے سنت رسول اللہ بھی اور سراج امت امام مجتہد کا نور بھی۔

یوم ندعوا کل اۃ ناس باما مھم۔
“ اس دن ہم ہر شخص کو اس کے امام کیساتھ بلائیں گے۔“
خیال رکھو کہ قرآن و سنت کا سمندر ہم مقلد بھی عبور کرتے ہیں، اور غیر مقلد وہابی بھی، لیکن ہم تقلید کے جہاز کے ذریعہ جس کے ناخذ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں ان کی ذمہ داری پر سفر کر رہے ہیں، غیر مقلد وہابی خود اپنی ذمہ داری پر اس سمندر میں چھلانگ لگا رہے ہیں۔
انشاءاللہ مقلدوں کا بیڑا پار ہے، اور وہابیوں کا انجام غرقابی ہے۔
آخر میں ہم اہل حدیث حضرات سے پوچھتے ہیں کہ اسلام کی پہلی عبادت نماز ہے، براہ مہربانی آپ احادیث صحیحہ کی روشنی میں بتا دیں کہ فرض، واجب، سنت، مستحب، مکروہ تحریمی اور حرام میں کیا فرق ہے، اور نماز میں کتنے فرض ہیں، کتنے واجب، کتنی سنتیں، کتنے مستحبات، کتنے مکروہ تنزیہی، کتنے مکروہ تحریمی اور کتنے حرام، انشاءاللہ تاقیامت یہ تمام مسائل یہ حضرات حدیث سے نہیں بتا سکتے، حالانکہ دن رات ان مسائل سے واسطہ ہوتا ہے تو دوستو ضد کیوں کرتے ہو، تقلید اختیار کرو، جس میں دین و دنیا کی بھلائی ہے۔
خدا کا شکر ہے کہ یہ کتاب یکم رمضان سنہ 1376 ھ اپریل 1957ء روز و شبنہ کو شروع ہو کر 3ذی الحجہ سنہ 1376ء بروز شبنہ یعنی دو ماہ دو دن میں اختتام کو پہنچی۔ رب تعالٰی اپنے
حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے صدقے اسے قبول فرمائے، میرے لئے کفارہ سیات اور صدقہ جاریہ بنائے، مسلمانوں کے لئے اسے نافع بنائے جو کوئی اس کتاب سے فائدہ اٹھائے وہ مجھ بے کس گنہگار کے لئے حسن خاتمہ اور معافی سیات کی دعا کرے کہ اس ہی لالچ میں میں نے یہ محنت کی ہے۔
 

مکہ کےانہدام کا ناپاک منصوبہ

یہ مضمون یہاں سے لیا گیا ہے جبکہ اصل مضمون انگلش میں ہے جس کا لنک یہ ہے جو کہ ابھی کام کررہا ہے۔

 

تاریخی شہر مکہ اورحضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جائےپیدائش کےانہدام کا ناپاک منصوبہ
(ایک مخصوص گروہ کا سازشی منصوبہ جسےلندن
کےانگریزی اخبار ڈیلی انڈیپینڈینٹ نےبےنقاب کیا)

مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کو اسلامی تاریخ میں ایک اہم حیثیت حاصل ہےجب اسلام کی تاریخ رقم کی جائےگی تو کوئی بھی مؤرخ ان دوشہروں کےتذکرےکےبغیر اپنا مضمون مکمل نہیں کریگا۔ مکہ معظمہ جہاں کعبۃ اللہ (اللہ کا گھر ) ہےجبکہ مدینہ منورہ جہاں سرکاردوعالم حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا روضہ مبارک ہےاس لحاظ سےان دو شہروں کی نسبت لازم و ملزوم کی سی ہے۔ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی تاریخ اس قدر پرانی ہےجتنی کہ اسلام اور مسلمانوں کی۔ کعبۃ اللہ کی اولین تعمیر کا شرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حاصل ہوا بعد ازاں مختلف ادوار میں اسکی تعمیر نو ہوتی رہی اور آج کعبۃ اللہ کا منظر اور جغرافیائی نقشہ یکساں طورپر مختلف ہو چکا ہے۔ اس طرح مدینہ منورہ، مسجد نبوی اور حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےروضہ مبارک کی تعمیر نو سےاولین مسجد نبوی کا منظر بدل چکا ہےیہی نہیں بلکہ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کےگردونواح کا منظر بھی یکساں تبدیل ہو چکا ہے۔ مکہ و مدینہ کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ہر سال حجاج کرام کی تعداد میں اضافےکےباعث ان دو شہروں میں نئی عمارتوں کےپہاڑ کھڑےنظر آتےہیں۔بالخصوص گزشتہ 2 دہائیوں سےان دونوں شہروں میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ امریکی ادارے”واشنگٹن گلف انسٹی ٹیوٹ “ کی طرف سےجاری کردہ ایک رپورٹ کےمطابق1980 سےلیکر ابتک مکہ معظمہ کی 95% پرانی عمارتیں منہدم، تبدیل یا پھر ختم ہو کر رہ گئی ہیں۔

ان دونوں شہروں کےاردگرد عمارتوں کی تعمیر، حجاج کی رہائش گاہوں کیلئےبلندوبالا بلڈنگز کی تعمیر کا منصوبہ تیزی سےپھیل رہا ہےجس نےان شہروں کی تاریخی حیثیت اور تشخص کو قدرےدھندلا دیا ہے۔ رفتہ رفتہ مکہ اور مدینہ منورہ کا انفرادی تشخص ختم کرنیکی کوشش ایک سازش کےتحت جاری ہےجسےایک مخصوص طبقہ فکر کر رہا ہےمخصوص مسلک کےلوگ جو بظاہر سعودی عرب حکومت کا بھی اہم جزو ہیں ان تاریخی عمارتوں کی تعمیر نو کا ناپاک منصوبہ رکھتےہیں۔ اس حوالےسےگزشتہ دنوں 6 اگست کولندن سےشائع ہونیوالےانگریزی اخبار ڈیلی انڈیپینڈنٹ کےصفحہ اول پر چشم کشا حقائق شائع ہوئےہیں جن کےمطابق ” مکہ معظمہ کےاردگرد توسیع منصوبوں پر عمل شروع کرنےکےبعداب یہ مخصوص گروہ اور مسلکی طبقہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اصل جائےپیدائش کو بھی (معاذ اللہ ) ختم کرنا چاہتا ہےاور آج حضور علیہ السلام کی جنم بھومی کو انہدام کا سامنا ہے۔ اخبار کےمطابق نجانےکیوں سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور اپنےتاریخی ورثہ کو ضائع کرنےپر تلی ہوئی ہے، یہ بالکل اس طرح ہی ہےجیسے 2000ءمیں افغانستان میں طالبان کےشہر بامیان کو تباہ و برباد کر دیا گیا جسکی بعد ازاں (اوپیک) تیل پیدا کرنیوالےممالک کی خصوصی گرانٹ سےتعمیر نو کی گئی۔ ڈیلی انڈیپینڈنٹ کی اس Top Story کےمطابق یہ مخصوص گروہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کےانہدام کا خطرناک وناپاک منصوبہ بھی بنا چکا ہےجسےوہ باقاعدہ حکمت عملی اور منصوبہ بندی سےکام کررہا ہے۔

سعودی عرب میں اسلامی تعمیرات اور عمارتوں کا وسیع تجربہ رکھنےوالےماہر تعمیرات ڈاکٹر سمیع انگوی ہیں جنہوں نےاپنی زندگی کا طویل حصہ ان دونوں تاریخی شہروں (مکہ و مدینہ ) میں گزارا ہےکا کہنا ہےکہ آج بدقسمتی سےحضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےزمانےکا صرف 20 فیصد انفراسٹرکچر باقی ہےاور 14 سو سال پہلےقائم شدہ اسلامی تاریخ کا اثاثہ جات ختم ہو کر رہےگئےہیں۔ اب جو حصہ اور آثار قدیمہ باقی بچےہیں وہ اسلام کا ایک بہت بڑا اثاثہ وسرمایہ ہیں لیکن ایک خاص طبقہ فکر کےلوگ نہیں کسی بھی وقت ختم یا منہدم کر سکتےہیں۔ اگر ایسا ہوا تو پھر تاریخی شہر مکہ اور مدینہ کی تاریخ یہاں ختم ہو جائےگی جبکہ پھر اس تاریخی شہرکا کوئی مستقبل بھی باقی نہیں رہےگا۔گینز بک آف دی ورلڈ ریکارڈ کےمطابق مکہ و معظمہ عالم اسلام اور دنیا کی سب سےبڑی دیکھی جانیوالی جگہ (Visit Place ) ہےجہاں اسکےساتھ مدینہ منورہ اور تاریخی حیثیت کی حامل ” مسجد نبوی“ بھی ہےجبکہ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا روضہ مبارک سمیت یہ وہ جگہیں ہیں جہاں سالانہ 4ملین سےزائد لوگ زیارت کیلئےآتےہیں۔

ڈیلی انڈیپنڈنٹ سےاس مخصوص طبقہ کو ڈائریکٹ”WHABISM“ کی اصطلاح سےموسوم کیا ہے۔ اخبار کےمطابق اس تاریخی شہر کو ختم کرنےمیں اس طبقہ کا اہم کردار ہے۔ ان لوگوں نےعرصہ دراز سےخفیہ مہم اور پلان کےذریعےاسکےانہدام کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ بدقسمتی سےیہ منصوبہ آج اور بھی کامیاب دکھائی دیتا ہےکہ جب ان لوگوں کی سعودی عرب میں نہ صرف اکثریت بلکہ عنان حکومت بھی ان کےہاتھ ہےتاریخی اعتبار سےاس مخصوص فرقہ کےلوگوں نےنسلاً 1920 میں السعود کی زیر قیادت یہاں نموپائی اور اس کےبعد مختلف ادوار میں یہ یہاں اپنی خفیہ سرگرمیوں میں ملوث رہےہیں۔اس مخصوص فرقہ نےکعبۃ اللہ اور مدینہ منورہ کی تعمیر نو اور اب حضور علیہ اسلام کی جائےپیدائش کا بھیانک گمراہ کن اور ناپاک منصوبہ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کےتحت تیار کیا ہےجسکی ایک مثال یہ ہےکہ آج تک ان لوگوں نےمذہبی ہتھیار کو استعمال کرتےہوئےتاریحی شہر مکہ کو بت پرستی سےپاک کرنیکا نعرہ لگایا ہے۔ بت پرستی اور بتوں کی پوجا کرنا کسی بھی مسلمان کا شیوہ نہیں تو پھر سمجھ نہیں آتا کہ وہ کون لوگ ہیں جو ان کےنزدیک بت پرستی کر رہےہیں حالانکہ کعبۃ اللہ تو اسی دن ہی بتوں سےپاک ہو گیا تھا جس دن حضرت ابراہیم علیہ السلام نےاس گھر کےاندر تمام بتوں کو کلہاڑےکےساتھ پاش پاش کر دیا اور بعدازاں حضور علیہ السلام نےخود ان بتوں کو پاش پاش کرکےسب سےبڑےسردار کےکندھےپر کلہاڑا رکھ کر معاملہ ختم کر دیا تھا لیکن اس مخصوص طبقہ کےنزدیک شاید آج بھی بت پرستی جاری ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ مکہ میں مسلمان بستےہیں یا پھر کفار؟ کیونکہ اسلام میں ایک خدا کی عبادت کا حکم ہےنہ کہ بتوں کی پوجا کا جبکہ مشہور برطانوی مصنف جان رائٹ بریڈی اپنی نئی کتاب ” سعودی عریبیہ ایکسپوزر“ میں لکھتےہیں کہ بتوں کی پوجا آج صرف کفار کےہاں بچی ہےجو آج بھی اس اصول کےکاربند ہیں لیکن آج سعودی عرب میں ایک شدت پسند گروہ اور مذہبی رجحت پسندوں کی حکومت ہےجو اپنےمخصوص مقاصد کی بھر پور تشہیر کر کےکعبۃ اللہ کو بتوں سےپاک کرنےکا نعرہ لگا رہےہیں اور اس کیلئےوہ تشہیر بھی کر رہےہیں اخبار لکھتا ہےکہ ” آج بھی جدہ شہر کی دیواریں اور چوراہےایسےپوسٹرز اور اشتہاروں سےبھرےہوئےہیں جن میں وہ اپنےمذہبی عقائد کی تشہیر کر رہےہیں۔

ڈاکٹر انگوی کےمطابق اس طرح کےمتنازعہ عقائد اور مسائل کی جڑ ”وہابی از م “ ہےجو بتوںکی پوجا کا بہت بڑا تصور رکھتےہیں۔ یہاں کےسرکاری مطوعّوںکےمطابق جنت البقیع میں قبروں کی پرستش بتوں کی طرح کی جاتی ہے۔جنت البقیع میں روزانہ عصر کی نماز کےبعد اجتماع منعقد ہوتا ہےجس میں یہ سرکاری تنخواہ دار مطوعّےایسےعقائد کا پرچار و اظہار کرتےہیں جبکہ انکا تصوربت پرستی اس حد تک الجھاؤ کا شکار ہو گیا ہےکہ مدینہ پاک میں حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےروضہ مبارک کی طرف ہاتھ اٹھاکر دعا بھی نہیں کی جا سکتی۔ان کےنزدیک یہ شرک ہے(نعوذ باللہ ) جنت البقیع میں واقع وسیع و عریض قبرستان کےبارےان لوگوں کا مؤقف یہ ہےکہ یہاں ہزاروں صحابہ کی قبریں ہیں اور وہ یہ نہیں جانتےکہ کون کون سی قبر کس صحابی کی ہےلہذا اس طرح بغیر علم کےچند صحابہ کےنام قبریں موسوم کرنا غلط ہےبلکہ ان لوگوں کو تمام مزارعات کا علم ہےلیکن یہ جان بوجھ کےنہیں بتاتےاور اگر کوئی دعا مانگنا شروع کر دےتو یہ لوگ اسےبت پرستی قرار دیتےہیں اور اس کو فوری منع کرتےہیں۔

جان بریڈی کا کہنا ہےکہ ” سعودی عرب میں آج کل مذہبی شدت پسند بلکہ مذہبی رجحت پسندوں کی حکومت ہےجو صرف اقتدار کےبل بوتےپر اپنےمقاصد کی بھر پور تشہیر کر رہےہیں جبکہ یہ لوگ ایک سوچی سمجھی سازش کےتحت ایکبار پھر شرک کا معاملہ دوبارہ اٹھا رہےہیں جیسےخدانخواستہ یہاں مشرکوں کی آبادی ہے” نعوذ باللہ“جبکہ ڈاکٹر انگوی کا کہنا ہےکہ یہ گروہ بتوں کی پوجا کا غلط تصور قائم کر کےاسمیں حضورعلیہ اسلام کی ذات کو گھسیڑتےہیں جبکہ آج یہ طبقہ شہر مکہ میں حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جائےپیدائش پر مکمل طور پر قابض ہو چکا ہے۔ڈیلی انڈیپنڈنٹ کےمطابق حضورعلیہ السلام کی جائےپیدائش کےانہدام کا منصوبہ آج سے50 سال قبل 1955ءمیں اسوقت باقاعدہ طور پر شروع ہو چکا تھا جب کنگ عبدالعزیز نےیہاں ایک لائبریری بنوائی۔ اب انہوں نےایک سوچی سمجھی سازش اور منصوبےکےتحت اس لائبریری کی توسیع کا فیصلہ کیا ہےتاکہ اسےUpdate کیا جا سکےاور اس کام کی تکمیل کےلئےیہ لوگ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جائےپیدائش کو لائبریری میں شامل کرنےکا منصوبہ بنا چکےہیں۔

ڈاکٹر انگوی نےیہ بھی انکشاف کیا ہےکہ ” یہ لوگ اپنےمنصوبےمیں عملی طورپر اس قدر کامیاب ہو چکےہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جائےپیدائش کو ایک رات میں بلڈوزروں کےساتھ منہدم کرنیکا ارادہ رکھتےہیں جبکہ ان کےاس منصوبہ کےساتھ بحیرہ عرب کی جنوبی سمت اور جدہ کےمقابل اس جگہ پر ریسرچ سنٹر کی تعمیر کا پلان بھی شامل ہےجسے2دہائیاں قبل بنایا گیا۔

” گلف انسٹی ٹیوٹ“ اور ”انڈیپنڈینٹ نیوز گریڈنگ گروپ“ کی طرف سےجاری کردہ رپورٹ کےمطابق ”سعودی حکومت کی علماءکونسل نے1994 ءمیں ایک فتویٰ جاری کیا تھا جس میں صرف ان منصوبوں کی کامیاب تکمیل کیلئےان تاریخی عمارتوں اور جگہوں کو بتوں سےپاک کر نےکا نعرہ لگایا گیا جبکہ ”سعودی انسٹی ٹیوٹ“ کےHead آف ڈیپارٹمنٹ علی الاحمد کا کہنا ہےکہ حجاز مقدس کی سرزمین وہ جگہ ہےجہاں ہر سال ہونیوالےاجتماع کی مثال تاریخ میں میں کہیں نہیں ملتی لیکن مسلمانوں کا تاریخی ثقافتی ورثہ آج ختم کیا جا رہا ہے“ ان کےمطابق شاید سعودی حکومت آپ اپنےہاتھوں تہذیبی خود کشی کرنا چاہتی ہی؟ رپورٹ کےمطابق مکہ معظمہ میں اکثر عمارتیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےپوتےعلی اوریدکےگھر کی طرح خستہ ہال ہیں ان عمارتوں کی دریافت کےبعد کنگ فہد بن عبدالعزیز نےانکےانہدام کا حکمنامہ جاری کر دیا تھا۔علی الاحمد کا کہنا ہےکہ اس حکمنامہ کے2گھنٹوں بعد ہی یہاں ہر چیز نیست و نابود کر دی گئی جیسےیہاں کوئی بلڈنگ تھی ہی نہیں۔

لبنانی پروفیسر کنال صلبی کےخیالات بھی علی الاحمد سےملتےہیں۔کنگ فہد کےاس حکمنامہ کےبعد Jewishگؤں میں بھی انہدام کا ایک ایسا واقعہ ہو چکا ہےجس کا ری کیپ اب دوسری جگہوں پر دیکھنےکو ملےگا۔ڈاکٹر انگوی کا یہ تجزیہ اور اندازےانکی حد تک بہت خفیہ تھےاور ان کےمطابق اس مقدس شہر (مکۃ المکرمہ) میں بہت سی جگہیں ایسی ہیں جنکا نقشہ حضرات ابراہیم علیہ السلام کی تاریخ و زمانےمیں ملتا ہے۔1744ءمیں وہابیوں کےنمائندہ رہنما محمد بن عبدالوہاب نےمحمد بن سعود کےساتھ ایک معاہدہ سائن کیا تھا جس میں محمد بن سعود نےانہیں اس بات کا پابند کیا کہ وہ مذہبی اصلاحات کا عمل شروع کریں جس کےبعد یہاں ایک جدید ریاست کی بنیاد پڑ گئی۔ پھر اس خطےمیں کچھ اس طرح کےمعروضی حقائق پیدا ہوئےہیں کہ حکومت اور دولت کا ارتکاز و ذمہ داری وہابیوں کےپاس آگئی جہاں سےان لوگوں کےپاس خطےاور اس ملک میں وہابی ازم کو فروغ دینےکیلئےقوت نافذہ آئی اور پھر ان لوگوں نےدنیا بھر میں اپنےنظریات کا پرچار کیا۔

ڈاکٹر انگوی مزیدکہتےہیں کہ جس آدمی نےمکہ کی تاریخ رقم کی آج وہ اس دنیا میں نہیں لیکن اسکی عدم موجودگی میں اللہ تعالیٰ اس گھر کی حفاظت کئےہوئےہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ ” آج حج بیت اللہ کیلئےدنیا بھر سےآئےہوئےلاکھوں فرزندان اسلام سعودی حکومت کیلئےمسئلہ بن گئےہیں اورآئندہ برس 20 ملین سےزاید مسلمان حج بیت اللہ کیلئےآئیں گے۔ اس صورتحال کےپیش نظربہت سی اسٹیٹ ایجنسیاں حجاز کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھتےہوئےسعودی حکام سےنئی رہائش گاہوں کی تعمیر کیلئےمسلسل رابطہ میں ہیں اس سلسلےمیں بنیادی سہولیات اور انفراسٹرکچر حوصلہ افزاءنہیں ہےایک بڑی سعودی اسٹیٹ ایجنسی کےڈائریکٹر کےمطابق نئےہوٹلز ، ایپارٹمنٹ اور دیگر سروسز بہت بری ہیں ۔ان سہولیات کی بہترین فراہمی کیلئےایک بہت بڑی رقم درکا ہےجس سےمکہ کےگردو نواح میں یہ تمام سہولیات بہتر کی جائینگی۔ علی الاحمد کا کہنا ہےکہ اگر وہ اس نئےاصلاحاتی پیکج کو فوراً قابل عمل بنائےتو پھر مکہ اور جدہ جبکہ مکہ اور مدینہ کےدرمیان ایک وسیع ریلوےلائن بھی تعمیر کی جائیگی۔اسطرح کعبۃ اللہ کےبالکل سامنے” باب عبدالعزیز“ کےبالمقابل 65 اور 80 منزلہ بلڈنگز کی تعمیر کا منصوبہ شروع ہےجسکا ٹھیکہ بن لادن کمپنی کےپاس ہے۔ یہ عمارتیں حرم کعبہ سےاس قدر بلند و بالا ہیں انکی تعمیر کےبعد کعبہ کی انفرادیت ختم ہو کر رہ جائےگی جبکہ کعبۃ اللہ ان عمارتوں کےاندرگھر کر رہ جائےگا۔جسےبعد ازاں گرا کر تعمیر نو کرنیکا ناپاک منصوبہ شامل ہے۔ دوسری طرف جبل عمرمیں توسیعی منصوبےکےمطابق مستقبل میں وہاں 50 منزلہ ہوٹلز کی تعمیر جبکہ سات 35 منزلہ اپارٹمنٹ بلاکس کی تعمیر کا نقشہ بھی شامل ہےاور یہ تمام بڑےعمدہ پتھروں سےتعمیر کئےجائیں گےجو کہ بڑی مسجد کا حصہ ہیں۔

ڈاکٹر انگوی کا کہنا ہےکہ آجکل یروشلم کی تعمیر و ترقی کی بھی تجاویز زیرغور ہیں تاہم طالبان کی تحریک کو بامیان میں کشیدگی کی وجہ سےUN کا ادارہ ”یونیسف“ اسکی مذمت کرچکاہےاگر مکہ کو بھی اس طرح گرایا گیا یا اسکی تبدیلی کا خاکہ عملی طور پر شروع کیا گیا تو پھر عالم اسلام سےایک ناقابل برداشت رد عمل اور احتجاج سامنےآئےگا۔ انہوں نےیہ بات زوردیکر کہی کہ آج وہ جگہ جہاں حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کی وحی اترتی تھی یعنی غارحرا بھی محفوظ نہیں ہے۔اب اگر اس خاص مکتبہ فکر کےلوگوں کی سازش کےمطابق حضور علیہ اسلام کی اصل جائےپیدائش کو گرانا اور تعمیر نو کےنام پر یہ نودارات ختم کرنا ان کےگھنؤ