مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی شیخ کے کچھ ذاتی حالات

مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی شیخ کے
کچھ ذاتی حالات
گناہ قاسم برگشتہ بخت بد اطوار
    بانی مدرسہ دیوبند مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی شیخ کی ولادت سوانح قاسمی کے مطابق ١٢٤٨؁ ہجری کے کسی مہینہ میں ہوئی ( سوانح قاسمی جلد اوّل ص ١٤٦)۔
    آپ کے والدین نے آپ کا نام خورشید حسین رکھا تھا مگر آپ نے محمد قاسم رکھ لیا سوانح قاسمی جلد اوّل ص ٢٤ پر لکھا ہے کہ آپ کا تاریخی نام خورشید حسین تھا۔ بانی ئ مدرسہ دیوبند کے والد کا نام اسد علی ۔ دادا کا نام غلام شاہ تھا یہ دونوں نام مصنف دھماکہ کے مطابق شیعہ طرز پر ہیں ۔ اور پر دادا کا نام بریلوی طرف پر یعنی محمد بخش تھا ۔ ان کے ایک بھائی خواجہ بخش تھے( سوانح قاسمی ص ١١٣، ١١٥)
    آپ کے آباو اجداد شاہجہانی عہد میں جاگیر پا کر نا نوتہ آباد ہوئے تھے ( ص ١١٣) مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی جوڑ توڑ کا کھیل کھیلتے تھے ( سوانح قاسمی ص ١٦٠ ج١)
    یہی وجہ ہے کہ وہ اور ان کے معتقدین جوڑ توڑ کے فن میں ماہر ہیں اور تحریف و خیانت میں خصوصی عبور اور ملکہ تام حاصل ہے ۔ آپ کے خداندان کے اکثر لوگ شیعہ ہو گئے تھے ۔ ( سوانح قاسمی جلد اوّل ص ١٧١)
    آپ خود بھی اکثر شیعوں کے جلسہ میں آتے جاتے تھے ( ارواحِ ثلاثہ ص ٣١٣)
    مولوی محمد قاسم صاحب کو اکثر گستاخانہ خواب نظر آتے تھے جیسا کہ وہ خود فرماتے ہیں ۔”میں نے یہ خواب دیکھا تھا کہ گویا میں اللہ جل شانہ، کی گود میں بیٹھا ہوا ہوں ( سوانح قاسمی جلد اوّل ص ١٣٢)۔
    کتاب ارواحِ ثلاثہ میںیہ روایت بھی پائی جاتی ہے ۔ ”مولانا ( محمدقاسم ) نے ایک خواب ایامِ طالب علمی میں دیکھا تھا کہ میں ( معاذ اللہ ) خانہ کعبہ کی چھت کھڑاہوں اور مجھ سے ہزاروں نہریں جاری ہو رہی ہیں۔(ص ٢٠٤ و سوانح قاسمی جلد اوّل ص ١٣٣)
    مولانا نانوتوی نے خواب میں دیکھا تھا کہ خانہ کعبہ کی چھت پر کسی اونچی شَے پر بیٹھاہوں ( معاذ اللہ ) سوانح قاسمی ص ١٣٤ بحوالہ ارواح ثلاثہ ص ١٦٩)
    مولوی محمد قاسم نانوتوی صاحب کا انگریزی مدرسہ دہلی سے بھی تعلق رہا ( تذکرہ علمائے ہند فارسی ص ٢١٠ نولکشور پر یس لکھنؤ ١٩١٤ئ؁)
    یہی وجہ ہے کہ آپ نے آخر دم تک انگریز کا حق نمک ادا کیا اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی اہم خدمات سرانجام دیں ۔ آپ کے ایک ہمعصر وہم عقیدہ مولوی محمد یعقوب صاحب نانوتوی بھی ( انگریزی ) سرکاری ملازمت پر تھے بعد میں سبکدوش ہوئے ( تذکرہ مولانا محمد احسن نانوتوی ص ١٩٢)
    مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی کچھ زیادہ ذہین نہ تھے ۔ انہوں نے مطبع مجتبائی میرٹھ میں ملازمت اختیار کرلی اور چھاپہ خانہ میں ملازم ہو گئے ( کتاب مولانا محمد احسن صاحب نانوتوی ص ٢١٣)۔
    مولوی رحمان علی صاحب مصنف تذکرہ علماء ہند آپ کے دہلی کے انگریزی مدرسہ سے تعلق کے بارے میں لکھتے ہیں:
    ”بعد از فراغ علوم چندے بمدرسہ انگریزی واقع دہلی گرفتہ ”۔
    آپ کا سوانح نگار مناظر احسن گیلانی لکھتا ہے ۔ بقول مولانا طیب ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضرت والا کو گویا عورتوں سے بہت نفرت تھی ( سوانح قاسمی جلد اوّل ص ٥٢٣)۔
    لیکن اس کے برعکس آپ بچوں سے بہت ہنسی مذاق فرمایا کرتے تھے اور ان کے کمر بند کھول دیا کرتے تھے ( سوانح قاسمی ص ٤٦٦ جلد اوّل)
    یہ مرض آپ کی صحبت کے اثر سے آپ کے تلامذہ تک پھیلا ہوا تھا ۔ چنانچہ آپکے ایک خصوصی تلمیذ کا واقعہ ارواحِ ثلاثہ کے الفاظ میں ملاحظہ ہو حکایت نمبر ٢٥١ حضرت والد صاحب مرحوم نے فرمایا کہ مولانا منصور علی خاں صاحب مرحوم مراد آبادی حضرت (قاسم ) نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ کے تلامذہ میں سے تھے۔ انہوں نے اپنا واقعہ مجھ سے نقل فرمایا کہ مجھے ایک لڑ کے سے عشق ہو گیا اور اس کی محبت نے طبیعت پر اس قدر غلبہ پایا کہ رات دن اسی کے تصور میں گذرنے لگے ( ارواح ثلاثہ ص ٢٩٢)
    مولوی محمد قاسم صاحب واعظ و تبلیغ کرنے والوںکو بے حیا کہا کرتے تھے ۔ وہ خود اپنے متعلق لکھتے ہیں کہ میں ( قاسم نانوتوی ) بے حیا ہوں وعظ کہہ لیتا ہوں ۔ ( سوانح قاسمی جلد اوّل ص ٣٩٩) ۔ وہ غلط مسئلے بتا دیا کرتے تھے اور پھر صحیح مسئلہ معلوم ہوتا تو لوگوں کے گھر جا کر اطلاع دیا کرتے تھے ۔ چنانچہ آپ کا سوانح نگار لکھتا ہے کہ وہ ایک شخص کے گھر گئے اور کہنے لگے :
    ”ہم نے اس وقت مسئلہ غلط بتا دیا تھا ۔ تمہارے آنے کے بعد ایک شخص نے صحیح مسئلہ ہم کو بتایا اور وہ اس طرح ہے ۔” ( سوانح قاسمی جلد اوّل ص ٣٨٨)
    لیکن افسوس کہ آپ نے تحذیر الناس میں خاتم النبییّن کے جو جدید معنی گھڑے اور مرزاقادیانی کی جو غیر مشروط تائید و حمایت کی اس سے آپ نے بار بار توجہ دلانے کے باوجود توبہ نہ کی اور نہ غلط مسئلہ سے رجوع کیا ۔ حالانکہ آپ نے ایک ہم عصر و ہم عقیدہ مولانا محمد احسن صاحب نانوتوی نے بھی تحذیر الناس کی اس عبارت سے غیر مشروط تو بہ کرلی تھی۔
    ملاحظہ ہو ”مولانا محمد احسن ( نانوتوی ) نے آخر میں ( اعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ کے والد بزرگوار) مولوی نقی علی خاں کے ایک ساتھی رحمت حسین کو یہ لکھا۔”جناب مخدوم و مکرم بندہ دام مجد ہم پس از سلام مسنون ۔ التماس یہ ہے کہ واقع میں جواب مرسلہ مولوی نقی علی خاں صاحب میری تحریر کے مطابق ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھ کو اس تحریر پر اصرار نہیں جس وقت علماء کے اقوال ہا مستندہ سے آئیں غلطی ثابت ہو گی میں فوراً اس کو مان لوں گا۔ مگر مولوی ( نقی علی خان ) صاحب نے براہِ مسافر نوازی کوئی غلطی تو ثابت نہ کی اور نہ مجھ کو اس کی اطلاع دی بلکہ اوّل ہی کفر کا حکم شائع فرمایا اور تمام بریلی میں لوگ اس طرح کہتے پھرے خیر میں نے خدا کے حوالے کیا ۔ اگر اس تحریر سے میں عند اللہ کا فر ہوں تو توبہ کرتا ہوں خدا تعالیٰ قبول کرے ۔ زیادہ نیاز ۔ عاصی محمد احسن عفی عنہ،
(کتاب مولانا محمد احسن نانوتوی ص ٨٨)                
    اسی کتاب مولانا محمد احسن نانوتوی کے صفحہ ٩١پر ہے کہ اثر ابن عباس کی بحث اور مناظرہ احمد یہ اور تحذیر الناس کے جواب میں کئی رسالے لکھے گئے۔ ہمارے مطالعہ و علم میں مندرجہ ذیل رسالے آئے ہیں : –
١۔    تحقیقات محمدیہ حل اوہام نجد ١٢٨٩ھ؁ ، ١٨٧٢ئ؁ از مولوی فضل مجید بدایونی ۔ المتوفی ١٣٢٤ھ؁ ١٩٠٦ئ؁ ( تلمیذ مولانا عبد القادر بدایونی)
٢۔     الکلام الاحسن ۔ مولانا محمد احسن نانوتوی کے رد میں مولوی ہدایت علی بریلوی کا رسالہ ہے ۔
٣۔    تنبیہ الجہال بالہام الباسط المتعال ١٢٩١ھ؁ ١٨٧٤ئ؁ مولانا مفتی حافظ بخش بدایونی اس رسالہ میں مناظرہ احمدیہ اور تحذیر الناس کا رد کیا گیا ہے ۔ مولوی نقی علی خاں کی حمایت کی گئی ہے ۔
٤۔    قول الفصیح ۔ مولوی فصیح الدین بدایونی۔
٥۔    افاداتِ صمدیہ۔
٦۔    رد رسالہ قانونِ شریعت۔
٧۔    ابطال اغلاط قاسمیہ ۔ از مولوی عبد اللہ امام جامع مسجد بمبئی۔
٨۔    فتاوایئ بے نظیر ۔
٩۔    کشف الالتباس فی اثرابن عباس۔
١٠۔    اس فی موازنتہ اثر ابن عباس وغیرہ ( مولانا محمد احسن نانوتوی صفحہ٩١تا ٩٤)
    بلکہ خود سوانح قاسمی میں ہے ”اُسی زمانہ میں ”تحذیر الناس” نامی رسالہ کے بعض دُعاوی کی وجہ سے بعض مولویوں کی طرف سے خود سیدنا امام الکبیر ( مولوی محمد قاسم نانوتوی ) پر طعن و تشنیع کا سلسلہ جاری تھا ”۔ ( ص ٣٧٠ ، ج ١)
    متذکرہ بالا حوالہ جات سے واضح ہوا کہ تحذیر الناس کی کفریہ عبارت پر صرف سیدنا اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ، ہی نے مواخذہ نہ فرمایا بلکہ آپ سے پہلے بھی علماء اس کا رد بلیغ فرما چکے تھے لیکن نانوتوی صاحب کے مقدر میں تو بہ نہ تھی ۔ مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی ”فرض و واجب تو نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تقریباً تواتر کے رنگ میں لوگوں سے یہ یہ روائتیں نقل کی جاتی ہیں کہ دوسروں کے خیال سے آپ نفلی نمازوں کو بھی ترک فرما دیا کرتے تھے ”۔ (سوانح قاسمی جلد اوّل ص ٣٦٥)
    ”بعض اوقات ناجائز یا مشتبہ آمدنی رکھنے والوں کی دعوتوں میں شریک ہونے پر آپ کو مجبور ہونا پڑتا تھا ۔ شریک بھی ہوتے تھے اور دعوت کرنے والے کی تسلی کےلئے کچھ تناول بھی فرمالیتے تھے لیکن گھر پہنچ کر خان صاحب کی شہادت ہے کہ قے کرتے تھے”۔
( سوانح قاسمی جلد اوّل ص ٣٦٥)
    مولوی قاسم صاحب اپنے مہمانوں کا خاص خیال رکھتے تھے اور حقہ پینے والوں کو پہچان لیتے تھے ۔ ان کو حقہ خود بھر کر پلاتے تھے ۔
( سوانح قاسمی جلد اوّل ص٤٦٨)
    آپ شیرینی پر ختم کے بھی قائل تھے ۔ چنانچہ لکھا ہے ۔ ”رمضان کا چاند دیکھ کر مولوی صاحب نے قرآن شریف یا د کیا تھا ۔ اوّل وہاں سنایا اور جہاز میں کیا سیر تھا بعد عید مکلہ پہنچ کر حلوائے مسقط خرید فرما کر شیرینی ختم دوستوں کو تقسیم فرمائی ( سوانح قاسمی جلد اوّل ص ٣٨)
    آپ کا حلیہ آپ کے سوانح نگار نے یوں لکھاہے ”۔ قدرے داغ چیچک نمودار تھے”۔ ( مذہب منصور ص ١٩٥) ”میانہ قد، نہ موٹے اور نہ بالکل لاغر تھے”۔
    حکیم مولوی منصور علی خاں فرماتے ہیں کہ آپ کا رنگ سانولا تھاواللہ اعلم اپنے ان الفاظ سے ان کی کیا مراد ہے ”۔ (سوانح قاسمی جلد اوّل ص ١٥٤)
    مولوی صاحب کو اپنی دست بوسی اور قدم بوسی کروانے کا بھی بہت شوق تھا ۔ ان کا سوانح نگار لکھتا ہے ۔”ان کی دست بوسی اور قدم بوسی کے واسطے ہاتھ اور پیر کی نزاکت اور خوبصورتی کافی تھی ۔ وہ کچھ ایسے موزوں اور دلکش تھے کہ بے اختیار بوسہ دینے کو جی چاہتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان کی سی نزاکت اور دلبری کسی معشوق میں بھی نہ دیکھی”۔ (سوانح قاسمی جلد اوّل ص ١٥٥)
    آپ کا سوانح نگار لکھتا ہے ۔”جب آپ بیمارہوئے غفلت کی شدت لمحہ لمحہ سے بڑھتی ہی چلی جاتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب ظہر کا وقت آگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پکارنے والے پکار رہے ہیں ۔ یاد دلا رہے ہیں یاد دلا رہے ہیں کہ (حضرت ) ظہر کی نماز کا وقت ہے۔ مصنف امام موجود تھے لکھتے ہیں کہ نماز کےلئے کہا تو سوائے اچھا کے اور کچھ نہ کر سکے نہ تیمم کی طرف توجہ ہوئی نہ نما زکی طرف ”۔ (سوانح قاسمی جلد دوم ص ١١٨)
    سوانح نگار لکھتا ہے جب آپ کے مرنے کا وقت قریب آیا تو سرورِ کائنات خاتم المرسلین رحمتہ اللعلمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم خلفاء اربعہ راشدین تشریف لائے اور فرشتے بھی نظر آئے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کرسی پر تشریف فرما تھے۔ خلفاء اربعہ راشدین کھڑے تھے ۔ سامنے ایک پلنگ پر دیکھا مولانا ( نانوتوی) آئے ( معا ذ اللہ ) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم آپ کی پیشانی کو بوسہ دیتے ہوئے فرمارہے ہیں ”اَے حبیب آنے میں کیا دیر ہے ”۔ (سوانح قاسمی جلد دوم ص ١٢٠)
    خواب میں انہوں نے دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو محسوس ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا جسم مبارک مولانا ( نانوتوی ) کے جسم مبارک میں سمانا شروع ہوا۔ یہاں تک کہ ہر عضو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ہر عضو مولانا میں سما گیا الاسر مبارک ۔
( سوانح قاسمی جلد دوم ص ١٢٩)
    مولوی محمد قاسم صاحب کے سوانح نگاروں نے لکھا ہے ۔ جب مولوی صاحب کی موت کا وقت قریب آیا تو آپ نے مولوی محمود الحسن صاحب سے کہا مجھے کہیں سے ککڑی لا کر کھلاؤ۔ ( ارواحِ ثلاثہ ص ٢٧١)
    چنانچہ آپ ککڑی کھاتے کھاتے دنیا سے رخصت ہوئے جبکہ حقیقی بزرگانِ دین اولیائے کا ملین دعلمائے عاملین کی زبان پر وقت آخر کلمہ طیبہ ۔ اللہ ہو کا ذکر ہوتا ہے ۔
    دیوبندیوں کا کہنا ہے ۔ مولوی محمد قاسم صاحب کی وفات ، وفات سرورِ عالم کا نمونہ تھی اور اس مصرعہ سے آپ کی تاریخ وفات نکالی گئی ع وفات سرورِ عالم کا یہ نمونہ ہے ١٢٩٧ھ (سوانح قاسمی جلد دوم ص ١٣٧)
    ٤جمادی الاوّل ١٢٩٧ھ؁ بروز پنجشنبہ مولانا محمد قاسم نانوتوی کا وصال ہوا۔ (کتاب مولانا محمد احسن نانوتوی ص ٢٢٣)
    مصنف سوانح قاسمی لکھتاہے ایک قیامت برپا ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مولوی صاحب کے انتقال کا سا غم و الم کبھی نہ دیکھا تھا ایک ماتم عام تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گھر میں وسعت نہ تھی۔ مدرسہ (دیوبند ) میں لا کر جنازے کو رکھا( سوانح قاسمی جلد ٢ ص ١٣٩)۔
    سینکڑوں آدمی جنازہ کو اٹھانا چاہتے تھے ۔ چار پائی چِر چِر کرنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت آدمی جنازہ میں کمبل پوش فقراء موجود تھے۔ مصنف امام کا بیان ہے کہ مغرب سے پہلے نماز ہوئی ( سوانح قاسمی جلد دوم ص ١٤١)
    لکھا ہے ایک عبرت انگیز مشاہدہ یہ بھی تھا کہ کمبل پوش فقراء جواچانک خدا جانے کہاں سمٹ آئے تھے نماز اور دفن کے وقت تو دیکھے گئے لیکن لکھتے ہیں کہ بعد دفن سب غائب ہو گئے ۔ دفن کے بعد ہی یہ غائب ہو جانے والے رجال کون تھے ؟ کہاں سے آئے تھے کہاں چلے گئے؟ اس کا جواب کیا دیا جاسکتا ہے ۔ ( سوانح قاسمی ص ١٤٣ ج ٢)
    سوانح قاسمی جلد ٢ صفحہ ١٤٨ و ١٤٩ کے درمیان ایک فوٹو لگا ہوا ہے ۔ جس میں ایک اونچی قبر کے سرہانے ایک بہت بڑا پتھر لگا ہوا ہے۔ لکھا ہے ایک دفعہ نہیں ، متعدد مواقع پر مشاہدہ کرنے والوں نے وفات کے بعد دیکھاکہ ”مولانا (قاسم ) نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ جسدِ عنصری کے ساتھ میرے پاس تشریف لائے تھے ”۔ ( سوانح قاسمی جلد دوم ص ١٥٠ و ارواحِ ثلاثہ ص ١٨٥)
    بانی ئ مدرسہ دیوبند مولوی محمد قسم صاحب نانوتوی کی یہ مختصر سوانح عمری ہم نے اُن کے سوانح نگاروں کے مستند حوالوں سے بیان کی ہے ۔ قارئین کرام کو اس سے دیوبندی وہابی عقائد کی حقیقت کا پتہ چلے گا ۔ جو امور حضرات اولیاء اللہ قدست اسرارہم کےلئے کفر وشرک و بدعت اور ناممکن سمجھے جاتے ہیں ۔ وہ سب کمالات بانی ئ مدرسہ دیو بند میں موجود بتائے جاتے ہیں ۔ مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی نے تحذیر الناس نامی ایک کتاب لکھ کر مسلمانانِ ہند میں فتنہ کی بنیاد ڈالی۔
    اس کتاب سے مرزائیوں ، قادیانیوں اور دیگر جدید نبوت کے بانیوں کو بہت فائدہ پہنچا ۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کذاب نے اپنے نام نہاد دعویئ نبوت کی بنیاد تحذیر الناس پر رکھی ۔ ( ملاحظہ ہوں قادیانی کتب)
    مولوی محمد قاسم صاحب نے ختم نبوت کے وہ معنی بتائے جو آج تک مسلمانوں میں رائج نہ تھے اور تمام علماء و فقہاء متقدمین و متاخرین کی تصریحات اور خود سرکارِ رسالت علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرمان لا نبی بعدیکے سرا سر منافی تھے ۔ خود بانی ئ مدرسہ دیوبند کی سوانح قاسمی میں ہے ۔
    ”نیز اسی زمانہ میں تحذیر الناس نامی رسالہ کے بعض دُعاوی کی وجہ سے بعض مولویوں کی طرف سے خود سیدنا امام الکبیر ( مولوی قاسم ) پر طعن و تشنیع کا سلسلہ جاری تھا ”۔ ( جلد اوّل ص ٣٧٠)
    تحذیر الناس کی عقیدہ ختم نبوت کے منافی عبارات یہ ہیں جن پر اکابر علماء عرب و عجم نے فتویٰ کفر صادر فرمایا ۔
    ”اوّل معنی خاتم النبیّین معلوم کرنے چاہئیں تا کہ فہم جواب میں کچھ دِقت نہ ہو ۔ سو عوام کے خیال میں رسول اللہ صلعم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد ہے اور آپ سب میں آخری نبی ہیں ۔ مگر اہل فہم پر روشن ہو گا کہ تقدیم یا تا خیر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقامِ مدح میں ولٰکن رسُول اللّٰہ و خاتم النّبیّینفرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہو سکتاہے ” ۔
( تحذیر الناس ص ٥۔٦)
    اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔
( تحذیر الناس ص ٢٢)
    قارئین کرام سنجیدگی کے ساتھ دیوبندی مذہب کی حقیقت پر غور کریں اور از راہِ انصاف خود فیصلہ کریں کہ قادیانی کذاب کی نام نہاد نبوت کو تقویت پہنچانے والا کون تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

 

Advertisements

دیوبندی مذہب میں مذہب کی اہمیت

دیوبندی مذہب میں
مذہب کی اہمیت
نانوتوی صاحب کے حکم سے روزہ توڑ دیا :

   ”حضرت والا مرحوم نے فرمایا کہ حضرت مولانا رفیع الدین صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ میں نے کبھی حضرت نانوتوی (بانی ئ مدرسہ دیوبند ) کے خلاف نہیں کیا ایک دن چھتہ کی مسجد میں حاضر ہوا حضرت احاطہ مسجد میں ہولے بھُنے ہوئے تناول فرمارہے تھے۔ فرمایا کہ آئےے۔ میں نے عرض کیا حضرت میرا تو روزہ ہے تھوڑی دیر تائل کر کے پھر یہی فرمایا کہ آئےے مولانا ۔ میں فوراً بلا تائل کھانے بیٹھ گیا حالانکہ عصر کی نماز ہو چکی تھی۔ افطار کا وقت قریب تھا۔ حضرت نے فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ اس سے زائد آپ کو ثواب عطا فرمائے گا۔ جتنا کہ روزہ میں ہوتا ہے چنانچہ مجھے اس افطار کے بعد کچھ ایسی کیفیات و لذات محسوس ہوئیں کہ میں نے کبھی صوم میں بھی نہیں دیکھی تھیں”۔( ارواح ثلٰثہ ص ٣٧٩ حکایت نمبر ٣٧٣)

شراب پی لیا کرو بے وضو نماز پڑھ لیا کرو:

    ”خان صاحب نے کہا کہ میرے سے وضو نہیں ہوتی اور نہ یہ دو بُری عادتیں چھٹتی ہیں آپ نے فرمایا کہ بے وضو ہی پڑھ لیا کرو اور شراب بھی پی لیا کرو اس پر اُس نے عہد کیاکہ میں بغیر وضو ہی پڑھ لیا کروں گا۔” (ارواح ثلٰثہ ص٢٣٧)

پھر بے وضو نماز کا حکم:

    ”ایسے ہی ایک مرتبہ گڑھی پختہ تشریف لے گئے ایک خان صاحب سے نماز کےلئے کہا انہوں نے جواب دیا کہ مجھے داڑھی چڑھانے کی عادت ہے اور وضو سے یہ اتر جاتی ہے آپ نے فرمایا بے وضو پڑھ لیا کرو”۔(ارواح ثلٰثہ ص٢٣٨حکایت نمبر١٩٢)
    یہ ہے دیوبندیوں وہابیوں کے ہاں روزہ کی اہمیت کہ نانوتوی صاحب کے حکم سے روزہ توڑ کر کہا کہ کبھی صوم میں بھی اتنی کیفیات اور لذت محسوس نہ ہوئی تھیں ۔ نانوتوی صاحب کو بتا دیا گیا کہ وہ روزہ سے ہیں پھر بھی روزہ توڑنے پر اصرار کیا اور یہ ہے دیوبندی علماء کی نظر میں نماز کی اہمیت کہ جس کو دل چاہا بے وضو پڑھنے کے احکام صادر فرمادئےے۔

 

اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی کسی نئے فرقے کے بانی نہیں، علامہ کوکب اوکاڑوی

مولانا اوکاڑوی اکادمی (العالمی) کے سربراہ خطیب ملت علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی نے کہا ہے کہ اعلیٰ حضرات امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضا خان بریلوی  اسلام اور ملت اسلامیہ کے محسن اور چودہویں صدی ہجری میں مجدداعظم شمار ہوئے ہیں اور ان کی علمی فقہی عظمت کا اعتراف سمتوں میں اپنوں بیگانوں نے کیا ہے، اُنہوں نے ہرگز کوئی نئے عقائد وضع نہیں کیے نہ ہی وہ کسی نئے فرقے کے بانی ہیں بلکہ اُنہوں نے کتاب و سنت کی صحیح ترجمانی کرتے ہوئے اہل سنت و جماعت کی اس دور میں صحیح پاس بانی کی ہے جب کہ دین فروش اور ابن الوقت لوگ دین کو بدلنا چاہ رہے تھے، علامہ اوکاڑوی  نے کہا کہ بریلوی ہرگز کوئی فرق نہیں بلکہ اہل سنت کی صحیح پہچان کا عنوان ہے اور اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمتہ اللہ علیہ کی نسبت سے یہی ظاہر کیا جاتا ہے کہ بریلوی وہ سنی ہیں جن کے عقائد کی ترجمانی اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان نے کی ہے، علامہ اوکاڑوی نے کہا کہ اعلیٰ حضرت بریلوی کی ایک ہزار سے زائد کتب اور ان کی تعلیمات و تحریرات موجود ہیں اور ان میں کتاب و سنت کے خلاف یا ان سے متضاد کوئی بات پیش نہیں کی جا سکی ہے بلکہ ان کے مخالفین نے بھی انہیں سچا عاشق رسول اور عالم حق تسلیم کیا ہے، علامہ اوکاڑوی نے جیو ٹی وی کے پروگرام ”میرے مطابق “ میں ڈاکٹر اسرار کی زبانی کہے گئے ان جملوں پر شدید احتجاج کیا ہے جن میں اُنہوں نے اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے بارے میں نامناسب الفاظ و انداز اختیار کیا اُنہوں نے کہا کہ اس پروگرام میں صحیح العقیدہ اہل سنت و جماعت بریلوی کا غلط تعارف پیش کرنے کی سازش کی گئی ہے جو قابل مذمت ہے۔

اسلام طاقت سے نہیں پھیلا،صوفی محمد کا پیش کردہ نظام عدل بطور شریعت قبول نہیں، علمائے کرام

مرکزی جماعت اہلسنت برطانیہ و یورپ کے رہنماؤں اور سواد اعظم اہلسنت والجماعت کے ممتاز علمائے کرام نے کہا ہے کہ سوات میں صوفی محمد کی پیش کردہ شریعت کا شریعت محمدی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ صوفی محمد نے نظام عدل کے نام سے جو شرعی خاکہ پیش کیا ہے اس کی عمر صرف 80 سال کے لگ بھگ ہے جو سعودی عرب کے محمد بن عبدالوہاب کی تخلیق ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک نام نہاد نظام عدل کو شریعت کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ شریعت میں نظام اخلاق، نظام معیشت، نظام معاشرت اور زندگی کے دیگر تمام شعبوں کے بارے میں بہترین نقطہ نظر، ہدایات اور اصول موجود ہونے چاہئیں اور ان پر علمائے کرام کا مکمل اعتماد اور رہنمائی شامل ہونی چاہئے۔ مرکزی جماعت اہلسنت کے مرکزی رہنما اور محقق علامہ احمد نثار بیگ قادری نے جنگ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ شریعت محمدی تو وہ عظیم نظام ہے جس کو عام کرنے کے لیے ڈنڈے یا تلوار کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر، افغانستان اور وسطی ایشیا میں اسلام صرف اور صرف اولیا اللہ، صوفیائے کرام اور اللہ کے فقیروں اور درویشوں کے طفیل پھیل ہے اور انہی ہستیوں کے صدقے میں ہم آج مسلمان ہیں اور ان صوفیا اور اولیا اللہ کا طریقہ تبلیغ صرف کردار کی سچائی، عمل، محبت و رواداری تھی۔ مرکزی جماعت اہلسنت والجماعت کے سابق صدر صاحبزادہ پیر مزمل شاہ جماعتی نے کہا کہ پاکستان سترہ کروڑ عوام کا ملک ہے جس میں خدا کے فضل و کرم سے اہلسنت والجماعت عظیم اکثریت سے آباد ہیں یہی وہ مسلمان ہیں جو نظام مصطفی اور مقام مصطفی کے علمبردار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سنی عوام کسی ایسے شخص کی بیان کردہ شریعت کو نہیں مانتے جو اولیا اللہ سے عقیدت اور محبت کی بجائے ان کے مزارات مبارکہ پر حملے کرواتا رہے۔ انہوں نے کہا کہ 1973ء کے آئین میں تمام مکاتب فکر اور جماعتوں کی رضامندی اور اعتماد شامل ہے لیکن سوات والے تو 1973ء کے آئین کے بھی منکر ہیں۔ جماعت کے جنرل سیکرٹری صاحبزادہ سید منور حسین شاہ بخاری نے کہا کہ اہلسنت والجماعت اور ملک بھر کے عوام کے پاس امیر ملت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پور شریف جیسی معتبر ہستی موجود ہے جنہوں نے قائداعظم کاکھل کر ساتھ دیا لیکن وہ لوگ جو اس وقت دن رات پاکستان کے قیام کی مخالفت کرتے تھے وہ آج پاکستان میں اپنی پسند کی شریعت کیسے چلا سکتے ہیں۔ سابق صدر علامہ حافظ فضل احمد قادری نے کہا کہ دین دراصل دنیاوی طاقت اور قوت کا محتاج نہیں ہے کیونکہ دنیاوی طاقت اور قوت آنی جانی چیزیں ہیں اصل طاقت قوت ایمان ہے جس سے دنیاوی طاقتیں خوف کھاتی ہیں اس لئے جو لوگ ڈنڈے اور بندوق کے زور پر لوگوں کو ڈرا دھمکا کر اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دین جب کسی میں داخل ہو جاتا ہے تو اس کے لیے دنیا کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ حضور کے دور میں صرف ایک شخص پر حد نافذ ہوئی اور اس مقدمے میں کوئی گواہ نہ تھا لیکن جس صحابی سے غلطی سرزد ہوئی انہوں نے خود رسول اکرم کے سامنے پیش ہو کر اعتراف جرم کر لیا۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ دین اور شریعت کو دلوں میں اتارا جائے ڈنڈے اور گولی سے ہم لوگوں کے جسم اور دھڑ تو قابو کر سکتے ہیں لیکن ان کے دل، دماغ اور ضمیر قابو نہیں کئے جا سکتے۔ مرکزی جماعت کے بانی رہنما سید زاہد حسین شاہ رضوی نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ نہ صرف سوات بلکہ پورے ملک میں عدل و انصاف کو یقینی بنائے کیونکہ یہ کام صرف حکومت کر سکتی ہے اور کوشش کرے کہ اسلامی اور شرعی قوانین کے متصادم کوئی قانون اور شق موجود نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کبھی ہو ہی نہیں سکتا کہ حکومت پاکستانیوں کی ہو اور طاقت فوج، پولیس، ایجنسیوں یا حکومتی اداروں کے پاس ہو اور کوئی دوسرا سوات یا کسی قبائلی علاقے سے اٹھ کر اپنے لشکر کے ساتھ اپنی پسند کی شریعت نافذ کرلے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمزوری حکومت وقت کی ہے حکومت کو چاہئے کہ وہ اس صورتحال پر جلد از جلد قابو پائے اور تمام مکاتب اور جماعتوں کو اعتماد میں لے۔ علامہ پروفیسر سید احمد شاہ ترمذی نے کہا کہ قیام پاکستان کے موقع پر بھی کچھ گروہ اور جماعتیں خلافت اور پورے ہندوستان پر حکومت بحال کرانے پر بضد تھیں لیکن اس وقت اگر علامہ محمد اقبال، بابائے قوم قائداعظم اور پاکستان کے مشائخ، عظام، اولیا اور صوفیائے کرام کی فکر کامیاب نہ ہوتی تو خدانخواستہ پاکستان قائم ہی نہ ہوتا اور آج ہم بھارت میں ٹھوکریں کھا رہے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ صوفی محمد کی شریعت کسی کو بھی قبول نہیں ہے کیونکہ نہ وہ خود شریعت کا علم رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کا طریق کار درست ہے۔ حافظ محمد صادق ضیاء، حافظ نعمت علی چشتی، قاری محمد سرور نقشبندی نے بھی سوات میں حکومت کے معاہدے کی مذمت کی اور صوفی محمد کے نظام عال کو ایک ناقص اور ناقابل قبول نظام قرار دیتے ہوئے حکومت سے فوری مداخلت اور دیگر مکاتب فکر سے رابطے کی اپیل کی۔

مانچسٹر: جمعیت علمائے پاکستان کا اجلاس‘ سوات صورتحال پر اظہار تشویش

مرکزی جمعیت علمائے پاکستان (یو کے برانچ) کا اجلاس زیر صدارت علامہ سید زاہد حسین رضوی منعقد ہوا۔ صدر جمعیت نے مالا کنڈ ڈویژن میں نظام عدل ریگولیشن کے نفاذ اور سوات و علاقہ دیر میں پاکستانی طالبان کی دہشتگردی اور انسانیت سوز واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے اجلاس کو بتایا کہ ان علاقوں میں بائیس سے زیادہ پیران طریقت اور ان کے مریدین کو طالبان نے اپنی بربریت کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کردیا۔ پیر بابا بنیر شریف حضرت سید علی ترمذی کے مزار شریف کے علاوہ درجنوں دوسرے مزارات میں توڑ پھوڑ کرکے تالہ بندی کی۔ کئی مزارات کو دھماکوں سے اڑا دیا۔ اہلسنّت کے بہت سے دینی مدارس پر زبردستی قبضہ کرلیا اور مدرسین کو ضلع بدر کر دیا۔ اہلسنّت و جماعت کی درجنوں مساجد پر راتوں رات حملے کرکے سنی علماء اور خطباء کو بے گھر کردیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے معتبر ذرائع سے آمدہ اطلاعات کے مطابق طالبان جدید اور تباہ کن اسلحہ سے لیس ہیں جو انہیں بیرونی ممالک سے مہیا کیا جارہا ہے۔ انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ وہاں کی پولیس اور افواج مبینہ طور پر درپردہ طالبان کی حمایت کررہی ہیں اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ لہٰذا دنیا بھر کے سنی عوام پر واجب ہوگیا ہے کہ وہ سرحد اور بالخصوص سوات و مالاکنڈ ڈویژن میں اپنے عقیدے کے تحفظ، مشائخ علماء اور عوام کے حقوق اور بزرگان دین کے مزارات کی حفاظت کیلئے صدائے احتجاج بلند کریں۔ جمعیت کے نائب صدر حافظ فضل احمد قادری نے سرحد کے مخدوش حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ یکدم نہیں ہوا بلکہ اس طرح کے آثار ایک عرصہ سے نظر آرہے تھے۔ علامہ احمد نثار بیگ قادری نے کہا کہ پیران طریقت کے بہیمانہ قتل اور بزرگان دین کے مزارات مقدسہ کو شہید و برباد کرکے طالبان بے نقاب ہوگئے ہیں لہٰذا لازمی ہوگیا ہے کہ اس فتنے کے سد باب کیلئے اہلسنّت و جماعت کی تمام تنظیمیں اپنی مدد آپ کے اصول کے تحت اپنے عوام کو منظم اور مسلح کریں اور موثر دفاع کی تربیت کی منصوبہ بندی کریں۔ پروفیسر پیر سید احمد حسین شاہ ترمذی نے افواج پاکستان کی سرحدی علاقوں میں غیر تسلی بخش کارکردگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ حافظ محمد صادق ضیاء نے کہا کہ اب یہ حقیقت ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ طالبان کا تعلق ان لوگوں سے ہے جنہوں نے نظریہ پاکستان کی مخالفت کی۔ مملکت خداداد پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔پیرزادہ سید محمد انور حسین شاہ کاظمی، صاحبزادہ پیر سید مزمل حسین شاہ جماعتی، سید منور حسین شاہ بخاری، قاری محمد خان قادری، صاحبزادہ سید محمد شعیب شاہ نقشبندی مجددی، پیر سید نور احمد شاہ کاظمی، قاضی عبداللطیف قادری، قاری محمد سرور نقشبندی، حافظ نعمت علی چشتی، مولانا حافظ ظہیر احمد قادری، صاحبزادہ قاضی عبدالرشید چشتی، برکات احمد چشتی، حافظ خداداد قادری، مفتی اختر علی قادری، عبدالرحمن نقشبندی، مولانا حافظ محمد شفیع نے بھی اجلاس میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

کیا یہ اسلام ہے؟

 

آخر کار مولانا صوفی محمد نے وہ کچھ کہہ ہی ڈالا جس کی توقع کی جا رہی تھی کہ پاکستان میں کفر کا نظام رائج ہے۔ لیکن انہوں نے یہ بات پہلی مرتبہ نہیں کی، بلکہ پچھلے ہفتے جب نظام عدل ریگولیشن کو پارلینمٹ میں پیش کیا جا رہا تھا تو انہوں ایک ‘فتوی’ جاری کیا تھا کہ مخالفت کرنے والوں کو کافر اور پاکستان کو دارالحرب قرار دیا جائے گا۔

 

مولانا صوفی محمد عرصے سے اس ملک کے نظام اور اداروں کو کفری قراردیتے آ رہے ہیں

 
لیکن اس بیان میں اور حالیہ بات میں ایک فرق ضرور ہے۔ پہلے بیان کو دھمکی سمجھا گیا تھا جبکہ حالیہ بات بظاہر پالیسی معلوم ہو رہی ہے۔ مولانا صوفی محمد کی یہ سوچ کسی سے ڈھکی چھپی بھی نہیں کیونکہ وہ تو سنہ انیس نوے سے ہی اس ملک کے نظام اور اداروں کو کفری قراردیتے آ رہے ہیں لیکن آج انکی بات کو اس لیے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیئے کیونکہ اس وقت سات قبائلی ایجنسیوں اور پشاور اور چند اضلاع کو چھوڑ کر پورے صوبے پر طالبان نے بندوق کے زور سے اپنی عملداری قائم کردی ہے۔

سوات کے طالبان نے تو پاکستانی فوج کے ساتھ ڈیڑھ سال تک جاری رہنے والی مسلح آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے فوج، سیکولر حکمران جماعتوں، پیپلز پارٹی اور عوامی نینشل پارٹی کے گھٹنے ٹیک دیئے اور اس شکست کی توثیق نظام عدل ریگولیشن کی منظوری کی شکل میں پارلیمنٹ سے بھی کرا لی۔اس شکست کی خوبصورت تشریح ممتاز کالم نویس اور رکنِ قومی اسمبلی ایاز امیر نے نظام عدل ریگولیشن کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے دوران بحث میں حصہ لیتے وقت کی کہ’ اسکا مطلب ہے کہ طالبان کی بندوقیں ہماری مسلح افواج کی بندوقوں سے زیادہ طاقتور ثابت ہوئی ہیں۔’

جیسا کہ آپ نے پڑھا کے اب ہم پر کفر کا فتویٰ طلبان کی طرف سے لگ چکا ہے۔
 
مان لیجئے کہ جمہوری نظام کفر ہے تو کیا اسلام یہ ہے کہ کسی دوسرے مکتبہ فکر سے تعلق رکھناے والوں کو قبر سے نکال کر درخت پر لٹکایا جائے کیا یہ اسلام ہے؟ یہ اولیائ کرام کی مزارات پر خودکش حملہ کرنا کیا یہ اسلام ہے؟ مان لیجئے کہ جمہوری نظام کفر ہے تو کیا اسلام یہ ہے کہ کسی دوسرے مکتبہ فکر سے تعلق رکھناے والوں کو قبر سے نکال کر درخت پر لٹکایا جائے کیا یہ اسلام ہے؟ یہ اولیائ کرام کی مزارات پر خودکش حملہ کرنا کیا یہ اسلام ہے؟ یا کسی لڑکی کو تین یا چار مرد پکر کر مارے وہ بھی سرے عام کیا یہ اسلام ہے؟ کیا یہ شریعت ہے؟ اگر حضورصلی علیہ والہٍ وسلم کی حیاتِ طیبہ پر غور کیا جائے تو اخوت اور محبت کا ہی سبق ملتا ہے۔حضورصلی علیہ والہٍ وسلم تو دشمنوں کو بھی معاف کردیا کرتے تھے۔
 
یہ تو تھی میری رائے اب آپ کی کیا رائے ضرور پوسٹ کیجئے گا۔
 
 
اب تو کسی انقلاب کا انتظار نہ کر
ہوسکے تو خود انقلاب پیدا کر


لیکن اس بیان میں اور حالیہ بات میں ایک فرق ضرور ہے۔ پہلے بیان کو دھمکی سمجھا گیا تھا جبکہ حالیہ بات بظاہر پالیسی معلوم ہو رہی ہے۔ مولانا صوفی محمد کی یہ سوچ کسی سے ڈھکی چھپی بھی نہیں کیونکہ وہ تو سنہ انیس نوے سے ہی اس ملک کے نظام اور اداروں کو کفری قراردیتے آ رہے ہیں لیکن آج انکی بات کو اس لیے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیئے کیونکہ اس وقت سات قبائلی ایجنسیوں اور پشاور اور چند اضلاع کو چھوڑ کر پورے صوبے پر طالبان نے بندوق کے زور سے اپنی عملداری قائم کردی ہے۔

سوات کے طالبان نے تو پاکستانی فوج کے ساتھ ڈیڑھ سال تک جاری رہنے والی مسلح آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے فوج، سیکولر حکمران جماعتوں، پیپلز پارٹی اور عوامی نینشل پارٹی کے گھٹنے ٹیک دیئے اور اس شکست کی توثیق نظام عدل ریگولیشن کی منظوری کی شکل میں پارلیمنٹ سے بھی کرا لی۔اس شکست کی خوبصورت تشریح ممتاز کالم نویس اور رکنِ قومی اسمبلی ایاز امیر نے نظام عدل ریگولیشن کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے دوران بحث میں حصہ لیتے وقت کی کہ’ اسکا مطلب ہے کہ طالبان کی بندوقیں ہماری مسلح افواج کی بندوقوں سے زیادہ طاقتور ثابت ہوئی ہیں۔’

جیسا کہ آپ نے پڑھا کے اب ہم پر کفر کا فتویٰ طلبان کی طرف سے لگ چکا ہے۔
 
مان لیجئے کہ جمہوری نظام کفر ہے تو کیا اسلام یہ ہے کہ کسی دوسرے مکتبہ فکر سے تعلق رکھناے والوں کو قبر سے نکال کر درخت پر لٹکایا جائے کیا یہ اسلام ہے؟ یہ اولیائ کرام کی مزارات پر خودکش حملہ کرنا کیا یہ اسلام ہے؟ مان لیجئے کہ جمہوری نظام کفر ہے تو کیا اسلام یہ ہے کہ کسی دوسرے مکتبہ فکر سے تعلق رکھناے والوں کو قبر سے نکال کر درخت پر لٹکایا جائے کیا یہ اسلام ہے؟ یہ اولیائ کرام کی مزارات پر خودکش حملہ کرنا کیا یہ اسلام ہے؟ یا کسی لڑکی کو تین یا چار مرد پکر کر مارے وہ بھی سرے عام کیا یہ اسلام ہے؟ کیا یہ شریعت ہے؟ اگر حضورصلی علیہ والہٍ وسلم کی حیاتِ طیبہ پر غور کیا جائے تو اخوت اور محبت کا ہی سبق ملتا ہے۔حضورصلی علیہ والہٍ وسلم تو دشمنوں کو بھی معاف کردیا کرتے تھے۔
 
یہ تو تھی میری رائے اب آپ کی کیا رائے
ضرور پوسٹ کیجئے گا۔
 
 
اب تو کسی انقلاب کا انتظار نہ کر
ہوسکے تو خود انقلاب پیدا کر

اِمام اعظم ابو حنیفہ کے وہ شاگرد جو محدث وقت بنے

اِمام اعظم ابو حنیفہ کے وہ شاگرد جو محدث وقت بنے
ڈاکٹر سیّد وسیم الدین

امام اعظم ابو حنیفہ رحمة الله تعالیٰ علیہ جس دور میں پروان چڑھے اس وقت علم زیادہ تر موالی و اعاجم میں زیادہ پایا جاتا تھا۔ آپ نسبی فخر سے محروم تھے۔ الله رب العزت نے آپ کو علم کا فخر عطا فرمایا جو نسب کے مقابلہ میں زیادہ مقدس زیادہ پھلنے پھولنے والا زیادہ پائیدار اور نام زندہ رکھنے والا تھا۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی کائناتی حقیقت بن کرثابت ہوئی کہ اولادِ فارس علم کی حامل ہوگی۔ امام بخاری، شیرازی (1) اور طبرانی (2) وغیرہ نے بھی آپ کے یہ الفاظ روایت کیے ہیں کہ
ترجمہ: ”اگر علم کہکشاں تک بھی پہنچ جائے تو اہل فارس کے کچھ لوگ اسے حاصل کرکے رہیں گے۔“

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کے وہ شاگرد جو محدثِ وقت بنے ان کے بارے میں چند اشارے اور جملے سپرد قلم کر رہا ہوں جس سے اِمام ابو حنیفہ کی عظمت کا مزید پتا لگایا جاسکتا ہے۔

یحیٰ بن سعید القطان:
فن رجال کا سلسلہ ان ہی سے شروع ہوا۔ علامہ ذہبی نے میزان اعتدال کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ فنِ رجال میں اول جس شخص نے لکھا وہ یحیٰ بن سعید القطان پھر اُن کے بعد اُن کے شاگردوں میں یحیٰ بن مدین، علی بن المدین، امام احمد بن جنبل، عمر و بن علی ور ابوخیثمہ نے اس فن میں گفتگو کی اور اُن کے بعد ان کے شاگردوں یعنی امام بخاری مسلم وغیرہ نے۔

حدیث میں ان کا یہ پایہ تھا کہ جب حلقہٴ درس میں بیٹھتے تو امام احمد بن حنبل، علی ابن المدین وغیرہ مُوٴدب کھڑے ہو کر ان سے حدیث کی تحقیق کرتے اور نمازِ عصر سے جو اُن کے درس کا وقت تھا۔ مغرب تک برابر کھڑے رہتے۔ (3) راویوں کی تحقیق و تنقید میں یہ کمال پیدا کیا تھا کہ ائمہ حدیث عموماً کہا کرتے تھے کہ ”یحیٰ جس کو چھوڑ دیں گے ہم بھی اُس کو چھوڑ دیں گے۔ (4) امام احمد بن جنبل کا مشہور قول ہے کہ
ترجمہ: میں نے اپنی آنکھوں سے یحیٰ کا مثل نہیں دیکھا۔ اس فضل و کمال کے ساتھ امام ابو حنیفہ کے حلقہٴ درس میں اکثر شریک ہوتے اور ان کی شاگردی پر فخر کرتے۔ اس وقت تک تقلید معین کا رواج نہیں ہوا تھا تاہم اکثر مسائل میں وہ امام صاحب ہی کی تقلیدکرتے تھے۔ خود اُن کا قول ہے کہ (5(

ترجمہ: یعنی ہم نے امام ابو حنیفہ کے اکثر اقوال اخذ کیے ہیں علامہ ذہبی نے تذکرة الحفّاظ میں جہاں وکیع بن الجراح کا ذکر کیا ہے وہاں لکھا ہے کہ وکیع، امام ابو حنیفہ کے قول پر فتوٰی دیتے تھے۔ آپ 135ھء میں پیدا ہوئے اور 198ھء میں بمقام بصرہ وفات پائی۔

عبدالله بن المبارک:
محدث نودی نے تہذیب الاسماء واللغات میں آپ کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے ”وہ امام جسکی امامت و جلالت پر ہر باب میں عموماً اجماع کیا گیا ہے جس کے ذکر سے خدا کی رحمت نازل ہوتی ہے جس کی محبت سے مغفرت کی اُمید کی جاسکتی ہے۔“
حدیث میں جو آپ کا پایہ تھا اس کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ محدثین اُن کو ” امیر المومنین فی الحدیث“ کے لقب سے پکارتے تھے۔ ایک موقع پر اُن کے شاگردوں میں سے ایک شخص نے ان سے خطاب کیا کہ عالم المشرق امام سفیان ثوری جو مشہور محدث ہیں اس موقع پر موجود تھے بولے کہ ”کیا غضب ہے عالم مشرق کہتے ہو وہ عالم المشرق والمغرب (6) ہیں۔ امام احمد بن حنبل کا قول ہے کہ عبدالله بن المبارک کے زمانہ میں ان سے بڑھ کر کسی نے حدیث کی تحصیل میں کوشش نہیں۔

صحیح بخاری و مسلم میں ان کی روایت کے بڑے ارکان سے سینکڑوں حدیث مروی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ وہ فن روایت کے بڑے راویوں میں شمار کیے جاسکتے ہیں ۔ حدیث وفقہ میں ان کی بہت سی تصنیفات ہیں مگر افسوس کہ آج تک اُن کا پتا نہیں ملتا۔ آپ مرد کے رہنے والے تھے۔ 118ھء میں پیدا ہوئے اور 181ھء میں مقام ہیت میں وفات پائی۔

یحیٰ بن زکریا ابی مائدہ:
آپ معروف محدث تھے۔ علامہ ذہبی نے تذکرة الحفّاظ میں صرف اُن لوگوں کا تذکرہ کیا ہے جو حافظ الحدیث کہلاتے تھے۔ چنانچہ یحیٰ کو بھی اُنہی لوگوں میں داخل کیا ہے اور اُن کے طبقہ میں سب سے پہلے اُنہی کا نام لکھا ہے۔ علی بن المدین جو امام بخاری کے مشہور اُستاد ہیں کہا کرتے تھے کہ یحیٰ کے زمانے میں یحیٰ پر علم کا خاتمہ ہوگیا ۔ (7(

صحاح ستہ میں اُن کی روایت سے بہت سی حدیثیں ہیں وہ محدث و فقیہ دونوں تھے، اور ان دونوں فنون میں بہت بڑا کمال رکھتے تھے ۔ آپ امام ابو حنیفہ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے اور مدت تک اُن کے ساتھ رہے آپ تدوین فقہ میں امام ابو حنیفہ کے شریک اعظم تھے ۔ امام طحاوی نے لکھا ہے کہ وہ تیس برس تک شریک رہے۔
آپ کا وصال 183ھء میں 63 برس کی عمر میں مدائن کے مقام پر ہوا۔

وکیع بن الجراح:
آپ فن حدیث کے ارکان میں شمار کیئے جاتے ہیں۔ امام احمد بن حنبل کو اُن کی شاگردی پر فخر تھا چنانچہ جب وہ اُن کی روایت سے کوئی حدیث بیان کرتے تو اِن لفظوں سے شروع کرتے تھے۔
”یہ حدیث مجھ سے اس شخص نے روایت کی کہ تیری آنکھوں نے اُن کا مثل نہ دیکھا ہوگا۔“(8(

یحیٰ بن معین جو فنِ رجال کے ایک رکن خیال کیے جاتے ہیں اُن کا قول تھا کہ میں نے کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جس کو وکیع پر ترجیح دوں۔ (9) اکثر ائمہ حدیث نے ان کی شان میں اِس قسم کے الفاظ لکھے ہیں۔ بخاری و مسلم میں اکثر ان کی روایت سے حدیثیں مذکور ہیں۔ فنِ حدیث و رجال کے متعلق ان کی روایتیں نہایت مستند خیال کی جاتی ہیں۔ آپ کا وصال 197ھء میں ہوا۔

داوٴد الطائی:
صرفیہ آپ کو بڑا مرشد کامل مانتے ہیں۔ تذکرةالاولیاء میں ان کے مقاماتِ عالیہ مذکور ہیں۔ فقہا اور خصوصاً فقہاے حنفیہ ان کے تفقہ اور اجتہاد کے قائل میں۔ محارب میں وقار جو معروف محدث تھے کہا کرتے تھے کہ داوٴد اگر پچھلے زمانہ میں ہوتے تو خدا قرآن مجید میں اُن کا قصہ بیان کرتا۔ (10(

آپ نے ابتداء میں فقہ و حدیث کی تحصیل کی ۔ پھر علم کلام میں کمال پیدا کیا اور بحث و مناظرہ میں مشغول ہوئے۔ ایک دن کسی موقع پر ایک شخص سے گفتگو کرتے کرتے اس پر کنکری پھینک ماری۔ اس نے کہا۔ داوٴد تمہاری زبان اور ہاتھ دونوں دراز ہو چلے۔ ان پر عجب اثر ہوا، بحث و مباحثہ و مناظرہ بالکل چھوڑ دیا۔ تاہم تحصیل علم کا مشغلہ جاری رکھا۔ ایک برس کے بعد کل کتابیں دریا میں ڈبو دیں اور تمام چیزوں سے قطع تعلق کرلیا۔ امام محمد کا بیان ہے کہ میں داوٴد سے اکثر مسئلے پوچھنے جاتا۔ اگر کوئی ضروری مسئلہ ہوتا تو بتا دیتے ورنہ کہتے کہ بھائی مجھے اور ضروری کام ہیں۔

آپ کا شمار امام اعظم حضرت ابو حنیفہ کے مشہور شاگردوں میں ہوتا ہے۔ خطیب بغدادی، ابن خلکان علامہ ذہبی اور دیگر موٴرخین نے جہاں ان کے حالات لکھے ہیں وہاں امام ابو حنیفہ کی شاگردی کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا ہے تدوین فقہ میں بھی آپ امام ابو حنیفہ کے شریک تھے اور اس مجلس کے معزز رکن بھی تھے۔آپ کا وصال 160ھء میں ہوا۔

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمة الله تعالیٰ علیہ کے چند معروف شاگردوں میں قاضی ابو یوسف، رفر، اسد بن عمر، عافیہ الازدی، قاسم بن معن، علی بن مسر، حبّان، سندل بھی خاصے مقبول و معروف ہوئے۔دینِ اسلام کی نشونما اور تدوین فقہ کے لیے امام اعظم ابو حنیفہ کی خدمات عالیہ اظہر من الشمس ہیں آپ کے شاگردوں اور تلامذہ نے بھی اس ضمن میں چراغ سے چراغ روشن کیا ہے اور ایمان کی حرارت اور روشنی کو اُجاگر کرنے میں آپ کے شاگردوں اور تلامزہ کی خدمات صدقہ جاریہ سے کم نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالم اِسلام کے مسلمان حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کی علمی، دینی، فقہی خدمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے معاشرہ میں احیائے دین کی سرفرازی کے لیے کمر بستہ ہوجائیں تاکہ مسلمان اپنا کھویا ہوا وقار اور عظمت رفتہ کو دوبارہ حاصل کرنے میں بامراد ہوسکیں۔ اور یہ بامرادی و باآوری اُس وقت ممکن ہوگی کہ ہم دین اسلام کی آبیاری کے لیے عملًا قافلہٴ غلامانِ مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم میں شریک ہوکر اس امر کا اعادہ کریں کہ ہم امام اعظم حضرت ابو حنیفہ علیہ الرحمة کے صحیح معنوں میں پیروکار اور فدائیاں ابوحنیفہ ہیں۔ کاش کے ہم جملہ حنفی مسلمان حضرت ابو حنیفہ کے وارث و جانشین ثابت ہوسکیں۔

تیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئے
شب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئے
دل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئے
آکے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئے
آئے عُشّاق گئے وعدہٴ فردا لے کر
اب انھیں ڈھونڈ چراغ رخِ زیبا لے کر
)ڈاکٹر اقبال(

حوالہ جات:
1۔ ابوبکر احمد بن عبدالرحمن شیرازی متوفی 407ھء۔
2۔ مصنف نے یہ حصہ غالباً تبییض الصحیفہ از سیوطی سے لیا ہے۔
3۔فتح المغیث وجواہرمعینہ۔
4۔ تہذیب التدریب، حافظ ابن حجر ترجمہ یحیٰ بن القطان
5۔ میزان الاعتدال، علامہ ذہبی دیباچہ۔
6۔تہذیب الاسماء۔
7۔میزان الاعتدال، علامہ ذہبی ترجمہ یحیٰ۔
8۔ تہذیب الاسماء و اللغات علامہ نودی ترجمہ وکیع بن الجراح۔
9۔تہذیب الاسماء واللغات۔
10۔ میزان الاعتدال، ذہبی۔

 

امریکی حملوں کا منطقی انجام سانحہ مشرقی پاکستان سے مختلف نہیں، شاہ تراب الحق

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اہل سنت کراچی کے امیر شاہ تراب الحق قادری نے کہا ہے کہ امریکی حملوں کا منطقی انجام سانحہ مشرقی پاکستان سے مختلف نہیں۔ موجودہ ملکی بحران سے نجات کا واحد راستہ اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت ہے۔ موجودہ ملکی حالات اس حد تک خراب ہیں کہ عوام پاکستان کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہورہے ہیں اور غیر یقینی صورتحال نے پوری قوم کو متاثر کر رکھا ہے۔ ایسے میں ماضی کی ناقص پالیسیوں کو ترک کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو کراچی النساء کلب گلشن اقبال میں جماعت اہلسنت کراچی کے زیراہتمام ”استحکام پاکستان کانفرنس“ سے صدارتی خطاب میں کیا۔ کانفرنس سے تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کے صدر مفتی منیب الرحمن، نظام مصطفی پارٹی کے سربراہ حاجی محمد حنیف طیب، جماعت اہلسنت کے مرکزی نائب امیر علامہ غلام صدیق نقشبندی، علامہ ابرار احمد رحمانی ، علامہ خلیل الرحمن چشتی، علامہ سید احمد علی شاہ سیفی، علامہ محمد اکرم سعیدی ، علامہ حمزہ علی قادری، شاہ سراج الحق قادری، طارق محبوب صدیقی ، پروفیسر غلام عباس قادری ، ڈاکٹر عبدالرحیم، مولانا غلام مرتضیٰ مہروی ، مولانا الطاف قادری نے بھی خطاب کیا۔ مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے، ہماری نسلوں کو اس سرزمین پر رہنا ہے، ہمیں پاکستان کا مفاد عزیز ہے لیکن اس کو دانا دشمن اور نادان دوست پارہ پارہ کر رہے ہیں ۔ حاجی محمد حنیف طیب نے کہا کہ معاشی بحران میں گھرے ملک کی بھاری بھرکم وفاقی کابینہ دنیا کے لئے حیرت اور تعجب کا باعث ہے۔ صاحبزادہ غلام صدیق احمد نقشبندی نے کہا کہ اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والے مٹھی بھر لوگوں کو دنیا نے پہچان لیا ہے جبکہ ہم اہلسنت و جماعت صوفیاء کرام کے پیروکار ہیں۔ امن و سلامتی ہمارا شعار ہے۔ آج دنیا صوفیائے کرام حضرت داتا گنج بخش، خواجہ غریب نواز، بابا شکر گنج جیسے اولیاء اللہ کی تعلیمات ہی کے ذریعہ امن وسکون کا گہوارہ بن سکتی ہے

اے شیخِ حرم برسرِ منبر تِری یہ شعلہ بیانی

 اپنی بات

اے شیخِ حرم برسرِ منبر تِری یہ شعلہ بیانی
صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری کے قلم سے
 
قارئین کرام!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
ان ہمارے پیارے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں امام کعبہ، شیخ القرآن الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس بن عبد العزیز صاحب رونق افروز ہیں جو حکومتِ پاکستان کی دعوت پر تشریف لائے ہوئے ہیں اور تادمِ تحریر یہاں کے مختلف دینی اداروں کے پروگراموں میں شریک ہوچکے ہیں نیز اعلیٰ حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کرچکے ہیں۔ وہ جہاں جاتے ہیں مسلمانانِ پاکستان ان کا والہانہ استقبال کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہئے کہ مسلمانانِ برصغیر ایشیائے کوچک اپنے آقا و مولیٰ، تاجدارِ حرم، شہنشاہِ عرب و عجم سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان سے منسوب ہر شے سے والہانہ محبت کرتے ہیں اور حریمین شریفین کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کرنا سعادت سمجھتے ہیں کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ارشاد فرماکر:
لَآ اُقْسِمُ بِھٰذَا الْبَلَدِ O وَاَنْتَ حِلٌّ م بِھٰذَا الْبَلَدِ O  (البلد 90: 1 تا 2)
(مجھے اس شہر کی قسم کہ اے محبوب تم اس شہر میں تشریف فرما ہو)
روئے زمین کے تمام مسلمانوں کو حریمین شریفین سے محبت اور اس کے احترام کی تعلیم دی ہے۔ لہٰذا امامِ کعبہ (کسے باشد) سے مسلمانوں کا اظہارِ محبت و عقیدت ایک فطری عمل ہے۔ اس میں امامِ کعبہ کی دستارِ فضیلت اور جبہ مبارکہ کے اندر ملفوف شخصیت کی ذاتی حیثیت کا دخل نہ ہونے کے برابر ہے۔ بلکہ ان کا والہانہ استقبال کرنے والے ہزاروں مسلمانوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ اس قدر قیمتی، خوبصورت، لباس اور عباء سے مزین اس شخصیت کانام کیا ہے؟ سعودی حکومت سے حرم شریف میں امامت و خطابت کے عوض ان کو کس قدر بھاری رقم بطورِ تنخواہ ملتی ہے؟ اس عظیم منصب پر فائز ذاتِ گرامی کا طرزِ زندگی درویشانہ ہے یا شاہانہ؟ اور رنگ و نسل، مسلک و مشرب کے اعتبار سے ان کی پہچان کیا ہے؟ وہ تو صرف یہ جانتے ہیں کہ ہمارے آقا و مولیٰ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے ولادت کے متبرک شہر مکۃ المکرمہ سے ان کا تعلق ہے اور بس! اسی لیے پاکستان میں ہمارے محترم مہمانانِ گرامی نے اپنی اس والہانہ محبت کا بھی خوب فائدہ اٹھایا۔ حکومت اور عوام نے ان کا والہانہ استقبال کرکے صاحبِ اسلام اور مرکزِ اسلام سے اپنی پُرخلوص عقیدت و محبت کا اظہار کیا ہے۔ چنانچہ وہ جہاں جہاں بھی تشریف لے گئے، وہاں انہوں نے مسلمانانِ پاکستان کو پند و نصائح سے نوازا۔ جن امور کی طرف انہوں نے توجہ دلائی، ان سے کوئی مسلمان اختلاف نہیں کرسکتا۔ مثلا:
1۔مسلمانوں کو اپنی اصلاح و فلاح کے لیے قرآن مجید سے روشنی حاصل کرنی ہوگی۔
2۔امّہ کے اتحاد و اتفاق اور اسلامی دنیا کے مسائل کے حل کے لے اجتماعی کوششیں کرنی ہوں گی۔
3۔گروہی اور فرقہ وارانہ اختلافات سے گریز وقت کا تقاضہ ہے۔ سب مسلمان بھائی بھائی ہیں۔
4۔ایمان و عقیدہ میں پختگی اور احکاماتِ اسلامی پر پابندی سے عمل کرتے ہوئے ہم مسلمانوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کرنی ہوگی۔
(واضح ہو کہ آج سے تقریباً سو سال قبل امام احمد رضا محدثِ بریلوی علیہ الرحمۃ اس نکتہ کی طرف نہایت شدّ و مد کے ساتھ مسلم سائنسدانوں، اسکالرز، محققین اور علمائے وقت کی توجہ دلاچکے ہیں۔ یہاں تفصیل کی گنجائش نہیں ہے۔ آج سو سال بعد سرزمینِ حرمینِ شریف سے یہ اسی کی بازگشت ہے۔)
5۔جدید بین الاقوامی حالات کے تناظر میں حکمت و بصیرت کے ساتھ اسلام کی تبلیغ و اشاعت کی ضرورت ہے تاکہ اسلام کے خلاف مغرب کی غلط فہمیاں دور ہوں۔
6۔اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔
7۔”لال مسجد”والے معاشرہ کی اصلاح اور کفار و مشرکین سے جہاد کے لیے شرعاً مکلف نہیں۔ وہ صدر پرویش مشرف کے انتباہ پر لال پیلے نہ ہوں۔ یہ حکومت وقت کا کام ہے، انہیں ہی کرنے دیں۔
8۔اسلام امن و سلامتی کا پیامبر ہے۔ دہشت گرد مسلمان نہیں ہیں۔
یہ تو وہ امور ہیں جن میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے کہ جس سے کسی کو کوئی اختلاف کی گنجائش ہو لیکن شیخ حرم کی صدرِ مملکت جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کے بعد کچھ ایسے امور بھی امامِ حرم کے حوالے سے اخبارات کی شہ سرخیوں کی زینت بنے جن کو پڑھ کر پاکستانی عوام انگشت بدنداں رہ گئے کہ امامِ کعبہ نے پاکستان کے اندرونی سیاسی امور اور معاملات پر اظہارِ خیال کرنا اور فتویٰ دینا شروع کردیا۔ امام کعبہ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ صدر پرویز مشرف کی حفاظت فرمائے اور انہیں حاسدوں کے شر سے محفوظ رکھے۔ اخبارات میں اس قسم کے ان کے دیگر ارشادات بھی شہ سرخی بنے۔ انہوں نے فتویٰ دیا کہ ”حکومتِ وقت اور صدرِ مملکت کی اطاعت سب پر لازم ہے۔”وغیرہ وغیرہ۔ امامِ حرم کے اس قسم کے سیاسی بیانات اور فتووں نے جہاں صدر پرویز کے حامی حلقوں کو نہال کردیا، وہاں ان کے مخالفین خاص طور پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری صاحب کی حمایت میں مہم چلانے والی سیاسی پارٹیوں اور ان کے حامیوں کو شدید تعجب اور غم و غصہ میں مبتلاء کردیا۔ بلکہ انہی کے ہم مسلک و ہم عقیدہ معروف کالم نگار جناب عطاء الحق قاسمی نے جو اس سے قبل امامِ حرم کا نہایت ادب و احترام کے ساتھ نام لے رہے تھے، اس پر فوری ردِّ عمل ظاہر کرتے ہوئے تحریر کیا کہ ”شیخِ حرم نے صدر پرویز کے خلاف سیاسی تحریک چلانے والے عوام اور سیاسی رہنماؤں کو حاسد قرار دیا ہے اور آمریت کے حق میں دعا دی ہے۔”ملک کے ایک اور بڑے کالم نگار نے شیخِ حرم کے بیانات کو ایک ”سرکاری ملازم”کے افکار قرار دیا ہے۔ (واضح ہو کہ شیخ حرم موصوف حکومت سعودیہ کے ایک تنخواہ دار ملازم ہیں۔)
بہرحال! شیخِ حرم کے اس قسم کے بیانات سے بہت سے لوگوں کے دل افسردہ اور آنکھیں نمناک ہیں اور مہمان ”مردِ حق”کے لیے ہمارے ملک میں جو احترام و محبت کی فضاء بنی تھی، اب وہ مکدر ہوتی نظر آرہی ہے۔ علامہ اقبال نے سچ فرمایا:
سینہ افلاک سے اٹھتی ہے آہِ سوزناک
مردِ حق ہوتا ہے جب مرعوبِ سلطان و امیر
عوام نے شیخِ حرم محترم کا جو والہانہ استقبال کیا وہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ وہ ایک مقدس سرزمین کہ جہاں پیدائشِ مولیٰ کی دھوم ہے، کے منسوب کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جگہ جگہ جمع ہوئے۔ انہیں اس سے غرض نہیں تھی کہ جو صاحب شیخ حرم کی مقدس عباء میں تشریف لائے ہیں، ان کے ذاتی کوائف کیا ہیں۔ لیکن ہمارے ملک کے پڑھے لکھے طبقے کے افراد اور الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کے احباب بشمول کالم نگار حضرات کو تو ان تمام باتوں کا علم ہے۔ پھر وہ اس بات کو کیوں نہ سمجھ سکے کہ ہمارے مہمان محترم
وہ آئے نہیں بلائے گئے ہیں
مدرسہ جامعہ اشرفیہ، لاہور کے ساٹھ سالہ جشنِ تاسیس کا اسٹیج ہو یا ایوانِ صدر کی ضیافت گاہ، یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کی بساط گاہ تھی ورنہ آپ سوچیں کہ جن شیخِ حرم کے نزدیک سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا جشنِ ولادت منانا اور اس کے لیے تعینِ تاریخ و وقت و جگہ دونوں حرام ہوں وہ تعینِ تاریخ و وقت اور جگہ کے ساتھ اس جشن ساٹھ سالہ میں شرکت کی حرام دعوت کو قبول فرمارہے ہیں   ع
ناطقاں سربگریباں ہے اسے کیا کہیے؟
قارئین کرام! جب مدرسہ اشرفیہ (لاہور) کی بات چل نکلی ہے تو یہ بھی وضاحت کردی جائے کہ ان حضرات اور ”لال مسجد”والوں کے اگرچہ پیرانِ کرائم ایک ہی ہیں لیکن ان کے رنگ علیحدہ ہیں۔ ”لال مسجد”والے بات بات پر کبھی لال کبھی پیلے کبھی دونوں ہوتے رہتے ہیں لیکن ”اشرفیہ”والے چونکہ نہایت سادہ لوح اور مخلص قسم کے ”صلح کلی”ہیں اس لئے سفید رنگ کو پسند کرتے ہیں لیکن چونکہ ملک کے ”سفید و سیاہ کے مالک”اشرفیہ سے روز تاسیس سے ان کے گہرے روابط و مراسم رہے ہیں اس لیے کبھی یہ سیاہ عمامے اور جبے بھی استعمال کرلیتے ہیں۔ البتہ کبھی یہ سیاسی جبہ و عمامہ کے اوپر نظر آتی ہے اور کبھی اندر سے جھلکتی ہے۔ غرض کہ یہ باعمل حضرات آج کی دو عملی کے دور میں نہایت سختی سے حالی پانی پتی کی اس ہدایت پر عمل پیرا ہیں  ع
چلو تم ادھر کو، ہوا ہو جدھر کی!
قارئین کرام! آپ کو یاد ہوگا کہ چند ماہ قبل وفاقی وزیر مذہبی امور کے حوالے سے یہ خبریں اخبارات میں آئی تھیں کہ موصوف نے اسلام آباد کی ”لال مسجد”کے معاملات کے حوالے سے ”امامِ کعبہ”سے فتویٰ حاصل کرلیا ہے۔ امام صاحب جلد دوبارہ بطورِ مہمانِ حکومت پاکستان تشریف لائیں گے تو اس موضوع پر اظہارِ خیال فرمائیں گے۔ تو ظاہر ہے کہ ان کی آمد کا مقصد حکومتِ وقت کو سیاسی فائدہ پہنچانا ہی تھا۔
اب رہا اس کا رونا کہ انہوں نے ہمارے ملک میں آمریت کی تائید کی ہے، یہ امر فضولی ہے۔ تاریخِ نجد و حجاز پر نظر رکھنے والے تمام ذی شعور حضرات جانتے ہیں کہ سعودی مملکت کی بنیاد دو خانوادوں کے معاہدے اور شراکتِ عمل سے وجود میں آئی۔ آلِ سعود اور آلِ شیخ (شیخ محمد بن عبد الوہاب کا خاندان)۔ آلِ سعود حکومت کا سیاسی نظام چلانے کے ذمہ دار ہیں جب کہ آلِ شیخ مذہبی امور کی انجام دہی پر مامور ہیں۔ ان لوگوں نے حجاز مقدس کو تاراج کیا، وہاں کے مسلمانوں پر کفر و شرک کے فتوے لگائے اور عوام تو عوام، علماء کو تہہِ تیغ کیا۔ جب نجد و حجاز میں ایک نئی مملکت کی بنیاد رکھی گئی تو اسلام کے شیدائی اور مجاہد ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کے لیے یہ سنہری موقع تھا کہ وہاں خلافتِ راشدہ کے نمونے کی جمہوری حکومت قائم کی جاتی (جیسا کہ اس وقت کے صوبہئ نجد کے حکمران ملک عبد العزیز نے پوری مسلم امہ سے وعدہ فرمایا تھا جس کا تحریری ثبوت ہندوستان کی خلافت کمیٹی اور حجاز مقدس کے آثارِ مقدسہ بچاؤ کمیٹی کے ارکان علامہ سید سلمان ندوی اور مولانا محمد علی جوہر کے پاس تھا اور ”تاریخِ نجد و حجاز”مصنفہ مفتی عبد القیوم ہزاروی میں شائع ہوچکا ہے۔) لیکن دنیا نے دیکھا کہ حریمین شریفین کی مقدس سرزمین پر ہزاروں معصوم اور بے گناہ مسلمانوں کا خون بہانے اور صحابہئ کرام اور صالحین ِ امت کے تمام مزارات کو تاراج کرنے کے بعد وہاں ”جلالۃ ملک”(آلِ شیخ) کی شہنشاہیت قائم کی گئی۔ گستاخی معاف! یہ شیخانِ حرم اسی شہنشاہیت کے سائے میں پلے بڑھے ہیں۔ یہ جمعۃ المبارکہ کا خطبہ بھی اپنے الفاظ میں نہیں دے سکتے بلکہ شہنشاہِ وقت کی طرف سے تحریرشدہ خطبہ پڑھنے کے مکلف ہیں۔ تو ملوکیت کے سائے میں پروردہ شیخانِ حرم سے آمریت کے خلاف فتویٰ کی توقع ایسا ہی ہے جیسے خار زار زمین پر کوئی نسترین و نسترن، چمپا، چنبیلی اور گلاب کے چمنستان کھلنے کی امید لگائے۔
پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کے نمائندے ہمارے ملک میں آزادی صحافت، آزادی تحریر و تقریر، غیرجانبدار اور آزاد عدالتی نظام جس میں انسان کے بنیادی حقوق کی ضمانت ہو، کی آئے دن رٹ لگاتے ہیں، ٹی۔وی پر مذاکرات منعقد ہورہے ہیں، حقوقِ انسانی کی انجمنیں اور سیاسی پارٹیاں اور اکیدیمیات سیمینار منعقد کررہی ہیں۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ جب ہمارے محترم مہمان شیخ حرم نے پریس کانفرنس منعقد کی تو کسی صحافی نے ان سے ان کے ملک کے سیاسی، معاشی اور عدالتی نظام مذہبی و مسلکی تعصب پر مبنی اور شخصی آزادی اور اظہارِ رائے پر قدغن لگانے والے جبر و ظلم کا مذہبی پولیس (متوّہ) نظام کے متعلق کوئی سوال نہیں کیا۔ حالآنکہ حال ہی میں اخبارات میں عالمی حقوق انسانی کی انجمن کے حوالے سے ایک خبر شائع ہوئی ہے کہ سعودی عرب کی مذہبی پولیس سے سنگین قسم کی حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیاں مشاہدے میں آئی ہیں۔ اس پولیس کو کسی بھی شہری کے گھر میں گھسنے اور موقع پر معاشرتی جرم پر سزا دینے کے وسیع اختیارات ہیں۔ مذہبی پولیس جس کا جا و بے جا استعمال کرتی رہتی ہے اور ان کے تشدد سے کئی اموات بھی واقع ہوچکی۔ اس سلسلہ میں حقوقِ انسانی کی انجمن نے حکومت سعودیہ پر زور دیا ہے کہ وہ مذہبی پولیس کے اختیارات کو کم کرے اور گھروں میں گھس کر تشدد کرنے، لوگوں کو تشدد کرکے ہلاک کرنے والے پولیس اہلکار کے خلاف مقدمہ قائم کرکے تادیبی کاروائی کرے۔ تفصیلات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مذہبی پولیس مذہبی و مسلکی تعصب اور سعودی اور غیر سعودی کے حوالے سے بھی لوگوں کو تشدد کا نشانہ بناتی ہے اور اس کے خلاف کسی بھی عدالت میں سنوائی نہیں ہوتی۔ ضرورت تھی کہ شیخِ حرم سے درج ذیل سوالات پوچھے جاتے:
1)کیا اسلام کے سیاسی نظام میں ملوکیت اور شخصی نظامِ حکومت کی گنجائش ہے؟
2)کیا ملک کے افرادی، پیداواری اور معاشی وسائل پر شخصِ واحد، یا اس کے خاندان، یا ایک مخصوص گروپ کا قبضہ اور اس میں اپنا من مانا تصرف اسلامی شریعت کی رو سے جائز ہے؟
3)کیا سعودی عرب کے نظامِ عدل کے تحت اور وہاں کے قانون کے تحت عام شہری کے حقوق و مراعات وہی ہیں جو وہاں کے شاہی خاندان کو حاصل ہیں؟
4)کیا خلفائے راشدین کی طرح ”جلالۃ الملک”اعلیٰ عدالت یا پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہیں یا انہیں اس کے برعکس مکمل تحفظ حاصل ہے؟
5)کیا وہاں کی اعلیٰ عدالتیں ملک کے آئین کی تشریح کرنے کی مجاز ہیں؟
6)کیا معاشی استحصال اور حقوقِ انسانی کی خلاف ورزی کے معاملے میں ”جلالۃ الملک”سمیت ہر شخص عدالت کی نظر میں برابر ہے اور اس سے جواب طلبی ہوسکتی ہے؟
7)شیخِ حرم محترم نے مسلمانانِ پاکستان کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بین المسلمین اتحاد کو فروغ دینے کا مشورہ دیا ہے جو ایک اچھی بات ہے۔ مملکت سعودیہ میں بھی مختلف مسالک کے افراد آباد ہیں، مثلاً اہلِ سنت، شیعہ، وہابی، پھر مذہب کے حوالے سے حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی وغیرہ۔ کیا شیخِ حرم کے ملک میں تمام مذاہب و مسالک والوں کو اپنے اپنے فقہ اور عقیدوں کے مطابق زندگی گذارنے کی کھلی آزادی حاصل ہے؟
8)اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر یہ بتایا جائے کہ ایک ہی مسلک و مذہب کے امام کی اقتداء میں دوسرے مسلک و مذہب والوں کو نماز پڑھنے کے لیے مجبور کیا جانا اور انکار یا نمازِ باجماعت (ثانی) کے اہتمام پر مذہبی پولیس والے اس کو گرفتار کرکے پابندِ سلاسل کیوں کرتے ہیں؟ اور قاضی فوری طور پر انہیں قید و بند کی سزا کیوں سنادیتا ہے؟ کیا شخصی آزادی سلب کرنے کی یہ بدترین مثال نہیں ہے؟
9)شیخ حرمِ محترم آپ نے قیامِ پاکستان کے دوران جہاں جہاں تقریریں کی ہیں آپ نے بڑے زوردار الفاظ میں پاکستان میں موجود تمام فرقوں کو اتحاد و اتفاق سے رہنے کی تلقین کی ہے اور تمام فرقوں کو مسلمان تسلیم کرتے ہوئے انہیں عالمی سطح پر ملی یکجہتی کا مظاہرہ کرکے معاشیات اور سائنسی میدان میں ترقی کرنے کا نیک مشورہ دیا ہے، ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ لیکن دیکھا گیا ہے اور اس پر کثیر شہادتیں پیش کی جاسکتی ہے کہ آپ کے ملک میں ”وہابی”عقیدے کے علاوہ تمام دیگر مسالک کے لوگوں کو بلاتکلف مشرک قرار دیا جاتا ہے اور انہیں اپنے مسلک اور عقیدے کی تبلیغ کی آزادی تو بڑی بات ہے اپنے عقیدہ کے اظہار کی بھی آزادی نہیں۔ چنانچہ اپنے مسلک اور عقیدہ کے اعتبار سے عبادات اور اپنی مذہبی رسوم ادا کرنے والوں (بالخصوص اہلِ سنت وجماعت کے افراد) کو آپ کی مذہبی پولیس والے گرفتار کرکے نہ صرف یہ کہ تشدد کا نشانہ بناتے ہیں بلکہ جبر اور ظلم کرکے اسے اپنا عقیدہ اور مسلک چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں ورنہ اسے جیل کی نہایت تنگ و تاریک کوٹھری میں بند کرکے اس کے مرنے کا انتظار کرتے ہیں اور آپ کی مذہبی پولیس کے اس ظلم کے خلاف آپ کے ملک کی کسی عدالت میں اپیل بھی نہیں ہوسکتی۔ اور اگر اتفاق سے وہ شخص غیر سعودی ہے یعنی اس کا تعلق برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش سے ہے تو خواہ کتنی ہی بڑی علمی اور روحانی شخصیت کیوں نہ ہو، آپ کی حکومت اسے جیل کی سزا بھگتنے کے بعد اس کا خروج کرادیتی ہے خواہ وہ حج وعمرہ کا زمانہ ہی کیوں نہ ہو، وہ شخص احرام کی حالت ہی میں کیوں نہ ہو، آپ کی مذہبی پولیس والے اس پر بالکل ترس نہیں کھاتے۔ ناگفتہ بہ ظلم اور تشدد کے علاوہ ایک مسلمان کی حیثیت سے حج و عمرہ ادا کرنے کا اس کا جو بنیادی حق ہے، اس سے آپ اسے محروم کردیتے ہیں، تو آپ کے قول و فعل میں یہ تضاد کیوں ہے؟
9)جس بات کی تلقین آپ پاکستان کے مسلمانوں کو کررہے ہیں آپ اس کا مظاہرہ اپنے ملک میں کیوں نہیں کرتے کیوں کہ بطورِ امامِ حرم آپ کی تقرری بھی اسی مذہبی نظام کا ایک حصہ ہے جس کے ماتحت مذہبی پولیس آتی ہے۔ اس لیے اگر آپ کی یہ باتیں حقیقت اور صداقت پر مبنی ہیں تو آپ نے اپنے مذہبی اور سیاسی نظام کی اصلاح کی کوشش کیوں نہ کیں اور اگر آپ نے کی لیکن آپ کی سنوائی نہ ہوئی تو آپ ایسے ظالمانہ اور جابرانہ نظام کا حصہ بن کر اسلام کی کون سی خدمت انجام دے رہے ہیں؟
10)کیا آپ کے ملک کے نظامِ تعلیم میں دوسرے مسالک و مذاہب کی تعلیم کی گنجائش ہے یا سب کو وہابیت کا ہی نصاب پڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے؟
11)اگر آپ کی نظر میں مسلمانوں کے تمام فرقہ برابر ہیں اور آپ سب کو امّہ کا حصہ سمجھتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں آپ کی حکومت مساجد اور دینی مدارس کی تعمیر کے لیے جو مالی اعانت فرماتی ہے، وہ صرف اہلِ حدیث، دیوبندی اور جماعتِ اسلامی کے فرقوں کے لیے کیوں ہے؟ اہلِ سنت و جماعت کے افراد سے یہ امتیازی سلوک کیا آپ کے قول و فعل کا کھلا تضاد نہیں؟
درج بالا سطور کے لکھنے کا مقصد صحافی برادری اور میڈیا کی توجہ اس طرف مبذول کرانا مقصود ہے کہ آپ سب سے زیادہ آزادیئ اظہارِ رائے، آزادیئ صحافت، میڈیا کی آزادی، اطلاعات کی بہم رسانی سب کا بنیادی حق ہے اور حقوقِ انسانی کے تحفظ کا نعرہ بلند کرتے ہیں اور عدلیہ کی مقننہ سے آزادی کے حق میں آواز اٹھاتے ہیں اور بجا طور پر یہ سب کرتے ہیں۔ لیکن دیکھا گیا ہے کہ جب شیخانِ حرم یا آلِ شیخ کے خانوادے کی کوئی شخصیت پاکستان بطور مہمان آتی ہے تو میڈیا کے حضرات ان خادمانِ حرمین شریفین سے اس قسم کے سوالات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ وہ ان سے یہ سوال کیوں نہیں پوچھتے کہ آپ کے ملک اور اس کے آئین کو تو اسلام کے دورِ اول والے خلافتِ راشدہ کے عادلانہ، رفاہی، فلاحی، سیاسی، معاشی، معاشرتی اور عدالتی نظام کا نمونہ (Model) ہونا چاہیے تھا۔ لیکن گذشتہ سو سال سے آپ کے ملک میں ملوکیت، جبر و استیصال اور قبائلی، مذہبی، مسلکی و طبقاتی امتیازات پر مبنی سیاسی و معاشرتی نظام قائم ہے۔ کیا وجہ ہے کہ آپ دنیا بھر کے مسلمانوں کو یکجہتی اور اسلامی شریعت کے نظام کے تحت زندگی بسر کرنے کی تلقین کرتے ہیں لیکن خود اپنے ملک میں اور اپنے اوپر اس نظام کو جاری و ساری نہیں کرتے؟
امام حرم اور شیخِ حرم ہونا ایک بہت بڑا منصب ہے، دنیا کے کروڑوں مسلمان ان سے مذہبی اور سیاسی طور پر رہنمائی کی توقع رکھتے ہیں۔ اس لیے اس منصب پر فائز شخصیات پر بھی لازم ہے کہ سچائی، دیانتداری، نیک نیتی اور اسلام کے نظامِ عدل و احسان سے واقفیت اور اللہ سبحانہ، و تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرم و محتشمؐ سے محبت کا جو کم سے کم معیار ہے اس پر پوری اتریں۔ جو لوگ ان تقاضوں کو پورا نہیں کرتے وہ بلاشبہ امانت کے ضائع کرنے والوں میں سے ہیں۔ قیامت کے دن رسوائی ان کا مقدر ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شیخانِ حرم کی مجلس میں میڈیا کے سارے ہی فرد وہابی بن جاتے ہیں یا پھر وہاں بلائے ہی وہابی جاتے ہیں؟ بہرحال قوم کو اس سے دلچسپی نہیں کہ ایک صحافی کا مذہب و مسلک کیا ہے بلکہ وہ تو اس چیز سے دلچسپی رکھتی ہے کہ ایک صحافی یا میڈیا مین کی دیانت ہی اس کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ ان کا یہ دعویٰ کہ ہم وہی لکھتے، چھاپتے اور وہ خبریں پیش کرتے ہیں جو سچ ہے، دلیل کا طالب ہے۔ کم از کم شیخِ حرم محترم محمد عبد الرحمن السدیس کے حالیہ دورہ پاکستان کے حوالے سے ان کا یہ دعویٰ تشنہ دلیل ہے:
چو پردہ دار بشمشیر می زندہمہ را
کسی مقیمِ حریمِ حرم نخواہد ماند