اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ سورہ فاتحہ آیت 1

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لائق ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے
بسم اللہ میں اسم کا الف حذف کرنے کی وجہ :
مشہور نحوی فراء لکھتے ہیں :
تمام مصاحف کے لکھنے والوں اور قراء کا اس پر اجماع ہے کہ بسم اللہ میں اسم کا الف محذوف ہے اور (آیت) ” فسبح باسم ربک العظیم “۔ (الواقعہ : ٧٤‘ الحاقہ : ٥٢) میں الف کو برقرار رکھا گیا ہے کیونکہ سورتوں اور دیگر کتابوں کی ابتداء میں بسم اللہ کی جگہ معروف ہے ‘ کیونکہ عرب کا طریقہ اختصار ‘ اور کثیر الاستعمال لفظ کے حروف کو کم کرنا ہے بہ شرطی کہ اس کا معنی معروف ہو ‘ اور (آیت) ” فسبح باسم ربک “ میں الف کو برقرار رکھا گیا ہے کیونکہ بسم اللہ کی بہ نسبت ” باسم ربک “ کا استعمال بہت کم ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ کھانے ‘ پینے ‘ ذبح کرنے بلکہ ہر نیک کام سے پہلے بسم اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ (معانی القرآن مطبوعہ بیروت)
علامہ بیضاوی نے کہا ہے کہ اسم کا الف جو حذف کیا گیا ہے اس کے عوض بائے بسم اللہ کو لمباکر کے لکھا جاتا ہے۔
لفظ اللہ کا معنی اور اس کے وصف یا علم ہونے کی تحقیق :
علامہ مکی بن ابی طالب لکھتے ہیں :
لفظ اللہ اصل میں ” الاہ “ ہے پھر اس پر الف الام داخل کیا گیا تو ” الالاہ “ ہوگیا پھر تخفیفا الف کو حذف کیا اور اس کی حرکت پہلے لام پر داخل کردی اور پہلے لام کا دوسرے لام میں ادغام کردیا تو یہ لفظ ” اللہ “ ہوگیا ایک قول یہ ہے کہ یہ اصل میں ” لاہ “ ہے اس پر الف لام داخ کیا اور لام کا لام میں ادغام کیا تو یہ لفظ ” اللہ ہوگیا اور خلیل سے منقول ہے کہ اس کی اصل ” ولاہ “ ہے (مشکل اعراب القرآن ‘ مطبوعہ انتشارات نور ‘ ایران ‘ ١٣٦٢ ھ)
علامہ ابن منظور افریقی لکھتے ہیں :
” الہ “ کا معنی ہے حیرت زدہ ہونا ‘ کیونکہ بندہ جب اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال میں غور کرتا ہے توحیرت زدہ ہوجاتا ہے ‘ اور ” لاہ “ سریانی زبان کا لفط ہے ‘ جو چیز بلند اور محجوب ہو اس کو ” لاہ “ کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انسانی آنکھوں سے محجوب ہے اور جو چیز اس کے لائق نہ ہو اس سے بلند ہے ‘ اور ” ولاہ “ کا معنی ہے بچہ کا خوف زدہ ہو کر ماں کی طرف لپکنا ‘ اور تمام مخلوق اپنے مصائب اور پریشانیوں میں گھبراکر اللہ کی طرف لپکتی ہے ‘ ان وجوہ سے کہا جاتا ہے کہ لفظ اللہ ” الہ “ سے ” لاہ “ سے یا ” ولاہ “ سے بنا ہے۔ ابن اثیر نے کہا : یہ ” الہ “ سے بنا ہے اور منذری نے کہا : یہ ” الالہ “ سے بنا ہے۔ (لسان العرب ج ١٣ ص ٤٦٩۔ ٤٦٧ مطبوعہ نشر ادب الحوذۃ ‘ قم ‘ ایران)
اور علامہ فیروز آبادی لکھتے ہیں :
سیبویہ نے کہا کہ لفظ اللہ کا ” لاہ “ سے بننا جائز ہے ‘ اس کا معنی بلندی اور ارتفاع ہے۔ (قاموس ج ٤ ص ٤١٦‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)
علامہ زبیدی حنفی لکھتے ہیں :
زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ لفظ اللہ ذات واجب الوجود کے لیے علم (شخصی نام) ہے جو کہ تمام صفات کمال کی جمامع ہے اور یہ لفظ مشتق نہیں ہے، ابن العربی نے کہا : یہ علم ہے اور الہ حق پر دلالت کرتا ہے اور یہ تمام اسماء حسنی الہیہ احدیہ کا جامع ہے۔ (تاج العروس ج ١ ص ٣٧٤‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)
ہمارے نزدیک تحقیق یہی ہے کہ لفظ اللہ کسی لفظ سے نہیں بنا ‘ اور یہ اصل میں علم ہے وصف نہیں ہے کیونکہ لفظ اللہ موصوف ہوتا ہے اور کسی موصوف کی صفت نہیں بنتا ‘ نیز اللہ تعالیٰ کی متعدد صفات ہیں اور ان صفات کے عمل کے لیے کسی موصوف کی ضرورت ہے اور لفظ اللہ کے علاوہ اور کوئی لفظ اس کی صلاحیت نہیں رکھتا ‘ اور اگر لفظ اللہ مشتق اور صفت ہو تو پھر ” لا الہ الا اللہ “ سے توحید ثابت نہیں ہوگی کیونکہ صفت کلی ہوتی ہے اور شرکت کثیرین سے مانع نہیں ہوتی اور علامہ بیضاوی کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ یہ لفظ اصل میں وصف تھا اور غلبہ استعمال کی وجہ سے بہ منزلہ علم ہوگیا کیونکہ پھر مرتبہ وضع میں توحید ثابت نہیں ہوگی ‘ اور ” الہ “ اور ” لاہ “ کے ساتھ لفظی مناسبت سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ لفظ ان میں کسی ایک لفظ سے بنا ہو اور حق یہ ہے کہ جس طرح اللہ کی ذات کسی سے نہیں بنی اسی کی ذات پر دلالت کرنے والا بھی کسی لفظ سے نہیں بنا۔
علامہ شامی لکھتے ہیں :
علامہ سعد الدین تفتازانی اور علامہ عصام الدین نے کہا ہے کہ لفظ اللہ اس ذات کے لیے علم (شخصی نام) ہے جو واجب الوجود ہے ‘ اور تمام صفات محمودہ کی جامع ہے ‘ اور علامہ میرسید شریف نے کہا : جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات کا ادراک کرنے سے انسان کی عقل حیران اور عاجز و درماندہ ہے اسی طرح اس کی ذات پر دلالت کرنے والے اسم کی حقیقت کو پانے سے بھی عقلیں حیران اور پریشان ہیں۔ کسی نے کہا : یہ لفظ سریانی ہے ‘ کسی نے کہا : یہ عربی ہے ‘ کسی نے کہا : یہ وصف اور مشتق ہے ‘ کسی نے کہا : علم ہے اور جمہور کا موقف یہ ہے کہ لفظ اللہ عربی ہے اور علم مرتجل ہے (کوئی اور لفظ اس کی اصل نہیں ہے) امام ابو حنفیہ ‘ (رح) امام محمد بن الحسن ‘ (رح) امام شافعی (رح) اور خلیل (رح) کا یہی نظریہ ہے ‘ امام اعظم ابوحنیفہ (رح) سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم یہی اسم ہے ‘ امام طحاوی اور دیگر کثیر علماء اور عار فین کا یہی قول ہے۔ (رد المختار ج ١ ص ٥‘ مبطوعہ مطبعہ عثمانیہ ‘ استنبول ‘ ١٣٢٧ ھ)
رحمن اور رحیم کا معنی :
علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں :
رحمت اس رقت قلب کو کہتے ہیں جس کا تقاضایہ ہے کہ مرحوم پر احسان کیا جائے ‘ کبھی یہ لفظ رقت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی اور جب رحمت اللہ تعالیٰ کی صفت ہو تو پھر اس کا معنی صرف احسان اور افضال ہے نہ کہ رقت قلب ‘ اور جب رحمت آدمیوں کی صفت ہو تو پھر اس کا معنی رقت اور شفقت ہے۔
رحمان کا اطلاق اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ رحمان کا معنی ہے : وہ ذات جس کی رحمت ہر چیز کو محیط ہو اور اس معنی کا مصداق اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا ‘ اور رحیم کا اطلاق اللہ تعالیٰ کے غیر پر بھی ہوسکتا ہے کیونکہ رحیم کا معنی ہے : جو بہت رحم کرتا ہو ‘ قرآن مجید میں رحیم کا اطلاق اللہ پر بھی ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق فرمایا : (آیت) ” ان اللہ بالناس لرءوف رحیم “۔ (الحج : ٦٥) بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر نہایت مہربان اور بہت رحم فرمانے والا ہے۔
اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق فرمایا :
لقد جآء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ما عنتم حریص علیکم بالمؤمنین رءوف رحیم “۔ (التوبہ : ١٢٨) بیشک تمہارے پاس تمہی میں سے ایک عظیم رسول آئے جن پر تمہارا مشقت میں مبتلا ہونا سخت دشوار ہے ‘ وہ تمہاری بھلائی پر بہت حریص ہیں اور مومنوں پر نہایت مہربان اور بہت رحم فرمانے والے ہیں “۔
ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں رحمن ہے کیونکہ دنیا میں اس کا احسان مومنوں اور کافروں دونوں پر ہے اور آخرت میں رحیم ہے کیونکہ آخرت میں اس کا احسان صرف مومنوں پر ہوگا کافروں پر نہیں ہوگا۔ (المفردات ص ١٩٢۔ ١٩١‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)
رحمن کو رحیم پر مقدم کرنے کی وجوہ :
خلاصہ یہ ہے کہ رحمان اور رحیم دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں اور رحمان میں رحیم کی بہ نسبت زیادہ مبالغہ ہے۔ اب یہاں ایک سوال یہ ہے کہ عرب کا طریقہ یہ ہے کہ صفات مدح میں ادنی سے اعلی کی طرف ترقی کرتے ہیں مثلا کہتے ہیں : ” فلان عالم نحریر “ (فلاں شخص عالم ‘ ماہر ہے) اس لیے بہ ظاہر پہلے رحیم اور پھر رحمان کا ذکر ہونا چاہیے تھا ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ وصف پر مقدم ہوتا ہے ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ رحمن کا لفظ تمام عظیم اور جلیل نعمتوں کو شامل ہے جو بہ منزلہ اصول ہیں اور رحیم اس کا تتمہ ہے جو فروعی اور دقیق نعمتوں کو شامل ہے اور جو لفظ جلیل ‘ عظیم اور اصل نعمتوں پر دلالت کرتا ہے وہ اس لفظ پر مقدم ہونا چاہیے جو دقیق اور فروعی نعمتوں پر دلالت کرتا ہےَ ‘ تیسرا جواب یہ ہے کہ رحمن کا تعلق دنیا سے ہے اور رحیم کا تعلق آخرت سے ہے اور دنیا آخرت سے پہلے ہے، اس لیے رحمن کا ذکر رحیم سے پہلے کیا ہے ‘ چوتھا جواب یہ ہے کہ رحمان عام ہے کیونکہ اس کا تعلق مومن اور کافر دونوں سے ہے اور رحیم خاص ہے کیونکہ اس کا تعلق صرف مومن سے ہے اور عام خاص پر مقدم ہوتا ہے اس لیے رحمان کو رحیم پر مقدم کیا ہے ‘ کیونکہ رحمن میں رحیم کی بہ نسبت زیادہ مبالغہ ہے ‘ اس لیے ہم نے رحمن کا معنی ” نہایت رحم فرمانے والا “ اور رحیم کا معنی ” بہت مہربان “ کیا ہے۔
بسم اللہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف رمز اور اشارہ :
علامہ آلوسی (رح) لکھتے ہیں :
الف بسیط اور مطلق ہے اور وہ اپنی بساطت اور اطلاق کی وجہ سے اللہ عزوجل کی ذات مطلقہ پر دلالت کرتا ہے اور الف کے بعد باء ہے اور تمام تعینات پر مقدم ہے سو باء اپنے تعین اول کے لحاظ سے حقیقت محمدی پر دلالت کرتی ہے ‘ اسی طرح بسم اللہ کی باء میں ذات محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف اشارہ ہے ‘ اور باء پر کسرہ (زیر) ہے اور اس سے آپ کی صفت رحمت کی طرف اشارہ ہے ‘ قرآن مجید ہے :۔
(آیت) ” وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین “۔ (الانبیاء : ١٠٧) اور ہم نے آپکو تمام جہانوں کے لیے صرف بہ طور رحمت بھیجا ہے۔
نیز فرمایا :
(آیت) ” بالمؤمنین رء وف رحیم “۔ (التوبہ : ١٢٨) اور مومنوں پر نہایت مہربان اور بہت رحم فرمانے والے ہیں :
اس میں یہ رمز ہے کہ جن پر یہ کتاب نازل ہوئی ہے اور جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں اگرچہ وہ صاحب خلق عظیم ہیں اور ان کا ہر وصف اعلی ہے لیکن ان پر صفت رحمت کا غلبہ ہے ‘ وہ ” رء وف رحیم “ ہیں اور جس کی طرف وہ دعوت دے رہے ہیں وہ (آیت) ” الرحمن الرحیم “۔ ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ قرآن کی ہر سورت سے پہلے بسم اللہ ہے اور اس میں آپ کی صفت رحمت کی طرف اشارہ ہے ‘ سورة توبہ کی ابتداء میں بسم اللہ نہیں لکھی گئی، وہ براءۃ سے شروع ہے اور باء سے آپ کی ذات اور باء کی فتح (زبر) سے آپ کی صفت جلال کی طرف اشارہ ہے ‘ قرآن مجید کی ایک سو چودہ سورتیں ہیں ‘ ایک سو تیرہ سورتون میں بسم اللہ کے ذکر سے آپ کی رحمت کی طرف اشارہ ہے اور ایک سورت میں براءۃ کی نصب سے آپ کے غضب کی طرف اشارہ ہے ‘ خلاصہ یہ ہے کہ ہر سورت کی لوح جبیں پر حقیقت محمدی کی طرف رمز ہے۔ ایک سوتیرہ سورتوں میں آپ کے جمال کی طرف اور ایک سورت میں آپ کے جلال کی طرف اشارہ ہے۔ (روح المعانی ج ١ ص ٥٢۔ ٥١‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)
بعض محققین نے بیان کیا کہ بسم اللہ میں باء کے بعد اسم اللہ ہے اور اسم اللہ میں بھی حقیقت محمدی کی طرف رمز ہے کیونکہ اسم وہ ہے جو مسمی پر دلالت کرے اور یوں تو ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ذات پر دلالت کرتی ہے لیکن کامل دلالت کرنے والا وہ ہوگا جس کی دلالت سب کے لیے ہو ‘ جو نبیوں اور رسولوں کے لیے بھی اللہ کی دلیل ہو ‘ انسانوں اور جنوں کے لیے بھی رہنما ہو ‘ شجر و حجر ‘ دشت وجبل ‘ بحر وبر اور کائنات کی ہر حقیقت کے لیے دلیل ہو اور ایسی کامل دلیل بہ جز ذات محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور کوئی نہیں ہے تو وہی اسم اللہ ہیں اور یوں اسم اللہ میں بھی حقیقت محمدی کی طرف رمز ہے۔ آپ اللہ کا اسم ہیں اور اسم مسند اور مسندالیہ ہوتا ہے اور آپ اللہ کی طرف مسند ہیں اور ساری کائنات کے لیے مسند الیہ ہیں ‘ اسم کا خاصہ ہے حرف جر ‘ اور جر کا معنی ہے کھینچنا اور آپ لوگوں کو جہنم کے کنارے سے کھینچ کھینچ کر جنت کی طرف لائے اور حروف جارہ میں ” من “ اور ” الی “ ہیں ” من “ ابتدا کیلیے اور ” الی “ انتہاء کے لیے ہے اور نبوت کی ابتداء بھی آپ سے ہے اور نبوت کی انتہاء بھی آپ پر ہے اور حروف جارہ میں باء الصاق کے لیے آتی ہے یعنی ایک چیز کو دوسری چیز سے ملانے کے لیے ‘ اور آپ نے بندوں کو خدا سے ملایا ہے ‘ اور حروف جارہ میں ” علی “ ہے ‘ ” علی “ استعلاء اور بلندی کے لیے آتا ہے اور آپ ساری کائنات پر بلند ہیں ‘ خلاصہ یہ ہے کہ بسم اللہ کی باء ‘ باء کے کسرہ اور اسم الہ ان سب میں حقیقت محمدی کی طرف رمز ہے۔
” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ سے متعلق فقہی مباحث “۔
ایک بحث یہ ہے کہ سورة فاتحہ کے شروع میں جو ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ لکھی ہے وہ قرآن کریم کا جز ہے یا نہیں۔ دوسری بحث یہ ہے کہ آیا وہ سورة فاتحہ کا جز ہے یا نہیں ‘ تیسری بحث یہ ہے کہ سورتوں کے اوائل میں جو ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ لکھی ہے وہ ان سورتوں کا جز ہے یا نہیں، چوتھی بحث یہ ہے کہ نماز میں بسم اللہ پڑھی جائے یا نہیں ‘ چھٹی بحث یہ ہے کہ بسم اللہ کو جہرا یا آہستہ ‘ اور ساتویں بحث میں بسم اللہ کے احکام شرعیہ اور مسائل ہیں اور آٹھویں بحث میں بسم اللہ کے فوائد اور حکمتیں ہیں۔
” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کے آیت قرآن ہونے کی تحقیق :
علامہ ابوبکر رازی لکھتے ہیں :
مسلمانوں کا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ سورة نمل کی یہ آیت ”۔ انہ من سلیمن وانہ بسم اللہ الرحمن الرحیم “ (النمل : ٣٠) قران کریم جز ہے اور اس پر بھی اتفاق ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سب سے پہلے جو آیت نازل ہوئی وہ (آیت) ” اقراباسم ربک الذی خلق “ ہے۔ مسعودی نے حارث کلبی سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے مکاتیب کی ابتداء میں باسمک اللہم لکھتے تھے حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی : ” بسم اللہ مجرھا ومرسھا “۔ (ھود : ٤١) تو آپ بسم اللہ لکھنے لگے پھر یہ آیت نازل ہوئی : قل ادعواللہ اودعوالرحمن “۔ (الاسراء ١١٠) تو آپ ” بسم اللہ الرحمن “ لکھنے لگے۔ ” سنن ابوداؤد میں روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کو اس وقت تک نہیں لکھا جب تک کہ سورة نمل نازل ہوئی ‘ اور جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صلح نامہ حدیبیہ لکھوایا تو آپ نے حضرت علی (رض) سے فرمایا : لکھو ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ تو سہیل نے کہا : ” باسمک اللہم “ لکھو کیونکہ ہمارے نزدیک رحمن معروف نہیں ہے۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پہلے قرآن مجید میں نہیں تھی حتی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو سورة نمل میں نازل کیا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٣٧٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
ہر چند کہ سورة نمل مکی سورت ہے لیکن اس سے پہلے متعدد سورتیں نازل ہوچکی تھیں ‘ اگر ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ ہر سورت کے اوائل کا جز ہوتی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابتدا ہی سے ” باسمک اللہم “ کے بجائے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ لکھتے ‘ لہذا ” سنن ابوداؤد “ کی مذکور الصدر حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سورة نمل نازل ہونے سے پہلے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ قرآن مجید میں نہیں تھی اور نہ ہی اوائل سورة قرآن کا جز تھی۔
” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کے سورة فاتحہ کے جز نہ ہونے کی تحقیق اور مذاہب اربعہ :
علامہ ابوبکر رازی حنفی لکھتے ہیں :
اس میں اختلاف ہے کہ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ سورة فاتحہ کا جز ہے یا نہیں ‘ قراء کو فیہ نے اس کو سورة فاتحہ کی ایک آیت قرار دیا ہے اور قراء بصریہ نے اس کو سورت فاتحہ کی آیات سے شمار نہیں کیا ‘ ہمارے اصحاب (فقہاء احناف) سے یہ تصریح منقول نہیں ہے کہ یہ سورة فاتحہ کی آیت ہے ‘ البتہ ہمارے شیخ ابو الحسن کرخی نے فقہاء احناف کا یہ مذہب نقل کیا ہے کہ بسم اللہ کو نماز میں جہرا نہیں پڑھا جائے گا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ فقہاء احناف کے نزدیک بسم اللہ سورة فاتحہ کی ایک آیت نہیں ہے ورنہ اس کو بھی جہرا پڑھا جاتا جیسے سورة فاتحہ کی باقی آیات کو جہرا پڑھا جاتا ہے۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک بسم اللہ سورة فاتحہ کیا ایک آیت ہے۔
فقہاء احناف کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میرے اور میرے بندے کے درمیان صلوۃ ( سورة فاتحہ) کو نصف ‘ نصف تقسیم کردیا گیا ہے ‘ نصف میرے لیے اور نصف میرے بندہ کے لیے ہے اور میرے بندہ کے لیے وہ ہے جس کا وہ سوال کرے ‘ پس جب بندہ کہتا ہے : ‘(آیت) ” الحمد للہ رب العالمین “۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، میرے بندہ نے میری حمد کی ‘ اور جب بندہ کہتا ہے :” الرحمن الرحیم “ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندہ نے میری تعظیم کی یا میری ثناء کی ‘ اور جب بندہ کہتا ہے، (آیت) ”۔ مالک یوم الدین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ‘ بندہ نے (خود) کو میرے سپرد کردیا ‘ اور جب بندہ کہتا ہے (آیت) ”۔ ایاک نعبد وایاک نستعین “۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، یہ میرے اور میرے بندہ کے درمیان ہے ‘ اور میرے بندہ کے لیے وہ ہے جس کا وہ سوال کرے، اور جب وہ کہتا ہے : (آیت) ”۔ اھدنا الصراط المستقیم “۔ اخیر سورت تک ‘۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ میرے بندہ کے لیے وہ ہے جس کا وہ سوال کرے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ٩۔ ٨‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)
اس حدیث کو امام مسلم (رح) نے روایت کیا ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ١٧٠۔ ١٦٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
اگر بسم اللہ سورة فاتحہ کا جز ہوتی تو سورة فاتحہ کی آیات میں اس کا بھی ذکر اس حدیث میں ہوتا ‘ اور جب آپ نے سورة فاتحہ کی آیات میں بسم اللہ کا ذکر نہیں کیا تو معلوم ہوا کہ بسم اللہ ‘ سورة فاتحہ کی آیت اور جز نہیں ہے۔
” شرح صحیح مسلم “ جلد اول میں ہم نے اس کے مزید دلائل ذکر کئے ہیں اور علماء شافعیہ نے ان دلائل کے جو جوابات دیئے ہیں ان پر بحث کی ہے۔ امام ابوحنفیہ اور امام مالک کے نزدیک ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ سورة فاتحہ کی جز نہیں ہے، اور امام شافعی (رح) اور امام احمد کے نزدیک سورة فاتحہ کی جز ہے۔
اوائل سورة میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کے ان سورتوں کے جز نہ ہونے کی تحقیق اور مذاہب اربعہ :
علامہ نووی شافعی (رح) لکھتے ہیں :
اوائل سورة میں بسم اللہ قرآن کا جز ہے ‘ کیونکہ امام مسلم (رح) نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس ہوئے ہوئے تھے ‘ پھر آپ نے مسکراتے ہوئے سر اٹھایا ہم نے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : مجھ پر ابھی ایک سورت نازل ہوئی ہے ‘ پھر آپ نے تلاوت کی : (آیت) ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ انا اعطینک الکوثر فصل لربک وانحر ان شانئک ھو الابتر (الکوثر) (شرح مسلم ج ١ ص ١٧٢‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة کوثر سے پہلے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کو تبرکا پڑھا ہے ‘ سورة کوثر کی آیت ہونے کے لحاظ سے نہیں پڑھا کیونکہ اگر ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ ہر سورت ابتداء میں اس کا جزہوتی تو آپ سب سے پہلے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ نازل ہوتی حالانکہ ” صحیح بخاری “ اور دیگر کتب صحاح میں یہ تصریح ہے کہ آپ پر سب سے پہلے (آیت) ” اقرا باسم ربک الذی خلق “۔ (العلق : ١) نازل ہوئی ہے اور اس پر سب کا اجماع ہے کہ آپ پر سب سے پہلے یہی آیت نازل ہوئی ہے۔
علامہ ابن العربی مالکی لکھتے ہیں :
اس پر تمام لوگوں کا اتفاق ہے کہ سورة نمل میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کتاب اللہ کی آیت ہے اور ہر سورت کی ابتداء میں اس کے آیت ہونے میں اختلاف ہے ‘ امام مالک اور امام ابوحنفیہ یہ کہتے ہیں کہ ہر سورت کی ابتداء میں یہ آیت نہیں ہے ‘ اس کو اس لیے ذکر کیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ یہاں سے سورت شروع ہوئی ہے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ٥‘ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت)
علامہ ابوالحسن مرداوی حنبلی لکھتے ہیں :
اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ سورة فاتحہ کے سوا ہر سورت کے اول میں بسم اللہ اس سورت کا جز نہیں ہے ‘ علامہ زرکشی نے بھی اسی طرح لکھا ہے۔ (انصاف ج ٢ س ٤٨‘ مطبوعہ دارا احیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٣٧٢ ھ)
غالبا علامہ مرداوی کو اس مسئلہ میں امام شافعی کے اختلاف کا علم نہیں ہے۔
علامہ ابوبکر رازی حنفی لکھتے ہیں :
اس میں اختلاف ہے کہ آیا اوائل سورة میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ ان سورتوں کی ایک آیت ہے یا نہیں ؟ ہمارے نزدیک ہر سورت کے اول میں جو ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ ہے وہ اس سورت کی آیت نہیں ہے ‘ کیونکہ اس سورت کے ساتھ بسم اللہ کو جہرا نہیں پڑھا جاتا ‘ نیز جب یہ سورة فاتحہ کی جز نہیں ہے تو اسی طرح باقی سورتوں کی بھی جز نہیں ہے ‘ کیونکہ یہ کسی کا قول نہیں ہے کہ یہ سورة فاتحہ کی جز نہیں ہے اور باقی سورتوں کی جز ہے ‘ اور امام شافعی (رح) کا یہ قول ہے کہ ہر سورت سے پہلے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ اس سورت کی ایک آیت ہے اور ان سے پہلے یہ قول کسی نے نہیں کیا۔ اس سے پہلے یہ اختلاف تھا کہ یہ سورة فاتحہ کی جز ہے یا نہیں۔ اوائل سورة سے پہلے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کے جز نہ ہونے کے یہ دلائل ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عثمان بن عفان (رض) سے پوچھا : اس کا کیا سبب ہے کہ آپ نے سورة توبہ اور سورة انفال کو سات بڑی سورتوں میں رکھا ہے اور آپ نے ان دو سورتوں کے درمیان ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ نہیں لکھی ؟ حضرت عثمان (رض) نے کہا : جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کئی آیات نازل ہوتیں تو آپ کسی لکھنے والے کو بلاتے اور فرماتے : اس آیت کو فلاں سورت میں رکھو ‘ اور جب آپ پر ایک یا دو آیتیں نازل ہوتیں تب بھی آپ اسی طرح فرماتے ‘ سورة انفال کو مضمون سورة توبہ کے مضمون کے مشابہ تھا تو میں نے یہ گمان کیا کہ یہ اس کے ساتھ لاحق ہے ‘ اس لیے میں نے ان دونوں کو سات بڑی سورتوں میں رکھا ‘ اور ان کے درمیان ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کی سطر نہیں لکھی۔ اس حدیث میں حضرت عثمان (رض) نے یہ تصریح کی ہے کہ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کسی سورت کا جز نہیں ہے اور وہ سورت سے پہلے بسم اللہ کو صرف دو سورتوں کے درمیان فصل کے لیے لکھتے تھے ‘ نیز اگر ہر سورت سے پہلے بسم اللہ اس سورت کا جز ہوتی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بتلانے سے ہر شخص کو اس کا علم ہوتا ‘ جیسا کہ دوسری آیات کا سب کو بغیر کسی نزاع کے علم ہے۔ دوسری دلیل یہ حدیث ہے :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قرآن میں ایک سورت کی تیس آیات ہیں جو اپنے پڑھنے والے کی شفاعت کرتی رہے گی حتی کہ اس کی مغفرت کردی جائے گی (وہ سورت ہے) (آیت) ” تبارک الذی بیدہ الملک “ اور تمام قراء وغیرہ کا اس پر اتفاق ہے کہ سورة (آیت) ” تبارک الذی “ میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کے علاوہ تین آیتیں ہیں ‘ اگر بسم اللہ اس سورت کا جز ہو تو اس سورت کی اکتیس آیتیں بن جائیں گی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس حدیث کے خلاف ہے۔
تیسری دلیل یہ ہے کہ تمام قراء اور فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ سورة کوثر کی تین اور سورة اخلاص کی چار آیتیں ہیں ‘ اگر بسم اللہ کو ان سورتوں کا جز مانا جائے تو پھر ان کی آیتوں کی تعداد چار اور پانچ ہوجائے گی اور یہ ان کے اتفاق کے خلاف ہے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ١١۔ ٩‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)
نماز میں بسم اللہ پڑھنے کے متعلق مذاہب اربعہ :
علامہ ابوبکر رازی حنفی (رح) لکھتے ہیں :
امام ابوحنفیہ (رح) ‘ امام محمد (رح) ‘ امام زفر (رح) ‘ اور امام شافعی (رح) ‘ یہ کہتے ہیں کہ نماز میں ” اعوذ باللہ “ کے بعد سورة فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھی جائے ‘ اور اس میں اختلاف ہے کہ آیا ہر رکعت میں بسم اللہ پڑھی جائے یا نہیں ‘ اسی طرح سورت سے پہلے بسم اللہ پڑھی جائے یا نہیں۔ امام ابویوسف (رح) نے امام ابوحنیفہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورة فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھے اور امام ابوحنفیہ (رح) اور امام یوسف (رح) کے نزدیک (ضم) سورت سے پہلے دوبارہ بسم اللہ نہ پڑھے ‘ اور امام محمد (رح) اور حسن بن زیاد نے امام ابوحنفیہ (رح) سے یہ روایت کیا ہے کہ جب پہلی رکعت میں قرات سے پہلے بسم اللہ پڑھ لی ہے تو اب اس نماز میں سلام پھرنے تک اس پر بسم اللہ پڑھنے کا حکم نہیں ہے ‘ اور اگر اس نے ہر سورت کے ساتھ بسم اللہ پڑھ لی تو مستحسن ہے۔ حسن بن زیاد نے کہا : اگر وہ مسبوق ہے تو اس کی پہلی رکعت میں اس پر بسم اللہ پڑھنا ضروری نہیں ہے ‘ کیونکہ امام پہلی رکعت میں بسم اللہ پڑھ چکا ہے اور امام کی قرات اس کی قرات ہے۔
امام مالک بن انس (رح) نے یہ کہا ہے کہ فرض نماز میں بسم اللہ کو آہستہ پڑھے نہ بلند آواز سے اور نفل میں اس کو اختیار ہے ‘ اگر چاہے تو پڑھے اور اگر چاہے تو ترک کر دے اور ہمارے نزدیک تمام نمازوں میں بسم اللہ پڑھے کیونکہ حضرت ام سلمہ (رض) اور حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں پڑھتے تھے : ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ الحمد للہ رب العلمین “۔ اور حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ حضرت ابوبکر (رض) ‘ حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان (رض) کی اقتداء میں نمازیں پڑھیں ‘ وہ پست آواز سے بسم اللہ پڑھتے تھے اور بعض روایات میں ہے کہ وہ جہرا بسم اللہ نہیں پڑھتے تھے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ١٤۔ ١٣‘ ملخصا ‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)
امام شافعی (رح) کے نزدیک چونکہ ہر سورت کے اول میں بسم اللہ اس سورت کا جز ہے اس لیے ان کے نزدیک ہر رکعت میں سورة فاتحہ اور سورت سے پہلے بسم اللہ پڑھی جائے گی اور امام احمد کے نزدیک بسم اللہ صرف سورة فاتحہ کا جز ہے اس لیے ہر رکعت میں سورة فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھی جائے گی اور سورت سے پہلے نہیں پڑھی جائے گی۔
نماز میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کو آہستہ سے پڑھنے کی تحقیق اور مذاہب اربعہ :
علامہ ابوبکر رازی حنفی (رح) لکھتے ہیں :
ہمارے اصحاب (احناف) اور ثوری نے یہ کہا ہے کہ نماز میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کو آہستہ پڑھا جائے ‘ اور امام شافعی (رح) نے کہا ہے کہ بسم اللہ کو نماز میں جہرا پڑھے ‘ یہ اختلاف اس وقت ہے جب امام نماز میں جہرا قرات کرے ‘ اس مسئلہ میں صحابہ کرام (رض) کا بہت اختلاف ہے ‘ عمر بن ذر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) کے پیچھے نماز پڑھی تو انھوں نے انہوں نے بلند اواز سے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پڑھی ‘ حماد نے ابراہیم سے روایت کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اور ان کے اصحاب ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ آہستہ پڑھتے تھے ‘ جہر سے نہیں پڑھتے تھے ‘ اور حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ آہستہ پڑھتے تھے ‘ اسی طرح حضرت عبداللہ بن مغفل (رض) سے مروی ہے ‘ اور مغیرہ (رض) نے ابراہیم سے روایت کیا ہے کہ نماز میں بسم اللہ کو جہر سے پڑھنا بدعت ہے ‘ امام ابوحنیفہ (رح) ‘ حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نماز میں بسم اللہ کو جہر سے پڑھنا اعرابیوں (بدوؤں) کا طریقہ ہے ‘ اسی طرح حضرت عکرمہ (رض) نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ ابو وائل بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) اور حضرت علی (رض) نماز میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کو جہر سے پڑھتے تھے نہ ” اعوذ باللہ “ کو نہ آمین کو ‘ اور حضرت انس اور حضرت عبداللہ بن مغفل سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ حضرت ابوبکر (رض) ‘ حضرت عمر (رض) ‘ اور حضرت عثمان (رض) ‘ نماز میں بسم اللہ کو آہستہ سے پڑھتے تھے اور حضرت عبداللہ بن مغفل جہر سے بسم اللہ پڑھنے کو بدعت کہتے تھے۔ (جامع ترمذی ص ٦٢) حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کو ” اللہ اکبر “ اور (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “ کی قرات سے شروع کرتے تھے اور سلام سے ختم کرتے تھے۔ ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی فرض نماز میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کو جہرا نہیں پڑھا ‘ نہ حضرت ابوبکر (رض) نے نہ حضرت عمر (رض) نے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ١٦۔ ١٧‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)
علامہ ابو الحسن مرداوی حنبلی لکھتے ہیں :
بسم اللہ کو نماز میں جہرا نہ پڑھا جائے ‘ خواہ ہم اس کو سورة فاتحہ کا جز کہیں یا نہ کہیں ‘ یہی صحیح قول ہے ‘ مجد نے اپنی شرح میں اس کی تصیح کی ہے اور انھوں نے لکھا ہے کہ ترک جہر کی روایت میں کوئی اختلاف نہیں ہے ‘ خواہ ہمارے نزدیک یہ سورة فاتحہ کا جز ہے ‘ ابن حمدان ‘ ابن تمیم ‘ ابن جوزی اور زرکشی وغیرہ نے اس کی تصریح کی ہے اور اس قول کو مقدم رکھا ہے اور یہی جمہور کا موقف ہے۔
ابن حامد اور ابوالخطاب نے ایک روایت جہر کی بیان کی ہے ‘ بہ شرطی کہ بسم اللہ کو سورة فاتحہ کا جز کہا جائے ‘ ابن عقیل نے بھی اس کا ذکر کیا ‘ ایک قول یہ ہے کہ مدینہ میں جہر کیا جائے اور ایک قول یہ ہے کہ نفل میں جہر کیا جائے اور شیخ تقی الدین کا مختار یہ ہے کہ ” بسم اللہ ‘ اعوذ باللہ “ اور سورة فاتحہ کو نماز جنازہ وغیرہ میں کبھی کبھی جہر سے پڑھا جائے۔ (انصاف ج ٢ ص ٤٩۔ ٤٨‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٣٧٢ ھ)
علامہ نووی شافعی (رح) لکھتے ہیں :
سنت یہ ہے کہ جہری نماز میں سورة فاتحہ اور اس کے بعد کی سورت سے پہلے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کو جہرا پڑھا جائے۔ (شرح مسلم ج ١ ص ٣٤٨‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
علامہ ابن رشد مالکی (رح) لکھتے ہیں :
امام مالک (رح) نے فرض نماز میں بسم اللہ پڑھنے سے منع کیا ہے خواہ جہری نماز ہو یا سری ‘ سورة فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھے نہ اس کے بعد والی سورت سے پہلے اور نفل نماز میں جائز کہا ہے۔ (بدایۃ المجتہد ج ١ ص ٨٩‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت)
خلاصہ یہ ہے امام شافعی (رح) کے نزدیک جہری نماز میں سورة فاتحہ اور بعد کی سورت سے پہلے بسم اللہ کو جہرا پڑھے اور امام ابوحنفیہ (رح) اور امام احمد (رح) کے نزدیک جہری نماز میں سورة فاتحہ سے پہلے بسم اللہ کو آہستہ پڑھے اور امام مالک کے نزدیک فرض نماز میں مطلقا بسم اللہ نہ پڑھے۔
” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کے احکام شرعیہ اور مسائل :
علامہ سید احمد طحطاوی ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کے احکام شرعیہ کے بیان میں لکھتے ہیں :
(١) ذبح کرتے وقت شکار کی طرف تیر پھینکتے وقت اور شکاری کتا چھوڑتے وقت بسم اللہ پڑھنا واجب ہے۔ ” البحرالرائق “ میں لکھا ہے کہ بسم اللہ کہنا ضروری نہیں ہے صرف اللہ کا نام لینا شرط ہے ‘ اور بعض کتابوں میں ہے : ” الرحمن الرحیم “ نہ کہے (صرف بسم اللہ کہے) کیونکہ ذبح کے وقت رحمت کا ذکر مناسب نہیں ہے۔
(٢) ” قنیہ “ میں لکھا ہے کہ ہر رکعت میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پڑھنا واجب ہے ‘ اور اس کے ترک سے سجدہ سہو کرنا لازم ہے ‘ لیکن زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ ہے کہ یہ سنت ہے۔
(٣) وضو کی ابتداء میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پڑھنا سنت ہے ‘ استنجاء سے پہلے اور بعد میں ‘ لیکن حالت استنجاء اور محل نجاست میں نہ پڑھے۔ اگر وضو کے شروع میں ” بسم اللہ “ پڑھنا بھول گیا تو دوران وضو جب بھی یاد آئے بسم اللہ پڑھ لے ‘ وضو کے اول میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پڑھنا سنت ہے اور درمیان میں پڑھنا مستحب ہے۔
(٤) کھانے کی ابتداء میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پڑھنا سنت ہے ‘ اگر بھول گیا تو درمیان میں پڑھنا بھی سنت ہے اور درمیان میں یوں پڑھے : بسم اللہ اولہ واخرہ “۔
(٥) سورة فاتحہ کے بعد دوسری سورت سے پہلے بسم اللہ پڑھنا مستحب ہے خواہ نماز سری ہو یا جہری۔
(٦) کسی کتاب کے شروع میں اور ہر نیک اور اہم کام کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا مستحب ہے۔
(٧) قرآن مجید کی تلاوت سے پہلے ” اعوذ باللہ “ کے بعد ” بسم اللہ “ پڑھنا مستحب ہے۔
(٨) مشتبہ چیز کھاتے وقت ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پڑھنا مکروہ ہے ‘ جمہور کے نزدیک تمباکو نوشی کے وقت بھی بسم اللہ پڑھنا مکروہ ہے۔
(٩) سورة انفال کے بعد سورة توبہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنا مکروہ ہے ‘ اگر توبہ سے ہی پڑھنا شروع کیا ہے تو پھر بعض مشائخ کے نزدیک بسم اللہ مکروہ نہیں ہے۔
(١٠) اٹھنے ‘ بیٹھنے ‘ چلنے پھرنے اور دیگر کاموں کے وقت بسم اللہ پڑھنا مباح ہے۔
(١١) ” خلاصۃ الفتاوی “ میں مذکور ہے : اگر کسی شخص نے شراب پیتے وقت یا حرام کھاتے وقت یا زنا کرتے وقت بسم اللہ پڑھی تو وہ کافر ہوجائے گا ‘ یہاں حرام سے مراد حرام قطعی ہے ‘ کیونکہ کسی کام کے شروع میں اللہ تعالیٰ سے استعانت اور برکت حاصل کرنے کے لیے بسم اللہ پڑھی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ سے مدد اسی کام میں حاصل کی جائے گی جس کام کو اس نے جائز کیا ہو اور اس پر وہ راضی ہو ‘ اس لیے کسی حرام کام پر بسم اللہ پڑھنا اس کو حلال قرار دینے کے مترادف ہے اور حرام کو حلال قرار دینا کفر ہے۔
(١٢) جنبی اور حائض کے لیے بہ طور قرآن ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پڑھنا حرام ہے ‘ البتہ بطور ذکر اور برکت حاصل کرنے کے لیے پڑھنا جائز ہے۔ (حاشیہ الطحطاوی علی اللدر المختار ج ١ ص ٦۔ ٥‘ مطبوعہ دارالمعرفۃ ‘ بیروت ‘ ١٣٩٥ ھ)
اللہ تعالیٰ اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے اسماء لکھنے اور پڑھنے کے آداب :
علامہ سید احمد طحطاوی لکھتے ہیں :
” فصول “ میں مذکور ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے کوئی نام سنے اس پر اللہ کی تعظیم کرنا واجب ہے مثلا ” عزوجل ‘ جل مجدہ “ تبارک وتعالیٰ “ کہے اور بعض کتابوں میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا نام لکھے تو اس کے ساتھ کوئی تعظیمی کلمہ مثلا عزوجل لکھے ‘ اسی طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صلوۃ وسلام پڑھنے کی حفاظت کرے اور بار بار پڑھنے سے نہ اکتائے ‘ اگر اصل کتاب میں صلوۃ وسلام نہ ہو تو خود زبان سے پڑھے ‘ اسی طرح صحابہ کرام کے ناموں کے ساتھ (رض) اور علماء کے اسماء کے ساتھ (رح) لکھے اور پڑھے ‘ اور صرف صلوۃ یا سلام پر اختصار کرنا مکروہ ہے ‘ ملا مسکین نے لکھا ہے : یہ مکروہ نہیں ہے ‘ لیکن ان کی مراد یہ ہے کہ یہ مکروہ تحریمی نہیں ہے مکروہ تنزیہی بہرحال ہے ‘ اسی طرح لکھتے وقت رمز اور اشارہ سے صلوۃ وسلام اور (رض) لکھنا (مثلا ص یا صلعم یا (رض) لکھنا) مکروہ ہے مکمل ” (علیہ الصلوۃ والسلام) “ اور ” (رض) “ لکھے ‘ تا تارخانیہ کے بعض مقامات پر لکھا ہے کہ جس نے (علیہ السلام) کو ہمزہ اور میم کے ساتھ لکھا وہ کافر ہوجائے گا کیونکہ یہ تخفیف ہے اور انبیاء (علیہ السلام) کی تخفیف کفر ہے ‘ تاہم یہ کفر اس وقت ہوگا جب کوئی شخص تخفیف کے قصد سے ایسا کرے گا ‘ بہرحال اس سے احتیاط لازم ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار ج ١ ص ٦‘ مطبوعہ المعرفۃ ‘ بیروت ‘ ١٣٩٥ ھ)
” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کے فوائد اور حکمتیں :
(١) علامہ ابن جریر طبری نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اسماء حسنی کو مقدم کرکے ہمیں یہ ادب سکھایا ہے کہ ہمیں چاہیے کہ اپنے تمام اقوال ‘ افعال اور مہمات کو اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی سے شروع کیا کریں۔ (جامع البیان ج ١ ص ٣٨‘ مطبوعہ مطبعہ امیریہ کبری ‘ بولاق ‘ مصر ‘ ١٣٢٣ ھ)
(٢) علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ کھانے ‘ پینے ‘ ذبح کرنے، جماع کرنے ‘ وضو کرنے ‘ کشتی میں سوار ہونے ‘ غرض ہر (صحیح) کام سے پہلے بسم اللہ پڑھنا مستحب ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
(آیت) ” فکلوا مما ذکراسم اللہ علیہ “۔ (الانعام : ١١٨) تو اس (ذبیحہ) سے کھاؤ ‘ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔
وقال ارکبوا فیھا بسم اللہ مجریھا ومرسھا “۔ (ھود : ٤١) اور نوح نے کہا : اس کشتی میں سوار ہوجاؤ ‘ اس کا چلنا اور رکنا اللہ کے نام سے ہے۔
اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دروازہ بند کرتے ہوئے بسم اللہ پڑھو ‘ چراغ گل کرتے ہوئے بسم اللہ پڑھو ‘ برتن ڈھانکتے ہوئے بسم اللہ پڑھو ‘ اور مشک کا منہ بند کرتے ہوئے بسم اللہ پڑھو اور فرمایا : اگر تم میں سے کوئی شخص عمل تزویج کے وقت کہے : بسم اللہ ‘ اے اللہ ! ہم کو شیطان سے محفوظ رکھ اور جو (اولاد) ہم کو عطا کرے اس کو بھی شیطان سے محفوظ رکھ ‘ تو اگر اس عمل میں ان کے لیے اولاد مقدر کی جائے گی تو اس کو شیطان کبھی ضرر نہیں پہنچا سکے گا ‘ اور آپ نے عمر بن ابی سلمہ سے فرمایا : اے بیٹے ! بسم اللہ پڑھو ‘ اور اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ ‘ اور آپ نے فرمایا : شیطان ہر کھانے کو حلال کرلیتا ہے۔ ماسوا اس کھانے کے جس پر بسم اللہ پڑھی گئی ہو ‘ حضرت عثمان بن ابی العاص (رض) نے آپ سے شکایت کی کہ جب سے وہ اسلام لائے ہیں ان کے جسم میں درد رہتا ہے ‘ آپ نے فرمایا : تین بار بسم اللہ پڑھو ‘ اور سات بار یہ پڑھو ” اعوذ بعزۃ اللہ وقدرتہ من شرما اجد واحاذر “ یہ تمام احادیث صحیح ہیں ‘ اور امام ابن ماجہ اور امام ترمذی (رح) نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بنو آدم بیت الخلاء میں داخل ہوں تو ان کی شرم گاہوں اور شیاطین کے درمیان بسم اللہ حجاب ہے ‘ اور امام دار قطنی نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وضو کرتے تو پہلے بسم اللہ پڑھتے ‘ پھر اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالتے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١ ص ٩٨۔ ٩٧‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران)
(٣) ہر نیک اور صحیح کام سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کی انسان کو عادت پڑجائے تو پھر اس کا برے کاموں سے باز رہنا زیادہ متوقع ہوگا ‘ کیونکہ اگر وہ کسی وقت خواہش نفس سے مغلوب ہو کر برائی میں ہاتھ ڈالے گا تو عادۃ اس کے منہ سے بسم اللہ نکلے گی ‘ اور پھر اس کا ضمیر اس کو سرزنش کرے گا۔
(٤) انسان اسی کا نام بار بار لیتا ہے جس سے اس کو محبت ہوتی ہے ‘ اس لیے جو انسان ہر صحیح کام کے وقت بسم اللہ پڑھتا ہے یہ اس کی اللہ تعالیٰ سے محبت کی دلیل ہے۔
(٥) علامہ قرطبی (رح) لکھتے ہیں : سعید بن ابی سکینہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت علی (رض) نے ایک شخص کو ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ لکھتے دیکھا تو فرمایا : اس کو خوبصورت لکھو ‘ کیونکہ ایک شخص نے بسم اللہ کو خوبصورت لکھا تو اس کو بخش دیا گیا۔
(٦) سعید بن ابی سکینہ نے بیان فرمایا کہ ایک شخص نے کاغذ کو دیکھا اس میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ لکھی ہوئی تھی ‘ اس نے اس کو اٹھا کر بوسہ دیا اور اس کو اپنی آنکھوں پر رکھا تو اس کو بخش دیا گیا۔
(٧) بشرحافی پہلے ایک ڈاکو تھے ‘ انہوں نے راستہ میں ایک کاغذ دیکھا جو لوگوں کے پیروں تلے آرہا تھا ‘ انھوں نے اس کاغذ کو اٹھایا تو اس میں اللہ تعالیٰ کا نام لکھا ہوا تھا ‘ انہوں نے بہت قیمتی خوشبو خریدی اور اس کاغذ پر وہ خوشبو لگائی اور اس کو حفاظت کے ساتھ رکھ دیا ‘ رات کو خواب میں انہوں نے سنا کوئی کہہ رہا تھا اے بشر ! تم نے میرے نام کو خوشبو میں رکھا ہے ‘ میں تم کو دنیا اور آخرت میں خوشبودار رکھوں گا۔ اس کے بعد انہوں نے توبہ کی اور ولی کامل بن گئے۔
(٨) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : جو شخص چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو جہنم کے انیس فرشتوں سے نجات دے وہ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پڑھے تاکہ اللہ تعالیٰ بسم اللہ کے ہر حرف کے بدلہ اس کو جہنم کے ایک فرشتہ سے محفوظ رکھے کیونکہ بسم اللہ کے انیس حرف ہیں (الجامع الاحکام القرآن ج ١ ص ٩٢۔ ٩١‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران)
(٩) امام رازی (رح) لکھتے ہیں : روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو اپنی انگوٹھی دی ‘ اور فرمایا : اس میں ” لا الہ الا اللہ “ لکھواؤ حضرت ابوبکر (رض) نے نقاش سے کہا : اس میں ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ لکھ دو ‘ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وہ انگوٹھی پیش کی تو اس میں لکھا ہوا تھا : ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ابوبکر صدیق “۔ آپ نے پوچھا : ابے ابوبکر ! یہ زائد (کیسے لکھا ہوا ہے ؟ ) حضرت ابوبکر (رض) نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے آپ کے نام کو اللہ تعالیٰ کے نام سے جدا کرنا پسند نہیں کیا اور باقی میں نہیں لکھوایا ‘ اور حضرت ابوبکر (رض) اس پر شرمندہ تھے ‘ تب جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور کہا : یا رسول اللہ ! ابوبکر کا نام میں نے لکھا ہے کیونکہ جب ابوبکر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام کو اللہ عزوجل کے نام سے جدا کرنے پر راضی نہ تھے تو اللہ تعالیٰ ‘ ابوبکر کے نام کو آپ کے نام سے جدا کرنے پر راضی نہ تھا اور اس میں سے نکتہ یہ ہے کہ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کی وجہ سے آپ کے فراق کو گوارا نہ کرے وہ اللہ تعالیٰ کی عنایات کا مرکز بن جاتا ہے تو جو اللہ تعالیٰ سے محبت کی وجہ سے اس کے نام سے فراق نہ گوارا کرے اور ہر کام کے ساتھ اللہ کا نام لے وہ کب اللہ تعالیٰ کی عنایات سے محروم ہوگا !
(١٠) حضرت نوح (علیہ السلام) نے ” بسم اللہ مجرھا ومرسھا “ کہا تو طوفان سے نجات پالی ‘ حالانکہ بسم اللہ “ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کا نصف ہے تو جب ایک بارنصف بسم اللہ کے پڑھنے سے طوفان سے نجات مل گئی تو جو شخص ساری عمر بسم اللہ پڑھتا رہے ‘ وہ نجات سے کیسے محروم ہوگا !
(١١) قیصر روم نے حضرت عمر (رض) کی طرف لکھا کہ اس کے سر میں درد رہتا ہے جس سے افاقہ نہیں ہوتا ‘ میرے لیے کوئی دوا بھیج دیجیے حضرت عمر (رض) نے اس کے پاس ایک ٹوپی بھیجی ‘ وہ اس ٹوپی کو پہن لیتا تو آرام آجاتا اور اس ٹوپی کو اتار دیتا تو پھر سر میں درد شروع ہوجاتا۔ وہ حیران ہوا ‘ اور ایک دن اس نے ٹوپی کو کھول کر دیکھا تو اس میں ایک کاغذ تھا جس میں لکھا ہوا تھا ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “۔
(١٢) بعض کفار نے حضرت خالد بن ولید سے کہا : آپ ہمیں اسلام کی دعوت دیتے ہیں ‘ آپ ہمیں اسلام کی صداقت پر کوئی نشان دکھایئے تاکہ ہم بھی اسلام لے آئیں ‘ حضرت خالد نے زہر منگایا اور ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پڑھ کر کھالیا اور اللہ تعالیٰ کے اذن سے صحیح سالم کھڑے رہے ‘ مجوس نے کہا : واقعی یہ دین حق ہے۔
(١٣) حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) ایک قبر کے پاس سے گزرے تو دیکھا کہ عذاب کے فرشتے ایک مردہ کو عذاب دے رہے ہیں ‘ جب اپنے کام سے واپس لوٹے تو اس قبر میں رحمت کے فرشتوں کو دیکھا جن کے پاس نور کے طباق تھے ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس سے تعجب ہوا ‘ انہوں نے نماز پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ اے عیسیٰ ! یہ شخص گنہ گار تھا اور جب یہ مرا تو عذاب میں مبتلا ہوگیا ‘ مرتے وقت اس کی بیوی حاملہ تھی ‘ اس کے بچہ ہوا ‘ اس نے اس کو پالا حتی کہ وہ بڑا ہوگیا ‘ اس کو مکتب میں داخل کیا ‘ وہاں اس کو معلم نے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ ( ان کی زبان میں) پڑھائی تو مجھے حیا آئی کہ جو بچہ زمین کے اوپر میرا نام لے رہا ہے ‘ اس کے باپ کو میں زمین کے نیچے عذاب میں مبتلا رکھوں !
(١٤) سورة توبہ میں قتال ذکر ہے ‘ لہذا اس سے پہلے بسم اللہ نہیں لکھی گئی ‘ اور ذبح سے پہلے ” بسم اللہ ‘ اللہ اکبر “ کہا جاتا ہے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ نہیں کہا جاتا کیونکہ ذبح کے وقت رحمت کا ذکر مناسب نہیں ہے ‘ تو جو شخص ہر روز سترہ مرتبہ فرض نمازوں میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پڑھے گا وہ کب عذاب میں مبتلا ہوگا۔ (تفسیر کبیر ج ١ ص ٨٩۔ ٨٧‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تمام تعریفیں اللہ ہی کے لائق ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ (الفاتحہ : ١)
حمد کے لغوی اور اصلاحی معانی :
علامہ جوہری لکھتے ہیں :
حمد ‘ ذم کی نقیض ہے ‘ تحمید ‘ حمد سے زیادہ بلیغ ہے اور حمد شکر سے زیادہ عام ہے ‘ جس شخص میں بہ کثرت خصال محمودہ ہوں اس کو محمد کہتے ہیں۔ (الصحاح ج ٢ ص ٤٦٦‘ مطبوعہ دارالعلم ‘ بیروت ‘ ١٤٠٤ ھ)
علامہ فیروزآبادی (رح) لکھتے ہیں :
حمد کا معنی ہے : شکر ‘ رضا ‘ جزاء اور حق کو ادا کرنا ‘ تحمید کے معنی ہیں : اللہ کی بار بار حمد کرنا ‘ اور محمد کے معنی ہیں : ’ جس کی بار بار حمد کی گئی ہو۔ (قاموس ج ١ ص ٥٦٣۔ ٥٦٢‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)
علامہ ابن منظور افریقی لکھتے ہیں :
حمد مذمت کی نقیض ہے ‘ ثعلب نے کہا : حمد کا تعلق نعمت اور غیر نعمت دونوں سے ہے اور شکر کا تعلق صرف نعمت سے ہے۔ لحیانی نے کہا : حمد شکر ہے اور ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اخفش نے کہا : ” الحمد للہ “ کا معنی ہے : ” الشکر للہ “ اور کہا : ” الحمد للہ “ اللہ کی ثناء اور اس کی تعریف ہے ‘ ازہری نے کہا : شکر صرف اس ثناء کو کہتے ہیں جو نعمت پر کی جاتی ہے ‘ اور حمد بعض اوقات کسی کام کے شکر کو کہتے ہیں اور کبھی ابتداء نعمت کے بغیر کسی شخص کی ثناء کو حمد کہتے ہیں ‘ سو اللہ کی حمد اس کی ثناء ہے اور اس کی ان نعمتوں کا شکر ہے جو سب کی محیط ہیں ‘ اور حمد شکر سے عام ہے۔ (لسان العرب ج ٣ ص ١٥٥‘ مطبوعہ نشر ادب الحوذۃ ‘ قم ‘ ایران ‘ ١٤٠٥ ھ)
علامہ ابن اثیر جزری لکھتے ہیں :
حمد اور شکر متقارب ہیں اور ان میں حمد زیادہ عام ہے ‘ کیونکہ تم انسان کی صفات ذاتیہ اور اس کی عطاء پر اس کی حمد (تعریف) کرتے ہو اور اس کی صفات ذاتیہ پر اس کا شکر نہیں ادا کرتے (مثلا کسی کی سخاوت کی تعریف کرنا شکر ہے اور اس کے حسن کی تعریف کرنا شکر نہیں حمد ہے) حدیث میں ہے : حمد رئیس شکر ہے ‘ جس شخص نے اللہ کی حمد نہیں کی اس نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا ‘ حمد شکر کی رائیس اس لیے ہے کہ اس میں نعمت کا اظہار اور اس کی مشہور کرنا ہے اور حمد شکر سے عام ہے۔ (نہایہ ج ١ ص ٤٣٧۔ ٤٣٦‘ مطبوعہ مؤسسۃ مطبوعاتی ‘ ایران ‘ ١٣٦٤ ھ)
علامہ میرسید شریف (رح) حمد پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
حمد : کسی خوبی کی بطور تعظیم ثنا کرنا خواہ کسی نعمت کی وجہ سے ہو یا اس کے بغیر۔
حمد قولی : زبان سے اللہ تعالیٰ کی وہ تعریف کرنا جو اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کی زبانوں کے ذریعہ خود اپنی تعریف فرمائی ہے۔
حمد فعلی : اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے بدن سے نیک اعمال کرنا۔
حمد حالی : روح اور قلب کے اعتبار سے ثناء کرنا ‘ مثلا علمی اور عملی کمالات سے متصف ہونا ‘ اور اللہ تعالیٰ کے اخلاق سے متخلق ہونا۔
حمد عرفی : منعم کے انعام کی وجہ سے کوئی ایسا فعل کرنا جس سے اس کی تعظیم ظاہر ہو ‘ عام ازیں کہ زبان سے ہو یا دیگر اعضاء سے۔ (کتاب التعریفات ص ٤٢۔ ٤١‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ٦، ١٣ ھ)
خلاصہ یہ ہے کہ کسی چیز کی غیر اختیاری خوبی پر اس کی تعریف کرنا مدح ہے ‘ مثلا یاقوت اور موتی کی خوبصورتی پر تعریف کرنا ‘ اور کسی شخص کے انعام اور احسان پر اس کی تعظیما ثنا کرنا شکر ہے اور کسی کی اختیاری خوبی پر اس کی تعظیما تعریف کرنا خواہ اس نے کوئی نعمت دی ہو یا نہ دی ہو ‘ یہ حمد ہے۔ کائنات کی کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے کہ جس کو اللہ نے کوئی نہ کوئی نعمت نہ دی ہو اس لیے اللہ تعالیٰ کی ہر ثناء اور ہر تعریف اس کا شکر ہے اور اس کی ہر حمد شکر کے ضمن میں ہے۔
Advertisements

سورہ فاتحہ تبیان القرآن

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اللہ ہی کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو نہایت رحم فرمانے والا بہت مہربان ہے

سورة فاتحہ کے اسماء :
سورة فاتحہ کے بہت اسماء ہیں، اور کسی چیز کے زیادہ اسماء اس چیز کی زیادہ فضیلت اور شرف پر دلالت کرتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ سورة فاتحہ بہت شرف اور مرتبہ والی سورت ہے، ان اسماء کی تفصیل حسب ذیل ہے :
(١) فاتحۃ الکتاب : فاتحۃ الکتاب کے ساتھ اس سورت کو اس لیے موسوم کیا گیا ہے کہ مصحف کا افتتاح اس سورت سے ہوتا ہے، تعلیم کی ابتداء بھی اس سورت سے ہوتی ہے اور نماز میں قرأت کا افتتاح بھی اس سورت سے ہوتا ہے اور ایک قول کے مطابق کتاب اللہ کی سب سے پہلے یہی سورت نازل ہوئی تھی اور بہ کثرت احادیث میں تصریح ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سورت کو فاتحۃ الکتاب فرمایا۔
امام ترمذی روایت کرتے ہیں :۔
حضرت عبادہ بن صامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے فاتحۃ الکتاب کو نہیں پڑھا اس کو نماز (کامل) نہیں ہوئی۔ (جامع ترمذی ص ٦٣، مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب، کراچی)
اس حدیث کو امام ابن ماجہ (امام ابو عبداللہ محمد بن یزید بن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ، سنن ابن ماجہ ص ٦٠ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب، کراچی) اور امام احمد، ٢ (امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ، مسنداحمد ج ٢ ص ٤٢٨، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٣٩٨ ھ) نے بھی روایت کیا ہے۔
(٢) ام القرآن : کسی چیز کی اصل اور اس کے مقصود کو ام کہتے ہیں اور پورے قرآن کا مقصود چار چیزوں کو ثابت کرنا ہے، الوہیت (اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات) معاد (مر کر دوبارہ اٹھنا ) ، نبوت اور قضاء وقدر، سورة فاتحہ میں ” الحمد للہ رب العالمین الرحمان الرحیم “۔ کی الوہیت پر دلالت ہے اور ” مالک یوم الدین “۔ کی معاد پر دلالت ہے، ” ایاک نعبد وایاک نستعین “۔ کی اس پر دلالت ہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضاء اور قدر سے ہے اور انسان مجبور محض ہے نہ اپنے افعال کا خالق ہے اور ” اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم و لا الضالین “۔ کی نبوت پر دلالت ہے، کیونکہ اس آیت میں اس راستہ کی ہدایت کی دعا کی گئی ہے جو انعام یافتہ لوگوں کا راستہ ہے اور انعام یافتہ لوگ انبیاء (علیہ السلام) ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سورت کو ” ام القرآن “ فرمایا ہے امام داری روایت کرتے ہیں حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : الحمد للہ ” ام القرآن “ ہے اور ” ام الکتاب “ ہے اور ” سبع مثانی “ ہے۔ (سنن دارمی ج ٢ ص ٣٢١، مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان) اور امام مسلم (رح) نے حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے روایت کیا ہے کہ ” لا صلوۃ لمن لم یقرء بام القرآن “ جو ام القرآن نہ پڑھے اس کی نماز کامل نہیں ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ١٦٩ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع، کراچی، ١٣٧٥ ھ)
(٣) سورة الحمد : اس سورت کا نام ” سورة الحمد “ بھی ہے کیونکہ اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی حمد ہے، جیسے سورة بقرہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس سورت میں بقرہ کا ذکر ہے، اسی طرح سورة اعراف، سورة انفال اور سورة توبہ کے اسماء ہیں، نیز مذکور الصدر ” سنن دارمی “ کی حدیث میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سورت کو الحمد للہ سے تعبیر فرمایا ہے۔
(٤) السبع المثانی : قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ولقد اتینک سبعا من المثانی، (الحجر : ٨٧) ہم نے آپ کو سات آیتیں دیں جو دہرائی جاتی ہیں۔
امام بخاری (رح) نے روایت کیا ہے :
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “۔ السبع المثانی ہے اور وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٧٤٩، مطبوعہ نور محمداصح المطابع، کراچی، ١٣٨١ ھ)
سنن دارمی کی مذکور الصدر حدیث میں بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سورت کو السبع المثانی فرمایا ہے۔ اس سورت کو السبع اس لیے فرمایا ہے کیونکہ اس میں سات آیتیں ہیں اور مثانی فرمانے کی حسب ذیل وجوہ ہیں :
(اول) اس سورت کے نصف میں اللہ تعالیٰ کی ثناء ہے اور نصف میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے (ثانی) ہر دو رکعت نماز میں اس کو دو مرتبہ پڑھا جاتا۔
(ثالث) یہ سورت دو بار نازل کی گئی ہے۔
(رابع) اس سورت کو پڑھنے کے بعد نماز میں دوسری سورت کو پڑھا جاتا ہے۔
(٥) ام الکتاب : سنن دارمی کی مذکور الصدر حدیث میں اس سورت کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ” ام الکتاب “ فرمایا ہے اور ” صحیح بخاری “ میں ہے : حضرت ابوسعید خدری (رض) نے ایک شخص پر سورة فاتحہ پڑھ کر دم کیا جس کو بچھونے کاٹا ہوا تھا اور کہا : میں نے صرف ام الکتاب پڑھ کر دم کیا ہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٧٤٩، مطبوعہ نور محمداصح المطابع، کراچی، ١٣٨١ ھ)
(٦) الوافیہ : سفیان بن عینیہ نے اس کا نام سورة وافیہ رکھا، کیونکہ صرف اس سورت کو نماز میں آدھا آدھا کرکے نہیں پڑھا جاسکتا لیکن یہ توجیہ صحیح نہیں ہے کیونکہ سورة الکوثر کو بھی ایک رکعت میں آدھا آدھا کرکے نہیں پڑھا جاسکتا لہذا یوں کہنا چاہیے کہ اس سورت کے مضامین جامع اور وافی ہیں اس لیے اس کو وافیہ کہا جاتا ہے۔
(٧) الکافیہ : اس سورت کا کافیہ اس لیے کہتے ہیں کہ دوسری سورتوں کے بدلہ میں اس سورت کو پڑھا جاسکتا ہے اور اس سورت کے بدلہ میں کسی سورت کو نہیں پڑھا جاسکتا۔ حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ام القرآن “ دوسری سورتوں کا عوض ہے اور دوسری کوئی سورت اس کا عوض نہیں۔ (تفسیر کبیر ج ١ ص۔ ٩ الجامع الاحکام القرآن ج ١ ص ١١٣)
(٨) الشفاء : امام دارمی روایت کرتے ہیں :
حضرت عبد الملک بن عمیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فاتحۃ الکتاب ‘ ہر بیماری کی شفاء ہے۔ (سنن دارمی ج ٢ ص ٣٢٠‘ مطبوعہ نشر السنۃ ‘ ملتان )
امراض جسمانی بھی ہیں اور روحانی بھی ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے منافقین کے متعلق فرمایا ہے : (آیت) ” فی قلوبہم مرض “۔ (البقرہ : ١٠) ان کے دلوں میں بیمار ہے ‘ اور اس سورت میں اصول اور فروع کا ذکر ہے ‘ جن کے تقاضوں پر عمل کرنے سے روحانی امراض میں شفاء حاصل ہوتی ہے اور اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی ثناء اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے جس سے جسمانی اور دیگر ہر قسم کی بیماریوں سے شفاء حاصل ہوتی ہے۔
(٩) سورة الصلوۃ : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس سورت پر صلوۃ کا اطلاق کیا ہے ‘ امام مسلم (رح) نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے : میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نماز ( سورة فاتحہ) کو میرے اور میرے بندہ کے درمیان آدھا ‘ آدھا تقسیم کیا گیا ہے اور میرے بندہ کے لیے وہ ہے جس کا وہ سوال کرے ‘ پس جب بندہ کہتا ہے : (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “۔ تو میں کہتا ہوں : بندہ نے میری حمد کی۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ١٧٠۔ ١٦٩‘ مطبوعہ نور محمداصح المطابع ‘ کراچی ١٣٧٥ ھ)
(١٠) سورة الدعا : یہ سورت اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا سے شروع ہوتی ہے ‘ پھر بندہ کی عبادت کا ذکر ہے ‘ پھر اللہ تعالیٰ سے صراط مستقیم پر ثابت قدم رہنے کی دعا ہے اور دعا اور سوال کا یہی اسلوب ہے کہ پہلے داتا کی حمد وثناء کی جائے ‘ پھر دست طلب بڑھایا جائے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی ہے ‘ پھر اپنے لیے دعا کی ہے :
(آیت) ” الذی خلقنی فھو یھدین والذی ھو یطعمنی ویسقین واذا مرضت فھو یشفین والذی یمیتنی ثم یحیین والذی اطمع ان یغفرلی خطیئتی یوم الدین رب ھب لی حکما والحقنی بالصلحین واجعل لی لسان صدق فیی الاخرین واجعلنی من ورثۃ جنۃ النعیم (الشعراء : ٨٥۔ ٨٧)
ترجمہ (وہ جس نے مجھے پیدا کیا تو وہی مجھے ہدایت دیتا ہے اور وہی مجھے کھلاتا ہے اور وہی مجھے وفات دے گا اور پھر زندہ فرمائے گا اور اسی سے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن وہی میری (ظاہری یا اجتہادی) خطائیں معاف فرمائے گا اے میرے رب ! مجھے حکم عطا فرما اور مجھے نیکوں کے ساتھ لاحق کر دے اور میرے بعد آنے والی نسلوں میں میرا ذکر خیر جاری رکھ اور مجھے جنۃ النعیم کے وارثوں میں شامل کر دے۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دعا کی :
(آیت) ” فاطر السموت والارض انت ولی فی الدنیا والاخرۃ، توفنی مسلما والحقنی بالصلحین۔ (یوسف : ١٠١)
ترجمہ : اے آسمانوں اور زمینوں کو ابتداء پیدا کرنے والے ‘ تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کار ساز ہے ‘ میری وفات اسلام پر کر اور مجھے نیکوں کے ساتھ لاحق کر دے
سو دعا کا یہی طریقہ ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی جائے، پھر اس سے سوال کی جائے ‘ اور سورة فاتحہ میں اسی طریقہ سے دعا کرنے کی تعلیم دی ہے ‘ اس لیے اس کو سورة دعا کہتے ہیں۔ علامہ بقاعی نے ان اسماء کے علاوہ سورة فاتحہ کے اسماء میں اساس ‘ کنز ‘ واقعہ ‘ رقیہ ‘ اور شکر کا بھی ذکر ہے۔ علامہ بقاعی نے ان اسماء میں نظم اور ربط کو بیان کیا ہے ‘ وہ لکھتے ہیں
(١) فاتحہ کے اعتبار سے ہر نیک چیز کا افتتاح اس سورت سے ہونا چاہیے۔
(٢) اور ام کے لحاظ سے یہ ہر خیر کی اصل ہے۔
(٣) اور ہر نیکی کی اساس ہے۔
(٤) اور مثنی کے لحاظ سے دو بار پڑھے بغیر یہ لائق شمار نہیں۔
(٥) اور کنز کی حیثیت سے یہ ہر چیز کا خزانہ ہے۔
(٦) ہر بیماری کے لیے شفا ہے۔
(٧) ہر مہم کے لیے کافی ہے۔
(٨) ہر مقصود کے لیے دافی ہے۔
(٩) واقیہ کے لحاظ سے ہر برائی سے بچانے والی ہے۔
(١٠) رقیہ کے اعتبار سے۔
(١١) ہر آفت ناگہانی کے لیے دم ہے۔
(١٢) اس میں حمد کا اثبات ہے صفات کمال کا احاطہ ہے۔
(١٣) اور شکر کا بیان ہے جو منعم کی تعظیم ہے۔
(١٤) اور یہ بعینہ دعا ہے ‘ جو مطلوب کی طرف توجہ ہے ‘ ان تمام امور کی جامع صلوۃ ہے۔ (نظم الدرر ج ١ ص ٢٠۔ ١٩‘ مطبوعہ دارالکتاب الاسلامی ‘ قاہرہ ‘ ١٤١٣ ھ)
علامہ آلوسی نے سورة فاتحہ کے بائیس اسماء کا ذکر کیا ہے ‘ ان میں فاتحہ القرآن ‘ تعلیم القرآن ‘ تعلیم المسئلہ ‘ سورة السوال ‘ سورة المناجاۃ ‘ سورة التفویض شافعیہ ‘ اور سورة النور بھی ہیں۔
سورة فاتحہ کے فضائل :
امام بخاری روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوسعید بن معلی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا ‘ (دوران نماز) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلایا ‘ میں حاضر نہ ہوا ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا ‘ آپ نے فرمایا : کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : (آیت) ” استجیبوا للہ وللرسول اذا دعا کم “۔ (الانفال : ٢٤) اللہ اور رسول کے بلانے پر (فورا) حاضر ہوجاؤ “۔ پھر فرمایا : سنو ! میں تم کو مسجد سے باہر نکلنے سے پہلے قرآن کی سب سے عظیم سورت کی تعلیم دوں گا ‘ پھر میرا ہاتھ پکڑ لیا ‘ جب ہم نے باہر نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا تھا : میں تم کو قرآن کی سب سے عظیم سورت کی تعلیم دوں گا ‘ آپ نے فرمایا : (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “۔ یہ سبع مثانی ہے اور قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٧٤٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی سب سے عظیم سورت ‘ سورت فاتحہ ہے ‘ اور اس کا نام ” السبع المثانی “ بھی ہے اور یہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر نماز کے دوران بلائیں ‘ تب بھی آنا واجب ہے ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں حاضر ہونے سے نماز نہیں ٹوٹتی۔
نیز امام بخاری روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر ہیں تھے ‘ ہم نے ایک جگہ قیام کیا ‘ ایک لڑکی نے آکر کہا کہ قبیلہ کے سردار کو ایک بچھو نے ڈس لیا ہے اور ہمارے لوگ حاضر نہیں ہیں ‘ کیا تم میں سے کوئی شخص دم کرسکتا ہے ؟ ہم میں سے ایک شخص اس کے ساتھ گیا جس کو اس سے پہلے ہم دم کرنے کی تہمت نہیں لگاتے تھے ‘ اس نے اس شخص پر دم کیا جس سے وہ تندرست ہوگیا ‘ اور اس سردار نے اس کو تیس بکریاں دینے کا حکم دیا ‘ اور ہم کو دودھ پلایا ‘ جب وہ واپس آیا تو ہم نے اس سے پوچھا : کیا تم پہلے دم کرتے تھے ؟ اس نے کہا : نہیں ‘ میں نے تو صرف ام الکتاب ( سورة فاتحہ) پڑھ کر دم کیا ہے ‘ ہم نے کہا : اب اس کے متعلق کوئی بحث نہ کرو ‘ حتی کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کے متعلق پوچھ لیں ‘ ہم مدینہ پہنچے تو ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق پوچھا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو کیا معلوم کہ یہ دم ہے ‘ (ان بکریوں کو) تقسیم کرو ‘ اور ان میں سے میرا حصہ بھی نکالو۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٧٤٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سورة فاتحہ پڑھ شخص پر دم کرنا جائز ہے ‘ اس لیے سورت کو ” سورة الرقیہ “ اور ” سورة الشفاء “ بھی کہتے ہیں ‘ اور اس حدیث میں یہ تصریح بھی ہے کہ اس سورت کو ” ام الکتاب “ بھی کہتے ہیں ‘ اور یہ کہ قرآن پڑھ کر دم کرنے کی اجرت لینا جائز ہے اور اس قرآن مجید اور کتب دینیہ پر اجرت لینے کا بھی جواز ہے ‘ اور اس میں مصحف کو قیمۃ فروخت کرنے اور مصحف کی کتابت پر اجرت لینے کا بھی جواز ہے اور یہ کہ استاد کی تعلیم سے تلمیذ کو جو آمدنی ہو اس میں استاذکا بھی حصہ ہوتا ہے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ اب کسی بیمارکو سورة فاتحہ پڑھ کر دم کیا جائے اور وہ شفاء نہ پائے تو اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دم کرنے والے میں روحانیت کی کمی ہے ‘ سورة فاتحہ کے شفاء ہونے میں کوئی کمی نہیں ہے۔
امام ترمذی روایت کرتے ہیں :۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابی بن کعب (رض) کے پاس تشریف لے گئے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابی ! اور وہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے ‘ حضرت ابی (رض) نے مڑ کر دیکھا اور حاضر نہیں ہوئے ‘ حضرت ابی (رض) نے جلدی جلدی نماز پڑھی ‘ پھر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کہا : ” اسلام علیک یا رسول اللہ ! “ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” وعلیک “ اے ابی ! جب میں نے جو میری طرف وحی فرمائی ہے کیا تمہیں اس میں یہ حکم نہیں ملا ‘ (آیت) ” استجیبوا للہ وللرسول اذا دعا کم لما یحییکم “۔ (الانفال : ٢٤) جب اللہ اور رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندہ کر دے گی تو (فورا) حاضر ہوجاؤ۔ “ حضرت ابی نے کہا : کہوں نہیں ؟ اور میں انشاء اللہ دوبارہ ایسا نہیں کروں گا ‘ آپ نے فرمایا : کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ میں تم کو ایسی سورت کی تعلیم دوں ‘ جس کی مثل تورات میں نازل ہوئی نہ انجیل میں ‘ نہ زبور میں نہ قرآن میں ؟ میں نے کہا : جی ! یا رسول اللہ ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نماز میں کس طرح پڑھتے ہو ؟ تو انہوں نے ام القرآن ( سورة فاتحہ) پڑھی ‘ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ! اس کی مثل تورات میں نازل ہوئی ہے نہ انجیل میں ‘ نہ زبور میں نہ فرقان میں ‘ یہ ” السبع من المثانی “ (دودوبار پڑھی جانے والی سات آیتیں) ہے اور وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے ‘ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی ص ٤٠٨‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی )
اس حدیث کو امام بغوی نے بھی اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے ‘ نیز وہ اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں :
” السبع من المثانی “ میں ” من “ زائدہ ہے ‘ اس سے مراد سورة فاتحہ ہے جس کی سات آیتیں ہیں ‘ اور اس کو مثانی اس لیے کہتے ہیں کہ ہر نماز میں سورة فاتحہ کو دو بار پڑھا جاتا ہے، ایک قول یہ ہے کہ مثانی استثناء سے ماخوذ ہے ‘ کیونکہ اس سورت کے ساتھ یہ امت مستثنی ہے، اس امت سے پہلی امتوں پر یہ سورت نازل نہیں کی گئی، ایک قول یہ ہے کہ یہ ثنا سے ماخوذ ہے ‘ کیونکہ اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ہے ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ مثانی سے مراد قرآن مجید ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے :
(آیت) ” اللہ نزل احسن الحدیث کتبا متشابھا مثانی “۔ (الزمر : ٢٣) اللہ نے بہترین کلام نازل فرمایا ‘ ایسی کتاب جس کی آیتیں آپس میں متشابہ ہیں بار بار دہرائی ہوئی ہیں۔ تمام قرآن کو مثانی اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں قصص اور امثال کو دہرایا گیا ہے اس تقدیر پر ” السبع من المثانی “ کا معنی ہے : قرآن کریم کی سات آیتیں اور ایک قول یہ ہے کہ مثانی سے مراد قرآن مجید کی وہ سورتیں ہیں جن میں سو سے کم آیتیں ہوں۔
اور اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہونے سے نماز باطل نہیں ہوتی ‘ کیونکہ تم ” السلام علیک ایھا النبی “ کہہ کر نماز میں حضور سے خطاب کرتے ہو ‘ جب کہ کسی اور کے ساتھ نماز میں خطاب کرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے۔ (شرح السنۃ ج ٣ ص ١٥۔ ١٤)
امام مسلم (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا، میرے اور میرے بندے کے درمیان صلوۃ (سورۃ فاتحہ) کو آدھا آدھا تقسیم کردیا گیا ہے ‘ اور میرے بندہ کے لیے وہ چیز ہے جس کا وہ سوال کرے ‘ اور جب بندہ کہتا ہے ‘(آیت) ” الحمد للہ رب العالمین “۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، میرے بندہ نے میری حمد کی ‘ اور جب وہ کہتا ہے :” الرحمن الرحیم “ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندہ نے میری ثناء کی ‘ اور جب وہ کہتا ہے، (آیت) ”۔ مالک یوم الدین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ‘ میرے بندہ نے میری تعظیم کی، اور ایک بار فرمایا، میرے بندہ نے (خود) کو میرے سپرد کردیا ‘ اور جب وہ کہتا ہے (آیت) ”۔ ایاک نعبد وایاک نستعین “۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، یہ میرے اور میرے بندہ کے درمیان ہے ‘ اور میرے بندہ کے لیے وہ ہے جس کا وہ سوال کرے، اور جب وہ کہتا ہے : (آیت) ”۔ اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم غیرالمغضوب علیھم ولا الضالین “۔ تو اللہ تعالیٰ فرمایا ہے، یہ میرے بندہ کے لیے ہے اور میرے بندہ کے لیے وہ چیز ہے جس کا وہ سوال کرے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ١٧٠۔ ١٦٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
اس حدیث میں سورة فاتحہ کا ذکر ہے اور اس کے شروع میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کا ذکر نہیں ہے ‘ اس سے علماء احناف اور مالکیہ نے یہ استدلال کیا ہے کہ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ سورة فاتحہ کا جز نہیں ہے اور یہ ان کی بہت قوی دلیل ہے ‘ فقہاء شافعیہ نے اس کے جواب میں جو تاویلات کی ہیں وہ بہت ضعیف ہیں ‘ ہم نے ” شرح صحح مسلم “ جلد اول میں ان کا ذکر کرکے ان کا رد کیا ہے۔
امام نسائی (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس وقت جبرائیل (علیہ السلام) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے اوپر کی جانب سے ایک چرچراہٹ کی آواز سنی ‘ حضرت جبرائیل نے کہا : یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے جو آج کھولا گیا ہے اور آج سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا۔ اس دروازہ سے ایک فرشتہ نازل ہوا ‘ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا : یہ فرشتہ جو زمین کی طرف نازل ہوا ہے یہ آج سے پہلے کبھی نازل نہیں ہوا تھا ‘ اس فرشتہ نے آکر سلام کیا اور کہا : آپ کو دو نوروں کی بشارت ہو جو آپ دیئے گئے ہیں اور آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیئے گئے (ایک نور) فاتحۃ الکتاب ہے اور (دوسرا) سورة بقرہ کی آخری آیتیں ہیں ‘ ان میں سے جس حرف کو بھی آپ پڑھیں گے وہ آپکو دے دیا جائے گا۔ (سنن نسائی ج ٥ ص ١٣۔ ١٢‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
امام دارمی (رح) روایت کرتے ہیں :
عبدالملک بن عمیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فاتحۃ الکتاب سے ہر بیماری کی شفاء ہے۔ (سنن دارمی ج ٢ ص ٣٢٠‘ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان )
حافظ نور الدین الہیثمی (رح) بیان کرتے ہیں :
حضرت ابو زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مدینہ کے کسی راستہ میں جارہا تھا ‘ آپ نے ایک شخص کی آواز سنی جو تہجد کی نماز میں ام القرآن ( سورة فاتحہ) ُ پڑھ رہا تھا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہو کر اس سورت کو سنتے رہے حتی کہ اس نے وہ سورت ختم کرلی، آپ نے فرمایا : قرآن میں اس کی مثل (اور کوئی سورت) نہیں ہے ‘ امام طبرانی (رح) نے اس حدیث کو ” معجم اوسط “ میں روایت کیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن دینار ضعیف ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٦ ص ٣١٠‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس دن فاتحۃ الکتاب ( سورة فاتحہ) نازل ہوئی اس دن ابلیس بہت رویا تھا اور یہ سورت مدینہ میں نازل ہوئی تھی اس حدیث کو امام طبرانی (رح) نے ” معجم اوسط “ میں روایت کیا ہے اور اسکی سند صحیح ہے (مجمع الزوائد ج ٦ ص ٣١١‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)
سورة فاتحہ کا مقام نزول :
سورة فاتحہ کے نزول کے متعلق متعدد روایات ہیں ‘ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة فاتحہ مکہ میں نازل ہوئی ہے اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مدینہ میں نازل ہوئی ہے ‘ اس لیے محققین کا یہ موقف ہے کہ یہ سورت دو بار نازل ہوئی ایک بار مکہ میں اور ایک بار مدینہ میں۔ علامہ سیوطی نے ان تمام روایات کو جمع کردیا ہے۔
علامہ سیوطی (رح) لکھتے ہیں :
واحدی نے ” اسباب النزول “ میں اور ثعلبی نے اپنی تفسیر میں حضرت علی (رض) سے روایت کیا ہے کہ سورة فاتحہ مکہ میں ایک خزانہ سے نازل ہوئی ہے جو عرش کے نیچے ہے۔
امام ابن ابی شیبہ نے ” مصنف “ میں اور ابو نعیم اور بیہقی دونوں نے اپنی اپنی ” دلائل النبوۃ “ اور واحدی اور ثعلبی نے ازابی میسرہ از عمرو بن شرجیل روایت کیا ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خدیجہ (رض) سے فرمایا : جب میں خلوت میں ہوتا ہوں تو ایک آواز سنتا ہوں ‘ بہ خدا ! آپ امانت کو ادا کرتے ہیں ‘ صلہ رحمی کرتے ہیں اور سچ بولتے ہیں ‘ اسی اثناء میں حضرت ابوبکر (رض) آئے، اس وقت گھر میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں تھے ‘ حضرت خدیجہ (رض) نے انکو بتایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا تھا ‘ اور کہا : آپ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ورقہ کے پاس جائیں، جب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو حضرت ابوبکر (رض) نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ ورقہ کے پاچلیں ‘ آپ نے پوچھا : تم کو کس نے بتایا ؟ انہوں نے کہا : حضرت خدیجہ (رض) نے پھر دونوں ورقہ کے پاس گئے ‘ اور اس کو واقعہ سنایا ‘ آپ نے فرمایا : جب میں خلوت میں تھے تو آپ کو آواز آئی : یا محمد ! کہیے : ” بسم اللہ الرحمن الرحیم، الحمد للہ رب العلمین “ اور اس کو ” ولا الضالین “۔ تک پڑھا ‘ اور کہا : کہیے : ” لا الہ الا اللہ “ پھر آپ ورقہ کے پاس گئے اور اس کو یہ واقعہ سنایا ‘ ورقہ نے کہا : آپکو بشارت ہو ‘ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ وہی ہیں جس کے آنے کی ابن مریم (علیہ السلام) کو بشارت دی گئی تھی اور آپ کے پاس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ناموس کی مثل ہے ‘ اور آپ نبی مرسل ہیں۔
امام ابونعیم نے دلائل النبوۃ میں اپنی سند کے سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ جب بنو سلمہ کے جوان مسلمان ہوئے اور عمرو بن جموع کا بیٹا مسلمان ہوا تو عمرو کی بیوی نے عمرو کی بیوی نے عمرو سے کہا : تم اپنے بیٹے سے پوچھو وہ اس شخص سے کیا روایت کرتے ہیں ؟ عمرو نے اپنے بیٹے سے کہا : مجھے اس شخص کا کلام سناؤ تو اس کے بیٹے نے پڑھا : (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “ اور ” الصراط المستقیم “۔ تک پڑھا اس نے کہا : یہ کتنا حسین اور جمیل کلام ہے کیا اس کا سارا کلام اسی طرح ہے ؟ اس کے بیٹے نے کہا : اے ابا اس سے بھی زیادہ حسین ہے، اور یہ ہجرت سے پہلے واقعہ ہے ‘ ان تینوں روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة فاتحہ مکہ میں نازل ہوئی ہے۔
امام ابن ابی شیبہ (رح) نے ” مصنف “ میں ابو سعید بن اعرابی نے ” معجم “ میں اور طرانی (رح) نے ” اوسط “ میں مجاہد (رح) کی سند سے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب فاتحۃ الکتاب نازل ہوئی تو ابلیس خوب رویا اور یہ مدینہ میں نازل ہوئی تھی۔
وکیع اور فریابی نے اپنی تفسیروں میں ابوبکر بن انباری نے ” فضائل قرآن “ میں امام ابن ابی شیبہ (رح) نے ” مصنف “ میں عبد بن حمید اور ابن منذر (رح) نے اپنی تفسیر میں ابوبکر بن انباری نے ” کتاب المصاحف “ میں ‘ ابوالشیخ نے ” العظمۃ “ میں اور ابونعیم نے ” حلیہ “ میں مجاہد سے روایت کیا ہے کہ فاتحۃ الکتاب مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔
وکیع (رح) نے اپنی تفسیر میں مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ فاتحۃ الکتاب مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٣‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران )
اب تینوں روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة فاتحہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے۔
سورة فاتحہ کی آیات کی تعداد :
ہم اس سے پہلے مقدمہ میں بیان کرچکے ہیں کہ سب سے پہلے سورة علق اور سورة مدثر کی چند آیات نازل ہوئیں اور جو سب سے پہلے مکمل سورت نازل ہوئی وہ سورت فاتحہ ہے ‘ یہ سورت دو بار نازل ہوئی ‘ ایک بار مکہ میں اور ایک بار مدینہ میں اور اس میں بااتفاق سات آیتیں ہیں ‘ اس لیے اس کو ” السبع المثانی “ کہا جاتی ہے، فقہاء شافعیہ اور فقہاء حنبلیہ کے نزدیک ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ سورة فاتحہ کا جز ہے اور اس سمیت سورة فاتحہ کی سات آیتیں ہیں اور علماء احناف اور علماء مالکیہ کے نزدیک ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “۔ سورة فاتحہ کا جز نہیں ہے۔ ١ (علامہ موفق الدین عبداللہ بن احمد بن قدامہ حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ المغنی ج ١ ص ٢٨٤‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ) ان کے نزدیک (آیت) ” صراط الذین انعمت علیہم “ ایک آیت ہے اور اول الذکر کے نزدیک (آیت) ” صراط الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضالین “ ملکر ایک آیت ہے۔ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ سورة فاتحہ کا جز ہے یا نہیں اس پر مفصل گفتگو عنقریب آئے گی۔
سورة فاتحہ کے مضامین :
قرآن مجید کے حسب ذیل مضامین ہیں :
(١) توحید : نزول قرآن کے وقت دنیا میں بالعموم بت پرستی کا دور دورہ تھا ‘ اور کفار عرب کے دعوی دار ہونے کے باوجود اپنے زعم میں اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے بتوں کی عبادت کرتے تھے ‘ اس لیے قرآن کا مطالبہ یہ ہے کہ صرف خالق اور رب ہونے کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ کو واحد ماننا کافی نہیں ہے بلکہ استحقاق عبادت کے اعتبار سے بھی اس کو واحد ماننا ضروری ہے ‘ یعنی اس کے سوا اور کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے۔
(٢) نبوت : عام انسان کی عقل اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی وحدانیت کو جاننے کے لیے ناکافی ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام حاصل کرنے سے عاجز ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہ نمائی کے لیے انبیاء (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور نبی چونکہ اللہ کا نمائندہ ہوتا ہے ‘ اس کو ماننا اللہ کو ماننا اور اس کا انکار کرنا اللہ کا انکار کرنا ہوتا ہے ‘ اس لیے قرآن نے نبی کے ماننے کو ضروری قرار دیا ہے۔
(٣) عبادت : بدن ‘ مال اور ان دونوں کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق صرف کرنا عبادت ہے ‘ قرآن نے یہ بتایا ہے کہ انسان خود اور اس کا مال اس کی ملکیت نہیں ہے ‘ اللہ کی ملکیت ہے ‘ اب وہ کسی طرح اپنی جان اور مال کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق صرف کرے، یہ قرآن نے تفصیل سے بتایا ہے۔
(٤) وعدہ کیا ہے اور بندہ کی نافرمانی کرنے اللہ تعالیٰ نے اس کو عذاب سے ڈرایا ہے ‘ اس وعد اور وعید کو اللہ تعالیٰ نے تفصیل سے قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے۔
(٥) قصص اور امثال : گزشتہ امتوں کے صالحین کے واقعات اور نافرمانوں پر عذاب کی عبرت انگیز مثالیں۔
(٦) معاد : مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اور مومنین کے لیے جزاء اور کفار کے لیے سزا کا بیان۔
(٧) دعا : تمام عبادات کا خلاصہ اور حاصل اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں انسان کو ہدایت عطا فرمائے اور اس پر تاحیات برقرار رکھے اور آخرت میں عذاب سے نجات ‘ جنت نعیم ‘ اپنی خوشنودی ‘ رضا اور دیدار عطا فرمائے، سورة فاتحہ میں ان تمام مضامین کو اجمال ‘ اختصار اور اشارات سے بیان کردیا گیا ہے۔
(١) سورة فاتحہ کے شروع میں فرمایا : (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لائق ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے “ یعنی حمد کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہے ‘ کیونکہ ‘ زمین ‘ پہاڑ ‘ سمندر ‘ جمادات ‘ نباتات ‘ حیوانات ‘ انسان اور جن یہ سب اپنے وجود میں کسی موجد کے اور اپنی بقا میں کسی رب کے محتاج ہیں ‘ اور یہ سب ممکنات ہیں ‘ اس لیے ان کو پیدا کرنے والا اور ان کو باقی رکھنے والا ممکن نہیں ہوسکتا کیونکہ ممکن تو پھر انہی کی طرح اپنے وجود اور بقاء میں محتاج ہوگا ‘ اس لیے ضروری ہے کہ ان کا موجد اور ان کا رب واجب بالذات ہو ‘ اس کا کائنات رنگ وبو میں جو حسن اور کمال ہے وہ اسی کا دیا ہوا ہے ‘ اور حمد ‘ حسن اور کمال پر ہوتی ہے تو تمام محامد کا وہی مستحق ہے اور تمام تعریفیں اسی کے لائق ہیں ‘ اس آیت میں جہاں یہ بتایا ہے کہ تعریف کا مستحق صاحب کمال نہیں ہے خالق کمال ہے ‘ وہاں یہ بھی بتادیا ہے کہ تمام کائنات کا خالق اور مربی اللہ تعالیٰ ہے اور یہ قرآن کا وہ پہلا مضمون ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے۔
(٢) سورة فاتحہ کی چھٹی آیت میں ہے : (آیت) ”۔ صراط الذین انعمت علیہم “۔ ان لوگوں راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا : اور جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ان کا بیان اس آیت میں ہے :
(آیت) ” انعم اللہ علیہم من النبین والصدیقین والشھدآء والصلحین “۔ (النساء ٤٩) جن پر اللہ نے انعام کیا وہ انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین ہیں۔
نیز فرمایا :
(آیت) اولٓئک الذین انعم اللہ علیہم من النبین من ذریۃ ادم، (مریم : ٥٨) جن پر اللہ نے انعام کیا وہ نسل آدم سے انبیاء ہیں۔
قرآن مجید کا دوسرا اہم مضمون نبوت ہے اور اس کی طرف اشارہ (آیت) ” صراط الذین انعمت علیہم “ میں ہے۔
(٣) قرآن مجید کا تیسرا اہم مضمون عبادت ہے ‘ اور اس کا ذکر (آیت) ” ایاک نعبد “ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں “ میں ہے۔
(٤) وعد اور وعید کی طرف اشارہ (آیت) ” ملک یوم الدین “ میں ہے۔
(٥) گزشتہ امتوں کے واقعات اور مثالیں ‘ نیکوں پر انعام اور بدکاروں پر غضب اور عذاب ‘ اس کی طرف اشارہ چھٹی اور ساتویں (آیت) ” صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین “ میں ہے۔
(٦) مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اور مومنین کے لیے جزاء اور کفار کے لیے سزا کی طرف اشارہ بھی (آیت) مالک یوم الدین “ میں ہے۔
(٧) قرآن مجید کا بہت اہم مضمون اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا ہے اور اس سورت میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کس طرح دعا کی جائے ‘ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی جائے، جس کا ذکر (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین الرحمن الرحیم “ میں ہے پھر خضوع اور خشوع کا اظہار کیا جائے جس کا ذکر (آیت) ” ایاک نعبد وایاک نستعین “ میں ہے ‘ پھر اپنے عجز اور احتیاج کو بیان کیا جائے جس کا بیان (آیت) ”۔ ایاک نعبد وایاک نستعین “ میں ہے ‘ پھر حرف مدعا زبان پر لایا جائے اور اس سے مانگا جائے ‘ نیز یہ بھی بتایا کہ اللہ تعالیٰ سے کیا مانگا جائے اور کیا نہ مانگا جائے تو بتلایا اس سے صراط مستقیم پر برقرار رہنے کی ہدایت مانگو ‘ وہ راستہ جو اللہ تعالیٰ کے انعام یافتگان کا راستہ ہے نہ ان کا راستہ جن پر اللہ تعالیٰ نے غضب فرمایا اور نہ گمراہوں کا ‘ پھر جیسے ہی ہدایت کی دعا ختم ہوتی ہے تو اس کے جواب میں فورا ہدایت آجاتی ہے۔ (آیت) ” الم ذلک الکتاب لا ریب فیہ ھدی للمتقین “ یعنی تم نے ہم سے ہدایت مانگی تھی تو یہ پوری کتاب تمہارے لیے ہدایت ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقہ سے دعا کرو گے تو اس دعا کی استجابت یقینی ہے۔
اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم :
میں شیطان مردود (کے وسوسوں) سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں :
اعوذ باللہ کے مفردات کے معانی :
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” فاذا قرات القران فاستعذ باللہ من الشیطن الرجیم “۔ (النحل : ٩٨) پس جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کریں۔
استعاذہ کا معنی ہے : کسی ناپسندہ چیز سے بچنے کے لیے کسی چیز کی پناہ میں آنا ‘ شیطان کا لفظ ” شطن “ سے ماخوذ ہے ‘ اس کا معنی ہے خیر سے دور ہونا ‘ شیطان کا شیطان اس لیے کہتے ہیں کہ وہ اللہ کی رحمت سے دور ہوگیا ‘ ایک قول یہ ہے کہ شیطان ” شیط “ سے ماخوذ ہے ‘ اس کا معنی ہے : ہلاک ہونا ‘ اس بناء پر شیطان کو شیطان اس لیے کہتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب میں ہلاک ہوگیا ‘ رجیم کا لفظ ” رجم “ سے ماخوذ ہے اس کا معنی ہے سنگسار کرنا ‘ قتل کرنا ‘ لعنت کرنا اور دھتکارنا ‘ چونکہ اللہ نے شیطان پر لعنت کی ہے ‘ اس کو دھتکار کر راندہ بارگاہ کردیا ہے اس وجہ سے اس کو رجیم کہتے ہیں۔
اعوذ باللہ کے صرف اور اعراب کا بیان :
شیطان صفت مشبہ کا صیغہ ہے ‘ اگر یہ ” شیط “ سے بنا ہے تو اس کا وزن فعلان ہے اور اگر یہ ” شطن “ سے بنا ہے تو اس کا وزن فیعال ہے ‘ رجیم فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے اور مفعول کے معنی میں ہے ‘ اس کا معنی ہے : راندہ ہوا ‘ دھتکارا ہوا۔
” من “ ابتداء کے لیے ہے اور جار مجرور ” اعوذ “ کے متعلق ہے ‘ اس کا معنی ہے : میں شیطان رجیم سے پناہ مانگنے کی ابتداء اللہ سے کرتا ہوں ‘ اور یہ من سببیہ بھی ہوسکتا ہے ‘ اور اس کا معنی ہوگا : شیطان رجیم کے سبب سے میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔
نماز اور غیر نماز میں اعوذ باللہ پڑھنے کے متعلق احادیث :
امام ابو داؤد روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رات کو نماز میں قیام کرتے تو اللہ اکبر کہتے ‘ پھر پڑھتے :
” سبحانک اللہم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالی جدل ولا الہ غیرک “ پھر تین مرتبہ ” لا الہ الا اللہ “ پڑھتے پھر تین مرتبہ پڑھتے : ” اللہ اکبر اکبیرا اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطن الرجیم من ھمزہ ونفخہ ونفثہ “ (میں اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں جو بہت سننے والا ‘ بہت جاننے والا ہے ‘ شیطان رجیم کے مجنون کرنے ‘ اس کے تکبر اور اس کے شر سے) اس کے بعد آپ قراءت کرتے۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ١١٣‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)
اس حدیث کو امام عبدالرزاق۔ ١ (امام عبدالرزاق بن ہمام متوفی ٢١١ ھ ‘ المصنف ج ١ ص ١٨٣‘ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ) اور امام بیہقی (رح) (امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ ٗسنن کبری ج ١ ص ٣٦۔ ٣٥‘ مطبوعہ نشرالسنۃ ٗملتان) نے بھی روایت کیا ہے۔
امام ابن ابی شیبہ روایت کرتے ہیں :۔
حضرت جبیر بن مطعم (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز شروع کرتے تو فرماتے : ” اللہم انی اعوذ بک من الشیطان الرجیم من ھمزہ ونفخہ ونفثہ “۔ (المصنف ج ١ ص ٢٣٨ مطبوعہ ادارۃ القرآن ٗکراچی ٗ ١٤٠٦ ھ)
امام عبدالرزاق روایت کرتے ہیں :
عطانے کہا : اعوذ باللہ پڑھنا ہر قراءت میں واجب ہے خواہ وہ قراءت نماز میں ہو یا غیر نماز میں ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : پس جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو شیطان مردود سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کریں۔ (النحل : ٩٨) ابن جریج نے کہا : ہاں ! میں پڑھتا ہوں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم اعوذ باللہ السمیع العلیم الرحمن الرحیم ٗ من الشیطان الرجیم واعوذ بک رب ان یحضرون اوید بیتی الذی یووینی “ عطا نے کہا : یہ پڑھنا بھی تمہیں کفایت کرے گا ‘ لیکن تم ” اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم “۔ سے زیادہ نہ پڑھا کرو۔ (المصنف ج ١ ص ٨٣‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ٗبیروت ٗ ١٣٩٠ ھ)
عثمان بن ابی العاص بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے اور میری تلاوت قرآن کے درمیان شیطان حائل ہوجاتا ہے، بنی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس شیطان کا نام خنزب ہے ٗ تم جب اس کو محسوس کرو تو ” اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم “۔ پڑھو ٗ اور بائیں جانب تین بار تھوکو۔ (المصنف ج ١ ص ٨٥‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ٗبیروت ٗ ١٣٩٠ ھ)
حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن مجید پڑھنے سے پہلے ” اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم “ پڑھتے تھے (المصنف ج ١ ص ٨٦‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ٗبیروت ٗ ١٣٩٠ ھ)
ابراہیم نے کہا : ہر چیز سے پہلے ” اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم “۔ پڑھنا کافی ہے (المصنف ج ١ ص ٨٥‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ٗبیروت ٗ ١٣٩٠ ھ)
نماز میں اعوذ باللہ پڑھنے کے متعلق فقہاء مالکیہ کا مذہب :
علامہ قرطبی مالکی لکھتے ہیں :
امام مالک فرض نماز میں اعوذ باللہ پڑھنے کے قائل نہیں ہیں ‘ اور تراویح میں پڑھنے کے قائل ہیں۔
(الجامع الاحکام القرآن ج ١ ص ٨٦ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)
علامہ دردیر مالکی لکھتے ہیں :
نفل نماز میں سورة فاتحہ سے پہلے اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھنا (بلاکراہت) جائز ہے اور فرض نماز میں مکروہ ہے۔ (الشرح الکبیر علی ھامش الدموتی ج ١ ص ٢٥١‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت )
نماز میں اعوذ باللہ پڑھنے کے متعلق فقہاء حنبلیہ کا مذہب :
علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں۔
نماز میں قرات سے پہلے اعوذ باللہ پڑھنا سنت ہے ٗحسن ابن سیرین ‘ عطا ‘ ثوری ‘ اوزاعی ‘ شافعی اور اصحاب رائے کا یہی نظریہ ہے ‘ امام مالک (رح) نے کہا : نماز میں قرات سے پہلے اعوذ باللہ نہ پڑھے کیونکہ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) نماز کو (آیت) الحمد للہ رب العلمین “ سے شروع کرتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم ) ّ (المغنی ج ١ ص ٣٤٦‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ٥۔ ١٤ ھ)
حضرت انس (رض) کی حدیث کا محمل یہ ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں اعوذ باللہ اور بسم اللہ کو جہرا نہیں پڑھتے تھے ‘ سرا پڑھتے تھے اور جہرا قرات (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “ سے شروع کرتے تھے تاکہ اس روایت کا ان احادیث سے تعارض نہ ہو جس میں قرات قرآن سے پہلے ”۔ اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم “ پڑھنے کی تصریح ہے۔
نماز میں اعوذ باللہ پڑھنے کے متعلق فقہاء شافعیہ کا مذہب :
علامہ نووی شافعی لکھتے ہیں :
دعاء استفتاح (سبحانک اللہم) کے بعد ” اعوذ باللہ میں الشیطن الرجیم “ پڑھنا مستحب ہے ‘ ہمارے بعض اصحاب نے کہا ہے کہ ” اعوذ باللہ السمیع من الشیطن الرجیم “ پڑھنے اور ہر اس لفظ کا پڑھنا جائز ہے جس سے یہ معنی حاصل ہو ‘ اور زیادہ یہ ہے کہ نماز سری ہو یا جہری اس کو سرا پڑھے ‘ ایک قول یہ ہے کہ جہری نماز میں جہرا پڑھے ‘ ایک قول یہ ہے کہ پڑھنے والے کو اختیار ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ مستحب یہ ہے کہ قطعا آہستہ پڑھے ‘ نیز مذہب یہ ہے کہ ہر رکعت میں اعوذ باللہ پڑھے اور پہلے رکعت میں پڑھنا زیادہ موکد ہے ‘ امام شافعی نے اس کی تصریح کی ہے۔ (روضۃ الطالبین ج ١ ص ٣٤٦‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)
نماز میں اعوذ باللہ پڑھنے کے متعلق فقہاء احناف کا مذہب :
علامہ علاء الدین حصکفی حنفی لکھتے ہیں :
جب نماز میں قرات شروع کرے تو اعوذ باللہ پڑھے ٗ اگر سورة فاتحہ مکمل پڑھنے کے بعد اس کو اعوذ باللہ پڑھنا یاد آیا تو اب اس کو چھوڑ دے اور اگر سورة فاتحہ کے دوران اس کو یاد آیا تو اعوذ باللہ پڑھے اور از سر نو سورة فاتحہ پڑھے اور از سر نو سورة فاتحہ پڑھے ‘ اور جب شاگرد استاد کو قرآن مجید سنائے تو اس وقت اعوذ باللہ نہ پڑھے ‘ یعنی اس وقت پڑھنا سنت نہیں ہے ‘ جب مسبوق اپنی بقیہ نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہو تو قرات سے پہلے اعوذ باللہ پڑھے ٗ امام عید کی نماز میں تکبیرات عید کے بعد اعوذ باللہ پڑھے کیونکہ تکبیرات عید کے بعد قرات شروع ہوتی ہے (درمختار علی ھامش رد المختار ج ١ ص ٣٢٩۔ ٣٢٨‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ٗ ١٤٠٧ ھ)
علامہ ابن عابدین شامی حنفی لکھتے ہیں :
اگر سورة فاتحہ کے دوران اس کو اعوذ باللہ پڑھنا یاد آیا تو اب سورة فاتحہ کو دوبارہ اعوذ باللہ کے ساتھ پڑھنا درست نہیں ہے ‘ کیونکہ اس سے لازم آئے گا کہ سنت کی وجہ سے فرض (قرات) کو چھوڑ دیا جائے ‘ نیز اس سے واجب کا ترک کرنا بھی لازم آئے گا کیونکہ سورة فاتحہ یا اس کے اکثر حصہ کو دوبارہ پڑھنا سجدہ سہو کا موجب ہے ‘ اور فقیہ ابوجعفر نے ” نوادر “ میں ذکر کیا ہے کہ نماز نے اللہ اکبر پڑھنے کے بعد اعوذ باللہ اور ” بسم اللہ “ پڑھی اور ثناء پڑھنا بھول گیا تو اب ثنا نہ پڑھے ‘ اسی طرح اگر اس نے اللہ اکبر کے بعد قرات شروع کردی اور ثناء ‘ اعوذ باللہ اور ” بسم اللہ “ پڑھنا بھول گیا تو اب ان کو دوبارہ نہ پڑھنے کیونکہ ان کا محل فوت ہوگیا اور اس پر سجدہ سہو نہیں ہے، اس کو زاہدی نے ذکر کیا ہے (خلاصہ یہ ہے کہ علامہ حصکفی کا یہ کہنا درست نہیں کہ اگر اعوذ پڑھنا بھول گیا اور سورة فاتحہ پڑھنا شروع کردی تو اعوذ پڑھ کر از سر نو سورة فاتحہ پڑھنا شروع کرے )
” ذخیرہ “ میں یہ مذکورہ ہے کہ اگر کوئی شخص ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پڑھے اور اس سے اس کا مقصد قرآن مجید کی تلاوت ہو تو اس سے پہلے اعوذ باللہ پڑھے اور اگر حصول برکت کے لیے بسم اللہ پڑھتا ہے تو پھر اس سے پہلے اعوذ باللہ نہ پڑھے ‘ کیا تم نہیں دیکھتے کہ جب کوئی شخص شکر ادا کرنے کی نیت سے (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “ پڑھتا ہے تو پھر اس سے پہلے اعوذ باللہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے ‘ اور اگر قرآن مجید کا قصد کرتا ہے تو پھر اس سے پہلے اعوذ باللہ پڑھنا ضروری ہے، یہ قاعدہ پڑھنے کے اعتبار سے ہے افعال کے لیے یہ قاعدہ نہیں ہے ‘ اس لیے بیت الخلاء جانے سے پہلے ” اعوذ باللہ من الخبث والخبائث “ پڑھنا اس قاعدے کے منافی نہیں ہے۔ (ردالمختار ج ١ ص ٣٢٩‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)
علامہ حلبی حنفی لکھتے ہیں :
نماز میں ثناء کے بعد اعوذ باللہ پڑھنا جمہور علماء کے نزدیک سنت ہے۔ ثوری اور عطا نے یہ کہا ہے کہ یہ واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید پڑھنے سے پہلے ” اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم “ پڑھنے کا حکم دیا ہے اور امر وجوب کے لیے ہوتا ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کا یہ قول اجماع کے خلاف ہے۔ اعوذ باللہ پڑھنے کے محل میں اختلاف ہے ‘ امام ابو یوسف کے نزدیک اس کا محل ثناء کے بعد ہے اور یہ قرات کے تابع نہیں ہے ‘ لہذا جو شخص بھی ثناء پڑھے گا وہ اعوذ باللہ پڑھے گا ‘ کیونکہ اعوذ باللہ پڑھنا دفع وسوسہ کے سب محتاج ہیں ‘ لہذا مام اور منفرد جس طرح ثناء کے بعد اعوذ باللہ پڑھیں اس طرح مقتدی بھی پڑھے اور عید کی نماز میں بھی امام اس کو ثناء کے بعد پڑھے نہ کہ تکبیرات کے بعد ‘ اور امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے نزدیک اعوذ باللہ پڑھنا قرات کے تابع ہے، لہذا جو شخص تلاوت قرآن کرے گا وہی اعوذ باللہ پڑھے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان رجیم سے اللہ کی پناہ طلب کرو ‘ اور مقتدی چونکہ قرات نہیں اس لیے وہ اعوذ باللہ نہیں پڑھے گا اور امام اور مفرد چونکہ قرات کرتے ہیں اس لیے وہ اعوذ باللہ پڑھیں گے۔ اسی طرح عید کی نماز میں چونکہ قرات تکبیرات کے بعد شروع ہوتی ہے اس لیے تکبیرات کے بعد اعوذ باللہ پڑھی جائے گی۔ فتاوی قاضی خاں ‘ ہدایہ ‘ اس کی شروع ‘ کافی ‘ اختیار اور اکثر کتابوں میں امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے قول کو ترجیح دی گئی ہے کہ اعوذ باللہ پڑھنا قرات کے تابع ہے اور ہمارا بھی یہی مختار ہے۔ (غنیۃ المستملی ص ٣٠٤‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤١٢ ھ)
نیز علامہ حلبی حنفی لکھتے ہیں :
دوسری رکعت میں ثناء پڑھے گا نہ اعوذ باللہ پڑھے گا کیونکہ ان کا محل اول صلوۃ اور اول قرات ہے ‘ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ دوسری رکعت میں قرات سے پہلے اعوذ باللہ نہ پڑھنے سے امام ابویوسف کی تائید ہوتی ہے کہ اعوذ باللہ پڑھنا ثنا کے تابع ہے اور جب دوسری رکعت میں ثناء نہیں پڑھی جائے گی تو اعوذ باللہ بھی نہیں پڑھی جائے گی ‘ اگر یہ قرات کے تابع ہوتی جیسا کہ امام ابوحنیفہ کا قول ہے تو دوسری رکعت میں قرات سے پہلے اعوذ باللہ کو بھی پڑھا جاتا ‘ سو اس طریقہ میں امام ابو یوسف کے قول پر عمل ہے حالانکہ تمہارے نزدیک امام ابوحنیفہ (رح) اور امام محمد (رح) کا قول مختار ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب نمازی نے ایک مرتبہ قرات سے پہلے اعوذ باللہ کو پڑھ لیا اور قرات کے درمیان میں کسی اجنبی فعل کو داخل نہیں کیا تو اس کے لیے دوبارہ اعوذ باللہ پڑھنا سنت نہیں ہے اور افعال نماز ‘ قرات کے حق میں اجنبی نہیں ہیں کیونکہ نماز کے اعتبار سے تمام افعال واحد ہیں ‘ لہذا اس کی قرات کے دوران کوئی اجنبی فعل خلل انداز نہیں ہوا ‘ اس لیے اب اعوذ باللہ کا تکرار مسنون نہیں ہے۔ (غنیۃ المستملی ص ٣٢٤‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤١٢ ھ)
بسم اللہ الرحمن الرحیم :
اللہ ہی کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو نہایت رحم فرمانے والا بہت مہربان ہے :
بائے بسم اللہ کا معنی :
عربی زبان میں باء متعدد معانی کے لیے آتی ہے اور اس میں تفصیل ہے کہ بسم اللہ میں باء کس معنی میں ہے ‘ علامہ زمخشری کی تحقیق یہ ہے کہ بسم اللہ میں بامصاحبت اور ملابست کے لیے ہے یعنی شروع کرنے کا فعل اللہ تعالیٰ کے نام سے ملا بس ہے اور اس کے نام کے ساتھ شروع ہے جیسے کہتے ہیں : ” کتبت بالقلم “ میں نے قلم کے ساتھ لکھا ‘ یا اس کا معنی ہے ‘: ” متبرکا بسم اللہ اقراء “ اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے میں پڑھتا ہوں ‘ یا شروع کرتا ہوں ‘ (علامہ جار اللہ محمود بن عمر زمخشری متوفی ٤٦٧ ھ ‘ کشاف ج ١ ص ٥۔ ٤‘ مطبوعہ مطبعہ بہیہ ‘ مصریہ ١٣٤٣ ھ) اور علامہ بیضاوی کی تحقیق یہ ہے کہ یہ باء استعانت کے لیے ہے ‘ یعنی اللہ کے نام سے ہی شروع کرو۔
فعل کو بسم اللہ کے بعد مقدر کرنے کی وجوہ :
اس فعل کو بسم اللہ سے پہلے مقدر نہیں کیا بلکہ ” بسم اللہ “ کے بعد مقدر کیا ہے یعنی ” بسم اللہ اقرء یا اشرع “” اللہ کے نام سے ہی شروع کرتا ہوں یا پڑھتا ہوں ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ فعل کو بسم اللہ کے بعد مقدر ماننے سے عربی قواعد کے مطابق حصر ہوجائے گا اور معنی ہوگا : اللہ ہی کے نام سے شروع کرتا ہوں ‘ مشرکین کسی اہم کام کو بتوں کے نام سے شروع کرتے تھے اور جب ہم کہیں گے : اللہ ہی کے نام سے شروع کرتا ہوں تو اس سے ان مشرکین کا رد ہوگا جیسے قرآن مجید میں ہے : (آیت) ایاک نعبد “۔ اس میں بھی فعل کو موخر ذکر کیا ہے تاکہ حصر مستفاد ہو ‘ اس کا معنی ہے : ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں ‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ مقدم اس کو کیا جاتا ہے جو اہم ہو اور اللہ تعالیٰ کے نام اور ہمارے فعل ان دونوں میں اہم اللہ تعالیٰ کا نام ہے ‘ اس لیے فعل کو موخر اور اللہ کے نام کو مقدم ماننا چاہیے ‘ تیسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور بندہ کے تذلل کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے اللہ کے نام کا ذکر ہو اور پھر ہمارے کام کا ذکر ہو۔ چوتھی وجہ یہ ہے کہ یہ ترتیب نفس الامر اور واقع کے بھی مطابق ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا نام پہلے ہیں ہم اور ہمارا فعل بعد میں ہے ‘ پانچویں وجہ یہ ہے کہ انبیاء سابقین نے بعض مواقع پر پہلے اپنا ذکر کیا اور پھر اللہ تعالیٰ کا اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر موقع پر پہلے اللہ تعالیٰ کا نام لیا پھر اپنا نام لیا ‘ مثلا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : (آیت) ” ان معنی ربی “۔ (الشعراء : ٦٢) ” بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (آیت) ” ان اللہ معناہ “ (التوبہ : ٤٠) بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے “ اسی طرح حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بلقیس کی طرف خط لکھا :
(آیت) ” انہ من سلیمن وانہ بسم اللہ الرحمن الرحیم “۔ (النمل : ٣٠) بیشک یہ (خط) سلیمان کی طرف سے ہے اور بیشک یہ اللہ کے نام سے ہے جو نہایت رحم فرمانے والا بہت مہربان ہے “۔
اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ھرقل کی طرف خط لکھا :
” بسم اللہ الرحمن الرحیم (سیدنا) محمد عبداللہ ورسولہ کی جانب سے روم کے بادشاہ ھرقل کے نام “ (صحیح بخاری ١ ص ٥) اور صلح نامہ حدیبیہ میں لکھوایا :
بسم اللہ الرحمن الرحیم “ یہ وہ ہے جس کا (سیدنا) محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ کیا ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٣٧٩)
سو اگر فعل بسم اللہ پہلے مقدر مانا گیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی اتباع ہوگی اور اگر بسم اللہ کے بعد فعل کو مقدر مانا گیا تو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع ہوگی اور چھٹی وجہ یہ ہے کہ بسم اللہ کے بعد فعل کو مقدر ماننا کلام اللہ کے مطابق ہے کیونکہ قرآن مجید میں فعل کا ذکر بسم اللہ کے بعد ہے :
(آیت) ” بسم اللہ مجرھا ومرسھا “۔ (ھود : ٤١) اللہ کے نام کی مدد سے ہے اس کشتی کا چلنا اور اس کاٹھہرنا۔
ہم نے بسم اللہ کا ترجمہ کیا ہے : اللہ ہی کے نام سے (شروع کرتا ہوں) اس میں لفظ اللہ کو پہلے ذکر کر کے ان وجوہ کی طرف اور ” ہی “ سے حصر کی طرف اشارہ کیا ہے :۔

شان صدیق اکبر رضی اللہ عنہ

SHAN-E-SIDDIQUE AKBAR رضی اللہ عنہCONFERENCE

In shaa Allah, special speech will be delivered by
Allama Maulana Syed
Shah Abdul Haq Qadri
on Wednesday
Date: 30th April 2014 (30th night of Jamadi-us-Sani 1435 or 1st night of Rajab-ul-Murajjab 1435)
Time: around 10:00 PM Pakistan time (+5 GMT)
Venue: YMCA Mela Lawn, Aiwan-e-Sadar Road, Near Arts Council, Karachi

– Jamat-e-Isha will be offered at around 9:30 PM Pakistan time (+5 GMT)
– Ladies can also attend this program.
– Karachi residents, please attend this program at above venue with your friends, families and relatives.
–  Please circulate this invitation personally and also on social media.
–  In shaa Allah, this program will be broadcasted live at www.ahlesunnat.net.
– Broadcasting of the program on the Internet is subject to the availability of electricity and weather conditions.

تلخ سچائیاں

تلخ سچائیاں
کالم نگار: حامد میر

روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی، 9اپریل2009ء میں معروف کالم نگار جناب حامد میر صاحب کا شایع شدہ کالم
’’تلخ سچائیاں‘‘ بغیر کسی تبصرے کے قارئین کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔

سچائی ہمیشہ تلخ ہوتی ہے لیکن سچائیوں کا اعتراف کئے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں ہوتا۔ آج کی تلخ سچائی یہ ہے کہ امریکہ کے نئے صدر بارک اوبامہ پنٹاگون اور سی آئی اے کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہیں۔ اوبامہ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ جارج ڈبلیو بش کی پالیسیوں کو تبدیل کریں گے لیکن پنٹاگون اور سی آئی اے تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پنٹا گون اور سی آئی اے امریکہ کی چند بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کے مفادات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اگر امریکی پالیسی بدلتی ہے اور دنیا میں امن قائم ہوتا ہے تو ان بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کو شدید نقصان ہو گا لہٰذا یہ کمپنیاں دنیا میں کہںر نہ کہیں جنگ کی آگ بھڑکائے رکھنا چاہتی ہیں تاکہ انکا اسلحہ اور ڈرون طیارے فروخت ہوتے رہیں۔ حملے بند ہو گئے تو ڈرون طیارے بنانیوالی کمپنی کو 2/ارب ڈالر کا نقصان ہو جائے گا۔ گورے امریکیوں نے فوج میں بھرتی ہونا تقریباً چھوڑ دیا تھا لہٰذا پنٹاگون اور سی آئی اے نے ایک سیاہ امریکی کو صدر بنانے کا فیصلہ کیا اوبامہ کے صدر بننے کے بعد پہلے تین ماہ میں دس ہزار سے زائد سیاہ فام نوجوان امریکی فوج میں بھرتی ہو چکے ہیں اور اگلے چند سال کے دوران 70 فیصد سے زائد امریکی فوج سیاہ فاموں پر مشتمل ہو گی جو امریکہ کی بڑی بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کے مفادات کی نگران بنی رہے گی۔ حالات و واقعات بتا رہے ہیں کہ پاکستان کیخلاف امریکہ کے ڈرون حملے بند نہیں ہونگے، بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہتا رہے گا اور سی آئی اے کے تفتیشی مراکز میں مسلمان قیدیوں کو ایڈز کے انجکشن لگانے کی دھمکیوں کا سلسلہ بھی جاری رہے گا کیونکہ اوبامہ کا سی آئی اے پر کوئی کنٹرول نظر نہیں آرہا۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ریڈکراس کے حوالے سے یہ خبر شائع کی ہے کہ سی آئی اے کے خفیہ تفتیشی مراکز میں ڈاکٹروں کے ذریعے قیدیوں پر تشدد کیا جاتا ہے اوبامہ خود ہی سوچیں کہ ڈرون طیارے اور سی آئی اے امریکہ کے لئے مزید نفرت پیدا کریں گے یا محبت؟ امریکی ڈرون طیاروں کے ذریعے پاکستان میں لڑی جانے والی جنگ کو کوئی پاکستان کی جنگ نہیں کہے گا۔ خود کش حملوں میں ہزاروں پاکستانیوں کے مارے جانے کے باوجود یہ امریکہ کی جنگ کہلائے گی اور امریکہ کی اس جنگ پر تنقید کے جرم میں مجھ جیسے گستاخ، قلم کاروں کو لبرل فاشسٹ دہشت گردوں کا ساتھی قرار دیتے رہیں گے۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ ہمیں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا آزاد خیال اور لبرل انگریزی اخبار ”میڈیا ٹیررسٹ“ کہتا ہے اور دوسری طرف جمعیت علمائے اسلام جیسی مذہبی جماعت کے رہنما مولانا فضل الرحمن کے حکم پر بھی ہمارے خلاف مظاہرے کئے جاتے ہیں اور قتل کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

اچھا ہوتا کہ مولانا فضل الرحمن مجھ ناچیز کے خلاف مظاہرے کرانے کی بجائے امریکی ڈرون طیاروں کے خلاف کوئی مظاہرہ کراتے۔ انہیں میرے ایک کالم میں مولانا حسین احمد مدنی کے بارے میں ایک واقعے کے ذکر پر بہت تکلیف ہوئی اور ان کی جماعت مجھے قتل کی دھمکیاں دینے پر اتر آئی ، کاش کہ وہ اس قسم کا ردعمل اسلام آباد کی لال مسجد میں ہونے والے قتل عام پر بھی دکھاتے۔ اس وقت تو مولانا صاحب لندن جا بیٹھے تھے اور پیچھے سے لال مسجد میں قتل عام شروع ہوگیا۔ مولانا کے چند ہزار ساتھی بھی باہر آجاتے تو یہ قتل عام رک سکتا تھا۔ میری ان کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں۔ 1999ء میں امریکہ نے حملوں کی دھمکیاں دیں تو مولانا فضل الرحمن نے ان دھمکیوں کے خلاف بھرپور ردعمل کا مظاہرہ کیا اور اس وقت میں نے ان کے حق میں کالم لکھے۔ بعض جلسوں میں خطاب کیلئے وہ مجھے بھی اپنے ساتھ لے جاتے رہے معاملہ بگڑا جب جنرل پرویز مشرف اقتدار میں آئے۔ مولانا فضل الرحمن نے مولانا حسین مدنی کے صاحبزادے اسعد مدنی کو اپریل 2001ء میں پاکستان بلایا۔ انہوں نے جامعہ خیرالمدارس ملتان میں کشمیر کی تحریک آزادی کے خلاف باتیں کیں جس پر انہیں پتھر مارے گئے۔ انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر کی تحریک آزادی میں قربانی دینے والے شہید نہیں بلکہ صرف ہندوستان کے باغی ہیں۔ اس بیان پر تنقید میرا جرم ٹھہرا اور مولانا فضل الرحمن ناراض ہو گئے۔ افسوس کہ مولانا صاحب کو کشمیر میں شہید ہونے والوں کا مذاق اڑائے جانے پر تکلیف نہ ہوئی لیکن مولانا حسین احمد مدنی کے صاحبزادے پر تنقید انہیں بہت بری لگی۔ میں اس بحث کو طوالت نہیں دینا چاہتا کیونکہ مولانا فضل الرحمن اپنے مہربانوں کے ذریعے اپنا جواب ”جنگ“ مںر شائع کروا چکے ہیں لیکن وہ یہ توقع نہ رکھیں کہ قتل کی دھمکیوں سے مجھے مرعوب کر لیں گے، یہ کام تو جنرل پرویز مشرف بھی نہ کر سکا۔ مولانا کے ایک قریبی ساتھی محمد ریاض درانی نے ایک طویل خط مجھے بھیجا ہے انہوں نے طعنہ دیا ہے کہ آپ کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے پی سی او پر حلف اٹھا لیا تھا لیکن آئین پر حلف نہیں اٹھایا آپ نے اس اصولی بات پر ناراض ہو کر لڑاکی عورتوں کی طرح مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ساتھ ان کے بزرگوں کی بھی توہین کر دی۔ درانی صاحب گزارش ہے کہ جس پی سی او پر جسٹس افتخار نے حلف اٹھایا اس پی سی او کو آپ لوگوں نے سترہویں ترمیم کے تحت جائز قرار دلوایا۔ اگر جسٹس افتخار مجرم ہے تو آپ کا اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟

محمد ریاض درانی نے بھی ڈاکٹر محمد جہانگیر تمیمی کی کتاب میں مولانا حسین احمد مدنی کے متعلق واقعے کی صحت سے انکار کیا ہے کیونکہ ان کے خیال میں اس واقعے کے راوی کلکتہ کے بیوپاری، اسماعیلی فرقے کے مرزا ابوالحسن اصفہانی ہیں جن پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ اصفہانی نہ سہی آپ کو آغا شورش کاشمیری پر تو اعتبار ہو گا۔ انکی کتاب ” فیضان اقبال“ پڑھ لیجئے جس میں آغا صاحب نے کچھ نیشنلسٹ علماء کے متعلق بہت کچھ لکھا ہے۔ اگر آغا صاحب نے بھی غلط لکھا ہے تو درانی صاحب ثابت کر دیں میں غلطی تسلیم کر لوں گا۔ درانی صاحب نے چند سال قبل اپنے دستخطوں سے مولانا حسین احمد مدنی کے متعلق فرید الوحیدی کی کتاب مجھے عنایت کی تھی اس کتاب میں مولانا شبیر احمد عثمانی اور مفتی محمد شفیع دیوبندی پر سخت تنقید کی گئی ہے کیونکہ یہ دونوں علماء مدنی صاحب کے ناقدین تھے۔ اس کتاب کے صفحہ 553 پر مفتی محمد شفیع کے ایک فتوے کا ذکر ہے جس میں انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کیلئے مسلم لیگ میں شمولیت لازمی اور کانگریس میں شمولیت حرام ہے۔ اس کتاب میں مفتی صاحب کے خلاف جو زبان استعمال کی گئی اس سے پتہ چلتا ہے کہ مولانا حسین احمد مدنی صرف کانگریس کے حامی مسلمانوں کے لئے محترم تھے پاکستان کے حامی مسلمان ان کے سخت خلاف تھے اور اسی لئے پاکستان بننے کے بعد مدنی صاحب نے پاکستان کو کبھی تسلیم نہ کیا۔ محمد ریاض درانی سے گزارش ہے کہ مولانا حسین احمد مدنی کے ”خطبات صدارت“ بھی پڑھ لیں۔ مدنی صاحب نے پاکستان بننے کے بعد بھی قائد اعظم کے بارے میں جو زبان استعمال کی میں اسے دہرانا مناسب نہیں سمجھتا۔ آج پاکستان کا اصل مسئلہ علامہ اقبال اور قائد اعظم کے مخالفین کا دفاع نہیں بلکہ پاکستان کا دفاع ہے۔ پاکستان کو امریکہ نواز لبرل فاشسٹوں سے بھی خطرہ ہے اور مذہب کے نام لیوا انتہا پسندوں سے بھی خطرہ ہے۔ ایسے میں قوم کا متحد ہونا بہت ضروری ہے۔

لاہور: جامعہ نعیمیہ میں خودکش حملہ ،ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید

لاہور . . . لاہور میں گڑھی شاہو کے علاقے میں جامعہ نعیمیہ میں نماز جمعہ کے اختتام کے بعد ہونے والے خودکش حملے میں جامعہ نعیمیہ کے مہتمم اعلیٰ ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی سمیت چار افراد شہید جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق جامعہ نعیمیہ میں نماز جمعہ کے اختتام کے بعد ڈاکٹر سرفراز نعیمی مسجدسے ملحقہ اپنے دفتر میں لوگوں سے مل رہے تھے کہ اسی اثناء میں ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ مولانا سرفرار نعیمی کو تشویشناک حالت میں اسپتال لے جایا جارہا تھا کہ تاہم وہ راستے میں ہی اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔شہید ہونے والوں میں سرفراز نعیمی کے معتمد ڈاکٹر خلیل بھی شامل ہیں۔ دھماکے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ۔جبکہ ایمبولینسوں کے ذریعے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔دھماکے سے قریب کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جبکہ اس وقت نمازیوں کی بڑی تعدادمسجد میں موجود تھی۔لاہور کے اسپتالوں کے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے ۔ڈی سی او لاہور سجاد بھٹہ کے مطابق ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی کی شہادت ٹارگٹ کلنگ کا نتیجہ ہے،ان کا کہنا تھا کہ مولانا سرفراز نعیمی کو مناسب سکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔